Baaghi TV

Tag: شنگھائی تعاون تنظیم

  • شنگھائی تعاون تنظیم سربراہی اجلاس،کن کن ممالک کے وزرااعظم آ رہے پاکستان؟

    شنگھائی تعاون تنظیم سربراہی اجلاس،کن کن ممالک کے وزرااعظم آ رہے پاکستان؟

    پاکستان کی میزبانی میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہانِ حکومت کی کونسل کے دو روزہ اجلاس کی میزبانی کیلئے تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں،

    شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک روس، بیلاروس، قازقستان، کرغزستان، تاجکستان اور ازبکستان کے وزرائے اعظم کے علاوہ ایران کے اول نائب صدر اور بھارت کے وزیر خارجہ اپنے ممالک کی نمائندگی کرینگے۔چین کے وزیراعظم لی چیانگ اپنے ملک کی نمائندگی کریں گے۔منگولیا کے وزیراعظم، مبصر ریاست کے طورپر اور ترکمانستان کے وزراء کی کابینہ کے نائب چیئرمین اور وزیرخارجہ بھی مہمان خصوصی کی حیثیت سے اجلاس میں شرکت کریں گے۔

    شنگھائی تعاون تنظیم کونسل کے رکن ممالک کے سربراہان حکومت کے اجلاس میں معیشت، تجارت ،ماحولیات اور سماجی و ثقافتی روابط کے شعبوں میں تعاون پر بات چیت کی جائے گی اور تنظیم کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا۔وزیراعظم شہباز شریف اجلاس کے موقع پر دورے پر آئے ہوئے وفود کے سربراہان سے اہم دوطرفہ ملاقاتیں بھی کریںگے.

    ایس سی او سربراہی کانفرنس میں شرکت کے لیے غیر ملکی وفود پاکستان پہنچنا شروع ہو گئے ہیں اور اس سلسلے میں بھارت کا 4 رکنی سرکاری وفد پاکستان پہنچ گیا ہےروس کا 76رکنی جبکہ چین کا 15رکنی وفد بھی شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس میں شرکت کے لیے اسلام آباد پہنچ گیا ہے،کرغستان کا 4 رکنی اور ایران کا 2رکنی وفد بھی اسلام آباد پہنچ گیا ہے جبکہ شنگھائی تعاون تنظیم کے7 نمائندے بھی پاکستان پہنچ چکے ہیں۔

    شنگھائی تعاون تنظیم کا سربراہی اجلاس 15، 16 اکتوبر کو پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں ہو گا، 23 ویں اجلاس کی صدارت پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کریں گے، اجلاس جناح کنونشن سینٹر میں منعقد ہو گا، اس اجلاس میں چین، روس، بھارت، وسطی ایشیائی ریاستوں اور دیگر رکن ممالک کے سربراہان اور اعلیٰ سطح کے وفود شرکت کریں گے۔ یہ اجلاس پاکستان کے لیے سفارتی طور پر انتہائی اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ اس میں خطے کے اہم مسائل پر تبادلہ خیال کیا جائے گا، جن میں اقتصادی ترقی، سکیورٹی تعاون اور علاقائی استحکام کے امور شامل ہیں۔شنگھائی تعاون تنظیم کی اہمیت کے پیش نظر اسلام آباد میں سکیورٹی کے غیرمعمولی اقدامات کیے گئے ہیں۔ اس کانفرنس کے دوران سکیورٹی ہائی الرٹ رہے گی ، سڑکوں پر گشت، داخلی و خارجی راستوں پر چیک پوسٹس، اور اہم مقامات پر سکیورٹی کیمرے نصب کیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔اس کانفرنس میں بھارت کی شرکت بھی عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے، کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان حالیہ برسوں میں تعلقات میں کشیدگی رہی ہے۔

    شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہان اجلاس میں افغانستان شامل نہیں ہو گا۔

    ایس سی او سربراہی کانفرنس کی تیاریاں عروج پر،محسن نقوی کی اہم ہدایات

    "شنگھائی تعاون تنظیم سربراہی اجلاس” شہریوں کے لئے خصوصی ٹریفک پلان

    پی ٹی آئی کی 4 اکتوبر کو اسلام آباد پر حملے کی دھمکی، شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس کو سبوتاژ کرنے کی کوشش

    اسلام آباد میں شنگھائی تعاون تنظیم کانفرنس: فوج کی تعیناتی کے لیے نوٹیفکیشن جاری

    وزیراعظم شہباز شریف کا شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس کے انتظامات کا جائزہ

    پی ٹی آئی 15 اکتوبر کو احتجاج کی کال واپس لے، شیری رحمان

    پی ٹی آئی کی ملک دشمنی،ایس ای او اجلاس کے موقع پر احتجاج کا اعلان

    شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس، اسلام آباد کے حسن کو چار چاندلگا دیئے گئے

  • شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس، اسلام آباد کے حسن کو چار چاندلگا دیئے گئے

    شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس، اسلام آباد کے حسن کو چار چاندلگا دیئے گئے

    شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کے حوالے سے تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ایس سی او اجلاس میں مہمانوں کی آمد سے قبل شہر اقتدار اسلام آباد کو دلہن کی مانند سجا دیاگیا ہے، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی اہم شاہراہوں، چوک چوراہوں پر سبزی ہلالی رنگوں کی خوبصورت منظر کشی کی گئی ہے، سرکاری عمارات کے ساتھ ساتھ نجی کاروباری مراکز کو بھی سجایا گیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر کی جانب سے اسلام آباد کو سجانے کی ویڈیو جاری کی گئی ہے،اجلاس کے موقع پر سیکورٹی کے خصوصی انتظامات کئے گئے ہیں۔وفاقی دار الحکومت دلکش مناظر پیش کرنے لگا، وفاقی ترقیاتی ادارے نے اسلام آباد کو انتہائی خوبصورتی سے سجادیا،رنگ برنگی روشنیوں نے شہر اقتدار کے حسن کو چار چاند لگا دیئے،

    دوسری جانب وزارتِ خارجہ نے شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس میں شرکت کرنے والے چند ممالک کے وفود کے سربراہوں کے نام جاری کئے ہیں، ایس ای او سربراہی اجلاس میں چینی وزیرِ اعظم لی چیانگ اپنے وفد کی قیادت کریں گے،بھارت سے بھی وفد شریک ہو گا،بھارتی وزیرِ خارجہ سبرامنیم جے شنکر بھارتی وفد کی قیادت کریں گے،ایرانی اوّل نائب صدر محمد رضا عارف ایرانی وفد کی سربراہی کریں گے،بیلا روس کے وزیرِ اعظم رومان گولوف چینکو اپنے ملک کے وفد کی سربراہی کریں گے

    شنگھائی تعاون تنظیم کا سربراہی اجلاس 15، 16 اکتوبر کو پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں ہو گا، 23 ویں اجلاس کی صدارت پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کریں گے،اجلاس جناح کنونشن سینٹر میں منعقد ہو گا، اس اجلاس میں چین، روس، بھارت، وسطی ایشیائی ریاستوں اور دیگر رکن ممالک کے سربراہان اور اعلیٰ سطح کے وفود شرکت کریں گے۔ یہ اجلاس پاکستان کے لیے سفارتی طور پر انتہائی اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ اس میں خطے کے اہم مسائل پر تبادلہ خیال کیا جائے گا، جن میں اقتصادی ترقی، سکیورٹی تعاون اور علاقائی استحکام کے امور شامل ہیں۔شنگھائی تعاون تنظیم کی اہمیت کے پیش نظر اسلام آباد میں سکیورٹی کے غیرمعمولی اقدامات کیے گئے ہیں۔ اس کانفرنس کے دوران سکیورٹی ہائی الرٹ رہے گی ، سڑکوں پر گشت، داخلی و خارجی راستوں پر چیک پوسٹس، اور اہم مقامات پر سکیورٹی کیمرے نصب کیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔اس کانفرنس میں بھارت کی شرکت بھی عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے، کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان حالیہ برسوں میں تعلقات میں کشیدگی رہی ہے۔

    شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہان اجلاس میں افغانستان شامل نہیں ہو گا۔

    ایس سی او سربراہی کانفرنس کی تیاریاں عروج پر،محسن نقوی کی اہم ہدایات

    "شنگھائی تعاون تنظیم سربراہی اجلاس” شہریوں کے لئے خصوصی ٹریفک پلان

    پی ٹی آئی کی 4 اکتوبر کو اسلام آباد پر حملے کی دھمکی، شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس کو سبوتاژ کرنے کی کوشش

    اسلام آباد میں شنگھائی تعاون تنظیم کانفرنس: فوج کی تعیناتی کے لیے نوٹیفکیشن جاری

    وزیراعظم شہباز شریف کا شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس کے انتظامات کا جائزہ

    پی ٹی آئی 15 اکتوبر کو احتجاج کی کال واپس لے، شیری رحمان

    پی ٹی آئی کی ملک دشمنی،ایس ای او اجلاس کے موقع پر احتجاج کا اعلان

  • پی ٹی آئی کا 15 اکتوبر کا احتجاج ملکی استحکام کیلیے خطرہ ہے، مصطفی کمال

    پی ٹی آئی کا 15 اکتوبر کا احتجاج ملکی استحکام کیلیے خطرہ ہے، مصطفی کمال

    ایم کیو ایم پاکستان نے پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) 15 اکتوبر کو ڈی چوک میں احتجاجی مظاہرے پر تحفظات کا اظہار کردیا۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ایم کیوایم پاکستان کے سینئر مرکزی رہنما مصطفی کمال نے پریس کانفرنس میں پی ٹی آئی کی جانب سے 15 اکتوپر کو اسلام آباد ڈی چوک پر احتجاج کے اعلان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ملک کو استحکام کی ضرورت ہے کیوںکہ 15 اکتوبر کو شنگھائی کانفرنس ہو رہی ہے اور پی ٹی آئی کا احتجاج اس استحکام کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔انہوں نے الزام لگایا کہ پی ٹی آئی کے اقدامات اسرائیلی ایجنڈے کا حصہ ہو سکتے ہیں۔ زیک گولڈ اسمتھ عمران خان کے بچوں کے ماموں ہیں۔زیک گولڈ اسمتھ نے 2 ماہ قبل اسرائیل کے حق میں ٹویٹ کی تھی اور عمران خان نے ان کی میئر شپ کی مہم بھی چلائی۔سید مصطفی کمال نے سوال اٹھایا کہ کیا یہ پاکستان کے ریاستی اداروں کو کمزور کرنے کی سازش کا حصہ تو نہیں انہوں نے کہا کہ اسرائیلی اخبارات نے عمران خان کی تعریف میں آرٹیکلز شائع کیے جو اس بات کو فروغ دے رہی ہے کہ پی ٹی آئی کی پالیسیز اور اقدامات اسرائیلی ایجنڈے کے ساتھ ہم آہنگ ہو سکتے ہیں۔

    انہوں نے پی ٹی آئی پر زور دیا کہ وہ ایک سیاسی جماعت کی طرح کام کرے اور ریاست کے ساتھ تصادم سے گریز کرے۔مصطفی کمال نے پی ٹی آئی کے رہنماں اور ان کے نعروں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہم بھی ماضی میں ایسے نعرے لگاتے تھے کہ منزل نہیں رہنما چاہیے اور ہم بھی پاگلوں کی طرح لگے رہتے تھے۔ لیکن بعد میں ہم نے بغاوت کی اور اپنے رہنما کو ہی فارغ کردیا۔
    انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے رہنما بھی آج اسی طرح کے نعرے لگا رہے ہیں جیسے کہ خان نہیں تو پاکستان نہیں لیکن اس پر جس طرح عمل کیا جا رہا ہے وہ بالکل اسی طرح ہے جیسا ماضی میں ہوا تھا۔ریاست نے ایم کیو ایم کے امن قائم کرنے کے اقدامات کو تسلیم نہیں کیا اور نہ ہی کراچی کو اچھی سڑکیں اور دیگر بنیادی سہولیات فراہم کی گئیں جبکہ ابھی تک کوٹہ سسٹم بھی برقرار ہے۔سیاسی جماعتوں پر پابندیاں لگانے کے حق میں نہیں لیکن اس احتجاج سے پاکستان کی سلامتی پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

    کراچی ٹیکنالوجی فیسٹیول، طالبعلم نے نئی اسمارٹ ہوم ٹیکنالوجی متعارف کرادی

  • علی گنڈاپور سمیت شرپسندی میں ملوث تمام عناصر کےخلاف کارروائی ہوگی، محسن نقوی

    علی گنڈاپور سمیت شرپسندی میں ملوث تمام عناصر کےخلاف کارروائی ہوگی، محسن نقوی

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی قیادت میں اسلام آباد میں دھاوا بولا گیا، شرپسندی میں ملوث تمام عناصر کے خلاف بلاتفریق کارروائی ہوگی اور پولیس اہلکاروں پر حملہ آوروں سے کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ڈی چوک اسلام آباد میں آئی جی اسلام آباد و آئی جی پنجاب کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ اسلام آباد پولیس نے احتجاج کرنے والے 564 افراد کو گرفتار کیا ہے، گرفتار افراد میں 120 افغانی شہری بھی شامل ہیں، جبکہ خیبرپختونخوا کے 11 پولیس اہلکاروں کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہا کہ خیبرپختونخوا پولیس کے یہ اہلکار سادہ لباس میں تھے اور ان سے آنسو گیس کے شیل، ماسک اور ربر کی گولیاں برآمد ہوئی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ صبح کو پنجاب پولیس پر فائرنگ کی گئی لیکن پنجاب پولیس نے صبروتحمل کا مظاہرہ کیا، مظاہرین میں تربیتی یافتہ عسکریت پسند بھی تھے، ہمارے پولیس اہل کاروں نے پتھراؤ کا مقابلہ کیا، مظاہرین نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے آنسو گیس کے شیل استعمال کیے، مظاہرین کے پتھراؤ سے اسلام آباد پولیس کے 31 اہلکار اور پنجاب پولیس کے 75 اہلکار زخمی ہوئے جن میں سے ایک اہلکار کی حالت تشویشناک ہے۔

    محسن نقوی نے کہا کہ اس دھاوے کے منصوبہ سازوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، آج رات کو کلیئرنس کریں گے، جبکہ اس تکلیف پر اسلام آباد اور راولپنڈی کی عوام سے معذرت چاہتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ ہم نے انتہائی تحمل کے ساتھ صورتحال کو کنٹرول کیا اور تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اپنے فرائض بہترین انداز میں انجام دیے، ہماری ترجیح تھی کہ کوئی جانی نقصان نہ ہو۔ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی قیادت میں اسلام آباد میں دھاوا بولا گیا، مظاہرین کا مقصد ڈی چوک پہنچ کر شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کانفرنس تک دھرنا دینا تھا، شرپسندی میں ملوث تمام عناصر کے خلاف بلاتفریق کارروائی ہوگی اور پولیس اہلکاروں پر حملہ آوروں سے کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

    میانوالی پولیس شرپسندوں کے آگے سیسہ پلائی دیوار بن گئی، دوسرا حملہ بھی پسپا کردی

    سکیورٹی فورسز نے بحالی امن کیلئے ہمیشہ جانوں کا نذرانہ پیش کیا ،وزیر اعلی بلوچستان

  • جے شنکر نے دورہ پاکستان کے دوران بات چیت کے امکان کو مسترد کردیا

    جے شنکر نے دورہ پاکستان کے دوران بات چیت کے امکان کو مسترد کردیا

    بھارت کے وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر نے کہا ہے کہ رواں ماہ اپنے دورہ پاکستان کے دوران وہ پاک بھارت دو طرفہ تعلقات پر کوئی بات نہیں کریں گے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارت کے کسی بھی وزیر خارجہ کا تقریباً ایک دہائی کے بعد اس طرح کا پاکستان کا پہلا دورہ ہوگا جب کہ سبرامنیم جے شنکر رواں ماہ جو شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہی اجلاس میں کرنے کے لیے آئیں گے جے شنکر نے نئی دہلی میں ایک تقریب کے دوران پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ مجھے توقع ہے کہ تعلقات کی نوعیت کی وجہ سے میڈیا کی کافی دلچسپی ہوگی۔لیکن میں یہ ضرور کہنا چاہتا ہوں کہ یہ ایک کثیر الجہتی تقریب کے لیے ہوگا، میں وہاں بھارت اور پاکستان کے تعلقات پر بات کرنے نہیں جا رہا ہوں۔’بھارتی وزیر خارجہ نے کہا کہ میں وہاں شنگھائی تعاون تنظیم کا بطور ایک اچھے رکن کے جا رہا ہوں لیکن کیونکہ میں ایک شائستہ اور مہذب شخص ہوں، اس لیے میں وہاں اس کے مطابق ہی برتاؤ کروں گا۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز بھارت نے وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر کو شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے پاکستان بھیجنے کا اعلان کیا تھا۔سبرامنیم جے شنکر دورہ اسلام آباد میں بھارتی وفد کی قیادت کریں گے، 9 سال میں بھارت کی کسی اعلیٰ شخصیت کا یہ پہلا دورہ پاکستان ہوگا۔ترجمان بھارتی دفتر خارجہ رندھیر جیسوال نے اس بات کا اعلان صحافیوں کو دی گئی ہفتہ وار بریفنگ میں کیا، جس میں ان کا کہنا تھا کہ بھارتی وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر کی قیادت میں وفد کو شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں شرکت کے لیے پاکستان بھیجا جائے گا۔شنگھائی تعاون تنظیم کا سربراہی اجلاسی 15 اور 16 اکتوبر کو اسلام آباد میں منعقد ہو گا۔

    29 اگست کو ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرہ بلوچ نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس میں شرکت کی دعوت دی تھی۔انہوں نے کہا تھا کہ ’کچھ ممالک نے اجلاس میں شرکت کے لیے دعوت نامے کو قبول کرلیا ہے جبکہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو بھی دعوت نامہ بھیجا گیا ہے۔‘گزشتہ روز وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی زیر صدارت اجلاس میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس پاکستان میں منعقد کرنے کے لیے جامع سیکیورٹی پلان کی منظوری دی گئی تھی۔

    انہوں نے اجلاس میں فول پروف سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے پاک فوج، رینجرز، ایف سی اور پنجاب پولیس کی اضافی نفری تعینات کرنے کے منظوری دی تھی۔واضح رہے کہ گزشتہ سال بلاول بھٹو زرداری نے بطور وزیر خارجہ بھارت میں ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ اجلاس میں شرکت کی تھی، وہ 12 سال میں بھارت کا دورہ کرنے والے پہلے پاکستانی وزیر خارجہ تھے۔بلاول بھٹو نے شنگھائی تعاون تنظیم کے اس دورے میں شرکت کو نتیجہ خیز اور مثبت قرار دیا تھا۔

    بھارت میں سیاحتی مقام پر لڑکی کے ساتھ اجتماعی زیادتی

    ہنگامی صورتحال، وفاق کی درخواست پر سندھ پولیس کی بھاری نفری اسلام آباد روانہ

  • پی ٹی آئی کی 4 اکتوبر کو اسلام آباد پر حملے کی دھمکی، شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس کو سبوتاژ کرنے کی کوشش

    پی ٹی آئی کی 4 اکتوبر کو اسلام آباد پر حملے کی دھمکی، شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس کو سبوتاژ کرنے کی کوشش

    اسلام آباد: پی ٹی آئی کی 4 اکتوبر کو اسلام آباد پر حملے کی دھمکی، شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس کو سبوتاژ کرنے کی کوشش

    باغی ٹی وی: انتشاری جماعت پی ٹی آئی کی جانب سے ہنگامہ آرائی، ہلڑ بازی اور ملک کا امن تہہ و بالا کرنے کیلئے جلسے جلوسوں اور احتجاج کا سلسلہ ایک عرصے سے جاری ہے، جسے وہ سیاسی جدوجہد کا نام دیکر عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کر رہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جیل میں بند انتشاری ذہن کا مالک دراصل ایک منصوبہ بندی کے ذریعے سب کچھ کر رہا ہے اور یہ ایک ایسا وقت میں کیا جا رہا ہے جب پاکستان کی معیشت بہتری کی جانب گامزن ہے معاشی اشاریے بہتر مستقبل کی نوید سنا رہے ہیں۔ بانی پی ٹی آئی اور اس کی انتشاری ذہنیت کو یہ گوارا نہیں ہے کہ ملک ترقی کی راہ پر چلے اور اس سارے عمل کو روکنے کیلئے اس نے خیبرپختونخوا کے شدت پسند وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور کے ذریعے ملک کو برباد کرنے کا منصوبہ بنایا ہوا ہے۔

    اگر نگاہ دوڑائی جائے تو معاشی اعداد و شمار کے مطابق افراط زرجو مئی 2023ء میں 38 فیصد تک چلا گیا تھا، آج یہ سنگل ڈیجیکٹ یعنی کم ہو کر 9.6 فیصد پر آچکا ہے۔ جون 2023ء میں ڈالر 333.5 روپے تک جا پہنچا تھا مگر آج جی ڈی پی کی نمو میں ریکوری سے کرنسی ایکسچینج ریٹ اور روپیہ مستحکم ہو گیا ہے آج ڈالر 277.72 روپے تک آچکا ہے۔

    اڈیالہ جیل کے لاپتہ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ سمیت 4 ملازمین نوکری سے برطرف

    آئی ایم ایف کی جانب سے 7 ارب ڈالر مالیت کا پروگرام منظور کیا گیا۔ بہترین معاشی اقدامات کے باعث پاکستان کی سٹاک ایکسچینج دنیا کی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی سٹاک ایکسچینج بن کر ابھری۔ سٹاک مارکیٹ میں سرفہرست 86 کمپنیوں نے 1.7 ٹریلین روپے کا ریکارڈ منافع کمایا۔ جون 2023ء میں کے ایس ای 100 انڈیکس 41452.69 پوائنٹس پر تھا آج یہ انڈیکس 82463.05 پوائنٹس پر پہنچ چکا ہے۔

    وفاقی حکومت تجارتی اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو بھی بڑی حد تک کم کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں، ہماری برآمدات میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔بہتر معاشی اشاریوں کے باعث موڈیز نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ سی سی 2 سے سی سی 3 کردی ہے، بہتری ہوتی معیشت کے پیش نظر حکومت نے اس کے فوائد عام عوام تک بھی منتقل کرنا شروع کردیئے ہیں اور سب دیکھ رہے ہیں کہ پیٹرول کی قیمت ہر پندرہ روز کے بعد کم کی جا رہی ہے اسی طرح سب سے عام استعمال اور ضروری چیز آٹے کی قیمت جسے کچھ عرصہ قبل پر لگ چکے تھے اب غریب آدمی کیلئے بھی قابل خرید ہے۔

    لاہور میں بھی دفعہ 144 نافذ

    سب سے سنجیدہ اور تشویشناک امر یہ ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب ملائیشین وزیراعظم اپنے پہلے دورہ پاکستان پر موجود ہیں تو پی ٹی آئی کا خیبرپختونخوا کا وزیر اعلیٰ جو شرپسندوں کے جتھے لیکر کبھی حملہ آور ہوتا ہے اسلام آباد، کبھی لاہور اور کبھی راولپنڈی تو اس نے 4 اکتوبر کو اسلام آباد میں احتجاج کی کال دے رکھی ہے اور ساتھ ہی دھمکی بھی دے رہا ہے کہ اگر ایک گولی چلے گی تو وہ دس گولیاں چلائے گا۔ اسی بیانیے کو پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا وائرل بھی کر رہا ہے یعنی ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ہلڑ بازی کا ماحول بنایا جا رہا ہے۔اس سے پہلے 9مئی کا سانحہ اور اس کے نتائج سب کے سامنے ہیں کہ کس طرح معصوم لوگوں کو ورغلاء کر اُن کو ریاست کے سامنے کھڑا کیا گیا اور بعد میں پی ٹی آئی کی قیادت نے اُس سے لاتعلقی کا اعلان کر دیا۔

    اس طرح کے شرپسند اعلانات اور دھمکیوں سے یہ تاثر قائم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ اس وقت پاکستان میں مکمل طور پر سیاسی عدم استحکام ہے۔ یہی ایجنڈا یہ شرپسند جماعت اپنے سوشل میڈیا پر پھیلا رہی ہے اور باہر بیٹھے پاکستانیوں، اہم شخصیات کویہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ پاکستان کے حالات انتہائی کشیدہ ہیں، وہاں کوئی بھی غیر ملکی دورہ اور سرمایہ کاری نہیں کی جا سکتی۔

    امریکی خفیہ ایجنسی نے چین، ایران اور شمالی کوریا میں جاسوسوں کی بھرتیاں …

    پی ٹی آئی کی جانب سے اس شدت پسندی اور شرپسندی کا بڑا ایجنڈا پاکستان میں 15 اور 16 اکتوبر کو ہونے والی ایک بڑی شنگھائی تعاون تنظیم کی کانفرنس بھی ہے، جسے وہ سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں۔ اس کیلئے انہوں نے باقاعدہ منصوبہ بندی کر رہی ہے سب واضح نظر آرہا ہے کہ 4 اکتوبر کو انہوں نے ڈی چوک میں احتجاج کی کال دی ہے ظاہر ہے کہ جب ملائیشین وزیراعظم پاکستان میں موجود ہے تو وفاقی حکومت میں ویسے ہی سکیورٹی ہائی الرٹ ہو گی اور انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں اس شرپسند جماعت کے سیاسی جتھوں کو روکیں گے جس سے یہ بے قابو ہو جائیں گے اور ٹکراؤ ہونا نوشتہ دیوار ہے۔

    شنگھائی تعاون تنظیم ایک بڑا بین الاقوامی فورم ہے جس میں پاکستان سمیت دوست ملک چین، روس، بھارت، بیلوروس، ایران، قازقستان، کرغزستان، تاجکستان اور ازبکستان جیسے ممالک شامل ہیں اور اس کی فورم کی اس خطے میں اپنی ایک اہمیت ہے۔

    اسرائیل تنازع بڑھانے والے اقدامات سے باز رہے،چین

    ایک ایسی کانفرنس جس کی بین الاقوامی سطح پر اپنی اہمیت ہے اس کے انعقاد پر پاکستان یہ تاثر دینے کی کوشش کررہا ہے کہ یہ ملک بڑے ممالک کے سربرہان کی میزبانی کیلئے تیار ہے اس موقع پر شرپسند جماعت پی ٹی آئی کی جانب سے احتجاج کی کال دینا، ڈنڈے، اسلحہ اور خیبرپختونخوا کے سرکاری وسائل کے ساتھ ساتھ شرپسند عناصر کو لیکر دھرنا دینے کی دھمکی یہ ثابت کرنے کیلئے کافی ہے کہ یہ جماعت ملک دشمن ایجنڈے پرچل رہی ہے اور اس کا مقصد صرف اور صرف پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر بدنام کرکے اپنے مذموم مقاصد کا حصول ہے۔

  • شنگھائی تعاون تنظیم  اجلاس:بھارت کی جانب سے  آن لائن شرکت کا عندیہ

    شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس:بھارت کی جانب سے آن لائن شرکت کا عندیہ

    اسلام آباد: پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے تجارت کے اجلاس میں بھارت اپنا وفد اسلام آباد نہیں بھیجے گا۔

    باغی ٹی وی: ذرائع کے مطابق ایس سی او وزرائے خارجہ کا اجلاس 12 ستمبر کو اسلام آباد میں ہوگا بھارت کی جانب سے میٹنگ میں آن لائن شرکت کا عندیہ دیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ ایس سی او وزرائے تجارت کے اجلاس میں پاکستان کی طرف سے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو شرکت کی دعوت دی گئی تھی ،وزارتِ خارجہ نے بتایا کہ بھارتی وزیرِ اعظم سمیت تمام رکن ممالک کو اجلاس میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے ، وزارتِ خارجہ تمام ملکوں کے سربراہوں کی اجلاس میں شرکت کی تصدیق کی منتظر ہے آخری بار 2015 میں بھارت کی وزیر خارجہ سشما سوراج نے شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں شرکت کے لیے پاکستان کا دورہ کیا تھا-

    یو اے ای شہزادی نے” طلاق” کے نام سے پرفیوم متعارف کروا دیا

    میتھین گیس خارج کرنے والے قدرتی کنوؤں کو سیل کرنے کا منصوبہ

    سینکڑوں نوری سال دور بےترتیب مدار والے سیارے کی نشاندہی

  • مودی کی دعوت،شنگھائی تعاون تنظیم کا اجلاس،وزیر اعظم ہونگے شریک

    مودی کی دعوت،شنگھائی تعاون تنظیم کا اجلاس،وزیر اعظم ہونگے شریک

    وزیر اعظم محمد شہباز شریف 4 جولائی کو ویڈیو کانفرنس فارمیٹ میں منعقد ہونے والے ایس سی او سربراہان کے 23 ویں اجلاس میں شرکت کریں گے

    وزیر اعظم کو اجلاس میں شرکت کی دعوت بھارتی وزیر اعظم نے ایس سی او کے موجودہ سربراہ کی حیثیت سے دی تھی ،شنگھائی تعاون تنظیم کے اعلیٰ ترین فورم میں رہنما اہم عالمی اور علاقائی مسائل پربات کریں گے ،اجلاس ایس سی او کے رکن ممالک کے درمیان تعاون کی مستقبل کی سمت کا خاکہ تیار کیا جائے گا ،اسی سی او سربراہان اس ساک تنظیم کے نئے رکن کے طور پر ایران کا خیر مقدم کریں گے وزیر اعظم کی شرکت خوشحالی، علاقائی سلامتی اور روابط کے لئے  اہمیت کا اظہار ہے

    ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس میں شرکت کریں گے ، شنگھائی تعاون تنظیم کا سربراہ اجلاس ویڈیو کانفرنس کے ذریعے 4 جولائی کو منعقد ہو رہا ہے ، بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے تنظیم کے سربراہ کی حیثیت سے وزیراعظم شہباز شریف کو اجلاس میں شرکت کی دعوت دی تھی ،

    دوسری جانب چین کی وزارت خارجہ کی یومیہ پریس کانفرنس میں سوال کیا گیا کہ چین نے اعلان کیا ہے کہ صدر شی جن پھنگ شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس میں شرکت کریں گے۔ چین شنگھائی تعاون تنظیم کی ترقی کو کس نظر سے دیکھتا ہے اور اس سربراہ اجلاس سے چین کی توقعات کیا ہیں؟ اس سوال کے جواب میں چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ کا کہنا تھا کہ اپنے قیام سے لے کر اب تک شنگھائی تعاون تنظیم نے ہمیشہ شنگھائی سپرٹ کی پیروی کی ہے، رکن ممالک کے درمیان اچھے دوستانہ تعلقات، ہمسائیگی اور سیاسی باہمی اعتماد کو مستحکم کرنا جاری رکھا ہے اور بین الاقوامی اور علاقائی امور میں اہم اور تعمیری کردار ادا کرتے ہوئے مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دیا ہےآج کی افراتفری کی شکار دنیا کے تناظر میں عدم استحکام اور غیر یقینی صورتحال کے عوامل میں نمایاں اضافہ ہوا ہے بین الاقوامی برادری اور علاقائی ممالک توقع کرتے ہیں کہ شنگھائی تعاون تنظیم علاقائی سلامتی کے تحفظ اور مشترکہ ترقی کو فروغ دینے میں زیادہ سے زیادہ کردار ادا کرے گی

    شنگھائی تعاون تنظیم کے بعد سارک دنیا کی سب سے بڑی علاقائی تنظیم سمجھی جاتی ہے

     

     

    بلاول کا دورہ، بھارتی حکومت کے رویہ میں حیران کن تبدیلی

    بلاول کے بھارت جانے میں کوئی حرج نہیں

     شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں شرکت کیلئے گوا آمد 

    شنگھائی تعاون تنظیم خطے میں روابط کے پاکستانی خواب کو پورا کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا. حنا ربانی کھر

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے، ویڈیو وائرل

  • ایس سی او کا سالانہ اجلاس،بھارت کی پاکستان کو بھی دعوت

    ایس سی او کا سالانہ اجلاس،بھارت کی پاکستان کو بھی دعوت

    بھارت میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کا سالانہ سربراہی اجلاس 4 جولائی کو ہوگا۔

    باغی ٹی وی: بھارتی وزارت خارجہ کےمطابق ایس سی او کا سالانہ سربراہی اجلاس ورچوئل فارمیٹ میں ہوگا جس میں چین، پاکستان سمیت تمام رکن ممالک کو مدعو کیا گیا ہے ایران، بیلاروس اور منگولیا کو مبصر جبکہ ترکمانستان کو بطورمہمان مدعو کیا گیا ہے اقوام متحدہ اور آسیان سربراہان کو بھی اجلاس میں مدعو کیا گیا ہے۔

    پولیس نے ڈکیتی کی واردات ناکام بناتے ہوئے شہری کو لٹنے سے بچا لیا

    واضح رہے کہ رواں ماہ بھارت میں ہونے والے ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس میں وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری نےشرکت کی تھی۔

    دوسری جانب ہندوستان نے کہا ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم کا سربراہی اجلاس 4 جولائی کو آن لائن منعقد ہو گا اور غیرملکی شخصیات کو ذاتی حیثیت میں مدعو نہیں کیا جائے گا۔

    دوسری جانب بھارتی میڈیا کے مطابق وزارت خارجہ نے منگل کواعلان کیا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کا 22 واں سربراہی اجلاس ’ورچول فارمیٹ‘ میں منعقد ہوگاجس کی سربراہی وزیر اعظم نریندر مودی کریں گے۔ تاہم وزارت نے اس فیصلے کی کوئی وجہ نہیں بتائی ہے-

    وزیراعلی سندھ کے فضائی اخراجات پر 10 کروڑ سے زائد روپے خرچ ہوئے

    چین اور روس کی قیادت نے دہلی میں ستمبرمیں ہونےوالے جی20 اجلاس میں شرکت کرنی ہےاگرممبرممالک کے سربراہان کو ذاتی حیثیت میں مدعو کیا جاتا تو روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن کا یوکرین پر حملے کے بعد ہندوستان کا پہلا دورہ ہوتا۔ اسی طرح پاکستان اور چین کی قیادت کی وزیر اعظم کے ساتھ ملاقات کا بھی امکان تھا جن کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات سرد مہری کا شکار ہیں۔

    اس اجلاس کا عنوان ’ٹوورڈز اے سکیور ایس سی او‘ ہے جس کا مطلب سکیورٹی، معیشت و تجارت، رابطہ کاری، خود مختاری کا احترام اور ماحولیات ہے وزارت خارجہ کے مطابق ’انڈیا تنظیم میں مثبت اور تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

    اپنی محبوبہ کو چاقو اور پتھر مار کر قتل کرنیوالا جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے …

  • بلاول بھٹوآئندہ ماہ  بھارت جائیں گے

    بلاول بھٹوآئندہ ماہ بھارت جائیں گے

    اسلام آباد: وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری آئندہ ماہ شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں شرکت کے لیے بھارت جائیں گے،وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری 2016 کے بعد بھارت کا دورہ کرنے والے پہلے پاکستانی وزیرخارجہ ہوں گے۔

    ایک ہی دن انتخابات پر مشاورت کیلئےحکمراں جماعتوں کاعید کے بعد سربراہی اجلاس بلانے کا …

    باغی ٹی وی: ترجمان دفتر خارجہ نے ہفتہ وار بریفنگ میں بتایا کہ 4 اور 5 مئی کو بلاول بھٹو زرداری گوا میں ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں پاکستانی وفد کی قیادت کریں گے دورہ بھارت کے لیے ہماری تیاری جاری ہے، دورہ بھارت پر میڈیا کی شرکت کے لیے بھی رہنمائی کریں گے-

    پاکستانی قوم خبردار،مفتی نے چاند دیکھے بنا دن دہاڑے قبل از وقت عید کا اعلان …

    ترجمان نے بتایا کہ ممبر ڈیزاسٹر اتھارٹی آج شنگھائی تعاون تنظیم کےاجلاس میں ورچوئل شرکت کررہے ہیں، وفاقی وزیرماحولیاتی تبدیلی شیری رحمان نے شنگھائی تعاون تنظیم کے دہلی میں ہونے والے اجلاس میں ورچوئل شرکت کی، ان کے ساتھ ڈی جی نیشنل ڈیزاسٹر اتھارٹی نے بھی ورچوئل شرکت کی۔

    ایک ساتھ انتخابات کرانے کی درخواست،سیاسی رہنما پہنچے سپریم کورٹ

    دوسری جانب بھارت میں رواں ماہ کے آخر میں ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے دفاع کے اجلاس میں وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھارت نہ جانےکا فیصلہ کیا ہے خواجہ آصف شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں ورچوئل شرکت کریں گے، خواجہ آصف کو وزرائے خارجہ اجلاس میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔

    اسرائیلی وزیراعظم کی سعودی عرب اور ایران کے درمیان معاہدے پر تنقید