Baaghi TV

Tag: شناختی کارڈ

  • نور عالم خان کا شناختی کارڈ بلاک ہونے کا انکشاف

    نور عالم خان کا شناختی کارڈ بلاک ہونے کا انکشاف

    رکن قومی اسمبلی نور عالم خان نے انکشاف کیا ہے کہ ان کا شناختی کارڈ منسوخ کر دیا گیا ہے۔

    اسپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت جاری قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے نور عالم خان نے کہا کہ میرا شناختی کارڈ نادرا نے منسوخ کر دیا، ایس این جی پی ایل نے نادرا کو خط لکھا اور انہوں نے میرا شناختی کارڈ منسوخ کیا، میرا شناختی کارڈ بلاک نہیں بلکہ بلکل منسوخ کر دیا گیا، میرے بینک اکاؤنٹس اور کریڈٹ کارڈز بھی بلاک کیے گئے2023 میں کسی نے غصے میں میرا کوئی گھر نکالا اور اس پر بل کا ایشو بنایا، نہ وہ میرا گھر تھا نہ میرے نام پر تھا۔

    اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے کہا کہ آپ مجھے لکھ کر دیں، میں اس معاملے کو دیکھتا ہوں۔

    سونے کی قیمتوں میں بڑا اضافہ

    قومی اسمبلی میں نادراترمیمی بل 2025 سمیت تین بل پیش کردئیے گئے، قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرمیلافاروقی نے ایوان میں نادراترمیمی بل 2025 پیش کرنے کی اجازت چاہی،اجازت ملنے پر انہوں نے بل ایوان میں پیش کردیا شرمیلا فاروقی نے کہاکہ یہ بل سینئر سیٹیزن کے شناختی کارڈ کے دوبارہ اجراء سے متعلق ہے-

    سحرکامران نے علاقہ دارلحکومت اسلام آبادبیٹریاں انتظام ودوبارہ کارآمدبنانے کابل 2025ایوان میں پیش کرنے کی اجازت چاہی،ڈاکٹرشذرہ منصب علی نے کہا کہ اس معاملہ پرورکنگ گروپ کام کررہاہے، اس بل میں کوئی ایسی چیز نہیں ہے جوورکنگ گروپ میں شامل نہیں ہے۔

    جوڈیشل کمیشن اجلاس کا اعلامیہ جاری

    سحرکامران نے کہاکہ یہ اہم بل ہے تاکہ گرین اکانومی کو فروغ دیا جائےاجازت ملنےپر انہوں نےبل ایوان میں پیش کردیاطاہراقبال نے کوآپریٹو سوسائٹیز ترمیمی بل ایوان میں پیش کرنے کی اجازت چاہی،اجازت ملنے پرانہوں نے بل ایوان میں پیش کردیا۔

  • نادرا کی شناختی کارڈ کے حوالے سے نئی ہدایات جاری

    نادرا کی شناختی کارڈ کے حوالے سے نئی ہدایات جاری

    اسلام آباد: نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے شہریوں کو مقررہ وقت پر اپنے کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ وصول کرنے کی ہدایت کر دی۔

    نادرا نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ مقررہ مدت میں قومی شناختی کارڈ نہ لینے کی صورت میں پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں ایک بار درخواست جمع کروانے کے بعد شہریوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ ڈیڈ لائن سے پہلے اپنا شناختی کارڈ حاصل کریں۔

    نادرا کے مطابق اگر قومی شناختی کارڈ نامزد ترسیل کی تاریخ کے 3 ماہ کے اندر حاصل نہ کیا گیا تو اسے مستقل طور پر مسترد کر دیا جائے گا،قومی شناختی کارڈ مسترد ہونے کی صورت میں شہریوں کو نئے کارڈ کے لیے دوبارہ درخواست دینا ہو گی اور متعلقہ فیس بھی ادا کرنا ہو گی شہری پاکستان آئی ڈی موبائل ایپ استعمال کریں یا ہوم ڈلیوری سروس منتخب کریں تاکہ شناختی کارڈ براہِ راست گھر پر وصول کیا جا سکے اور دفاتر کا چکر لگانے کی ضرورت نہ پڑے۔

    نادرا نے قومی شناختی کارڈ کے حصول کے لیے نئی پروسیسنگ فیس اور ٹائم لائنز جاری کر دیں جس کے مطابق شناختی کارڈ کے لیے درخواست دینے والوں کے لیے عام سروس مفت ہے اور پروسیسنگ کا وقت 15 روز ہے،ارجنٹ سروس کا انتخاب کرنے والے درخواست دہندگان کو 12 دن کے اندر درخواست پر عملدرآمد کے ساتھ ایک ہزار 150 روپے فیس ہو گی جبکہ ایگزیکٹو سروس کی ضرورت والے افراد درخواست کے عمل سے 2 ہزار 150 روپے دے کر فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور ان کا شناختی کارڈ صرف 6 دن کے اندر جاری کیا جاتا ہے۔

  • نادرا کی شناختی کارڈ کی تجدید کیلئے ڈاکخانوں سے سہولت ختم

    نادرا کی شناختی کارڈ کی تجدید کیلئے ڈاکخانوں سے سہولت ختم

    نادرا کی جانب سے جی پی اوز اور ڈاک خانوں میں شہریوں کو قومی شناختی کی تجدید اور پتے کی تبدیلی سمیت دیگر سہولیات ختم کر دی گئیں۔

    باغی ٹی وی کے مطابق نادرا کی جانب سے شہر میں جی پی اوز اور ڈاک خانوں میں قائم تمام کاؤنٹرز پر موجود آلات اور درخواست گزاروں سے وصول رقم بھی جمع کرانے کے علاوہ تیار شدہ شناختی کارڈز فوری طور پر درخواست گزاروں کوفراہم کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔
    حکومت کی جانب سے یہ سہولت 3 سال قبل متعارف کروائی گئی تھی لیکن اس حوالے سے عوامی آگاہی کا شدید فقدان رہا۔ترجمان نادرا نے بتایا کہ شہریوں کی تعداد انتہائی کم ہونے کے باعث کاؤنٹرز بند کردیے گئے اور ڈاک خانوں میں نصب آلات یونین کونسلز کو فراہم کیے جائیں گے۔

    کراچی میں آئی آئی چند ریگرروڈ، صدر جی پی اوز سمیت 10 ڈاک خانوں پر شہریوں کو قومی شناختی کارڈز کے حوالے سے سہولیات فراہمی کے لیے سنگل اور ڈبل سہولت کے حامل کاؤنٹرز بندکردیے گئے ہیں جہاں شناختی کارڈز کی تجدید، پتے اور ازدواجی حیثیت کی تبدیلی سے استفادے کی سہولت دستیاب تھی۔پوسٹ آفس کے ذریعے دستخط اور تصویر میں ترمیم بھی کرائی جاسکتی تھی تاہم (ب) فارم اور ایف آرسی کی سہولیات شامل نہیں تھیں۔ذرائع کے مطابق نادرا اور پاکستان پوسٹ کے درمیان معاہدہ 10 سال کے لیے تھا تاہم یہ نظام 3 سال کے بعد ہی بند کر دیا گیا، کراچی سمیت چاروں صوبوں اور آزاد کشمیر میں قائم کاؤنٹرز فروری 2022 سے کام کررہے تھے، جن کی مجموعی تعداد 83کے لگ بھگ تھی اور اب مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔

    مزید کہا گیا کہ ڈاک خانوں میں قائم سہولت کی وجہ سے شہریوں کو نادرا سینٹرز پر لمبی قطاروں سے نجات حاصل تھی لیکن حیرت انگیز طور پر شہرکے جی پی اوز میں قومی شناختی کارڈز کی تجدید اور دیگر سہولیات کے لیے متعین عملے کے پاس سائلین کی تعداد انتہائی محدود رہی، جس کی بنیادی وجہ معلومات کی عدم فراہمی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ بیشتر شہری ان سہولیات سیلاعلم تھے، نادرا، جی پی او انتظامیہ نے بارہا اس بات کااظہار کیا کہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کے علاوہ دیگر ذرائع سے بہت جلد عوامی سطح پر آگاہی شروع کررہے ہیں۔ترجمان نادرا کے مطابق درخواست گزاروں کی تعداد انتہائی کم ہونیکے باعث کاؤنٹرز بند کیے گئے، کاؤنٹرز پر نصب آلات نئے مالی سال میں مختلف یونین کونسلز کو فراہم کیے جائیں گے۔

    کراچی میں قبرستان سے مارٹر گولے برآمد، الرٹ جاری

    چین کا جوابی وار ، امریکہ کی مصنوعات پر 84 فیصد ٹیرف لگا دیا

    اماراتی سفیر کا ایک لاکھ پاکستانیوں کو ویزہ دینے کا اعلان

    پاکستانیوں کی فلسطینیوں سے یکجہتی، پی ایس ایل کا بائیکاٹ کرنے کی اپیل

  • 5 سالوں کے دوران 71 ہزار 849 شناختی کارڈز بلاک

    5 سالوں کے دوران 71 ہزار 849 شناختی کارڈز بلاک

    گزشتہ 5 سالوں کے دوران بلاک کئے گئے شناختی کارڈز کی تفصیلات قومی اسمبلی میں پیش کردی گئی ہیں۔

    وزارت داخلہ کے مطابق گزشتہ 5 سالوں میں کل 71 ہزار 849 شناختی کارڈز بلاک کئے گئے، رپورٹ کے مطابق خیبرپختونخوا میں سب سے زیادہ 25 ہزار 981 شناختی کارڈز بلاک کیے گئے۔پنجاب میں 13 ہزار سے زائد،بلوچستان میں 20 ہزار 583 اورسندھ میں 9 ہزار 677 شناختی کارڈ بلاک کئے گئے ہیں۔اسی طرح اسلام آباد 1370، گلگت بلتستان 228 اور آزاد کشمیر میں 446 شناختی کارڈز بلاک کئے گئے،گزشتہ 5 سال میں 44 ہزار 460 شناختی کارڈز ضروری تصدیق کے بعد ان بلاک کئے گئے۔وزارت داخلہ کا مزید کہنا ہے کہ ابھی تک 13 ہزار 618 بلاک شناختی کارڈ زیر تفتیش ہیں۔واضح رہے کہ نادرا میں کچھ اہلکار غیر قانونی طور پر غیر ملکیوں کو پاکستانی کارڈ بنانے کے دھندے میں ملوث پائے جا چکے ہیں جن کو فوری ملازمت سے برخواست کرکے انکوائری کی جا رہی ہے.

    کراچی، زہریلا دودھ پلانے کے الزام میں 5 ملزمان گرفتار

    پی آئی اے خریدنے کا خواہشمند نیوز چینل مالی بحران کا شکار

  • نادرا سے 27 لاکھ شہریوں کا ڈیٹا چوری،افسران برطرف

    نادرا سے 27 لاکھ شہریوں کا ڈیٹا چوری،افسران برطرف

    اسلام آباد (محمد اویس) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ میں انکشاف ہوا ہے کہ گذشتہ پانچ سالوں میں پنچاب میں بچوں سے جنسی زیادتی کے کل 5623کیس رجسٹرڈ ہوئے اور ان میں سے 70فیصد کیس عدالتوں نے خارج کردیئے ہیں ۔نادرا سے 27لاکھ شہریوں کا ڈیٹا چوری ہونے کے معاملے پر انکوائری کمیٹی کی سفارشات پر افسران کو برطرف کردیا گیا ہے ۔رجسٹریشن کے لیے 90 موبائل وین نادرا خرید رہاہے اور ان پر سروس کی کنیکٹیوٹی بہتر بنانے کے لیے سٹیلائٹ کنکشن مہیاکررہے ہیں ۔4ہزار بھکاری سعودی عرب نے 2021سے اب تک ڈی پورٹ کئے ہیں ۔بھکاریوں کو روکنا مشکل ہوتا ہے ان کے پاس تمام قانونی تقاضے پورے ہوتے ہیں

    قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس راجہ خرم شہزاد نواز کی زیر صدارت ہوا۔عبدالقادر پٹیل ،ملک شاکر بشیر،محمد ارشد ساہی،ڈاکٹر طارق فضل چوہدری، محمد جمال احسن، زرتاج گل، صاحبزادہ صبغت اللہ،حامد رضا،حنیف عباسی،آغا رفیع اللہ،حامد رضا نے شرکت کی ،

    چئیرمین نادرا نے کمیٹی کو بتایا کہ ہم نادرا کے دفاتر کو نہیں بڑھا سکتے نادرا کے دفاتر کو بڑھانے سے شناختی کارڈ کی فیس بڑھانا ہو گی 61تحصلیں ایسی ہیں جن میں نادرا کے دفاتر نہیں ہیں یہ ایسی تحصلیں ہیں جہاں حکومت نے اعلان تو کردیں لیکن ان کی حلقہ بندی نہیں کی نادرا کا اپنا فنڈ ہےہم نے فیس تبدیل نہیں کی، ہم نے کارڈز کو ری نیو نہیں کیاجب تک پراناکارڈ چل رہا ہے فرد نیا کارڈ نہیں بنواتا لوگ شناختی کارڈ نہیں بںواتے تو ہمارا فنڈ بھی جنریٹ نہیں ہوتا زیادہ تحصیلیں کے پی کے ، بلوچستان سے ہیں جہاں ہمارے دفاتر نہیں، پنجاب میں مری اور تلہ گنگ ڈسٹرکٹس بنیں لیکن ان کی حلقہ بندیاں ہمارے پاس نہیں پہنچیں۔ زرتاج گل نے کہاکہ نگران حکومت نے کس طرح نادرا میں تعیناتی کردی ہیں،موبائل وین کی تعداد میں اضافہ کیا جائے ،جن لوگوں کی ڈگریں جعلی تھیں ان کو باعزت ایگزیٹ کیوں دیا گیا ہے؟ چیئرمین نادرا نے کہا کہ نادرا میں حکومت کا کوئی عمل دخل نہیں ہے صرف چیئرمین کی تعیناتی حکومت کرتی ہے نادرا کی اتھارٹی خود بھرتی کرتی، 2.7ملین شہریوں کا ریکارڈ پچھلے سال لیک ہوا۔ سائبر سیکیورٹی کی بریچ ہوئی ۔ جے آئی ٹی کی سفارش کی وجہ سے افسران کو نکالا۔
    لوگوں کی تعلیم نہیں تھی مگر وہ بھرتی ہوگئے بعد میں انہوں نے اپنے ڈگریاں مکمل کیں جس پر ان کو کہا کہ آپ ریٹائرمنٹ لے لیں یا نچلے گریٍڈ میں چلے جائیں ۔انہوں نے ریٹائرمنٹ لے لی ہیں۔ 57ارب روپے کا بجٹ ہے ۔ موبائل وین کی تشہری فیس بک اور وٹس ایپ چینل پر بتاتے ہیں۔ 90نئے موبائل وین خریدیں گے جبکہ موجودہ 75موبائل وین پر سٹیلائٹ ڈیشنز لگارہے ہیں ۔ بلوچستان اور صوبہ خیبرپختونخوا میں 35موبائل وین پر سیٹلائٹ ڈیشیز لگی ہوئی ہیں۔رکن خواجہ اظہار الحسن نے کہاکہ ہمارے پاس سارا ڈیٹا ہے کہ کتنے لوگ 18سال کے ہورہے ہیں اس حساب سے انتظامات کیوں نہیں کئے جارہے ہیں؟چیئرمین نادرا نے کہاکہ کمیٹی نادرا ہیڈکوارٹر میں آئیں اس حوالے سے تمام تفصیلات دے دیں گے۔ہمارا ڈیٹا زیادہ مستند ہے ہم گنتے ہی نہیں پہچان بھی کرتے ہیں۔لوگ فوتگی کااندراج نہیں کرتے ہیں ۔ شناختی کارڈ 18سال کے بعد 3ماہ میں نہ بننےپر جرمانہ اور ایک سال قید کی سزا ہےمگر آج تک کسی کو سزا نہیں ہوئی ہے ۔لوگ شناختی کارڈ ایکسپائر ہونے کے بعد نہیں بناتے ہیں۔

    ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہاکہ بہت سے افغانیوں نے پاکستانی شناختی کارڈ بنائے ہوئے ہیں ۔چیئرمین نادرا نے کہا کہ نادرا میں افغان کے حوالے سے مسائل ہیں ۔ افغانیوں نے شناختی کارڈ حاصل کئے ہیں ۔ 1لاکھ 50ہزار افغانوں کا جاری کارڈ بلاک کیا گیا ہے ۔ روزانہ 30سے زیادہ کارڈ بلاک کررہے ہیں۔چیئرمین نادرا نے کہاکہ میں ایم این ایز سے ملتا ہوں ابھی 90تک مل گیا ہوں ،نبیل گبول نے کہاکہ ہم بھی ملاقات کے لیے ملنے آئیں گے ،عبدالقادر پٹیل نے کہاکہ ڈالا بھیج دیں یہ بھی مل لیں گے ۔اس پر کمیٹی میں قہقہے لگ گئے جس پر چیئرمین نادرا نے کہاکہ اس چیز کو کاروائی سے حذف کیا جائے ۔

    حنیف عباسی نے کہاکہ افغانوں کو نادرا نے شناختی کارڈ جاری کر کے ملک کا بیڑا غرق کیا ہے یہ لوگ ہمیں گالی دیتے ہیں ہندوستان سے زیادہ وہ پاکستان سے نفرت کرتے ہیں پاکستانی پرچم کو پاؤں سے روندتے ہیں ۔رکن آغا رفیع اللہ نے کہاکہ یہاں پر کمیٹی کو سیکرٹری داخلہ ڈکٹیٹ کرتے ہیں یہ قبول نہیں ہے یہاں فیصلہ ہوا تھا کہ اس وقت تک بل پاس نہیں کرسکیں گے جب تک بہاریوں کے شناختی کارڈ کا مسئلہ حل نہیں ہوگا ۔ مگر اس کے باوجود بل پاس کرلیا گیا ۔ محسن نقوی کمیٹی میں نہیں آتے تو کم ازکم کام تو کریں ۔ بہاری پاکستان کے لیے کلمہ کی وجہ سے آئے تھے وہ ذلیل وخور ہورہے ہیں ۔ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہاکہ بہاریوں کے مسائل کی حل کی حمایت کرتا ہوں ۔

    صاحبزادہ صبغت اللہ نے ویسٹ پاکستان منٹیننس آف پبلک آڈر ریپیل بل 2024 کمیٹی میں بحث ہوئی انہوں نے کہا کہ اس قانون کا غلط استعمال ہوتا ہے آمریت میں یہ قانون بنایا گیا ۔اس قانون کے تحت سیاسی انتقام لیا جاتا ہے ۔ انگریز نے رولر ایکٹ بنایا تھا جبکہ یہ قانون اس قانون کی کاپی ہے اس قانون کے خلاف قائداعظم نے احتجاج کیا تھا ۔وزارت قانون کے حکام نے بتایا کہ 1960میں یہ قانون بنا۔یہ قانون تمام صوبوں میں عمل ہورہاہے۔ یہ قانون نہ ہو تو امن وامان لانے میں مشکلات ہوگی ہم بل کی مخالفت کرتے ہیں۔وزارت داخلہ نے کہاکہ قانون خراب نہیں ہوتا اس پر عمل درآمد خراب ہوتا ہے سیاسی انتقام نہیں ہونی چاہیے ۔ ہم بل کی مخالفت کرتے ہیں۔زرتاج گل نے کہاکہ ملک میں ایف سی آر نافذ کردیا گیا ہے پنجاب اسلام آباد میں ایف سی آر نافذ کی گئی ہے ۔ عبدالقادر پٹیل نے کہاکہ جمہوری لوگ اس قانون کی حمایت نہیں کرسکتے ہیں ہم نے 2008میں ہماری حکومت کے دوران استعمال نہیں کیا اس قانون کو ختم ہونا چاہیے ،کمیٹی نے بل پر صوبوں سے رائے طلب کرلی ۔

    رکن قومی اسمبلی سہیل سلطان نے کریمنل لاء ترمیمی بل 2024 سیکشن 489F میں ترمیم پر بحث کی گئی ۔ چیک بونس ہونے پر 10 لاکھ تک تین سال جیل، ایک ملین سے زیادہ ہو تو 5 سال جیل 50لاکھ سے زائد ہوتو 7 سال قید ا،یک کروڑ سے زائد ہو تو دس سال قید ہو۔ اور اصل رقم بھی واپس کی جائے گی ۔وزارت داخلہ نے کہاکہ اس معاملے پر صوبوں سے جواب آنا ہے ،چیئرمین کمیٹی نے کہاکہ صوبوں سے رائے آجائے تو اس بل پر دوبارہ بحث ہوگی ۔

    انسانی سمگلنگ پر ایف آئی اے نے کمیٹی کو بریفنگ دی ۔ڈی جی ایف آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ اس معاملے پر انکوائری ہو رہی ہے ایک انکوائری لاہور اور کراچی میں ہورہی ہے جیسے ہی اس معاملے پر پیش رفت ہوگی کمیٹی کے سامنے پیش کردیں گے ۔پاکستانیوں کو بیرون ملک غیر قانونی طریقہ سے لے کر جایاجاتا ہے ۔ ایک منظم گروہ ہے جو یہ کام کررہاہے ۔اورسیز وزارت کے ساتھ مل کر کام کررہے ہیں۔4ہزار بھکاریوں کو سعودی عرب نے 2021سے اب تک ڈی پورٹ کیا ۔بھکاریوں کو روکنا مشکل ہوتا ہے ان کے پاس تمام قانونی تقاضے پورے کرتے ہیں دو بھکاریوں کے گروہ پکڑے ہیں۔ ایم این اے نثار احمد جٹ اور ایم این اے حامد رضا کا بیرون ملک جانے والوں کی پابندی والے لسٹ سے نکل چکا ہے ،چوہدری نصیر احمد نے کہاکہ ایف آئی اے والے پیسے کے لیے لوگوں کو گرفتار کرتے ہیں دس لاکھ سے ڈیل شروع کرتے ہیں پولیس سے زیادہ کرپشن ایف آئی اے والے کرتے ہیں۔

    پنجاب میں گذشتہ پانچ سال میں بچوں سے جنسی زیادتی کے واقعات پر بریفنگ کے حوالے سے ایجنڈا زیر بحث آیا۔ پولیس حکام نے بتایا کہ گذشتہ پانچ سال میں 5623 کیس رجسٹرڈ ہوئے ہیں ۔70فیصد کیس عدالتوں نے خارج کردیئے ہیں ۔84فیصد ملزمان گرفتار ہوئے ہیں

    گن پوائنٹ پر خواجہ سرا ڈولفن ایان سے برہنہ رقص کروا کر ویڈیو کر دی گئی وائرل

    اکرم چوہدری کی مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش ،ہم نے چینل ہی چھوڑ دیا،ایگریکٹو پروڈیوسر بلال قطب

    ٹک ٹاکر امشا رحمان کی بھی انتہائی نازیبا،برہنہ،جنسی تعلق کی ویڈیو لیک

    نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد مناہل ملک نے دیا مداحوں کو پیغام

    سماٹی وی میں گروپ بندی،سما کے نام پر اکرم چوہدری اپنا بزنس چلانے لگے

    سما ٹی وی بحران کا شکار،نجم سیٹھی” پریشان”،اکرم چودھری کی پالیسیاں لے ڈوبیں

    انتہائی نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد ٹک ٹاکرمناہل نے مانگی معافی

  • مونس الہیٰ مشکل میں، شناختی کارڈ بلاک کر دیا گیا

    مونس الہیٰ مشکل میں، شناختی کارڈ بلاک کر دیا گیا

    مونس الہیٰ مشکل میں پھنس گئے،عدالتی حکم پر سابق وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الہیٰ کے بیٹے مونس الہیٰ کا شناختی کارڈ بلاک کر دیا گیا

    ترجمان ایف آئی اے لاہور کا کہنا ہے کہ مونس الہیٰ کا پاسپورٹ بھی کنٹرول لسٹ میں ڈال دیا گیا ہے،مونس الہیٰ کیساتھ 6 اور ملزمان کا شناختی کارڈ بھی بلاک کر دیا گیا ہے،ملزمان کا شناختی کارڈ اینٹی منی لانڈرنگ سرکل لاہور میں ایف آئی آر نمبر 16/2023 میں بلاک کیا گیا،جن دیگر ملزمان کےشناختی کارڈ اینٹی منی لانڈرنگ کیس میں بلاک کیا گیا ہے ان میں عامر سہیل، عمیر فیاض، امتیاز علی شاہ، فرصت علی اور عابد علی خان شامل ہیں۔

    ڈائریکٹر ایف آئی اے لاہور سرفراز خان ورک نے کہا ہے کہ منی لانڈرنگ میں ملوث ملزمان کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں،عدالت ان ملزمان کے خلاف جو بھی احکامات دے گی ان پر عملدرآمد ہو گا۔

    واضح رہے کہ ایف آئی اے نے منی لانڈرنگ کیس میں ضمنی چالان داخل کیا تھا،ضمنی چالان ایف آئی اے عدالت لاہور میں جمع کرایا گیا تھا چالان میں کہا گیا ہے کہ فراست علی چٹھہ نے ایک ارب روپے مونس الہی کی کمپنیز میں جمع کرایا، ضمنی چالان مونس الہی کے ریڈ وارنٹ انٹر پول کو پہلے ہی بھجوائے جا چکے ہیں،ایک ارب روپے کی خطیر رقم فراصت علی چٹھہ کی جانب سے چوہدری مونس الہیٰ کی کمپنیوں میں جمع کرائی گئی ،اربوں روپے کی مبینہ کرپشن میں ایف آئی اے منی لانڈرنگ سرکل نے مونس الٰہی کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا ۔ایف آئی اے کے مطابق چوہدری مونس الٰہی بطور ایم این اے کروڑوں روپے کی کرپشن میں ملوث رہے ،عامر سہیل، مونس الٰہی کے کیش رائیڈر اورفرنٹ مین کے طور پر کام کرتا رہا۔ مو نس الٰہی کو تین کال اپ نوٹس جاری کیے گئے مگر وہ ایک بار بھی پیش نہیں ہوئے چوہدری مونس الہیٰ کی گرفتاری کیلئے انٹرپول کے ذریعے ریڈ وارنٹ پہلے ہی جاری کئے جا چکے ہیں۔

    واضح رہے کہ مونس الہٰی اس وقت ملک میں موجود نہیں ہیں اور گزشتہ سال ان کو وطن واپس لانے کے لیے قانونی عمل کا آغاز بھی کر دیا گیا تھا۔وفاقی حکومت کے ذرائع کے مطابق گزشتہ سال مونس الہٰی کو واپس لانے کے لیے نگراں وفاقی حکومت کا انٹرپول سے رابطہ ہوا تھا اور اس حوالے سے ایف آئی اے نے انٹرپول حکام سے رابطے کیے تھے۔ذرائع وفاقی حکومت کے مطابق مونس الہٰی کے خلاف تمام مقدمات کی تفصیل انٹرپول حکام سے شیئر کی گئی تھیں اور گرفتاری کیلئے ریڈ نوٹس جاری کرانے کا عمل شروع ہوگیا تھا۔

    فیصلے سے ثابت ہوا کہ لاڈلہ ازم آج تک برقرار ہے ، شرجیل انعام میمن

    سپریم کورٹ فیصلے کے بعد پی ٹی آئی کا چیف الیکشن کمشنر کیخلاف کاروائی کا مطالبہ

    سپریم کورٹ،مخصوص نشستیں،پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار

    سپریم کورٹ،مخصوص نشستیں، سنی اتحاد کونسل کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    کچھ ججز دانا ہوں گے، میں اتنا دانا نہیں، پاکستان کو ایک بار آئین کے راستے پر چلنے دیں، چیف جسٹس

    نشان نہ ملنے پر کسی امیدوار کا کیسے کسی پارٹی سے تعلق ٹوٹ سکتا؟ چیف جسٹس

    انتخابات بارے کیا کیا شکایات تھیں الیکشن کمیشن مکمل ریکارڈ دے، جسٹس اطہر من اللہ

    سنی اتحادکونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق اپیل پر سماعت 24 جون تک ملتوی

    سپریم کورٹ، سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کیخلاف کیس کی سماعت ملتوی

    مخصوص نشستوں پر سپریم کورٹ کا فیصلہ،ملک ایک اور آئینی بحران سے دوچار

    حکومت کو کوئی خطرہ نہیں،معاملہ تشریح سے آگے نکل گیا،وفاقی وزیر قانون

    سپریم کورٹ کا فیصلہ، سیاسی جماعتوں کا ردعمل،پی ٹی آئی خوش،حکومتی اتحاد پریشان

  • جعلی پاکستانی شناختی کارڈ بنوانے میں ملوث 6 افغان شہری گرفتار

    جعلی پاکستانی شناختی کارڈ بنوانے میں ملوث 6 افغان شہری گرفتار

    وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے)پشاورزون نے جعلی پاکستانی شناختی کارڈ بنوانے میں ملوث 6 افغان شہری گرفتار کر لئے

    نجیب اللہ نامی افغان شہری کو طورخم بارڈر پر گرفتار کیا گیا ملزم کے پاس جعلی پاکستانی شناختی کارڈ اور افغان تذکرہ برآمد کیا گیا،ابتدائی تفتیش کے مطابق ملزم چمن بارڈر کے راستے پاکستان داخل ہواملزم نے کوئٹہ میں مقیم قاری حافظ کے ذریعے پاکستانی پاسپورٹ اور شناختی کارڈ حاصل کئے ،ترجمان ایف آئی اے کے مطابق ملزم کی نشاندہی پر جعلی پاکستانی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کے حامل 5 مزید افغان شہریوں کو عثمانیہ ہاسٹل پشاور سے گرفتار کر لیا گیا ،ملزمان کے قبضے سے مختلف پاکستانی شناختی کارڈز، پاکستانی پاسپورٹ اور افغان تذکرے بھی برآمد کئے گئے

    ابتدائی تفتیش کے مطابق ملزمان پاکستانی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ استعمال کر کے سعودی عرب براستہ کابل جانے کا ارادہ رکھتے تھے ،نادرااور پاسپورٹ آفس کے ملازمین کے ملوث ہونے کا تعین دوران تفتیش کیا جائے گا،

    عبوری ضمانت "معصوم” فرد کا حق ہے،نومئی مقدمے،عمران کی ضمانت مسترد ہونے کا فیصلہ

    عمران خان کیخلاف درخواست دینے پر جی ٹی وی نے رپورٹر کو معطل کردیا

    سوال کرنا جرم بن گیا، صحافی محسن بلال کو نوکری سے "فارغ” کروا دیا گیا

    صوبائی کابینہ نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف شواہد کے تحت کارروائی کی اجازت دی

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

    جعلی ڈگری،جسٹس طارق جہانگیری کے خلاف ریفرنس دائر

    عمران خان کی 190 ملین پاؤنڈز کیس میں ضمانت منسوخی کی درخواست دائر

  • آج تک کسی کو شناختی کارڈ نہ بنانے پر سزا نہیں ہوئی، چیئرمین نادرا

    آج تک کسی کو شناختی کارڈ نہ بنانے پر سزا نہیں ہوئی، چیئرمین نادرا

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس چیئرمین سینیٹر فیصل سلیم رحمان کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاوس میں ہوا ۔

    چئیرمین نادرا لیفٹیننٹ جنرل منیر افسر نے نادرا کی کارکردگی پر بریفنگ دی، چیئرمین نادرانے کہا کہ نادرا نے واٹس ایپ چینل بنایا جس پر ایک اشاریہ 6 ملین فالورز ہیں، سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ جب 18 سال کا شہری شناختی کارڈ کے لیے نادرا سے رجوع کرتا ہے تو کتنے عرصے میں کارڈ بن جاتا ہے؟ چیئرمین نادرا نے کہا کہ رولز کہتے ہیں کہ 19 سال 3 ماہ تک ہر شہری پر کارڈ بنانا لازم ہے بصورت دیگر سزا ہو گی، شناختی کارڈ نا بنانے کی صورت میں 50 ہزار جرمانہ اور ایک سال کی قید کی سزا ہے، عرفان صدیقی نے کہا کہ آج تک کسی کو شناختی کارڈ نا بنانے پر سزا ہوئی؟ چیئرمین نادرا نے کہا کہ آج تک کسی کو شناختی کارڈ نا بنانے پر سزا نہیں ہوئی، پاکستان میں مسئلہ یہ ہے کہ ہر صوبے کے قوانین مختلف اور ہم آہنگ نہیں ہیں،ہونا تو یہ چاہیے کہ یونین کونسل کے ساتھ رجسٹرڈ شہریوں کا ڈیٹا نادرا کے پاس ہو اور وہ شناختی کارڈ بنائے،پاکستان میں 70 ملین افراد کے پاس اسمارٹ فون ہے،

    بنگالیوں کے پاس دستاویز نہیں،شناختی کارڈ جاری نہیں کر سکتے،چیئرمین نادرا
    چیئرمین نادرا نے کمیٹی کو بتایا کہ افغانیوں کو شناختی کارڈ جاری کرنے میں 9 سو ملازمین ملوث تھے جن کا سعودی عرب نے 12086پاسپورٹ کا ڈیٹادیا تھا ۔ان کے خلاف کارروائی جاری ہے ۔شہادت اعوان نے کہاکہ بنگالی جو کراچی میں رہتے ہیں ان کو شناختی کارڈ جاری کئے جائیں کیوں کہ ان کی تیسری نسل پاکستان میں پیدا ہوئی ہے ان کے پاس شناختی کارڈ نہ ہونے کی وجہ سے پولیس ان کو تنگ کررہی ہے ۔چیئیرمین نادرا جنرل افسر منیر نے بتایا کہ بنگالیوں کو شناختی کارڈ جاری نہیں کرسکتے ہیں ان کے پاس کسی قسم کے دستاویزات نہیں ہیں جو شہریت دینے کے لیے ضروری ہے ۔سینیٹر عرفان صدیقی نے کہاکہ جو قانون بنگالیوں کو شہریت دینے سے منع کرتا ہے کیا وہ قانون افغانیوں اور دوسرے ممالک کے لوگوں کو بھی شہریت سے منع کرتا ہے ۔چیئرمین نادرا نے کمیٹی کو بتایا کہ بیرون ملک پیدا ہونے والے پاکستانی بچوں کو 90دن کے اندر قریبی قونصلٹ (سفارت خانے میں) انداج کرنا ضروری ہے لوگ بچوں کے اندراج نہیں کرتے ہیں جس کی وجہ سے مسائل پیدا ہوتے ہیں ۔

    2023 میں 3771 اسمگلر گرفتار،چھ لاکھ سے زائد افغانوں کو واپس بھیجا،ڈی جی ایف آئی اے
    ڈی جی ایف آئی اے نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہاکہ 2023میں3771سمگلروں کو گرفتار کیا گیا جن میں سے 49 انتہائی مطلوب سمگلر تھے ۔8706افغانوں کوپاکستان سے دوسرے ملک منتقل کیا ہے جو افغانستان میں طالبان کی حکومت کے بعد پاکستان آئے تھے ۔ 6لاکھ 65ہزار567افغانوں کو واپس افغانستان بھیجا ہے ۔دوسال میں 415 ریڈ نوٹس جاری کئے گئے،184 پاکستانیوں کو انٹرپول کے ذریعے پاکستان واپس لائے ہیں ۔45ہزار80کنکشنز پر 1.10ارب یونٹس کی اور بلنگ کی گئی جس کی ایف آئی اے نے نشاندہی کی اور ریکوری کی گئی ۔ڈی جی امیگریشن نے کمیٹی کو بتایا کہ اس سال 11ہزار لوگوں کو آف لوڈ کیا ہے گزشتہ سال 20ملین لوگوں کو چیک کیا جن میں سے 1 کروڑ پاکستان سے گئے اور ایک کروڑ پاکستان آئے ۔ اس سال اب تک 10ملین سے زائد مسافروں کو چیک کیا ۔

    مالی سال 2023-24 میں 63 لاکھ 36 ہزار 90 پاسپورٹ جاری کئے،ڈی جی پاسپورٹ
    ڈی جی پاسپورٹ مصطفیٰ جمال نے بریفنگ دیتے ہوئے کہاکہ مالی سال 2023-24 میں 63 لاکھ 36 ہزار 90 پاسپورٹ جاری کئے گئے ۔جبکہ گذشتہ مالی سال ہمیں 45ارب 17کروڑ 70لاکھ آمدن ہوئی ہے ۔ای پاسپورٹ کی طرف جارہے ہیں فی الحال 6ہزار ای پاسپورٹ روزانہ بنارہے ہیں 163ریجنل پاسپورٹ آفس کی اپ گریڈیشن کررہے ہیں ۔1.8ارب روپے وزارت خارجہ نے دیئے ہیں ان سے واجبات ادا کررہے ہیں اوورسیز کا پاسپورٹ کا کوئی بیک لاک نہیں ہے ۔6عام پاسپورٹ بنانے والی مشین اور 2 ای پاسپورٹ کی مشین خرید لی ہیں ستمبر تک مشین پاکستان آجائیں گی۔ 1لاکھ 65ہزار پاسپورٹ کا بیک لاک ہے ۔سینیٹر عبدالقادر نے کہاکہ ہمیں تو بتایا گیا ہے کہ 6لاکھ تک پاسپورٹ کا بیک لاک ہے؟فیصل سلیم نے کہاکہ سفارتی پاسپورٹ کے بارے میں بتائیں گے کہ جب وہ عہدے پر نہیں رہتے تو ان کے پاسپورٹ منسوخ ہوتے ہیں کہ نہیں؟ڈی جی نے بتایا کہ سفارتی پاسپورٹ کو ان کی معیاد ختم ہونے کے بعد منسوخ کردیا جاتا ہے ۔

    تحریک انصا ف،یہودی صیہونی لابی کا گٹھ جوڑ،ثبوت سامنے آ گئے

  • عدالت کا خواتین کے شناختی کارڈ پر والد کے نام کیلئے قواعد میں ترمیم کا حکم

    عدالت کا خواتین کے شناختی کارڈ پر والد کے نام کیلئے قواعد میں ترمیم کا حکم

    لاہور ہائی کورٹ نے خواتین کے قومی شناختی کارڈ پر والد کا نام برقرار رکھنے کے لیے امیگریشن ڈپارٹمنٹ قواعد میں ترمیم کرنے کا حکم دیا ہے-

    باغی ٹی وی :لاہور ہائیکورٹ کے جج جسٹس عاصم حفیظ نے درخواست پر سماعت کی ،دوران سماعت لاہور ہائی کورٹ نے محکمہ امیگریشن اور پاسپورٹ کو ہدایت دی ہے کہ وہ خواتین کو کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ پر اپنے والد کا نام رکھنے کی اجازت دینے والے قوانین میں تین ماہ میں ترمیم مکمل کرے ۔

    واضح رہے کہ جسٹس عاصم حفیظ نے یہ حکم مہر بانو لنگڑیال کی جانب سے دائر درخواست پر سنایا، درخواست میں کہا گیا تھا کہ ایک شادی شدہ خاتون کو اپنی شناختی دستاویزات پر اپنے والد کا نام رکھنے کا حق ہے ۔

    یمن کے قریب تارکین وطن کی کشتی ڈوبنے سے 49 افراد ہلاک

    امریکا کا خدیجہ شاہ پر سفری پابندیوں کے خاتمے کیلئے پاکستان میں حکام سے رابطہ

    بجٹ کے بعد کابینہ میں توسیع کا فیصلہ،پیپلز پارٹی کو شمولیت کی دعوت

  • وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا نادرا ہیڈ کوارٹر کا دورہ، عوام کی سہولت کیلئے بڑے فیصلے

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا نادرا ہیڈ کوارٹر کا دورہ، عوام کی سہولت کیلئے بڑے فیصلے

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ پاکستان بھر میں یونین کونسل کی سطح پر شناختی کارڈ بنانے اور تجدید کی سہولت دی جائیگی، اس کے علاوہ پاکستان بھر میں یونین کونسل کی سطح پر بائیو میٹرک مشینیں لگائی جائیں گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے نادرا ہیڈکوارٹر اسلام آباد کے دورے کے موقع پر کیا۔ وفاقی وزیرداخلہ نے نادرا ہیڈ کوارٹر میں ایک اہم اجلاس کی صدارت کی۔ جس میں نادرا کو عوام کے لئے مزید فرینڈلی بنانے کے لیے مختلف تجاویز کا جائزہ لیا گیا۔ عوام کو سہولت فراہم کیلئے کئی بڑے اور اہم فیصلے کئے گئے۔

    وفاقی وزیر داخلہ نے ہدایت کی کہ یونین کونسل کی سطح پر شناختی کارڈ بنوانے اور تجدید کی سہولت فراہم کرنے کے پلان کو چند روز میں حتمی شکل دی جائے۔ انہوں نے شناختی کارڈز کے نظام کو فول پروف، بہتر اور تیز رفتار بنانے کیلئے پلان بھی طلب کرلیا۔وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ نادرا سنٹرز کے دورے کئے اور حالات کا جائزہ لیا میں نے خود مشاہدہ کیا کہ عوام کو کافی مشکلات اور دقت کا سامنا ہے۔ انہوں نے نادرا حکام کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ایسا پلان بنایا جائے جس سے نادرا سنٹرز پر آنے والوں کیلئے آسانی ہو اور کام بلا تاخیر ہو۔شہریوں کی رش کو مدنظر رکھتے ہوئے وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے 6 بڑے شہروں میں نادرا سنٹرز میں اضافے کا 7 روز میں پلان بھی طلب کر لیا۔ وزیر داخلہ نےکراچی، لاہور، پشاور، کوئٹہ، اسلام آباد اور راولپنڈی میں مزید سنٹرز بنانے کے حوالے سے فوری اقدامات کی ہدایت کی ۔ انہوں نےجعلی شناختی کارڈ مافیا کے خلاف موثر کاروائی کا حکم دیا۔بعد ازاں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے نادرا آپریشنل روم کا دورہ کیا۔ وفاقی وزیر کو پاکستان بھر کے نادرا سنٹرز کی ڈیجیٹل مانیٹرنگ کے نظام کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی ۔ محسن نقوی نے چئیرمین نادرا لیفٹیننٹ جنرل محمد منیر افسر اور ان کی ٹیم کی کاوشوں کو سراہا۔ وفاقی سیکرٹری داخلہ خرم آغا اور نادرا کے اعلی حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔

    مریم نواز نے پولیس وردی پہنی،عثمان انور نے ساڑھی کیوں نہیں پہنی؟ مبشر لقمان کا تجزیہ

    اداروں کی یونیفارم پہننا خلافِ قانون،محترمہ عملی کام بھی کریں، بیرسٹر سیف

    مریم کی پولیس وردی پر تنقید کرنیوالوں نےبرقعے کی آڑ میں دھندہ چلایا ،عظمیٰ بخاری

    بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    پولیس وردی پہننے پر وزیراعلیٰ پنجاب کیخلاف مقدمہ کی درخواست