Baaghi TV

Tag: شوکت ترین

  • ٹیکس نہ دینے والوں کو نوٹس نہیں ان کی آمدنی بتائیں گے:پھر پتے لگ جان گے:شوکت ترین

    ٹیکس نہ دینے والوں کو نوٹس نہیں ان کی آمدنی بتائیں گے:پھر پتے لگ جان گے:شوکت ترین

    اسلام آباد:ٹیکس نہ دینے والوں کو نوٹس نہیں ان کی آمدنی بتائیں گے:پھر پتے لگ جان گے:،اطلاعات کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹیکس تو سب کو دینا پڑے گا، نوٹسز نہیں، خود ٹیکس گزار تک پہنچیں گے، لوگ کاررو

     

    ائی سے پہلے محاصل ادا کرنا شروع کردیں، ٹیکس پیئرز کی تعداد دو کروڑ ہونی چاہیے، عمران خان مسٹر کلین ہیں، عوام کے پیسے میں کرپشن نہیں ہونے دے گا۔

    وزیرخزانہ نے قومی سیلزٹیکس ریٹرن کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکس توآپ کودینا پڑے گا، ٹیکسوں کا نظام خودکارہونے سے محصولات بڑھیں گے، ٹیکسوں کے نظام کوآسان بنایا جارہا ہے، جب لوگوں کوسہولت ہوگی تو زیادہ ٹیکس بھی دیں گے، جب ٹیکس اکٹھے نہیں ہوں گے تو ملک میں ترقی کیسے ہو گی؟ ٹیکسوں ادائیگیوں سے ہی ملک میں پائیدارترقی ہوسکتی ہے، ٹیکنالوجی کا استعمال کرکے ٹیکس ادا نہ کرنے والوں تک پہنچیں گے، جوٹیکس ادا نہیں کرتے ان کا ڈیٹا اکٹھا کرلیا ہے۔

    شوکت ترین کا کہنا تھا کہ وقت آگیا ہے کہ سب لوگ اپنا ٹیکس دینا شروع کردیں، اب ہم نوٹس نہیں دیں گے، اب ہم ان لوگوں کوبتائیں گے کہ آپ کی اتنی آمدن ہے، ہم کسی کوہراساں نہیں کریں گے، اگرکوئی ٹیکس ادا نہیں کرے گا تو قانون کے مطابق کارروائی ہوگی، جوٹیکس ادا نہیں کررہے ان کوچاہیے ہمارے پہنچنے سے پہلے وہ ٹیکس ادا کردیں۔

    وفاقی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ گڈزپرسیلزٹیکس وفاق کا دائرہ کارہے، یہ مجھے نہیں معلوم آج ہوں یا کل نہیں، اگراس عہدے پر رہا توسب کو انکم ٹیکس اور سیلزٹیکس بھی دینا پڑے گا، ملک کو اس وقت ٹیکس کی ضرورت ہے، ادھارلیکرملک چلایا جاتا ہے یہ نہیں چلے گا، بڑی بڑی گاڑیاں والے ٹیکس نہیں دیتے، دوملین لوگ ٹیکس دیتے ہیں، کم ازکم 20ملین لوگوں کوٹیکس دینا چاہیے، عمران خان مسٹرکلین، آپ کے دیئے گئے ٹیکسوں کی خردبرد نہیں ہوگی، میں توتنخواہ بھی نہیں لیتا ہم نے اس سسٹم کوٹھیک کرنا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ سیلزٹیکس گڈز پہ بھی ہے اور سروسز پر بھی، صوبوں کو سروسز پر ٹیکس تو ملنا شروع ہو گیا مگر لوگوں کو دِقت تھی، اب کمپنیوں کو ایک ہی سیلزٹیکس ریٹرن فائل کرنا ہوگی، یہ ٹیکس اکٹھا کرنے کا اچھا طریقہ ہے، ایک جگہ ٹیکس اکٹھا کرنے سے معلوم ہوگا کمپنیاں کتنا پیسہ اکٹھا کررہیں، ریٹیل میں 18 ٹریلین کی سیل ہے، ہمارے پاس 3 ٹریلین آتا ہے، لوگ ایک وقت میں کھانے کا 30 سے 40 ہزار دیتے ہیں مگر ٹیکس نہیں دیتے، ہم وہ لوگ نہیں جو پیسے کا خرد برد کرتے ہیں۔

    دوسری طرف چیئرمین ایف بی آر نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ ’تاریخ میں پہلی بارسیلز ٹیکس انتظامی اصلاحات کا پیکیج لارہے ہیں’

     

     

    چیئرمین ایف بی آر ڈاکٹر اشفاق احمد نے کہا ہے قومی سیلز ٹیکس ریٹرن کی افتتاحی تقریب منعقد ہوئی جس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین ایف بی آر ڈاکٹر اشفاق احمد نے کہا کہ گزشتہ ہفتے وزیر خزانہ نے سیلز ٹیکس اصلاحات کی پالیسی پارلیمان میں پیش کی۔انہوں نے کہا کہ آج ہم ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ سیلز ٹیکس کے انتظامی اصلاحات کا پیکیج لارہے ہیں، ملک میں 7 ٹیکس اتھارٹیز ایک طرح کا کام کررہی ہیں۔

    ڈاکٹر اشفاق احمد نے کہا کہ ٹیکس دہندہ کو 7 ٹیکس ایجینسیوں کے پاس اپنے اعدادوشمار جمع کرانے پڑتے تھے، اس حوالے سے صوبوں سمیت ٹیکس بارز کے ساتھ گفت وشنید کی گئی،ان کا کہنا تھا کہ اب سنگل ماہانہ سیلز ٹیکس گوشوارے جمع کرانے جاسکتے ہیں۔اب ایک سیلز ٹیکس گوشوارہ جمع کرانا کافی ہوگا، دسمبر 2021 کے نیشنل سیلز ٹیکس ریٹرن جنوری 2022 میں جمع کرائے جا سکتے ہیں۔

    چیئرمین ایف بی آرنے کہا کہ فلائنگ اور فیک سیلز ٹیکس انوائسنگ کا خاتمہ ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ نیشنل انکم ٹیکس ریٹرن پر بھی مزید کام کیا جارہا ہے، نیشنل سیلز ٹیکس ریٹرن کو مزید آسان بنایا جائے گا۔

  • جب تک ٹیکس ریونیواکٹھا نہیں ہوتا ملک ترقی نہیں کرسکتا،شوکت ترین

    جب تک ٹیکس ریونیواکٹھا نہیں ہوتا ملک ترقی نہیں کرسکتا،شوکت ترین

    وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ پاکستان میں جس کی جتنی طاقت ہےوہ ٹیکس چھپاتا ہے،کسی کوہراساں نہیں کریں گے لیکن ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔

    باغی ٹی وی : وزیرخزانہ شوکت ترین نے اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شناختی کارڈ کے ذریعے پتہ لگائیں گےکہ کس کی کتنی انکم ہے وزیرخزانہ شوکت ترین کا کہنا تھا کہ معاشرےکی ترقی میں ٹیکس کااہم کردارہے، جب تک ٹیکس ریونیواکٹھا نہیں ہوتا ملک ترقی نہیں کرسکتا-

    وزیراعظم عمران خان سمیت دیگر اراکان اسمبلی کی ٹیکس تفصیلات سامنےآ گئیں

    وزیرخزانہ شوکت ترین نے کہا کہ ٹیکس کلچر کو پروان چڑھانےکیلئےشروعات پارلیمنٹیرینز سے ہونی چاہیے، ارکان پارلیمنٹ ٹیکس کی ادائیگی میں لوگوں کیلئےمثال بنیں یہاں جس کی جتنی طاقت ہےوہ ٹیکس چھپا تا ہے-

    جعلی میٹرک سرٹیفکیٹ کاانکشاف، ایڈووکیٹ صفدر شاہین کے خلاف مقدمہ درج

    وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ریونیو سے کرنٹ اخراجات بھی پورےنہیں کرپارہے ٹیکس سسٹم میں شفافیت اورآسانی کیلئےاقدامات کررہےہیں شناختی کارڈ کے ذریعے پتہ لگائیں گےکہ کس کی کتنی انکم ہے، کسی کوہراساں نہیں کریں گے لیکن ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔

    ناظم جوکھیو کیس:خاندان قاتلوں سے صلح کرتا ہے تو وفاقی حکومت…

    شوکت ترین نے مزید کہا کہ انکم ٹیکس اور جی ایس ٹی کے علاوہ کوئی ٹیکس نہیں ہونا چاہیے، 22 کروڑ کی آبادی میں سے صرف 30 لاکھ افراد ٹیکس دیتے ہیں، محصولات میں اضافے کیلئے ٹیکس نیٹ کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔

    سیالکوٹ سے دبئی، پی آئی اے پروازوں کا آغاز

  • پیدائش سے پہلےٹیکس،پیدائش کے وقت ٹیکس،جینے پرٹیکس،مرنے پرٹیکس:غریبوں‌ کی بے بسی پرٹیکس

    پیدائش سے پہلےٹیکس،پیدائش کے وقت ٹیکس،جینے پرٹیکس،مرنے پرٹیکس:غریبوں‌ کی بے بسی پرٹیکس

    لاہور:پیدائش سے پہلےٹیکس،پیدائش کے وقت ٹیکس،جینے پرٹیکس،مرنے پرٹیکس:غریبوں‌ کی بے بسی پرٹیکس ،اطلاعات کے مطابق حکومت نے منی بجٹ کے نام پر ایک بار پھر قوم کو سخت آزمائش میں ڈال دیا ہے اور یہ اطلاعات ہیں کہ حکومت میں بیٹھے طاقتور لوگوں نے غریبوں پر رحم نہ کھانے کی قسم کھالی ہے

    المی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے دباؤ پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی وفاقی حکومت قومی اسمبلی میں پیش کیے جانے والے منی بجٹ میں کن کن اشیاء پر ٹیکس لگا رہی ہے، تفصیلات سامنے آ گئیں۔

    ادھر اس حوالے سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ حکومت نے مالیاتی ترمیمی بل میں موبائل فونز پر یکساں 17 فیصد ٹیکس، سونے چاندی پر ٹیکس 1 فیصد سے 17 فیصد آئل سیڈ کی درآمد پر ٹیکس 5 فیصد سے 17 فیصد ،مائننگ کیلئے درآمدی مشینری پر 17 فیصد نیا ٹیکس لگا دیئے گئے ہیں‌

    پرچون فروشوں کا ٹیکس 10 فیصد سے بڑھا کر 17 فیصد ، ساشے میں فروخت ہونے والی اشیاء کا ٹیکس 8 فیصد سے بڑھا کر 17 فیصد ، غیر ملکی سرکاری تحفوں اور عطیات پر 17 فیصد ٹیکس لاگو،
    قدرتی آفات کیلئے موصو لہ مال پر ٹیکس لاگو ، پوسٹ کے ذریعے پیکٹ ارسال کرنے پر 17 فیصد سیلز ٹیکس لاگو درآمدی جانوروں اور مرغیوں پر 17 فیصد ٹیکس ، زرعی بیج، پودوں، آلات اور کیمیکل پر ٹیکس 5 فیصد سے 17، پولٹری سیکٹر کی مشینری پر ٹیکس 7 فیصد سے 17 فیصد کردیا ملٹی میڈیا ٹیکس بھی 10 سے بڑھا کر 17 فیصد ، بیٹری پر ٹیکس 12 فیصد سے بڑھا کر 17 فیصد ، ڈیوٹی فری شاپس پر 17 فیصد سیلز ٹیکس لاگو کیا ہے

    بڑی کاروں پر بھی 17 فیصد سیلز ٹیکس لاگو، درآمدی الیکٹرک کاروں پر سیلز ٹیکس 5 فیصد سے بڑھا کر 17 فیصد بزنس ٹو بزنس رقم منتقلی پر سیلز ٹیکس بڑھا کر 17 فیصد کردیا ادویات کے خام مال پر 17 فیصد جی ایس ٹی لاگو ، بیکریوں، ریسٹورنٹ اور فوڈ چین پر 17 فیصد سیلز ٹیکس لاگو، کیٹررز، ہوٹلز اور بڑے ریسٹورنٹس پر ٹیکس 7.5 فیصد 17 فیصد سیلز ٹیکس لاگو ، درآمدی سبزیوں پر 10 فیصد سیلز ٹیکس عائد ، پیکنگ میں فروخت ہونے والے مصالحوں پر 17 فیصد سیلز ٹیکس لاگو کیئے گئے ہیں‌

    فلور ملز پر بھی 10 فیصد ٹیکس لگایا جائے عائد،ماچس، ڈیری مصنوعات، الیکٹرک سوئچ پر 17 فیصد ٹیکس عائد، برانڈڈ مرغی کے گوشت کے گوشت پر بھی 17 فیصد ٹیکس عائد ، پراسس کئے ہوئے دودھ پر ٹیکس 10 فیصد سے 17 فیصد، پیکنگ میں دہی، پنیر، مکھن، دیسی گھی اور بالائی پر ٹیکس 10 فیصد سے بڑھا کر 17 فیصد،ڈیری کیلئے مشینری پر بھی ٹیکس شرح 17 فیصد لاگو کردیا ہے

  • عنایات ہی عنایات :شوکت ترین دوبارہ ای سی سی چیئرمین مقرر

    عنایات ہی عنایات :شوکت ترین دوبارہ ای سی سی چیئرمین مقرر

    اسلام آباد:عنایات ہی عنایات :شوکت ترین دوبارہ ای سی سی چیئرمین مقرر ،اطلاعات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کی تشکیل نو کر دی ہے، شوکت ترین دوبارہ ای سی سی کے چیئرمین مقرر ہو گئے۔

    ذرائع کے مطابق وزیر خزانہ شوکت ترین کو اکنامک کوآرڈینیشن کمیٹی (ای سی سی) کی سربراہی دوبارہ دے دی گئی، کابینہ ڈویژن نے سینیٹر شوکت ترین کے چیئرمین شپ کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔

    یاد رہے کہ اس سے پہلے بھی وزیر خزانہ کے مشیر بننے کے بعد وزیر اقتصادی امور کو ای سی سی کا سربراہ بنایا گیا تھا۔

    واضح رہے کہ شوکت ترین حال ہی میں سینیٹر بنے ہیں، اور پیر کو انھیں وفاقی وزیر خزانہ اور ریونیو کا قلم دان سونپا گیا تھا، اس سے قبل وہ مشیر خزانہ کے منصب پر کام کر رہے تھے، وفاقی وزیر بننے کے بعد وہ اس عہدے سے سبک دوش ہو گئے۔

    شوکت ترین کو 17 اپریل 2021 کو 6 ماہ کے لیے وفاقی وزیر بنایا گیا تھا، یہ مدت 16 اکتوبر کو ختم ہو گئی تھی، جس کے بعد 17 اکتوبر 2021 سے وہ بطور مشیر خزانہ و ریونیو خدمات انجام دے رہے تھے۔ حکومت شوکت ترین کو رکِنِ پارلیمان منتخب نہیں کرا سکی تھی جس کے باعث ان کا وزارتی عہدہ 6 ماہ کی آئینی مدت گزرنے کے بعد ختم ہو گیا تھا۔

  • شوکت ترین نے آج سینیٹرکے عہدے کا حلف اٹھا لیا

    شوکت ترین نے آج سینیٹرکے عہدے کا حلف اٹھا لیا

    مشیر خزانہ شوکت ترین نے آج سینیٹ کے اجلاس میں بطور سینیٹر حلف لے لیا۔

    باغی ٹی وی : شوکت ترین 20 دسمبر کو خیبرپختونخوا کی سیٹ سے 87 ووٹ لے کر سینیٹ کی نشست پر کامیاب ہوئے تھے ،خیبر پختونخوا میں سینیٹ کی سیٹ پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر ایوب آفریدی کے مستعفی ہونے کے باعث خالی ہوئی تھی ۔

    145 کے ایوان میں سے سینیٹر کیلئے 73 ووٹ درکار تھے شوکت ترین نے 87 ووٹ حاصل کئے عوامی نیشنل پارٹی کے شوکت امیر زادہ ، پاکستان پیپلزپارٹی کے محمد سعید اور جے یو آئی ف کے ظاہر شاہ بھی سینیٹر کے امیدوار تھے ۔

    بلدیاتی انتخابات میں جیتنے والی جے یو آئی کوسینیٹ انتخاب میں ذلت آمیزشکست:شوکت ترین سینیٹر بن گئے

    145 ارکان پر مشتمل صوبائی اسمبلی میں پاکستان تحریک انصاف کے 94 ارکان تھے ، صوبائی اسمبلی میں دوسری بڑی جماعت جے یو آئی ف ہے ، جس کے ارکان کی تعداد 15 ، اے این پی کی 12 ، مسلم لیگ ن کی 7، پاکستان پیپلزپارٹی کی 5 اور بلوچستان عوامی پارٹی کی 4 ہے ۔

    خیبرپختونخوا کی اسمبلی میں جماعت اسلامی کے3 اور مسلم لیگ ق کا 1 امیدوار ہے جبکہ 4 ارکان آزاد ہیں ۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل شوکت ترین نے یہ عہدہ رواں سال مارچ میں سنبھالا تھا اور اکتوبر تک اپنے فرائض انجام دیئے تھے۔ تاہم وزیراعظم کے خصوصی اختیارات ختم ہونے کے بعد انہیں دوبارہ مشیر خزانہ منتخب کیا گیا۔

    وزیراعظم عمران خان نے آج دو اہم اجلاس طلب کرلئے:

    سینیٹ میں جے یو آئی کوشکست کے بعد سوشل میڈیا پرایک بحث رہی کہ اکثروبیشتر مقامات پر ن لیگ ، مرکزی جمعیت اہلحدیث، سمیت درجنوں دیگرجماعتوں نے جے یو آئی ف کی حمایت کی جس کی وجہ سے اس کے ووٹ میں اضافہ اور بلدیاتی انتخابات میں اکثرجگہ پروہ جیت رہی ہے لیکن سینیٹ میں‌ ہار اس گروہ کی ایلیٹ کلاس جے یو آئی ف کی حمایت نہیں کرتی جس کی وجہ سے یہ شکست ہوئی ہے-

    پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے وزیراعظم عمران خان نے بڑا حکم دے دیا

  • بلدیاتی انتخابات میں جیتنے والی جے یو آئی کوسینیٹ انتخاب میں ذلت آمیزشکست:شوکت ترین سینیٹر بن گئے

    بلدیاتی انتخابات میں جیتنے والی جے یو آئی کوسینیٹ انتخاب میں ذلت آمیزشکست:شوکت ترین سینیٹر بن گئے

    پشاور: بلدیاتی انتخابات میں جیتنے والی جے یو آئی کوسینیٹ انتخاب میں ذلت آمیزشکست:شوکت ترین سینیٹر بن گئے،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے خزانہ شوکت ترین کو خیبرپختونخوا سے سینیٹر منتخب کر لیا گیا۔

    غیر سرکاری نتائج کے مطابق خیبرپختونخوا کی اسمبلی میں ہونے والے الیکشن کے دوران مشیر خزانہ شوکت ترین نے 87 ووٹ حاصل کیے۔ اے این پی کے شوکت امیر زادہ کو 13، جے یو آئی کے اظہر خان کو بھی 13 ووٹ ملے جبکہ 122 ارکان نے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔

    سینیٹر منتخب ہونے کے بعد مشیر خزانہ شوکت ترین اب وزیر خزانہ کا عہدہ دوبارہ سنبھال سکیں گے۔ اس سے قبل انہوں نے یہ عہدہ رواں سال مارچ میں سنبھالا تھا اور اکتوبر تک اپنے فرائض انجام دیئے تھے۔ تاہم وزیراعظم کے خصوصی اختیارات ختم ہونے کے بعد انہیں دوبارہ مشیر خزانہ منتخب کیا گیا۔

    شوکت ترین کو سینیٹر بنانے کے لیے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سابق سینیٹر ایوب آفریدی عہدے سے مستعفی ہوئے تھے۔ جس کے بعد ان کی یہ ٹکٹ شوکت ترین کو دی گئی تھی۔

    ادھر سینیٹ میں جے یو آئی کوشکست کے بعد سوشل میڈیا پرایک بحث چل رہی ہےکہ اکثروبیشتر مقامات پر ن لیگ ، مرکزی جمعیت اہلحدیث، سمیت درجنوں دیگرجماعتوں نے جے یو آئی ف کی حمایت کی جس کی وجہ سے اس کے ووٹ میں اضافہ اور بلدیاتی انتخابات میں اکثرجگہ پروہ جیت رہی ہے لیکن سینیٹ میں‌ ہار اس گروہ کی ایلیٹ کلاس جے یو آئی ف کی حمایت نہیں کرتی جس کی وجہ سے یہ شکست ہوئی ہے

  • امریکا میں مہنگائی کا 39 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا:پاکستان میں مہنگائی کم ہونے کی خوشخبری سنا دی گئی

    امریکا میں مہنگائی کا 39 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا:پاکستان میں مہنگائی کم ہونے کی خوشخبری سنا دی گئی

    واشنگٹن: امریکا میں مہنگائی کا 39 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا:پاکستان میں مہنگائی کم ہونے کی خوشخبری سنا دی گئی ،اطلاعات کے مطابق امریکا میں مہنگائی کا 39 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا۔ کنزیومر پرائس انڈیکس 6.8فیصد ہوگئی۔

    امریکی میڈیا کے مطابق اس سے پہلے 1982 میں مہنگائی کی شرح چھ اعشاریہ آٹھ فیصد کو چھو گئی تھی۔ گزشتہ سال کی نسبت مہنگائی کی شرح میں چار اعشاریہ نو فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔

    امریکی ماہرین معاشیات پہلے ہی مہنگائی میں اضافے کی پیش گوئی کر چکے تھے اس لیے ڈیٹا ریلیز ہونے کے باوجود امریکی سٹاک مارکیٹ پر کوئی خاطرخواہ فرق نہیں پڑا۔

    دوسری طرف زیراعظم عمران خان کے مشیر برائے خزانہ شوکت ترین نے عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ آئندہ ہفتوں کے دوران پٹرول کی قیمتوں میں کمی کی جائے گی۔

    غیر ملکی ویب سائٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے خزانہ نے کہا کہ عالمی منڈی میں قیمتیں نیچے آنے کے بعد اب تک پٹرول کی قیمتیں کم نہیں ہوئی تھیں تاہم آئندہ ہفتوں میں پاکستان میں بھی پٹرول کی قیمتوں میں کمی بھی کی جائے گی۔

    انٹرویو کے دوران انہوں نے کہا کہ حکومت عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے ساتھ معاہدے کے تحت منی بجٹ اگلے ہفتے لا رہی ہے تاہم اس سے مہنگائی نہیں ہوگی کیونکہ عام آدمی کے استعمال کی اشیا پر ٹیکس کی چھوٹ ختم نہیں ہو گی۔

    اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے شوکت ترین نے کہا کہ منی بجٹ میں کھانے پینے کی اشیا پر ٹیکس کی چھوٹ ختم نہیں ہو گی۔ موبائل فونز پر ٹیکس کی چھوٹ ختم کرنے کے حوالے سے ابھی نہیں بتا سکتے۔ سٹیٹ بینک کی خودمختاری کے حوالے سے آئی ایم ایف سے طے شدہ قانون سازی کے لیے بل بھی منی بجٹ کے ساتھ ہی اگلے ہفتے پارلیمنٹ میں پیش کر دیا جائے گا۔

    یاد رہے کہ منی بجٹ میں امپورٹڈ لگژری آئٹمز پر کسٹم ڈیوٹی بڑھائی جائے گی، امپورٹڈ میک اپ کا سامان، امپورٹڈ کپڑے، جوتے اور پرفیومز سمیت کئی اشیاء مہنگی کرنے کی تجویز ہے۔ مقامی طور پر تیار ہونے والی اشیاء پر بھی سیلز ٹیکس 12 سے بڑھا کر 17 فی صد کیا جائے گا۔

    اس سوال پر مشیر خزانہ نے کہا کہ وہ انفرادی طور پر کسی بھی چیز پر ٹیکس بڑھانے کے حوالے سے ابھی تبصرہ نہیں کرنا چاہتے جبکہ کابینہ کی منظوری کے بعد اسے پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا تو سب معلوم ہو جائے گا۔

  • پاکستان کو کب آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑتا ہے :مشیرخزانہ شوکت ترین نے بڑا اہم نقطہ بتا دیا

    پاکستان کو کب آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑتا ہے :مشیرخزانہ شوکت ترین نے بڑا اہم نقطہ بتا دیا

    اسلام آباد:پاکستان کو کب آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑتا ہے :مشیرخزانہ شوکت ترین نے بڑا اہم نقطہ بتا دیا ا،طلاعات کے مطابق وزیراعظم کےمشیر برائے خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں اضافہ آئی ایم ایف کی طرف دھکیل دیتا ہے، قرضوں سے نجات کیلئے ریونیو میں اضافہ ضروری ہے ، غریب کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا چاہتے ہیں اوران کو مچھلی دیں گے نہیں بلکہ پکڑنا سکھائیں گے۔

    اسلام آباد تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مشیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ ہماری ترجیح مستحکم گروتھ ہے، گروتھ مصنوعی نہیں مستحکم ہوگی، ہماری بچت انتہائی کم ہے، اب پاکستان کی معیشت کورونا کے دھچکوں سے باہر آئی ہے، وزیر اعظم عمران خان سب کی ترقی چاہتے ہیں، پاکستان کو مسلسل ترقی کی ضرورت ہے جبکہ کورونا کے بعد پاکستان میں ترقی کی شرح 4 فی صد ہے۔

    شوکت ترین نے مزید کہا کہ 5سے6فیصد تک کی معاشی شرح ترقی کے لیے محصولات مجموعی پیداوارکا20فیصد ہونی چاہیں، ہم نے پاورسیکٹرکوٹھیک کرنا ہے، سابقہ حکومت نے زیادہ بجلی کی خواہش میں اتنی بجلی پیدا کردی کہ کیپسٹی پیمنٹ دینا پڑیں گی،ہم نے طے کیا ہے سب سے پہلے اپنا ریونیوبڑھانا ہے، ہماری برآمدات ملک کی مجموعی پیداوارکا10جبکہ درآمدات25فیصد ہیں، ملک میں صرف تین ملین لوگ ٹیکس دیتے ہیں، ہم نے ایف بی آرکوہراساں کرنے سے منع کیا ہے، لوگ ٹیکس دینا چاہتے لیکن ہراساں کرنے کی وجہ سے ڈرتے ہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ امپورٹ،ایکسپورٹ کا بیلنس نہیں ہوگا توہمیشہ ڈالرکی ضرورت پڑے گی اورآئی ایم ایف جانا پڑے گا،اکانومی اوورہیٹ نہیں پانچ فیصد پرگروتھ کررہی ہے، امپورٹ کرنے والی اشیا مہنگی ہوئی توہمارا ٹریڈ ڈیفسیٹ بڑھ گیا،پاکستان میں بچت معیشت کا صرف 13 فی صد ہے، برآمدات صرف 10 فی صد اور درآمدات کا حصہ 25 فی صد ہیں۔

    مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ چینی اور دالوں کی درآمدات ستم ظریفی ہے، زرعی شعبے کو ماضی میں نظر انداز کیا گیا، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑھنا آئی ایم ایف کی طرف دھکیل دیتا ہے، مسلسل خسارے کی وجہ سے حکومت بینکوں کے قرضوں کا بڑا حصہ لے جاتی ہے، غریب طبقے کو مچھلی پکڑنا سکھائیں گے، مچھلی نہیں دیں گے، غریب طبقے کو کاروبار اور غریب کسان کو بلاسود قرضے دیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ چاہتے ہیں کہ ریونیومیں اضافہ ہوتاکہ قرضے نہ لینا پڑیں،بجلی کی کھپت13فیصد بڑھنے کا مقصد گروتھ بڑھنے کے اشارے ہے، انکم ٹیکس میں32فیصد اضافہ ہوا ہے، اس سال ہمارے ریونیوبڑھ رہے ہیں، نوجوانوں کوکاروبارکے لیے بلاسود قرض دے رہے ہیں، امریکا،برطانیہ میں بھی ہیلتھ کارڈ پرکچھ نہ کچھ پیسے لیے جاتے ہیں، عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں کمی سے چیزوں کے ریٹ آہستہ،آہستہ نیچے آجائیں گے جبکہ ہمارا لیڈراورمیں بھی کہتا ہوں’’گھبرانا نہیں‘‘ ہے۔

  • سینیٹ ضمنی انتخاب:شوکت ترین کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ

    سینیٹ ضمنی انتخاب:شوکت ترین کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ

    پشاور: سینیٹ کے ضمنی انتخاب کیلئے شوکت ترین کے کاغذات نامزدگی منظور ہونے کے خلاف اپیل پر فیصلہ محفوظ کرلیا گیا۔

    باغی ٹی وی : پشاورمیں سینیٹ کی خالی نشست پر انتخاب کے حوالے سے الیکشن کمیشن میں مشیر خزانہ شوکت ترین کے کاغذات نامزدگی منظور کرنے کے فیصلے کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی، الیکشن ٹربیونل نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا جو آج ہی سنائے جانے کا امکان ہے۔

    درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف پیش کیا کہ الیکشن شیڈول جاری ہونے کے بعد ووٹر لسٹ منجمد ہوجاتی ہے، شوکت ترین کا ووٹ الیکٹورل رول میں درج نہیں ہے الیکٹورل رول میں ووٹ درج نہ ہونے پر شوکت ترین کے پی سے سینیٹ الیکشن نہیں لڑسکتے۔

    شوکت ترین کے وکیل علی گوہر نے مؤقف پیش کیا کہ سینیٹ کے لئے الیکشن کمیشن کا ووٹ سرٹیفکیٹ ہی کافی ہوتا ہے۔

    شوکت ترین کو سینیٹر بنانے کے لیے ٹکٹ جاری دیا گیا

    واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیٹر محمد ایوب نے سینیٹر کے عہدے سے استعفی دے دیا تھا جس کے بعد انہیں وزیراعظم عمران خان کا معاون خصوصی بنایا گیا تھا، ان کی اس سیٹ پر شوکت ترین سینیٹ الیکشن میں حصہ لیں گے۔

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن خیبر پختونخوا نے سینیٹر محمد ایوب کے استعفیٰ کی وجہ سے خالی ہونیوالی نشست کے لئے انتخابی شیڈول کا اعلان کردیا، سینیٹ کی خالی نشست پر پولنگ 20 دسمبر کو ہوگی الیکشن کمیشن خیبرپختونخوا کے جاری کردہ انتخابی شیڈول کے مطابق سینیٹر محمد ایوب کے استعفیٰ کی وجہ سے خالی ہونیوالی نشست پر پولنگ 20 دسمبر کو ہوگی۔

    آرمی چیف کی زیر صدارت کور کمانڈر کانفرنس، سیکیورٹی اقدامات پراطمینان کا اظہار

    الیکشن کمیشن کاکہنا تھا کہ کاغذات نامزدگی جمع کروانے کی آخری تاریخ 2 دسمبر 2021 تک ہے، 11 دسمبر کو کاغذات جمع کرنے والے امیدواروں کی فہرست جاری ہوگی۔

    یاد رہے کہ شوکت ترین وزیر خزانہ کی ذمہ داریاں سنبھالتے رہے مگر عوام کا منتخب نمائندہ نہ ہونے کے باعث ان کے عہدے کی زیادہ سے زیادہ مدت چھ ماہ تھی جس کے بعد وہ وزیر خزانہ نہ رہے وزیراعظم عمران خان نے شوکت ترین کو اپنے خصوصی اختیارات استعمال کرتے ہوئے چھ ماہ کے وزیر خزانہ بنایا تھا اور امکان ظاہر کیا جا رہا تھا کہ سینیٹر اسحاق ڈار کی سیٹ کی ڈی نوٹیفائی کر کے ان کی جگہ شوکت ترین کو وزیر خزانہ بنایا جائے گا تاہم قانونی پیچیدگیوں کے باعث انہیں وزارت خزانہ کا قلمدان نہ مل سکا جس کے باعث انہیں مشیر خزانہ کا قلمدان سونپا گیا تھا۔

    برطانوی وزیراعظم کی پریس سیکرٹری مستعفی:وزیراعظم کی حکومت خطرے میں‌:تہلکہ خیزانکشافات

    بطور مشیر شوکت ترین کمیٹیوں کے اجلاس کی سربراہی نہیں کر سکتے ، شوکت ترین کو پارلیمنٹ میں نشست دینے کیلئے پاکستان تحریک انصاف نےاپنے سینیٹر ایوب آفریدی کو سینیٹ کی سیٹ سے مستعفی کرایا ہے ۔

  • تجارتی خسارے میں تیزی سے اضافہ.شوکت ترین کا اقدامات کرنے کی ہدایت

    تجارتی خسارے میں تیزی سے اضافہ.شوکت ترین کا اقدامات کرنے کی ہدایت

    تجارتی خسارے میں تیزی سے اضافہ.شوکت ترین کا اقدامات کرنے کی ہدایت

    تجارتی خسارے میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے نومبر میں تجارتی خسارہ 162.4 فیصد اضافے کے ساتھ 5 ارب 10 کروڑ ڈالر پر پہنچ گیا

    وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ، شوکت ترین نے متعلقہ حکام سے کہا کہ وہ لگژری اشیاء کی غیر ضروری درآمدات کو کم کرنے کے لیے موثر پالیسی اقدامات کریں۔ مشیر تجارت نے تجارت کے توازن کا جائزہ لینے کے لیے ایک اجلاس کی صدارت کی، جس میں وفاقی وزیر برائے نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ سید فخر امام، وفاقی وزیر صنعت و پیداوار خسرو بختیار، وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر، نے شرکت کی۔ وزیر برائے تجارت و سرمایہ کاری عبدالرزاق داؤد، وفاقی سیکرٹریز، گورنر اسٹیٹ بینک، چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور دیگر سینئر افسران بھی اجلاس میں شریک ہوئے،اجلاس میں گزشتہ پانچ ماہ جولائی تا نومبر 2021 کے درآمدی بل کا جائزہ لیا گیا متعلقہ محکموں نے اس کی وضاحت کی کہ درآمدی بل پر دباؤ بنیادی طور پر اجناس کی عالمی قیمتوں بالخصوص توانائی، سٹیل اور صنعتی خام مال کی وجہ سے ہے۔ فورم نے یہ بھی نوٹ کیا کہ ویکسین کی زیادہ درآمد نے درآمدی بل میں اضافے میں اہم کردار ادا کیا۔

    گزشتہ اکتوبر میں تجارتی خسارہ ایک ارب 94 کروڑ ڈالر ریکارڈ کیا گیا تھا ۔تجارتی خسارے میں ریکارڈ اضافہ کے باعث اسٹاک مارکیٹ میں زبردست مندی دیکھی گئی بتایا گیا کہ درآمدات میں کمی سے رواں مالی سال کی دوسری ششماہی میں تجارتی بل پر دباو میں نمایاں کمی آئے گی مشیر خزانہ شوکت ترین نے پرتعیش اشیاکی غیر ضروری درآمدات کم کرنے کیلئے موثر پالیسی اقدامات کرنے کی ہدایت کی،

    دوسری جانب ن لیگی رہنما محمد زبیر کہتے ہیں کہ معاشی اشاریے بغیر کمی کے مسلسل خراب ہورہے ہیں،پانچ ماہ کا تجارتی خسارہ بیس ارب ڈالر سے بھی زیادہ رہا پانچ اعشاریہ ایک ارب کے ساتھ نومبر کے تجارتی خسارے نے تمام ریکارڈ توڑ دیا

    سینئر ماہر اقتصادیات عروب فاروق کا کہنا ہے کہ پاکستان نے مالی سال 2021 میں جو معاشی بحالی دیکھی ہے،اسے برقرار رکھنے کے لیے ملک کو 2 مسائل سے نمٹنا ہوگا: (1) بیرونی ماحول سے مطابقت پیدا کریں اور (2) ملک کے بلند تجارتی خسارے کا انتظام کریں۔ کرونا وبا کی لہر بار بار آئی اسکے باوجود ملکی معیشت میں بہتری آئی اسکی وجہ سمارٹ لاک ڈاؤن تھا، معاشی بہتری کو قائم رکھنے کے لئے مہنگائی سے نمٹنا ہو گا، دنیا کے بڑے بینکوں نے شرح سود میں اضافہ شروع کر دیا ہے، تجارتی خسارہ بہت بڑھ چکا، روپے کی قیمت گر رہی، اسکی وجہ بھی تجارتی خسارہ ہے، طویل عرصے سے پاکستان کو اقتصادی ترقی دیکھنے کو نہیں مل رہی، سرمایہ کاری میں بھی کمی آئی ہے،

    گرے لسٹ میں رہنے سے پاکستان کا کتنا ہوا مالی نقصان؟ رحمان ملک کا انکشاف،کیا بڑا اعلان

    ٹویٹر پر جعلی اکاؤنٹ، قائمہ کمیٹی اجلاس میں اراکین برہم،بھارت نے کتنے سائبر حملے کئے؟

    بیس ہزار کے عوض خاتون نے ایک ماہ کی بیٹی کو فروخت کیا تو اس کے ساتھ کیا ہوا؟

    بھارت ، سال کے ابتدائی چار ماہ میں کی 808 کسانوں نے خودکشی

    سال 2020 کا پہلا چائلڈ پورنوگرافی کیس رجسٹرڈ،ملزم لڑکی کی آواز میں لڑکیوں سے کرتا تھا بات

    ایف اے ٹی ایف کا ایک بار پھر ڈومور، کالعدم تنظیموں کیخلاف کیا کیا؟ رپورٹ طلب

    ایف اے ٹی ایف کا پاکستان کی کوششوں کا اعتراف، ڈومور بھی کہہ دیا

    ایف اے ٹی ایف،پاکستان کی بڑی سفارتی کامیابی،کن ممالک نے کی پاکستان کی حمایت؟

    یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ ایف اے ٹی ایف کی طرف سے کون سی قانون سازی کی ضرورت ہے؟ رحمان ملک

    یورپی یونین پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر بن چکا