Baaghi TV

Tag: شوبز

  • 24 بچوں کے باپ اور 4 بیویوں کے شوہر کی شاہ رخ خان کو دھمکی

    24 بچوں کے باپ اور 4 بیویوں کے شوہر کی شاہ رخ خان کو دھمکی

    ممبئی: بالی ووڈ سپر اسٹار شاہ رخ خان نے اپنی آئندہ ریلیز ہونے والی فلم ڈنکی کو صاف ستھری انٹرٹینمنٹ قرار دے دیا تاہم 24 بچوں کے ایک باپ نے شاہ رخ خان کو بڑے نقصان کی دھمکی دے دی ہے۔

    باغی ٹی وی : شاہ رخ خان اکثر ہی اپنے مداحوں کیلئے سول و جواب کا سیشن رکھتے ہیں، جس میں وہ مداحوں کے سوالات کا جواب دیتے ہیں،انہوں نے فلم ”ڈنکی“ کے حوالے سے بھی ایک ایسا ہی سیشن رکھا جس میں اداکار نے مداحوں کے سوالات کے جواب دیئے-

    دوران سیشن ایک مداح نے شاہ رخ خان کو دھمکی دے ڈالی، مداح نے شاہ رخ خان کو کہا کہ مجھ سے محبت کریں ورنہ میں اپنی چار بیویوں، چوبیس بچوں اور پچاس پڑوسیوں کو ڈنکی دیکھنے کی اجازت نہیں دوں گا، ساتھ ہی پوچھا کہ کیا اتنا بڑا نقصان برداشت کر پاؤ گے؟

    نورجہان کی 23ویں برسی پرنگران حکومت کا منفرد خراج عقیدت پیش کرنے کا فیصلہ

    https://x.com/iamsrk/status/1730839732886855869?s=20
    شارخ خان بھی مداح کی دھمکی کا جواب دیئے بغیر نہیں رہ سکے اداکار نے اس مزاحیہ دھمکی کا جواب مزاح میں ہی دیتے ہوئے لکھا، کہ بھائی تُو ویسے ہی اتنا مصروف رہتا ہوگا، کہاں ملے گا وقت کچھ بھی اور کرنے کابرائے مہربانی اپنے بیوی بچوں کے ساتھ وقت گزارو، بچوں کے ساتھ اچھے سے پیش آؤ اور اپنی بیویوں کو فلم ڈنکی دکھانے لے کر جانا۔

    ثناء جاوید اور عمیر جیسوال کے درمیان علیحدگی ہو گئی؟

    دوسری جانب شاہ رخ خان نے اپنے ایک چھوٹے سے پرستار کی ویڈیو ری پوسٹ کی ہے جو لٹ پٹ گیا پر ڈانس کر رہا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا یہ بہت پیارا ہے ، برائے مہربانی جب آپ فلم دیکھنے جائیں تو اسے بھی لے جائیے گا، ڈنکی صاف ستھری انٹر ٹینمنٹ اور ایموشنز پر مبنی ہے، جسے بزرگ اور نوجوان یکساں طور پر انجوائے اور بہت پسند کریں گے۔ (بہت سارا پیار)۔
    https://x.com/whoavesh/status/1730222080824644002?s=20

    بھارتی پنجابی اداکار وگلوکار گپی گریوال کے گھر فائرنگ

    واضح رہے کہ یہ فلم 22 دسمبر کو ریلیز ہورہی ہے دوسری طرف شاہ رخ خان کی بیٹی سوہانا خان کی فلم ’دی آرچیز‘ 7 دسمبر کو نیٹ فلیکس پر اسٹریم ہوگی فلم پٹھان اور جوان کے بعد شاہ رخ خان کی اس برس ریلیز ہونے والی یہ تیسری فلم ہے۔

  • نورجہان کی 23ویں برسی پرنگران حکومت کا منفرد خراج عقیدت پیش کرنے کا فیصلہ

    نورجہان کی 23ویں برسی پرنگران حکومت کا منفرد خراج عقیدت پیش کرنے کا فیصلہ

    لاہور:گلوکارہ ملکہ ترنم نورجہاں کو ہم سے بچھڑے تقریباً 23 برس بیت گئے ، نگراں حکومت کی جانب سے نورجہاں کی برسی سے قبل انہیں خراج عقیدت پیش کا جائے گا-

    باغی ٹی وی : نگراں حکومت کی جانب سے نورجہاں کی برسی سے قبل انہیں خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے سرکاری ٹی وی پریکم سے 23 دسمبر تک ہر روز اُن کے مقبول گیت نشر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے نگراں وزیر اطلاعات و نشریات مرتضیٰ سولنگی کے مطابق قومی ٹیلی ویژن یکم دسمبر سے میڈم نورجہاں کی 23 ویں برسی کے موقع پر انہیں خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے ان کی دھنیں نشر کرے گا،جمعہ یکم دسمبر سے 23 دسمبر تک ہرروز رات 11 بجے ملکہ ترنم نورجہاں کا ایک گانا نشر کیا جائے گا-

    ثناء جاوید اور عمیر جیسوال کے درمیان علیحدگی ہو گئی؟

    ملکہ ترنم نورجہاں پلے بیک گلوکارہ اوراداکارہ تھیں جنہوں نے پہلے برٹش انڈیا اور پھر پاکستانی سنیما میں کام کیا۔ ان کا کیریئر چھ دہائیوں محیط تھا میڈم نور جہاں کو 23 دسمبر کو ہم سے بچھڑے 23 برس مکمل ہو جائیں گے 2000 میں کراچی میں 74 برس کی عمر میں ان کا انتقال دل کا دورہ پڑنے سے ہوا تھاآج بھی ان کے گائے ہوئے گیت عوام میں بے پناہ مقبول ہیں، انہیں شاندار پرفارمنس کے باعث صدارتی ایوارڈ برائے حسنِ کارکردگی اور تمغۂ امتیاز سے بھی نوازا گیا تھا،انہوں نے اردو، پنجابی اور سندھی سمیت مختلف زبانوں میں تقریبا 30،000 گانے ریکارڈ کروائے۔

    بھارتی پنجابی اداکار وگلوکار گپی گریوال کے گھر فائرنگ

  • ثناء جاوید اور عمیر جیسوال کے درمیان علیحدگی ہو گئی؟

    ثناء جاوید اور عمیر جیسوال کے درمیان علیحدگی ہو گئی؟

    لاہور: پاکستان کی معروف اداکارہ ثناء جاوید اور اُن کے شوہر گلوکار عمیر جسوال کے درمیان علیحدگی کی افواہیں گردش کرنے لگیں۔

    باغی ٹی وی : ثناء جاوید اور عمیر جسوال کی علیحدگی کی خبروں نے اُس وقت زور پکڑا جب سوشل میڈیا پر یہ خبر سامنے آئی کہ اس جوڑی نے اپنے انسٹاگرام اکاوْنٹس سے وہ تمام تصاویر اور ویڈیوز کو ڈیلیٹ کردیا ہے جن میں یہ دونوں میاں بیوی ساتھ تھے،فوٹو اور ویڈیو شیئرنگ ایپلیکیشن انسٹاگرام پر شوبز سے متعلق خبریں بتانے والے کئی پیجز نے دونوں کے درمیان طلاق کی افواہوں کا تذکرہ کیا ہے۔

    اس کے ساتھ ہی سوشل میڈیا صارفین نے اس بات پر بھی غور کیا کہ اب اس جوڑے نے ایک دوسرے کے ساتھ نئی تصاویر بھی اپ لوڈ کرنا بند کر دی ہیں،ان تصویروں میں شادی کی تصاویر بھی شامل ہیں، اس سے قبل جوڑے نے کئی تصویریں شیئر کررکھی تھیں جو کہ اب ان کے اکاؤنٹ پر موجود نہیں جبکہ اداکارہ اور گلوکار دونوں نے ہی انسٹاگرام پر ایک دوسرے کو فالو کیا ہوا ہے جس کا اندازہ اس اسکرین شاٹ سے لگایا جاسکتا ہے۔

    بھارتی پنجابی اداکار وگلوکار گپی گریوال کے گھر فائرنگ

    دوسری جانب عمیر جسوال نے حال ہی میں سعودی عرب کے شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والے اپنے دوست کی شادی میں بھی تنہا شرکت کی تھی جس کی تصاویر اُنہوں نے اپنے انسٹاگرام اکاوْنٹ پر پوسٹ کی تھیں،عمیر جسوال نے دوست کی شادی کے بعد عُمر بھی ادا کیا تھا، عمرے کی ادائیگی کے دوران بھی اُن کے ساتھ اہلیہ ثناء جاوید نہیں تھیں۔

    سوشل میڈیا پر ناقدین اور مداح دونوں ہی اداکار جوڑے کی ازدواجی زندگی اور تعلق کے حوالے سے تبصرے کررہے ہیں البتہ ثناء جاوید اور عمیر جسوال کی جانب سے تاحال ان افواہوں کو سچ یا جھوٹ قرار نہیں دیا گیا۔

    پاکستانی ثقافت کے رنگ ریاض سیزن میں گلوکار اور فنکارپرفام کرینگے

    واضح رہے کہ اداکارہ ثناء جاوید اور گلوکار عمیر جسوال کی شادی کووڈ کے دوران اکتوبر 2020 میں ایک پرائیویٹ تقریب میں ہوئی تھی جس میں چند دوست احباب اور رشتہ داروں نے شرکت کی تھی، ثناء جاوید اور عمیر جسوال نے اپنی انسٹاگرام پوسٹ کے ذریعے اپنی شادی کا اعلان کیا تھا، پوسٹ کے کیپشن میں دونوں نے الحمد اللہ بھی لکھا تھا۔

  • راحت فتح علی خان اور ان کے پروموٹر نے امریکی عدالت میں 22 لاکھ ڈالر کا کیس جیت لیا

    راحت فتح علی خان اور ان کے پروموٹر نے امریکی عدالت میں 22 لاکھ ڈالر کا کیس جیت لیا

    کیلی فورنیا : پاکستانی گلوکار راحت فتح علی خان اور ان کے پروموٹر نے کیلیفورنیا کی عدالت سے 22 لاکھ ڈالر کا کیس جیت لیا۔

    باغی ٹی وی: میڈیا رپورٹس کے مطابق کیلی فورنیا کے مقامی پروموٹر نے راحت فتح علی خان اور ان کے پروموٹر پر بھتہ وصول کرنے، مالی دباؤ ڈالنے اور ہتک عزت کے الزمات عائد کیے تھے بالی ووڈ ایونٹس کے بکرم جیت سنگھ نے کارل کالرا جیون ساتھی کے ساتھ مل کر راحت اور پروموٹر سلمان احمد سے معاہدہ کیا تھا راحت فتح علی خان کا شو 5 اکتوبر 2019 کو کیلی فورنیا میں ہونا تھا۔

    عدالتی دستاویز کے مطابق بکرم جیت سنگھ نے شو سے قبل راحت اور سلمان احمد پر 30 ہزار ڈالر بھتہ مانگنے اور دیگر الزامات لگائے تھے ابتدائی طور پر وکلا پر 50 ہزار ڈالر خرچ کرنے کے باوجود سلمان احمد نے کیلی فورنیا سپریم کورٹ میں اپنی نمائندگی خود کی جبکہ راحت فتح علی خان عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔

    آئندہ عام انتخابات میں بیلپٹ پیپر پر بلے کا نشان بھی ہوگا،چیف الیکشن کمشنر

    ذرائع کے مطابق بکرم جیت سنگھ اور کارل کالرا کا راحت کے کنسرٹ کیلئے سلمان احمد سے ڈھائی لاکھ ڈالر کا معاہدہ ہوا تھا بکرم جیت سنگھ نے عدالت میں تسلیم کیا کہ انہوں نے کنسرٹ سے پہلے ڈیڑھ لاکھ ڈالر ادا کیےعدالت کو بتایا گیا کہ سلمان احمد نے شو، کارل کالرا کو فروخت کیا تھا لیکن انہوں نے شو مسٹر سنگھ کو فروخت کردیا۔

    ذرائع کے مطابق بکرم جیت سنگھ نے عدالت میں دعویٰ کیا کہ سلمان احمد نے شو کی قیمت کم کرکے ڈیڑھ لاکھ ڈالر کر دی تھی، سلمان احمد کی طرف سے شو کی قیمت کم کرنے کے سبب وہ مقررہ رقم ہی ادا کرنے کے پابند تھے۔

    شو کی شام معاہدے کے مطابق سنگھ اور ساتھی پر ایک لاکھ ڈالر کے بقایاجات تھے تاہم کارل کالرا کی جانب سے ایک لاکھ کی بقیہ رقم میں سے 30 ہزار ڈالر کی ادائیگی پر شو دو گھنٹے تاخیر سے شروع ہوا،سلمان احمد نے شائقین کو شو میں تاخیر کی وجہ فنکار کو پوری قیمت ادا نہ کرنے کی وجہ بھی بتائی تھی۔

    آئی ایم ایف کے جائزہ مشن چیف کا پاکستان کے پہلے کوارٹر میں اقدامات پر …

    بکرم جیت سنگھ نے عدالت کو بتایا کہ وہ سلمان احمد کی طرف سے رعایت پر راضی ہونے کے سبب 30 ہزار یا ایک لاکھ ڈالر دینے کے پابند نہیں رہے، شو سے قبل 30 ہزار ڈالر بھتہ کی شکل میں لے کر میری ساکھ کو نقصان پہنچایا گیا تاہم سلمان احمد نے عدالت میں الزامات کی تردید کرتے ہوئے بتایا کہ وہ سنگھ اور ساتھی کے درمیان معاہدے میں ترمیم نہیں کرسکتے تھے۔

    جج نے بکرم جیت سنگھ کی جانب سے عدالت میں پیش نصف درجن گواہوں کو بھی رد کردیا جبکہ راحت اور سلمان احمد نے صرف حقائق پر بھروسہ کرتے ہوئے عدالت میں کوئی گواہ پیش نہیں کیا، جج نے سلمان احمد کی طرف سے معاملات میں ایمان داری سے کام لینے پر ان کے حق میں فیصلہ سنایا۔

    عدالتی فیصلے کے بعد سلمان احمد کاکہناتھاکہ یہ کیس راحت فتح علی خان کے خلاف سازش تھی، سازش کا مقصد راحت فتح علی خان کی ساکھ اور انھیں 2.2 ملین ڈالر سے زائد کا نقصان پہنچانا تھا

    کراچی کے ماحولیاتی نمونے میں پولیو وائرس کی تصدیق

  • فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کیلئے 25  فنکاروں نے مل کر نیا ترانہ جاری کردیا

    فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کیلئے 25 فنکاروں نے مل کر نیا ترانہ جاری کردیا

    غزہ میں جاری اسرائیلی مظالم کے خلاف مظلوم فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کیلئے 25 عرب فنکاروں نے مل کر نیا ترانہ جاری کردیا۔

    باغی ٹی وی : مغربی ایشیا اور شمالی افریقا نے 25 باصلاحیت فنکاروں نے ’راجعین‘ کی طرف سے ایک دل کو چھولینے والا ترانہ پیش کیا جس میں غزہ میں جاری مظالم کو بھی اجاگر کیا گیا ہےراجعین ترانے کے اندر فلسطینیوں کی اسرائیلی مظالم کے خلاف تاریخی مزاحمت کو خراج تحسین پیش کیا گیا اور ان کی قربانیوں کو بیان کیا ہے۔

    نیتن یاہو کو 7 برس قبل خفیہ دستاویز میں حماس کے ممکنہ حملے سے خبردار …

    اس ترانے سے حاصل ہونے والی تمام آمدنی فلسطین کے چلڈرن ریلیف فنڈ کیلئے جائے گی اور ترانے کا مقصد عالمی برادری کو غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت کی طرف متوجہ کرنا ہےسوشل میڈیا پر عرب فنکاروں کی اس منفرد کاوش کو سراہا جا رہا ہے اور دیگر آرٹسٹوں سے بھی یہ توقع کی جارہی ہے کہ وہ فلسطینیوں کیلئے آواز بلند کریں گے۔

    اے آئی ٹیکنالوجی انسانیت کی بقا کو لاحق بڑے خطرات میں سے ایک ہے،ایلون مسک

  • اداکارہ، ماڈل  و گلوکارہ عائشہ عمر کا تعارف

    اداکارہ، ماڈل و گلوکارہ عائشہ عمر کا تعارف

    معروف پاکستانی اداکارہ ، گلوکارہ اور ماڈل عائشہ عمر 12 اکتوبر 1981 میں لاہور میں پیدا ہوئیں انہوں نے ابتدائی تعلیم لاہور گرائمر اسکول اور اس کے بعد نیشنل کالج آف آرٹس بیکن ہاؤس سے تعلیم حاصل کی ۔ 1999 میں انہوں نے اداکاری اور گلوکاری و ماڈلنگ کا آغاز کیا بطور اداکارہ، ماڈل، گلوکارہ وہ بلبلے میں خوبصورت، لیڈیز پارک میں نتاشا، زندگی گلزار ہے میں سارہ، تنائی میں آرزو اور دل اپنا اور پریت پرائی میں علینا کے کردار میں مشہور ہوئیں ۔

    انہوں نے بھرپور محنت کی بدولت خود کو پاکستان کی مقبول ترین اداکاراؤں میں سے ایک کے طور پر منوایا ہے۔ وہ پاکستانی ٹیلی ویژن کی سب سے زیادہ معاوضہ لینے والی اداکاراؤں کی صف میں شامل ہو چکی ہیں اور وہ پاکستان میں اسٹائل آئیکون کے طور پر سمجھی جاتی ہیں۔ 2019 میں، وارثی انٹرنیشنل آرگنائزیشن کی طرف سے انہیں تمغہ فخر پاکستان (پرائیڈ آف پاکستان) سے نوازا گیا۔ 2012 میں، اس نے اپنا پہلا سنگل "چلتے چلتے” اور "خاموشی” ریلیز کیا، جو کہ تجارتی طور پر کامیاب رہا۔ پاکستان کو ناقدین کی جانب سے ملے جلے ردعمل کا سامنا کرنا پڑا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آپ نے گھبرانا نہیں، جیل سے عمران خان کا پیغام
    بریکنگ؛ اسلام آباد؛ ریڈ زون میں وزارت خارجہ بلڈنگ میں آتشزدگی
    ورلڈکپ ؛ انڈیا چھوڑنے والی زینب نے وجہ بتادی
    دل کے مرض کی ایک نئی قسم دریافت
    آپ نے گھبرانا نہیں، جیل سے عمران خان کا پیغام
    بھارت کا اسرائیل میں مقیم بھارتیوں کو واپس لانے کے لئے آپریشن اجئے کا اعلان
    عائشہ عمر نے بہترین البم کا لکس اسٹائل ایوارڈ جیتا۔ انہوں نے 2015 میں کامیاب رومانٹک کامیڈی کراچی سے لاہور کے ساتھ مرکزی کردار میں اپنے فلمی کیریئر کا آغاز کیا، اس کے بعد جنگی فلم یلغار (2017) اور ڈرامہ کاف کنگنا (2019) میں معاون کردار ادا کیا۔ عائشہ عمر نے تاحال شادی نہیں کی ہے تاہم وہ اپنے جیون ساتھی کی تلاش میں ہیں ان کا کہنا ہے کہ وہ شادی کے بعد کم از کم 4سال تک کوئی پرفارمنس نہیں کریں گی ۔

  • سدھوموسے والا قتل کیس: ملزم گولڈی برار کے قریبی ساتھیوں کی گرفتاری کیلئےچھاپے

    سدھوموسے والا قتل کیس: ملزم گولڈی برار کے قریبی ساتھیوں کی گرفتاری کیلئےچھاپے

    بھارتی پنجاب کی پولیس نے گلوکار سدھو موسے والا قتل کیس کے ملزم گولڈی برار کے قریبی ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے-

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق عہدیداروں نے بتایا کہ جمعرات 21 ستمبر کو ریاست کے کئی اضلاع میں چھاپے مارے صبح 7 بجے شروع کیے جانے والے یہ چھاپے دوپہر 2 بجے تک جاری رہیں گےحکام کے مطابق انہیں اعلیٰ حکام کی جانب سے مشتبہ افراد کو حراست میں لینے کی ہدایات موصول ہوئی ہیں آپریشن کی رپورٹ آج شام 5 بجے تک ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی) کو پیش کی جائے گی۔

    واضح رہے کہ گینگسٹر گولڈی برار نے بھارت میں حکام کو گمراہ کرنے کے بعد کینیڈا اور امریکہ میں پناہ لی جبکہ اس کے ساتھی بھارت میں ہی موجود ہیں نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) نے گولڈی برارکے خلاف غیر قانونی سرگرمی (روک تھام) ایکٹ (یو اے پی اے) کے تحت معاملہ درج کیا تھا ملزم کے خلاف پنجاب میں کئی دیگر مقدمات بھی زیرالتوا ہیں۔

    اقوام متحدہ کو اپنے قیام کے مقاصد کی عکاسی بہتر انداز میں کرنا چاہیے،ترک صدر

    تفتیشی ایجنسی نے بدھ کے روز تصاویر کے ساتھ 54 لوگوں کی دو فہرستیں جاری کیں جو گزشتہ سال درج کیے جانے والے دو مقدمات کی جانچ میں مطلوب ہیں ان میں گولڈی برار، لارنس بشنوئی، انمول بشنوئی اور ارشدیپ سنگھ گل سمیت کئی مطلوب گینگسٹر شامل ہیں فہرستوں میں سے ایک میں 11 اور دوسرے میں 43 افراد کے نام شامل ہیں، جسے این آئی اے نے ایکس پر اپنے آفیشل اکاؤنٹ پر شیئر کیا۔

    دنیا کے5 ممالک کا نجرقتل کیس میں کینیڈا کیجانب سے بھارت کیخلاف تحقیقات کامطالبہ

  • قصورکےایک غریب گھر میں پیدا ہونے والی ‘اللہ وسائی’ فن گائیکی کی بے تاج ملکہ  بنی

    قصورکےایک غریب گھر میں پیدا ہونے والی ‘اللہ وسائی’ فن گائیکی کی بے تاج ملکہ بنی

    گائے گی دنیا گیت میرے

    ملکہ ترنم نورجہاں

    شوبز کی تاریخ کی شاید واحد ہستی تھی کہ جو اپنے بچپن سےلےکر بڑھاپے تک سپرسٹار رہی 21 ستمبر 1926ء کو قصور کے ایک غریب گھر میں پیدا ہونے والی ‘اللہ وسائی’ ، صرف پانچ سال کی عمرمیں اپنے خاندان کے لئے دھن دولت کی دیوی بن گئی تھی نو سال کی عمر میں اپنی گائیکی سے لاہور سٹیج پر داد سمیٹ رہی تھی کولکتہ میں بننے والی اپنی پہلی پنجابی فلم شیلا عرف پنڈدی کڑی (1935) میں اداکاری کرتی اور گیت گاتی ہوئی نظر آئی۔

    اس کا فلمی نام ‘بے بی نورجہاں’ ، فلم پوسٹروں اور اشتہارات پر بڑے نمایاں انداز میں شائع ہوتا تھا سولہ سال کی عمر میں لاہور ساختہ اردو ہندی فلم خاندان (1942) میں ہیروئن بنی جس میں اس کے گیتوں نے پورے برصغیر میں دھوم مچا دی تھی چالیس کے عشرہ میں ممبئی کی فلموں میں صف اول کی اداکارہ اور گلوکارہ تھی پچاس کے عشرہ میں پاکستان کی عظیم گلوکارہ اور اداکارہ کے طور اپنے فن کی بلندیوں پرنظر آئی۔

    ساٹھ کے عشرہ سے پس پردہ گلوکاری شروع کی اور نوے کے عشرہ میں اپنی بیماری تک ، فن گائیکی کی بے تاج ملکہ تھی۔ سات عشروں تک بام عروج پر رہنے والی اس حسین و جمیل ہستی پر قدرت کے انعام و اکرام کی برسات دیکھئے کہ دولت و شہرت کی فراوانی رہی اور وہ زندگی بھر کبھی کسی کی محتاج نہیں ہوئی۔ 23 دسمبر 2000ء کو جب سفر آخرت پر روانہ ہوئی تو وہ رمضان المبارک کا مقدس مہینہ اور شب القدر کی متبرک رات تھی۔۔!

    نور جہاں کا فنی کیریئر چار ادوار میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ پہلا دور تقسیم سے قبل کے گیت ہیں۔ دوسرا دور بطور اداکارہ اور گلوکارہ فلموں کا دور تھا۔ تیسرا دور ساٹھ اور ستر کے عشروں کے شاہکار گیت ہیں۔ چوتھا اور آخری دور ایکشن فلموں کا تھا جن میں اگر میڈم نورجہاں کے گیت نہیں ہوتے تھے تو ڈسٹری بیوٹرز فلم ہی نہیں اٹھاتے تھے۔ ، وہ فلم پھنے خان (1965) کے گیت "جیو ڈھولا۔۔” سے لے کر فلم ماں دا لال (1974) کے گیت "میں پل پل تینوں پیار کراں۔۔” تک کا دور ہے

    ملکہ ترنم نورجہاں کے اب تک ایک ہزار سے زائد فلموں میں دوہزار سے زائد گیتوں کا ریکارڈ دستیاب ہے لیکن ایک اندازے کے مطابق انہوں نے کم از کم ساڑھے تین سے چار ہزار کے قریب فلمی گیت گائے تھے۔ میڈم کے گائے ہوئے فلمی دوگانوں کی سب سے بڑی تعداد مسعودرانا کے ساتھ تھی۔ اعدادوشمار سے کھیلتے ہوئے بڑی سخت حیرت ہوئی کہ ان دونوں عظیم گلوکاروں کی مشترکہ فلموں کی تعداد ساڑھے تین سو سے زائد تھی جو گلوکاروں کی کسی بھی جوڑی کے لئے ایک منفرد ریکارڈ ہے۔

    دوسرے نمبر پر اس فہرست میں سب سے زیادہ مشترکہ فلموں کا ریکارڈ مالا اور احمدرشدی کا ہے جن کی تعداد سوا دو سو ہےلیکن ان کے دوگانوں کی تعداد سو سے بھی زائد ہے جبکہ میڈم نورجہاں اور مسعودرانا کے دوگانوں کی تعداد صرف 57 ہے اس کی ایک بڑی وجہ اردو اور پنجابی فلموں کا ایک بنیادی فرق ہے ۔

    مسعودرانا اور ملکہ ترنم نورجہاں کی پہلی مشترکہ فلم بنجارن (1962) تھی لیکن پہلا دوگانا فلم میرے محبوب (1966) میں گایا گیا تھا ” کلی مسکرائی جو گھونگھٹ اٹھا کے ، خدا کی قسم تم بہت یاد آئے۔۔” حمایت علی شاعر کے لکھے ہوئے اس گیت کی دھن موسیقار خلیل احمد نے بنائی اور فلم میں یہ گیت درپن اور شمیم آرا پر فلمایا گیا تھا۔

    ان دونوں کا پہلا پنجابی دوگانا اگلے سال کی فلم نیلی بار (1967) میں تھا ” میرے دل دا وجے اک تارا ، سدا وسدا روے تیرا دوارا ، نی میرا دل کھون والئے۔۔” موسیقار کالے خان شبو کی دھن میں یہ گیت یوسف خان اور شیریں پر فلمایا گیا تھا۔ اب تک کی معلومات کے مطابق آخری دوگانا ، فلم نہلا دہلا (1994) میں تھا جو وجاہت عطرے کی دھن میں روبی نیازی اور عمرشریف پر فلمایا گیا تھا ” آجا ، آجا، پیار پیار پیار پیار کرئیے ، پر لا کے بدلاں چہ اڈ چلیے۔۔

    ملکہ ترنم نورجہاں کی فنی صلاحیتوں کی تعریف کرنا سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے۔ ان سے زیادہ موسیقی کی سوجھ بوجھ کم ہی گلوکاروں کو حاصل تھی۔ لیکن یہ بھی ایک حقیت ہے کہ کوئی فن کبھی کسی خاص فنکار تک محدود نہیں رہتا۔ میڈم کے مقابلے میں جن گلوکاروں نے گایا اور نام کمایا ، وہ کوئی معمولی فنکار نہیں تھے۔ مسعودرانا ایسے ہی ایک گلوکار تھے جو فنی اصطلاح میں ایک عطائی تھے لیکن بڑے بڑے کسبیوں پر بھاری تھے۔

    قدرت نے انہیں جو آواز اور انداز دیا تھا ، اس نے انہیں مردانہ گائیکی میں بے مثل بنا دیا تھا، فلمی گلوکار اپنی مرضی سے نہیں گاتے تھے ، فلموں میں ان کی مانگ ، ان کے میعار اور مقبولیت کا منہ بولتا ثبوت ہوتی تھی۔ مسعودرانا کو میڈم نورجہاں کی طرح سب سے زیادہ فلموں میں سب سے زیادہ گیت گانے کا اعزاز حاصل ہے اور ان دونوں کو پنجابی فلموں میں مکمل اجارہ داری حاصل ہوتی تھی۔

    مسعودرانا اور میڈم نورجہاں کے 13 گیت ایسے تھے جنہیں مقابلے کے گیت کہا جاتا ہے۔ یعنی ایک ہی گیت کو دو الگ الگ گلوکار گاتے ہیں ، ریڈیو پر ایسے گیتوں کو ‘ایک گیت دو آوازیں’ کے نام سے پیش کیا جاتا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایسے بیشتر گیتوں میں مسعودرانا کو میڈم نورجہاں پر برتری حاصل ہوتی تھی۔

    اس کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ ایک نسوانی آواز چاہے جتنی بھی پاور فل ہو ، وہ ایک جاندار مردانہ آواز کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ پھر مسعودرانا جیسا کھلے گلے اور اونچی سروں میں گانے والا ایک بے مثل گلوکار ہو تو مقابلہ ناممکن ہوجاتا تھا۔ مسعودرانا ، اپنی اس خداداد خوبی کی وجہ سے دیگر گلوکاروں پر چھا جاتے تھے اور سننے والوں پر بڑا گہرا اثر ہوتا تھا۔ ان گیتوں کو سن کر میرے دل میں مسعودرانا کی قدرومنزلت میں اضافہ ہوا تھا –

    مسعودرانا اور میڈم نورجہاں نے مقابلے کا پہلا گیت فلم باؤجی (1968) میں گایا تھا "دل دیاں لگیاں جانے نہ۔۔” اس شوخ گیت کے موسیقار رشیدعطرے تھے اور بول حزیں قادری نے لکھے تھے۔

    دوسرا گیت فلم دلاں دے سودے (1969) میں نذیرعلی کی دھن میں خواجہ پرویز کے بول تھے "بھل جان اے سب غم دنیا دے۔۔” دھیمی سروں میں گائے ہوئے اس گیت میں بھی مسعودرانا نے ثابت کردیا تھا کہ کیوں انہیں پاکستان کا سب سے بہترین ہر فن مولا فلمی گلوکار کہا جاتا تھا۔ ویڈیو پرنٹ میں یہ گیت نہیں تھا لیکن فلم میں موجود تھا۔

    اسی سال کی فلم شیراں دی جوڑی (1969) میں بابا چشتی کی دھن میں ایک المیہ گیت "تیرے ہتھ کی بے دردے آیا ، پھلاں جیا دل توڑ کے۔۔” میں ایک بار پھر مسعودرانا نے اپنی عظمت کی دھاک بٹھا دی تھی۔ اس دور میں گیتوں کے مکھڑے گانے میں مسعودرانا کا کوئی ثانی نہیں ہوتا تھا۔ وہ پہلے بول سے ہی سننے والے کو اپنے قابو میں کر لیتے تھے۔

    فلم تیرے عشق نچایا (1969) کے اس گیت میں البتہ میڈم نورجہاں کو مسعودرانا پر واضح برتری حاصل تھی "تیرے عشق نچایا کر کے تھیا تھیا۔۔” میڈم کا گایا ہوا یہ سپرہٹ گیت فلم کا تھیم سانگ تھا جو فلم کے آخر میں مسعودرانا کے گائے ہوئے گیت میں مکس کیا گیا تھا اور بڑا گہرا اثر چھوڑتا تھا۔

    مسعودرانا کے یادگار گیتوں میں ایک اور گیت "یا اپنا کسے نوں کر لے ، یا آپ کسے دا ہو بیلیا۔۔” بھی تھا جو فلم دل دیاں لگیاں (1970) میں ماسٹرعنایت حسین کی دھن میں حزیں قادری نے لکھا تھا۔ میڈم نے اس گیت کو سنجیدہ انداز میں گایا تھا جبکہ مسعودرانا کا گیت شوخ انداز میں تھا ۔

    فلم آنسو (1971) میں پہلی بار مسوسیقار نذیرعلی نے خواجہ پرویز کا لکھا ہوا ایک اردو گیت "تیرے بنا یوں گھڑیاں بیتیں ، جیسے صدیاں بیت گئیں۔۔” ان دونوں سے گوایا تھا جو ان کا اکلوتا مقابلے کا اردو گیت تھا۔۔ مسعودرانا اس گیت کو جتنی آسانی اور قدرتی انداز میں گاتے ہیں ، میڈم اس پر پورا زور لگا کر گا رہی ہیں جو سمجھ سے بالاتر ہے۔

    اسی سال کی فلم جٹ دا قول (1971) میں موسیقار بخشی وزیر صاحبان نے یہ گیت تخلیق کیا تھا "جان والئے ، تینوں میں سنائی نئیوں گل دل والی نی۔۔” مسعودرانا نے یہ گیت انتہائی شوخ انداز میں گایا تھا اور آغاز میں بڑی لمبی تان لگائی تھی جو بے مثل تھی لیکن یہ گیت سنجیدہ انداز میں میڈم نورجہاں کی آواز میں زیادہ مقبول ہوا تھا جو ریڈیو پر اکثر بجتا تھا۔

    فلم دامن اور چنگاری (1973) میں موسیقار ایم اشرف نے تسلیم فاضلی کا ایک دوگانا ان دونوں سے ایک شوخ رومانٹک گیت گوایا تھا "یہ وعدہ کرو کہ محبت کریں گے۔۔” اسی گیت کو پھر مسعودرانا کی آواز میں سنجیدہ انداز میں گوایا تھا "یہ وعدہ کیا تھا ، محبت کریں گے۔۔” جو شباب کیرانوی کا لکھا ہوا تھا۔ دونوں گیت بڑے مقبول ہوئے تھے۔

    فلم نگری داتا دی (1974) میں تنویرنقوی کا لاہور شہر کا ایک خوبصورت روحانی تعارف نذیرعلی نے کمپوز کیا تھا "سجنوں ، اے نگری داتا دی ، ایتھے آندا کل زمانہ۔۔” بنیادی گیت مسعودرانا کا گایا ہوا انتہائی متاثرکن گیت تھا۔ اس گیت میں مکھڑا "گنج بخش فیض عالم مظہر نورخدا۔۔” جتنا خوبصورت مسعودرانا نے گایا تھا ، آج تک کوئی دوسرا گلوکار اس سے بہتر نہیں گا سکا۔ میڈم نورجہاں نے اس گیت کو ثانوی انداز میں گایا تھا جو کم ہی سننے میں آتا تھا۔

    فلم نوکرووہٹی دا (1974) میں ایک اور بھاری بھر کم گیت تھا "نی چپ کر دڑ وٹ جا ، نہ عشق دا کھول خلاصہ۔۔” خواجہ پرویز کے گائے ہوئے اس گیت کی دھن وجاہت عطرے نے بنائی تھی اور ان دونوں نے یہ گیت بڑے شوخ انداز میں گایا تھا ، مسعودرانا کو بلاشبہ اس گیت میں بھی برتری حاصل تھی جس کی ایک وجہ منورظریف پر فلمایا جانا بھی تھا۔

    فلم ظالم تے مظلوم (1974) میں وجاہت عطرے کی دھن میں یہ واحد گیت تھا جو مقبول نہیں ہوا تھا "میرے دل نوں آگئی ایں پسند کڑیئے۔۔” یہ بھی ایک شوخ گیت تھا۔

    فلم گاما بی اے (1976) میں وزیرافضل کی دھن میں یہ گیت بھی بڑا مقبول ہوا تھا "نیندراں نئیں آندیاں۔۔” اس گیت کو بھی زیادہ تر مسعودرانا ہی سے منسوب کیا جاتا ہے حالانکہ میڈم نے بھی بڑے اچھے انداز میں گایا تھا۔

    اب تک کی معلومات کے مطابق آخری گیت فلم نرگس (1992) میں تھا "جینا میں نئیں جینا ، بن یار دے۔۔” ایم اشرف کی دھن میں یہ گیت خواجہ پرویز نے لکھا تھا۔ یہ دور میڈم نورجہاں کا تھا جو فلمی گائیکی پر چھائی ہوئی تھیں جبکہ مسعودرانا کی آواز میں وہ جان نہیں رہی تھی ، جو ان کی پہچان ہوتی تھی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    تلاش ، ترتیب و ترسیل : آغا نیاز مگسی

  • بالی ووڈ اداکارہ زرین خان کے وارنٹ گرفتاری جاری

    بالی ووڈ اداکارہ زرین خان کے وارنٹ گرفتاری جاری

    کولکتہ: بالی ووڈ کی اداکارہ زرین خان مشکل میں آگئیں، کولکتہ کی عدالت نے گرفتاری کے وارنٹ جاری کردئیے۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق کولکتہ کی عدالت 2018 کے دھوکہ دہی کیس میں زرین خان کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے بالی ووڈ اداکارہ پر ایک شو میں پرفارم کرنے کے پیسے لینے کے باوجود پرفارمنس نہ دینے کا الزام ہے، کولکتہ کی عدالت نے زرین خان کو مقدمے کے سلسلے میں متعدد بار طلب کیا تاہم وہ پیش نہ ہوئیں جس کے بعد ان کے وارنٹ گرفتاری جاری کردئیے گئے۔

    زرین خان نے گرفتاری کے وارنٹ سے متعلق لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس بارے میں کچھ علم نہیں ان کی قانونی ٹیم معاملے کا جائزہ لے گی اور اس کے بعد رد عمل دے گی۔

    اداکارہ کے خلاف سال 2018 میں 6 ایونٹس میں شرکت نہ کرنے پر شکایت درج کرائی گئی تھی۔ کولکتہ اور شمالی 24 پرگنہ میں کالی پوجا کے 6 پروگراموں میں شرکت نہ کرنے پر ان کے خلاف شکایات موصول ہوئی تھیں یہ شکایت ایک ایونٹ مینجمنٹ کمپنی کی جانب سے نارکل ڈنگہ پولیس اسٹیشن میں درج کرائی گئی ہے۔ جس کے بعد نارکل ڈانگا پولیس نے سیالدہ عدالت میں چارج شیٹ پیش کی معاملہ سامنے آنے کے بعد ہم نے اس معاملے میں زرین خان سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن کوئی جواب نہیں ملا۔

    زرین خان نے اپنے اداکاری کیرئیر کا آغاز 2010 میں سلمان خان کے ساتھ فلم ‘ویر’ سے کیا۔ اداکارہ کو اس فلم کے ذریعے کافی شہرت بھی ملی۔ لیکن کچھ عرصے بعد ناظرین نے اداکارہ کے کام کو سراہنے کے بجائے ان کے روپ کا اداکارہ کترینہ کیف سے موازنہ کرنا شروع کردیا۔ جس کے بعد اداکارہ آہستہ آہستہ انڈسٹری سے غائب ہوگئیں۔

    اداکارہ نے کچھ عرصہ قبل کترینہ کے مقابلے پر اپنی خاموشی توڑ دی تھی۔ اس پر زرین خان کا کہنا تھا کہ جب میرا موازنہ کترینہ سے کیا جاتا ہے تو مجھے بہت خوشی ہوتی ہے کیونکہ میں خود ان کی بہت بڑی فین ہوں اور مجھے وہ بہت خوبصورت بھی لگتی ہیں لیکن اس موازنے نے میرے کیرئیر پر برا اثر ڈالا اس موازنے کی وجہ سے انڈسٹری کے لوگوں نے مجھے اپنی صلاحیتیں ثابت کرنے کا موقع نہیں دیا-

  • سلمان خان اوران کی بہنیں اپنےگھرمیں باقاعدگی سےمیرابیان سنتی ہیں،مولانا طارق جمیل

    سلمان خان اوران کی بہنیں اپنےگھرمیں باقاعدگی سےمیرابیان سنتی ہیں،مولانا طارق جمیل

    لاہور: پاکستان کے معروف اسلامک اسکالر مولانا طارق جمیل کا کہنا ہے کہ بالی وڈ سُپر اسٹار سلمان خان سمیت ان کی بہنیں اپنے گھر میں باقاعدگی سے ان کا بیان سنتی ہیں۔

    باغی ٹی وی: حال ہی میں مولانا طارق جمیل نے ایک پوڈکاسٹ میں شرکت کی دوران انٹرویو میزبان نے سوال کیا کہ ’آپ نے مجھے کہا تھا کہ بالی وڈ اداکار عامر خان نے مجھے بتایا کہ سلمان خان کے گھر بھی بیان چلتے ہیں، کیا آپ کو یاد ہے؟،انہوں نے جواب دیا کہ عامر خان نہیں بلکہ میرے ایک دوست ہیں جن کا کاروبار ہندوستان میں بھی ہے، وہ ممبئی گئے تو ان کے پارٹنر نے ان کی ملاقات سلمان خان سے کر وائی-

    گجرات میں پولیس کانسٹیبل قتل

    طارق جمیل نے بتایا کہ سلمان خان کو جب معلوم ہوا کہ یہ شخص پاکستان سے آئے ہیں تو انہوں نے پوچھا کیا آپ مولانا طارق جمیل کو جانتے ہیں؟ جس پر میرے دوست نے کہا کہ آپ کو ان کا کیسے پتا؟ وہ میرے دوست ہیں، اس پر سلمان خان میرے دوست کو اپنے گھر کے اندر لے گئے جہاں ایک دیوار کے ساتھ لگے ریک میں میرے بیان کی ڈھیروں سی ڈیز موجود تھیں،سلمان خان اور ان کی بہنیں بھی باقاعدہ میرا بیان سنتی ہیں اور ان کے گھر میں بھی میرے بیانات سنے جاتے ہیں۔

    بجلی چوروں کے خلاف جاری کریک ڈاؤن،درجنوں گرفتاریاں، ٹرانسفارمرزبھی اُتارلیے گئے