Baaghi TV

Tag: شام

  • ترکیہ اورشام میں ہولناک زلزلےسےجاں بحق افرادکی تعداد1800سے تجاوز کر گئی

    ترکیہ اورشام میں ہولناک زلزلےسےجاں بحق افرادکی تعداد1800سے تجاوز کر گئی

    ترکیہ کے مشرقی علاقوں میں آج سوموار کی صبح میں آنے والے خوفناک زلزلے سے اب تک جاں بحق افراد کی تعداد 1800سے بڑھ گئی ہے،ترکیہ میں زلزلےسے1100سےزائدافرادجاں بحق ہوچکےہیں جبکہ شام میں زلزلےسےجاں بحق افراد کی تعداد 750ہوگئی-

    باغی ٹی وی: اطلاعات کے مطابق ترکیہ کے جنوبی اور شام کے شمالی علاقوں میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے امریکا کےارضیاتی سروے کے مطابق پیرکی سہ پہر ترکیہ کےجنوب مشرقی علاقے میں 7.5 شدت کے ایک اورزلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں دوسرا شدید زلزلہ ترکیہ کے مقامی وقت کے مطابق دوپہرایک بج کر 24 منٹ پرعکینوزوشہر سے چار کلومیٹرجنوب مشرق میں آیا ہے۔

    شام اورترکیہ میں تباہ کن زلزلہ،600 سے زائد افراد جاں بحق،پاکستان کا اظہار افسوس

    شام کے سرکاری میڈیا نے بھی بتایا ہے کہ پیر کے روز دارالحکومت دمشق میں بھی اس زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔


    عراق کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق دوشمالی صوبوں دھوک اورموصل اورکردستان کے علاقائی دارالحکومت اربیل کے رہائشیوں نے زلزلے کے ہلکے جھٹکے محسوس کیے ہیں۔شام کے سرکاری میڈیا نے بھی بتایا ہے کہ پیر کے روز دارالحکومت دمشق میں بھی اس زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔

    عراق کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق دوشمالی صوبوں دھوک اورموصل اورکردستان کے علاقائی دارالحکومت اربیل کے رہائشیوں نے زلزلے کے ہلکے جھٹکے محسوس کیے ہیں۔

    اس سے پہلے علی الصباح اسی علاقے میں زلزلے کے نتیجے میں 1400 سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے تھے اور یہ اس صدی میں ترکیہ میں آنے والا بدترین زلزلہ تھا عراق،اردن، لبنان، مصر، قبرص اور فلسطینی علاقوں میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 7.9 بیان کی گئی ہے۔

    جنوبی ترکی میں زلزلے سے کئی بڑی عمارتیں منہدم ہوگئی ہیں۔ زلزلے کے بعد لوگ گھروں سے نکل آئے برف سے ڈھکے علاقے میں لوگوں کو کھلے آسمان تلے برف پر دیکھا گیا ہے۔

    جرمن سینٹر فار جیو سائنسز ریسرچ کا کہنا ہے کہ زلزلے کا مرکز جنوبی ترکیہ کے شہر کہرمان میں 10کلو میٹرزیرزمین تھا۔

    دوسری طرف یورپی بحیرہ روم سینٹر فار سیسمولوجی نے کہا ہے کہ وہ زلزلے اور اس کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال پرنظر رکھے ہوئے ہے۔ زلزلے کے بعد سونانی کا خطرہ بھی موجود ہے۔

    ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوآن نے اعلان کیا ہے کہ شدید زلزلے کے بعد ملک میں تمام یونٹس اور ادارے کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے الرٹ کردیے گئے ہیں۔

    ترک وزیر داخلہ نے کہا کہ 6.4 ڈگری کے آخری آفٹر شاک نے غازی عنتاب شہر کو ایک بار پھر ہلا کر رکھ دیا ہے۔ انہوں نے شہریوں سے کہا کہ وہ ایمبولینسز اور امدادی ٹیموں کے لیے راستہ بنائیں۔

    ترکی میں زلزلہ، وزیراعظم کا ترک صدر سے رابطہ

  • لاشوں اورزخمیوں کےساتھ تصویریں بنانا بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے،عدالت

    لاشوں اورزخمیوں کےساتھ تصویریں بنانا بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے،عدالت

    سویڈن کی ایک عدالت نے شام میں لاشوں اور زخمیوں کے ساتھ تصویریں بنانے والے شخص کو قید کی سزا سنائی ہے۔

    باغی ٹی وی : "العربیہ” کی رپورٹ کے مطابق سزا پانے والا سویڈن کا شہری ہے جو شام میں عسکری گروپوں کا حامی ہے اور شام میں جنگ کے دوران 2012 میں مبینہ تصاویر بنائی تھیں عدالت سے چار ماہ قید کی سزا پانے والے 44 سالہ شخص کا نام ابی جلیبب بینو تیسون بتایا گیا ہے لیکن کہا گیا ہے کہ اس نے اپنا نام کئی بار تبدیل کیا ہے-

    دبئی کا آئندہ دہائی کیلئے 87 کھرب ڈالر کا اقتصادی منصوبہ تیار

    دوران سماعت سویڈش عدالت کا اس سزا کے لیے کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ اس شخص نے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے یہ شخص کئی بار اپنا نام تبدیل کر چکا ہے۔

    عدالت نے کہا کہ وہ حتمی طور پر اس نتیجے پر نہیں پہنچ سکی کہ ابی جلیبب نے جن کے ساتھ وکٹری کے نشان والی تصاویر بنوائی تھیں وہ زخمی تھے یا مر چکے تھے۔

    دوسری سزا پانے والے شخص کے وکیل تھامس اولسن نے فوری طور پر یہ نہیں بتایا ہے کہ وہ اپنے موکل کی طرف سے اس سزا کے خلاف اپیل دائر کریں گے یا نہیں۔

    روسی جارحیت کے خلاف یوکرین کی مدد کرتے رہیں گے،امریکا

  • ترکیہ کی شام میں کرد فورسز کے ٹھکانوں پر بمباری،12 افراد ہلاک

    ترکیہ کی شام میں کرد فورسز کے ٹھکانوں پر بمباری،12 افراد ہلاک

    انقرہ: ترکیہ نے استنبول بم دھماکے میں کرد پارٹی کے ملوث ہونے پر شام میں ان کے ٹھکانوں پر فضائی بمباری کی، برطانیہ میں قائم مانیٹرنگ گروپ کے مطابق بمباری میں کم از کم 6 ممبران سمیت 12 حکومتی حامیوں کو ہلاک کر دیا ہے-

    باغی ٹی وی : عالمی خبررساں ادارے کے مطابق ترکیہ کے وزیر دفاع نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ سب کچھ ملبہ بنانے کی گھڑی آچکی ہے اس کے علاوہ کسی گروہ کا نام لیے بغیر انتہائی سخت انداز میں گالی کی زبان استعمال کرتے ہو ئے کہا کہ ان کو اپنے حملوں کی بڑی قیمت ادا کرنا ہوگی۔

    سعودی عرب نےانسداد وبائی امراض کیلئےعالمی فنڈ میں 5 کروڑ ڈالرعطیہ کرنےکا اعلان کیا

    ترک وزیر دفاع نے اس ٹویٹ کے ساتھ ایک تصویر بھی شیئر کی جس میں ایک لڑاکا طیارے کو اُڑان بھرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے اس کے بعد اپنی اگلی ٹوئٹس میں انہوں نے بتایا کہ ٹھیک ٹھیک نشانے لے کر دہشت گردوں کے ٹھکانے تباہ کردیئے اس کے ساتھ ایک ویڈیو بھی ٹویٹ کی گئی ہے جس میں دکھایا گیا ہے کہ ایک ہدف کو تلاش کی جارہا ہے اور اس کے ساتھ ہی دھماکے کی آواز آتی ہے۔

    کردش فورسز کا بتانا ہے کہ ترکیہ کے حملے کا ہدف شمال مشرقی شام میں کوبین کا علاقہ تھا۔ واضح رہے اس کوبین شہر کو ہی داعش نے قبضے میں لیا تھا۔

    شمالی نائیجریا کے گاؤں پر مسلح افراد کا حملہ،12 افراد ہلاک

    امریکی اتحادی فوج ایس ڈی ایف کے چیف کمانڈر مظلوم عابدی نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا کہ ترکیہ کی بمبار ی سے ہمارے محفوظ علاقوں کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے حلب، حسکیہ میں بمباری کی گئی ہے۔

    شامی آبزرویٹری کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان نے کہا ہے کہ گنجان آباد علاقے کو ہدف بنایا گیا ہے، نیز ان علاقوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے جن میں شامی رجیم کی فورسز تعینات ہیں۔

    ترکیہ کے فوجی ذرائع نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ حملے میں کرد پارٹی کے اسلحہ خانے، خندقیں، فیکٹری، تربیت گاہ اور کمین گاہوں کو مٹی کا ڈھیر بنادیا گیا۔ یہ کارروائی استنبول بم دھماکے کے جواب میں کی گئی۔

    ترکیہ کی جانب سے بمباری میں ہلاکتوں سے متعلق کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا لیکن شام میں جنگ کو مانیٹر کرنے والے برطانوی ادارے نے دعویٰ کیا ہے کہ ترکیہ کے حملے میں 12 اہلکار مارے گئے جن میں کرد جنگجو اور شامی فوجی بھی شامل ہیں۔

    کویت میں 2017 کے بعد پہلی مرتبہ ایک پاکستانی اور 2 خواتین سمیت سات افراد کو پھانسی

  • شام:کشتی ڈوبنے سے 45 بچوں سمیت 76 افراد ہلاک

    شام:کشتی ڈوبنے سے 45 بچوں سمیت 76 افراد ہلاک

    شام :لبنان سے یورپ کی طرف روانہ ہونے والی کشتی ڈوبنے سے 45 بچوں سمیت 76 افراد ہلاک ہو گئے،شامی ٹی وی کے مطابق کشتی میں کم از کم 150 افراد سوار تھے-

    باغی ٹی وی : گزشتہ روز لبنان کے وزیر ٹرانسپورٹ علی حمیہ نے بتایا تھا کہ چند روز قبل مہاجرین کی لبنان سے یورپ کی طرف روانہ ہوانے والی کشتی شام کے قریب ڈوبنے سے 76 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے کشتی پر سوار دیگر مسافروں کی تلاش جاری ہے تاہم اب زندہ بچ جانےکے امکانات معدوم ہوچکے ہیں-

    شامی حکام نے جمعرات کی سہ پہر طرطوس (شمال مغرب) کے ساحل سے سمندر میں لاشیں تلاش کرنا شروع کیں اب تک ڈوبنے والی کشتی سے 20 افراد کو بچا لیا گیا ہے اور انہیں علاج کے لیے شام کے اسپتال لے جایا گیا ہے۔

    حمیہ نے کہا کہ شامی حکام نے اشارہ کیا کہ زندہ بچ جانے والوں میں سے زیادہ تر کو آکسیجن فراہم کی گئی ہے جب کہ کچھ کو انتہائی نگہداشت میں منتقل کر دیا گیا تھا کشتی میں تقریباً 45 بچے سوار تھے اور ان میں سے کوئی بھی زندہ نہیں بچا تاہم وہ تعداد کی تصدیق نہیں کرسکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کشتی "بہت چھوٹی” تھی اور لکڑی سے بنی تھی۔

    ایران: مظاہروں میں 17 افراد جاں بحق، امریکی پابندیاں لگ گئیں

    شام میں سمندری بندرگاہوں کے ڈائریکٹر جنرل بریگیڈیئر جنرل سامر قبرصلی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ہمارے کیڈرز اب المنطار کے علاقے اور (جزیرہ) ارواد اور طرطوس کے سمندروں میں ایک کشتی کو بچانے کے لیے اپنی تمام تر کوششوں کے ساتھ کام کر رہے ہیں آٹھ زندہ بچ جانے والوں کو بچا لیا گیا۔ انہیں طرطوس کے الباسل ہسپتال لے جایا گیا زندہ بچ جانے والوں کی تلاش اب بھی جاری ہے جس میں ماہی گیر بھی شامل ہیں۔

    حالیہ برسوں میں لبنان سے غیر قانونی طور پر ہجرت کرنے کی کوشش دہرائی گئی ہےلبنان میں بگڑتے ہوئے معاشی اور زندگی کے حالات کی روشنی میں سمندری راستے سے بھاگنے کی کوشش کرنے والے تارکین وطن کی تعداد دوگنی ہو گئی ہے۔ ان کی منزل اکثر قبرص ہے، جو لبنان کے ساحل کے قریب واقع یورپی ملک ہے-

    شام میں ہزاروں بچوں کو ہیضے وبا سے متاثر ہونے کا خطرہ لاحق

  • شام میں ہزاروں بچوں کو ہیضے وبا سے متاثر ہونے کا خطرہ لاحق

    شام میں ہزاروں بچوں کو ہیضے وبا سے متاثر ہونے کا خطرہ لاحق

    شام میں ہزاروں بچوں کو ہیضے کا خطرہ لاحق ہے-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق غیرسرکاری تنظیم ’سیودا چلڈرن‘ نے خبردارکیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی،تنازعات اور پانی کی قلّت کی وجہ سےشام کے شمال اورمشرقی علاقوں میں ہزاروں بچوں کو ہیضے کا خطرہ لاحق ہوگیا ہےآلودہ پانی سے پیدا ہونے والی اس بیماری سے درجن سے زیادہ افراد موت کے منہ میں چکے گئے ہیں-

    تسمانیہ کے ساحل پر پھنس کر 200 وہیل مچھلیاں ہلاک ہو گئیں

    سیودا چلڈرن کے شام میں قائم مقام کنٹری ڈائریکٹر بیٹ روہر نے کہا کہ اگر ہم نے ابھی کارروائی نہیں کی تو ہمیں ایک بڑی وبا کا سامنا ہوسکتا ہے۔ایک ایسی وبا جو پہلے ہی شام بھر میں بچوں کی حفاظت کی ضروریات کو بڑھا رہی ہے، ان کی مشکلات میں اضافہ کررہی ہے-

    بیٹ روہر نے کہا کہ اس بیماری کی موجودہ وبا،جو اسہال، قے، پیاس اور بدترین صورتوں میں موت کا سبب بنتی ہے، کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ ان آبادیوں میں پھیل رہی ہے، جودریائے فرات کا آلودہ پانی استعمال کرتی ہیں اور اسی سے سیراب ہونے والی غذاؤں کا استعمال کرتی ہیں۔

    انہوں نے کہ کہ دریائے فرات میں اس وقت پانی کا بہاؤ تاریخی طور پر کم ترین سطح پر ہے اور اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ شام کو گذشتہ دہائیوں کے مقابلے میں اس وقت بدترین خشک سالی کا سامنا ہے۔

    میانمار: فوجی ہیلی کاپٹروں کی اسکول پر فائرنگ سے 6 بچے ہلاک اور 17 زخمی

    قبل ازیں اقوام متحدہ نے گذشتہ ہفتے ہی شام میں ہیضے کی وبا کی سنگینی کے بارے میں خبردار کیا تھا اورکہا تھا کہ جنگ سے پانی کے بنیادی ڈھانچے کی وسیع پیمانے پر تباہی کا مطلب ہے کہ ملک کی زیادہ ترآبادی غیرمحفوظ آبی ذرائع پر انحصار کرتی ہے۔شام میں حالیہ برسوں میں ہیضے کی یہ پہلی تصدیق شدہ وبا ہے۔

    عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مشرقی بحیرہ روم کے خطے کے علاقائی ایمرجنسی ڈائریکٹر رچرڈ برینن نے کہا تھا کہ اس وبا کا جغرافیائی پھیلاؤ تشویش کا باعث ہے اس لیے ہمیں تیزی سے آگے بڑھنا ہوگا۔

    ڈبلیو ایچ او کے مطابق ہیضے کی حالیہ وبا پھیلنے سے قبل پانی کے بحران کی وجہ سے خطے میں اسہال، غذائی قلت اور جلدی بیماریوں میں اضافہ ہوا تھا۔

  • شام میں پاسبان حرم جنرل ابوالفضل علیجانی شہید ہوگئے

    شام میں پاسبان حرم جنرل ابوالفضل علیجانی شہید ہوگئے

    تہران :پاسبان حرم جنرل ابوالفضل علیجانی کا تعلق سپاه پاسداران انقلاب اسلامی IRGC کی بری فوج سے تھا اور ان کا شمار امیرالمومنین (ع) یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے انفنٹری کالج کے افسروں اور اسی طرح شام میں فوجی مشیروں میں ہوتا تھا۔

    پاسبان حرم جنرل ابوالفضل علیجانی شام میں حضرت زینب (س) کے حرم مطہر کی حفاظت کرتے ہوئے شہید ہو گئے اور اپنے شہید ساتھیوں سے جا ملے۔

    شام میں ایک ’’مشن“ کے دوران ایرانی پاسداران انقلاب (IRGC) کا جنرل نامعلوم حملے میں ہلاک ہوگیا۔ایران کے سرکاری میڈیا نے منگل کو رپورٹ کیا کہ ایران کے اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) کا ایک جنرل شام میں “مشن” کے دوران ہلاک ہوگیا ہے۔

    سرکاری نشریاتی ادارے نے اپنی ویب سائٹ پر کہا جنرل ابوالفضل علی جانی شام میں بطور فوجی مشیر تعینات تھے۔ایران کا کہنا ہے کہ اس نے شام میں اپنی فوجیں دمشق حکومت کی دعوت پر صرف مشیروں کے طور پر تعینات کی ہیں۔

    واضح رہے کہ اسرائیل شام میں فضائی حملوں میں ایرانی حمایت یافتہ اتحادی افواج اور لبنانی حزب اللہ کے سیکڑوں جنگجوؤں کو نشانہ بنا چکا ہے۔ایران اور اسرائیل برسوں سے غیر اعلانیہ جنگ میں مصروف ہیں، ایران اسرائیل پر اپنے سائنسدانوں سمیت اہم شخصیات کے قتل کا الزام لگاتا ہے۔اسلامی انقلابی گارڈز کور کو امریکا نے دہشت گرد گروپ کے طور پر بلیک لسٹ کر رکھا ہے۔

  • شام کی مارکیٹ میں دھماکہ،19 افراد جاں بحق ،متعدد زخمی

    شام کی مارکیٹ میں دھماکہ،19 افراد جاں بحق ،متعدد زخمی

    دمشق: شام کے شمالی علاقے کی ایک مارکیٹ میں دھماکے سے 19 افراد جاں بحق ہو گئے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق صدر بشار الاسد کی افواج نے توپ خانے کا استعمال کیا جس کے ایک گولے سے شام کے شمالی علاقے کے سرحدی قصبے ال باب کی ایک مارکیٹ میں زور دار دھماکہ ہوا مارکیٹ پر حملےکےبعد عینی شاہدین کے مطابق ہر طرف کٹے پھٹے انسانی اعضا بکھرے نظر آئے جبکہ پھلوں اور سبزیوں کی ریڑھیوں کے ٹکڑے دور تک اڑ کر گئے۔

    صومالیہ:2 بم دھماکوں کے بعد دہشتگردوں کا ہوٹل پر قبضہ

    دھماکے میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے جنہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کر دیا گیا۔دھماکے میں زخمی ہونے والے متعدد افراد کی حالت نازک ہے اور حکام نے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے-

    یہ علاقہ ترک حکومت کے حامی شامی جنگجوؤں کے زیر قبضہ ہے۔دھماکے کے بعد پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور سرچ آپریشن شروع کر دیا۔

    ال باب میں کام کرنے والی انسانی حقوق کی تنظیم کے مطابق شامی فورسز کی شیلنگ سے مارکیٹ میں جانی نقصان ہوا ہے تاہم شامی حکومت کے ترجمان نے مارکیٹ پرشیلنگ کی تردید کی ہے۔

    کیلیفورنیا میں 2 چھوٹے طیارے آپس میں ٹکرا گئے،2 افراد ہلاک

    پرتشدد واقعات میں تیزی حال ہی میں شام کی کرد ڈیموکریٹک فورسز کی جانب سے ترک افواج اور ان کے حمایت یافتہ جنگجوؤں کے خلاف کارروائیوں کے بعد آئی ہے شام کے کُرد جنگجوؤں کو بشار الاسد کی افواج کی حمایت حاصل ہے-

    دوسری جانب شام کے نیم خود مختار کرد علاقے میں ترک افواج کے ایک حملے میں چار بچوں کی موت واقع ہوئی جبکہ 11 افراد زخمی ہو گئے یہ واقعہ شمالی شام کے حساکہ شہر میں لڑکیوں کے ایک تربیتی مرکز کے قریب پیش آیا۔

    حیران ہوں سلمان رشدی زندہ کیسے بچ گیا، ہادی مطر

  • ترک افواج شام میں بڑے حملےکی تیاری کررہی ہیں:شامی ذرائع کا دعویٰ‌

    ترک افواج شام میں بڑے حملےکی تیاری کررہی ہیں:شامی ذرائع کا دعویٰ‌

    حلب:عرب ملک کے شمالی صوبے حلب میں فوجی چوکیوں پر ترکی کے فضائی حملے میں مبینہ طور پر تین شامی فوجیوں کے ہلاک اور چھ کے زخمی ہونے کے بعد ترک فوج بظاہر ہمسایہ ملک شام میں ایک نئی سرحد پار کارروائی کی تیاری کر رہی ہے۔

    مقامی ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی سانا کو بتایا کہ ترک فورسز نے جرابلس شہر کے قریب سرحدی علاقوں میں مساجد میں لاؤڈ اسپیکر کا استعمال کیا ہے تاکہ لوگوں کو آپریشن کی تیاری کے لیے گھروں کے اندر رہنے کو کہا جا سکے۔

     

     

    ذرائع نے مزید کہا کہ متعدد ترک جنگی ڈرونز کو سرحد کے قریب علاقوں پر آسمان پر اڑتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے اور ترکی کے فوجی دستے حسقہ، رقہ اور حلب صوبوں کے بیشتر سرحدی قصبوں میں تیزی سے متحرک ہو رہے ہیں۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ترک فوج نے حالیہ دنوں میں شام کے سرحدی علاقوں پر اپنے حملوں میں اضافہ کیا ہے۔

     

     

    عراق میں مظاہروں اور دھرنوں کی وجہ سے حالات کشیدہ،عام تعطیل کا اعلان کردیا گیا

    سانا نے منگل کے روز اطلاع دی ہے کہ ترکی کے جنگی طیاروں نے شام 14:37 بجے سے حلب کے دیہی علاقوں میں شامی فوجی چوکیوں کو مقامی وقت کے مطابق شام 15:00 بجے تک نشانہ بنایا۔

    رپورٹ میں مزید تفصیلات بتائے بغیر کہا گیا کہ شامی مسلح افواج نے حملے کا جواب دیا اور کچھ ترک فوجی مقامات پر مادی اور انسانی نقصان پہنچایا۔ترکی کی جانب سے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔

    سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے کہا ہے کہ ترکی کی سرحد کے قریب شامی چوکی کو نشانہ بنانے والے ترک فضائی حملے میں 17 افراد ہلاک ہوئے، جن میں شامی فوج اور کرد جنگجو دونوں شامل ہیں۔برطانیہ میں قائم جنگی مانیٹر نے کہا کہ فضائی حملے میں کردوں کے زیر قبضہ سرحدی شہر کوبانی کے مغرب میں واقع گاؤں جرقلی میں چوکی کو نشانہ بنایا گیا۔

    سلجوق سلطنت اور اسکا قیام .تحریر: سمیع اللہ

    شامی فوج نے عرب ملک میں ترکی کی طرف سے دو فضائی حملوں کے بعد شام کے اندر ترک ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔یہ حملہ ترک افواج اور امریکی حمایت یافتہ سیریئن ڈیموکریٹک فورسز (SDF) سے وابستہ کرد زیرقیادت عسکریت پسندوں کے درمیان رات بھر ہونے والی جھڑپوں کے بعد ہوا جو اس علاقے کو کنٹرول کرتی ہے۔

    8 اگست کو، ترک صدر رجب طیب اردگان نے شام میں سرحد پار سے ایک نئی کارروائی کے لیے اپنے ملک کے منصوبے کا اشارہ دیا تاکہ امریکی حمایت یافتہ کردش پیپلز پروٹیکشن یونٹس (YPG) عسکریت پسند گروپ، جو SDF کی ریڑھ کی ہڈی ہے، کے ارکان کو ہٹایا جائے۔

     

    ہم دہشت گردی کے خلاف اپنی جنگ جاری رکھیں گے۔ ہماری جنوبی سرحد کے ساتھ 30 کلومیٹر گہرائی (18.6 میل) محفوظ لائن قائم کرنے کا ہمارا فیصلہ حتمی ہے،” اردگان نے دارالحکومت انقرہ میں 13ویں سفیروں کی کانفرنس میں شرکت کرنے والے ترک سفارت کاروں سے خطاب میں کہا۔

    پچھلے مہینے، اردگان نے کہا تھا کہ وائی پی جی کے عسکریت پسندوں کے خلاف ایک نیا ترکی آپریشن اس وقت تک ایجنڈے پر رہے گا جب تک سیکورٹی خدشات کو دور نہیں کیا جاتا۔ایران اور روس دونوں، جو دمشق کی انسداد دہشت گردی مہم میں مدد کر رہے ہیں، ترکی کو اس طرح کی کارروائی شروع کرنے کے خلاف خبردار کر چکے ہیں۔ترکی نے عرب ملک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شام میں فوجیں تعینات کی ہیں۔

    دمشق ائیرپورٹ پر بمباری اور پروازیں منسوخ:مگرپی آئی اے نے متبادل بندوبست کرلیا

    انقرہ کے حمایت یافتہ عسکریت پسندوں کو اکتوبر 2019 میں شمال مشرقی شام میں تعینات کیا گیا تھا جب ترک فوجی دستوں نے YPG جنگجوؤں کو سرحدی علاقوں سے دور دھکیلنے کی اعلانیہ کوشش میں سرحد پار سے طویل دھمکی آمیز حملہ شروع کیا تھا۔

    انقرہ وائی پی جی کو ایک دہشت گرد تنظیم کے طور پر دیکھتا ہے جو آبائی علاقے کردستان ورکرز پارٹی (PKK) سے منسلک ہے، جو 1984 سے ترکی میں خود مختار کرد علاقے کی تلاش میں ہے۔شام کے صدر بشار الاسد اور دیگر اعلیٰ حکام نے کہا ہے کہ دمشق ترکی کی جاری زمینی کارروائی کا دستیاب تمام جائز ذرائع سے جواب دے گا۔

  • سرزمین  شام میں امریکہ کے خلاف احتجاجی مظاہرے

    سرزمین شام میں امریکہ کے خلاف احتجاجی مظاہرے

    قامشلی :شام میں امریکہ کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے اور یہ بھی اطلاعات ہیں کہ یہ مظاہرے شدت اختیار کرنے لگے ہیں ،

    رپورٹ کے مطابق شام کے شہر قامشلی کے دیہی علاقے تنوریه الغمر کے عوام نے غاصب امریکی فوجیوں کی ہتک آمیز اور گستاخانہ رویے کے خلاف مظاہرہ کرتے ہوئے علاقے سے امریکی فوجیوں کف فوری انخلا کا مطالبہ کیا۔

    شام میں دس سالوں میں3لاکھ سے زائد شہری جاںبحق ہوگئے

    شامی عوام نے یہ مظاہرہ ایسے میں کیا ہے کہ جب امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے حمایت یافتہ دہشتگرد گروہ کرد ڈیموکریٹک ملیشا نے کار کی ٹکر سے ایک بچے کی جان لی۔ مظاہرین نے سڑک پر ٹائر جلا کر مظاہرہ کیا اور سڑک کو ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند کر کے دہشتگرد گروہ کرد ڈیموکریٹک ملیشا کے عناصر کی گاڑیوں پر پتھراؤ کیا۔

    امریکہ اپنی تیل کی ضروریات شام سے لوٹ مارکےتیل سے پوری کررہا ہے

    امریکی فوجی اور ان سے وابستہ دہشتگرد عناصر ایک عرصے سے شمالی اور مشرقی شام میں غیر قانونی طور پر موجود ہیں اور شام کا تیل لوٹنے کے ساتھ ہی اس علاقے کے باشندوں اور وہاں تعینات شامی فوجیوں و سیکورٹی اہلکاروں کے خلاف جارحانہ اور اشتعال انگیز اقدامات انجام دے رہے ہیں۔

    ادھر شام کے وزیر خارجہ فیصل المقداد گزشتہ شب ایران کے دارالحکومت تہران میں موجود ہیں‌۔ ان کا یہ دورہ تہران میں آستانہ عمل کے بانی ممالک کے ساتویں سربراہی اجلاس کے موقع پر انجام پا رہا ہے۔

    شام کے وزیر خارجہ اس دورے میں ایران کے وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان سے باہمی تعاون اور علاقائی اور عالمی صورتحال پر گفتگو کریں گے۔

     

    حج کیلئے حجاز مقدس پہنچنے پر شامی خاتون کا والہانہ استقبال

    المقداد ایسے وقت میں تہران کا دورہ کر رہے ہیں کہ جب روس کے صدر ولادیمیر پوتین اور ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے بھی شام کے بارے میں سہ فریقی سربراہی اجلاس میں شرکت کے لئے تہران کا دورہ کیا تھا۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز روس، ترکی اور ایران کے صدور کی شرکت سے آستانہ عمل کے ضامن ملکوں کا سہ فریقی سربراہی اجلاس تہران میں منعقد ہوا۔ تینوں ممالک کے صدور نے شام میں حالیہ پیش رفت اور دہشت گردی بشمول ’’داعش اور پی کے کے‘‘ کے خلاف جنگ اور شامی پناہ گزینوں کی اپنے وطن رضاکارانہ واپسی پر تبادلہ خیال کیا۔

  • امریکہ دوسرے ملکوں میں مداخلت سے بازآ جائے:چین کا انتباہ

    امریکہ دوسرے ملکوں میں مداخلت سے بازآ جائے:چین کا انتباہ

    بیجنگ:امریکہ دوسرے ملکوں میں مداخلت سےبازآجائے:چین کا انتباہ ،اطلاعات کے مطابق چین نےامریکہ اورمغرب کوخبردارکرتےہوئے کہا ہےکہ وہ مشرق وسطیٰ کے معاملات میں مداخلت بند کریں اور مُلکوں کوان کے اپنے آئین ، اصول اورمعیار کے مطابق چلنے دیں

    امریکی مداخلت پر سخت تنقید کرتے ہوئے چینی ریاستی کونسلر اور وزیر خارجہ وانگ یی نے یہ بات اپنے شامی ہم منصب فیصل مقداد کے ساتھ ویڈیو لنک کے ذریعے بات چیت کرتے ہوئے کہی۔وزیرخارجہ وانگ نے کہا کہ چین ترقی کے راستے کی آزادانہ تلاش میں مشرق وسطیٰ کے عوام کی مضبوطی سے حمایت کرتا ہے اور علاقائی سلامتی کے مسائل کو اتحاد اور خود بہتری کے ذریعے حل کرنے میں ممالک کی حمایت کرتا ہے۔

    چینی وزیرخارجہ نے شامی ہم منصب سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ فلسطین مشرق وسطیٰ کے مسئلے کا مرکز ہے اور اسے عالمی برادری کو فراموش نہیں کرنا چاہیے، وانگ نے کہا کہ چین مسئلہ فلسطین کو دوبارہ بین الاقوامی ایجنڈے میں سرفہرست رکھنے کے لیے تیار ہے۔

     

    چین کی ہائی ٹیک اندسٹری کی ترقی کا رجحان برقرار

    چینی وزیرخارجہ وانگ نےامریکہ اورمغرب پر زوردیتے ہوئےکہا کہ "ہم سمجھتے ہیں کہ مشرق وسطیٰ میں ہمارے بھائیوں اور بہنوں کے پاس امن و استحکام کی مجموعی صورتحال کو برقرار رکھنےاورمسائل کو حل کرنےکی صلاحیت اوردانشمندی ہے۔پھرامریکہ ان کو ان کی مرضی سےیہ معاملات حل کرنے میں آزاد کیوں نہیں رہنےدے رہا،وانگ نےمزید کہا کہ خطے کےممالک کی خودمختاری کا صحیح معنوں میں احترام کرتےہیں،اورایسےکام کرتے ہیں جو خطےکےعوام کی ضروریات کی بنیاد پر خطے کی پرامن ترقی کے لیے سازگار ہوں۔

    وانگ نے کہا کہ چینی فریق شامی فریق کے ساتھ مل کر دونوں سربراہان مملکت کے درمیان طے پانے والے اہم اتفاق رائے کو عملی جامہ پہنانے اور چین اور شام کے تعلقات کی پائیدار، مستحکم اور صحت مند ترقی کو فروغ دینے کے لیے تیار ہے ۔اس موقع پرچینی وزیرخارجہ نے کہا کہ چین شام کی خودمختاری، آزادی، علاقائی سالمیت اور قومی وقار کی حفاظت کے بیانیے پر قائم ہے ، اپنے پڑوسیوں کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے میں شام کی حمایت کریں، اور شام میں امن اور استحکام کی جلد بحالی کی خواہش کریں۔

     

    چین سری لنکا کی اقتصادی اور سماجی ترقی میں مدد جاری رکھے ہوئے ہے

    اس موقع پر شامی وزیرخارجہ مقداد نے کہا کہ چین ہمیشہ ایک عقلی اور منصفانہ موقف پر قائم رہا ہے، چھوٹے اور درمیانے درجے کے ممالک کو ایک ساتھ ترقی کرنے میں مدد کی ہے اور عالمی کثیر پولرائزیشن اور انسانی ترقی اور پیشرفت کو فروغ دینے میں فعال کردار ادا کیا ہے۔

     

    بیلٹ اینڈ روڈکی تعمیر سےسنکیانگ ایک کلیدی علاقہ بن چکا ہے:چینی صدر

    مقداد نے کہا کہ شامی فریق اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ میں چین کی مضبوطی سے حمایت کرتا ہے اور چین کے اندرونی معاملات میں بیرونی طاقتوں کی مداخلت کی سختی سے مخالفت کرتا ہے، میکداد نے مزید کہا کہ سنکیانگ، ہانگ کانگ اور تبت کے بارے میں پھیلائی جانے والی افواہیں امریکہ اور مغرب کی طرف سے پھیلائی جائیں گی۔

    مقداد نے یہ بھی کہا کہ شامی فریق مضبوطی سے حمایت کرتا ہے اور گلوبل ڈیولپمنٹ انیشیٹو اور گلوبل سیکیورٹی انیشیٹو میں فعال طور پر حصہ لینے کے لیے تیار ہے جس سے عالمی امن اور ترقیاتی تعاون کے وسیع امکانات کھلیں گے۔