Baaghi TV

Tag: شمالی کوریا

  • عالمی تنازعات کا ذمہ دار امریکا ہے،شمالی کوریا

    عالمی تنازعات کا ذمہ دار امریکا ہے،شمالی کوریا

    شمالی کوریا کے لیڈر کم جونگ اُن نے کہا ہے کہ دنیا کے پردے پر ناقابل تصور اور حیران کن واقعات رونما ہورہے ہیں اور یہ واقعات سامراجی قوتوں کے گینگسٹر اور لالچی جیسے رویوں کی وجہ سے رونما ہو رہے ہیں

    میڈیا رپورٹس کے مطابق حکمراں ورکرز پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کم جونگ ان نے کہا کہ -عالمی تنازعات میں اضافے کے مدنظر ملک کو ایک جوہری ریاست کے طور پر قائم رکھنے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ملک کی پوزیشن بطور جوہری ریاست برقرار رکھنا عالمی سلامتی کی صورتحال سے نمٹنے کا واحد طریقہ ہے دنیا کے پردے پر ناقابل تصور اور حیران کن واقعات رونما ہورہے ہیں اور یہ واقعات سامراجی قوتوں کے گینگسٹر اور لالچی جیسے رویوں کی وجہ سے رونما ہو رہے ہیں جس سے دنیا بھر میں تصادم مزید پرتشدد ہو رہے ہیں اور اس کا ذمہ دار امریکا ہے۔

    شمالی کوریا کے لیڈر نے امریکا اور جنوبی کوریا پر الزام لگایا کہ وہ دونوں جزیرہ نما کوریا کی سلامتی کو اپنی مشترکہ جوہری پوزیشن کو اپ گریڈ کر کے خطرناک بنا رہے ہیں اور اس کا واحد مقصد شمالی کوریا پر حملہ کرنا ہے۔

  • جوہری تخفیف کا معاملہ اب حتمی طور پر ختم ہو چکا ہے،شمالی کوریا

    جوہری تخفیف کا معاملہ اب حتمی طور پر ختم ہو چکا ہے،شمالی کوریا

    شمالی کوریا نے ایک بار پھر اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ڈینیوکلئیرائزیشن‘ یعنی جوہری تخفیف کا معاملہ اب ناقابلِ واپسی طور پر ختم ہو چکا ہے-

    رائٹرز کے مطابق شمالی کوریا کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے سرکاری میڈیا کے ذریعے جاری بیان میں کہا ہے کہ امریکا اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے شمالی کوریا کے خلاف بیانات اور سرگرمیاں ان کے مؤقف کو تبدیل نہیں کر سکتیں شمالی کوریا اب خود کو ایک جوہری طاقت کے طور پر دیکھتا ہے اور اس حقیقت کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا، جوہری تخفیف کا معاملہ اب حتمی طور پر ختم ہو چکا ہے اور اس پر دوبارہ بات چیت کی کوئی گنجائش نہیں۔

    یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گزشتہ ہفتے واشنگٹن اور سیئول کے حکام نے جنوبی کوریا میں ہونے والے مذاکرات کے دوران شمالی کوریا کے بڑھتے ہوئے جوہری پروگرام کے خلاف دفاعی تعاون اور تیاریوں کو مزید مضبوط بنانے پر بات کی تھی دونوں ممالک نے اپنے مشترکہ پلیٹ فارم ’نیو کلئیر کنسلٹیٹو گروپ‘ (این سی جی) کے تحت خطے میں دفاعی حکمت عملی اور ڈیٹرنس کو بہتر بنانے پر زور دیا تھا۔

  • جنوبی کوریا کے سابق صدر کو 30 سال قید کی سزا

    جنوبی کوریا کے سابق صدر کو 30 سال قید کی سزا

    جنوبی کوریا کے سابق صدر یون سک یول کو شمالی کوریا کے دارالحکومت پیانگ یانگ میں ڈرون بھیجنے کی مبینہ سازش اور مارشل لا کے لیے ماحول بنانے کے الزام میں 30 سال قید کی سزا سنا ئی گئی۔

    خبر رساں ادارے یونہاپ کے مطابق سیئول سینٹرل ڈسٹرکٹ کورٹ نے جمعہ کو سابق صدر یون سک یول کو اختیارات کے ناجائز استعمال اور دشمن کی معاونت کے الزامات میں قصوروار قرار دیتے ہوئے 30 سال قید کی سزا سنائی۔

    عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ یون سک یول اکتوبر 2024 میں شمالی کوریا کے دارالحکومت پیانگ یانگ میں بھیجے گئے ڈرونز کے آپریشن کی منصوبہ بندی میں ابتدا سے ہی شریک تھے استغاثہ کا مؤقف تھا کہ اس کارروائی کا مقصد دسمبر 2024 میں مارشل لا نافذ کرنے کے لیے جواز پیدا کرنا تھا۔

    سابق صدر یون سک یول نے اپنے خلاف عائد تمام الزامات کی تردید کی ہے ان کے وکلا کا کہنا ہے کہ انہوں نے نہ تو ڈرون آپریشن کا حکم دیا اور نہ ہی بعد میں اس کی منظوری دی یہ کارروائی مارشل لا سے کسی طور منسلک نہیں تھی بلکہ شمالی کوریا کیجانب سے کئی ماہ تک سرحد پار کچرے سے بھرے غبارے بھیجنے کے جواب میں کی گئی تھی۔

    واضح رہے کہ جنوبی کوریا کے پراسیکیوٹرز نے رواں سال اپریل میں یون سک یول کے لیے 30 سال قید کی سزا کا مطالبہ کیا تھایون سک یول، جو ماضی میں جنوبی کوریا کے اعلیٰ ترین پراسیکیوٹر بھی رہ چکے ہیں، دسمبر 2024 میں مارشل لا نافذ کرنے کی کوشش کے بعد شدید سیاسی بحران کا سبب بنے تھے، جس نے ایشیا کی چوتھی بڑی معیشت کو کئی دہائیوں کے بدترین سیاسی انتشار سے دوچار کر دیااس سے قبل فروری میں بھی ایک جنوبی کوریائی عدالت نے مارشل لا کی کوشش سے متعلق بغاوت کی قیادت کرنے کے جرم میں یون سک یول کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔

    یون سک یول کو گزشتہ سال اس وقت عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا جب آئینی عدالت نے ان کے مواخذے کے فیصلے کو برقرار رکھا۔ اس کے بعد ملک میں قبل از وقت انتخابات کرائے گئے، جن میں لبرل رہنما اور موجودہ صدر لی جے میونگ کامیاب ہوئے سابق صدر یون سک یول اس وقت پہلے ہی حراست میں ہیں اور انہیں جمعہ کے عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل کا حق حاصل ہے۔

  • کم جونگ اُن کو قتل کیا گیا تو فوری ایٹمی حملہ کردیا جائے گا،شمالی کوریا کے آئین میں ترمیم

    کم جونگ اُن کو قتل کیا گیا تو فوری ایٹمی حملہ کردیا جائے گا،شمالی کوریا کے آئین میں ترمیم

    شمالی کوریا نے اپنے آئین اور جوہری پالیسی میں انتہائی اہم ترمیم منظور کی ہے، جس کے تحت اگر ملک کے سربراہ کِم جونگ اُن کسی غیر ملکی دشمن کے ہاتھوں قتل یا شدید زخمی (غیر فعال) ہو جائیں، تو شمالی کوریا کی فوج خودکار طور پر دشمن پر جوابی جوہری حملہ کرنے کی پابند ہوگی،جنوبی کوریا کی نیشنل انٹیلی جنس سروس (NIS) نے ان آئینی تبدیلیوں کی تصدیق کی ہے۔

    برطانوی اخبار کے مطابق یہ ترمیم 22 مارچ 2026 کو پیانگ یانگ میں 15ویں سپریم پیپلز اسمبلی کے پہلے اجلاس میں منظور کی گئی، جس میں کہا گیا ہے کہ اگر جوہری کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کو خطرہ لاحق ہو تو جوہری حملہ "فوری اور خودکار” انداز میں ہوگا،یہ فیصلہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے مشیروں کی اسرائیل-امریکا کے مشترکہ حملے میں شہادت کے بعد کیا گیا، جس نے شمالی کوریا کو اپنی قیادت کی سکیورٹی پر تشویش میں مبتلا کر دیا تھا۔

    اخبار کے مطابق جنوبی کوریا کی نیشنل انٹیلی جنس سروس (این آئی ایس) نے جمعرات کو اعلیٰ حکام کو بریفنگ کے دوران اس ترمیم سے آگاہ کیا این آئی ایس کے مطابق کم جونگ اُن شمالی کوریا کی جوہری افواج کے سربراہ ہیں تاہم نئی ترمیم میں اس صورت حال کے لیے بھی طریقہ کار طے کر دیا گیا ہے کہ اگر وہ ہلاک ہو جائیں تو فوج کو کیا کرنا ہوگا۔

    شمالی کوریا کے آئین کے نظرثانی شدہ آرٹیکل 3 کے مطابق ’اگر دشمن قوتوں کے حملوں سے ریاستی جوہری افواج کے کمانڈ اینڈ کنٹرول نظام کو خطرہ لاحق ہو تو جوہری حملہ خودکار اور فوری طور پر شروع کر دیا جائے گا‘۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام دشمنوں (خاص طور پر امریکا اور جنوبی کوریا) کے لیے ایک واضح انتباہ ہے کہ قیادت کو نشانہ بنانے کی کوشش کا انجام ایٹمی جنگ ہوگا۔

  • شمالی کوریا کا متعدد بیلسٹک میزائلوں کا تجربہ

    شمالی کوریا کا متعدد بیلسٹک میزائلوں کا تجربہ

    شمالی کوریا نے ایک بار اپنے مشرقی ساحل کے قریب سمندر کی سمت متعدد بیلسٹک میزائل فائر کیے ہیں-

    جنوبی کوریا کی فوج کے مطابق میزائلوں کو اتوار کی صبح تقریباً 6 بج کر 10 منٹ پر مشرقی ساحلی شہر سینپو کے قریب سے فائر کیا گیا، جو بعد ازاں کوریا کے مشرقی سمندر کی جانب گرے جنوبی کوریا نے کہا ہے کہ اس نے صورتحال کے پیش نظر اپنی نگرانی مزید سخت کر دی ہے اور امریکا اور جاپان کے ساتھ مسلسل معلومات کا تبادلہ جاری ہے۔

    جاپانی حکومت نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ ابتدائی اندازوں کے مطابق میزائل جزیرہ نما کوریا کے مشرقی ساحل کے قریب سمندر میں گرے، تاہم جاپان کے خصوصی اقتصادی زون کی خلاف ورزی نہیں ہوئی جنوبی کوریا کے صدارتی دفتر نے صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ہنگامی سیکیورٹی اجلاس طلب کیا ہے۔

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق شمالی کوریا کے بیلسٹک میزائل تجربات پر پابندی عائد ہے، تاہم پیانگ یانگ ان پابندیوں کو مسترد کرتے ہوئے اسے اپنے دفاع کا حق قرار دیتا ہے، حالیہ مہینوں میں شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن نے کہا ہے کہ ان کے ملک کی جوہری ریاست کی حیثیت ناقابلِ واپسی ہے اور قومی سلامتی کے لیے جوہری ڈیٹرنس کو مزید مضبوط کرنا ضروری ہے۔

    بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے سربراہ کے مطابق شمالی کوریا کی جوہری صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے، اور ممکنہ طور پر ایک نیا یورینیم افزودگی پلانٹ بھی فعال ہو چکا ہے۔ یہ میزائل تجربات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب امریکا اور چین کے درمیان آئندہ ماہ ایک اہم سربراہی اجلاس کی تیاری جاری ہے، جس میں شمالی کوریا کی صورتحال بھی زیر بحث آنے کا امکان ہے۔

  • شمالی کوریا نے کلسٹر بم وارہیڈ سے لیس بیلسٹک میزائل تیار کر لیا

    شمالی کوریا نے کلسٹر بم وارہیڈ سے لیس بیلسٹک میزائل تیار کر لیا

    شمالی کوریا نے جمعرات کو اعلان کیا ہے کہ رواں ہفتے کیے گئے ہتھیاروں کے تجربات میں مختلف نئے نظام شامل تھے، جن میں کلسٹر بم وارہیڈ سے لیس بیلسٹک میزائل بھی شامل ہیں۔

    شمالی کوریا کے سرکاری خبر رساں ادارے کوریئن سینٹرل نیوز ایجنسی کے مطابق یہ تجربات پیر سے شروع ہو کر تین روز تک جاری رہے، جن میں فضائی دفاعی ہتھیاروں، مبینہ برقی مقناطیسی (الیکٹرو میگنیٹک) نظاموں اور کاربن فائبر بموں کے مظاہرے بھی شامل تھے۔

    ایجنسی کے مطابق حالیہ تجربات میں جوہری صلاحیت کے حامل ہواسانگ-11 بیلسٹک میزائلوں پر نصب کلسٹر وارہیڈ سسٹمز کا بھی مظاہرہ کیا گیا، جو ڈیزائن کے لحاظ سے روس کے اسکینڈر میزائلوں سے مشابہ ہیں اور کم بلندی پر پرواز اور دفاعی نظاموں سے بچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ایسے وارہیڈ سے لیس یہ قلیل فاصلے تک مار کرنے والا میزائل 6.5 سے 7 ہیکٹر (16 سے 17.2 ایکڑ) کے رقبے کو انتہائی شدت کے ساتھ تباہ کر سکتا ہے تاہم جنوبی کوریا کی فوج نے ان دعوؤں پر فوری طور پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔

    منگل کی شب جاری بیان میں شمالی کوریا کی وزارت خارجہ کے فرسٹ نائب وزیر جانگ کم چول نے کہا تھا کہ جنوبی کوریا ہمیشہ شمال کا سب سے بڑا دشمن ملک رہے گا، اور سیئول کی لبرل حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اس کے مذاکرات بحال کرنے کے اقدامات کو حیران کن حماقت قرار دیا۔

    کوریئن سینٹرل نیوز ایجنسی کی رپورٹ اس کے ایک دن بعد سامنے آئی جب جنوبی کوریا کی فوج نے بتایا تھا کہ اس نے مشرقی ساحلی علاقے سے دو دنوں میں دوسری بار متعدد میزائل داغے جانے کا سراغ لگایا جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے مطابق بدھ کو داغے گئے میزائل 240 سے 700 کلومیٹر تک پرواز کرنے کے بعد سمندر میں گرے، جبکہ منگل کو پیانگ یانگ کے قریب سے کم از کم ایک اور میزائل لانچ کیے جانے کا بھی پتہ چلا۔

    جاپان کی وزارت دفاع نے کہا کہ بدھ کو داغے گئے کسی بھی ہتھیار نے اس کے خصوصی اقتصادی زون کی حدود میں داخل نہیں ہوا، جبکہ امریکی فوج کے مطابق منگل اور بدھ کے روز شمالی کوریا کے یہ تجربات امریکا یا اس کے اتحادیوں کے لیے فوری خطرہ نہیں تھے۔

  • شمالی کوریا کا امریکا اور اتحادیوں کو نشانہ بنانے والے جدید میزائل بنانے کا اعلان

    شمالی کوریا کا امریکا اور اتحادیوں کو نشانہ بنانے والے جدید میزائل بنانے کا اعلان

    شمالی کوریا نے دو روز کے دوران دوسرا پروجیکٹائل لانچ کر دیا ہے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھنے لگی۔

    عالمی میڈیا کے مطابق جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف نے فوری طور پر میزائل کی نوعیت یا فاصلے سے متعلق کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں ایک روز قبل بھی شمالی کوریا کے دارالحکومت کے قریب ایک نامعلوم پروجیکٹائل کے تجربے کا سراغ لگایا گیا تھا، جس کا تجزیہ جنوبی کوریا اور امریکا کے انٹیلی جنس ادارے کر رہے ہیں۔

    اس سے قبل شمالی کوریا نے دعویٰ کیا تھا کہ اس کے رہنما کم جونگ ان نے ایک جدید سالڈ فیول انجن کے کامیاب تجربے کا مشاہدہ کیا، جسے ملک کے اسٹریٹجک فوجی نظام میں اہم پیش رفت قرار دیا گیا کم جونگ اُن نے واضح کیا کہ وہ امریکا اور اس کے اتحادیوں کو نشانہ بنانے والے ایسے جدید، ناقابلِ سراغ میزائل تیار کرنا چاہتے ہیں۔

    ماہرین کے مطابق سالڈ فیول میزائلز کو حرکت دینا اور چھپانا آسان ہوتا ہے، جبکہ مائع ایندھن والے میزائلز کے برعکس انہیں لانچ سے پہلے بھرنے کی ضرورت نہیں پڑتی، جس سے ان کا سراغ لگانا مشکل ہو جاتا ہے۔

    جنوبی کوریا کی خفیہ ایجنسی نے قانون سازوں کو بریفنگ میں بتایا کہ حالیہ انجن ٹیسٹ ممکنہ طور پر ایسے طاقتور میزائل کی تیاری سے متعلق ہے جو متعدد جوہری وار ہیڈز لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہو۔

    شمالی کوریا 2019 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ناکام سفارتی مذاکرات کے بعد سے اپنے جوہری پروگرام کو تیزی سے وسعت دے رہا ہے فروری میں ورکرز پارٹی کے اجلاس میں کم جونگ اُن نے مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھنے کا اشارہ دیا، تاہم امریکا سے مطالبہ کیا کہ وہ جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کو مذاکرات کی شرط نہ بنائے۔

  • جنوبی کوریا کا شمالی کوریا میں ڈرون بھیجنے کا اعتراف

    جنوبی کوریا کا شمالی کوریا میں ڈرون بھیجنے کا اعتراف

    جنوبی کوریا نے شمالی کوریا میں ڈرون بھیجنے کے معاملے میں ‘سرکاری کردار’ کا اعتراف کرتے ہوئے افسوس کا اظہار کر دیا ہے-

    دارالحکومت سئیول میں کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ نے کہا کہ رواں سال جنوری میں شمالی کوریا کی حدود میں بھیجے گئے ڈرونز کے معاملے کی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ اس میں سرکاری اہلکار ملوث تھے انہوں نے ان اقدامات کو ‘غیر ذمہ دارانہ’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے غیر ضروری فوجی کشیدگی پیدا ہوئی۔

    صدر لی جے میونگ نے کہا کہ یہ تصدیق ہو چکی ہے کہ نیشنل انٹیلی جنس سروس کے ایک اہلکار اور ایک حاضر سروس فوجی اس کارروائی میں شامل تھے، انہوں نے مزید کہا کہ جنوبی کوریا کا آئین نجی افراد کو ایسے اقدامات سے روکتا ہے جو شمالی کوریا کو اشتعال دلا سکتے ہیں، اس لیے ایسے معاملات میں انتہائی احتیاط ضروری ہے۔

    ایران کے رہائشی علاقوں پر اسرائیل کےشدید فضائی حملے

    واضح رہے کہ ابتدائی طور پر سیول حکومت نے اس ڈرون کارروائی میں کسی بھی سرکاری کردار کی تردید کی تھی اور اسے شہریوں کی انفرادی سرگرمی قرار دیا تھا، تاہم بعد ازاں تحقیقات میں مختلف حقائق سامنے آئے صدر لی جے میونگ نے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے شمالی کوریا کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوششیں کی ہیں اور ماضی کی حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ پیانگ یانگ میں پروپیگنڈا مواد گرانے کے لیے ڈرون استعمال کرتی رہی ہے۔

    عارضی جنگ بندی کا مطلب امریکا اور اسرائیل کو دوبارہ منظم ہونے کا موقع دینا ہے،ایران

  • شمالی کوریا کا جنوبی کوریا پر جاسوس ڈرون بھیجنے کا الزام

    شمالی کوریا کا جنوبی کوریا پر جاسوس ڈرون بھیجنے کا الزام

    شمالی کوریا نے جنوبی کوریا پر جاسوس ڈرون بھیجنے کا الزام عائد کیا ہے-

    شمالی کوریا نے دعویٰ کیا ہے کہ جنوری کے اوائل میں جنوبی کوریا نے ایک اور جاسوس ڈرون شمالی کوریا کی فضائی حدود میں بھیجا، جسے شمالی فوج نے کیپونگ شہر کے قریب مار گرایا جنوبی کوریا نے اس الزام کی تردید کی ہے۔

    شمالی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی KCNA کے مطابق فوج نے ڈرون کو شمال کی جانب جاتے ہوئے دیکھا اور بعد میں اسے تباہ کردیا ڈرون میں نگرانی کا سامان نصب تھا اور تباہ شدہ ڈرون کے تجزیے سے پتہ چلا کہ اس نے شمالی کوریا کے اہم علاقوں اور سرحدی حدود کی ویڈیوز محفوظ کی تھیں۔

    پشاور 9 مئی واقعات میں سہیل آفریدی کی موجودگی کی تصدیق ہوگئی

    جنوبی کوریا نے کہا کہ اس کے پاس اس پرواز کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں اور وزیر دفاع آن گیو بیک کے مطابق ڈرون فوج کے ماڈل سے تعلق نہیں رکھتا ،صدر لی جے میونگ کے دفتر نے بتایا کہ معاملے پر قومی سلامتی کی میٹنگ بلائی جائے گی اور مشترکہ فوجی-پولیس تحقیقات کی ہدایت دی گئی ہے، اگر ڈرون کو شہریوں نے چلایا تو یہ کوریا جزیرہ نما میں امن اور قومی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے۔

    ایمریٹس ائیر لائن نے کرایوں میں کمی کردی

  • شمالی کوریا کا  اسٹریٹجک کروز میزائل کا تجربہ

    شمالی کوریا کا اسٹریٹجک کروز میزائل کا تجربہ

    شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن نےطویل فاصلے تک مار کرنے والے اسٹریٹجک کروز میزائل کی تجرباتی لانچ کا معائنہ کیا۔

    شمالی کوریا کی خبررساں ایجنسی کے سی این اے کے مطابق کم جونگ اُن نے میزائلوں کے اپنے مقررہ ہدف کو کامیابی سے نشانہ بنانے پر اطمینان کا اظہار کیا کم جونگ اُن کا کہنا تھا کہ شمالی کوریا کو مختلف سکیورٹی خطرات کا سامنا ہے اور ایسے میں جوہری دفاعی نظام کی صلاحیت کو باقاعدگی سے جانچنا ایک ضروری عمل ہےانہوں نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ شمالی کوریا اپنی جوہری جنگی صلاحیت میں مزید بہتری کے لیے تمام تر کوششیں جاری رکھے گا۔

    رونالڈو مسلسل تیسری بار مشرق وسطیٰ کے بہترین فٹبالر قرار

    دوسری جانب جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف نے بتایا کہ اتوار کی صبح تقریباً 8 بجے پیانگ یانگ کے قریب سونان کے علاقے سے متعدد کروز میزائلوں کی لانچ کا پتا چلا اور جنوبی کوریا کی فوج انہیں مسلسل ٹریک کرتی رہی۔

    سال 2025 میں 2196 بڑے سائبر کرائم کیسز کی تحقیقات مکمل کی گئیں