Baaghi TV

Tag: شوبز

  • کراچی سفید شیر کی ہلاکت: شوبز فنکار انتظامیہ پر برہم، چڑیا گھر بند کرنے کا مطالبہ

    کراچی سفید شیر کی ہلاکت: شوبز فنکار انتظامیہ پر برہم، چڑیا گھر بند کرنے کا مطالبہ

    کراچی: چڑیا گھر میں نایاب نسل کے سفید شیر کی ہلاکت کے بعد شوبز ستاروں نے انتظامیہ پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے چڑیا گھر بند کرنے کا مطالبہ کردیا۔

    باغی ٹی وی : گزشتہ روز کراچی چڑیا گھر میں نایاب نسل کے سفید شیر کی ہلاکت کی خبر سامنےآنے کے بعد ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضیٰ وہاب نے نوٹس لیتے ہوئے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کی تھی جب کہ ترجمان بلدیہ عظمیٰ کراچی کا کہنا تھا کہ شیر کو پھیپھٹروں کی ٹی بی تھی اور وہ گزشتہ 13 روز سے بیمار تھا اور علالت کے باعث ہی شیر کی موت ہوئی ہے۔

    تاہم شوبز ستارےانتظامیہ کی اس دلیل سے بالکل بھی متفق نہیں ہیں انہوں نے چڑیا گھر میں شیر کی ہلاکت پر شدید افسوس کاا ظہار کرتے ہوئے چڑیا گھر کو بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    photo:Instagram

    اداکارہ یشما گل نے شیر کی ہلاکت کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا انہوں نے بتایا کہ وہ اپنے مینجر کے ہمراہ کراچی چڑیا گھر گئی تھیں جانوروں کے لیے کھانا لے کر لیکن انہیں کہا گیا کہ مسئلہ حل ہوچکا ہے اور شیر سمیت تمام جانوروں کو مناسب خوراک فراہم کی جارہی ہے۔ تاہم 5 گھنٹے بعد انہیں اپنے ایک دوست کی طرف سے یہ تصویر موصول ہوئی انہوں نے چڑیا گھر کی انتظامیہ پر برستے ہوئے کہا جو بھی اس جرم میں ملوث تھا کیا اب آپ خوش ہیں کیا حکومت اب فنڈز جاری کردے گی-

    Photo:Instagram

    یشما گل نے ایک اور انسٹااسٹوری پر چڑیا گھر کو ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا خاص طور پر ہمارے جیسے ممالک میں جہاں ہم جانوروں کی خوراک کا انتظام بھی کرنے کے متحمل نہیں ہوسکتے۔

    Photo:Instagram

    یاسر حسین نے بھی انتظامیہ کی لاپرواہی پر برہمی کا اظہار کیا-

    Photo:Instagram

    اداکارہ ارمینا خان نے بھی یشما گل کی پوسٹ کو شئیر کرتے ہوئے انتظامیہ کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا ان پر تشدد کرنا ،انہیں بھوکا مارنا،بے زبان پر ظلم ان سب سے میرا دل ہل جاتا ہے انہوں نے انتظامیہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کیسے کر لیتے ہو یہ سب ڈرو اس وقت سے جب اس کا حساب ہوگا-

    Photo:Instagram

    اداکارہ اشنا شاہ نے مرے ہوئے شیر کی تصویر انسٹاگرام پر شیئر کرتے ہوئے چڑیا گھر کی انتظامیہ پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ شیر کی موت کی ذمہ دار تپ دق کی بیماری کو قرار دینے کی کوشش کررہی ہے لیکن ہم سب جانتے ہیں کہ ٹھیکیدار نے جانوروں کو کھانا دینا بند کردیا تھا اور یہ نایاب جانور ایک لمبے عرصے سے بھوکے تھے۔

    اداکارہ اشنا شاہ نے اپنے تمام فالوورز کو بتایا کہ ہم نے جانوروں اور جنگلی حیات کی دیکھ بھال کرنے میں نااہلی کا مظاہرہ کیا ہے لہذا چڑیا گھروں کو فوری طور پر ختم کردینا چاہئے۔ پاکستان کے پاس جانوروں کو اتنی مقدار میں بھی کھانا کھلانے کے پیسے نہیں ہیں جتنی کہ انہیں ضرورت ہے۔

    photo:social meida

    اداکارہ عائشہ عمر نے بھی کراچی چڑیا گھر میں شیر کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کیا اور شیر کی ہلاکت کی وجہ تپ دق کی بیماری کو قرار دینے پر انتظامیہ
    پر شدید تنقید کی۔


    سابق کپتان وسیم اکرم کی اہلیہ اور سماجی کارکن شنیرا اکرم نے بھی کراچی چڑیا گھر میں شیر کی ہلاکت کی مذمت کرتے ہوئے کہا یہ مرگیا کیونکہ ہم اس کی دیکھ بھال نہیں کرسکے۔ چڑیا گھر وہ جگہ ہونی چاہئے جہاں جانور تحفظ، صحت کی سہولیات، بحالی، تفریح اور افزائش کے لیے جاتے ہیں۔ کم از کم لوگ پھر ان کا مشاہدہ کرنے جاسکتے ہیں۔ شنیرا اکرم نے چڑیا گھر کو جانوروں کی جیل قرار دیا۔

    کراچی چڑیا گھر میں موجود نایاب نسل کا سفید شیر ہلاک

    ثابت ہوگیا کہ عمران خان ایک نااہل حکمران ہیں،بلاول

    دورہ بھارت کی دعوت، چیئرمین سینیٹ نے "جواب ” دے دیا

  • انوپم کھیر ۔۔۔ فن کے بجائے جنگ کا حامی تحریر: محمد فہد شیروانی

    انوپم کھیر ۔۔۔ فن کے بجائے جنگ کا حامی تحریر: محمد فہد شیروانی

    شدت پسندانہ ہندو ذہنیت سے لبریز انوپم کھیر کی انتہا پسندی سے کون واقف نہیں۔ اپنے ٹوئٹر پیغام میں انوپم کھیر نے لکھا ہے کہ ” کشمیر کا مسئلہ حل کی جانب بڑھ رہا ہے”۔ صرف اسی ایک بیان سے آپ انوپم کھیر کی کھال میں چھپا خونخوار بھیڑیا دیکھ سکتے ہیں جو نہتے معصوم و مظلوم کشمیریوں کا خون پینے کو بیتاب ہے۔
    نسل کشی کے حوالے دینے والے آدمخور طبیعت انوپم کھیر کو انڈیا میں مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کیوں نہیں دکھائی دیتے۔ انوپم کھیر کی آنکھوں پر جمی انسانیت سے عاری ہندووانہ سیاہ پٹی اسے انسان اور انسانی ہمدردی سے دور کر چکی ہے۔
    کشمیر کا مسئلہ اس وقت دنیا کو درپیش سب سے بڑی مسائل میں سے ایک ہے جس کے باعث اب تک تین جنگیں ہو چکی ہیں۔ دنیا کی دو جوہری طاقتیں پاکستان اور انڈیا اس مسئلے کو لے کر ایک دوسرے کے سامنے ڈٹے رہتے ہیں اور ان کی عوام بھی دل جان سے اپنی افواج کا ساتھ دیتے ہیں بالخصوص پاکستانی۔ پاکستان کا ہر جوان، ہر بوڑھا، ہر بچہ ایسے موقع پر فوجی بن کر دشمن کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن جاتا ہے۔ ایسے مواقع پر پاکستانی خواتین بھی کسی طور مردوں سے پیچھے نہیں۔

    انڈیا کی جانب سے کشمیر میں پیدا کی گئی حالیہ کشیدگی اور ظلم کی ہر انٹرنیشنل فورم پر مذمت کی جا رہی ہے۔ اداکاروفنکار جنہں امن و آشتی کا پیامبر سمجھا جاتا ہے ان میں موجود چند شرپسند نہ امن چاہ رہے ہیں نہ آشتی۔ اپنی شہرت کا ناجائز فائدہ اٹھانے والے شرپسندوں میں سب سے بڑا نام سطحی کردار ادا کرنے والے انڈین اداکار انوپم کھیر کا ہے۔ جب کبھی انڈیا پاکستان میں کشیدگی بڑھتی ہے انوپم کھیر فوراً شرپسندی شروع کرکے اپنی افواج اور قوم کو بھڑکانا شروع کر دیتا ہے جس سے کسی اور کا نقصان ہو یا نہ ہو انڈین فوج کا نقصان ضرور ہوجاتا ہے جس کی تازہ مثال پاکستانی فوج کی جانب سے گرائے گئے انڈین طیارے اور ابھی نندن ہے۔
    انوپم کھیر نے آرٹیکل 370 کے ختم ہونے پر کشمیریوں کے حق آزادی کے سلب ہونے کو خوش آئند قرار دیا۔ انڈین چینل کو دئیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ کشمیر میں ہندوؤں کو ایک الگ جگہ دینی چاہئیے تاکہ وہاں ہندو آبادکاری ہو سکے۔ فلمی سکرین پر بظاہر معصوم نظر آنے والا انوپم کھیر دراصل کتنے کٹھور و ظالم دل کا مالک ہے یہ حقیقت اب سب پر آشکارا ہو چکی ہے۔
    انوپم کھیر کے علاوہ بہت سے دیگر انڈین اداکار بھی کشمیریوں کا حق مارنے والے اس آرٹیکل کے ختم ہونے کے حق میں باتیں کر رہے ہیں اور کشمیر میں انڈین فوج کی پر تشدد کاروائیوں کی کھلم کھلا تائید کر رہے ہیں۔ جبکہ حیرت انگیز طور پر پاکستانی فنکار و اداکار اس حساس معاملے میں بالکل خاموش ہیں۔ اس ایشو کی جانب توجہ دلاتے ہوئے پاکستان کی مشہور بلاگر جویریہ صدیقی نے بھی سوال اٹھایا ہے کہ "ہمارے بیشتر اداکار مسئلہ کشمیر پر بات کرنے سے کتراتے کیوں ہیں”؟
    انڈیا کو لے کر ہمارے فنکاروں کے منہ پر لگے تالے اچنبھے کی بات ہے۔ اس نازک موقع پر عام عوام کی طرح شوبز برادری کو بھی اپنے ملک اور افواج کا ساتھ دیتے ہوئے حب الوطنی کا ثبوت دینا چاہئیے۔ ہمیں انڈیا سے فلموں میں کام، ناچ، گانا یا لچر پن نہیں چاہئیے، ہمیں صرف اور صرف انڈیا اور کشمیر میں بسنے والے مسلمان بہن بھائیوں کا تحفظ چاہئیے۔ ہر معاملے میں بڑھ چڑھ کر بولنے والے فنکاروں، اداکاروں کو خاموشی توڑتے ہوئے انڈیا کو منہ توڑ جواب دینا ہوگا۔ مجھے لگتا ہے کہ اب فن کی سرحدوں کا تعین بھی ہو جانا چاہئیے۔
    بلاشبہ ہم لوگ امن کے داعی ہیں لیکن ہماری امن کی اس خواہش کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے۔
    انوپم کھیر ذہن نشین کر لو۔۔۔ “نہ کھیر دیں گے نہ کشمیر دیں گے، بس ہم چیر دیں گے”۔

  • حمزہ عباسی اور آئٹم سانگ، نوید شیخ کا بلاگ

    حمزہ عباسی اور آئٹم سانگ، نوید شیخ کا بلاگ

    پاکستان میڈیا انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے حمزہ علی عباسی آج کل ایک نجی ٹی وی چینل سے رئیلٹی شو کو جج کر رہے ہیں۔ اس شو میں ایک بچی کی پاکستانی آئٹم سانگ "مجھے کہتے ہیں بلی” پر کی گئی پرفارمنس کو حمزہ علی عباسی نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ حمزہ نے لڑکی کو پرفارمنس کے دوران ہی روک دیا اور بھاشن دیتے ہوئے کہا ” میں پاکستانی فلم ڈائریکٹرز و پروڈیوسرز کی منتیں کرتا ہوں کہ ہماری فلموں میں آئٹم سانگ نہ رکھا کریں ہماری بچیاں ان گانوں پر پرفارم کرتی ہیں جو کہ مناسب نہیں ہے”۔

    مزید پڑھیئے: تحریک انصاف کا بجٹ بم ۔۔۔ کپتان اجازت دے تو تھوڑا سا گھبرا لیں … نوید شیخ

    حمزہ علی عباسی کے اس رویے کو مختلف شعبہ ہائے زندگی تعلق رکھنے والے افراد نے مختلف طریقے سے جج کیا۔ جہاں بعض حلقوں نے حمزہ کی اس بات کو سراہا وہاں کئی حلقوں نے اسے کڑی تنقید کا نشانہ بھی بنایا۔ خصوصا سوشل میڈیا پر ان کی اس رائے کو خوب آڑھے ہاتھوں لیا گیا۔
    شوبز کے اندرونی حلقوں نے حمزہ کی رائے کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ حمزہ عباسی اپنی فلم میں نازیبا اور فحش سین بھی فلما چکے ہیں۔ فلم "جوانی پھر نہیں آنی” میں انہوں نے مختصر لباس میں موجود لڑکی کے ساتھ سوئمنگ پول میں اور ساحل سمندر پر ایسے سین عکسبند کئے جن پر آج وہ تنقید کر رہے ہیں۔

    مزید بڑھیے: عمران خان پر چارج شیٹ ۔۔۔ نوید شیخ

    شوبز کی بعض حلقوں میں تو یہ چہ مگوئیاں بھی ہیں کہ اس آئٹم سانگ "مجھے کہتے ہیں بلی” پر فلم میں صدارتی ایوارڈ یافتہ پاکستانی فلمسٹار مہوش حیات نے پرفارم کیا تھا اور چونکہ حمزہ علی عباسی اور مہوش حیات کی آپس میں بنتی نہیں ہے تو حمزہ علی عباسی نے موقع کا فائدہ اٹھا کر در پردہ مہوش حیات کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

    مزید پڑھیے : عثمان بزدار کے کارنامے ۔۔۔نوید شیخ

    رئیلٹی شو میں حمزہ علی عباسی کے اس رویے اور لڑکی کے آئٹم سانگ پر کی گئی پرفارمنس کی تنقید کو "پبلسٹی سٹنٹ” بھی کہا جا رہا ہے تاکہ اس سے رئیلٹی شو اور چینل کی ریٹنگ میں اضافہ ہو۔ اگر چینل اور ججز آئٹم سانگ پر کی گئی پرفارمنس کے خلاف تھے تو وہ گانا اس سٹیج پر کیوں چلایا گیا اور ظاہر ہے یہ گانا چینل کی مینجمنٹ کی اجازت اور پروڈیوسر/ڈائریکٹر کی مرضی سے ہی چلایا گیا ہوگا۔ اگر چینل اور ججز کی پالیسی میں ایسے گانے نہیں تھے تو ایسا گانا منتخب کیوں ہوا اور اس پر پرفارمنس کیسے ہو گئی، یہ ایک ایسا سوال ہے جو حمزہ عباسی کی تنقید کے بعد ججز اور انتظامیہ کے کردار کو مشکوک بناتا ہے کیونکہ شو میں حصہ لینے والی بچی اور گانا تو پہلے سے ہی فائنل کیا جا چکا ہوتا ہے تو پھر پرفارمنس کی بعد ایسی دوغلی پالیسی کیوں ؟
    امید ہے کہ چینل انتظامیہ اور حمزہ علی عباسی اس کی وضاحت ضرور دیں گے۔

     

     

    اپنی رائے دینے کے لیے ای میل کریں
    naveedsheikh123@hotmail.com

    ٹویٹر پر فالو کریں