پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ مریم نواز وزارت عظمیٰ کی امیدوار نہیں ہیں-
باغی ٹی وی :ایک انٹرویو میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف مسلم لیگ ن کے صدر ہیں اور وہی وزیراعظم کے لیے ہمارے امیدوار ہوں گےمریم نواز وزارت عظمیٰ کی امیدوار نہیں، وہ الیکشن لڑنے کی اہل نہیں الیکشن جب بھی ہوں ہمارے وزیراعظم کے امیدوار شہباز شریف ہوں گے۔
شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ عموماً یہی ہوتا ہے کہ جو پارٹی کا صدر ہوتا ہے وہ وزیراعظم بنتا ہے،شہباز شریف پارٹی صدر ہیں اور وہی ہمارے امیدوار ہوں گے۔
دوسری جانب پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز نے بھی ریلیف مانگ لیا ،حمزہ شہباز کی جانب سے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی گئی ہے جس میں نیب کے نئے آرڈیننس کے تحت عدالت سے ریلیف مانگا گیا ہے
اس حوالے سے مسلم لیگ ن کی طرف سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ حمزہ شہباز نے بریت کی درخواست نیب ترمیمی آرڈیننس کے تحت دائر نہیں کی ،حمزہ شہبازنے کوڈ آف کریمنل پروسیجر 1898 کے سیکشن 265 کے تحت درخواست دی –
حمزہ شہباز نے رمضان شوگر ملزکے جھوٹے ریفرنس میں بریت کی درخواست دائر کی حمزہ شہبازنے سیاسی انتقام کے خلاف قانون کے تحت اپنے حق کا استعمال کیا حمزہ شہباز نے ضابط فوجداری کے سیکشن 265 کے کے تحت درخواست دائر کی اس کانیب کے نئے ترمیمی آرڈیننس سے کوئی تعلق نہیں ہے،بری کرنے کی درخواست میں گراونڈز وہی ہیں جو وہ پہلے بھی بیان کر چکے ہیں-
وزیراعظم کے خطاب کے ایک ہی روز بعد عوام پر بجلی بم گرا دیا گیا،سلیم مانڈوی والا
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پیپلزپارٹی نے بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کومسترد کردیا
پیپلز پارٹی کے رہنما سینیٹر سلیم مانڈوی والا کا کہنا تھا کہ بجلی کی قیمت میں 4 روپے 74 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی منظوری دے دی گئی،وزیراعظم نے کہا تھا کہ پاکستان سستا ترین ملک بن گیا ہے،وزیراعظم کے خطاب کے ایک ہی روز بعد عوام پر بجلی بم گرادیا گیا، حکومت بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹیفکیشن واپس لے،
قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کی نااہلی کی وجہ سے بجلی صارفین کو60 ارب روپے اضافی ادا کرنے ہوں گے شہباز شریف کا کہنا تھا کہ نیپرا کا بھی کہنا ہے کہ موثر پاور پلانٹس کو استعمال نہیں کیا جارہا،مہنگے ایچ ایس ڈی اورآر ایف اوپر مبنی پاور پلانٹس استعمال کیے جا تے ہیں، ظالم حکومت بے حسی کے ریکارڈ توڑ چکی ہے آئی ایم ایف کے حکم پر بجلی کی قیمت میں مزید اضافہ کیا گیا ہے عمران خان کہتے تھے کہ بجلی کی قیمت بڑھانے والا وزیراعظم چور ہوتا ہے پاکستان میں سستی ترین حکومت عوام کے لیے تاریخ کی مہنگی ترین حکومت ثابت ہوئی ہے مافیاز کی جیبیں بھرنے والی حکومت کے خلاف ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کا سروے چارج شیٹ ہے
ن لیگی رہنما مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ حماد اظہر اورشوکت ترین کے درمیان مباحثہ کی ضرورت ہے،حماد اظہر اورشوکت ترین کہتے ہیں ہم نے ضرورت کے مطابق گیس درآمد نہیں کی حکومت چوتھے موسم سرما میں مناسب گیس فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے،حکومت کو کم از کم ہمیں تفریح فراہم کرنا چاہیے،ایک بحث آپ اور نیب کے درمیان بھی ہونی چاہیے،
قبل ازیں پنجاب اسمبلی میں مہنگائی کے خلاف قرارداد پیش کر دی گئی ہے ،قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ مہنگائی کے نتیجہ عوام فاقوں اورخودکشیوں پر مجبور ہیں۔انرجی کا بحرا ن بھی سر چڑھ کر بول رہا ہے،ڈالر،بجلی گیس پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں، مہنگائی, بے روزگاری تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے،حکومت کے پاس کوئی حکمت عملی اور نہ ہی کوئی مستقبل کی منصوبہ بندی ہے ہر روز بگڑتے حالات تقاضا کررہے ہیں کہ آنکھیں کھول کر دیکھا جائے، ملک اور عوام کا سوچا جائے ۔وقت نے ثابت کیا کہ نوازشریف کے بجلی و گیس کے طویل المدتی معاہدے درست فیصلہ تھا ۔حکومت صرف عوام کو لوٹ رہی ہے، یہ سلسلہ یوںہی جاری رہا تو تباہ حال معیشت میں قوم پیٹ پر پتھرباندھ کر روئے گی،توانائی کی قیمت میں بتدریج اضافہ مہنگائی سے مرتی عوام پر ایک ناقابل برداشت بوجھ ثابت ہوگا،قرارداد کے ذریعے مطالبہ کیا گیا کہ یہ ایوان وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ ابجلی کی قیمتوں اورشیا خوردونوش کی قیمتوں میں کمی اور عوام کی فلاح وبہبود کیلئے فوری اقدامات کیے جائیں
مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ چیئرمین نیب ڈیلی ویجز پر کام کررہے ہیں،شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ کیا ملک میں کوئی غیر متنازعہ آدمی نہیں ؟احتساب کا ادارہ خود حساب نہیں دے رہا،چیئرمین نیب کمیٹی میں کہتے ہیں سیشن ان کیمرا ہو،انصاف کا نظام سب کو نظر آنا چاہیے،اپوزیشن کو دبانے کے لیے بے بنیاد کیسز بنائے جارہے ہیں 6 اکتوبر کو چیئرمین نیب ریٹائرڈ ہوئے کسی سے کوئی مشاورت نہیں ہوئی،عدالتوں میں کیمرے لگاکرعوام کو کارروائی براہ راست دکھائی جائے،سب عدالتوں کے چکر لگاتے ہیں،اس کاذمہ دار کون ہے؟ آج وزیراعظم گرین لائن منصوبے کا افتتاح کررہے ہیں نام نہاد احتساب کرنیوالوں کا بھی احتساب دیکھیں گے،ایک نہ ایک دن انصاف ضرور ہوگا
شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ 200 ممالک میں سے مہنگائی میں پاکستان کا تیسرا نمبر ہے،غریب کو تباہ کردیا گیا ہے، مہنگائی کو بلند ترین سطح پر پہنچا دیا گیا، حکومت نے 18 ترجمان رکھے ہوئے ہیں، جنہیں پاکستان کے عوام بھی نہیں جانتے وہ حکومتی ترجمان ہیں،حکومتی ترجمان گالی گلوچ کے پیسے لیتے ہیں ، سلیکٹڈ حکمران عوام کی پروا نہیں کرتے،گھی کی قیمت میں 58فیصد اضافہ ہوچکاہے، کھانے پینے کی اشیا کی قیمتوں میں دیگر ممالک میں اضافہ کیوں نہیں ہوا؟ عوام کے ساتھ کیا ہورہاہے ، حکمرانوں کو کوئی پروا نہیں، چیئرمین نیب کی آنکھیں اور کان بند ہیں،
دوسری جانب پیپلز پارٹی کی رہنما سینیٹر شیری رحمان کا کہنا تھا کہ آصف زرداری کے خلاف نیب ریفرنسز پرعدالتی ریمارکس ہمارے موقف کی تائید ہے ،آصف علی زرداری پر بغیر ثبوت کے ریفرنس بنائے گئے،یہی سوال کرتے ہیں جب ثبوت نہیں تو ریفرنس کس کے کہنے پر بنائے جاتے ہیں؟تعجب کی بات ہے کہ عدالت ثبوت مانگ رہی، نیب کے پاس آصف زرداری کے خلاف ثبوت ہے تو پیش کیوں نہیں کیے جاتے؟آصف علی زرداری 12 سال جیل کاٹ چکے،نیب اور حکومت گٹھ جوڑ اب بے نقاب ہو چکا ہے،
پاکستان مسلم لیگ ن کو ملک کی دوسری اور پھر کچھ وقت کے لیے سب سے بڑی جماعت رہنے کا درجہ حاصل رہا ہے۔ ملک کی دیگر جماعتوں کی طرح مسلم لیگ ن میں بھی فیصلوں کا اختیار فرد واحد میاں محمد نواز شریف ہی کے پاس رہا ہے۔ ملکی سیاست سے نواز شریف کے باہر ہونے کی وجہ سے پارٹی میں قیادت کے بہت سے امیدوار منظر عام پر آچُکے ہیں۔ نواز شریف کے بعد زیادہ تر معامالات ان کے چھوٹے بھائی میاں محمد شہباز شریف سنبھالا کرتے تھے۔
کہتے ہیں نہ کہ حالات و واقعات اور موسم کبھی ایک جیسا نہیں رہتا۔
نواز شریف کو عدالت نے 2018 کے انتخابات سے کچھ ہی وقت پہلے کسی بھی عوامی عہدے کے لیے تاحیات نااہل قرار دے دیا۔
اس فیصلے نے مسلم لیگ ن کی طاقت اور حیثیت دونوں ہی کو کمزور کر دیا ہے۔
اس دوران نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے “وٹ کو عزت دو” کا نعرہ لگایا۔ اسی نعرہ کو لے کر ریلیاں نکالی گئیں لیکن طاقت کے مرکز کے ساتھ بات چیت بھی چلتی رہی۔ پھرعلاج کے لیے سابق وزیر اعظم نواز شریف لندن چلے جاتے ہیں۔ شہباز شریف بھی بھائی کے ساتھ ہی جاتے ہیں پاکستان میں پارٹی کی باگ دوڑ مریم نواز اور شاہد خاقان عباسی سنبھالتے ہیں۔ پارٹی قیادت کے لیے پاکستان اور لندن میں کھینچا تانی بھڑتی چلی گئی۔ لندن میں اسحاق ڈار گروپ بندیاں کرنے لگے گو نواز شریف سے ان کے تعلقات ماضی جیسے نہیں رہے۔
پاکستان میں مریم نواز، شاہد خاقان عباسی اور احسن اقبال متحرک ہوئے۔
ساتھ ہی شہباز شریف کی قیادت میں خواجہ آصف اور چند لوگ سرگرم ہیں۔
شہباز شریف نے لندن سے واپس آکر یہ تاثر دینے کی کوشش کی انہیں اہم زمہ داریاں دینے کے لیے بلایا گیا ہے۔ ان کے اس پیغام کے بعد پارٹی کی رہی سہی ساکھ بھی مجروع ہو گئی۔ ملک میں اس وقت اٹھارویں ترمیم اور نیب میں ترامیم پر سیاست چل رہی ہے۔ اس صورت حال میں شہباز شریف نے اٹھارویں ترمیم اور نیب ترامیم پر پارٹی رہنماؤں کو خاموش رہنے کی ہدایت کی ہوئی ہے۔ تیزی سے بدلتی سیاسی صورت حال میں مسلم لیگ ن کے اندر قیادت کے حصول کی کوششیں تیز ہو چکی ہیں۔
ذرائع کا کہنا شاہد خاقان عباسی نے مسلم لیگ ن کی پارلیمانی ایڈوائزری کمیٹی کے اجلاس میں بڑی کوشش کی کہ اٹھارویں ترمیم اور نیب پر ایک کمیٹی تشکیل دی جائے۔ مجوزہ کمیٹی میں شاہد خاقان عباسی، احسن اقبال اور خواجہ سعد رفیق شامل ہوں جو ان دونوں ایشوز پر مقتدر حلقوں سے مذاکرات کرے گی۔ پارلیمانی ایڈوائزری کمیٹی نے شاہد خاقان عباسی کی اس کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دیا معاملہ اگلے اجلاس تک بڑھا دیا کیونکہ اس ایڈوائزری کمیٹی میں سب شاہد خاقان عباسی کے ساتھ نہیں ہیں ۔ اس کے باوجود شاہد خاقان عباسی مسلسل کوششوں میں لگے ہیں کہ کسی طرح کمیٹی بن جائے اور پھر وہ مرکزی دھارے میں آجائیں۔
موجودہ صورت حال میں شاہد خاقان عباسی اور دیگر رہنماؤں کے نزدیک اگر ابھی خاموشی اختیار کی گئی تو پھر کچھ نہیں بچے گا۔ یہی وجہ ہے کہ شہباز شریف اور شاہد خاقان عباسی کے یہ دو گروپ آمنے سامنے آچکے ہیں۔
دوسری جانب پاکستان کی سیاست میں نئی صف بندیاں ہو رہی ہیں۔ مسقبل کی سیاست میں اپنی غلطیوں کی وجہ سے شہباز شریف کے نمبر کہیں نہیں اور شاہد خاقان عباسی اپنے نمبر تقریباً پورے کروا چکے ہیں۔ موجودہ صورت حال میں “ووٹ کو عزت دو” کا نعرہ لگانے والی مریم نواز بھی دوڑ میں بہت پیچھے رہ چکی ہیں۔ پارٹی کے لوگ بھی اب یہی کہنے لگے ہیں کہ بہت ہو گئی سیاست اور جماعت کے فیصلے اب ملک کے اندر ہی ہونے چاہئیں۔ اسی لیے موجودہ صورت حال کا سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی بھرپور فائدہ اٹھانے کی کوشش میں ہیں اور ان کا مخالف گروپ بھی اب بھرپور متحرک ہو چکا ہے۔