Baaghi TV

Tag: شوبز

  • نواز الدین صدیقی نے اپنی بیوی اور بچوں کو گھر سے نکال دیا،ویڈیو

    نواز الدین صدیقی نے اپنی بیوی اور بچوں کو گھر سے نکال دیا،ویڈیو

    بالی ووڈ کے معروف اداکار نواز الدین صدیقی نے اپنی بیوی اور بچوں کو گھر سے نکال دیا۔

    باغی ٹی وی : نواز الدین کی اہلیہ نے ویڈیو اینڈ فوٹو شیرئنگ ایپ انسٹاگرام پر جاری ویڈیو میں دعویٰ کیا ہے کہ ان کے شوہر نے انہیں بچوں سمیت گھر سے نکال دیا ہے۔

    انسٹاگرام پر شئیر کی گئی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ نواز الدین کی بڑی بیٹی زار وقطار رو رہی ہوتی ہیں جبکہ ان کی بیوی عالیہ کہتی ہیں کہ میری بیٹی بہت رو رہی ہے اور ہم بہت پریشان ہیں ہم نوازالدین صدیقی کو کبھی معاف نہیں کریں گی۔

    انہوں نے مزید بتایا کہ ان کے پاس صرف 81 بھارتی روپے موجود ہیں اور انہیں سمجھ نہیں آرہا ہے کہ وہ بچوں کو لے کر کہاں جائیں نہ ان کے پاس ہوٹل میں قیام کرنے کے پیسے ہیں نہ ہی گھر ہے۔

    یہ نوازالدین صدیقی کی اہلیہ نے کہا کہ یہ نواز الدین کا سچ ہے جس نے اپنے معصوم بچوں کو بھی نہیں بخشاجب میں 40 دن گھر میں رہنے کے بعد باہر نکلی تو ورسووا پولیس اسٹیشن کے عہدیداروں نے مجھے فوری طور پر بلایالیکن جب میں اپنے بچوں کے ساتھ گھر واپس گئی تو نوازالدین صدیقی نے بہت سے گارڈز تعینات کیے تاکہ ہمیں اندر نہ آنے دیں-

    انہوں نے کہا کہ مجھے اور میرے بچوں کو اس شخص نے بے دردی سے سڑک پر چھوڑ دیامیری بیٹی کو یقین نہیں آ رہا تھا کہ اس کا باپ اس کے ساتھ ایسا کر سکتا ہے اور سڑک پر رو رہی تھی شکر ہے کہ میرا ایک رشتہ دار ہمیں اپنے ایک کمرے کے گھر میں لےگیا-

    دوسری جانب اس ویڈیو پر اپنا ردِعمل دیتے ہوئے نوازالدین صدیقی نے عالیہ کی جانب سے لگائے گئے ان الزامات کی تردید کی ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ دنوں نوازالدین صدیقی کی اہلیہ پر ان کی ساس نے جائیداد کے تنازع پر مقدمہ درج کروایا تھا جبکہ نوازالدین صدیقی نے بھی عالیہ کو اپنی اہلیہ ماننے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ان کے ساتھ (Live In Relationship) میں تھے جس پر عالیہ نے نوازالدین صدیقی پر ریپ کا مقدمہ درج کروا دیا تھا۔

  • محب مرزا اورصنم سعید نے اپنی شادی کا باضابطہ اعلان کر دیا

    محب مرزا اورصنم سعید نے اپنی شادی کا باضابطہ اعلان کر دیا

    اداکار محب مرزا نے اپنی ساتھی اداکارہ صنم سعید سے دوسری شادی کی تصدیق کردی۔

    باغی ٹی وی :پاکستانی شوبز انڈسٹری کی معروف جوڑی اداکار محب مرزا نے اداکارہ و ماڈل آمنہ شیخ نے 2005 میں شادی کی تھی دونوں کی ایک بیٹی بھی ہے تاہم اکتوبر 2019 میں شادی کے 14 سال بعد جوڑے کی علیحدگی ہو گئی تھی۔

    گزشتہ دنوں محب مرزا نے دوسری شادی کی تصدیق کی تھی تاہم اپنی دلہن کا نام نہیں بتایا تھا لیکن اب محب مرزا کی دوسری اہلیہ بھی سامنے آگئیں۔

    نجی ٹی وی پر اداکار فہد مصطفیٰ کے پروگرام میں محب مرزا اور صنم سعید نے شرکت کی جہاں میزبان نے دونوں کی شادی کا اعلان کیا اور مبارکباد بھی دی۔

    میزبان کے ایک سوال کے جواب میں صنم سعید نے کہا کہ اپنے شوہر کو اتنی توجہ دیں جتنی آپ اپنے بچے کو دیتے ہیں-

    خیال رہے اداکارہ صنم سعید نے 2015 میں اپنے دوست فرحان حسن سے شادی کی تھی جس کے بعد انہوں نے پاکستان چھوڑ دیا تھا تاہم کچھ ذاتی اختلافات کے باعث 2018 میں دونوں کی علیحدگی ہوگئی تھی۔

  • شاہ رخ خان کی اہلیہ گوری خان کے خلاف مقدمہ درج

    شاہ رخ خان کی اہلیہ گوری خان کے خلاف مقدمہ درج

    ممبئی: بالی ووڈ سُپر اسٹار شاہ رخ خان کی اہلیہ گوری خان کے خلاف جائیداد کی خریداری پر شکایت درج کروا دی گئی ہے،یہ ایف آئی آر گوری خان سمیت تین لوگوں کے خلاف درج کی گئی ہے۔

    بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق ممبئی کے ایک رہائشی جسونت شاہ نےالزام لگایا ہےکہ گوری خان جس کنسٹرکشن کمپنی کی برانڈ ایمبیسیڈر ہیں وہ 86 لاکھ روپے وصول کرنے کے باوجود فلیٹ کا قبضہ نہیں دے رہی ہے۔

    شکایت میں کہا گیا ہے کہ جسونت شاہ نے فلیٹ برانڈ ایمبیسیڈر گوری خان سے متاثر ہو کر خریدا تھا۔

    تلسیانی کنسٹرکشن کے چیف ایم ڈی انیل کمار اور ڈائریکٹر مہیش تلسیانی کے خلاف بھی ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ مذکورہ فلیٹ لکھنؤ کے سوشانت گالف سٹی میں تلسیانی گولڈ ویو میں واقع ہے۔

    تلسیانی گروپ پر الزام ہے کہ رقم لینے کے بعد بھی اس نے فلیٹ کسی اور کو دے دیا۔ یہ معاملہ سوشانت گولف سٹی علاقہ کے تلسیانی گولف ویو میں فلیٹ کی خرید سے متعلق ہے-

    گوری خان کے خلاف مقدمہ بھارتی پینل کوڈ کی دفعہ 409 اعتماد کی مجرمانہ خلاف ورزی کے تحت درج کیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ گوری خان کی اپنی بھی ایک کمپنی ہے جس کا نام ’گوری خان ڈیزائنز‘ ہے وہ بی ٹاؤن کی بہترین انٹیریئر ڈیزائنرز میں سے ایک ہیں گوری نے بہت سی مشہور شخصیات کے گھر ڈیزائن کئے ہیں۔

  • انڈین میوزک ادارے ٹی سیریز نےفلم "جوائے لینڈ” کا گانا چوری کر لیا

    انڈین میوزک ادارے ٹی سیریز نےفلم "جوائے لینڈ” کا گانا چوری کر لیا

    کراچی: انڈین میوزک ادارے ٹی سیریز نے پاکستا نی فلم ” جوائے لینڈ” کا گانا چوری کیا ہے۔

    باغی ٹی وی: موسیقار فراست انیس نے انسٹاگرام پر ایک ویڈیو پوسٹ کی ہے جس میں جوائے لینڈ کے گانے ’بیبا‘ اور ٹی سیریز کے گانے کے کچھ حصوں کا موازنہ کیا گیا ہے-

    انہوں نے کہا کہ یہ کتنی شرمندگی کی بات ہے کہ ٹی سیریز ہمارے کام کو چوری کررہا ہے اور وہ بھی صرف اس لئے کی یہ گانا دنیا بھر میں ٹرینڈ پر ہے۔

    موسیقار نے کہا کہ میں اور میرے بھائیوں نے اس گانے کو جہاں تک پہنچانے کے لیے دن رات کام کیا براہ کرم کچھ شرم کریں اور پاکستان کے ایک عمدہ گانے کو برباد نہیں کرنا چاہئے، اگر آپ گانا دوبارہ پیش کرنا چاہتے ہیں، تو آپ کو اصل چیزوں کے ساتھ کرنا چاہیے تھا-

    فراست انیس کے مطابق انہیں انڈین مداحوں کی طرف سے مکمل حمایت اور مدد ملی ہے اور وہ اس پر ان کے شکر گزار ہیں۔

    انہوں نے مداحوں سے درخواست کی کہ اس سستی کاپی کے کمنٹ سیکشن پر بھی ہمارا ساتھ دیں۔ سرحد پار سننے والوں کا ہمیشہ شکر گزار رہوں گا-

    انہوں نے کہا کہ ہماری ٹیم نے ای میل کے ذریعے ٹی سیریز سے رابطہ کیا ہے لیکن ان کی طرف سے ابھی تک ہمیں کوئی جواب موصول نہیں ہوا ہے۔

  • اداکارہ مشی کا کنگنا رناوت کو پاکستان مخالف ٹوئٹ پر کھری کھری سنا دیں

    اداکارہ مشی کا کنگنا رناوت کو پاکستان مخالف ٹوئٹ پر کھری کھری سنا دیں

    پاکستانی اداکارہ مشی خان نے بالی وڈ اداکارہ کنگنا رناوت کو بھارتی مصنف اور شاعر جاوید اختر کی جانب سے دیئے گئے بیان کے بعد ان کی حمایت کرنے پر کھری کھری سنادیں۔

    باغی ٹی وی :بھارتی شاعرجاوید اخترنے گزشتہ دنوں لاہورمیں معقد ہونیوالے فیض فیسٹول میں ایک سیشن کے دوران اظہارخیال کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم ممبئی کے لوگ ہیں ہم نے دیکھا کیسے حملہ ہوا تھا، وہ لوگ ناروے سے تونہیں آئے تھے اورنہ ہی مصر سے آئے تھے، وہ لوگ ابھی بھی آپ کے ملک میں گھوم رہے ہیں،ایک ہندوستانی کے دل میں شکایات ہوتوآپ کوبرانہیں ماننا چاہیے-

    جاوید اختر نے فیض فیسٹیول کے دوران پاکستانیوں سے متعلق متنازع گفتگو کی تھی جس کے بعد سے جاوید اختر سوشل میڈیا پر تنقید کی زد میں ہیں اور اب شوبز شخصیات کی جانب سے بھی ان کے بیان سے متعلق ناراضگی کا اظہار کیا جارہا ہے۔

    جاوید اختر کے پاکستان مخالف اس بیان کو لے کر بھارتی میڈیا اور اداکار اُن کی خوب تعریف کر رہے ہیں بھارتی اداکارہ کنگنا رناوت نے جاوید اختر کے فیض احمد فیض فیسٹیول میں دیئے گئے بیان کو ٹوئٹر پر شیئر کرتے ہوئے پاکستان کی مخالفت میں ایک طنزیہ ٹوئٹ کی تھی اداکارہ کنگنا رناونت نے بھی جاوید اختر کے اس بیان پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں خوب سراہا اورکہا تھا کہ جاوید اختر نے پاکستان کو گھر میں گُھس کر مارا ہے۔

    جس کے ردعمل میں اب پاکستانی اداکارہ مشی خان نے ایک ویڈیو بیان جاری کیا ہےجس میں انہوں نے کنگنا کو مخاطب کرتے ہوئے جواب دیا کہ’ گھر میں گھس کر مارنے کی تو تمہاری اوقات نہیں ہے، جو تم اپنی ٹوئٹس میں اتنا کچھ لکھ رہی ہوتی ہو-

    مشی خان نے کہا کہ جہاں تک جاوید اختر کی بات ہے وہ ہمارے مہمان تھے، مہمان اگر گھر میں آئے تو ہم میں اتنی تمیز اور تہذیب ہے کہ ہم مہمانوں کے ساتھ وہ نہیں کرتے جو ایک مینٹل قسم کی عورت کرتی ہے اس لیے اپنی زبان کو لگام دے کر بات کیا کرو۔

    مشی خان نے جاوید اختر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اندازہ نہیں تھا کہ یہ 3 دن انجوائے کرکے دودھ میں مکھی ڈال دیں گے، آپ ایک ادبی فیسٹیول میں آئے تھے، آپ کا کام اس فیسٹیول کے بارے میں بات کرنا تھا لیکن آپ نے واپس جا کر جو خوشامدی دکھائی یہ کہتے ہوئے کہ میری بات پر سب نے تالیاں بجائیں تو بتائیں کیا کرتے اسی وقت آپ کو تھپڑ مارتے؟-

  • اداکارہ مدھوبالا کا یوم وفات

    اداکارہ مدھوبالا کا یوم وفات

    مدھوبالا (پیدائشی نام ممتاز جہاں بیگم دہلوی) ایک ہندوستانی فلمی اداکارہ تھی جس نے بالی ووڈ کی کلاسک فلموں میں کام کیا۔ اپنی خوبصورتی، شخصیت اور فلموں میں خواتین کی حساس تصویر کشی کے لیے جانی جانے والی، وہ "دی بیوٹی ود ٹریجڈی” اور "دی وینس آف انڈین سنیما” کے نام سے مشہور تھیں اور ان کا موازنہ ہالی ووڈ اداکارہ مارلن منرو سے کیا جاتا تھا اور وہ مارلن منرو کے نام سے مشہور تھیں۔ بالی ووڈ کی. وہ 1942 اور 1964 کے درمیان سرگرم تھیں۔

    مدھوبالا 14 فروری 1933 کو ممتاز جہاں بیگم دہلوی کے طور پر پیدا ہوئیں، جو برطانوی راج دہلی میں گیارہ بچوں میں سے پانچویں تھیں۔ ان کے والدین عطاء اللہ خان اور عائشہ بیگم تھے۔ اس کے دس بہن بھائی تھے جن میں سے صرف چار جوانی تک زندہ رہے۔ اس کے والد، پرانی وادی پشاور سے تعلق رکھنے والے عطاء اللہ خان پشتون، جس میں مردان اور صوابی کے موجودہ علاقے شامل ہیں جو اب پاکستان میں ہیں۔ ان کے والد کا تعلق پشتونوں کے یوسف زئی قبیلے سے تھا۔ پشاور میں امپیریل ٹوبیکو کمپنی میں ملازمت کھونے کے بعد اس نے خاندان کو دہلی اور پھر بمبئی منتقل کردیا۔ خاندان نے بہت سی مشکلات برداشت کیں۔ مدھوبالا کی تین بہنیں اور دو بھائی پانچ اور چھ سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔ 14 اپریل 1944 کو گودی میں ہونے والے دھماکے اور آگ نے ان کے چھوٹے سے گھر کا صفایا کر دیا۔ یہ خاندان صرف اس لیے بچ گیا کہ وہ ایک مقامی تھیٹر میں فلم دیکھنے گئے تھے۔

    اپنی باقی چھ بیٹیوں کے ساتھ، خان، اور نوجوان مدھوبالا نے کام کی تلاش کے لیے بمبئی کے فلم اسٹوڈیوز کا اکثر دورہ کرنا شروع کر دیا۔ 9 سال کی عمر میں، یہ فلم انڈسٹری میں مدھوبالا کا تعارف تھا، جو اس کے خاندان کو مالی مدد فراہم کرے گی۔ گھر میں، مدھوبالا کا لقب مجلے آپا تھا کیونکہ وہ اپنے والدین کی پانچویں اولاد تھیں۔ مدھوبالا گھر میں اردو اور ہندی بولتی تھی۔ وہ انگریزی کا ایک لفظ بھی نہیں بول سکتی تھی لیکن زبان سیکھنے کی خواہش رکھتی تھی۔

    مدھوبالا نے فلم بسنت (1942) سے 9 سال کی عمر میں ایک معمولی کردار میں اسکرین پر قدم رکھا۔ تاہم، ان کے اداکاری کا کیریئر دراصل 1947 میں شروع ہوا، جب اس نے 14 سال کی عمر میں راج کپور کے ساتھ فلم نیل کمل (1947) سے ڈیبیو کیا۔ 22 سال کے کیریئر کے دوران، مدھوبالا مختلف قسم کی 70 سے زیادہ فلموں جیسے کہ محل (1949)، دلاری (1949)، بے قصور (1950)، ترانہ (1951)، امر (1954)، میں اپنے کرداروں کے لیے جانی جاتی تھیں۔ مسٹر اینڈ مسز ’55 (1955)، چلتی کا نام گاڑی (1958)، ہاوڑہ برج (1958) اور مغل اعظم (1960)۔ وہ دلیپ کمار، گرو دت، اشوک کمار، دیو آنند، کشور جیسے اداکاروں کے ساتھ اور بہت سے دوسرے ان کے ساتھی اداکاروں کے طور پر۔ 73 ہندی فلموں میں سے صرف پندرہ ہی باکس آفس پر کامیاب ہوئیں۔ انہوں نے مغل اعظم (1960) میں اپنی اداکاری کے لیے بہترین اداکارہ کے فلم فیئر ایوارڈ کے لیے واحد نامزدگی حاصل کی۔

    مدھوبالا کو محل (1949)، امر (1954)، مسٹر اینڈ مسز ’55 (1955)، چلتی کا نام گاڑی (1958)، مغل اعظم جیسی فلموں میں اپنی اداکاری کے لیے وسیع پیمانے پر پہچان ملی۔ مغل اعظم (1960) اور برسات کی رات (1960)۔ مغل اعظم میں ان کی اداکاری نے انہیں ہندی سنیما کی ایک مشہور اداکارہ کے طور پر قائم کیا۔ ان کی آخری فلم جوالا، اگرچہ 1950 کی دہائی میں شوٹ ہوئی تھی، 1971 میں ریلیز ہوئی تھی۔

    انہوں نے اپنے ساتھی اداکار کشور کمار سے 1960 میں شادی کی۔ دونوں نے ایک ساتھ فلموں میں کام کیا جیسے ڈھاکے کی ململ (1956)، چلتی کا نام گاڑی (1958)، جھمرو (1961)، ہاف ٹکٹ (1962)۔ مدھوبالا کی زندگی اور کیریئر اس وقت منقطع ہو گئی جب وہ 23 فروری 1969 کو 36 سال کی عمر میں طویل علالت کی وجہ سے انتقال کر گئیں۔

  • سلمان خان نےپاکستان کی جاسوسی پر مبنی فلم کرنے سے انکار کر دیا

    سلمان خان نےپاکستان کی جاسوسی پر مبنی فلم کرنے سے انکار کر دیا

    ممبئی: بالی ووڈ کے ٹائیگرسلمان خان نے پاکستان کی جاسوسی پر مبنی فلم کرنے سے انکار کر دیا۔

    باغی ٹی وی: بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق سلمان خان نے بھارت کی انٹیلیجنس ایجنسی ’را‘ کے جاسوس رویندرا کوشک کی زندگی پر بننے والی بائیوپک ’بلیک ٹائیگر‘ میں کام کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

    سلمان خان کا کہنا ہے کہ وہ اپنی’ ٹائیگر‘ سیریز میں پہلے ہی بھارتی جاسوس کا کردار ادا کر رہے ہیں اور انکی فلم بلاک بسٹر ہے اس لئے وہ کسی اور ایسی فلم کا حصہ نہیں بننا چاہتے جو جاسوسی پر مبنی ہو سلمان خان نے اپنی ٹیم سے مشاورت کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ اس فلم میں کام نہیں کریں گے۔

    کورونا وبا کے دوران سلمان خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق بھی کی تھی کہ وہ بھارتی جاسوس رویندرا کوشک کی بائیوپک کیلئے ہدایتکار راجکمار گپتا کے ساتھ رابطے میں ہیں۔

    دوسری جانب سلمان خان کی جانب سے انکار کے بعد اس فلم کے جملہ حقوق مشہور بھارتی ہدایتکار انوراگ باسو نے خرید لیے ہیں جو مذکورہ فلم کو سلمان خان کی ٹائیگر سیریز سے مختلف بنانے کیلئے پُرعزم ہیں تاہم فلم کیلئے سُپر اسٹار سلمان خان کے انکار کے بعد ’را‘ کے جاسوس کی زندگی پر بننے والی بائیوپک ’بلیک ٹائیگر‘ میں مرکزی کردار کونسے بالی ووڈ اسٹار کو ملے گا اس کا فیصلہ تاحال نہیں کیا جاسکا ہے۔

    واضح رہے کہ رویندرا کوشک ’را ‘کے جاسوس تھے جنہیں بھارتی وزیرِاعظم نے ’بلیک ٹائیگر‘ کا لقب دیا تھا رویندرا کوشک نے 1975 سے 1983 تک پاکستان کی جاسوسی کی جبکہ گرفتاری کے بعد 2001 میں میانوالی کے جیل میں ان کی موت ہوگئی۔

  • ضیا محی الدین اپنی ذات میں ایک فن پارہ تھے،وزیراعظم

    ضیا محی الدین اپنی ذات میں ایک فن پارہ تھے،وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف نے ممتاز اداکار ، صداکار اور ٹی وی میزبان ضیا محی الدین کے انتقال پر تعزیت کا اظہارکیا ہے-

    باغی ٹی وی: وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ ضیا محی الدین اپنی ذات میں ایک فن پارہ تھے، ضیا محی الدین کے مخصوص انداز نے پاکستان سمیت دنیا بھر میں دھوم مچائی، افسوس ہے کہ کئی خوبصورت خوبیوں کا مالک شخص معاشرے سے کوچ کرگیا۔

    وزیراعظم شہباز شریفنے کہا کہ ضیا محی الدین کی آواز ہمارے ذہن میں گونجتی رہےگی، ضیا محی الدین کی صلاحیتوں اور ان کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں، اللہ تعالی مرحوم کے درجات بلند فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل دے، آمین۔

    واضح رہے کہ ممتاز اداکار ، ہدایت کار اور ٹی وی میزبان ضیا محی الدین 91 برس کی عمر میں کراچی میں انتقال کرگئےضیا محی الدین کی نماز جنازہ آج بعد نماز ظہر ڈیفنس فیز 4 میں امام بارگاہ یثرب میں ادا کی جائے گی۔

    اداکار،ہدایتکار اور ٹی وی میزبان ضیا محی الدین کی نماز جنازہ آج بعد نماز ظہر ادا کی جائے گی

  • عالمی شہرت یافتہ اداکار،میزبان ضیاء محی الدین کا مختصر تعارف

    عالمی شہرت یافتہ اداکار،میزبان ضیاء محی الدین کا مختصر تعارف

    ضیاء محی الدین 20 جون 1933ء کو لائل پور (فیصل آباد) میں پیدا ہوئے۔ ان کا خاندان روہتک (ہریانہ) سے تعلق رکھتا تھا۔ انہوں نے ابتدائی زندگی قصور اور لاہور میں گزاری۔

    آپ وہ واحد ادبی شخصیت تھے جن کے پڑھنے اور بولنے کے انداز کو عالمی شہرت نصیب ہوئی اردو طنزو مزاح کے بادشاہ مشتاق احمد یوسفی نے ضیاء محی الدین کے بارے میں ایک جگہ لکھا تھا کہ ضیاء اگر کسی مردہ سے مردہ ادیب کی تحریر پڑھ لے تو وہ زندہ ہوجاتا ہے۔

    برطانیہ میں 1960ء میں عالمی شہرت یافتہ ادیب ایڈورڈ مورگن فوسٹر کے مشہور ناول ”A Passage to India“ پر بنے اسٹیج ڈرامے میں ضیاء محی الدین صاحب نے ڈاکٹر عزیز کا کردار ادا کر کے عالمگیر شہرت حاصل کی۔ انہوں نے اس ڈرامے میں ایسی شاندار اور باکمال پرفارمنس دی کہ شائقین حیرت زدہ رہ گئے۔
    اس کے علاوہ ان کے انگریزی ٹی وی ڈراموں میں ”ڈینجرمین، دی ایونجرز مین، ان اے سوٹ کیس، ڈیٹیکٹو، ڈیتھ آف اے پرنسس، دی جیول پرائڈ، ان دی کرائون اور فیملی“ سرفہرست ہیں۔

    ضیاء محی الدین نے اپنے فلمی سفر کا آغام 1962ء میں ہالی ووڈ کی مشہور زمانہ کلاسیکی فلم ”لارنس آف عریبیہ“ سے کیا تھا۔
    اس فلم میں انہوں نے عربی بدو کا کردار ادا کیا جسے عمر شریف اس بنا پر گولی مار کر ہلاک کر دیتا ہے کیوں کہ وہ غلط کنویں سے پانی پی لیتا ہے۔ اگرچہ انھوں نے اس فلم میں مختصر کردار ادا کیا لیکن یادگار پرفارمنس دی۔
    ان کی مشہور انگریزی فلموں میں ”خرطوم، دی سیلر فرام جبرالٹر، بمبئے ٹاکی اور پارٹیشن‘‘ بھی شامل ہیں۔

    1969ء اور 1973 ء میں انہوں نے پی ٹی وی سے ایک اسٹیج شو ’’ضیاء محی الدین شو‘‘ کا آغاز کیا اور بطور میزبان ایسی پرفارمنس دی کہ مقبولیت کے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے۔ اس پروگرام کے ذریعے انہوں نے اردو ادب کی توجیح و تشریح اور پاکستانیوں میں اردو زبان سے محبت بیدار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے قوم کو احساس دلایا کہ اردو زبان دنیا کی سب سے خوبصورت زبان ہے جس کے لہجے میں الہامی کیفیت ہے، اسی لیے ضیاء محی الدین کو اردو زبان کا سب سے حسین و دلکش لہجہ کہا جاتا تھا۔

    اس شو کی خصوصیت یہ تھی کہ اس کے اختتام پر وہ ایک منفرد ڈانس کیا کرتے تھے، جو شائقین کے دلوں کو بہت بھاتا تھا اس کے علاوہ انھوں نے پاکستان ٹیلی ویژن سے جو پروگرام پیش کیے ان میں پائل، چچا چھکن، ضیاء کے ساتھ اور جو جانے وہ جیتے کے نام سب سے نمایاں ہیں۔

    انہوں نے اردو زبان کے نایاب شاعر و فلسفی مرزا اسداللہ خان غالبؔ کے خطوط جس انداز میں پڑھے، اس سے بھی انہیں بہت شہرت ملی۔
    ضیاء محی الدین نے دو کتابیں ”دی گاڈ آف مائی ایڈولیٹری“ اور ”اے کیرٹ از اے کیرٹ: میموریز اینڈ ریفلیکشنز“ بھی تخلیق کی تھیں۔

    آپ کو 2003ء میں حکومت پاکستان کی طرف سے ستارۂ امتیاز اور 2012ء میں ہلال امتیاز سے نوازا گیا انہیں پیپلز پارٹی دور میں پی آئی اے آرٹس اکیڈمی اور 2004ء میں نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس کا ڈائریکٹر مقرر کیا گیا تھا۔

  • اداکار،ہدایتکار اور ٹی وی میزبان ضیا محی الدین کی نماز جنازہ آج بعد نماز ظہر ادا کی جائے گی

    اداکار،ہدایتکار اور ٹی وی میزبان ضیا محی الدین کی نماز جنازہ آج بعد نماز ظہر ادا کی جائے گی

    کراچی:ممتاز اداکار ، ہدایت کار اور ٹی وی میزبان ضیا محی الدین 91 برس کی عمر میں انتقال کرگئے۔

    باغی ٹی وی: ضیا محی الدین کی نماز جنازہ آج بعد نماز ظہر ڈیفنس فیز 4 میں امام بارگاہ یثرب میں ادا کی جائےگی۔

    گورنر پنجاب بلیغ الرحمان نے ضیاء محی الدین کے انتقال پر افسوس کااظہار کیا گورنر پنجاب نے کہا کہ ضیاء محی الدین لیجنڈ آرٹسٹ تھے-


    ضیا محی الدین 20 جون 1931 کو فیصل آباد میں پیدا ہوئے، انھوں نے ریڈیو آسٹریلیا سے صداکاری کے کام کاآغاز کیا، بہت عرصے تک برطانیہ کےتھیٹر کیلئے کام کیا، برطانوی سنیما اور ہالی ووڈ میں بھی فن کے جوہر دکھائے، 50 کی دہائی میں لندن کی رائل اکیڈمی آف ڈراماٹک آرٹ سے اداکاری کی باقاعدہ تربیت حاصل کی۔

    ضیامحی الدین کو 1962 میں فلم لارنس آف عریبیہ میں کام کرنے کا موقع ملا،انھوں نے اس فلم میں ایک یادگار کردار ادا کیا ضیامحی الدین براڈوے کی زینت بننے والے جنوبی ایشیا کےپہلے اداکار تھے 70 کی دہائی میں پی ٹی وی سےضیامحی الدین شو کے نام سے منفردپروگرام شروع کیا اور 1973 میں پی آئی اے آرٹس اکیڈمی کےڈائریکٹر مقرر کردیئےگئے۔

    جنرل ضیا الحق کے مارشل لا کے بعد ضیا محی الدین واپس برطانیہ چلےگئے90 کی دہائی میں مستقل پاکستان واپس آنےکا فیصلہ کیا، ضیام حی الدین نے انگریزی اخبار دی نیوزمیں کالم بھی لکھے، ضیامحی الدین کی کتاب”A carrot is a carrot” ایک مکمل ادبی شہہ پارہ ہے۔

    ضیامحی الدین کی خدمات کے اعتراف میں 2003 میں انھیں ستارہ امتیاز اور 2012 میں ہلال امتیاز سے نوازا گیا،ضیامحی الدین نے 2004 میں کراچی میں نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹ کی بنیاد رکھی اور زندگی کے آخری لمحات تک نیشنل اکیڈمی آف پرفامنگ آرٹس کے سربراہ رہےضیا محی الدین کےوالدکوپاکستان کی پہلی فلم تیری یاد کےمصنف اورمکالمہ نگار ہونےکا اعزاز حاصل تھا۔