Baaghi TV

Tag: شوبز

  • انوپم کھیر ۔۔۔ فن کے بجائے جنگ کا حامی تحریر: محمد فہد شیروانی

    انوپم کھیر ۔۔۔ فن کے بجائے جنگ کا حامی تحریر: محمد فہد شیروانی

    شدت پسندانہ ہندو ذہنیت سے لبریز انوپم کھیر کی انتہا پسندی سے کون واقف نہیں۔ اپنے ٹوئٹر پیغام میں انوپم کھیر نے لکھا ہے کہ ” کشمیر کا مسئلہ حل کی جانب بڑھ رہا ہے”۔ صرف اسی ایک بیان سے آپ انوپم کھیر کی کھال میں چھپا خونخوار بھیڑیا دیکھ سکتے ہیں جو نہتے معصوم و مظلوم کشمیریوں کا خون پینے کو بیتاب ہے۔
    نسل کشی کے حوالے دینے والے آدمخور طبیعت انوپم کھیر کو انڈیا میں مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کیوں نہیں دکھائی دیتے۔ انوپم کھیر کی آنکھوں پر جمی انسانیت سے عاری ہندووانہ سیاہ پٹی اسے انسان اور انسانی ہمدردی سے دور کر چکی ہے۔
    کشمیر کا مسئلہ اس وقت دنیا کو درپیش سب سے بڑی مسائل میں سے ایک ہے جس کے باعث اب تک تین جنگیں ہو چکی ہیں۔ دنیا کی دو جوہری طاقتیں پاکستان اور انڈیا اس مسئلے کو لے کر ایک دوسرے کے سامنے ڈٹے رہتے ہیں اور ان کی عوام بھی دل جان سے اپنی افواج کا ساتھ دیتے ہیں بالخصوص پاکستانی۔ پاکستان کا ہر جوان، ہر بوڑھا، ہر بچہ ایسے موقع پر فوجی بن کر دشمن کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن جاتا ہے۔ ایسے مواقع پر پاکستانی خواتین بھی کسی طور مردوں سے پیچھے نہیں۔

    انڈیا کی جانب سے کشمیر میں پیدا کی گئی حالیہ کشیدگی اور ظلم کی ہر انٹرنیشنل فورم پر مذمت کی جا رہی ہے۔ اداکاروفنکار جنہں امن و آشتی کا پیامبر سمجھا جاتا ہے ان میں موجود چند شرپسند نہ امن چاہ رہے ہیں نہ آشتی۔ اپنی شہرت کا ناجائز فائدہ اٹھانے والے شرپسندوں میں سب سے بڑا نام سطحی کردار ادا کرنے والے انڈین اداکار انوپم کھیر کا ہے۔ جب کبھی انڈیا پاکستان میں کشیدگی بڑھتی ہے انوپم کھیر فوراً شرپسندی شروع کرکے اپنی افواج اور قوم کو بھڑکانا شروع کر دیتا ہے جس سے کسی اور کا نقصان ہو یا نہ ہو انڈین فوج کا نقصان ضرور ہوجاتا ہے جس کی تازہ مثال پاکستانی فوج کی جانب سے گرائے گئے انڈین طیارے اور ابھی نندن ہے۔
    انوپم کھیر نے آرٹیکل 370 کے ختم ہونے پر کشمیریوں کے حق آزادی کے سلب ہونے کو خوش آئند قرار دیا۔ انڈین چینل کو دئیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ کشمیر میں ہندوؤں کو ایک الگ جگہ دینی چاہئیے تاکہ وہاں ہندو آبادکاری ہو سکے۔ فلمی سکرین پر بظاہر معصوم نظر آنے والا انوپم کھیر دراصل کتنے کٹھور و ظالم دل کا مالک ہے یہ حقیقت اب سب پر آشکارا ہو چکی ہے۔
    انوپم کھیر کے علاوہ بہت سے دیگر انڈین اداکار بھی کشمیریوں کا حق مارنے والے اس آرٹیکل کے ختم ہونے کے حق میں باتیں کر رہے ہیں اور کشمیر میں انڈین فوج کی پر تشدد کاروائیوں کی کھلم کھلا تائید کر رہے ہیں۔ جبکہ حیرت انگیز طور پر پاکستانی فنکار و اداکار اس حساس معاملے میں بالکل خاموش ہیں۔ اس ایشو کی جانب توجہ دلاتے ہوئے پاکستان کی مشہور بلاگر جویریہ صدیقی نے بھی سوال اٹھایا ہے کہ "ہمارے بیشتر اداکار مسئلہ کشمیر پر بات کرنے سے کتراتے کیوں ہیں”؟
    انڈیا کو لے کر ہمارے فنکاروں کے منہ پر لگے تالے اچنبھے کی بات ہے۔ اس نازک موقع پر عام عوام کی طرح شوبز برادری کو بھی اپنے ملک اور افواج کا ساتھ دیتے ہوئے حب الوطنی کا ثبوت دینا چاہئیے۔ ہمیں انڈیا سے فلموں میں کام، ناچ، گانا یا لچر پن نہیں چاہئیے، ہمیں صرف اور صرف انڈیا اور کشمیر میں بسنے والے مسلمان بہن بھائیوں کا تحفظ چاہئیے۔ ہر معاملے میں بڑھ چڑھ کر بولنے والے فنکاروں، اداکاروں کو خاموشی توڑتے ہوئے انڈیا کو منہ توڑ جواب دینا ہوگا۔ مجھے لگتا ہے کہ اب فن کی سرحدوں کا تعین بھی ہو جانا چاہئیے۔
    بلاشبہ ہم لوگ امن کے داعی ہیں لیکن ہماری امن کی اس خواہش کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے۔
    انوپم کھیر ذہن نشین کر لو۔۔۔ “نہ کھیر دیں گے نہ کشمیر دیں گے، بس ہم چیر دیں گے”۔

  • حمزہ عباسی اور آئٹم سانگ، نوید شیخ کا بلاگ

    حمزہ عباسی اور آئٹم سانگ، نوید شیخ کا بلاگ

    پاکستان میڈیا انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے حمزہ علی عباسی آج کل ایک نجی ٹی وی چینل سے رئیلٹی شو کو جج کر رہے ہیں۔ اس شو میں ایک بچی کی پاکستانی آئٹم سانگ "مجھے کہتے ہیں بلی” پر کی گئی پرفارمنس کو حمزہ علی عباسی نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ حمزہ نے لڑکی کو پرفارمنس کے دوران ہی روک دیا اور بھاشن دیتے ہوئے کہا ” میں پاکستانی فلم ڈائریکٹرز و پروڈیوسرز کی منتیں کرتا ہوں کہ ہماری فلموں میں آئٹم سانگ نہ رکھا کریں ہماری بچیاں ان گانوں پر پرفارم کرتی ہیں جو کہ مناسب نہیں ہے”۔

    مزید پڑھیئے: تحریک انصاف کا بجٹ بم ۔۔۔ کپتان اجازت دے تو تھوڑا سا گھبرا لیں … نوید شیخ

    حمزہ علی عباسی کے اس رویے کو مختلف شعبہ ہائے زندگی تعلق رکھنے والے افراد نے مختلف طریقے سے جج کیا۔ جہاں بعض حلقوں نے حمزہ کی اس بات کو سراہا وہاں کئی حلقوں نے اسے کڑی تنقید کا نشانہ بھی بنایا۔ خصوصا سوشل میڈیا پر ان کی اس رائے کو خوب آڑھے ہاتھوں لیا گیا۔
    شوبز کے اندرونی حلقوں نے حمزہ کی رائے کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ حمزہ عباسی اپنی فلم میں نازیبا اور فحش سین بھی فلما چکے ہیں۔ فلم "جوانی پھر نہیں آنی” میں انہوں نے مختصر لباس میں موجود لڑکی کے ساتھ سوئمنگ پول میں اور ساحل سمندر پر ایسے سین عکسبند کئے جن پر آج وہ تنقید کر رہے ہیں۔

    مزید بڑھیے: عمران خان پر چارج شیٹ ۔۔۔ نوید شیخ

    شوبز کی بعض حلقوں میں تو یہ چہ مگوئیاں بھی ہیں کہ اس آئٹم سانگ "مجھے کہتے ہیں بلی” پر فلم میں صدارتی ایوارڈ یافتہ پاکستانی فلمسٹار مہوش حیات نے پرفارم کیا تھا اور چونکہ حمزہ علی عباسی اور مہوش حیات کی آپس میں بنتی نہیں ہے تو حمزہ علی عباسی نے موقع کا فائدہ اٹھا کر در پردہ مہوش حیات کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

    مزید پڑھیے : عثمان بزدار کے کارنامے ۔۔۔نوید شیخ

    رئیلٹی شو میں حمزہ علی عباسی کے اس رویے اور لڑکی کے آئٹم سانگ پر کی گئی پرفارمنس کی تنقید کو "پبلسٹی سٹنٹ” بھی کہا جا رہا ہے تاکہ اس سے رئیلٹی شو اور چینل کی ریٹنگ میں اضافہ ہو۔ اگر چینل اور ججز آئٹم سانگ پر کی گئی پرفارمنس کے خلاف تھے تو وہ گانا اس سٹیج پر کیوں چلایا گیا اور ظاہر ہے یہ گانا چینل کی مینجمنٹ کی اجازت اور پروڈیوسر/ڈائریکٹر کی مرضی سے ہی چلایا گیا ہوگا۔ اگر چینل اور ججز کی پالیسی میں ایسے گانے نہیں تھے تو ایسا گانا منتخب کیوں ہوا اور اس پر پرفارمنس کیسے ہو گئی، یہ ایک ایسا سوال ہے جو حمزہ عباسی کی تنقید کے بعد ججز اور انتظامیہ کے کردار کو مشکوک بناتا ہے کیونکہ شو میں حصہ لینے والی بچی اور گانا تو پہلے سے ہی فائنل کیا جا چکا ہوتا ہے تو پھر پرفارمنس کی بعد ایسی دوغلی پالیسی کیوں ؟
    امید ہے کہ چینل انتظامیہ اور حمزہ علی عباسی اس کی وضاحت ضرور دیں گے۔

     

     

    اپنی رائے دینے کے لیے ای میل کریں
    naveedsheikh123@hotmail.com

    ٹویٹر پر فالو کریں