Baaghi TV

Tag: شام

  • چین کی سماجی تنظیموں کی یو این انسانی حقوق کونسل کے اجلاس میں شرکت

    چین کی سماجی تنظیموں کی یو این انسانی حقوق کونسل کے اجلاس میں شرکت

    بیجنگ :اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کا 50 واں اجلاس 13 جون سے 8 جولائی تک سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں منعقد ہوا۔ چین کی متعدد سماجی تنظیموں نے تحریری صورت میں کانفرنس میں شرکت کی، جس میں چین کی انسانی حقوق کی ترقی اور کامیابیوں کو متعدد زاویوں سے دکھایا گیا اور عالمی انسانی حقوق کے نظم و نسق میں اصلاحات اور بہتری کے لیے فعال کردار ادا کیا گیا۔

    ہفتہ کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق چائنا ایتھنک مینارٹیز ایسوسی ایشن فار ایکسٹرنل ایکسچینجز نے کہا کہ چین ہمیشہ انسانی حقوق کے “عوام پر مبنی” تصور پر عمل پیرا رہا ہے، اور سنکیانگ کی تیز رفتار اقتصادی اور سماجی ترقی کو فروغ دینے کے لیے موثر اقدامات کیے ہیں۔ امریکہ اور چند مغربی ممالک سنکیانگ کے بارے میں اکثر جھوٹ گھڑتے ہیں، جس کا مقصد چین کی ساکھ کو داغدار کرنا اور چین کی ترقی کو روکنا ہے۔ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کو صحیح اور غلط میں فرق کرنا چاہیے اور غلط معلومات سے متاثر نہیں ہونا چاہیے۔

    چین کی تبتی ثقافتی تحفظ اور ترقیاتی ایسوسی ایشن نے کہا کہ کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی قیادت میں 70 سال سے زائد ترقی کے بعد تبت میں اعلیٰ تعلیم میں بڑی تبدیلیاں آئی ہیں۔
    غیر سرکاری تنظیموں کے عالمی تبادلے کے فروغ کے لیے بیجنگ ایسوسی ایشن نے کہا کہ حالیہ برسوں میں، چینی سماجی تنظیموں نے بنی نوع انسان کے ہم نصیب معاشرے کی تعمیر کے تصور کو برقرار رکھا ہے، اور عالمی انسداد وبا تعاون،افرادی روابط کو فروغ دینے ، ثقافتی تبادلوں کو گہرا کرنے اور عالمی ماحولیاتی نظم و نسق کو بہتر بنانے کے لیے فعال کوششیں کی ہیں۔

    شام میں صورتحال کی بہتری کے لیے سلامتی کونسل کردار ادا کرے:اطلاعات کے مطابق اقوام متحدہ میں چین کے مستقل نمائندے چانگ جون نے سلامتی کونسل پر زور دیا کہ شام میں کراس بارڈر ڈیلیوری کو ختم کرنے کے لیے جلد از جلد ایک واضح ٹائم ٹیبل پیش کیا جائے۔ کراس بارڈر امداد کا طریقہ کار شام کی مخصوص صورتحال پر مبنی ایک عارضی انتظام ہے۔ سلامتی کونسل کو زمینی حقائق کے مطابق اقدامات آگے بڑھانے چاہیے اور کراس بارڈر ریلیف کو کراس لائن اپروچ سے بدلنا چاہیے۔

     

     

    ہفتہ کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق چانگ جون نے کہا کہ شام میں انسانی صورتحال کو بدستور چیلنجز کا سامنا ہے اور چین ہمیشہ انسانیت، غیر جانبداری کے اصولوں کے مطابق شامی عوام کو انسان دوست امداد پہنچانے میں اقوام متحدہ اور عالمی برادری کی حمایت کرتا ہے۔ چین بھی موئثر ذرائع سے شام کو مختلف قسم کی امداد فراہم کر رہا ہے، مقامی انسانی صورت حال کی بہتری اور اقتصادی اور لوگوں کے معاش میں درپیش مشکلات پر قابو پانے میں تعمیری کردار ادا کر رہا ہے۔

     

    چانگ جون نے کہا کہ یکطرفہ پابندیوں نے شامی حکومت کے وسائل اور تعمیر نو کی صلاحیت کو کافی حد تک کمزور کر دیا ہے اور یہ شام میں انسانی صورت حال کو بہتر بنانے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ چین نے ایک بار پھر متعلقہ ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ شام کے خلاف یکطرفہ پابندیاں فوری طور پر ہٹائیں تاکہ شام میں انسانی ہمدردی کی سرگرمیوں کے لیے زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کی جا سکے۔

     

     

    سلامتی کونسل کی قرارداد 2585 کا مینڈیٹ اتوار کو ختم ہو رہا ہے۔ چانگ جون نے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ ہمت نہ ہاریں، مشاورت جاری رکھیں، اور باہمی اعتماد میں اضافہ کریں، زیادہ لچک کا مظاہرہ کریں، اور مینڈیٹ کی میعاد ختم ہونے کے بعد انتظامات کے لیے عملی حل تلاش کریں۔

  • امریکہ اپنی تیل کی ضروریات شام سے لوٹ مارکےتیل سے پوری کررہا ہے

    امریکہ اپنی تیل کی ضروریات شام سے لوٹ مارکےتیل سے پوری کررہا ہے

    دمشق:امریکی فوجی شام سے تقریبا ہر روز ہزاروں بیرل تیل لوٹ رہے ہیں۔اس حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ امریکہ اپنی تیل کی ضروریات شام سے لوٹ مارکے تیل سے پوری کررہا ہے

     

     

    شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی سانا کی رپورٹ کے مطابق شام کے شمال مشرق کے مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ جمعہ کے روز شام کے الجزیرہ کے علاقے کے کنویں سے نکالے گئے تیل کو امریکی دہشتگرد 45 ٹینکروں میں بھر کر عراق لے گئے ہیں۔

     

     

    رپورٹ کے مطابق، اس سے پہلے امریکی فوج نے شام سے 42 ٹینکروں پر تیل بھر کے عراق پہنچایا۔شام کی وزارت پٹرولیئم کے مطابق، دہشتگرد امریکی فوجی اپنے کرائے کے فوجیوں کے ساتھ ہر روز شام سے 70 ہزار بیرل تیل چوری کرکے عراق پہنچاتے ہیں۔

     

    غاصب امریکی فوج کا دعوی ہے کہ وہ عالمی اتحاد کے دائرے میں دہشت گردوں کے خلاف برسر پیکار ہے جبکہ وہ، کرد ڈیموکریٹک فورس کے ساتھ مل کر تیل کی لوٹ مار کی غرض سے تیل سے مالامال شام کےعلاقوں پر قبضہ کئے ہوئے ہے۔

    دہشت گردی کے خلاف مہم کے بہانے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی غیر قانونی فوجی موجودگی، ایسی حالت میں جاری ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے اپنی حکومت کے آغاز میں ہی اعلان کیا تھا کہ امریکہ ہی شام میں مختلف دہشت گرد گروہ منجملہ داعش کے قیام کا باعث بنا ہے۔

     

    شام کے صدر بشار اسد نے امریکی حکومت کو جرمن نازی حکومت کی مانند قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ، شام کا تیل لوٹ رہا ہے۔

  • شام میں دس سالوں میں3لاکھ سے زائد شہری جاںبحق ہوگئے

    شام میں دس سالوں میں3لاکھ سے زائد شہری جاںبحق ہوگئے

    نیویارک:شام میں دس سالوں میں3لاکھ سے زائد شہری جاںبحق ہوگئے،اطلاعات کے مطابق اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نےاپنی تازہ رپورٹ میں کہا کہ 1 مارچ 2011 سے31 مارچ 2021 کےدرمیان تقریباً 307,000 شہری مارے گئے،جو شام میں تنازعات سے متعلق شہریوں کی ہلاکتوں کا سب سے زیادہ تخمینہ ہے۔

    شام میں جنگوں اورباہمی لڑائی میں مارے جانے شہریوں کے اعدادوشمارجاری کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے کہا کہ اس کی رپورٹ میں شہری ہلاکتوں پر دستیاب اعداد و شمارجمع کرتے وقت تمام ٹیکنیکل پہلووں کی پاسداری کی گئی اور اندازہ لگایا گیا ہے کہ 10 سال کی مدت میں 306,887 شہری مارے گئے۔

    اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی ہائی کمشنر مشیل بیچلیٹ کہتے ہیں کہ "اس رپورٹ میں تنازعات سے متعلقہ ہلاکتوں کے اعداد و شمار محض جسمانی تریخی اعداد کا مجموعہ نہیں ہیں، بلکہ انفرادی انسانوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔”

    "ان 306,887 شہریوں میں سے ہر ایک کی ہلاکت کے ان خاندانوں اور برادری پر گہرے، دہرانے والے اثرات مرتب ہوئے جس سے وہ تعلق رکھتے تھے۔”اقوام متحدہ کے حقوق کے سربراہ نے کہا کہ رپورٹ کے تجزیے سے تنازع کی شدت اور پیمانے کا بھی واضح اندازہ ہو جائے گا، اور اس میں جنگجوؤں کی ہلاکتیں شامل نہیں ہیں۔

    اس رپورٹ کو اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نےحتمی قرار دیا تھا اور اس میں 143,350 شہریوں کی ہلاکتوں کا حوالہ دیا گیا تھا جن کی تفصیلی معلومات کے ساتھ مختلف ذرائع نے انفرادی طور پر دستاویزات فراہم کی تھیں

    اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے کا کہنا ہے کہ ان میں کم از کم ان کا پورا نام، تاریخ اور موت کا مقام شامل ہے جس میں نقاط کو مربوط کرنے کے لیے شماریاتی تخمینہ لگانے کی تکنیک اور متعدد نظاموں کا تخمینہ استعمال کیا جاتا ہے جہاں معلومات حاصل کرنے کے حوالے سے کچھ اہم پہلوغائب تھے

    اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کہا گیا کہ نئی تکنیکوں کا استعمال کرتے ہوئے، مزید 163,537 شہری ہلاکتوں کا تخمینہ لگایا گیا، جس سے مجموعی طور پر شہری ہلاکتوں کی تعداد 306,887 ہو گئی۔

    "ااقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی ہائی کمشنر مشیل بیچلیٹ کہتے ہیں کہس میں وہ بہت سے، بہت سے شہری شامل نہیں ہیں جو صحت کی دیکھ بھال، خوراک، صاف پانی اور دیگر ضروری انسانی حقوق تک رسائی نہ ملنے کی وجہ سے مر گئے، جن کا جائزہ لیناابھی باقی ہے۔”رپورٹ میں کہا گیا کہ 306,887 کے تخمینے کا مطلب ہے کہ اوسطاً، ہر روز، پچھلے 10 سالوں میں، 83 شہری تنازعات کی وجہ سے پرتشدد موت کا شکار ہوئے۔رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ "گذشتہ 10 سالوں میں 1.5 فیصد شہری کل آبادی کا ان تنازعات میں مارے گئے

  • اسرائیل کا دمشق کے قریب فضائی حملہ، 9 افراد ہلاک

    اسرائیل کا دمشق کے قریب فضائی حملہ، 9 افراد ہلاک

    تل ابیب :اسرائیل کا دمشق کے قریب فضائی حملہ، 9 افراد ہلاک،اطلاعات کے مطابق اسرائیل نے شام کے دارالحکومت دمشق کے قریب فضائی حملہ کیا ہے جس کے نتیجے میں 9 افراد ہلاک ہو گئے۔

    غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق دمشق کے قریب کیے گئے اسرائیلی فضائی حملے میں ہلاک ہونے والے افراد میں 5 شامی فوجی بھی شامل ہیں۔

    سیریئن آبزویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق اسرائیل نے فضائی حملے میں اسلحہ ڈپو سمیت متعدد فوجی پوزیشنز کو نشانہ بنایا ہے۔

    سیریئن آبزویٹری فار ہیومن رائٹس کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی طرف سے 2022ء کے دوران شام میں یہ مہلک ترین حملے ہیں۔

    سیریئن آبزویٹری فار ہیومن رائٹس کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان فضائی حملوں میں ایک اسلحہ ڈپو اور شام میں موجود ایرانی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    ادھر چند دن پہلے شام کے مشرقی علاقے میں امریکی فوجی اڈے پر راکٹ حملے میں دو امریکی فوجی اہلکار زخمی ہوگئےتھے

    امریکی حکام کے مطابق راکٹ حملے میں دونوں اہلکاروں کو معمولی زخم آئے ۔ اس علاقے میں یہ امریکی افواج پر اس سال تیسرا حملہ تھا ۔

    ادھر فلسطین کے مقبوضہ علاقے مغربی کنارے میں ایک اور فلسطینی نوجوان اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے شہید ہو گیا ہے۔

    فلسطینی وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی فوجیوں نے آج علی الصبح عقبة جابر نامی مہاجر کیمپ پر ہلہ بولا۔ اس دوران اسرائیلی فوج کے جارحانہ رویے کے باعث ہونے والی ایک جھڑپ میں 20 سالہ فلسطینی نوجوان احمد ابراہیم اوویدات سر میں گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا جو بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گیا۔

    اسرائیلی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے اس واقعے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

    واضح رہے کہ ماہِ مقدس رمضان المبارک کی آمد سے قبل ہی مارچ کے اختتام سے اب تک اسرائیل کی جانب سے مختلف کارروائیوں میں 25 فسلطینی شہید کیے جا چکے ہیں۔

    رمضان المبارک کے مہینے میں اسرائیلی پولیس اہلکار کئی بار مسجد الاقصیٰ پر ہلا بول کر نمازیوں کو نماز کی ادائیگی سے روکنے کے علاوہ پرتشدد کارروائیوں جیسے نہتے فلسطینیوں پر ربڑ کی گولیاں برسانے اور آنسو گیس کے شیل فائر کرنے کا ارتکاب بھی کر چکے ہیں۔

    فلسطینیوں اور اسرائیلی فوجیوں کے درمیان مسجد الاقصیٰ کے باہر بھی حال ہی میں متعدد مرتبہ پرتشدد جھڑپیں ہو چکی ہیں۔

  • شام کے دارالحکومت میں اسرائیل کا چوبیس گھںٹوں میں دو سرا حملہ

    شام کے دارالحکومت میں اسرائیل کا چوبیس گھںٹوں میں دو سرا حملہ

    شام کے دارالحکومت میں اسرائیل کے چوبیس گھںٹوں میں دو حملے کئے ہیں-

    باغی ٹی وی : شامی میڈیا کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں میں دوسری بار شام میں اسرائیل نے اہداف پر حملے کیے ہیں جمعرات کی صبح دارالحکومت دمشق اور اس کے دیہی علاقوں کی فضا میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

    خبروں میں حوالہ دیا کہ حکومت کے فضائی دفاع نےنصف شب کے بعد دارالحکومت کے آس پاس میں اسرائیلی میزائل حملوں کا جواب دیا اہم ان حملوں میں کسی قسم کے جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

    روس کا یو کرین پر حملہ:اسٹاک مارکیٹیں کریش کر گئیں

    قبل ازیں شامی میڈیا نےاسرائیل نے قنیطرہ گورنری کے آس پاس کے علاقے میں حملے کرنے کا دعویٰ کیا تھا مگر بعض ذرائع نے اس کی تردید کی ہےبدھ کے روز ایک فوجی ذرائع کے حوالے سے مزید کہا کہ اسرائیلی حملے سے مادی نقصان ہوا۔

    ایک فوجی بیان کے مطابق آج بدھ کی صبح سویرے اسرائیلی حملے میں گورنری کے آسپاس کے مقامات کو نشانہ بنایا گیا قنیطرہ اسرائیل کی سرحد کے قریب ملک کے جنوب مغرب میں واقع ہے یہاں پر ہونے والے مبینہ اسرائیلی حملوں میں غیرمعمولی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں-

    واضح رہے کہ اسرائیلی حملوں میں اکثر دمشق کے آس پاس یا شام عراقی سرحد کے قریب کے علاقوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے جہاں ایرانی حمایت یافتہ ملیشیاؤں کی سب سے زیادہ متحرک تعداد موجود ہے۔

    روس کا حملہ یورپ میں بڑی جنگ کا آغاز بن سکتا ہے،یوکرینی صدر

    اسرائیلی حکومتوں نے کئی سال سے بارہا اعلان کیا ہے کہ وہ سرحدوں پر ایرانی ملیشیا، خاص طور پر حزب اللہ کی توسیع کو برداشت نہیں کرے گا کیونکہ تل ابیب کی سلامتی کو اس سے خطرہ ہے۔

    دوسری جانب گزشتہ روز فلسطین میں مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ کے نتیجے میں ایک 14 سالہ فلسطینی نوعمر محمد شہادہ شہید ہو گیا تھا فلسطینی وزارت کے مطابق محمد شہادہ کو بیت لحم کے قریب موجود قصبے الخضر میں اسرائیلی فوج کی گولیوں کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

    اسرائیلی فوج کے بیان کے مطابق فوجیوں نے ٹریفک پر پٹرول بم پھینکنے کی مبینہ کوشش کرنے والے تین ملزمان پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایک ملزم موقع پر ہلاک ہوگیا اس علاقے میں گزشتہ ماہ کے دوران اسرائیلی فوجیوں پر سات پٹرول بم حملے ہوچکے ہیں۔

    اسرائیلی قانون کے مطابق پتھرائو اور پٹرول بم حملے جان لیوا کارروائیوں میں شمار ہوتے ہیں جس کے جواب میں اسرائیلی فوج کو فائرنگ کرنے کی اجازت دی گئی ہے انسانی حقوق کے گروپ اکثر اسرائیلی فوج کو طاقت کےبے جا استعمال پر تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔

    امریکا کا وزیراعظم عمران خان کے دورہ روس پر تبصرہ کرنے سے گریز

  • امریکی حملے میں داعش سربراہ ہلاک،امریکی صدر

    امریکی حملے میں داعش سربراہ ہلاک،امریکی صدر

    امریکی حملے میں داعش سربراہ ہلاک،امریکی صدر
    شمالی شام میں امریکی حملے میں داعش کا سربراہ ہلاک ہو گیا ہے

    امریکی صدر جوبائیڈن نے کہا ہے کہ کمانڈوآپریشن میں ابوابراہیم الہاشمی ہلاک ہو گیا، آپریشن میں شامل تمام امریکی فوجی بحفاظت واپس لوٹ آئے،امریکی حکام کا کہنا ہے کہ داعش کے سربراہ نے آپریشن کے دوران خود کودھماکے سےاڑا دیا، دھماکے میں ابوابراہیم کا خاندان بھی ہلاک ہو گیا،

    امریکی صدر جو بائیڈن نے آج جمعرات کو اعلان کیا کہ شمال مغربی شام میں خصوصی دستوں کی طرف سے کی گئی کارروائی میں "داعش” تنظیم کے سربراہ ابو ابراہیم الہاشمی القرشی کو نشانہ بنایا گیا۔ ہے ،انہوں نے وائٹ ہاؤس کی ویب سائٹ پر پوسٹ کیے گئے ایک بیان میں کہا، "میری ہدایات کے تحت، شمال مغربی شام میں امریکی فوجی دستوں نے امریکی عوام اور ہمارے اتحادیوں کی حفاظت اور دنیا کو ایک محفوظ مقام بنانے کے لیے دہشت گردی کے خلاف کامیابی سے آپریشن کیا ہے۔” انہوں نے اعلان کیا کہ "ہماری مسلح افواج کی مہارت اور حوصلے کی بدولت، داعش کے رہنما ابو ابراہیم الہاشمی القریشی کو میدان جنگ سے ہٹا دیا گیا،

    داعش کے سربراہ کی موت کی تصدیق کے لیے "ڈی این اے” کا تجزیہ کرنے کے لیے ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں۔ذرائع نے یہ بھی اشارہ کیا کہ آپریشن میں ہلاک ہونے والوں میں 3 خواتین بھی شامل ہیں جو کہ داعش کے سربراہ کی بیویاں ہوسکتی ہیں۔

    آج، جمعرات کو، پینٹاگون نے اعلان کیا کہ امریکی خصوصی آپریشنز فورسز نے شام کے شمال مغرب میں اہم غیر ملکی رہنما کو نشانہ بنانے کے لیے انسدادِ دہشت گردی کے مشن کو انجام دیا۔ ادلب میں امریکی لینڈنگ آپریشن کے ساتھ جھڑپیں 3 گھنٹے تک جاری رہیں۔

    شامی شہری دفاع نے اعلان کیا کہ شمالی شام میں امریکی حملے کے نتیجے میں کم از کم 13 افراد ہلاک ہو گئے۔

    ابو ابراہیم الہاشمی القریشی، جن کا اصلی نام المولا یا حاجی عبداللہ بتایا جاتا ہے، 2019 میں داعش کے پہلے سربراہ ابو بکر البغدادی کی امریکی فضائی حملے میں ہلاکت کے بعد شدت پسند تنظیم کے سربراہ مقرر کیے گئے تھے امریکا کے محکمہ انصاف کی جانب سے ابو ابراہیم الہاشمی القریشی کی سر کی قیمت ایک کروڑ ڈالر رکھی گئی تھی

  • شام :داعش نے سینکڑوں بچوں کو اپنی ڈھال کیلئے یرغمال بنا لیا

    شام :داعش نے سینکڑوں بچوں کو اپنی ڈھال کیلئے یرغمال بنا لیا

    شام : داعش نے 850 بچوں کو اپنی ڈھال کے طور پر یرغمال بنالیا ہے۔

    باغی ٹی وی : بی بی سی کے مطابق شام کے صوبے ہسا کے میں کرُد فورسز کے زیرِ انتظام جیل پر 100 سے زائد داعش جنگجوؤں نے حملہ کیا تھا اور تصادم کے نتیجے میں 120 سے زائد افراد مارے گئے تھے داعش نے جیل پر پر قبضہ کرلیا ہے اور 850 بچوں کو اپنی ڈھال کے طور پر یرغمال بنالیا ہے جیل میں موجود تمام اسلحہ بھی داعش کی تحویل میں جاچکا ہے۔

    حوثیوں کے سعودی عرب،یو اے ای پر بیلسٹک میزائل حملے،یو اے ای نے میزائل تباہ کر دیئے

    رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے خیراتی ادارے برائے اطفال یونیسیف کا کہنا ہے کہ بچوں کی زندگی خطرے سے دوچار ہے اور اشد ضروری ہے انہیں وہاں سے جلد سے جلد نکالا جائے بچوں کو نقصان پہنچانے یا انہیں بالجبر داعش میں شامل کیے جانے کا خطرہ ہے-

    روس اورامریکہ جنگ کے دہانے پر:روس کی برطانیہ کو بھی دھمکی

    دوسری جانب سیرین ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کا کہنا ہے کہ انہوں نے جیل کی عمارت کا محاصرہ کر لیا ہے جس سے دہشت گرد کہیں نہیں بھاگ سکتے ایس ڈی ایف نے یہ بھی کہا کہ اگر بچوں کو کچھ بھی ہوتا ہے تو اس کی مکمل ذمہ داری داعش پر عائد ہوگی۔

    برطانیہ میں انتہاپسندی کی انتہا:مسلمان برطانوی رکن پارلیمنٹ کو وزارتی ذمہ داریوں…

    واضح رہے کہ جائے وقوعہ کے قریب موجود اے ایف پی کے نمائندے نے بتایا تھا کہ جیل پر حملے کے وقت شدید جھڑپوں کی آوازیں سنائی دیں تھیں جس کے بعد کُرد فورسز نے لاؤڈاسپیکر کے ذریعے مقامی شہریوں کو فوری انخلا کا حکم دیا تھا۔

    امریکا نے حزب اللہ سے منسلک نیٹ ورک پرنئی پابندیاں عائد کردیں

    واضح رہے کہ داعش ایک جہادی عسکری گروپ ہے اسے آئی ایس آئی ایس کے نام سے بھی جانا جاتا ہے اور یہ گروپ خاص طور پر شام اور عراق میں سرگرم ہے وکی پیڈیا کے مطابق داعش نے ابتدائی 2014ء میں عالمی شہرت اس وقت حاصل کی جب اس نے عراقی حکومتی افواج کو انبار مہم میں کلیدی شہروں سے باہر نکلنے پر مجبور کیا اس کے بعد موصل پر قبضہ کیا اور سنجار قتل عام ہوا۔

    یورپی یونین کا افغانستان میں سفارتخانہ کھولنے کا اعلان

    اس گروہ کو اقوام متحدہ اور کئی ممالک دہشت گرد تنظیم قرار دے چکے ہیں۔ داعش شہریوں اور فوجیوں بہ شمول صحافیوں اور امدادی کارکنان کے سر قلم کرنے اور دیگر قسم کی سزائیں دینے والی وڈیوجاری کرنے اور ثقافتی ورثہ کی جگہوں کو تباہ کرنے کے لیے مشہور ہےاقوام متحدہ کے نزدیک داعش انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور جنگی جرائم کا مرتکب ہے۔ شمالی عراق میں تاریخی سطح پر داعش دوسرے مذاہب کے افراد کو بڑی تعداد میں قتل بھی کر چکا ہے۔

    امریکی صدرکے افغانستان میں ناکامی اور انخلا بیان پر طالبان کا ردعمل

     

    شام میں اس گروپ نے حکومتی افواج اور حکومت مخالف جتھوں دونوں پر زمینی حملے کیے اور دسمبر 2015ء تک اس نے مغربی عراق اور مشرقی شام میں ایک بڑے رقبے پر قبضہ کر لیا جس میں اندازہً 2.8 سے 8 ملین افراد شامل تھے، جہاں انہوں نے شریعت کی نام نہاد تاویل کر کے اسے تھوپنے کی کوشش کی۔ کہا جاتا ہے کہ داعش 18 ممالک میں سرگرم ہے جس میں افغانستان اور پاکستان بھی شامل ہیں اور مالی، مصر، صومالیہ، بنگلہ دیش، انڈونیشیا اور فلپائن میں اس کی شاخیں ہیں۔2015ء میں داعش کا سالانہ بجٹ 1 بلین امریکی ڈالر سے زیادہ تھا اور 30،000 جنگجوؤں سے زیادہ کی فوج تھی-

    طالبان سے فائرنگ کے تبادلے میں قومی اپوزیشن گروپ کے 8 مزاحمتی جنگجو ہلاک

    جولائی 2017ء میں گروہ نے اس کے سب سے بڑے شہر سے کنٹرول کھو دیا اور عراقی فوج نے فتح حاصل کر لی۔اس بڑی شکست کے بعد داعش آہستہ آہستہ زیادہ تر علاقوں سے ہاتھ دھو بیٹھا اور نومبر 2017ء تک اس کے پاس کچھ خاص باقی نہ رہا۔امریکی فوجی عہدیداروں اور ساتھی فوجی تجزیوں کے مطابق دسمبر 2017ء تک گروہ دو فیصد علاقوں میں باقی رہ گیا 10 دسمبر 2017ء میں عراق کے وزیر اعظم حیدر العبادی نے کہا کہ عراقی افواج نے ملک سے دولت اسلامیہ کے آخری ٹھکانوں کا خاتمہ کر دیا ہے 23 مارچ 2019ء کو داعش اپنے آخری علاقے باغوز فوقانی کے نزدیک جنگ میں ہار گیا اور اس علاقے سے بھی ہاتھ دھو بیٹھا-

    بارود سے بھرے ٹرک میں دھماکہ،17 اموات، 50 سے زائد زخمی،ہر طرف کہرام مچ گیا

  • "حزب اللہ” اور "ایران” کے حوالے سے شام میں  اسرائیل کیا کرنے جا رہا ہے؟

    "حزب اللہ” اور "ایران” کے حوالے سے شام میں اسرائیل کیا کرنے جا رہا ہے؟

    اسرائیلی فوج شمالی علاقے میں حزب اللہ اور شام کی سمت سے ایران کے خلاف متوقع جنگ کے مختلف منظر ناموں سے نمٹنے کے لیے تربیتی مشقیں انجام دے رہی ہے-

    باغی ٹی وی : "العربیہ اردو” کے مطابق اسرائیل میں ملٹری سیکورٹی ادارے نے شمالی علاقے میں طاقت کے توازن کے معاملے کو سال 2022 کے اہداف میں سرفہرست رکھا ہے اس مقصد کے لیے "حزب اللہ” اور "ایران” کے عناصر کو سرحدی علاقے سے بالخصوص شام میں دور کیا جائے گا اسرائیلی فوج نےالجلیل میں سرحد کے نزدیک حزب اللہ کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے لیے ایک اسپیشل ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔

    ملائیشیا کے سابق وزیراعظم کی کرپشن پر12سال قید کی سزا کیخلاف اپیل مسترد

    رپورٹ کے مطابق اسرائیلی عسکری قیادت فوج کو حزب اللہ کی جانب سے بھیجےگئےجاسوس ڈرون طیارے سرحد سے دور علاقوں تک پہنچنے کی صورت میں فوری طور پر جوابی کارروائی عمل میں لانے کی تربیت دے رہی ہے جبکہ اسرائیلی فوج کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ اسرائیلی فضاؤں میں داخل ہونے والے ایک ڈرون طیارے کو مار گرایا گیا-

    لیکن بعد ازاں یہ انکشاف ہوا کہ طیارے نے بعض مقامات کی تصاویرلےلی تھیں اسرائیلی فوج کی رپورٹ کےمطابق حزب اللہ اور ایران کے عناصر نے ڈرون طیاروں کوانٹیلی جنس معلومات جمع کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا بلکہ فضا سے دھماکا خیز مواد اور دستی بموں کو گرانے کے لئے استعمال کیا۔

    اسرائیلی فوج کے نزدیک گذشتہ برسوں کے دوران میں حزب اللہ نے ڈرون طیاروں کے استعمال میں ایک بڑی پیشرفت کویقینی بنایا ہےاس عرصے میں اسرائیل کے ساتھ لبنانی سرحد پر ڈرون طیاروں کی اڑان کی شناخت کی گئی اسرائیلی فوج نے ڈرون سے متعلق حزب اللہ کی سرگرمیوں کا جائزہ لینے کے لیے ڈیڑھ برس قبل فضائی نگرانی کا ایک نظام قائم کیا تھا۔

    اسرائیلی فوج کے مطابق وہ دو برس میں شام کی سمت سینکڑوں زمینی خفیہ عسکری کارروائیاں کرنے اور جدید میزائلوں کے داغنے میں کامیاب رہی ان کا مقصد مذکورہ علاقے سے ایران اور حزب اللہ کے عناصر کو دور کرنا ہے سال 2022ء کے دوران میں متوقع منظر ناموں کے لیے اسرائیلی سیکورٹی جائزے میں تسلیم کیا گیا ہے کہ اسرائیل شام پر بمباری سے اپنا مقصد پورا نہیں کر سکا۔

    جائزے کے مطابق شام کے صدر بشار الاسد ایک دوراہے پر کھڑے ہیں جہاں ان کے پاس شام کی تعمیر نو اور یا پھر ایرانیوں کو مطلقاً سپورٹ جاری رکھنے کے راستے ہیں تا کہ تہران خطے میں اپنے منصوبے کو تکمیل کر سکے-

    کیا روس پھرسے آزاد ہونے والی مسلم ریاستوں پرقبضہ کرنے والا ہے:امریکی وزیرخارجہ بول…

  • اسرائیل نے شامی بندرگاہ پر میزائلوں سے حملہ کردیا

    اسرائیل نے شامی بندرگاہ پر میزائلوں سے حملہ کردیا

    تل ابیب :اسرائیل نے شامی بندرگاہ پر میزائلوں سے حملہ کردیا،اطلاعات کے مطابق اسرائیل نے شام کی بندرگاہ لطاکیہ پر ایک مہینے میں دوسری بار حملہ کیا ہے۔

    شامی سرکاری میڈیا کے مطابق اسرائیل کی جانب سے لطاکیہ پر فضائی حملہ کیا گیا، اسرائیل نے لطاکیہ پورٹ پر متعدد میزائل داغے، اسرائیلی میزائلوں نے لطاکیہ پورٹ کےکنٹینریارڈ کو نشانہ بنایا،جس سے وہاں آگ لگ گئی اور بھاری مالی نقصان ہوا۔

    رپورٹ کے مطابق اسرائیلی میزائلوں سے قریب موجود ایک اسپتال اور چند رہائشی عمارتوں کو بھی جزوی نقصان پہنچا۔شامی حکام کی جانب سے حملے میں کسی قسم کے جانی نقصان کی اطلاع نہیں دی گئی ہے۔

    اسرائیلی فوجی ترجمان نے شام میں فضائی حملےکی خبرپر ردعمل سےگریز کرتے ہوئے کہا ہےکہ غیرملکی میڈیا کی خبروں پر ردعمل نہیں دیتے۔اس سے قبل 7 دسمبر کو بھی اسرائیل کی جانب سے لتاکیہ پورٹ کو میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا تھا۔

    امریکی اتحاد کے ترجمان کول ہارپر کا کہنا تھا کہ عالمی اتحاد کے فوجی عراق سے نہیں نکلیں گے بلکہ عراقی حکومت کے اعلان کے مطابق ان کا کردار جنگی سے مشورتی میں تبدیل ہو جائے گا۔

    رپورٹ کے مطابق امریکا کی سربراہی میں نام نہاد داعش مخالف عالمی اتحاد کے ترجمان نے دعوی کیا ہے کہ عالمی اتحاد کی عراق میں کوئی فوجی چھاونی نہیں ہے۔

    ہارپر نے الجزیرہ چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکی اتحاد کے فوجی، صوبہ الانبار کی عین الاسد چھاونی، کردستان علاقے میں اربیل اور بغداد میں مشترکہ آپریشنل کمانڈ سینٹر میں موجود ہیں۔

    انہوں نے دعوی کیا کہ عالمی اتحاد نے ابھی تک عراق میں جنگی کردار ادا نہیں کیا ہے بلکہ ان کی نئی ذمہ داری، عراقی فوج اور کرد میلیشیا پیشمرگہ کی ٹریننگ اور ان کو مشورے دینا ہے۔

    امریکی فوج کے اس کمانڈر نے کہا کہ عالمی اتحاد کے فوجی عراق سے نہیں نکلیں گے بلکہ عراقی حکومت کی جانب سے کئے گئے اعلان کے مطابق اتحاد کے فوجیوں کا کردار جنگی سے مشورتی کردار میں بدل جائے گا، اسی لئے اس نئے کردار کے ساتھ عراق میں ہمارا باقی رہنا، بغداد حکومت کی درخواست کی وجہ سے ہے۔

    ہارپر کا کہنا تھا کہ عراق کے اندر امریکی فوجیوں پر ہونے والے نقصان کے بارے میں امریکی اتحاد کے پاس کوئی اعداد و شمار نہیں ہے۔

  • ناقص معلومات پرہزاروں بے گناہ مسلمانوں کی ہلاکت کا امریکہ نے اعتراف کرلیا

    ناقص معلومات پرہزاروں بے گناہ مسلمانوں کی ہلاکت کا امریکہ نے اعتراف کرلیا

    واشنگٹن:ناقص معلومات پرہزاروں بے گناہ مسلمانوں کی ہلاکت کا امریکہ نے اعتراف کرلیا،اطلاعات کے مطابق امریکا کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں ناقص انٹیلی جنس معلومات پر فضائی کاروائیوں میں ہزاروں بے گناہ لوگوں کے قتل کا انکشاف ہوا ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کی خفیہ دستاویزات میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مشرقی وسطیٰ میں امریکا کی فضائی کاروائیاں ناقص انٹیلی جنس معلومات سے بھرپوررہیں۔

    شام میں امریکی فورسز کی فضائی کارروائی، 18 اتحادی جنگجو ہلاک امریکی اخبارکی رپورٹ کے مطابق غلط اطلاعات کی بنیاد پرکاروائیوں میں بچوں سمیت ہزاروں عام شہری قتل کر دیےگئے لیکن کسی بھی مقام پر ذمہ داروں کے خلاف کارروائی نظر نہیں آئی۔

    دوسری جانب رپورٹ منظرعام پر آنےکے بعد ترجمان امریکی سینٹرل کمانڈ کیپٹن بل اربن نے اپنی کوتاہیوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ بے قصور شہریوں کی ہلاکت پر شرمندہ ہیں اور غلطیوں سے سیکھنےکی کوشش کر رہےہیں۔

    یاد رہے کہ دوسری طرف چند دن پہلے امریکہ نے تسلیم کیا تھا کہ فوجی انخلا سے چند دن قبل کابل میں کیے جانے والے ڈرون حملے میں دس معصوم شہری ہلاک ہوئے تھے۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ کی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ 29 اگست کو کابل میں ہونے والے ڈرون حملے میں ایک امدادی کارکن سمیت اس کے خاندان کے نو افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں سات بچے بھی شامل تھے۔

    اس حملے میں ہلاک ہونے والی سب سے کم سن بچی دو سال کی سمعیہ تھی۔

    پینٹاگان کا کہنا ہے کہ امریکی انٹیلیجنس نے اس شخص کی کار کی آٹھ گھنٹوں تک نگرانی کی تھی اور ان کا خیال تھا کہ اس کا تعلق افغانستان میں شدت پسند تنظیم نام نہاد دولت اسلامیہ خراسانی گروپ سے تھا۔

    یہ جان لیوا حملے افغانستان میں امریکہ کی 20 سال تک جاری رہنے والی جنگ سے قبل آخری کارروائیوں میں سے ایک تھا۔

    جنرل کینتھ مکینزی نے اس حملے کو ایک افسوسناک غلطی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ممکن نہیں کہ یہ خاندان شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ خراسانی گروپ سے منسلک ہو یا امریکی افواج کے لیے خطرہ ہو۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’یہ ایک غلطی تھی اور میں اس پر تہہ دل سے معذرت خواہ ہوں۔‘