Baaghi TV

Tag: شہباز شریف

  • جادو چل گیا ، جمہوریت کو نقصان پہنچا، ضمیر فروشی ہوئی، شہباز شریف

    جادو چل گیا ، جمہوریت کو نقصان پہنچا، ضمیر فروشی ہوئی، شہباز شریف

    اسلام آباد : چیئر مین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی ناکامی کے بعد قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر شہبازشریف نےاسے جمہوریت کا نقصان قرار دیتے ہوئے کہا کہ ضمیر فروشی ہوئی ہے۔

    پارلیمنٹ ہاؤس میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو میں شہبازشریف نے کہا کہ جادو تو چلا ہے، ضمیر فروشی ہوئی ہے۔صحافی کے سوال پر کہ کون سا جادو چلا ہے ؟ شہباز شریف نے جواب دیا کہ آپ کو پتہ ہے کہ امیر ترین جو ہیں وہ حرکت میں آئے ہیں اور ضمیر فروشی ہوئی۔

    اپنی ناکامی تسلیم کرتے ہوئے شہباز شریف نےکہا کہ 14 ارکان کم ہوئے ہیں، ہمارے 64 ارکان تحریک کے حق میں کھڑے ہوئے تھے، آج جو ہوا اس سے جمہوریت کو نقصان پہنچا۔

    صحافیوں سے بات کرتے ہوئے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے ہدایت دی ہے کہ پتہ لگایا جائے مسلم لیگ ن سے کس کس نے ووٹ صادق سنجرانی کو دیا اوراپوزیشن کے 9 ووٹ چیئرمین سینیٹ کو کیسے پڑے؟

  • وطن عزیز فسطائیت کی زد میں … رانا اسد منہاس

    وطن عزیز فسطائیت کی زد میں … رانا اسد منہاس

         فسطائیت کا لفظ ان دنوں پاکستانی سیاست میں زبان زد عام ہے۔انگریزی میں فسطائیت کو  فاشزم کہتے ہیں۔گزشتہ دنوں سے پاکستانی میڈیا پر اس لفظ کا خوب پرچار ہورہا ہے۔پاکستان مسلم لیگ نون کے صدر میاں محمد شہباز شریف نے بھی اپنے مختلف بیانات میں اس لفظ کا تزکرہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں فسطائیت پروان چڑھ رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم پاکستان جناب عمران خان صاحب فاشزم سے متاثر شخص ہیں اور وطن عزیز میں فسطائیت کے نظریات کو پروان چڑھانا چاہتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم وطن عزیز میں فسطائیت کو پروان نہیں چڑنے دیں گے بلکہ خان صاحب کے ان نظریات کا رد کر کے ان کا مقابلہ کریں گے۔میاں محمد شہباز شریف نے گزشتہ دنوں رانا ثناء اللہ کی گرفتاری اور دوسرے اپوزیشن ارکان،خصوصی طور پر پاکستان مسلم لیگ نون کے خلاف ہونے والی کاروائیوں کو فسطائیت قرار دیا۔    
    قارئین کرام آج کے کالم میں ہم لفظ فسطائیت کے مفہوم اور اس کی تاریخ سے پردہ ہٹانے کی کوشش کریں گے۔بنیادی طور پر لفظ فسطائیت لاطینی زبان کے لفظ Fascio سے ماخوذ ہے۔لاطینی زبان کی اگر بات کی جائے تو یہ زبان قدیم روم میں بولی جاتی تھی۔لاطینی زبان میں لفظ Fascio کے معنی ڈنڈوں کے مجموعہ کے ہیں۔یہ ڈنڈوں کا مجموعہ اس وقت کے مجسٹریٹ کے پاس ہوتا تھا۔مجسٹریٹ ان ڈنڈوں کواپنے سپاہیوں کو دے دیتا اور وہ ان ڈنڈوں کو ہاتھوں میں لیے بازاروں میں گشت کرتے تھے۔بازار میں اگر کوئی شخص قانون کی خلاف ورزی کرتے پکڑا جاتاتو وہ سپاہی اسی وقت اسے پکڑ کر سزا دیتے تھے۔ یہاں تک کے ان سپاہیوں کے پاس بڑی سے بڑی سزا دینے کے بھی اختیارات ہوتے تھے۔ڈنڈوں کا یہ مجموعہ وقت کے مجسٹریٹ کا نشان تھا جو بعد میں فاشزم یعنی فسطائیت بن گیا۔اگر ہم سیاسی تناظر میں اس لفظ کی وضاحت کریں تو یوں کہا جا سکتا ہے کہ یہ ایک ایسی قوم پرستی یا شدید وطن پرستی ہے جو آمریت کا رجحان رکھتی ہے۔عام فہم میں آمریت سے مراد طاقت کا استعمال کر کے اپنے سیاسی مخالفین کو دبانا اور اپنے نظریات کی پاسداری کرانا ہے۔
         فاشزم کا آغاز بیسوی صدی میں ہوا،بنیادی طور پر یہ یورپ کی ایک تحریک تھی۔اس تحریک سے ایسے لوگوں کی اکژیت وابستہ تھی جو سوسائٹی پر اپنا کنٹرول چاہتے تھے۔فاشزم نے انڈسٹری،مارکیٹ،کامرس اور بینکنگ پر بھی کنٹرول حاصل کیا۔فسطائیت کی تحریک ایک جرمن فلاسفر فریڈرک نیطشے کی سوچ کا مظہر تھی۔اس کا خیال تھا کہ عیسائیت ایک غلام مذہب ہے،اور یہ لوگوں میں غلامی کو فروغ دیتا ہے۔لہٰذا ہمیں ترقی کی نئی راہوں پر گامزن ہونے کے لیے مذہب کو چھوڑ کر جدید سائنس کو اپنانا چاہیے۔فریڈرک نیطشے کا مشہور مقولہ ہے کہ God is dead جس کا اصل مفہوم یہ ہے کہ زندگی گزارنے کے اصول و ضوابط میں سے خدا کو نکال کر زندگی کے تمام اصول اور قوانین خود طے کیے جائیں۔اس نے ایک سپر مین super men کا تصور بھی متعارف کرایا،جس کے مطابق انسان میں طاقت ہونی چاہیے کہ وہ مقتدر بن کر اقتدار کی قوت کو حاصل کر سکے۔فریڈک کے مطابق ہر وہ چیز اور نظریہ جو انسان کو طاقتور بنائے اچھا ہے جبکہ اس کے برعکس ہر وہ نظریہ جو اس طاقت کو حاصل کرنے سے روکے وہ برا ہے۔قارئین کرام اگر ہم فریڈک نیطشے کے فسطائیت کے مفہوم کو مختصر بیان کرنا چاہیں تو یوں کہا جا سکتا ہے کہ اس نظریے کے مطابق طاقت اور اقتدار ہی اچھائی کا محور و مرکز ہیں۔اس طاقت اور اقتدار کو پانے کے لیے کوئی بھی اچھا یا برا راستہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔یہاں تک کہ اس مقصد کے لیے تشدد کا راستہ بھی اختیار کیا جا سکتا ہے۔فسطائیت کا آغاز سب سے پہلے اٹلی میں ہوااور اس کاپہلا بانی بینیٹو مسولینی تھا۔مسولینی سوشلسٹ پارٹی آف اٹلی کا ممبر تھا۔جنگ عظیم اول میں سوشلسٹ پارٹی آف اٹلی نے حکومت کا ساتھ دینے کی بجائے اس کی مخالفت کی جس وجہ سے مسولینی نے اس پارٹی کو خیر باد کہہ کر فاشسٹ پارٹی کی بنیاد رکھی۔اس پارٹی سے منسلک لوگ سیاہ شرٹ پہنتے تھے۔ان کا یہ دعوٰی تھا کہ وہ اٹلی کو ایک عظیم ملک بنائیں گے۔انہوں نے اٹلی کی عوام کو تبدیلی کا ایک نیا تصور دیا۔آغاز ہی میں انہوں نے اٹلی کی ایک مزدوروں پہ مشتمل منظم تحریک کو طاقت کا استعمال کرکے ختم کر دیا۔اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے اٹلی کے جاگیرداروں اور سرمایہ دار طبقے نے اس تحریک کو تقویت بخشی اور اس کی حمایت کا باقاعدہ اعلان کر دیا۔اس طرح فسطائیت کی یہ تحریک اٹلی کے ساتھ ساتھ پورے یورپ میں پھیل گئی،اور طاقت کے بل بوتے پر اپنے نظریات منوانے میں کامیاب ہو گئی۔قارئین کرام اس تحریک کا اصل مقصد نیشنلزم اور جمہوریت کی آڑ میں آمریت قائم کرنا تھا۔اگلے کالم میں ہم فسطائیت پہ مبنی نظریات اور اس کی علامات پہ روشنی ڈالیں گے اور یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ کیا واقعی وزیر اعظم عمران خان وطن عزیز میں فسطائیت کو فروغ دینا چاہتے ہیں،اور وہ کونسی وجوہات ہیں جن کی بنا پر اپوزیشن کی جانب سے خان صاحب پہ یہ الزام عائد کیا جا رہا ہے۔
    رانا اسد منہاس جڑانولہ
    adiminhas562@gmail.com

  • عثمان بزدار کے کارنامے ۔۔۔نوید شیخ

    عثمان بزدار کے کارنامے ۔۔۔نوید شیخ

    سردار عثمان بزدار نے پولیٹیکل سائنس مں ایم اے کا ہوا ہے۔عثمان بزدار 2002 سے 2008 تک مسلم لگ۔ ق۔ مشرف دور مں تونسہ کے تحصل ناظم ۔ دوہزار ترہ میں مسلم لگا ن کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا . مگرپیپلز پارٹی کے امیدوار سے ہار گئے۔پھر 2018 میں عثمان بزدار جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کا حصہ بن گئے۔گزشتہ جنرل الیکشن میں عثمان بزدارتونسہ سے تحریک انصاف کے ٹکٹ پر پہلی بار رکن اسمبلی منتخب ہوئے اور پہلی ہی باری میں صوبے کے سب سے بڑے عہدے کے لیے نامزد ہو گئے۔

    مزید بڑھیے: عمران خان پر چارج شیٹ ۔۔۔ نوید شیخ

    پنجاب کے وزیراعلیٰ بننے سے پہلے وہ کیا تھے کم لوگ ہی جانتے ہیں۔ انھں عمران خان نے وزیراعلیٰ کیوں بنایا یہ بات اور بھی کم لوگ جانتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ بننا جہانگیر ترین نے تھا وہ نااہل ہوئے تو انھوں نے اپنا بندہ بنوا لیا۔ کوئی کہتا ہے کہ پرچی نکالی گئی ہے۔کسی کا اندازہ ہے کہ کسی دعا یا استخارے کے نتیجے میں یہ وزیر اعلی بنے۔ مگراس بات کو تو عقل ماننے کو تیار نہیں کہ عثمان بزدار کو پسماندہ علاقے سے تعلق ہونے کی بنا پر وزیر اعلی بنایا گیا۔چلیں وجہ جو بھی ہو۔اگر ان کے9 سے 10 ماہ کی کارکردگی کا موزانہ سابق وزراء اعلی سے کیا جائے تو بزدارکا دور شایدپنجاب کی تاریخ کا سب سے خراب اوربدترین دور ہے۔اس میں کسی کوکوئی شک و شبہ نہیں کہ عثمان بزدار نالائق اور نااہل ہیں ۔ بظاہر تو عثمان بزدار پاکستان کے سب سے بڑے اور طاقتور صوبے کے سربراہ ہیں ۔مگر ایسی طاقت کا کیا فائدہ جب آپکو استعمال کرنی ہی نہ آتی ہو۔شاید اگلے چا ر سالوں تک عثمان بزدار اپنے اختیارات کو استعمال کر نا سیکھ جائیں مگر تب تک پنجاب کا بٹھہ ضرور بیٹھا جائیں گے۔کیونکہ کوئی ایسا قابل ذکر کام نہیں جووہ اپنے حلقے کے عوام کے لیے اب تک کر سکے ہوں تو پورے پنجاب کے لیے انھوں نے کیا کرنا ہے۔پنجاب کے سیاسی کلچر میں کمزور اور مسکین کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ لوگ طاقتور اور مضبوط حکمران چاہتے ہیں۔

    مزید پڑھیے: پاکستانی آٹوموبائل مافیا کو نکیل کون ڈالے گا ؟. نوید شیخ

    سونے پر سہاگہ کہ عثمان بزدار نے اپنے دفاع کے لیے ترجمانوں کا پورا دستہ تیار کر لیا ہے . یعنی 38 ترجمان مقرر کر لے ہیں. اتنے پنجاب میں ڈسٹرکٹ نہیں ہیں۔ان ترجمانوں سے بھی کوئی فرق نہیں پڑ رہا۔وہ اس لیے کہ پنجاب حکومت کی کارکردگی ہی صفر بٹاصفر ہے۔ صاف بات ہے پنجاب کو ایسے نہیں چلایا جا سکتا۔ تحریک انصاف نے خود بھی شعوری طور پر انکو قبول نہیں کیا ہے ایک جانب تو ان کو وزیر اعلی پنجاب لگا دیا دوسری جانب پارٹی کے ورکر اور لیڈر خود ان کی ٹانگیں کھینچ رہے ہیں۔پنجاب کوئی بلوچستان نہیں، پنجاب کوئی کے پی نہیں۔ یہ کوئی چھوٹا صوبہ نہں بلکہ ساٹھ فیصد پاکستان ہے۔ یہ پاکستان کا سب سے موثر اور بڑا صوبہ ہے۔ یہاں کمزور وزیر اعلیٰ کیسے کامیا ب ہو سکتاہے۔

    عثمان بزدار کو یہ بات سمجھ ہی نہیں آرہی ہے کہ میڈیا ایک دو دھاری تلوار ہے۔ یہ جتنا باہر کاٹتا ہے اتنا ہی اندر کاٹتا ہے۔ ابھی تک تحریک انصاف نے اپنے سیاسی مخالفین کو جائز و ناجائز گندا کرنے کے لیے میڈیا کا بھر پور استعمال کیا ہے۔ لیکن اب ان کی باری ہے۔
    ڈی پی او پاکپتن کا معاملہ ہو۔ سانحہ ساہوہال ہو۔ ہیلی کوپٹر کا استعمال ہو۔ وزیر اعلی پنجاب کے پروٹوکول کا معاملہ ہو۔ آئی جی پنجاب کی تبدیلیاں ہوں۔ شہروں مں کوڑاکرکٹ کے ڈھیر ہوں۔ ہسپتالوں اور سکولوں کی حالت زار ہو۔ ساہیوال ہسپتال مں اے سی نہ چلنے سے بچوں کی اموات ہوں۔ اربوں کی سبسڈی کے باوجودرمضان بازار فلاپ ہوں۔اسٹریٹ کرائم میں اضافہ ہو۔ بیوروکریسی میں تقرر وتبادلے ہوں۔مارکیٹ پرائس کمیٹیاں ہوں۔عثمان بزدار کے اپنے حلقے تونسہ میں بغرر بورڈ اور متعلقہ افراد کی منظوری کے 102 افراد میں 1 کروڑ 6 لاکھ روپوں کی تقسیم ہو۔لیہ گرلز کالجز کی طالبات کو دوردراز علاقوں سے لانے والی بسوں کو ڈی جی خان شفٹ کرنے کا معاملہ ہو۔ ہر امتحان مں پنجاب حکومت فیل ہی ہوئی ہے اور اس سب کی ذمہ داری صرف اور صرف عثمان بزدارکی ہے۔

    مزید پڑھیے : ملاوٹ کا ناسور … نوید شیخ

    عثمان بزدار کا موازنہ اچھا یا برا شہباز شریف سے ہی کیا جائے گا۔ اوراب تک کارکردگی میں شہباز شریف عثمان بزدار سے لاکھ درجے بہتر ہی تھے۔پنجاب میں اگر کوئی تحریک انصاف کو کمزور کر رہا ہے تو وہ وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار ہی ہیں۔کوئی مانے یا نہ مانے لیکن وزیر اعلیٰ پنجاب بننے کے بعد عثمان بزدار عمران خان کے نمبر ٹو ہیں۔وہ عمران خان کے بعد سب سے اہم ہیں۔ شاہ محمود، جہانگیر ترین، علیم خان، اسد عمر اب اتنے اہم نہیں جتنے سردار عثمان بزدار اہم ہیں۔وزیراعظم عمران خان وزیراعلیٰ بزدار کے بارے میں بار بار فرماتے ہیں. وہ شہباز شریف کی طرح لوٹ مار نہیں کرے گا۔یقینا ایسا ہی ہوگا۔ مگر ممکن ہے عثمان بزدار کی نااہلی سے پنجاب کو مالی طورپر نقصان شہباز شریف کی لوٹ مار سے زیادہ ہو جائے۔

    مزید پڑھئے: رمضان اور ہماری منافقت … نوید شیخ

    عوام کو عثمان بزدار نے دھوکے میں رکھا ہوا ہے۔کوئی اصلاحات نہیں ہوئیں . نہ ہی کوئی کا م ہوا ہے پہلے کی طرح بدحالی عوام کا مقدر دیکھائی دے رہی ہے۔ ویسے ہی لوگ سٹرکوں پر احتجاج کر رہے ہیں۔ پہلے سے بھی زیادہ بے روزگاری۔مہنگائی اور فاقوں مں اضافہ ہورہا ہے۔ ویسے ہی جاگر داری اور طاقت کا نظام قائم ودائم ہے۔پہلے سے بھی زیادہ صرف میڈیا اور ٹویٹر پر جعلی کارکردگی جاری وساری ہے۔ عملی کام صفر ہیں۔پہلے کی طرح ہی ہیلی کاپٹر اور پروٹوکول گاڑیاں استعمال ہو رہی ہیں۔ پہلے ہی کی طرح صرف سب اچھا ہے کی رپورٹ ہے۔ یہ ہے وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کی کارکردگی.

    اپنی رائے دینے کے لیے ای میل کریں
    naveedsheikh123@hotmail.com

    ٹویٹر پر فالو کریں