Baaghi TV

Tag: شام

  • شام کے صدر نے اپنے بھائی کو اہم سرکاری عہدے سے ہٹا دیا

    شام کے صدر نے اپنے بھائی کو اہم سرکاری عہدے سے ہٹا دیا

    دمشق: شام کے صدر احمد الشرع نے سرکاری عہدوں میں ردوبدل کے دوران اپنے بھائی کو بھی اہم عہدے سے ہٹا دیا۔

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق شام کے صدر احمد الشرع کے بھائی مہر الشرع دمشق میں صدارتی سیکرٹری جنرل کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے اور ان پر اقربا پروری کے الزامات عائد کیے جا رہے تھے مہر الشرع کی تقرری نے سابق شامی صدر بشار الاسد اور ان کے والد حافظ الاسد کے دور حکو مت کی یاد تازہ کر دی تھی۔

    صدر احمد الشرع نے ایک نئے حکم نامے کے تحت سابق گورنر حمص عبدالرحمٰن بدرالدین العامہ کو صدارتی سیکرٹری جنرل مقرر کر دیا جو اب مہر الشرع کی جگہ ذمہ داریاں سنبھالیں گے تاحال یہ واضح نہیں کیا گیا کہ مہر الشرع کو اب کون سا نیا عہدہ دیا جائے گا مہر الشرع پیشے کے اعتبار سے معالج ہیں اور اس سے قبل شام کے عبوری وزیر صحت کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔

  • شام سے واپس آنے والی داعش سے منسلک 3 خواتین آسٹریلیا میں گرفتار

    شام سے واپس آنے والی داعش سے منسلک 3 خواتین آسٹریلیا میں گرفتار

    شام میں شدت پسند تنظیم ‘داعش’ سے منسلک کیمپوں میں کئی برس گزارنے کے بعد آسٹریلیا واپس آنے والی 3 خواتین کو دہشت گردی سے متعلق الزامات کے تحت گرفتار کرلیا گیا۔

    بی بی سی کے مطابق گرفتار خواتین میں 53 سالہ کوثر عباس، 31 سالہ زینب احمد اور 32 سالہ جنائی صفار شامل ہیں کوثر عباس اور زینب احمد کو میلبورن ایئرپور ٹ جبکہ جنائی صفار کو سڈنی پہنچنے پر حراست میں لیا گیا ان کے ساتھ مجموعی طور پر 9 بچے بھی آسٹریلیا پہنچے، تاہم ایک خاتون کو گرفتار نہیں کیا گیا۔

    آسٹریلوی حکام کے مطابق بچوں کی نفسیاتی معاونت کی جائے گی اور یہ بھی جانچا جائے گا کہ آیا وہ انتہا پسند نظریات سے متاثر ہوئے ہیں یا نہیں ،یہ خواتین 2019 سے شام کے الروج کیمپ میں مقیم تھیں، جہاں داعش کے خاتمے کے بعد ہزاروں غیر ملکی خواتین اور بچوں کو رکھا گیا تھا۔ انسانی حقوق تنظیموں کے مطابق ان کیمپوں میں حالات انتہائی خراب اور جان لیوا رہے ہیں۔

    رپورٹس کے مطابق کوثر عباس کے شوہر محمد احمد پر الزام تھا کہ وہ ایک فلاحی ادارے کے ذریعے داعش کو مالی معاونت فراہم کرتے رہے، تاہم انہوں نے ان الزامات کی تردید کی تھی جنائی صفار 2015 میں شام گئی تھیں اور مبینہ طور پر ایک داعش جنگجو سے شادی کی تھی انہوں نے 2019 میں ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ انہیں آسٹریلیا واپسی پر گرفتاری اور اپنے بچے سے علیحدگی کا خوف تھا۔

    آسٹریلوی حکام کا کہنا ہے کہ خواتین پر دہشت گردی، ممنوعہ علاقوں میں قیام اور انسانیت کے خلاف جرائم جیسے الزامات عائد کیے جاسکتے ہیں۔ وزیر داخلہ ٹونی برک نے کہا کہ قانون توڑنے والوں کو مکمل قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

  • شام میں فوجی تنصیبات پر اسرائیلی حملہ،سعودی عرب  کی شدید مذمت

    شام میں فوجی تنصیبات پر اسرائیلی حملہ،سعودی عرب کی شدید مذمت

    سعودی عرب نے شام کے جنوبی علاقے میں فوجی تنصیبات پر اسرائیل کے حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے کھلی جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

    ہفتے کے روز سعودی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ شام کے فوجی ڈھانچے کو نشانہ بنانے والا اسرائیلی حملہ قابلِ مذمت ہے اور یہ اقدام خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ ہے، یہ حملہ اسرائیل کی کھلی جارحیت ہے جو ایک خود مختار ملک کی سالمیت کے خلاف ہے، یہ کارروائی بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں اڑانے کے مترادف ہے اور اس طرح کے اقدامات کسی صورت قابلِ قبول نہیں،عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ اس صورتحال کا نوٹس لے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے کردار ادا کرے

    بحرین میں امریکی فوجی اڈے پر دھماکے، شہریوں کو محفوظ مقامات پر جانے کی ہدایت

    قبل ازیں ترک وزارت خارجہ نے اسرائیلی حملے کو ’خطرناک کشیدگی‘ قرار دیا تھا جسے روکا جانا چاہیے مصر، اردن، قطر اور کویت نے بھی اسرائیلی حملوں کی مذمت کی، اور شام کی خود مختاری کو یقینی بنانے اور ایسے حملوں کو روکنے کے لیے عالمی برادری کے کردار کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

    دی سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے جمعرات کو رپورٹ دی تھی کہ صوبہ سویدا میں حکومتی دستوں کے ساتھ جھڑپوں میں کم از کم چار دروز جنگجو مارے گئے، بعد ازاں اسرائیلی گولہ باری سے سویدا شہر کے رہائشی علاقے نشانہ بنے۔

    امریکا نے ایرانی تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت کی اجازت دے دی

  • سعودی  فلائی ناس اور شامی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے درمیان نئی ایئرلائن  کے قیام کا معاہدہ

    سعودی فلائی ناس اور شامی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے درمیان نئی ایئرلائن کے قیام کا معاہدہ

    فلائی ناس اور شامی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے درمیان نئی ایئرلائن ‘فلائی ناس شام’ کے قیام کا معاہدہ طے پا گیا نئی ایئرلائن کی پروازوں کا آغاز 2026 کی چوتھی سہ ماہی میں متوقع ہے-

    یہ معاہدہ سعودی عرب اور شام کے درمیان دوطرفہ تعاون اور اسٹریٹجک سرمایہ کا ری کے فریم ورک کے تحت طے پایاجس میں سعودی وزارتِ سرمایہ کاری اور شامی جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن اینڈ ایئر ٹرانسپورٹ نے ہم آہنگی کی۔

    نئی ایئرلائن ایک مشترکہ منصوبے کے طور پر قائم کی جائے گی، جس میں 51 فیصد شیئر شامی سول ایوی ایشن اتھارٹی اور 49 فیصد فلائی ناس کے پاس ہوں گے کمپنی منظور شدہ ضوابط اور اعلیٰ ترین حفاظتی معیارات کے مطابق کمرشل پروازیں چلائے گی، جبکہ تمام لائسنسنگ اور آپریشنل مراحل متعلقہ اداروں کے تعاون سے مکمل کیے جائیں گےفلائی ناس شام مشرق وسطیٰ، افریقہ اور یورپ کے متعدد مقامات کے لیے پروازیں چلائے گی، جس کا مقصد شام سے اور شام کے لیے فضائی آمدورفت کو فروغ دینا اور علاقائی و بین الاقوامی روابط کو مضبوط بنانا ہے۔

    سعودی وزیرِ سرمایہ کاری خالد الفالح نے کہا کہ یہ اقدام معیاری سرحد پار سرمایہ کاری کے فروغ کے عزم کا حصہ ہے ان کے مطابق ہوا بازی کا شعبہ معا شی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے اور یہ شراکت داری دونوں ممالک کے مشترکہ مفادات اور علاقائی استحکام کو تقویت دے گی۔

    شامی سول ایوی ایشن کے سربراہ عمر حصاری نے کہا کہ یہ منصوبہ شام کے فضائی شعبے کی جدید بنیادوں پر ازسرنو تعمیر کی قومی حکمتِ عملی کا حصہ ہےفلائی ناس اس وقت ریاض، جدہ اور دمام سے دمشق کے لیے ہفتہ وار 23 پروازیں چلا رہی ہے اور 2025 میں دمشق کے لیے شیڈول پروازیں بحال کرنے والی پہلی سعودی ایئرلائن بنی تھی۔

  • امریکی فوج کے  شام میں داعش کے خلاف بڑے پیمانے پر فضائی حملے

    امریکی فوج کے شام میں داعش کے خلاف بڑے پیمانے پر فضائی حملے

    امریکی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے شام میں داعش کے خلاف بڑے پیمانے پر فضائی حملے کیے ہیں،یہ کارروائیاں داعش کے مختلف ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے لیے کی گئیں-

    امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ یہ حملے آپریشن ہاک آئی اسٹرائیک کا حصہ ہیں، جو گزشتہ ماہ پالمیرا میں ہونے والے اس حملے کے جواب میں کیے گئے، جس میں دو امریکی فوجی اور ایک امریکی مترجم ہلاک ہو گئے تھے۔

    امریکی فوج کے مطابق حملوں کی درست جگہوں کی تفصیل جاری نہیں کی گئی، تاہم جاری کی گئی فضائی ویڈیو میں دیہی علاقوں میں متعدد دھماکے دیکھے جا سکتے ہیں،امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ امریکا اپنے شہریوں پر ہونے والے حملے کو نہ بھولے گا اور نہ ہی اس کا جواب دینا چھوڑے گا۔

    خیبر میں دلہے کی گاڑی کو حادثہ : 2 سگے بھائیوں سمیت 5 دوست جاں بحق

    گزشتہ ماہ امریکا اور اردن نے بھی مشترکہ فضائی کارروائیاں کی تھیں، جن میں داعش کے 70 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا تھا، شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کے مطابق ان حملوں میں داعش کے کم از کم 5 جنگجو مارے گئے تھےداعش اگرچہ 2014 میں قبضہ کی گئی بڑی زمین سے محروم ہو چکی ہے، تاہم شام کے صحرائی علاقوں میں اس کی موجودگی اب بھی برقرار ہے، امریکا نے حالیہ مہینوں میں شام میں اپنے فوجی دستوں کی تعداد کم کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔

    بلوچ یکجہتی کمیٹی فتنہ الہندوستان کا بظاہر سافٹ فیس، پراکسی کا منظم نیٹ ورک

  • شام کے صدارتی محل میں فائرنگ، صدر احمد الشراع محفوظ

    شام کے صدارتی محل میں فائرنگ، صدر احمد الشراع محفوظ

    دمشق:شام کی حکومت نے پیر کے روز اس بات کی تردید کی ہے کہ صدر احمد الشراع کو کسی سکیورٹی واقعے میں نشانہ بنایا گیا ہو-

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کو 2 ذرائع نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے دمشق میں صدارتی محل کے اندر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا تھا، گزشتہ چند دنوں سے سوشل میڈیا پر 30 دسمبر کو صدارتی محل میں فائرنگ کی اطلاعات گردش کر رہی تھیں یہ محل دارالحکومت دمشق پر نظر رکھتا ہے اور انہی خبروں کے بعد سے صدر احمد الشراع عوامی سطح پر نظر نہیں آئے –

    تاہم وزارتِ داخلہ کے ترجمان نورالدین البابا نے ان خبروں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ صدر یا کسی اعلیٰ عہدیدار کو نشانہ بنائے جانے سے متعلق تمام رپورٹس بے بنیاد ہیں،ہم دوٹوک الفاظ میں تصدیق کرتے ہیں کہ یہ تمام دعوے سراسر جھوٹ پر مبنی ہیں۔

    پوپ خلائی مخلوق سے ممکنہ رابطے سے متعلق خطاب کی تیاری کر رہے ہیَں، دلچسپ دعویٰ

    دوسری جانب شام کی نئی قیادت کی حمایت کرنے والے ایک ملک کے سفارتکار نے، نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر، اے ایف پی کو بتایا کہ 30 دسمبر کی شام واقعی صدارتی محل میں فائرنگ ہوئی تھی اسی طرح سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے سربراہ رامی عبدالرحمن نے بھی اے ایف پی کو بتایا کہ اس شام محل کے اندر فائرنگ تقریباً بارہ منٹ تک جاری رہی، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔

    رامی عبدالرحمن کے مطابق یہ واقعہ صدر احمد الشراع کو نشانہ بنانے کے لیے نہیں تھا بلکہ محل کے اندر موجود افراد کے درمیان ایک اندرونی تنازع کے باعث پیش آیا، برطانیہ میں قائم سیریئن آبزرویٹری اپنے دعووں کے لیے شام کے اندر موجود ذرائع کے نیٹ ورک پر انحصار کرتی ہے۔

    وینزویلا کی نائب صدر نے باضابطہ طور پر ملک کی عبوری صدر کے عہدے کا حلف اٹھالیا

    واضح رہے کہ شامی صدر احمد الشراع، جو عمومی طور پر کم ہی عوامی سطح پر نظر آتے ہیں، گزشتہ پیر کو ملک کی نئی کرنسی متعارف کرانے کے بعد سے کسی عوامی تقریب میں دکھائی نہیں دیے، جس کے باعث قیاس آرائیوں کو مزید تقویت ملی۔

  • شام کے مرکزی بینک کا یکم جنوری سے نئے کرنسی نوٹ جاری کرنے کا اعلان

    شام کے مرکزی بینک کا یکم جنوری سے نئے کرنسی نوٹ جاری کرنے کا اعلان

    شام کے مرکزی بینک ے یکم جنوری 2026 سے ملک بھر میں نئے کرنسی نوٹ جاری کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

    عالمی میڈیا کے مطابق کے مطابق یہ اقدام کرنسی سواپ منصوبے کے تحت کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد پرانے اور خستہ حال نوٹوں کو مرحلہ وار نئے نوٹوں سے تبدیل کرنا ہے شامی مرکزی بینک کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کے تحت عوام کو اپنی موجودہ کرنسی بغیر کسی اضافی فیس کے نئے نوٹوں میں تبدیل کرانے کی سہولت فراہم کی جائے گی۔

    مرکزی بینک کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ کرنسی کی تبدیلی کا عمل یکم جنوری سے باضابطہ طور پر شروع ہوگا اور اسے مرحلہ وار مکمل کیا جائے گا تاکہ مالیاتی نظام میں کسی قسم کا دباؤ یا خلل پیدا نہ ہو اس عمل کے دوران تمام کمرشل بینکوں اور مجاز مالیاتی اداروں کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں تاکہ عوام کو بروقت اور آسان سہولت میسر آ سکے۔

    عسکری اور سیاسی قیادت ملک کو مشکلات سے نکالنے کے لیے پرعزم ہے،خواجہ آصف

    شامی مرکزی بینک نے واضح کیا ہے کہ نئے کرنسی نوٹ جدید سیکیورٹی فیچرز سے آراستہ ہوں گے، جن میں جعلی نوٹوں کی روک تھام کے لیے خصوصی علامات اور جدید پرنٹنگ ٹیکنالوجی شامل ہے اس اقدام سے نہ صرف کرنسی کی حفاظت میں اضافہ ہوگا بلکہ مالی لین دین میں شفافیت بھی بہتر ہو گی۔

    بینک کے مطابق کرنسی سواپ منصوبے کا ایک اہم مقصد مارکیٹ میں گردش کرنے والے پرانے اور خراب نوٹوں کو ختم کرنا اور عوام کے اعتماد کو بحال کرنا ہے عوام سے اپیل ہے کہ وہ افواہوں پر کان نہ دھریں اور صرف مستند ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات پر یقین کریں،کرنسی کی تبدیلی کے عمل کی نگرانی سختی سے کی جائے گی اور کسی بھی قسم کی بدعنوانی یا بے ضابطگی کو بردا شت نہیں کیا جائے گا۔

    کوئٹہ میں بلدیاتی انتخابات تاحکم ثانی ملتوی

    معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ نئے نوٹوں کے اجرا سے شام کے مالیاتی نظام کو استحکام ملنے میں مدد مل سکتی ہے، تاہم اس منصوبے کی کامیابی کا انحصار شفاف عمل درآمد اور عوامی تعاون پر ہوگا۔

  • شام میں داعش کا سینئیر رہنما ہلاک اور  ایک گرفتار

    شام میں داعش کا سینئیر رہنما ہلاک اور ایک گرفتار

    دمشق:شامی حکام نے اعلان کیا ہے کہ امریکی قیادت میں قائم عالمی اتحاد کے ساتھ مشترکہ کارروائی کے دوران داعش کے ایک سینئر رہنما کو ہلاک کر دیا گیا ہے-

    شام کی وزارتِ داخلہ کے مطابق شامی سیکیورٹی اور انٹیلی جنس اداروں نے عالمی اتحاد کے تعاون سے ایک “انتہائی درست اور ہدفی سیکیورٹی آپریشن” انجام دیا بیان میں کہا گیا کہ اس کارروائی کے نتیجے میں دہشت گرد محمد شہادہ، المعروف “ابو عمر شداد”، کو ہلاک کر دیا گیا، جو شام میں داعش کے نمایاں رہنماؤں میں شمار ہوتا تھا۔

    اے ایف پی کے مطابق وزارتِ داخلہ کا کہنا تھا کہ یہ آپریشن قومی سیکیورٹی اداروں اور بین الاقوامی شراکت داروں کے درمیان مؤثر تعاون کا واضح ثبوت ہےاس سے قبل حکام نے بتایا تھا کہ بدھ کے روز دمشق میں داعش کے ایک اور رہنما طہٰ الزوبی، المعروف “ابو عمر طبیہ”، کو اس کے کئی ساتھیوں سمیت گرفتار کیا گیا۔

    کوئٹہ میں بلدیاتی انتخابات تاحکم ثانی ملتوی

    واضح رہے کہ 13 دسمبر کو شام کے علاقے پالمیرا میں ہونے والے ایک حملے میں دو امریکی فوجی اور ایک امریکی شہری ہلاک ہو گئے تھے، جس کا الزام واشنگٹن نے داعش کے ایک اکیلے مسلح حملہ آور پر عائد کیا تھا۔ اس کے جواب میں امریکی افواج نے شام میں داعش کے متعدد ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے،شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کے مطابق ان حملوں میں داعش کے کم از کم پانچ جنگجو ہلاک ہوئے۔

    یاد رہے کہ نومبر میں شامی صدر احمد الشراع کے دورۂ واشنگٹن کے دوران شام نے باضابطہ طور پر داعش کے خلاف امریکی قیادت میں قائم عالمی اتحاد میں شمولیت اختیار کی تھی۔

    کرسمس کے موقع پر یوکرینی صدر کی روسی صدر کو بد دُعا

  • شام  :بڑے پیمانے پر گرفتاریوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ، اسد دور کی جیلیں دوبارہ فعال

    شام :بڑے پیمانے پر گرفتاریوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ، اسد دور کی جیلیں دوبارہ فعال

    برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی ایک تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ شام میں بشارالاسد کے اقتدار کے خاتمے کے باوجود بڑے پیمانے پر گرفتاریوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو گیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق پرانی جیلیں ایک بار پھر بھر رہی ہیں اور نئی حکومت کے دور میں بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات سامنے آ رہے ہیں شام میں سابق صدر بشارالاسد کے اقتدار کے خاتمے کے بعد جن بدنام زمانہ جیلوں کو خالی کر دیا گیا تھا، وہ ایک بار پھر قیدیوں سے بھرنے لگی ہیں۔

    پورٹ کے مطابق صدر احمد الشراع کی قیادت میں قائم نئی حکومت کے دور میں سیکیورٹی بنیادوں پر گرفتاریاں دوبارہ معمول بنتی جا رہی ہیں،اسد کے زوال کے فوراً بعد قیدیوں کی رہائی اور جیلوں کے دروازے کھول دیے گئے تھے، تاہم جلد ہی گرفتار افراد کی نئی لہر شروع ہو گئی ابتدا میں اسد حکومت سے وابستہ فوجی اہلکاروں کو حراست میں لیا گیا، اس کے بعد علوی، دروز اور دیگر اقلیتی گروہوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی گرفتاریاں ہوئیں، جب کہ سنی اکثریت سے تعلق رکھنے والے شہری، انسانی حقوق کے کارکنان اور صحافی بھی ان کارروائیوں سے محفوظ نہ رہ سکے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کم از کم 28 ایسی جیلیں اور حراستی مراکز دوبارہ فعال ہو چکے ہیں جو اسد دور میں استعمال ہوتے تھے ان مراکز میں بڑی تعداد میں افراد کو بغیر کسی باضابطہ الزام، عدالتی کارروائی یا شفاف ریکارڈ کے قید رکھا جا رہا ہے۔ متعدد خاندانوں نے بتایا کہ وہ مہینوں تک اپنے عزیزوں کے بارے میں کسی اطلاع سے محروم رہے۔

    رائٹرز نے خاندانوں، سابق قیدیوں، وکلا اور انسانی حقوق کے کارکنوں سے بات چیت کے بعد کم از کم 829 افراد کی نشاندہی کی ہے جو اسد کے زوال کے بعد سیکیورٹی بنیادوں پر گرفتار کیے گئے تاہم رپورٹ کے مطابق اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہےمتعدد خاندانوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ قیدیوں کی رہائی کے بدلے پیسے مانگے گئے، جب کہ کچھ افراد نے حراست کے دوران بدسلوکی اورغیر انسانی حالات کا سامنا کرنے کی شکایت بھی کی۔ رائٹرز کے مطابق کم از کم 11 افراد کی حراست کے دوران ہلاکت کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں، جن میں سے بعض خاندانوں کو اپنے عزیزوں کی موت کی اطلاع بہت دیر سے ملی۔

    شامی وزارتِ اطلاعات نے رائٹرز کی رپورٹ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ سابقہ حکومت کے جرائم میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لانا ضروری ہے اور بعض گرفتاریاں اسی عمل کا حصہ ہیں وزارت کے مطابق ادارہ جاتی کمزوریوں کے باعث مسائل ضرور ہیں، تاہم اصلاحات اور احتساب کا عمل جاری ہے۔

    رائٹرز کے مطابق شام کی نئی قیادت کو ایک طرف ماضی کے جرائم کا احتساب کرنا ہے، تو دوسری جانب ایک مستحکم اور قانون پر مبنی نظام قائم کرنے کا چیلنج بھی درپیش ہے، جس میں اب تک خاطر خواہ پیش رفت نظر نہیں آ رہی۔

    اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے بھی اسد کے زوال کے بعد شام میں من مانی گرفتاریاں، اغوا اور ماورائے عدالت کارروائیوں کی اطلاعات پر تشویش کا اظہار کیا ہے انسانی حقوق کے ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑے پیمانے پر حراستوں نے نئی حکومت کے اصلاحی دعوؤں پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔

  • سعودی عرب کا شام میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان

    سعودی عرب کا شام میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان

    سعودی عرب نے شام میں 5.6 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری اور شراکتی معاہدوں کا اعلان کیا ہے۔

    تقریباً 150 سرمایہ کاروں اور سعودی سرکاری و نجی شعبوں کے نمائندوں پر مشتمل وفد نے وزیر سرمایہ کاری خالد الفالح کی قیادت مٰں آج جمعرات کو ہونے والے فورم سے قبل دمشق میں حکام سے ملاقاتیں کیں،سعودی وزیر سرمایہ کاری خالد الفالح نے شام کے شہر’عدرا‘ میں سیمنٹ فیکٹری کا بھی افتتاح کیا –

    سعودی وزارت سرمایہ کاری کے مطابق یہ فورم دونوں برادر ممالک کے عوام کے مفاد میں پائیدار ترقی کے لیے تعاون کے مواقع تلاش کرنے اور معاہدوں پر دستخط کے لیے منعقد کیا گیا ہے۔

    سعودی وزارت کے اعلامیے کے مطابق اعلان کردہ سرمایہ کاری میں ریئل اسٹیٹ، بنیادی ڈھانچہ، مواصلات و آئی ٹی، ٹرانسپورٹ، صنعت، سیاحت، توانائی، تجارت اہم اور اسٹریٹجک کے شعبے شامل ہیں،یہ منصوبہ مملکت کی جانب سے شام کی تعمیر نو اور اقتصادی تعاون بڑھانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔

    بلوچ عوام پاکستان سے تاریخ، مذہب، ثقافت اور روایت کے رشتوں میں جُڑے ہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر

    شام کی تعمیر نو کا منصوبہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی خصوصی ہدایات پر شروع کیا گیا ہےجس کا مقصد دوطرفہ برادرانہ تعلقات کو مزید مستحکم اور شام کی اقتصاد ی ترقی میں تعاون کرنا ہے، سعودی وزیر سرمایہ کاری انجینیئر خالد الفالح منگل کو دمشق پہنچے ہیں وہ سعودی وفد کی سربراہی کررہے ہیں جس میں سرکاری اور نجی شعبے کے 150 سے زیادہ افراد شامل ہیں۔

    بھارت میں خواتین کے خلاف جرائم کے مسلسل اضافہ،مودی حکومت خاموش تماشائی