Baaghi TV

Tag: شہباز شریف

  • وزیراعظم آفس میں اے آئی پر مبنی جدید ٹریکنگ اور فیصلہ سازی نظام کا افتتاح

    وزیراعظم آفس میں اے آئی پر مبنی جدید ٹریکنگ اور فیصلہ سازی نظام کا افتتاح

    وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے وزیراعظم آفس میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی جدید ٹریکنگ اور فیصلہ سازی نظام کا افتتاح کر دی-

    وزیراعظم آفس میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے مصنوعی ذہانت پر مبنی جدید ٹریکنگ اور فیصلہ سازی نظام پر مکمل عملدرآمد کی ہدایت کرتے ہوئے کہاکہ آج کے بعد کوئی روایتی فائل سسٹم نہیں ہوگا اور عوامی فلاح و بہبود اور خدمت کو یقینی بنانے کے لیے اس نظام کا مکمل نفاذ یقینی بنایا جائے-

    انہوں نے اس نظام کی تیاری اور فعالیت پر وفاقی وزرا احد خان چیمہ، شزا فاطمہ خواجہ اور متعلقہ حکام کی کاوشوں کو سراہا اور ہدایت کی کہ تمام وزارتیں اس نظام کو اختیار کرتے ہوئے اپنے امور اسی کے تحت انجام دیں،وزیراعظم نے کہاکہ اب روایتی انداز میں فائلیں لے کر گھومنے کی ضرورت نہیں، تمام امور اس جدید نظام کے ذریعے نمٹائے جائیں۔

    اس موقع پر وفاقی وزیر احد چیمہ نے کہاکہ جدید طرز حکمرانی کے لیے مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا پر مبنی نظام فعال کر دیا گیا ہے، جو حکومتی فیصلوں میں شفافیت اور بروقت اقدامات کے حوالے سے انتہائی اہم ثابت ہوگا وزیراعظم کی ہدایت کی روشنی میں فیصلہ سازی میں جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کار لایا جا رہا ہے، جبکہ مؤثر پالیسی سازی اور ڈیٹا پر مبنی نتائج کے حصول کے لیے یہ نظام انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

    احد چیمہ نے کہاکہ پرانے نظام میں تمام تقاضے پورے نہیں ہوتے تھے اور اس کے نتائج سے مکمل استفادہ ممکن نہیں تھا، اس لیے ان خامیوں کو دور کرتے ہوئے یہ جدید نظام متعارف کرایا گیا ہے، جس میں ایسے کئی نئے عوامل شامل کیے گئے ہیں جو پہلے نظام کا حصہ نہیں تھے۔

    شزا فاطمہ خواجہ نے وزیراعظم آفس سسٹم سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بطور وزیراعلیٰ ڈیجیٹائزیشن کا آغاز کیا تھا اور اب پاکستان ڈیجیٹل سے مصنوعی ذہانت کی جانب گامزن ہےحکومت تمام شعبوں میں جدید ٹیکنالوجی متعارف کرا رہی ہے جبکہ سماجی تحفظ کے سب سے بڑے پروگرام کو بھی ڈیجیٹائز کیا جا چکا ہے حکومت پیپر لیس طرز حکمرانی کی طرف بڑھ رہی ہے اور وزیراعظم آفس سسٹم سے کارکردگی اور خود احتسابی کے عمل میں مزید بہتری آئے گی۔

    وزیراعظم کو دی گئی بریفنگ کے مطابق ’وزیراعظم آفس سسٹم‘ پاکستان کا پہلا مصنوعی ذہانت سے چلنے والا نظام ہے یہ وزیراعظم آفس کا سرکاری ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہے، جس کا مقصد وزیراعظم کے احکامات کے اجرا سے لے کر ان پر عملدرآمد، تکمیل اور بعد از تکمیل نگرانی تک تمام مراحل کو خودکار بنانا ہے۔

    بریفنگ میں بتایا گیا کہ یہ نظام گورننس اور شفافیت کے فروغ کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا اور حکومت کی معاشی ترجیحات اور عوامی خدمات کی فراہمی کو مزید مؤثر بنانے میں معاون ہوگااس نظام کے ذریعے وزیراعظم کے احکامات کی مقررہ مدت (ڈیڈ لائن) کی نشاندہی اور نگرانی ممکن ہوگی، جبکہ وزارتوں کی جوابدہی، کارکردگی اور حکومتی فیصلوں پر بروقت عملدرآمد کو بھی مزید مؤثر بنایا جا سکے گا۔

  • وزیراعظم شہباز شریف سے ایرانی وزیر داخلہ کی ملاقات

    وزیراعظم شہباز شریف سے ایرانی وزیر داخلہ کی ملاقات

    وزیرِاعظم محمد شہباز شریف سے ایران کے وزیرِ داخلہ اسکندر مؤمنی کی وزیرِاعظم ہاؤس میں ملاقات کی، جس میں خطے کی موجودہ صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ،ایرانی وزیرِ داخلہ اسکندر مومنی اپنے وفد کے ہمراہ وزیرِاعظم ہاؤس پہنچے، جہاں وزیرِاعظم شہباز شریف نے ان کا استقبال کیا ملاقات میں دونوں مما لک کے اعلیٰ حکام بھی شریک تھے،وزیراعظم ہاؤس میں وزیراعظم شہباز شریف سے ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی سے ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور اور خطے کی مجموعی صورت حال پر غور کیا گیا۔

    ایرانی وزیر داخلہ نے وزیراعظم کو ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا خصوصی پیغام بھی پہنچایا اور حالیہ کشیدگی کی وجوہات سے بھی آگاہ کیا جب کہ اسکندر مومنی نے ایران امریکا مذاکرات میں پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کی تعریف کی۔

    وزیراعظم نے ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کر تے ہوئے فریقین پر مذاکرات کی طرف واپس آنے پر بھی زور دیا شہباز شریف نے ایران کے ساتھ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ بھی کیا جب کہ اس اہم ملاقات میں پاکستان اور ایران کا قریبی روابط جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔

    قبل ازیں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی کے اعزاز میں پولیس لائنز اسلام آباد میں شاندار پریڈ کا انعقاد کیا گیا، جہاں ان کا وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کے ہمراہ پرتپاک استقبال کیا گیا۔

    تقریب کے دوران اسلام آباد پولیس کے خصوصی دستے نے ایرانی وزیر داخلہ کو گارڈ آف آنر پیش کیا، جبکہ پاکستان اور ایران کے قومی ترانے بھی بجائے گئے اسکندر مومنی نے وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کے ہمراہ پولیس پریڈ کا معائنہ کیا اور اسلام آباد پولیس کے چاق و چوبند دستوں کی سلامی قبول کی۔

    اس موقع پر ایرانی وزیر داخلہ نے اسلام آباد پولیس کے جوانوں کی پیشہ ورانہ مہارت، نظم و ضبط اور کارکردگی کو سراہتے ہوئے شاندار خدمات انجام دینے وا لے پولیس اہلکاروں میں انعامات بھی تقسیم کیے تقریب پاک ایران دوستانہ تعلقات اور دونوں ممالک کے درمیان سکیورٹی تعاون کے فروغ کی علامت قرار دی گئی تقریب میں انسپکٹر جنرل اسلام آباد پولیس علی ناصر رضوی سمیت پولیس کے اعلیٰ افسران بھی موجود تھے۔

  • وزیراعظم شہباز شریف اور نواز شریف تعزیتی دورے پر قطر پہنچ گئے

    وزیراعظم شہباز شریف اور نواز شریف تعزیتی دورے پر قطر پہنچ گئے

    وزیراعظم محمد شہباز شریف اور سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف ایک روزہ سرکاری دورے پر قطر کے دارالحکومت دوحہ پہنچ گئے۔

    دوحہ ایئرپورٹ پر آمد پر قطر کے نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ مملکت برائے دفاع شیخ سعود بن عبدالرحمٰن بن حسن بن علی آل ثانی نے وزیرِ اعظم شہباز شریف، سابق وزیرِ اعظم میاں محمد نواز شریف اور پاکستانی وفد کا گرم جوشی سے استقبال کیا،وزیراعظم شہباز شریف اپنے دورے کے دوران قصرِ لوسیل جائیں گے، جہاں ان کی امیرِ قطر شیخ تمیم بن حماد آل ثانی سے ملاقات ہوگی۔

    دورے کا بنیادی مقصد قطر کے سابق امیر شیخ حماد بن خلیفہ آل ثانی کے انتقال پر امیرِ قطر، شاہی خاندان اور قطری عوام سے تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرنا ہے،وزیراعظم کے ہمراہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار اور وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ بھی موجود ہیں-

  • وزیراعظم شہباز شریف کا بنگلہ دیش میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے جانی نقصان پر اظہارِ افسوس

    وزیراعظم شہباز شریف کا بنگلہ دیش میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے جانی نقصان پر اظہارِ افسوس

    وزیراعظم شہباز شریف نے بنگلہ دیش میں شدید سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں ہونے والے جانی نقصان اور وسیع پیمانے پر تباہی پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

    بنگلہ دیش میں شدید مون سون بارشوں کے نتیجے میں آنے والے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے قد رتی آفت کے باعث متعدد افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ ہزاروں شہری متاثر ہوئے ہیں، سیلابی پانی سے سڑکیں، مکانات اور بنیادی ڈھانچہ متاثر ہو نے کے ساتھ امدادی سرگرمیوں میں بھی مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق شدید بارشوں کے بعد کئی نشیبی علاقے زیر آب آ گئے ہیں، جبکہ پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث انسانی جانوں کے ضیاع اور املاک کو نقصان پہنچا ہے۔ حکام متاثرہ علاقوں میں امدادی اور بحالی کی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اور مزید بارشوں کے پیش نظر شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے بنگلہ دیش میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے ہونے والی تباہی پرافسوس کا اظہار کیا ہے۔

    سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کے عوام کی جانب سے وہ متاثرہ خاندانوں سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں اور اس مشکل گھڑی میں بنگلہ دیش کی حکومت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہیں،انہوں نے دعا کی کہ زخمی افراد جلد صحتیاب ہوں اور متاثرہ علاقوں میں موجود تمام افراد محفوظ رہیں، پاکستان اس قدرتی آفت کے باعث غمزدہ بنگلہ دیشی عوام کے دکھ میں برابر کا شریک ہے اور متاثرین کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتا ہے۔

  • عالمی تنازعات کےخاتمے کے لیے صدر ٹرمپ کی کوششیں قابل تحسین ہیں،وزیراعظم

    عالمی تنازعات کےخاتمے کے لیے صدر ٹرمپ کی کوششیں قابل تحسین ہیں،وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکی عوام کو امریکا کی 250ویں یوم آزادی پر مبارکباد دی۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان پائیدار جمہوری اقدار کی خوشی میں امریکا کے ساتھ ہے، دونوں ممالک کے درمیان 7 دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط شراکت داری قائم ہے پاکستانی نژاد امریکی برادری نے اس شراکت داری کو مزید مضبوط بنایا ہے، عالمی امن کو درپیش چیلنجز میں امریکا اور پاکستان ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہے، جنوبی ایشیا میں امن کےلیے صدر ٹرمپ کے کردار کو تسلیم کرتے ہیں۔

    وزیراعظم نے کہا کہ اس کردار نے ممکنہ تباہ کن جنگ کو روک کر کروڑوں جانیں بچائیں، عالمی تنازعات کےخاتمے کے لیے صدر ٹرمپ کی کوششیں قابل تحسین ہیں، دونوں ممالک ایک روشن اور امید افزا مستقبل کی جانب بڑھ رہے ہیں، پاکستان امریکا کے ساتھ شراکت داری مزید مضبوط بنانے کےلیے پرعزم ہے۔

  • مینگو ڈپلومیسی: وزیراعظم شہباز شریف کا 76 ممالک کے سربراہان کو آم تحفے میں دینے کا فیصلہ

    مینگو ڈپلومیسی: وزیراعظم شہباز شریف کا 76 ممالک کے سربراہان کو آم تحفے میں دینے کا فیصلہ

    حکومتِ پاکستان نے وزیراعظم شہباز شریف کی خصوصی ‘مینگو ڈپلومیسی’ مہم کے تحت دنیا بھر کے 76 ممالک کے سربراہانِ مملکت، اعلیٰ حکومتی شخصیات، سفارت کاروں اور اہم عالمی شخصیات کو اعلیٰ معیار کے پاکستانی آم بطور تحفہ بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹی ڈی اے پی) کے مطابق اس خصوصی سفارتی مہم کے تحت 34 ٹن سے زائد اعلیٰ معیار کے پاکستانی آم 5 کلوگرام کے 6 ہزار 896 خصو صی پیکنگ باکسز میں دنیا کےمختلف ممالک روانہ کیے جائیں گےاس بار سب سے بڑی کھیپ سعودی عرب، ترکیہ، برطانیہ اور چین کو بھیجی جا رہی ہے، جبکہ دیگر اہم دوست اور شراکت دار ممالک بھی اس فہرست میں شامل ہیں آموں کی پیکنگ اور ترسیل بین الاقوامی معیار کےمطابق کی جا رہی ہےتاکہ منزل تک پہنچنے تک ان کی تازگی اور معیار برقرا ر رہے۔

    اس اقدام کا مقصد صرف پاکستانی آموں کو بطور تحفہ پیش کرنا نہیں بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کےاعلیٰ معیار کے زرعی اور باغبانی مصنوعات کو فروغ دینا بھی ہے پاکستانی آم اپنی منفرد خوشبو، ذائقے اور اعلیٰ معیار کی وجہ سے دنیا بھر میں خاص شہرت رکھتے ہیں، اور یہ مہم ان کی عالمی مارکیٹ میں مزید پذیرائی حاصل کرنے میں معاون ثابت ہو گی “مینگو ڈپلو میسی” پا کستان کی سافٹ ڈپلومیسی کا اہم حصہ ہے، جس کے ذریعے دوست ممالک کے ساتھ خیر سگالی، باہمی اعتماد اور دوستانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی سفارتی مہمات نہ صرف پاکستان کا مثبت تشخص اجاگر کرتی ہیں بلکہ ملکی زرعی برآمدات میں اضافے، نئی منڈیوں تک رسائی اور پاکستانی آموں کی عالمی طلب بڑھانے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

  • ایران امریکا  مذاکرات:عالمی میڈیا نے بھی پاکستان کے مثبت کردار کو نمایاں کوریج دی ہے،وزیراعظم

    ایران امریکا مذاکرات:عالمی میڈیا نے بھی پاکستان کے مثبت کردار کو نمایاں کوریج دی ہے،وزیراعظم

    وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف نے کہا کہ حالیہ بین الاقوامی پیشرفت خطے کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے پاکستان نے ہمیشہ مذاکرات، سفارتکاری اور پرامن حل کی حمایت کی ہے اور قومی مفاد کے تحفظ کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کی ہیں۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج ایک تاریخی دن ہے اور وہ قومی معاملات پر ایوان کو اعتماد میں لینا چاہتے ہیں پاکستان خطے میں امن، استحکام اور تعاون کے فروغ کے لیے فعال کردار ادا کر رہا ہے اور بین الاقوامی سطح پر سفارتی کوششیں مسلسل جاری ہیں حالیہ بین الاقوامی پیشرفت خطے کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے پاکستان نے ہمیشہ مذاکرات، سفارتکاری اور پرامن حل کی حمایت کی ہے اور قومی مفاد کے تحفظ کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کی ہیں، مذاکر ات میں تاریخی پیش رفت ہوئی ہے جو نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے کے لیے خوش آئند ہے۔

    شہباز شریف نے بتایا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے سوئٹزرلینڈ میں دونوں ممالک کی قیادت کے درمیان ملاقاتیں ہوئیں جبکہ پاکستان نے دونوں فریقوں کے درمیان فاصلے کم کرنے اور مذاکرات کو کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کیا، پاکستان نے خلوص نیت اور سنجیدگی کے ساتھ سفارتی کوششیں کیں، مذاکراتی عمل دن رات جاری رہا اور رات گئے تمام فریقین کے اتفاق سے مشترکہ اعلامیہ تیار کیا گیا، جس کی بعد ازاں تمام متعلقہ فریقوں نے توثیق بھی کی۔

    وزیراعظم کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی ہو چکی ہے جبکہ آئندہ 60 روز کے دوران تکنیکی سطح پر مذاکرات جاری رہیں گے ان مذاکرات میں جوہری پروگرام، بیلسٹک میزائل پروگرام اور منجمد اثاثوں سمیت دیگر اہم معاملات پر بات چیت کی جائے گی، پاکستان کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں خطے میں کشیدگی کم ہوئی ہے اور ملک نے امن و استحکام کے لیے مثبت اور تعمیری کردار ادا کیا ہے 60 روز کے اندر مفاہمتی یادداشت ایک مستقل اور دیرپا معاہدے کی شکل اختیار کر سکتی ہے، جس سے خطے اور دنیا میں امن کے فروغ کی امید پیدا ہوئی ہے۔

    شہباز شریف نے پوری قوم، پارلیمنٹ اور اپوزیشن کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے مذاکراتی عمل میں کلیدی اور تاریخی کردار ادا کیا ہے عالمی سطح پر پاکستان کے کردار کو سراہا جا رہا ہے اور عالمی میڈیا نے بھی اس مثبت کردار کو نمایاں کوریج دی ہے وزیراعظم نے اسے پاکستان کی بڑی سفارتی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسا مثبت عالمی تشخص اربوں روپے خرچ کرنے سے بھی حاصل نہیں کیا جا سکتا تھا۔

    انہوں نے مزید بتایا کہ ایرانی صدرآج پاکستان پہنچ رہے ہیں ایرانی صدر پاکستان کی دعوت پر دورہ کر رہے ہیں اور اس دوران دوطرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون، علاقائی امن اور استحکام سمیت مختلف امور پر اہم ملاقاتیں ہوں گی پاکستان اپنے تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ مضبوط اور دوستانہ تعلقات کا خواہاں ہے۔

    اپنے خطاب کے دوران وزیراعظم نے ملکی سیاسی صورتحال کا بھی ذکر کیا اور اپوزیشن جماعت پاکستان تحریک انصاف کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ آج کا دن اختلافی معاملات اٹھانے کا نہیں تھا بلکہ قومی اور بین الاقوامی اہمیت کے معاملات پر یکجہتی کا اظہار کرنا چاہیے تھااگر پاکستان تحریک انصاف کو تحقیقات کا اتنا ہی شوق ہے تو پھر تحقیقات کا آغاز 2018 سے کیا جانا چاہیے تاکہ تمام معاملات قوم کے سامنے آسکیں۔

  • وزیر اعظم شہباز شریف سے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی ملاقات

    وزیر اعظم شہباز شریف سے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی ملاقات

    برگن اسٹاک: وزیر اعظم شہباز شریف سے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی ملاقات ہوئی۔

    وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکا ایران مذاکرات کے لیے سوئٹرزلینڈ میں موجود ہیں جہاں ان کی ملاقات امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے ہوئی ہےامریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے ساتھ وفد میں جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف بھی موجود تھے جنہوں نے وزیراعظم پاکستان سے ملاقات کی۔

    ذرائع کاکہنا ہے کہ امریکی وفد سے ملاقات کے بعد وزیراعظم شہبازشریف ایرانی وفد سےبھی ملیں گے، ایرانی وفد کی سربراہی باقرقالیباف کریںگے،ساتھ وزیرخارجہ عراقچی اوردیگر حکام بھی ہوں گے۔

    واضح رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن اسٹاک میں ہیں،وزیراعظم شہباز شریف نے برگن اسٹاک پہنچنے پر مقامی صحافیوں سے جرمن زبان میں بات کرتے ہوئے خیرسگالی کا اظہار کیا، جبکہ ان کا یہ دورہ امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے معاہدے پر پیش رفت کے لیے ہونے والے اہم سفارتی رابطوں کے سلسلے میں ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف کی آمد کے موقع پر موجود صحافیوں نے ان کا استقبال کیا، جس پر وزیراعظم نے جرمن زبان میں ان سے مخاطب ہو کر شکریہ ادا کیا اس مختصر گفتگو کو سفارتی حلقوں میں خیرسگالی کے اظہار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی سوئٹزرلینڈ پہنچے ہیں، جہاں دونوں رہنما امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفار تی عمل سے متعلق اعلیٰ سطحی مذاکرات میں شریک ہوں گے۔

    وزیراعظم شہباز شریف سوئٹزرلینڈ اس لیے گئے ہیں کہ وہ امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد میمورنڈم آف انڈرسٹینڈنگ (ایم او یو) پر عملدرآمد کے لیے ہونے والے مذاکرات میں پاکستان کی نمائندگی کریں۔ یہ مذاکرات 17 جون کو طے پانے والے معاہدے کے بعد پہلا اہم سفارتی مرحلہ قرار دیے جا رہے ہیں ان مذاکرات میں امریکا، ایران اور قطر کے اعلیٰ سطحی وفود بھی شریک ہوں گےپاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے سہولت کار کا کردار ادا کیا تھا، اور اب اسلام آباد اس عمل کو آگے بڑھانے کے لیے سفارتی رابطوں میں مصروف ہے۔

  • سوئٹزر لینڈ  میں   امریکا  ایران تکنیکی مذاکرات ، وزیراعظم  شہباز شریف کی شرکت بھی متوقع

    سوئٹزر لینڈ میں امریکا ایران تکنیکی مذاکرات ، وزیراعظم شہباز شریف کی شرکت بھی متوقع

    اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت سوئٹزر لینڈ میں ہونے والے امریکا ایران تکنیکی مذاکرات میں وزیراعظم شہباز شریف کے بھی شامل ہونےکا امکان ہے۔

    ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کے آج رات زیورخ کے لیے روانہ ہونےکا امکان ہے جبکہ امریکی نمائندے وٹکوف اور جیرڈکشنر پہلے ہی سوئٹزر لینڈ میں موجود ہیں جب کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی آج سوئٹزرلینڈ روانگی متوقع ہے۔

    دوسری جانب ایران کا مذاکراتی وفد باقر قالیباف کی سربراہی میں سوئٹزرلینڈ روانہ ہوگیا ہے ایرانی میڈیا کے مطابق وفد میں وزیر خارجہ عباس عراقچی، ایرانی قومی سلامتی کونسل کے عہدیدار علی باقری، ایرانی مرکزی بینک کے گورنر عبدالناصر ہمتی، کاظم غریب آبادی اور اسماعیل بقائی شامل ہیں۔

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت تکنیکی سطح کے مذاکرات 21 جون کو سوئٹزرلینڈ میں ہوں گے سوئٹزرلینڈکے شہر برگن اسٹاک میں ہونے والے مذاکرات میں امریکا، ایران، پاکستان اور قطر کے نمائندے شریک ہوں گے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد فالو اپ کے طور پر تکنیکی سطح کے مذاکرات کا انعقاد کیا جا رہا ہے پاکستان ثالث کے طور پر مذاکراتی عمل کو سہولت فراہم کرتا رہےگا، پاکستان کا مقصد اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت طے مفاہمت کو آگے بڑھانا ہے، پاکستان امن عمل میں ثالثی کےکردار کو جاری رکھےگا۔

  • وزیراعظم پاکستان  نے  اسلام آباد مفاہمتی یاداشت پر دستخط کر دیئے

    وزیراعظم پاکستان نے اسلام آباد مفاہمتی یاداشت پر دستخط کر دیئے

    وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے اسلام آباد مفاہمتی یاداشت (اسلام آباد میمورنڈم آف انڈراسٹیڈنگ) پر بطور ثالث دستخط کردیے۔

    وزیر اعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم نے اسلام آباد مفاہمتی یاداشتپر بطور ثالث دستخط کردیے، اسلام آباد مفاہمتی یاداشت پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان کے دستخط موجود ہیں-

    اس سے قبل وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے ایک بڑی سفارتی کامیابی کا اعلان کرتے ہوئے بتایا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر الیکٹرانک دستخط مکمل ہو گئے ہیں معاہدے پر دونوں ممالک کے صدور نے دستخط کیے جبکہ پاکستان نے ثالث کے طور پر اس کی توثیق کی ہے،اعلیٰ ترین حکومتی سطح پر ہونے والے اس معاہدے نے اس امر کا واضح ثبوت دیا ہے کہ واشنگٹن اور تہران تنازع کے حل کے لیے سفارتی راستہ اختیار کرنے پر متفق ہیں۔

    امریکا اور ایران کے مفاہمتی یادداشت پر الیکٹرانک دستخط کر دیے، آج سےمعاہدہ نافذ العمل ہوگیا

    ،انہوں نے کہا کہ مفاہمتی یادداشت فوری طور پر نافذ العمل ہو گئی ہےمعاہدے کے تحت پہلے مرحلے میں ایران فوری طور پر آبنائے ہرمز کو بحری آمدورفت کے لیے کھول دے گا جبکہ امریکا اپنی بحری ناکہ بندی فوری طور پر ختم کرے گا، پاکستان شریک ثالث ریاست قطر کے تعاون سے 19 جون 2026 کو سوئٹزرلینڈ میں اس تاریخی پیش رفت کی یاد میں باضابطہ تقریب کی میزبانی کرے گا جہاں دونوں ممالک کے درمیان تکنیکی سطح کے مذاکرات کا آغاز بھی متوقع ہے۔

    اس موقع پر شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا گیا کہ ان کی سفارت کاری سے وابستگی اور تنازعات کے پرامن حل کو ترجیح دینے کی پالیسی نے ایک ایسے بحران کا خاتمہ ممکن بنایا جو پورے خطے اور دنیا کے لیے تباہ کن نتائج کا سبب بن سکتا تھا۔

    وزیر اعظم نے امریکی مذاکراتی ٹیم کے ارکان جے ڈی وینس، اسٹیو وٹکوف اور جیریڈ کشنر کی خدمات کو بھی سراہا گیا، جنہوں نے معاہدے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا شہباز شریف نے ایرانی قیادت کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے سپریم لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خمینی اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی بصیرت، دور اندیشی اور امن کے لیے عزم کو سراہا گیا۔

    صدر ٹرمپ نے فرانسیسی صدر کی موجودگی میں مفاہمتی یادداشت پر دستخط کئے

    وزیر اعظم نے اسی طرح ایرانی مذاکراتی ٹیم کے ارکان محمد باقر قالیباف، عباس عراقچی اور اسکندر مومینی کی کوششوں کو بھی معاہدے کی کامیابی میں کلیدی قرار دیا گیا بیان میں شہباز شریف نے قطر کی قیادت کی تعمیری شمولیت اور سفارتی تعاون کو خصوصی طور پر سراہا گیا، جبکہ سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کی قیادت کے کردار کو بھی ناگزیر اور انتہائی اہم قرار دیا گیا۔

    وزیر اعظم شہباز شریف نے خصوصی طور پر فیلڈ مارشل عاصم منیر کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا کہ ان کی انتھک کاوشیں، بے لوث وابستگی اور پسِ پردہ سفارتی کردار اس پیش رفت کو ممکن بنانے اور خطے میں امن و استحکام کو فروغ دینے میں فیصلہ کن ثابت ہوئےاس امید کا اظہار کیاکہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت خطے میں بہتر باہمی تفہیم، احترام، اعتماد اور مشترکہ خوشحالی کی ایک مضبوط اور دیرپا بنیاد ثابت ہوگی اور مستقبل میں امن و تعاون کے نئے دروازے کھولے گی۔