Baaghi TV

Tag: شاہد خاقان

  • فیصلے عوام کے بغیر اور عوام کے خلاف کیے جا رہے ہیں،شاہد خاقان عباسی

    فیصلے عوام کے بغیر اور عوام کے خلاف کیے جا رہے ہیں،شاہد خاقان عباسی

    شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ کراچی کے مسائل کو حل کرنے کے بجائے یہ کہنا کہ آئینی ترمیم کر کے شہر کو وفاق کے حوالے کر دیا جائے، کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔

    کنوینئر عوام پاکستان پارٹی اور سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کراچی میں پریس کانفرنس کے دوران آئینی ترامیم، گل پلازہ سانحے، اور عوامی نمائندوں کے اثاثہ جات کو خفیہ رکھنے سے متعلق حالیہ قانون سازی کو ایک ہی تناظر میں جوڑتے ہوئے کہا ہے کہ اصل مسئلہ شفافیت کی کمی، عجلت میں فیصلے اور عوام کو نظر انداز کرنے کا رویہ ہے جمہوریت کا تقاضا یہ ہے کہ فیصلے عوام کے سامنے ہوں، نہ کہ بند کمروں اور رات کے اندھیرے میں۔

    شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ کراچی کے مسائل کو حل کرنے کے بجائے یہ کہنا کہ آئینی ترمیم کر کے شہر کو وفاق کے حوالے کر دیا جائے، کسی صورت قابلِ قبول نہیں، اگر آئین میں کسی مقصد کے تحت ترمیم درکار ہو تو اس کے لیے مکمل طریقۂ کار موجود ہے، جس میں عوام کو اعتماد میں لینا، پارلیمنٹ میں تفصیلی بحث اور تمام فریقین کی رائے شامل کرنا ضروری ہے اٹھارہویں ترمیم کی تیاری میں برسوں لگے تھے، اس کے باوجود عجلت کے باعث خامیاں رہ گئیں۔

    شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ کراچی کے مسائل کو حل کرنے کے بجائے یہ کہنا کہ آئینی ترمیم کر کے شہر کو وفاق کے حوالے کر دیا جائے، کسی صورت قابلِ قبول نہیں، اگر آئین میں کسی مقصد کے تحت ترمیم درکار ہو تو اس کے لیے مکمل طریقۂ کار موجود ہے، جس میں عوام کو اعتماد میں لینا، پارلیمنٹ میں تفصیلی بحث اور تمام فریقین کی رائے شامل کرنا ضروری ہےاٹھارہویں ترمیم کی تیاری میں برسوں لگے تھے، اس کے باوجود عجلت کے باعث خامیاں رہ گئیں، گل پلازہ جیسے سانحات میں حکومت کی اولین ذمہ داری متاثرین، شہدا کے لواحقین اور متاثرہ تاجروں کی بات سننا اور عملی حل تلاش کرنا ہے، بد قسمتی سے یہاں بھی سنجیدگی کے بجائے توجہ ہٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے، جس سے عوام کا اعتماد مزید مجروح ہو رہا ہے۔

    انہوں نے نے عوامی نمائندوں کے اثاثہ جات کو خفیہ رکھنے سے متعلق قانون پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس میں انہیں کوئی منطق نظر نہیں آتی، عوامی نمائندوں کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے درمیان رہیں اور ان کی زندگی کا ہر پہلو عوام کے سامنے ہو اگر کسی نمائندے کو اپنی جان یا مال کا اتنا خوف ہے کہ وہ اثاثے ظاہر نہیں کرنا چاہتا تو اسے سیاست چھوڑ دینی چاہیے۔

    انہوں نے کہا کہ عوامی نمائندے ملک کا واحد طبقہ ہیں جن کے ٹیکس گوشوارے بھی عوامی سطح پر شائع ہوتے ہیں، لیکن اب اگلا قدم شاید یہ ہو کہ انہیں بھی خفیہ کر دیا جائےحقیقت یہ ہے کہ بہت کم ایسے ارکانِ اسمبلی ہیں جو اپنے اثاثے اور آمدن درست طور پر ظاہر کرتے ہیں، جبکہ اخراجات لاکھوں اور کروڑوں میں ہوتے ہیں اور ٹیکس چند ہزار یا چند لاکھ ادا کیا جاتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ یہ رویہ پورے نظام کو تباہ کر رہا ہے قومی اسمبلی نے عجلت میں یہ قانون منظور کر کے اسپیکر کو اختیار دے دیا کہ وہ فیصلہ کرے کہ گوشوار ے عوام کے سامنے آئیں یا نہیں،اس قانون کو ختم ہونا چاہیے کیونکہ یہ پارلیمان کے دامن پر ایک کالا دھبہ ہے بدقسمتی سے ہم نے اتنے کالے دھبے قبول کر لیے ہیں کہ اب ہمیں اس بات کی پرواہ نہیں رہی کہ عوام کیا سوچتے ہیں، ان کے مسائل کیا ہیں اور ان کی رائے کی کیا اہمیت ہےمعاملہ گل پلازہ کے سانحے کا ہو یا آئینی ترامیم کا، مسئلہ آخرکار اسی جگہ آ کر رک جاتا ہے کہ فیصلے عوام کے بغیر اور عوام کے خلاف کیے جا رہے ہیں، جو کسی بھی جمہوری نظام کے لیے خطرناک ہے۔

  • ملک کو قانون وآئین کے مطابق چلانا ہوگا ورنہ مشکلات ختم نہیں ہوں گی،شاہد خاقان عباسی

    ملک کو قانون وآئین کے مطابق چلانا ہوگا ورنہ مشکلات ختم نہیں ہوں گی،شاہد خاقان عباسی

    عوام پاکستان کے سربراہ اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ ملک کو قانون وآئین کے مطابق چلانا ہوگا ورنہ مشکلات ختم نہیں ہوں گی۔

    پشاور پریس کلب میں پارٹی کی رکنیت سازی مہم کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ 26 ویں اور27ویں ترامیم آئین پاکستان پر سیاہ دھبہ ہیں کیونکہ آئین میں ترامیم کبھی بھی ذاتی مفاد اور فائدے کے لیے نہیں کی جاتیں بلکہ ملک وقوم کے مفاد میں ہوتی ہیں ہمارا سیاست کا مقصد ملکی ترقی اور عوامی فلاح وبہبود ہے،کرسی نہیں، ملک کو قانون وآئین کے مطابق چلانا ہوگا ورنہ مشکلات ختم نہیں ہوں گی۔

    انہوں نے کہا کہ قانون سے انحراف کی وجہ سے ملک مسائل میں گھرا ہوا ہے، ملک کے حکمران نوجوانوں کاخیال نہیں کر رہے ہیں جو افسوس ناک ہے، جہاں سیاسی استحکام نہیں ہوگا وہاں معیشت بہتر نہیں ہوگی افسوس کا مقام ہے کہ ادارے ایک دوسرے کے خلاف کھڑے اور نفرت سے کام لیا جارہا ہے، ہم کسی کوگالی نہیں دیتے بلکہ ملک کو ترقی دینے اور جوڑنے کی بات کرتے ہیں، سب کو مل کر مسائل کا حل تلاش کرنا ہوگا، اگر کردار ادا نہ کیا گیا تو کل صرف پچھتاوا ہی ہوگا۔

    ڈکی بھائی نے پوری قوم سے معافی مانگ لی

    انہوں نے کہا کہ آئین کسی کو ذاتی طور پر فائدہ نہیں دیتا، ہم اسٹیبلشمںٹ کا سہارا نہیں لیں گے بلکہ عوامی سپورٹ سے اوپر آئیں گے، ملک میں جو کچھ ایک دوسرے کو کہا جارہا ہے اس کا ملک کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا،کسی کو گالیاں دے کر کیسے مسائل کیے جاسکتے ہیں،آج صرف اور صرف ملک کی بات کرنی چاہیے، جب بھی عوامی مینڈیٹ کی نفی ہو تو مسائل ہوں گے، اگر گورنر راج کی خیبرپختونخوا میں گنجائش ہے تو ہر صوبے میں ہے،کرسی کی چاہت چھوڑی جائے توصوبائی اور مرکزی حکومتوں کومسائل کا حل مل جائے گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہم نے مسلم لیگ (ن) میں آواز اٹھائی لیکن جب انہوں نے ووٹ کو عزت دو کا راستہ چھوڑ دیا تو ہم نے اپنا راستہ الگ کیا واٹس ایپ والی جماعتیں نہیں چل سکتیں، ہمیں کرسی عزیز ہوتیں تو ہم اپنا راستہ الگ نہ کرتے، آئین میں ترمیم عوامی رائے اور مفاد میں ہونی چاہیےہمیں اپنی سرحد کا دفاع کرنا ہے، افغان حکومت وہاں سے جارحیت روکے، کوئی چوائس نہیں کہ ہم پر حملہ ہو اور ہم چپ بیٹھے رہیں اور جواب نہ دیں۔

    بانی پی ٹی آئی کے حوالے سے ریاستی ادارے کی دو ٹوک پوزیشن قابل تحسین ہے، اویس خان لغاری

  • ایم کیو ایم سنٹرل پنجاب کی پوری باڈی  شاہد خاقان کی جماعت میں شامل

    ایم کیو ایم سنٹرل پنجاب کی پوری باڈی شاہد خاقان کی جماعت میں شامل

    اسلام آباد: عوام پاکستان پارٹی کے سربراہ و سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے انکشاف کیا ہے کہ ایم کیو ایم سینٹرل پنجاب کی پوری باڈی عوام پاکستان پارٹی میں شامل ہورہی ہے۔

    باغی ٹی وی : شاہد خاقان عباسی نے میڈیا سے گفتگو میں انکشاف کیا ہے کہ ایم کیو ایم سنٹرل پنجاب کی پوری باڈی عوام پاکستان پارٹی میں شامل ہو رہی ہے، صدر ایم کیو ایم سنٹرل پنجاب شاہین گیلانی نے شمولیت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ہم شاہد خاقان عباسی کے ساتھ چلنے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔

    شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ ملک کو درپیش مسائل کا حل ضروری ہے، لیکن حکومت میں صلاحیت نہیں کہ وہ عوامی مشکلات دور کر سکےچینی کی قیمت میں اضافہ حکومتی ناکامی کا نتیجہ ہے جبکہ ن لیگ نے پہلے سولر پالیسی بنائی اور اب خود ہی توڑ دی،بجلی کی قیمتوں میں اضافے کی اصل وجہ ڈالر کی قیمت میں اضافہ اور آئی پی پیز کے مہنگے معاہدے ہیں-

    سوشل میڈیا پر منفی پروپیگنڈہ مہم، پی ٹی آئی کے ملوث ہونے کے ہوشربا انکشافات

    انہوں نے مزید کہا کہ حکومت جب تحریری معاہدے توڑتی ہے تو اس کے سنگین نقصانات ہوتے ہیں، پہلے لوگ خود سے سولر لگاتے تھے، لیکن اب حکومت کو اپنی ناکام پالیسیوں کے باعث خود یہ قدم اٹھانا پڑے گا تمام مسائل کی جڑ غیر شفاف الیکشن ہیں، بلوچستان میں پیش آنے والا سانحہ بڑا المیہ ہے، جب تک ان معاملات کی تہہ تک نہیں پہنچا جائے گا، مسائل حل نہیں ہوں گے۔

    سی ٹی ڈی کی کارروائی، تھانہ آئی نائن حملے میں ملوث 2 خطرناک دہشتگرد گرفتار

  • کسی کو اندازہ ہی نہیں کہ آئینی عدالتوں کی حدود کیا ہوں گی،شاہد خاقان عباسی

    کسی کو اندازہ ہی نہیں کہ آئینی عدالتوں کی حدود کیا ہوں گی،شاہد خاقان عباسی

    لاہور: عوام پاکستان پارٹی کے سربراہ شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ کسی کو اندازہ ہی نہیں کہ آئینی عدالتوں کی حدود کیا ہوں گی-

    باغی ٹی وی: لاہور کی نجی یونیورسٹی میں خطاب اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کسی سینیٹرز نے آئینی ترمیم نہیں دیکھی، جو ترمیم کرنا چاہتے ہیں وہ عوام کے سامنے رکھیں، دنیا کا کوئی ملک ایسا نہیں جہاں پڑھے بغیر قانون پاس ہوتے ہیں کسی کو اندازہ ہی نہیں کہ آئینی کورٹس کی حدود کیا ہوں گی، ترمیم اس لیے لانا چاہتے ہیں کہ ایک شخص چیف جسٹس نہ بن سکے۔

    شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسی اپنے راستے سے ہٹ گئے ہیں، نواز شریف کے پاس خاموش رہنے کا آپشن نہیں ہے، اگر وہ خاموش رہتے ہیں تو کل جواب دینا پڑے گا، الیکشن مسئلے کا حل نہیں، الیکشن چوری کر لیے جاتے ہیں، اب لیڈر شپ کا امتحان ہے کہ ملک چلانا ہے کہ نہیں۔

  • موجودہ بجٹ معیشت، عوام ،ملک کے لئے تباہ کن ثابت ہوگا،شاہد خاقان عباسی

    موجودہ بجٹ معیشت، عوام ،ملک کے لئے تباہ کن ثابت ہوگا،شاہد خاقان عباسی

    مسلم لیگ ن کے سابق سینئر رہنماؤں ،سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے نئی سیاسی جماعت کا اعلان کر دیا

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں شاہد خاقان عباسی اور مفتاح اسماعیل نے پریس کانفرنس کی،نئی سیاسی جماعت کا نام "عوام پاکستان ” رکھا گیا ہے،اس موقع پر مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ عوام پاکستان کی ابتدائی لانچنگ تقریب چھ جولائی کو اسلام آباد میں کی جائے گی.بجٹ کے حوالہ سے بات کرتے ہوئے مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف نے نہیں کہاتھا کہ آپ ایم این ایز،ایم پی ایز کو فنڈ دیں،آئی ایم ایف نے زرعی ٹیکس کی بات کی تھی ادھرحکومت نے استثنیٰ دیا ،کیا ایران سے تیل پر ٹیکس نہ لینے کا آئی ایم ایف نے کہا تھا ،درمیانی طبقے کا جو استحصال ہورہا ہے اسکاآئی ایم ایف نے نہیں کہا تھا ،12سگریٹ کمپنیاں ٹیکس نہیں دیتی ،ڈیڑھ دوسو ارب روپے کی چوری کرتی ہیں، کیا آئی ایم ایف نے کہا سگریٹ کمپنیوں پرٹیکس نہ لگائیں، آپ مڈل کلاس،سیلری کلاس لوگوں کو استحصال کررہے ہیں،

    اس موقع پر سابق وزیراعظم،شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ ہر قیمت پر اقتدار کی سیاست سے اتفاق نہیں تھا، میری کوئی ناراضگی نہیں ہے لیکن میں اس سیاست کا حصہ نہیں،ایک وقت آتا ہے کہ آپ فیصلہ کرتے ہیں،میں نے فیصلہ کیا ہے اور یہ میرا حق ہے،پیسے کی بندربانٹ کو بند کیا جائے،ریفارمز کے بغیر ملک آگے نہیں بڑھ سکتا،کیا ٹیکس لگانے والوں پر ٹیکس نہیں لگنا چاہیے ؟حکومتی اقدامات کے اتحادی بھی ذمہ دار ہیں،خطے میں سب سے مہنگی زمین ، بجلی ،گیس پاکستان میں ہے،موجودہ بجٹ معیشت، عوام کے ساتھ ملک کے لئے تباہ کن ثابت ہوگا،یا ملک کی معیشت رہے گی یا یہ بجٹ رہے گا،جس کشتی میں آپ اورمیں سوار ہیں اس میں سوراخ ہیں،ابھی بھی وقت ہے حکومت اس معاملے کو دیکھے ،پاس ہونے والا بجٹ پاکستان کی تاریخ کا بدترین بجٹ ہے، یہ بجٹ اور معیشت دونوں اکھٹے نہیں چل سکتے، بجٹ نافذ کرنے کی کوشش کریں گے تو معیشت تباہ ہو جائے گی، جو ٹیکس ادا کر رہے ہیں ان پر بھی ٹیکس لگا دیا گیا ہے، اب بھی وقت ہے کہ بجٹ پر نظر ثانی کی جائے،

    کیا ہم اتنے کمزور ہیں کہ سگریٹ بنانے والوں‌سے بھی ٹیکس اکٹھا نہیں کر سکتے،شاہد خاقان عباسی
    شاہد خاقان عباسی کا مزید کہنا تھا کہ یہ پہلی دفعہ دیکھنے میں آرہا ہے آمدن حکومت کی ہے ٹیکس آدمی دے رہا ہے، دودھ، بچوں کے کھانے، میڈیکل سرجیکل اشیاء، خیراتی اسپتال پر ٹیکس لگا دیا،کیا سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش دودھ خریدنے والے اور تنخوای دار برداشت کرینگے، ان حالات میں معیشیت کیسے آگے بڑھے گی، آج اپنے اخراجات کم کرنے کی ضرورت ہے، حکومت کیا اپنے اخراجات کم نہیں کر سکتی تھی؟ کیا ضروری تھا مہنگائی سے پسے وہ لوگ جو ٹیکس دیتے ہیں ان پر ہی اضافی بوجھ ڈالیں، ہر آدمی جانتا ہے کہ ایک تہائی رقم سیدھی جیبوں میں جاتی ہے، ڈیزل، ایل پی جی کی اسمگلنگ پر ٹیکس اکھٹا کر لیں تو ٹیکس لگانے کی ضرورت نہیں، ایک طبقہ ہے جس کی آدھی آمدن حکومت لے جائے گی، اگر عوام پر بوجھ ڈالنا تھا تو پہلے اپنے اخراجات کم کرتے،عوام کو بھی نظر آتا کہ حکومت ہمارے بارے میں سوچ رہی ہے، 500ارب روپیہ ایم این ایز اور ایم پی ایز کو ترقیاتی منصوبوں کی مد میں بانٹے جائیں گے، یہ پانچ سو ارب 22 فیصد سود پر لیں گے، اضافی قرضہ لیں گے، کیا سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش دودھ خریدنے والے لوگ برداشت کریں گے اگر ایک سال ایم این ایز گلیاں سڑکیں نہیں بنائیں گے تو کیا ملک میں ترقی نہیں ہو گی؟ اس 500 ارب کا کتنا حصہ کرپشن میں جاتا ہے ہر آدمی جانتا ہے، کم از کم ایک تہائی سیدھی جیبوں میں جاتی ہے، ہم کس قسم کی حکومت چلا رہے، سوچ کیا ہے، اپنے اخراجات کم نہیں کر رہے، سینکڑوں ارب کے سگریٹ بنتے ہیں، آپ کے سامنے بنتے ہیں، کھلم کھلا ٹیکس چوری ہو رہی، کیا ایف بی آر کو پتہ نہیں، کیا ہم اتنے کمزور ہیں کہ سگریٹ بنانے والوں‌سے بھی ٹیکس اکٹھا نہیں کر سکتے، آج آپ کو اخراجات کم کرنے کی ضرورت ہے،

    معاملات اسی طرح چلتے رہے تو جلد عوام کا صبر جواب دے جائے گا، حکومت کے سائز کو چھوٹا کیا جائے،شاہد خاقان عباسی
    شاہد خاقان عباسی کا مزید کہنا تھا کہ ان حالات میں کون سی غیرملکی سرمایہ کاری یہاں آئے گی، زمین مکان بیچنے پر ٹیکس لگا دیا ہے، حاضر، ریٹائرڈ فوجی اور سرکاری ملازمین کو آپ نے چھوٹ دے دی ہے، حاضر، ریٹائرڈ اور سرکاری ملازمین کو چھوٹ پر کوئی جواز نہیں دے سکیں گے، کل لوگ کہیں گے انہیں استثنیٰ مل سکتا ہے تو مجھے کیوں نہیں، کوئی نان فائلز آپ کو پراپرٹی پر 45 فیصد ٹیکس ادا نہیں کرے گا، یہ آپ کی خام خیالی ہو گی، وزیرِ خزانہ جواز پیش کریں ناں کہ تنخواہ دار طبقے کو کیوں دبا رہے ہیں، کیا ٹیکس لگانے پر ہاں ہاں کرنے والوں پر خود ٹیکس نہیں لگنا چاہیے؟ اگلے سال بجٹ میں کیا کریں گے، کیا تنخواہ دار پر 60فیصد ٹیکس کریں گے؟ریفنڈز کی ادائیگی وقت پر نہیں ہوتی،وزیر خزانہ تنخواہ دار طبقے اور صنعتوں کو دبا رہے ہیں،معاملات اسی طرح چلتے رہے تو جلد عوام کا صبر جواب دے جائے گا، حکومت کے سائز کو چھوٹا کیا جائے،ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ایکسپورٹ ہے،ایکسپورٹ کو بڑھانا ہے،ہمیں ڈالرز چاہئیں، ہمیں روزگار پیدا کرنا ہے،انڈسٹری کو ریلیف دینا ہے،ایکسپورٹر پر بھی ٹیکس لگا دیا گیا،ریٹیلر جو مال خریدیں گے بیچیں گے انکو آدھا ٹیکس دینا پڑے گا،بجٹ میں مفاد پرست ٹولے کو چھوٹ دی گئی ہے، کچھ طاقتور لوگوں نے فاٹا میں انڈسٹری لگائی اور ٹیکس چھوٹ حاصل کی ، فاٹا میں لگائی گئی ٹیکس فری فیکٹریاں عوام کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا رہیں،یہ فیکٹریاں بغیر سیلز ٹیکس اور ڈیوٹی کے مال بنا رہی ہیں، انکو 5 سال بنا دیئے گئے تھے،فاٹا کی عوام کو اس سے کوئی فائدہ نہیں مل رہا، وہاں طاقتور لوگ ہیں جنہوں نے فیکٹریاں لگائیں اور حکومت کو بلیک میل کر کے پھر مدت بڑھوانا چاہ رہے ہیں،

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    ایبٹ آباد میں "ہم جنس پرستی کلب” کے قیام کے لیے درخواست

    ہنی ٹریپ،لڑکی نے دوستوں کی مدد سے نوجوان کیا اغوا

    بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

    طالبات کو نقاب کی اجازت نہیں،لڑکے جینز نہیں پہن سکتے،کالج انتظامیہ کیخلاف احتجاج

    امجد بخاری کی "شادی شدہ” افراد کی صف میں شمولیت

    مجھے مسلم لیگ ن کے حوالے سے نہ بلایا جائے میں صرف مسلمان ہوں،کیپٹن ر صفدر

  • سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا نئی سیاسی جماعت بنانے کا اعلان

    سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا نئی سیاسی جماعت بنانے کا اعلان

    اسلام آباد: سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے نئی سیاسی جماعت بنانے کا اعلان کر دیا۔

    باغی ٹی وی : اپنے بیان میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے سیاسی میدان میں سرگرم ہوتے ہوئے نئی سیاسی جماعت بنانے کا اعلان کر دیا،انہوں نے کہا کہ موجودہ انتخابی مہم میں پاکستان کے مسائل پر کوئی بات نہیں کی گئی، سیاسی جماعتیں ملکی مسائل پر بات نہیں کر رہیں، یک دوسرے کو کرپٹ کہنا چھوڑنا ہو گا،ملک میں کبھی کسی کو کرپشن پر سزا نہیں ملی، ملک کے مسائل دیکھیں اور ان کا حل نکالیں۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل گزشتہ ماہ نئی سیاسی جماعت سے متعلق سابق وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی نے بڑا اعلان کیا تھا، میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان کی 3 بڑی سیاسی جماعتیں فیل ہو گئی ہیں، ان کے پاس عوام کے مسائل کا حل نہیں ہے، 35 سال سے ن لیگ سے منسلک رہا، پارٹی پالیسی سے اختلاف ہے جس پر علیحدہ ہوا ہوں، نواز شریف میرے قائد تھے میں نے الیکشن چھوڑا ہے سیاست نہیں، یہ الیکشن بے مقصد ہو چکا ہے، الیکشن جتنے غیر متنازعہ ہوںگے اتنا ہی بہتر ہے، کسی کی سپورٹ سے ملک نہ پہلے چلا نہ چلے گا۔

    الیکشن کمیشن سے استعفے کا مطالبہ کبھی نہیں کیا، فافن کی شیعب شاہین کے دعوے …

    سابق وزیراعظم نے کہا تھا کہ الیکشن کے دوران نمائندوں کو طلب کر رہے ہیں ابھی بھی وقت ہے کہ اس الیکشن کو غیر متنازعہ بنائیں، پچھلے 5 سال سے نیب کے چکر لگا رہے ہیں، نیب کو کہا کہ پنجاب کی کرپشن سے میرا کیا تعلق ہے، نیب اور اینٹی کرپشن سیاسی جوڑ توڑ کیلئے استعمال ہورہے ہیں،ن لیگ کے ٹکٹ سے الیکشن میں حصہ لوں گا اور نہ ن لیگ کیخلاف الیکشن لڑوں گا ، الیکشن کے ماحول میں دباؤ کا اثر ہو گا۔

    لاہور میں میلہ چراغاں پر 2 مارچ کو چھٹی کا اعلان

  • شاہد خاقان عباسی  مریم نواز سے اختلافات کے باعث مستعفی

    شاہد خاقان عباسی مریم نواز سے اختلافات کے باعث مستعفی

    پاکستان مسلم لیگ ن کی اہم شخصیت شاہد خاقان عباسی نے پارٹی کے سینئر نائب صدر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ شاہد خاقا عباسی نے اپنے فیصلے کا اظہارن لیگ کی چیف آرگنائزر مریم نواز کے لیے "کھلا میدان” فراہم کرنے کے اقدام کے طور پر کیا ہے۔ اپنےعہدے سے سبکدوش ہونے کے باوجود، شاہد خاقان عباسی نے Reimagining Pakistan کے پلیٹ فارم کے ذریعے ملک کی بہتری میں اپنا حصہ ڈالنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

    جیسا کہ یکم فروری 2023 کو دی نیوز نے رپورٹ کیا، شاہد خاقان عباسی نے تقریباً تین سال قبل کہا تھا کہ اگر مریم نواز پارٹی کے اعلیٰ عہدے پر چلی جاتی ہیں تو ان کے لیے اپنی وابستگی جاری رکھنا ناقابل برداشت ہو گا۔ یہ واضح کرتے ہوئے کہ Reimagining فورم کوئی سیاسی جماعت نہیں ہے، انہوں نے ناقدین سے مطالبہ کیا کہ وہ اس کے مقاصد کے بارے میں ابہام پیدا کرنے کے بجائے فورم کے ساتھ تعاون کریں۔شاہد خاقان عباسی نے قوم کو درپیش پیچیدگیوں سے نمٹنے کے لیے کہا، "ہم لوگوں پر زور دے رہے ہیں کہ وہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے راستہ تلاش کریں۔”

    سماء نیوز کے مطابق شاہد خاقان عباسی نے تصدیق کی کہ مریم کی تقرری کے وقت انہوں نے اپنا استعفیٰ اس وقت کے وزیر اعظم شہباز شریف کو پیش کر دیا تھا۔ انہوں نے مایوسی کا اظہار کیا کہ پارٹی نے باضابطہ اعلان نہیں کیا جیسا کہ ان کی توقع تھی۔

    نواز شریف کی ممکنہ وارث مریم نواز کو سیاسی اسپاٹ لائٹ میں ڈال دیا گیا ہے۔ اپنی قابل ذکر صلاحیتوں کے باوجود، وہ فی الحال پارٹی کے اندر کچھ حلقوں کی طرف سے سیاسی نظریات میں اختلافات کی وجہ سے شکوک و شبہات کا سامنا کر رہی ہیں، مبینہ طور پر حمزہ شہباز کا مسلم لیگ ن کی سیاست میں مستقبل میں کوئی کردار نہ ہونے کا اشارہ دیا گیا ہے۔

    جہاں مریم نواز نے پانامہ کیس کے دوران لچک کا مظاہرہ کیا، جو نواز شریف کے لیے ایک کڑا امتحان تھا، وہ وقتاً فوقتاً ان لوگوں پر غصہ ظاہر کرتی رہی ہیں جنہیں وہ اپنے والد کی حالت کے لیے ذمہ دار ٹھہراتی ہیں۔ شاہد خاقان عباسی کا استعفیٰ اس بات کا اشارہ ہے کہ پارٹی کے اندر مریم کے اوپر جانے کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا ہو سکتے ہیں، کیونکہ تمام اراکین ان کی سیاست کی حمایت نہیں کرتے۔

  • الیکشن کرانا کسی پارٹی یا حکومت کے اختیار میں نہیں،شاہد خاقان

    الیکشن کرانا کسی پارٹی یا حکومت کے اختیار میں نہیں،شاہد خاقان

    اسلام آباد: لیگی رہنما اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ نئی حلقہ بندیوں کے بعد الیکشن کمیشن کو وقت دینا پڑے گا، فروری کے آخریا مارچ میں الیکشن ہو جائیں گے۔

    باغی ٹی وی : شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ آئین الیکشن کمیشن کو صاف شفاف الیکشن کرانے کی ذمہ داری لگاتا ہے الیکشن کرانا کسی پارٹی یا حکومت کے اختیار میں نہیں،ضروری ہے الیکشن کمیشن انتخابات کی تاریخ دے تاکہ شک دور ہو جائے ،الیکشن کی تاریخ دینا الیکشن کمیشن کا کام ہے ۔

    انہوں نے کہا کہ نگران حکومت کو نیوٹرل ہونا چاہیے، توقع ہے نگران حکومت 5سے 6ماہ تک چلے گا، نگران حکومت کی مدت پر الیکشن کمیشن کو سامنے آکر ابہام دور کرنا چاہیےسی سی آئی کے فیصلے میں پیپلز پارٹی بھی شامل تھی، پیپلز پارٹی کا آفٹرتھا ٹ کہہ لیں یا سیاسی حکمت عملی ، پیپلز پارٹی کو حق حاصل ہے کہ ہر سیاسی حربہ استعمال کرے۔

    نئی حلقہ بندیوں کے بغیر شفاف انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں،ایم کیو ایم

    شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ سیاست دانوں کے بغیر حکومتیں نہیں چلتیں، تمام اسٹیک ہولڈر کو ساتھ بیٹھ کر سوچنا ہو گاکہ ہم فیل کیوں ہیں ، چوری شدہ الیکشن کی وجہ سے ہم فیل ہوتے رہے ہیں وہ لوگ اسمبلیوں میں لائے گئے، جن کہ جگہ نہیں تھی، علم نہیں تھا کہ حالات اس حد تک خراب ہیں-

    دوسری جانب گورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمان کا کہنا ہے کہ 2018 سے 2022 کے درمیان پاکستان غیرمعمولی دور سے گزرا، اس تبدیلی کے اثرات بہت دیر سے جائیں گے سوشل میڈیا کے زریعے پیالے میں طوفان کھڑا کیا گیا، 9 مئی کے اثرات بہت دور رس تھے، 9 مئی کو مختلف شہروں میں تنصیبات پر حملے ہوئے۔

    جماعت اسلامی کا بجلی کے بلوں کے خلاف پرامن ہڑتال کا اعلان

    گورنر پنجاب نے کہا کہ ہر جماعت کو سیاسی سرگرمیوں کا حق ہے، لیکن نفرت پھیلانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی، گرفتار افراد کا ٹرائل کہاں چلایا جائے اس پر دو رائے ہیں، لیکن اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ حملے ہوئے، الیکشن ایکٹ 2017 بڑا واضح ہے، اور وہ بتاتا ہے کہ انتخابات کی تاریخ الیکشن کمیشن نے صدر کی مشاورت سے طے کرنی ہے اس مشاورت میں دونوں کی رضامندی ضروری ہے۔ یہ بھی آئین کی ضرورت ہے کہ جب مردم شماری نوٹیفائی ہوجائے تو اس کے مطابق حلقہ بندیاں کی جائیں، حلقہ بندیاں چار مہینے کا عمل ہیں اور الیکشن کے عمل کیلئے 60 دن مانگے جاتے ہیں،میری رائے میں الیکشنز ’فروری 2024 میں ہوتے نظر آرہے ہیں اس سے آگے جانے کی کوئی وجہ نظر نہیں آرہی نوے دن میں الیکشنز کرائیں تو حلقہ بندیاں نہیں ہوسکتیں، حلقہ بندیاں کرائیں تو الیکشنز 90 دن میں ممکن نہیں۔

    واپڈا کے گریڈ 17 سے 22 تک افسران کیلئے فری یونٹ ختم کرنے کا فیصلہ

  • وزیر اعظم شہباز شریف 22 جون کو پیرس پہنچیں گے

    وزیر اعظم شہباز شریف 22 جون کو پیرس پہنچیں گے

    اسلام آباد: وزیر اعظم شہباز شریف اور سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی جمعرات کو پیرس میں مختلف پروگراموں میں شرکت کریں گے-

    باغی ٹی وی :” دی نیوز” کے مطابق شہباز شریف ماحولیات سے متعلق بین الاقوامی سمٹ میں شرکت کریں گے جبکہ شاہد خاقان عباسی آج سے شروع ہونے والے ایئر پیرس شو میں مہمان ہوں گے شہبازشریف جمعرات 22 جون کو پیرس پہنچیں گے جہاں شاہد خاقان پہلے سے موجودہوں گے-

    شاہد خاقان نے کہا کہ مسلم لیگ (ن)کا رکن قومی اسمبلی ہونے کے ناطے وہ جنرل کونسل کے بھی ممبر ہیں ‘اجلاس میں شرکت کیلئے انہیں کسی دعوت نامے کی ضرورت نہیں تھی اگر میں ملک میں ہوتا تو جنرل کونسل اجلاس میں ضرورت شرکت کرتا مجھے اس بات کا علم نہیں کہ مفتاح اسماعیل مجھے ملنے کراچی سے اسلام آباد آئے تھے ۔

    امریکی وزیر خارجہ کی چینی ہم منصب سےطویل ملاقات

    شاہدخاقان نے جنرل کونسل اجلاس کے موقع پر پارٹی عہدیداران کے الیکشن کے حوالے سے تبصرہ کرنے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ وہ وطن واپسی کے بعد اس معاملے پر تبادلہ خیال کریں گے ۔

    انہوں نے کہا کہ بجٹ کی منظوری میں کوئی رکاوٹ نہیں آئے گی بجٹ منظوری کیلئے پارٹی نے انہیں بلایا تووہ فوراًوطن واپس آئیں گے تاہم انہیں ایسے کوئی صورتحال نظرنہیں آتی کہ بجٹ کی منظوری کیلئے کسی ایک رکن کی موجودگی ضروری ہو۔

    پنجاب پولیس؛ بیمار اہلکاروں کے علاج کیلئے 1 کروڑ 11 لاکھ 86 ہزار …

    واضح رہے کہ سابق وزیراعظم اور پی ایم ایل این کے مضبوط رہنما شاہد خاقان عباسی نے بیرون ملک ہونے کے باعث گزشتہ جمعہ کو یہاں منعقدہ اپنی پارٹی کے جنرل کونسل اجلاس میں شرکت نہیں کی تھی۔

  • نظام انصاف سے لوگوں کا یقین اٹھ چکا ہے،شاہد خاقان

    نظام انصاف سے لوگوں کا یقین اٹھ چکا ہے،شاہد خاقان

    کراچی: سابق وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ نظام انصاف سے لوگوں کا یقین اٹھ چکا ہے۔

    باغی ٹی وی : میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نیب کوختم کرکے عوام کی جان چھڑائیں بدنصیبی ہے کہ آج ہمارا ملک اس حالت کو پہنچ چکا ہےعمران خان پر60 ارب روپے کی کرپشن کا کیس ہےعوام کا انصاف کےنظام سے اعتباراٹھتا جا رہا ہے دین اور آئین کی بنیاد انصاف پر ہےعدالت عظمیٰ اپنی ساکھ بحال کرنے کیلئے اقدامات کرے ن لیگ نے ریمانڈ بھی بھگتے،جیلیں بھی کاٹیں ہیں۔

    عمران ریاض کوسیالکوٹ ائیر پورٹ سے گرفتار کرنے والا ایس ایچ او معطل

    لیگی رہنما نے کہا کہ کور کمانڈر کے گھر پر حملہ ہوا، کوئی سوموٹو نہیں لیا گیا سپریم کورٹ موجود حالات پر سوموٹو لیتی کہ کیا ہوا ہےعمران خان کو آج تحفظ سپریم کورٹ دے رہی جج کا کام نہیں ہےکہ کسی کو خوش آمدید کہے میں کسی پرعدم اعتماد کا اظہار نہیں کررہا ہوں جو فیصلہ وہ کریں گے سر آنکھوں پر ہے۔

    انہوں نے کہا کہ عمران خان کو احاطہ عدالت سے گرفتار کرنا غلط تھا ملک آج جس حال میں اس میں عدلیہ کا بھی کردار ہے آپ نے ایک سینئرسیاستدان کوعمر بھر کیلئے نااہل قرار دیا لگتا ہے کہ سب سے بڑا مسئلہ ملزمان کو ریلیف دینے کا بن گیا ہے اعلی عدالتیں ملزمان کو ریلیف دینے میں لگی ہوئی ہیں-

    پاکستان میں ہونے والی حالیہ پیشرفت کا جائزہ لے رہے ہیں،آئی ایم ایف

    شاہد خاقان نے مزید کہا کہ عمران خان کا کیس بلکل واضح ہے سپریم کورٹ عمران خان کو تحفظ فراہم کررہی ہے عمران خان کو احاطہ عدالت سےگرفتارکرنا ٹھیک نہیں تھا اس کا یہ مطلب نہیں کہ ملزم کو رہا کردیا جائے سپریم کورٹ کوآسان حل بتاتا ہوں، نیب کوختم کردیں عمران خان میں ہمت ہےتومقدمات کا سامنا کریں-