Baaghi TV

Tag: شوبز

  • سلمان خان کو ایک مرتبہ پھرقتل کی دھمکی

    سلمان خان کو ایک مرتبہ پھرقتل کی دھمکی

    ممبئی: بالی ووڈکے دبنگ اداکار سلمان خان کو ایک مرتبہ پھر گینگسٹر گولڈی برار نے قتل کی دھمکی دے دی۔

    باغی ٹی وی: بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق سلمان خان کوبھارت کے مشہور پنجابی سکھ گلوکار سدھو موسے والا کے قتل کے ماسٹر مائنڈ سمجھے جانے والے بدنام زمانہ لارنس بشنوئی گینگ کے سرغنہ گولڈی برار کی جانب سے ایک مرتبہ پھر قتل کی دھمکی موصول ہوئی ہے،سلمان خان نے بگ باس او ٹی ٹی 2کے اُمیدوار ایلوش یادیو کو بگ باس کے گھر میں موجود ساتھی خواتین کے ساتھ بدسلوکی اور بدتمیزی کرنے پر ناراضگی اور غصے کا اظہار کیا تھا۔


    ایلوش یادیو کی بےعزتی کرنے اور تنقید کا نشانہ بنانے پر گولڈی برار نے ردِعمل دیتے ہوئے سلمان خان کو قتل کی دھمکی دی ہے۔ سوشل میڈیا پر گولڈی برار کے ٹوئٹ کا اسکرین شاٹ وائرل ہو رہا ہے جس کے بعد سلمان خان کی سیکیورٹی کو مزید سخت کر دیا گیا ہے۔

    گلوکارہ ٹیلر سوئفٹ کے کانسرٹ کی وجہ سے2.3 شدت کا زلزلہ

    واضح رہے کہ اس سے قبل بھی لارنس بشنوئی گینگ کی جانب سے کئی مرتبہ سلمان خان کو جان سے مارنے کی دھمکی دی جا چکی ہے اداکار کو ممبئی پولیس نے وائی لیول سیکیورٹی فراہم کی ہوئی ہے جبکہ ان کے ذاتی گارڈز بھی ان کے ساتھ ہر وقت موجود رہتے ہیں۔

    گولڈی برار کےقریبی ساتھی لارنس بشنوئی کی جانب سےبھی چند ماہ قبل سلمان خان کو قتل کی دھمکیاں دی گئی تھیں سلمان خان کے قریبی دوست کو بھیجی گئی ای میل میں کہا گیا تھا کہ ہم تمھارے باس (سلمان خان) سے بات کرنا چاہتے ہیں، یقیناً اس نے لارنش بشنوئی کا انٹرویو دیکھا ہو گا، اگر نہیں دیکھا تو اسے دکھا دو، اگر وہ اس معاملے کو ختم کرنا چاہتا ہے تو اسے گولڈی برار سے بات کرنی چاہیے، اگر سلمان خان بالمشانہ ملاقات کرنا چاہتا ہے تو ہمیں بتا دے، اس مرتبہ ہم تمھیں اطلاع کر رہے ہیں لیکن اگلی مرتبہ حیرانی ہو گی۔

    برصغیر کے لیجنڈ پلے بیک گلوکارمحمد رفیع

    ایک بھارتی ٹی وی چینل کو انٹرویو میں گولڈی برار نے کہا تھا کہ ہم اسے (سلمان خان) کو قتل کریں گے اور ہم اسے ضرور قتل کریں گے، بھائی لارنس بشنوئی نے کہا تھا کہ ہم معافی نہیں مانگیں گے، بابا اس وقت رحم دکھائیں گے جب وہ رحمدلی محسوس کریں گے ہم جب تک زندہ ہیں سلمان خان کی طرح اپنے سارے دشمنوں کے خلاف اقدامات اٹھاتے رہیں گے، سلمان خان ہمارا ٹارگٹ ہے اور اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ہم سلمان خان کو قتل کرنے کے لیے کوششیں کرتے رہیں گے، جب ہم کامیاب ہوں گے تو آپ کو پتہ چل جائے گا۔

    انڈیا اور پاکستان کی عوام ایکدوسرے سے نہیں‌لڑنا چاہتی سنی دیول

  • برصغیر کی ایک بے مثال و باکمال اداکارہ اور شاعرہ مینا کماری

    برصغیر کی ایک بے مثال و باکمال اداکارہ اور شاعرہ مینا کماری

    یوں تیری رہگزر سے دیوانہ وار گزرے
    کاندھے پہ اپنے رکھ کے اپنا مزار گزرے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    مینا کماری ناز

    آغا نیاز مگسی

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    برصغیر کی ایک بے مثال و باکمال اداکارہ اور شاعرہ مینا کماری یکم اگست 1933 میں پیدا ہوئیں ۔ان کا اصل نام ماہ جبین، فلمی نام مینا کماری اور تخلص ناز تھا۔ ان کی والدہ کا نام پربھاوتی تھا وہ ایک عیسائی بنگالی خاتون تھیں ۔ مینا کماری کے والد صاحب کا نام علی بخش تھا۔ وہ ایک تھیٹر آرٹسٹ، نغمہ نگار اور موسیقار تھے۔ پربھاوتی ایک رقاصہ تھی جس نے ماسٹر علی بخش سے شادی کی اور اسلام قبول کر کے مسلمان ہو گئی جس کا اسلامی نام اقبال بیگم رکھا گیا۔ مینا کماری اقبال بیگم اور ماسٹر علی بخش کی بیٹی تھیں ۔ مینا کماری نے فلموں میں لازوال کردار ادا کیا اور خوب صورت شاعری کی انہوں نے 14 فروری 1954 میں کمال امروہوی سے شادی کی ۔ مینا کماری کو اولاد نہیں ہوئی۔ 31 مارچ 1972 میں ان کی وفات ہوئی۔

    مینا کماری ناز کی خوب صورت شاعری سے انتخاب
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    تیری عنایتوں کا انداز جداگانہ
    کبھی رو پڑے مقدر ، کبھی ہنس پڑا زمانہ

    تیری آواز میں تارے سے کیوں چمکنے لگے
    کس کی آنکھوں کے ترنم کو چُرا لائی ہے
    کس کی آغوش کی ٹھنڈک پہ ڈاکہ ڈالا ہے
    کس کی بانہوں سے تو شبنم کو اُٹھا لائی ہے

    ہاں کوئی اور ہو گا تو نے جو دیکھا ہو گا
    ہم نہیں آگ سے بچ بچ کے گزرنے والے

    نہ انتظار ، نہ آہٹ ، نہ تمنا ، نہ امید
    زندگی ہے کہ یوں بے حس ہوئی جاتی ہے

    سنبھلتا نہیں دل کسی بھی طرح
    محبت کی ہائے تباہ کاریاں

    شمع ہوں ، پھول ہوں یا ریت پہ قدموں کا نشاں
    آپ کو حق ہے مجھے جو بھی چاہے کہہ لیں

    آبلہ پا کوئی اس دشت میں آیا ہوگا
    ورنہ آندھی میں دیا کس نے جلایا ہوگا

    آغاز تو ہوتا ہے انجام نہیں ہوتا
    جب میری کہانی میں وہ نام نہیں ہوتا

    عیادت ہوتی جاتی ہے عبادت ہوتی جاتی ہے
    مرے مرنے کی دیکھو سب کو عادت ہوتی جاتی ہے

    کہیں کہیں کوئی تارہ کہیں کہیں جگنو
    جو میری رات تھی وہ آپ کا سویرا ہے

    یوں تیری رہ گزر سے دیوانہ وار گزرے
    کاندھے پہ اپنے رکھ کے اپنا مزار گزرے
    بیٹھے ہیں راستے میں دل کا کھنڈر سجا کر
    شاید اسی طرف سے اک دن بہار گزرے
    دار و رسن سے دل تک سب راستے ادھورے
    جو ایک بار گزرے وہ بار بار گزرے
    بہتی ہوئی یہ ندیا گھلتے ہوئے کنارے
    کوئی تو پار اترے کوئی تو پار گزرے
    مسجد کے زیر سایہ بیٹھے تو تھک تھکا کر
    بولا ہر اک منارہ تجھ سے ہزار گزرے
    قربان اس نظر پہ مریم کی سادگی بھی
    سائے سے جس نظر کے سو کردگار گزرے
    تو نے بھی ہم کو دیکھا ہم نے بھی تجھ کو دیکھا
    تو دل ہی ہار گزرا ہم جان ہار گزرے

    جب چاہا اقرار کیا ہے جب چاہا انکار کیا
    دیکھو ہم نے خود ہی سے یہ کیسا انوکھا پیار کیا
    ایسا انوکھا ایسا تیکھا جس کو کوئی سہہ نہ سکے
    ہم سمجھے پتی پتی کو ہم نے ہی سرشار کیا
    روپ انوکھے میرے ہیں اور روپ یہ تو نے دیکھے ہیں
    میں نے چاہا کر بھی دکھایا یا جنگل گلزار کیا
    درد تو ہوتا ہی رہتا ہے درد کے دن ہی پیارے ہیں
    جیسے تیز چھری کو ہم نے رہ رہ کر پھر دھار کیا
    کالے چہرے کالی خوشبو سب کو ہم نے دیکھا ہے
    اپنی آنکھوں سے ان کو شرمندہ ہر اک بار کیا
    روتے دل ہنستے چہروں کو کوئی بھی نہ دیکھ سکا
    آنسو پی لینے کا وعدہ ہاں سب نے ہر بار کیا
    کہنے جیسی بات نہیں ہے بات تو بالکل سادہ ہے
    دل ہی پر قربان ہوئے اور دل ہی کو بیمار کیا
    شیشے ٹوٹے یا دل ٹوٹے خشک لبوں پر موت لئے
    جو کوئی بھی کر نہ سکا وہ ہم نے آخر کار کیا
    نازؔ ترے زخمی ہاتھوں نے جو بھی کیا اچھا ہی کیا
    تو نے سب کی مانگ سجائی ہر اک کا سنگار کیا

    آغاز تو ہوتا ہے انجام نہیں ہوتا
    جب میری کہانی میں وہ نام نہیں ہوتا
    جب زلف کی کالک میں گھل جائے کوئی راہی
    بدنام سہی لیکن گمنام نہیں ہوتا
    ہنس ہنس کے جواں دل کے ہم کیوں نہ چنیں ٹکڑے
    ہر شخص کی قسمت میں انعام نہیں ہوتا
    دل توڑ دیا اس نے یہ کہہ کے نگاہوں سے
    پتھر سے جو ٹکرائے وہ جام نہیں ہوتا
    دن ڈوبے ہے یا ڈوبی بارات لیے کشتی
    ساحل پہ مگر کوئی کہرام نہیں ہوتا

    عیادت ہوتی جاتی ہے عبادت ہوتی جاتی ہے
    میرے مرنے کی دیکھو سب کو عادت ہوتی جاتی ہے
    نمی سی آنکھ میں اور ہونٹ بھی بھیگے ہوئے سے ہیں
    یہ بھیگا پن ہی دیکھو مسکراہٹ ہوتی جاتی ہے
    تیرے قدموں کی آہٹ کو ہے دل یہ ڈھونڈھتا ہر دم
    ہر اک آواز پہ اک تھرتھراہٹ ہوتی جاتی ہے
    یہ کیسی یاس ہے رونے کی بھی اور مسکرانے کی
    یہ کیسا درد ہے کہ جھنجھناہٹ ہوتی جاتی ہے
    کبھی تو خوب صورت اپنی ہی آنکھوں میں ایسے تھے
    کسی غم خانہ سے گویا محبت ہوتی جاتی ہے
    خود ہی کو تیز ناخونوں سے ہائے نوچتے ہیں اب
    ہمیں اللہ خود سے کیسی الفت ہوتی جاتی ہے

    اے میرے اجنبی
    تو چلا جائے گا
    وقت آنسو ہی آنسو میں ڈھل جائے گا
    وقت آہوں میں میری بدل جائے گا
    وقت یادوں سے تیری بہل جائے گا
    جسم لاوے کی صورت پگھل جائے گا
    ذہن پارے کی صورت پھسل جائے گا
    تو چلا جائے گا
    اے میرے اجنبی

  • برصغیر کے لیجنڈ پلے بیک گلوکارمحمد رفیع

    برصغیر کے لیجنڈ پلے بیک گلوکارمحمد رفیع

    تم مجھے یوں بھلا نہ پاو گے
    جب کبھی بھی سنو گے گیت میرے
    سنگ سنگ تم بھی گنگناو گے

    محمد رفیع

    31 جولائی 1980: یوم وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    برصغیر کے ایک ورسٹائل اور لیجنڈ پلے بیک گلوکار، محمد رفیع 24 دسمبر 1924 کو کوٹلہ سلطان سنگھ، امرتسر، ریاست پنجاب، متحدہ ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ وہ ہندوستانی بالی ووڈ انڈسٹری کے نامور گلوکاروں میں سے ایک تھے اور ہندی گانوں پر ان ان کی ایک خاص گرفت تھی۔ سال 1944 سے اپنے کیرئیر کا آغاز کرنے والے، نامور سدا بہار گلوکار، محمد رفیع ایک ایسا نام ہے جسے ہمیشہ پورے احترام کے ساتھ لیا جاتا رہے گا۔ ان کی آواز ہر ایک کی زندگی میں سکون بخش اور پرسکون عنصر بن گئی، جس نے لوگوں کے مزاج کو غمگین سے خوشی میں بدلنے میں مدد کی۔ محمد رفیع کا موسیقی کی طرف جھکاؤ بہت چھوٹی عمر سے شروع ہو گیا تھا۔ اس کے بڑے بھائی نے اس کی صلاحیت کو بھانپ لیا اور اپنے خاندان کو راضی کر لیا کہ وہ اسے موسیقی میں اپنا کیریئر بنانے دیں۔ انہوں نے موسیقی کی ابتدائی تعلیم پنڈت جیون لال مٹو سے لی۔ اس کے بعد استاد عبدالواحد خان اور استاد بڑے غلام علی خان اور فیروز نظامی سے تربیت حاصل کی۔ ان کے کیریئر کا آغاز اس وقت ہوا جب انہوں نے پہلی بار لاہور میں 13 سال کی عمر میں پرفارم کیا۔ اس کے بعد انہوں نے 1941 سے اے آئی آر (آل انڈیا ریڈیو) لاہور میں گانا شروع کیا۔

    ان کی شہرت کی ابتدا ملکہ ترنم نور جہاں کے ساتھ جگنو فلم کیلئے گائے ہوئے دوگانے ” کبھی دکھ ہے کبھی سکھ ہے” سے ہوئی اور نور جہاں کی شہرت کی ابتدا بھی اسی دوگانے سے ہوئی۔ تقریباً ہر ہندوستانی زبان میں گانے گا کر سپر اسٹار نے کل 7400 گانوں کو اپنی سریلی آواز دی ہے۔ حب الوطنی، اداس، رومانوی، غزلوں، قوالیوں تک، محمد رفیع نے تقریباً ہر قسم کے گیت گائے ہیں۔ان کی گائیکی کا انداز بالکل منفرد تھا جس نے دوسرے گلوکاروں سے آگے کھڑے ہونے میں مدد کی وہ نہ صرف گلوکار تھےبلکہ اپنے آپ میں ایک لیجنڈ اور سپر اسٹار تھے۔ انڈسٹری میں ہر کوئی ان کے ساتھ کام کرنا چاہتا تھا کیونکہ ان کی آواز میں کامیابی کا ٹیگ تھا۔ ان کی استعداد اور آواز کے معیار کے لیے، انھیں حکومت ہند کی طرف سے دیے گئے پدم شری کے ساتھ ساتھ متعدد اعزازات سے بھی نوازا گیا

    وہ حاجی علی محمد اور اللہ رکھی کے ہاں پیدا ہوئے ان کے 4 بھائی تھا۔ انہوں نے سب سے پہلے اپنی کزن بشیرہ بانو سے شادی کی اور ان کے ہاں ایک بیٹا تھا جس کا نام سعید تھا تقسیم کے بعد انہوں نے اپنے ساتھ ہندوستان آنے سےانکار کردیا اوران کی شادی ختم ہوگئی اس کے بعد انہوں نے بلقیس بانو سے شادی کی اور اس جوڑے کے چار بچے ہوئے جن کے نام نسرین، پروین، خالد اور حامد تھے۔

    ان کا عرفی نام ‘فیکو’ تھا۔ محمد رفیع کا جنازہ اس وقت کا سب بڑا جنازہ تھا کیونکہ ان کی تدفین کے وقت 10,000 سے زیادہ لوگ آئے تھے۔ ہندوستان کی آزادی کی پہلی سالگرہ پر، انہوں نے جواہر لال نہرو سے چاندی کا تمغہ حاصل کیا۔ باندرہ، ممبئی میں ایک چوک کا نام ان کے نام پر محمد رفیع چوک رکھا گیا۔ ان کا آخری ریکارڈ شدہ گانا "شام پھر کیوں اداس ہے دوست” تھا۔ محمد رفیع کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے فلم کرودھ (1990) میں محمد رفیع تو بہت یاد آیا کے عنوان سے ایک گانا شامل کیا گیا تھا۔ اس گانے کو معروف گلوکار محمد عزیز نے گایا تھا۔ محمد رفیع نے اردو کے علاوہ ہندی، سندھی، پنجابی و دیگر متعدد زبانوں میں گایا ہے انڈیا پوسٹ نے ان کی یاد میں 15-05-2003 کو ڈاک ٹکٹ جاری کیا تھا رفیع صاحب کا مجسمہ ان کی جائے پیدائش کوٹلہ سلطان سنگھ، امرتسر (پنجاب) میں قائم کیا گیا ہے گوگل نے ان کی 94 ویں سالگرہ پر ڈوڈل کے ذریعے انہیں خراج تحسین پیش کیامحمد رفیع 31 جولائی 1980 کو ممبئی، انڈیا میں دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئےان کی عمر انتقال کے وقت 55 سال 7 ماہ تھی

    محمد رفیع کے گائے ہوئے سیکڑوں سپر ہٹ اردو گیتوں میں سے چند ایک منتخب بول
    ۔۔۔۔۔۔۔

    میں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھی

    یہ میرا پریم پتر پڑھ کر کہ تم ناراض مت ہونا

    یہ دنیا یہ محفل میرے کام کی نہیں

    یہ زندگی کے میلے دنیا میں کم نہوں گے

    ہوئے ہم جن کیلئے برباد وہ چاہے ہم کو کریں نہ یاد

    انصاف کا مندر ہے یہ بھگوان کا گھر ہے

    کبھی دکھ ہے کبھی سکھ ہے

    بڑی مستانی ہے میری محبوبہ

    کھلونا جان کر تم تو میرا دل توڑ جاتے ہو

    مجھے عشق ہے تجھی سے میری جان زندگانی

    تم مجھے یوں بھلا نہ پائو گے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تلاش، ترتیب و ترسیل : آغا نیاز مگسی

  • گلوکارہ ٹیلر سوئفٹ کے کانسرٹ کی وجہ سے2.3 شدت کا زلزلہ

    گلوکارہ ٹیلر سوئفٹ کے کانسرٹ کی وجہ سے2.3 شدت کا زلزلہ

    امریکی گلوکارہ ٹیلر سوئفٹ کے کانسرٹ نے زمین ہلا کر رکھ دی-

    باغی ٹی وی : بین الاقوامی خبر رساں ادارے بی بی سی کے مطابق امریکن سیسمولوجسٹ نے زلزلے کی وجہ 2 روز سے جاری کانسرٹ کو قرار دے دیا امریکا کے شہر سیٹل میں کانسرٹ کے دوران 2.3 شدت کا زلزلہ ریکارڈ کیا گیا زلزلے کی کیفیت 22 اور 23 جولائی کے درمیان لیومین فیلڈ اسٹیڈیم میں ٹیلر سوئفٹ کی پرفارمنس کے دوران ریکارڈ کی گئی۔

    بی بی سی کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ ٹیلر سوئفٹ کے اس کانسرٹ کی دونوں راتوں میں ایک لاکھ 44 ہزار افراد نے شرکت کی اس حوالے سے امریکن سیسمولوجسٹ جیکی کیپلان اورباچ نے اپنے ایک انٹرویو میں بتایا کہ زلزلے کی وجہ کانسرٹ میں موجود شائقین اور کانسرٹ میں موجود ساؤنڈ سسٹم بنا،ٹیلر سوئفٹ کے اس کانسرٹ نے 2011 میں سیٹل میں ہونے والے ایک ایونٹ کا ریکارڈ بھی توڑ ڈالا جسے ‘بیسٹ کوئیک’ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

    انڈیا اور پاکستان کی عوام ایکدوسرے سے نہیں‌لڑنا چاہتی سنی دیول

    2011 میں امریکی فٹبال لیگ کے دوران فٹبال شائقین کی طرف سے جشن مناتے ہوئے ایسے ہی زلزلے کی لہریں پیدا کی گئی تھیں سیسمو لوجسٹ کے مطابق ٹیلر سوئفٹ کے اس کانسرٹ اور ‘بیسٹ کوئیک’ کے درمیان صرف 0.3 شدت کا فرق تھا۔

    نہیں عرفی جاوید کا ایموشنل انسٹاگرام نوٹ

  • سپرماڈل جیجی حدید منشیات رکھنے کے الزام میں گرفتار

    سپرماڈل جیجی حدید منشیات رکھنے کے الزام میں گرفتار

    سپرماڈل جیجی حدید کوممنوعہ نشہ آورمواد رکھنے کےالزام میں گرفتار کر لیا گیا-

    باغی ٹی وی : میڈیا رپورٹس کے مطابق معروف امریکی ماڈل جیجی حدید کو جزائر کیمین میں چھٹیاں گزارنے کے دوران چرس رکھنے کے الزام میں حراست میں لے لیا گیا 28 سالہ سپر ماڈل کو مبینہ طور پر 10 جولائی کو اوون رابرٹس انٹرنیشنل ائرپورٹ سے اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ نجی طیارے کے ذریعے اپنے دوست کے ساتھ جزائر کیمین پہنچی تھیں۔

    امریکی میڈیا کے مطابق کسٹم حکام کو ائرپورٹ پر مبینہ طور پر جیجی کے سامان سے منشیات ملی جس پر انہیں حراست میں لے کر جیل لے جایا گیا، جہاں انہیں ضمانت پر رہا کر دیا گیادونوں مسافروں کے سامان میں چرس اوراس کے استعمال کا سامان برآمد ہوا، جس کی مقدار کم تھی اور ذاتی استعمال کے لیے معلوم ہوتی تھی۔ ماڈل جیجی حدید اور ان کے دوست کو گرفتاری کے بعد حراستی مرکز لے جایا گیا جیجی اور ان کے دوست میک کارتھی 12 جولائی کو عدالت میں پیش ہوئے جہاں اعتراف جرم کے بعد ان پر ایک ، ایک ہزار ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا اور کوئی سزا درج نہیں کی گئی۔

    ہمایوں سعید اور یمنہ زیدی جنٹلمین میں پہلی بار ایک ساتھ

    2017 سے، طبی بھنگ کو جزائر کیمن میں نسخے کے استعمال کے لیے تجویز کیا گیا ہےکیموتھراپی سے ہونے والی متلی کو دور کیا جا سکے، اور مختلف بیماریوں کے علاج کییلئے استعمال کی جا سکے بہر حال، بھنگ کا تفریحی استعمال قانونی نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔

    اس کے قانونی ہونے کے بعد سے، تقریباً 500 مریضوں نے طبی بھنگ کے نسخے حاصل کیے ہیں، جو اسے ذیابیطس اور ایک سے زیادہ سکلیروسیس جیسے حالات کے علاج کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ مزید برآں، یہ گنٹھیا، کینسر اور مرگی والے کتوں کو دیا جاتا ہے۔

    تاہم، یہ نوٹ کرنا ضروری ہے کہ کیمن جزائر سے بھنگ لے جانا یا اسے ملک میں لانا ممنوع ہےوہ افراد جو اپنے گھروں سے باہر ملازمت کرتے ہیں ڈاکٹروں کی طرف سے مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ کمپنی کی پالیسیوں کی تعمیل کو یقینی بنانے کے لیے منشیات کی جانچ کرانے سے پہلے اپنے اعلیٰ افسران سے مشورہ کریں۔

    عمرے کے بعد پہلی جیسی نہیں رہی میرا

  • برصغیر کےعظیم گلوکار مہدی حسن  جن کی آواز آج بھی زندہ ہے

    برصغیر کےعظیم گلوکار مہدی حسن جن کی آواز آج بھی زندہ ہے

    قفس اداس ہے یارو صبا سے کچھ تو کہو

    مہدی حسن

    برصغیر کے عظیم گلوکار مہدی حسن 18 جولائی 1927کوراجستھان کے ایک گاؤں لُونا میں پیدا ہوئے۔ اْن کے والد اور چچا دْھرپد گائیکی کے ماہر تھے۔ انہوں نے موسیقی کی تربیت اپنے والد استاد عظیم خان اور اپنے چچا استاد اسماعیل خان سے حاصل کی۔خود اُن کے بقول وہ کلاونت گھرانے کی سولھویں پیڑھی سے تعلق رکھتے تھے۔

    1947ء میں بیس سالہ مہدی حسن اہلِ خانہ کے ساتھ نقلِ وطن کر کے پاکستان آ گئے اور پنجاب کے ایک شہر چیچہ وطنی میں محنت مزدوری کے طور پر سائیکلیں مرمت کرنے کا کام شروع کیا انھوں نے مکینک کے کام میں مہارت حاصل کی اور پہلے موٹر میکینک اور اس کے بعد ٹریکٹر کے میکینک بن گئے، لیکن رہینِ ستم ہائے روزگار رہنے کے باوجود وہ موسیقی کے خیال سے غافل نہیں رہے اور ہر حال میں اپنا ریاض جاری رکھا-

    مہدی حسن پچپن سے ہی گلوکاری کے اسرار و رمُوز سے آشنا تھے مگر اس سفر کا باقاعدہ آغاز 1952ء میں ریڈیو پاکستان کے کراچی سٹوڈیو سے ہوا۔ اس وقت سے اپنے انتقال تک انہوں نے پچیس ہزار سے زیادہ فلمی، غیر فلمی گیت اور غزلیں گا ئیں 1956ء میں ایک طویل جدو جہد کے بعد مہدی حسن کو فلمی گلوکار بننے کا موقع ملا۔

    فلم کے لیے مہدی حسن نے جو پہلا گیت ریکارڈ کروایا وہ کراچی میں پاکستانی فلم ’’ شکار‘‘ کے لیے تھا۔ شاعر یزدانی جالندھری کے لکھے اس گیت کی دُھن موسیقار اصغر علی، محمد حسین نے ترتیب دی تھی۔ گیت کے بول تھے: ’’ نظر ملتے ہی دل کی بات کا چرچا نہ ہو جائے‘‘۔ اسی فلم کے لیے انہوں نے یزدانی جالندھری کا لکھا ایک اور گیت ’’میرے خیال و خواب کی دنیا لیے ہوئے۔ پھر آگیا کوئی رخِ زیبا لیے ہوئے‘‘ بھی گایا تھا۔

    خان صاحب مہدی حسن نے کل 441 فلموں کے لیے گانے گائے اور گیتوں کی تعداد 626 ہے۔ فلموں میں سے اردو فلموں کی تعداد 366 ہے جن میں 541 گیت گائے جب کہ 74 پنجابی فلموں میں 82 گیت گائے۔

    انہوں نے 1962ء سے 1989ء تک 28 سال تک مسلسل فلموں کے لیے گائیکی کی تھی۔فلمی گیتوں میں ان کے سو سے زیادہ گانے اداکار محمد علی پر فلمائے گئے۔ اس کے علاوہ مہدی حسن خان صاحب ایک فلم ’’شریک حیات‘‘ 1968ء میں پردہ سیمیں پر بھی نظر آئے۔

    مہدی حسن کو بے شمار ایوارڈز اور اعزازات سے نوازا گیا۔ جن میں 9 نگار ایوارڈ،تمغہ امتیاز، صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی، ستارہ امتیاز اور ہلال امتیاز شامل تھے۔

    مہدی حسن کو ملنے والے 9 نگار ایوارڈز کی تفصیلات کچھ اس طرح ہیں ۔

    سال 1964۔۔۔۔۔۔۔ فلم فرنگی ۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ نگار ایوارڈ

    سال 1968۔۔۔۔۔۔۔ فلم صائقہ ۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ نگار ایوارڈ

    سال 1969۔۔۔۔۔۔۔ فلم زرقا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نگار ایوارڈ

    سال 1972۔۔۔۔۔۔۔ فلم میری زندگی ہے نغمہ۔۔۔۔۔۔۔ نگار ایوارڈ

    سال 1973۔۔۔۔۔۔۔ فلم نیا راستہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نگار ایوارڈ

    سال 1974۔۔۔۔۔۔۔ فلم شرافت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نگار ایوارڈ

    سال 1975۔۔۔۔۔۔۔ فلم زینت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نگار ایوارڈ

    سال 1976۔۔۔۔۔۔۔ فلم شبانہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نگار ایوارڈ

    سال 1977۔۔۔۔۔۔۔ فلم آئینہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نگار ایوارڈ۔

    مہدی حسن کو ان کی فنی خدمات کے اعتراف میں 14 اگست 1985ء کو صدارتی تمغہ حسن کارکردگی اور علاوہ ازاں تمغہ امتیازاور ہلال امتیازسے نوازا گیا۔1979 ء میں انہوں نے جالندھر (انڈیا) میں کے ایل سہگل ایوارڈ حاصل کیا۔ 1983ء میں نیپال میں گورکھا دکشینا باہو ایوارڈ حاصل کیا اور جولائی 2001 ء میں پاکستان ٹیلی ویژن نے لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ دیا ۔ لیکن مہدی حسن کے لیے سب سے بڑا اعزاز وہ بے پناہ مقبولیت اور محبت تھی جو انہیں عوام کے دربار سے ملی۔ پاک و ہند سے باہر بھی جہاں جہاں اُردو بولنے اور سمجھنے والے لوگ آباد ہیں، مہدی حسن کی پذیرائی ہوتی رہی ۔بھارت میں اُن کے احترام کا جو عالم تھا وہ لتا منگیشکر کے اس خراجِ تحسین سے ظاہرہے کہ مہدی حسن کے گلے میں تو بھگوان بولتے ہیں مہدی حسن کا انتقال 13 جون 2012ء کو کراچی میں ہوا۔ وہ کراچی ہی میں آسودہ خاک ہیں-

  • سلمان خان نےفالج کے بعد میرے اسپتال کے بل ادا کیے، اورکسی جگہ اس کی تشہیر بھی نہیں کی،راہول رائے

    سلمان خان نےفالج کے بعد میرے اسپتال کے بل ادا کیے، اورکسی جگہ اس کی تشہیر بھی نہیں کی،راہول رائے

    بالی وڈ اداکار راہول رائے نے اپنی بہن کے ہمراہ دیئے گئے ایک انٹرویو میں انکشاف کیا کہ بالی ووڈ اسٹار سلمان خان نے فالج کے بعد ان کے بقایا بل ادا کیے۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق راہول رائے کو 2021 میں ایک فلم کی شوٹنگ کے دوران فالج کا دورہ پڑا تھا جس کے بعد انھیں علاج کیلئے قریبی اسپتال لے جایا گیا تھا اور وہاں ان کے دل اور دماغ کی انجیوگرافی کی گئی تھی رپورٹس تھیں کہ کارگل کے اونچے مقام پر زیادہ ٹھنڈ اور سانس لینے میں دشواری کے باعث راہل رائے دماغی فالج کا شکار ہوگئے تھے-

    راہل رائے پر دماغی فالج کا شدید حملہ ہوا تھا اور ان کے ذہن کے ایک حصے میں خون جم گیا تھا، جس کی وجہ سے وہ بے ہوش ہوگئے تھے راہل رائے 30 نومبر 2020 سے لے کر 6 جنوری 2021 تک ہسپتال میں زیر علاج رہے تھے اور ان کے علاج پر لاکھوں روپے اخراجات آئے تھے۔

    سلمان خان کو شو کے دوران سگریٹ پینا مہنگا پڑ گیا

    صحت یابی دو سال بعد اب راہل رائے نے بیماری کے دوران اپنی مالی مشکلات پر بات کی ہے اور بتایا ہے کہ سلمان خان نے ان کی بہت مالی مدد کی راہول رائے نے ایک انٹرویو میں سلمان خان کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ سب کہتے ہیں سلمان یہ ہیں وہ ہیں لیکن میرے لیےوہ بہت اچھے انسان ہیں،وہ انتہائی نفیس اور اچھے انسان ہیں جو دوسروں کی مدد کرنے پر یقین رکھتے ہیں 2020 میں مجھے فالج کا دورہ پڑا جس کے بعد میرےمیڈیکل بل سلمان خان نے ادا کیے تھے۔

    اداکار کی بہن پریانکا رائے نے بتایا کہ ان کے بھائی تو کوما میں چلے گئے تھے، اس لیے انہیں بہت ساری چیزوں کا علم نہیں لیکن وہ جانتی ہیں کہ انہوں نے کس طرح لوگوں سے مالی مدد کی اپیلیں کی انہوں نے اپنے شوہر اور اہل خانہ سمیت راہل رائے کے دوستوں اور شوبز انڈسٹری کے لوگوں سمیت عام افراد سے بھی پیسے مانگے رواں برس فروری تک وہ ہسپتال کے مقروض تھے لیکن پھر سلمان خان نے انہیں فون کیا اور مدد کے لیے پوچھا۔

    سورج پنچولی جیاخان پر ڈاکیومنٹری بنائیں گے

    پریانکا نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے سلمان خان سے مدد نہیں مانگی تھی لیکن انہوں نے خود ہی انہیں فون کرکے مدد کی پیش کش کی سلمان خان نے بل ادا کیے اور کسی بھی جگہ اس کی تشہیر بھی نہیں کی، سلمان کے علاوہ فلم کے ڈائریکٹر نے بھی کچھ بل ادا کیے لیکن وہ راہول کے فلم کے معاوضے سے ہی کیے گئے تھے، سلمان خان نے فون کرکے کسی بھی قسم کی مدد کا بھی پوچھا تھا جس کے بعد سارے بل فروری میں ہی ادا ہوگئے ہیں، وہ واقعے اچھے انسان اور ایک ہیرا ہیں۔

    واضح رہے کہ سلمان خان راہول رائے کے علاوہ راکھی ساونت کی والدہ کے علاج کے لیے بھی مدد کرچکے ہیں بالی وڈ ا نڈسٹری میں وہ انسانی خدمت کرتے کئی بار دیکھے جاچکے ہیں۔

    فواد خان اور انکی اہلیہ کی تصاویر اور وڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل

  • سوشل میڈیا کے ذریعے شہرت حاصل کرنے والی متنازع ادکارہ قندیل بلوچ

    سوشل میڈیا کے ذریعے شہرت حاصل کرنے والی متنازع ادکارہ قندیل بلوچ

    قندیل بلوچ

    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سوشل میڈیا کے ذریعے شہرت حاصل کرنے والی اور پھر مفتی عبدالقوی کے ساتھ ایک ہوٹل کے کمرے میں لی گئی تصویر کے وائرل ہونے سے شہرت کی بلندی پر پہنچنے والی ماڈل و میزبان اور اداکارہ فوزیہ المعروف قندیل بلوچ یکم مارچ 1990 میں ڈیرہ غازی خان کے ایک غریب خاندان میں پیدا ہوئی۔ اس کے 6 بھائی اور 6 بہن ہیں 2008 میں اس کی شادی عاشق حسین نامی ایک شخص سے ہوئی جس سے اسے ایک بیٹا پیدا ہوا لیکن اس کے ایک سال بعد ہی ان کے درمیان علیحدگی ہو گئی۔

    2013 میں پاکستان آئیڈیل پروگرام میں شرکت سے وہ ایک متنازع ماڈل و اداکارہ کی حیثیت سے عوام کے سامنے آئی اس سے قبل وہ ایک گمنام ماڈل و اداکارہ کی زندگی گزار رہی تھی۔ جون 2016 میں ایک عالم دین مفتی عبدالقوی کے ساتھ ایک ہوٹل میں لی گئی ان کی تصویر وائرل ہو گئی جس سے اس کی شہرت بلندی پر پہنچ گئی جبکہ مفتی صاحب کی بہت بڑی بدنامی ہوئی تاہم اس تصویر کی اشاعت پر مفتی صاحب نے کسی قسم کی ندامت یا شرمندگی کا اظہار نہیں کیا۔

    قندیل نے تصویر پر ہونے والی تنقیدی تبصروں کے جواب میں مزید بے باکی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ” بین” کے نام سے ایک وڈیو البم جاری کیا جس میں اس نے معروف صحافی مبشر لقمان سے گفتگو کرتے ہوئے انڈین فلمی اداکارائوں سے متاثر ہونے اور پاکستانی خواتین کی معاشرتی آزادی کی بات کی۔ 15 جولائی 2016 کو اس کے ایک بھائی وسیم نے اسے قتل کر دیا جس سے اس کے خاندان کو بڑے صدمے اور معاشی مشکلات سے دوچار ہونا پڑا۔

  • پاکستان کی لیجنڈ اور نامور اداکارہ ذہین طاہرہ کا یوم وفات

    پاکستان کی لیجنڈ اور نامور اداکارہ ذہین طاہرہ کا یوم وفات

    ذہین طاہرہ پاکستان کی لیجنڈ اور نامور اداکارہ اور پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کا معتبر اور مستند نام تھیں۔

    ذہین طاہرہ پاکستان ٹیلی ویژن کی ایک تجربہ کار اور اولین اداکاراؤں میں سے ایک تھیں۔ انہوں نے فلم کے لیے بھی کام کیا، اداکاری کے علاوہ ذہین طاہرہ پروڈیوسر اور ہدایتکار بھی تھیں۔ انہوں نے ریڈیو پاکستان اور اسٹیج کے لیے بھی کام کیا ذہین طاہرہ 1949ء میں بھارتی شہر لکھنؤ میں پیدا ہوئیں، مرحومہ 45 برس ٹیلی ویژن سے منسلک رہیں، 700 سے زائد ڈراموں میں اداکاری کی۔

    ذہین طاہرہ پاکستان ٹیلی ویژن کی تاریخ میں انتہائی منجھی ہوئی اور اولین اداکارہ تسلیم کی جاتی تھیں۔ انہوں نے ساٹھ، ستر اور اسی کی دہائیوں میں پاکستان ٹیلی ویژن کراچی مرکز سے بے شمار ڈراموں میں انتہائی جاندار کردار ادا کیے۔ذہین طاہرہ نے سات سو ڈراما سیریز میں مرکزی اور اہم کردار ادا کیے۔

    گوگل کی جانب سے کیلینڈر ایپلی کیشن میں انتہائی اہم فیچر شامل

    انہوں نے چند ایک ٹیلی ویژن سیریز کی ہدایتکاری بھی کی۔ آخری سالوں میں انہوں نے زیادہ تر نجی ٹیلی ویژن چینلوں کے ساتھ کام کیا۔ انہوں پاکستان ٹیلی ویژن سے نشر ہونے والے شوکت صدیقی کے لکھے ہوئے ریکارڈ توڑ ڈرامے خدا کی بستی میں مرکزی کردار ادا کیا تھا۔

    کراچی سے تعلق رکھنے والی بے مثال فنکارہ ذہین طاہرہ نے دہائیوں تک پی ٹی وی ڈراموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے اور دور حاضر میں وہ پی ٹی وی کی تاریخ کی سب سے سینیئر اور بزرگ اداکارہ مانی جاتی تھیں۔

    ذہین طاہرہ سیکڑوں ڈراموں میں جلوہ افروز ہو چکی ہیں، انہیں پی ٹی وی کے سب سے مقبول ترین ڈرامے ‘خدا کی بستی’ میں بھی کام کرنے کا اعزاز حاصل ہے۔

    اس کے علاوہ ذہین طاہرہ نے ’عروسہ‘، ’دستک‘، ’دیس پریس‘، ’کالی آنکھیں‘، ’کہانیاں‘، ’وقت کا آسمان‘، ’ماسی اور ملکہ‘، ’راستے دل کے‘، ’کیسی ہیں دوریاں‘، ’شمع‘، ’دل دیا دہلیز‘، ’چاندنی راتیں‘، ’آئینہ‘، ’تجھ پے قربان‘ سمیت کئی ڈراموں میں کام کیا۔

    ورلڈ کپ ، پاک بھارت میچ کیلئے احمد آباد میں ہوٹلزکی قیمتیں آسمان کو چھونے …

    حکومت پاکستان نے شوبز انڈسٹری کے لیے لازوال خدمات کے اعتراف میں 2013ء میں انہیں تمغائے امتیاز سے بھی نوازا تھا۔ ہم ٹی وی لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ بھی 2013ء میں ملا تھا۔

    ہمارے بچپن کی یادوں سے لے کر اب تک ہر ڈرامے کی جان یہ فنکارہ بے پناہ صلاحیتوں کی حامل تھیں۔ ذہین طاہرہ کا تعلق کراچی سے تھا۔ ذہین طاہرہ پی ٹی وی کی تاریخ کی سب سے سینئر اور بزرگ اداکار تھیں جو شروع سے ہی ٹی وی اسکرینوں پر چھائی ہوئی تھیں۔

    انہوں نے تقریبا سات سو سے زائد ڈراموں میں فنکارانہ صلاحیتوں کے جوہر دکھائے۔ انہیں پی ٹی وی کے سب سے مقبول ترین ڈرامے ‘خدا کی بستی’ میں کام کرنے کا اعزاز حاصل ہے جبکہ دل دیا دہلیز، انوکھا بندھن، خالہ خیرن، جینا اسی کا نام ہے، چاندنی راتیں، شمع، زینت، عروسہ، عجائب خانہ، راستے دل کے اور دیگر لاتعداد کاسیک ڈراموں میں جلوہ گر ہونے کا موقع بھی ملا۔

    اداکارہ ذہین طاہرہ عارضہ قلب کے باعث کافی عرصے سے شدید علیل تھیں۔ پھر اچانک دل کا دورہ پڑنے کے باعث کراچی کے نجی اسپتال میں زیر علاج ہوئیں۔ طبیعت زیادہ خراب ہونے کے باعث انہیں وینٹی لیٹر پر منتقل کر دیا گیا۔ 9 جولائی 2019ء کو ذہین طاہرہ کی طبیعت رات گئے انتہائی خراب ہوئی جو سنبھل ہی نہ سکی اور وہ انتقال کر گئیں۔ ان کی تدفین کراچی کے پاپوش نگر قبرستان میں کی گئی۔

    مشینی و جدید کاشتکاری اور موسمیاتی سمارٹ فارمنگ کے طریقوں پرمبنی گرین پاکستان انیشیٹیو کا …

  • 3 جولائی اداکار  حسام قاضی کا یوم وفات

    3 جولائی اداکار حسام قاضی کا یوم وفات

    پاکستان کے معروف ٹی وی اداکار حسام قاضی 1961 میں کوئٹہ میں پیدا ہوئے اور 3 جولائی 2004 کو کراچی میں حرکت قلب بند ہونے کے باعث انتقال کر گئے تھے ، انہیں ان کے آبائی شہر کوئٹہ کی ریلوے ہائوسنگ سوسائٹی کے قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا تھا ۔ پسماندگان میں ایک بیوہ دو بیٹیاں اور ایک شیر خوار بیٹا سوگوار چھوڑا تھا ۔

    حسام قاضی کا شمار پاکستان کے خوب صورت اور مقبول ترین ٹی وی اداکاروں میں ہوتا تھا ۔ وہ پیشے کے لحاظ سے سرکاری ملازم تھے محکمہ تعلیم میں لیکچرار تعینات کئے گئے تھے ۔ انہوں نے بلوچستان یونیورسٹی کوئٹہ سے کامرس میں ماسٹر کرنے کے بعد ایک گورنمینٹ کالج میں لیکچررشپ کی جاب حاصل کی تھی۔ طالب علمی کے زمانے سے ہی انہوں نے اداکاری شروع کر دی تھی۔

    ممتاز بلوچ مصنف اور پہ ٹی وی پروڈیوسر دوست محمد گشکوری کے ڈرامہ ” خالی ہاتھ ” سے اپنے فنی کیریئر کا آغاز کیا تھا۔ کاظم پاشا کی ڈرامہ سیریل ” چھائوں” سے انہیں شہرت ملی۔ جس کے بعد انہوں نے آخر دم تک 300 کے لگ بھگ ڈراموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے۔ وفات کے وقت ان کی ڈرامہ سیریل ” مٹی کی محبت ” زیر تکمیل تھی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    انسانی اسمگلرز کے بینک اکاؤنٹس منجمد
    معروف پروفیسر بلقیس ملک سپردخاک

    پاکستان کو آئی ایم ایف سے نو ماہ میں 3 ارب ڈالر ملیں گے. وزیر اعظم
    امریکا کے شہر ہیوسٹن میں پہلی عالمی اردو کانفرنس کا انعقاد
    کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لئے پشاور پولیس کا موک ایکسر سائز جاری
    ان کے مشہور ڈراموں میں چاکر اعظم ، ماروی ، درد، ایمرجنسی وارڈ، دیس پردیس، لب دریا، کشکول ، گھرانہ و دیگر شامل تھے ۔ حسام قاضی نے 1997 میں میری تنظیم ” بلوچستان سوشل اکیڈمی ” کے زیر اہتمام منعقد ہونے والے ” جشن ڈیرہ مراد جمالی” کی تقریب میں خلیق شیرازی ، عذرا آفتاب و دیگر اداکاروں کے ساتھ شریک ہو کر اپنے فن اداکاری سے شائقین کو خوب محفوظ کیا تھا ۔