Baaghi TV

Tag: شوکت عزیز صدیقی

  • سابق جج شوکت عزیز صدیقی چئیرمین  این آئی آر سی تعینات

    سابق جج شوکت عزیز صدیقی چئیرمین این آئی آر سی تعینات

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے سابق جج شوکت عزیز صدیقی کو چیئرمین قومی کمیشن برائے صنعتی تعلقات (این آئی آر سی) تعینات کردیا گیا۔

    باغی ٹی وی : وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد شوکت عزیزصدیقی کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا،شوکت عزیز صدیقی کی 3 سال کے لیے بطور چیئرمین نیشنل انڈسٹریل ریلیشنز کمیشن تعیناتی کی گئی ہے، شوکت عزیزصدیقی کو 2018 میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج کےعہدے سے برطرف کیا گیا تھا تاہم سپریم کورٹ نے مارچ 2024 میں شوکت عزیز صدیقی کی برطرفی کو کالعدم قرار دیا تھا، سپریم کورٹ نے شوکت عزیز صدیقی کو بطور ہائیکورٹ جج ریٹائرمنٹ کے تمام واجبات کا اہل قرار دیا تھا۔

  • شوکت عزیز صدیقی کیس، فیض حمید،بریگیڈئر ر عرفان رامے،سابق چیف جسٹس انور کاسی کو نوٹس

    شوکت عزیز صدیقی کیس، فیض حمید،بریگیڈئر ر عرفان رامے،سابق چیف جسٹس انور کاسی کو نوٹس

    سپریم کورٹ میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے معزول جج شوکت عزیز صدیقی کی درخواست پر سماعت ہوئی،
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ نےسماعت کی،جسٹس امین الدین، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس عرفان سعادت خان بینچ کا حصہ ہیں۔جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی برطرفی سے متعلق سماعت سپریم کورٹ کی ویب سائٹ، یوٹیوب پر براہ راست نشر کی گئی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ شوکت عزیز صدیقی کے الزامات کیا درست ہیں؟ شوکت عزیز صدیقی کو ان الزامات پر مبنی کی گئی تقریر پر برطرف کیا گیا،سوچ کر جواب دیں کہ کیا آپ کے الزمات درست ہیں، کیا وہ جنرل جن کو آپ فریق بنانا چاہتے ہیں وہ خود 2018 کے انتخابات میں اقتدار میں آنا چاہتے تھے؟اگر شوکت عزیز صدیقی کے الزامات درست ہیں تو وہ جنرلز کسی کے سہولت کار بننا چاہ رہے تھے،جس کی یہ جنرل سہولت کاری کر رہے تھے وہ کون تھا؟ وکیل حامد خان نے کہا کہ میرے لگائے گئے الزامات درست ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ ہمارے سامنے آرٹیکل 184 تین کے تحت آئے ہیں،یہ بھی یاد رکھیں کہ اصل دائرہ اختیار کے تحت کیا ہو سکتا ہے،

    شوکت عزیز صدیقی نے جو سنگین الزامات لگائے انکے نتائج بھی سنگین ہونگے،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ کون تھا؟ جس کیلئے جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید نے سہولت کاری کی،آپ سہولت کاروں کو فریق بنا رہے ہیں، اصل بنیفشری تو کوئی اور ہے،آپ نے درخواست میں اصل بنیفشری کا ذکر ہی نہیں کیا، آپ نے لوگوں کی پیٹھ پیچھےالزامات لگائے،جن پر الزامات لگائے گٸے وہ کسی اور کیلئے سہولت کاری کر رہے تھے، سہولت کاری کرکے کسی کو تو فائدہ پہنچایا گیا،آئین پاکستان کی پاسداری نہ کرکے وہ اس جال میں خود پھنس رہے ہیں،سہولت کاروں کو فریق بنا لیا ہے تو فائدہ اٹھانے والے کو کیوں نہیں بنایا؟ وکیل جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ فائدہ کس نے لیا ایسی کوئی بات تقریر میں نہیں تھی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آرٹیکل 184/3 کی درخواست میں عدالت کا اختیار شروع ہوچکا ہے،فوجی افسر کسی کو فائدہ دے رہے تو وہ بھی اس جال میں پھنسے گا، وکیل حامد خان نے کہا کہ فوج شاید مرضی کے نتائج لینا چاہتی تھی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ایک امیدوار کو سائیڈ پر اسی لیے کیا جاتا ہے کہ من پسند امیدوار جیتے، وکیل شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ فوج نے اپنے امیداواروں کو جیپ کا نشان دلوایا تھا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کبھی تو ملک میں سچ کی جان جانا ہی ہے، وکیل حامد خان نے کہا کہ ستر سال سے ملک میں یہی ہو رہا ہے، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا ستر سال سے جو ہورہا ہے اس کا ازالہ نہ کریں؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ فوج ایک آزاد ادارہ ہے یا کسی کے ماتحت ہے؟ فوج کو چلاتا کون ہے؟ وکیل حامد خان نے کہا کہ فوج حکومت کے ماتحت ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ حکومت فرد نہیں ہے، جو شخص فوج کو چلاتا ہے اس کا بتائیں،جب آپ ہمارے پاس آئیں گے تو ہم آئین کے مطابق چلیں گے، یہ آسان راستہ نہیں ہے،شوکت عزیز صدیقی نے جو سنگین الزامات لگائے انکے نتائج بھی سنگین ہونگے،سپریم کورٹ کو کسی کے مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ہمارے کندھے استعمال کرنے کی کوشش کی جارہی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم کسی ایک سائیڈ کی طرف داری نہیں کریں گے،وکیل بار کونسل صلاح الدین نے کہا کہ سابق جج نے اپنے تحریری جواب میں جن لوگوں کا نام لیا ہم انکو فریق بنا رہے،شوکت عزیز صدیقی نے بانی پی ٹی آئی سمیت کسی اور کو فائدہ دینے کی بات نہیں کی،مفروضے پر ہم کسی کو فائدہ پہنچانے کیلئے کسی کا نام نہیں لے سکتے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ شوکت عزیز صدیقی کے الزامات بھی مفروضے ہیں،

    نوٹس جاری کر کے بلاوجہ لوگوں کو تنگ بھی نہیں کرنا چاہیے، کس سیاسی جماعت کو نکالنے کے لیے یہ سب ہوا؟چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بار ایسوسی ایشن کے وکیل صلاح الدین سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا کسی کا بھی نام لکھ دیں تو اسے نوٹس کر دیں،کیا شوکت صدیقی بیرسٹر صلاح الدین کا نام لکھ دیں تو آپ کو بھی نوٹس کر دیں؟ کیا ہمارے کندھے استعمال کرنا چاہ رہے ہیں؟نوٹس جاری کر کے بلاوجہ لوگوں کو تنگ بھی نہیں کرنا چاہیے، کس سیاسی جماعت کو نکالنے کے لیے یہ سب ہوا؟ وکیل بیرسٹر صلاح الدین احمد نے کہا کہ جوڈیشل سسٹم پر دباو ڈال کر نواز شریف کو نکالا گیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اس سے فائدہ کس کا ہوا؟ کیا سندھ بار یا اسلام آباد بار کو فائدہ دینے کے لیے یہ ہوا؟ بیرسٹر صلاح الدین احمد نے کہا کہ ہم نے انکوائری کی درخواست کی تا کہ حقائق سامنے آئیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے کہا کہ اگر سندھ بار شوکت صدیقی کی ہمدردی میں آئی کہ ان کو پنشن مل سکے تو یہ 184 تھری کا دائرہ کار نہیں بنتا، ہمیں نا بتائیں کہ انکوائری کریں یا یہ کریں، آپ معاونت کریں جو کرنا ہے ہم کریں گے، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ مسئلہ یہ کہ عدالتی نظام کو استعمال کرنے کا الزام ہے، ہمارے بندے کو استعمال کر کے کیوں کہا گیا کہ نواز شریف انتخابات سے پہلے باہر نا آئے؟ وکیل صلاح الدین احمد نے کہا کہ یہ الزام فیض حمید پر ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ بار کونسلز کیوں اس کیس میں آئیں؟ بیرسٹر صلاح الدین نے کہا کہ ہم تحقیق چاہتے ہیں کہ کیا واقعی شوکت صدیقی کی برطرفی عمران خان کو فائدہ پہنچانے کے لیے ہوئی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے کہا کہ ہم طریقے سے چلیں گے، شوکت صدیقی کو پنشن تو سرکار ویسے بھی دے دے گی، شوکت صدیقی 62 سال سے اوپر ہو چکے واپس بحال تو نہیں ہو سکتے،سسٹم میں شفافیت لا رہے ہیں 10 سال پرانے کیسز مقرر کر رہے ہیں،

    سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل کو طلب کر لیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر مسئلہ صرف پنشن کا ہے تو سرکار سے پوچھ لیتے ہیں آپ کو دے دیں گے، اگر پاکستان کی تاریخ درست کرنا چاہتے ہیں تو بتا دیں ہم آپ کی مدد کرنے کو تیار ہیں،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آپ کہتے ہیں یہاں لوگ آلے کے طور پر استعمال ہوتے ہیں، آلے کے طور پر استعمال کون کرتا ہے؟ ماضی میں جو ہوتا رہا وہ سب ٹھیک کرنا ہے، وکیل حامد خان نے کہا کہ آپ نے اسٹیبلشمنٹ کا نام لینے سے روکا جب کہ اس ملک کی حقیقت یہی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے کہا کہ ہمارے منہ میں الفاظ نا ڈالیں، یہ آئینی عدالت ہے یہاں آئینی زبان استعمال کریں،ہمارا موقف واضح ہے کہ کہاں سیاسی دائرہ اختیار ختم اور عدالتی دائرہ شروع ہوتا ہے،آپ کا کیس کب سے مقرر نہیں ہوا یہ الزام ہمارے سامنے کھڑے ہو کر لگائیں ہم معذرت کریں گے، الیکشن کی تاریخ سے متعلق سیاسی جماعت آئی تو 12 روز میں ہم نے فیصلہ کیا،ملک میں کب اتنی جلدی کیس کا فیصلہ ہوا ہے؟ ہم نے آئینی اداروں کو حکم دیا کہ انتخابات کرانے کی زمہ داری پوری کریں، مسئلہ یہ ہے کوئی ادارہ اپنا کام کرنے کو تیار نہیں،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ تقریر میں فیض آباد دھرنے کو سپانسرڈ قرار دیا گیا ہے،فیض آباد دھرنا سپانسر کس نے کیا تھا؟ وکیل حامد خان نے کہا کہ سپریم کورٹ میں آپ نے خود دھرنا کیس کا فیصلہ دیا تھا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ فیصلے کو چھوڑیں جو شوکت صدیقی نے لکھا وہ بتائیں، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ شوکت عزیز صدیقی سے کس قسم کا حکم چاہتے تھے؟ وکیل حامد خان نے کہا کہ بریگیڈیئر فیصل مروت نے بول ٹی وی کو آئی ایس آئی پروجیکٹ قرار دیتے ہوئے شعیب شیخ کی بریت کا کہا، بریگیڈئیر عرفان رامے نے بھی بول کے حوالے سے بات کی تھی، ایڈیشنل سیشن جج پرویز القادر میمن کو پچاس لاکھ رشوت دیکر شعیب شیخ کو بری کروایا گیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ قمر جاوید باجوہ کے حوالے سے صرف اتنا ہی کہا گیا ہے کہ وہ ناراض ہیں، اس سنی سنائی بات پر قمر جاوید باجوہ کو کیوں نوٹس کر دیں ؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ شوکت عزیز صدیقی نے زیادہ نام فیض حمید کا لیا ہے،قمر باجوہ سے متعلق گفتگو تو سنی سنائی ہے، قمر باجوہ نے شوکت عزیز صدیقی سے براہ راست کوئی بات نہیں کی تھی، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا چیف جسٹس ہائی کورٹ نے وہ بنچ بنایا تھا جو فیض حمید چاہتے تھے؟وکیل حامد خان نے کہا کہ جو فیض حمید چاہتے تھے وہ ہوا، فیض حمید چاہتے تھے الیکشن 2018 سے پہلے نوازشریف کی ضمانت نہ ہو، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اب آپ خود معاملہ الیکشن 2018 تک لے آئے ہیں، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ نوازشریف کی اپیل پر کیا فیصلہ ہوا؟ وکیل حامد خان نے کہا کہ اپیلوں پر ابھی فیصلہ ہوا اور نوازشریف بری ہوگئے ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جنرل باجوہ سے تو کڑی نہیں جڑ رہی،آپ کہتے ہیں کہ فیض حمید جنرل باجوہ کے کہنے پر آئے، جنرل قمر جاوید باجوہ پر تو براہ راست الزام ہی نہیں،آج کل تو لوگ کسی کا نام استعمال کر لیتے ہیں،رامے بھی اس کیس سے غیر متعلقہ ہیں،زیادہ تر فیض باجوہ کی بات کی ہے آپ نے۔ آپ نے جن کے نام دئیے ہیں ان کا کیا کردار تھا یہ ثبوت کے ساتھ دیں۔دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے جسٹس شوکت عزیز صدیقی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ جذباتی نہ ہوں،شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ جتنے جذبات تھے پانچ سال میں ٹھنڈے ہوگئے،

    شوکت عزیز صدیقی کیس، فیض حمید،بریگیڈئر ریٹائرڈ عرفان رامے،سابق چیف جسٹس انور کاسی کو نوٹس

    سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس انور کاسی کو نوٹس جاری کر دیا۔جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کو بھی نوٹس جاری کر دیا، بریگیڈئر ریٹائرڈ عرفان رامے کو بھی نوٹس جاری کر دیا،سپریم کورٹ کے سابق رجسٹرار ارباب عارف کو بھی نوٹس جاری کر دیا گیا، سپریم کورٹ نے ایک ہفتے میں جواب طلب کر لیا،تین افراد جنہیں شوکت عزیز صدیقی نے فریقین بنایا تھا ان کا براہ راست تعلق نہیں، جنرل ریٹائرڈ قمر جاوید باجوہ، طاہر وفائی، بریگئیڈیئر فیصل مروت کو نوٹس جاری نہیں کیا گیا،کیس کی سماعت چھٹیوں کی تعطیلات کے بعد ہوگی،در خواست گزاروں کی ایڈریسز کے ترمیمی درخواستیں ایک ہفتے میں دائر کی جائیں، ترمیمی درخواستیں آنے کے بعد سپریم کورٹ آفس نوٹس جاری کرے گا، کیس کی آئندہ حتمی تاریخ ججز کی دستیابی کے بعد طے کریں گے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز شوکت عزیز صدیقی کیس میں سابق فوجی افسران کوفریق بنانے کی درخواست سپریم کورٹ میں دائر کر دی گئی،درخواست میں سابق آرمی چیف قمر جاوید باجوہ، سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کو فریق بنانے کی استدعا کی گئی، بریگیڈئیر ریٹائرڈ عرفان رامے، بریگیڈیئر ریٹائرڈ فیصل مروت، بریگیڈیئر ریٹائرڈ طاہر وفائی کو فریق بنانے کی استدعا کی گئی،سابق چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ انور کانسی،سابق رجسٹرار سپریم کورٹ ارباب عارف کو فریق بنانے کی استدعاکی گئی،سابق جج شوکت عزیز نے درخواست اپنے وکیل حامد خان ایڈووکیٹ کے ذریعے دائر کی

    تین سال بیت گئے،ریٹائرمنٹ کی تاریخ گزرچکی اب تو کیس سن لیں،

    سوچ بھی نہیں سکتا کہ بنچ کا کوئی رکن جانبدار ہے،سابق جج شوکت عزیز صدیقی

    جسٹس شوکت صدیقی ملکی تاریخ کے دوسرے جج ہیں جن کے خلاف آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت کارروائی کی گئی ہے  اس سے قبل 1973 میں لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت علی کو بدعنوانی کے الزامات ثابت ہونے پر عہدے سے ہٹایا گیا تھا۔

    اکتوبر 2018 میں سپریم جوڈیشل کونسل کی سفارش پر صدر مملکت کی منظوری کے بعد وزارت قانون نے متنازع خطاب پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو عہدے سے ہٹانے کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے سینیئر جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے 21 جولائی 2018 کو راولپنڈی بار میں خطاب کے دوران حساس اداروں پر عدالتی کام میں مداخلت کا الزام عائد کیا تھا

  • جسٹس شوکت عزیز صدیقی کا فیض حمید کو کیس میں فریق بنانے کا فیصلہ،سماعت ملتوی

    جسٹس شوکت عزیز صدیقی کا فیض حمید کو کیس میں فریق بنانے کا فیصلہ،سماعت ملتوی

    سپریم کورٹ،شوکت عزیز صدیقی کیس میں سابق فوجی افسران کوفریق بنانے کی درخواست دائر کر دی گئی
    درخواست میں سابق آرمی چیف قمر جاوید باجوہ، سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کو فریق بنانے کی استدعا کی گئی، بریگیڈئیر ریٹائرڈ عرفان رامے، بریگیڈیئر ریٹائرڈ فیصل مروت، بریگیڈیئر ریٹائرڈ طاہر وفائی کو فریق بنانے کی استدعا کی گئی،
    سابق چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ انور کانسی،سابق رجسٹرار سپریم کورٹ ارباب عارف کو فریق بنانے کی استدعاکی گئی،سابق جج شوکت عزیز نے درخواست اپنے وکیل حامد خان ایڈووکیٹ کے ذریعے دائر کی

    قبل ازیں ،اسلام آباد ہائی کورٹ سے برطرفی کے خلاف جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی درخواست پر سماعت سپریم کورٹ میں ہوئی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے کیس کی سماعت کی،جسٹس امین الدین، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس عرفان سعادت خان بینچ میں شامل ہیں۔دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بینچ کی تبدیلی پر وضاحت کر دی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ درخواست پر گزشتہ سماعت کب ہوئی تھی؟ حامد خان نے کہا کہ آخری سماعت 13 جون 2022 کو ہوئی تھی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ افسوس کی بات ہے آج کل ہر کوئی فون اٹھا کر صحافی بنا ہوا ہے،پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کی روشنی میں یہ بینچ تشکیل دیا،پہلے اس بینچ میں کون کون سے ججز تھے، وکیل حامد خان نے کہا کہ سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے کیس سنا،بینچ میں جسٹس سردار طارق مسعود ،جسٹس اعجاز الاحسن ، جسٹس مظہر عالم میاں ، اور جسٹس سجاد علی شاہ شامل تھے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جسٹس سردار طارق اور جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا ہم اس بینچ میں نہیں بیٹھنا چاہتے،باقی ججز ریٹائرڈ ہو چکے ہیں ،میں نے بنچ سے کسی کو نہیں ہٹایا، بینچوں کی تشکیل اتفاق رائے یا جمہوری انداز میں ہو رہی ہے، موبائل ہاتھ میں اٹھا کر ہر کوئی صحافی نہیں بن جاتا،صحافی کا بڑا رتبہ ہے،حامد خان نے کہا کہ آج کل جمہوریت کا زمانہ ہے، اس وقت جمہوریت مشکل حالات میں ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپکی معاونت درکار رہے گی، جمہوریت چلتی رہے گی, آپ نے اسے آگے لے کر چلنا ہے، آج کل فون پکڑ کر صحافی بن جاتے ہیں اور یوٹیوب چینل جاتا ہے، جبکہ صحافی کا رتبہ بہت اونچا ہوتا ہے،اِس کیس کو نئے سرے سے سننا ہو گا،

    شوکت عزیز صدیقی کے وکیل حامد خان روسٹرم پر آگئے،وکیل حامد خان نے کہا کہ کیس میں بنچ تبدیل ہو گیا ہے، اس سے پہلے جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس سردار طارق اور جسٹس اعجازالاحسن بنچ میں تھے،جسٹس مظہر عالم اور جسٹس سجاد علی شاہ بھی بنچ میں شامل تھے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اس کیس میں بنچ بدل چکا ہے اور اب نئے سرے سے دلائل شروع کرنا ہوں گے،آج کل ہر کوئی موبائل پکڑ کر یوٹیوب پر ویڈیو بنا کر سمجھتا ہے کہ وہ صحافی ہے،اس بنچ کو بنانے کا فیصلہ ججز کمیٹی نے کیا،کوشش یہی ہوتی ہے کہ ججز کمیٹی اتفاق رائے سے فیصلے کرے لیکن فطری طور پر یہ ممکن نہیں،شوکت صدیقی کیس میں نیا بنچ بنانا کمیٹی کا متفقہ فیصلہ تھا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے حامد خان سے استفسار کیا کہ آپ کو اس بنچ کے کسی رکن پر اعتراض تو نہیں ہے؟وکیل حامد خان نے کہا کہ نہیں اس بنچ کے کسی رکن پر اعتراض نہیں، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ آج کل ویسے بھی اعتراض کا زمانہ ہے،

    دوران سماعت ایڈووکیٹ حامد خان نے شوکت عزیز صدیقی کی راولپنڈی بار میں کی گئی تقریر کا متن پڑھا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ اسوقت اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کون تھے،حامد خان نے کہا کہ اس وقت چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ انور کانسی تھے، شوکت عزیز صدیقی پر 4 ریفرنسز بنائے گئے، ایک ریفرنس یہ بنایا کہ سرکاری رہائش گاہ پر شوکت عزیز صدیقی نے زائد اخراجات کیے،ہم نے کونسل میں درخواست دی کہ ججز کی سرکاری رہائش گاہوں پر ہونے ولے اخراجات کی مکمل تفصیل دیں، کونسل نے جواب دیا جو مانگ رہے ہیں وہ غیر متعلقہ ہے، ایک ریفرنس 2017 کے دھرنے کی بنیاد پر بنایا گیا، جس میں شوکت عزیز صدیقی نے بطور جج اسلام آباد ہائیکورٹ ریمارکس دئیے، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا آپ یہ کہہ رہے ہیں عدالتی ریمارکس پر ریفرنس بنایا گیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ شوکت صدیقی کے خلاف شکایات کنندگان کون تھے، حامد خان نے کہا کہ رہائش گاہ پر زائد اخراجات کے شکایت کنندہ سی ڈی اے ملازم انور گوپانگ تھے،ایک ریفرنس ایڈووکیٹ کلثوم اور ایک سابق ایم این اے جمشید دستی نے بھیجا، جسٹس جمال خان مندوخیل نے استفسار کیا کہ جمشید دستی کس سیاسی جماعت کا حصہ تھے؟ حامد خان نے کہا کہ مجھے کنفرم نہیں لیکن شاید آزاد حیثیت میں ہونگے، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ یعنی آپ کہ رہے ہیں جمشید دستی مکمل آزاد نہیں تھے، حامد خان نے کہا کہ راولپنڈی بار میں کی گئی تقریر پر جوڈیشیل کونسل نے خود نوٹس لیا، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ جوڈیشیل کونسل کو کیسے ہتا چلا کہ کسی جج نے تقریر کی ہے؟حامد خان نے کہا کہ ایجینسیوں نے شکایت کی تھی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ریکارڈ دیکھ کر بتائیں وہاں کیا لکھا ہوا ہے،حامد خان نے کہا کہ ریکارڈ میں 22 جولائی 2018 کا رجسٹرار کا ایک نوٹ موجود ہے،

    دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جن دو شخصیات پر الزام لگا رہے ہیں ان کو فریق تو بنائیں، ہم مفروضوں پر کیس نہیں سنیں گے، یہاں صحافی بھی بیٹھے ہیں آپ جو بات یہاں کر رہے ہیں اخباروں کی زینت بنے گی، موبائل اٹھا کر صحافی بننے والوں کو سوچنا چاہیے کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر کا فیصلہ آچکا ہے،
    سپریم کورٹ میں اب پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کے تحت بنچز تشکیل دیئے جاتے ہیں،ادارے نہیں بولتے ادارے میں بیٹھی شخصیات ہی بولتی ہیں، میرا ایک اصول ہے کہ جس پر الزام لگاو اس کو بھی سنو ممکن ہے وہ الزامات تسلیم کر لے،کورٹ میں صحافی بیٹھے ہیں اور کل اس شخص کا نام اخبارات کی زینت بن جائے گا، ہم کسی کو کچھ لکھنے سے تو نہیں روک سکتے، آپ جس شخص پر الزام لگا رہے ہیں اسے فریق بنانا چاہتے ہیں یا نہیں؟ وکیل حامد خان نے کہا کہ مجھے فریق بنانے پر کوئی اعتراض نہیں،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ جس شخص پر الزام لگا رہے ہیں کیا اس نے کسی فورم پر آپ کو جواب دیا؟کیا سپریم جوڈیشل کونسل نے اس شخص کو نوٹس کیا تھا؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے کہا کہ شاید میں غلط ہوں لیکن ادارے برے نہیں ہوتے لوگ برے ہوتے ہیں،ہم شخصیات کو برا نہیں کہتے، اداروں کو برا بھلا بولتے ہیں، اداروں کو لوگ چلاتے ہیں،ملک میں تباہی کی وجہ لوگ شخصیات کی بجائے اداروں کوبدنام کرتے ہیں، ملک کی تباہی اس وجہ سے ہوتی ہے کہ شخصیات کے بجائے اداروں کو برا بھلا کہتے ہیں،حامد خان نے کہا کہ فیض حمید کو فریق بنانے کا جوڈیشل کونسل نے موقع نہیں دیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اب تو آپ کے پاس موقع ہے اب کیوں نہیں فریق بنا رہے؟ کسی کی پیٹھ پیچھے الزام نہیں لگانے دینگے، اس اعتبار سے تو سپریم جوڈیشل کونسل کا فیصلہ درست ہے، حامد خان نے کہا کہ فیض حمید کو فریق بنانے پر اعتراض نہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ فریق بنا کر ہم پر احسان نہ کریں، اداروں پر الزام نہیں لگانے دینگے،

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ شوکت عزیز صدیقی نے الزام ہائی کورٹ چیف جسٹس پر لگایا تھا، جسٹس انور کانسی کو بھی فریق نہیں بنایا گیا، ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا فیض حمید کو کسی اور درخواست گزار نے فریق بنایا ہے؟وکیل بار کونسل نے کہا کہ فیض حمید کو نہیں آئی ایس آئی کو فریق بنایا ہے،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ انور کانسی نے سپریم جوڈیشل کونسل میں جواب جمع کرایا تھا، حامد خان نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل میں جواب جمع کروایا تو سماعت کا موقع ہی نہیں دیا گیا، سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ نے اوپن کورٹ میں ریفرنسز کی سماعت کا حکم دیا تھا، سپریم جوڈیشل کونسل نے صرف ابتدائی سماعت کی تھی باضابطہ انکوائری ابھی ہونی تھی، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ شوکت عزیز صدیقی نے اپنی تقریر کا متن بیان حلفی پر سپریم جوڈیشل کونسل کو کیوں نہیں دیا؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل حامد خان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کچھ ہمیں بھی سن لیں،ہم آپ کو کسی کو فریق بنانے پر مجبور نہیں کریں گے ،ہر شعبے میں اچھی اور بری شخصیات ہوتی ہیں، وکلاء میں بھی اچھے اور برے ہیں،

    جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کو کیس میں فریق بنانے کا فیصلہ کر لیا،سپریم کورٹ میں جسٹس شوکت عزیز صدیقی برطرفی کیس کی سماعت کل 10:30 تک ملتوی کر دی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ نے جن پر الزام لگایا اس کو فریق بنائیں ورنہ دوسرے نکتے پر دلائل دیں،کل ہوسکتا ہے جس کو فریق بنائیں ان کو عدالت نوٹس جاری کرے،اگر فریق بنانے کی درخواست آج دائر کرتے ہیں تو کل نوٹس جاری کر دینگے، حامد خان نے آج ہی فیض حمید اور انور کانسی کو فریق بنانے کی درخواست دائر کرنے کی یقین دہانی کرا دی ،حامد خان نے کہا کہ جن پر الزام لگایا ہے انہیں فریق بنانے کی درخواست کل تک دائر کر دینگے،عدالت نے مزید سماعت کل تک ملتوی کردی

    تین سال بیت گئے،ریٹائرمنٹ کی تاریخ گزرچکی اب تو کیس سن لیں،

    سوچ بھی نہیں سکتا کہ بنچ کا کوئی رکن جانبدار ہے،سابق جج شوکت عزیز صدیقی

    جسٹس شوکت صدیقی ملکی تاریخ کے دوسرے جج ہیں جن کے خلاف آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت کارروائی کی گئی ہے  اس سے قبل 1973 میں لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت علی کو بدعنوانی کے الزامات ثابت ہونے پر عہدے سے ہٹایا گیا تھا۔

    اکتوبر 2018 میں سپریم جوڈیشل کونسل کی سفارش پر صدر مملکت کی منظوری کے بعد وزارت قانون نے متنازع خطاب پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو عہدے سے ہٹانے کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے سینیئر جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے 21 جولائی 2018 کو راولپنڈی بار میں خطاب کے دوران حساس اداروں پر عدالتی کام میں مداخلت کا الزام عائد کیا تھا

  • ہم تو 24 گھنٹے سپریم کورٹ بیٹھنے کیلئے حاضر ہیں،آپ رات 9 بجے بھی کہیں، چیف جسٹس

    ہم تو 24 گھنٹے سپریم کورٹ بیٹھنے کیلئے حاضر ہیں،آپ رات 9 بجے بھی کہیں، چیف جسٹس

     

    سپریم کورٹ میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے سابق جج شوکت عزیز صدیقی کی برطرفی کیخلاف کیس کی سماعت ہوئی

    شوکت عزیز صدیقی کے وکیل حامد خان کی طرف سے سپریم کورٹ میں دلائل دیئے گئے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم چاہتے ہیں یہ کیس جلد ختم ہو،14 سماعتیں ہوچکی ہیں حامد خان جلد دلائل مکمل کریں،بینچ میں شامل دو ججز جولائی اور اگست میں ریٹائر ہورہے ہیں،ججز کی ریٹائرمنٹ سے قبل کیس ختم کرنا چاہتے ہیں،زیر التوا مقدمات کے بوجھ کے باعث لارجر بینچ مشکل سے بنتا ہے،وکیل حامد خان نے کہا کہ کیس دوپہر 12 بجے شروع ہو تو دلائل کیلئے زیادہ وقت مل جائے گا جس پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم تو 24 گھنٹے سپریم کورٹ بیٹھنے کیلئے حاضر ہیں،آپ رات 9 بجے بھی کہیں تو سپریم کورٹ میں کیس سننے کیلئے تیار ہیں،عدالت نے حامد خان کو، آج دلائل مکمل کرنے کی ہدایت کر دی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ کل اٹارنی جنرل کو سن لیں گے،

    جسٹس شوکت صدیقی ملکی تاریخ کے دوسرے جج ہیں جن کے خلاف آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت کارروائی کی گئی ہے  اس سے قبل 1973 میں لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت علی کو بدعنوانی کے الزامات ثابت ہونے پر عہدے سے ہٹایا گیا تھا۔

    اکتوبر 2018 میں سپریم جوڈیشل کونسل کی سفارش پر صدر مملکت کی منظوری کے بعد وزارت قانون نے متنازع خطاب پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو عہدے سے ہٹانے کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔

    طیارہ حادثہ، رپورٹ منظر عام پر آ گئی، وہی ہوا جس کا ڈر تھا، سنئے مبشر لقمان کی زبانی اہم انکشاف

    جنید جمشید سمیت 1099 لوگوں کی موت کا ذمہ دار کون؟ مبشر لقمان نے ثبوتوں کے ساتھ بھانڈا پھوڑ دیا

    سابق جج شوکت عزیز صدیقی ایک بار پھر عدالت پہنچ گئے

    سابق جج اسلام آباد ہائیکورٹ شوکت عزیز صدیقی نے چیف جسٹس گلزار احمد کو خط لکھ دیا

    تین سال بیت گئے،ریٹائرمنٹ کی تاریخ گزرچکی اب تو کیس سن لیں،سابق جسٹس شوکت عزیز صدیقی کا چیف جسٹس کو خط

    شوکت عزیز صدیقی کی برطرفی سے متعلق کیس کی سماعت ملتوی

  • شوکت عزیز صدیقی کی برطرفی سے متعلق کیس کی سماعت ملتوی

    شوکت عزیز صدیقی کی برطرفی سے متعلق کیس کی سماعت ملتوی

    سابق جج اسلام آباد ہائیکورٹ شوکت عزیز صدیقی کی برطرفی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    شوکت عزیز صدیقی کے وکیل حامد خان نے سپریم کورٹ میں دلائل دیئے،وکیل نے کہا کہ شوکت عزیز صدیقی کو سپریم جوڈیشل کونسل میں آزاد گواہان پیش کرنے کا موقع نہیں دیا گیا ، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ کیا آپ کو شوکاز نوٹس کا جواب دینے کے بعد شنوائی کا موقع دیا گیا؟ وکیل نے کہا کہ شوکاز نوٹس کے بعد جواب کا موقع دیا گیا لیکن ثبوت پیش کرنے نہیں دیئے گئے،سپریم جوڈیشل کونسل اگر چارج شیٹ پیش کرتی تو ثبوت پیش کر دیتے،ججز کے کوڈ آف کنڈکٹ کی وضاحت ہو تو معلوم ہو کہ جج کو کیا کرنا چاہیے کیا نہیں

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بینچ کے 2 ممبران ریٹائر ہونے والے ہیں، کیس کو جلد نمٹانا چاہتے ہیں،آپ دلائل میں اور کتنا وقت لیں گے؟ وکیل حامد خان نے کہا کہ میں نے تو ابھی دلائل شروع بھی نہیں کیے،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ تو کیا ابھی تک یہ وارم اپ تھا؟ وکیل حامد خان نے کہا کہ شوکت عزیز صدیقی کیس میں اپنی نوعیت کا منفرد فیصلہ ہو گا، کیس کو تفصیل سے سننا ضروری ہے، سپریم کور ٹ نے کیس کی سماعت 29 مارچ تک ملتوی کر دی

    جسٹس شوکت صدیقی ملکی تاریخ کے دوسرے جج ہیں جن کے خلاف آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت کارروائی کی گئی ہے  اس سے قبل 1973 میں لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت علی کو بدعنوانی کے الزامات ثابت ہونے پر عہدے سے ہٹایا گیا تھا۔

    اکتوبر 2018 میں سپریم جوڈیشل کونسل کی سفارش پر صدر مملکت کی منظوری کے بعد وزارت قانون نے متنازع خطاب پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو عہدے سے ہٹانے کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے سینیئر جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے 21 جولائی 2018 کو راولپنڈی بار میں خطاب کے دوران حساس اداروں پر عدالتی کام میں مداخلت کا الزام عائد کیا تھا۔جو کہ وہ الزام ثابت نہ کرسکے

    طیارہ حادثہ، رپورٹ منظر عام پر آ گئی، وہی ہوا جس کا ڈر تھا، سنئے مبشر لقمان کی زبانی اہم انکشاف

    جنید جمشید سمیت 1099 لوگوں کی موت کا ذمہ دار کون؟ مبشر لقمان نے ثبوتوں کے ساتھ بھانڈا پھوڑ دیا

    اے ٹی سی کی وائس ریکارڈنگ لیک،مگر کیسے؟ پائلٹ کے خلاف ایف آئی آر کیوں نہیں کاٹی؟ مبشر لقمان نے اٹھائے اہم سوالات

    کراچی میں پی آئی اے طیارے کا حادثہ یا دہشت گردی؟ اہم انکشافات

    سابق جج شوکت عزیز صدیقی ایک بار پھر عدالت پہنچ گئے

    سابق جج اسلام آباد ہائیکورٹ شوکت عزیز صدیقی نے چیف جسٹس گلزار احمد کو خط لکھ دیا

    تین سال بیت گئے،ریٹائرمنٹ کی تاریخ گزرچکی اب تو کیس سن لیں،سابق جسٹس شوکت عزیز صدیقی کا چیف جسٹس کو خط

    شوکت عزیز صدیقی کی برطرفی سے متعلق کیس کی سماعت ملتوی

  • شوکت عزیز صدیقی کی برطرفی سے متعلق کیس کی سماعت ملتوی

    شوکت عزیز صدیقی کی برطرفی سے متعلق کیس کی سماعت ملتوی

    سپریم کورٹ میں سابق جج شوکت عزیز صدیقی کی برطرفی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگلے ہفتے سابق جج شوکت عزیز صدیقی کی برطرفی سے متعلق کیس ختم کریں گے،کیس کا فیصلہ بھی لکھنا ہوتا ہے اس لیے جلدی کیس ختم کرنا چاہتے ہیں سابق جج شوکت عزیز صدیقی کی برطرفی سے متعلق کیس کی سماعت اگلے ہفتے تک ملتوی کر دی گئی

    قبل ازیں سابق جج ہائی کورٹ جسٹس شوکت عزیز صدیقی کیس کی 7 دسمبر 2021 کو ایک ہفتے کے لیے ملتوی کی گئی تھی اور اسکے بعد آج سماعت ہوئی،اس دوران شوکت عزیز صدیقی نے عدالت میں درخواست سماعت کیلئے مقرر کرنے کے لئے بھی درخواست دائر کی تھی

    جسٹس شوکت صدیقی ملکی تاریخ کے دوسرے جج ہیں جن کے خلاف آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت کارروائی کی گئی ہے  اس سے قبل 1973 میں لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت علی کو بدعنوانی کے الزامات ثابت ہونے پر عہدے سے ہٹایا گیا تھا۔

    اکتوبر 2018 میں سپریم جوڈیشل کونسل کی سفارش پر صدر مملکت کی منظوری کے بعد وزارت قانون نے متنازع خطاب پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو عہدے سے ہٹانے کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے سینیئر جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے 21 جولائی 2018 کو راولپنڈی بار میں خطاب کے دوران حساس اداروں پر عدالتی کام میں مداخلت کا الزام عائد کیا تھا۔جو کہ وہ الزام ثابت نہ کرسکے

    طیارہ حادثہ، رپورٹ منظر عام پر آ گئی، وہی ہوا جس کا ڈر تھا، سنئے مبشر لقمان کی زبانی اہم انکشاف

    جنید جمشید سمیت 1099 لوگوں کی موت کا ذمہ دار کون؟ مبشر لقمان نے ثبوتوں کے ساتھ بھانڈا پھوڑ دیا

    اے ٹی سی کی وائس ریکارڈنگ لیک،مگر کیسے؟ پائلٹ کے خلاف ایف آئی آر کیوں نہیں کاٹی؟ مبشر لقمان نے اٹھائے اہم سوالات

    کراچی میں پی آئی اے طیارے کا حادثہ یا دہشت گردی؟ اہم انکشافات

    سابق جج شوکت عزیز صدیقی ایک بار پھر عدالت پہنچ گئے

    سابق جج اسلام آباد ہائیکورٹ شوکت عزیز صدیقی نے چیف جسٹس گلزار احمد کو خط لکھ دیا

    تین سال بیت گئے،ریٹائرمنٹ کی تاریخ گزرچکی اب تو کیس سن لیں،سابق جسٹس شوکت عزیز صدیقی کا چیف جسٹس کو خط