Baaghi TV

Tag: شہزاد اکبر

  • شہزاد اکبر تو "وڑ گیا”،تیزاب حملہ،کوئی شواہد نہ ملے، تحقیقات بند

    شہزاد اکبر تو "وڑ گیا”،تیزاب حملہ،کوئی شواہد نہ ملے، تحقیقات بند

    بانی پی ٹی آئی کے سابق مشیر شہزاد اکبر کو دھچکا، خود پر حملے کے حوالے سے لگائے گئے الزامات دھرے رہ گئے

    شواہد نہ ملنے پر پولیس نے شہزاد اکبر پر حملے کی تحقیقات بند کردیں,شہزاد اکبر کے خود پر حملے کے دعووں کے حوالے سے پولیس کو کوئی ثبوت نہ مل سکا ,پولیس نے چھ ماہ تک شہزاد اکبر پر حملے کے حوالے تحقیقات کرنے کے بعد ہاتھ اٹھا لئے,شہزاد اکبر کی رہائش گاہ کی ہر طرف کیمرے موجود ہیں، پولیس کو کئی گھنٹوں کی فوٹج دیکھنے کے باوجود کوئی مشتبہ شخص نظر نہ آیا,ذرائع کے مطابق مقامی پولیس نے شہزاد اکبر کو تین ہفتہ قبل ہی کسی بھی مشتبہ شخص کی عدم موجودگی کے حوالے سے آگاہ کردیا تھا

    شہزاد اکبر نے پولیس کی طرف سے ٹکا سا جواب ملنے پر الزام حکومت پاکستان پر دھر دیا، ذرائع کے مطابق محض مبینہ حملے کے حوالے شہزاد اکبر حکومت پاکستان کے خلاف برطانیہ میں کارروائی نہیں کرسکتے، شہزاد اکبر نے مقدمہ دائر کرنے کی بجائے پاکستان کو بدنام کرنے کیلئے خط کا ڈرامہ رچایا ,پولیس بھی شہزاد اکبر پر حملے کے حوالے سے پریشان ہے کہ وہ کون سا تیزاب ہے جو چہرے پر پھینکنے پر صرف عینک کے شیشہ کو لگا،فرانزک رپورٹ کے مطابق بھی تیزاب ہوتا تو چہرہ جھلس سکتا تھا،

    برطانیہ کی پولیس نے شہزاد اکبر پر تیزاب حملے کی تحقیقات تقریباً نصف سال تک جاری رہنے کے بعد کوئی مشتبہ شخص نہ ملنے کے بعد بند کر دی ہیں۔انسداد دہشت گردی کی پولیسنگ سے منسلک ایک پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ "ہم نے انکوائری کی،اور اس دوران کسی مشتبہ شخص کی شناخت نہیں کر سکے۔”

    ہرٹ فورڈ شائر کانسٹیبلری، علاقائی پولیس فورس جو انگلینڈ میں ہرٹ فورڈ شائر کی کاؤنٹی کی پولیسنگ کے لیے ذمہ دار ہے جہاں شہزاد اکبر رہتا ہے، اور تحقیقات سے واقف ایک انٹیلی جنس ذریعہ نے اس معاملے پر جیو اور دی نیوز سے بات کی۔ہرٹ فورڈ شائر کانسٹیبلری نے کہا کہ یہ (شہزاد اکبر کی شکایت) ایک انتہائی پیچیدہ تفتیش تھی۔ "نومبر کے بعد سے، افسران ملوث افراد کا سراغ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس موقع پر، ہم کسی مشتبہ شخص کی شناخت نہیں کر سکے۔ اس نوعیت کے واقعات شکر ہے کہ ہرٹ فورڈ شائر میں بہت کم ہوتے ہیں۔ اگر کوئی نئی معلومات سامنے آئیں تو ہم اس کے مطابق کارروائی کریں گے۔

    انٹیلی جنس ذرائع نے اس رپورٹر کو بتایا کہ تحقیقات کے دوران کوئی مشتبہ شخص نہ ملنے کے بعد تفتیش بند کر دی گئی ہے۔ کئی گھنٹوں کی فوٹیج کا جائزہ لیا گیا جس میں رائسٹن کے مقامی علاقے کے داخلی اور خارجی راستوں کا بھی جائزہ لیا گیا لیکن کسی مشتبہ شخص کی شناخت نہیں ہوئی۔ فرانزک نے کوئی پیش رفت نہیں کی اور کوئی سراغ نہیں ملا، اس لیے بغیر کسی کارروائی کے تفتیش کو بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

    گزشتہ ہفتے شہزاد اکبر نے اعلان کیا کہ وہ تیزاب گردی کے حوالے سے حکومت پاکستان کے خلاف قانونی کارروائی کر رہے ہیں۔ انہوں نے اپنی قانونی کارروائی کی کاپی لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن کو پیش کی ہے۔ اس نے کئی پاکستانی سرکاری اہلکاروں کو اس حملے کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ شہزاد نے خط میں دعویٰ کیا ہے کہ اس حملے کے پیچھے حکومت پاکستان کا ہاتھ تھا۔برطانیہ کی پولیس کی جانب سے بغیر کسی مشتبہ شخص کے ملنے والی انکوائری کو بند کرنے پر تبصرہ کرنے کے لیے شہزاد اکبر نے کہا: "میں پہلے ہی یہ بتا چکا ہوں کہ مجھ پر حملے کا ذمہ دار کون ہے، جو پاکستانی حکومت کے کہنے پر کیا گیا۔

    سیاسی پناہ لینے والے بیشتر پاکستانی حکومت اور اداروں کو بے جا تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں،ترجمان دفتر خارجہ
    شہزاد اکبر نے جب خود پر تیزاب پھینکنے کا دعویٰ کیا تھا اسوقت ترجمان دفتر خارجہ کا ردعمل بھی سامنے آیا تھا، ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ شہزاد اکبر مبینہ حملہ، لندن کی مقامی پولیس نے مقدمہ درج کر لیا، ہائی کمیشن سے کوئی مدد نہیں مانگی گئی، شہزاد اکبر مبینہ حملے میں پاکستان اور پاکستانی اداروں پر الزامات کو مسترد کرتے ہیں،پاکستان بیرون ملک اپنے شہریوں کی حفاظت اور سہولیات کے لیے کوشاں رہتا ہے، بہت سے سیاسی مخالفین نے برطانیہ میں سیاسی پناہ لی اور کئی دہائیوں سے بیرون مالک مقیم ہیں، سیاسی پناہ لینے والے بیشتر پاکستانی حکومت اور اداروں کو بے جا تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں،بیرون ملک سیاسی پناہ لینے والے بہت سے لوگوں کے پاکستان میں دہشت گرد گروہوں سے تعلقات تھے،پاکستان مخالف بیانات دینے والوں کے خلاف کسی انتقامی کاروائی پر یقین نہیں رکھتے، ہمیں برطانیہ کے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر مکمل اعتماد ہے،امید ہے مبینہ حملے میں مجرموں کی شناخت اور برطانیہ کے قانون کے مطابق ان کے ساتھ برتاؤ کیا جائے گا، پاکستان تحقیقات پر گہری نظر رکھے گا

    شہزاد اکبر پاکستان میں اشتہاری
    عمران خان دور حکومت میں معاون خصوصی رہنے والے شہزاد اکبر کو پاکستا ن میں اشتہاری قرار دیا جا چکا ہے، شہزاد اکبر کو تھانہ سیکرٹریٹ کے مقدمہ میں دو دسمبر کو اشتہاری قرار دیا گیا تھا،مرزا شہزاد اکبر کو سول جج احمد شہزاد گوندل کی عدالت سے اشتہاری قرار دیا گیا ،شہزاد اکبر کے خلاف اسلام آباد کے تھانہ سیکرٹریٹ میں 8 دفعات کے تحت مقدمہ درج ہے۔شہزاد اکبر کے خلاف مقدمہ نمبر 156 فراڈ اور دیگر سنگین دفعات کے تحت درج کیا گیا تھا۔

    ہوشیار، آپکی جمع پونجی پر بڑا ڈاکہ تیار،الرحمان ڈیویلپرز ،اربن سٹی کی دو نمبریاں پکڑی گئیں

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    تجوری ہائٹس کا پلاٹ گورنر سندھ کی اہلیہ کے نام پر تھا،سپریم کورٹ میں انکشاف

    چیف جسٹس کا نسلہ ٹاور کی زمین بیچ کر الاٹیز کو معاوضے کی ادائیگی کا حکم

    امجد بخاری کی "شادی شدہ” افراد کی صف میں شمولیت

    ضمنی انتخابات میں مریم نواز کا جادو کیسے چلا؟ اہم انکشافات

    مریم نواز نے پولیس وردی پہنی،عثمان انور نے ساڑھی کیوں نہیں پہنی؟ مبشر لقمان کا تجزیہ

  • تحریک انصاف دور میں مقدمات،جے آئی ٹی رپورٹ میں عمر فاروق ظہور بے گناہ قرار

    تحریک انصاف دور میں مقدمات،جے آئی ٹی رپورٹ میں عمر فاروق ظہور بے گناہ قرار

    تحریک انصاف کے دور حکومت میں بے بنیاد مقدمات بھگتنے والے، دبئی میں مقیم پاکستانی تاجر،عمران خان کی جانب سے توشہ خانہ کی گھڑی خریدنے والے عمرظہور پر عائد الزامات بارے جے آئی ٹی کی رپورٹ سامنے آئی ہے

    نجی ٹی وی کے مطابق جے آئی ٹی رپورٹ لاہور ہائیکورٹ میں جمع کروائی گئی ہے، جے آئی ٹی رپورٹ کے مطابق عمر فاروق ظہور کے کسی جرم میں ملوث ہونے کا ثبوت نہیں ملا،تحقیقات کرنے والی ٹیم میں ایف آئی اے کے تین سینیئر ڈائریکٹرز شامل تھے، تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ تحریک انصاف کے بانی چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی مرزا شہزاد اکبر جو اس وقت لندن میں مقیم ہیں نے ایف آئی اے کو عمرفاروق کی سابقہ اہلیہ کی مدد کا کہا تھا، قانونی تقاضے پورے کیے بغیر عمر فاروق ظہور کے غیر ضمانتی وارنٹ حاصل کیے گئے اور ان کا شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بلیک لسٹ کر دیا گیا تھا،جوڈیشل مجسٹریٹ عمران عابد نے فیصلے میں کہا ہے کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ حقیقت پر مبنی ہے

    جوڈیشل مجسٹریٹ کے مطابق 2009 میں ایف آئی آر کے وقت عمر فاروق ظہور پاکستان میں تھے ہی نہیں ان کے خلاف مقدمہ میرٹ اور قانون کے مطابق درج نہیں ہوا تھا،عمرفاروق ظہور کے خلاف کوئی مصدقہ مواد نہیں ملا، ناکافی شواہد پائے گئے

    گزشتہ برس انٹرپول نے عمر فاروق ظہور کا نام اپنی لسٹ سے نکال دیا تھا جبکہ ان کو لاہور کی مجسٹریٹ عدالت نے بھی بری کر دیا تھا،لاہورمجسٹریٹ کورٹ نے عمر فاروق ظہور کو جعلی شاختی کارڈ اور اپنی ہی بیٹیوں کے اغوا کے الزام سے بھی بری کیا تھا

    عمر فاروق ظہور سے کس نے رابطہ کیاِ؟

    عمر فاروق ظہور منی لانڈرنگ کے دو کیسز میں بری

    توشہ خانہ کی گھڑی؛ عمران خان کی عمرفاروق ظہور کیخلاف دی گئی درخواست خارج

    گھڑی سے متعلق انکوئری: عمرفاروق ظہور نے ثبوت پیش کردیئے

    صوفیہ مرزا کو بڑا دھچکا، عدالت نے عمر فاروق ظہور کے خلاف بیٹیوں کے اغوا کا مقدمہ خارج کردیا

    میرے مؤقف کی تصدیق ہوئی،عمران خان کو سزا پر عمر فاروق ظہور کا ردعمل

    واضح رہے کہ دبئی میں مقیم ارب پتی تاجر عمر فاروق ظہور اس انکشاف کے بعد پاکستانی خبروں کی سرخیوں میں آئے کہ انہوں نے دبئی میں ایک لین دین کے دوران سابق وزیر اعظم عمران خان کی توشہ خانہ کی قیمتی گراف گھڑی، وہ مشہور گھڑی جو سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلیمان نے عمران خان کو تحفے میں دی تھی، فرح خان سے تقریباً 2 ملین ڈالرز میں خریدی تھی۔

  • اشتہاری شہزاد اکبر کی گرفتاری کے لئے انٹرپول کو خط

    اشتہاری شہزاد اکبر کی گرفتاری کے لئے انٹرپول کو خط

    سابق مشیر احتساب شہزاد کی گرفتاری کا معاملہ،وفاقی پولیس نے ایف آئی اے انٹر پول کو لکھ دیا۔

    شہزاد اکبر تھانہ سیکرٹریٹ کے مقدمہ میں دو دسمبر کو اشتہاری قرار دیا گیا تھا،ایف آئی اے نے شہزاداکبر کی گرفتاری کے لئے انٹر پول کو خط لکھ دیا ۔مرزا شہزاد اکبر کو سول جج احمد شہزاد گوندل کی عدالت سے اشتہاری قرار دیا گیا ہے ،شہزاد اکبر کے خلاف اسلام آباد کے تھانہ سیکرٹریٹ میں 8 دفعات کے تحت مقدمہ درج ہے۔شہزاد اکبر کے خلاف مقدمہ نمبر 156 فراڈ اور دیگر سنگین دفعات کے تحت درج کیا گیا تھا۔

    شہزاد اکبر مبینہ حملے میں پاکستانی اداروں پر الزامات مسترد کرتے ہیں،ترجمان دفترخارجہ

    190 ملین پاونڈ اسکینڈل،ریاستی ملکیت ریکارڈ شہزاد اکبر نے غائب کر دیا

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    دوسری جانب 190 ملین پاونڈ اسکینڈل کی نیب تحقیقات میں اہم انکشافات سامنے آئے ہیں،نیب رپورٹ کے مطابق این سی اے کے ساتھ خط و کتابت کا ریکارڈ اثاثہ جات ریکوری یونٹ سے غائب ہے،190 ملین پاونڈ سیٹلمنٹ سے پہلے ملک ریاض کی شہزاد اکبر کے ہمراہ سابق وزیراعظم سے ملاقات کی بھی تصدیق ہوئی ہے، محرر پی ایم ہاوس ریکارڈ کیمطابق ملاقات11 جولائی 2019 کو ہوئی تھی،غائب ہونے والا ریکارڈشہزاد اکبر اور ضیا المصطفی نسیم کے پاس تھا، ریکارڈ ریاست پاکستان کی ملکیت تھا،ریکارڈ کو سیاہ کاریاں چھپانے کیلئے غائب کیا گیا، ریکارڈ کا غائب ہونا تفتیش میں رکاوٹ ڈالنے کیلئے تھا،کابینہ ڈویژن ریکارڈ غائب ہونے کی انکوائری کروا چکا،انکوائری میں ریکارڈ گم ہونے کی ذمہ داری شہزاد اکبر اور ضیا المصطفی نسیم پر عائد ہو چکی،

  • شہزاد اکبر مبینہ حملے میں پاکستانی اداروں پر الزامات  مسترد کرتے ہیں،ترجمان دفترخارجہ

    شہزاد اکبر مبینہ حملے میں پاکستانی اداروں پر الزامات مسترد کرتے ہیں،ترجمان دفترخارجہ

    شہزاد اکبر پر برطانیہ میں مبینہ حملہ، ترجمان دفتر خارجہ کا ردعمل سامنے آیا ہے

    ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ شہزاد اکبر مبینہ حملہ، لندن کی مقامی پولیس نے مقدمہ درج کر لیا، ہائی کمیشن سے کوئی مدد نہیں مانگی گئی، شہزاد اکبر مبینہ حملے میں پاکستان اور پاکستانی اداروں پر الزامات کو مسترد کرتے ہیں،پاکستان بیرون ملک اپنے شہریوں کی حفاظت اور سہولیات کے لیے کوشاں رہتا ہے، بہت سے سیاسی مخالفین نے برطانیہ میں سیاسی پناہ لی اور کئی دہائیوں سے بیرون مالک مقیم ہیں، سیاسی پناہ لینے والے بیشتر پاکستانی حکومت اور اداروں کو بے جا تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں،بیرون ملک سیاسی پناہ لینے والے بہت سے لوگوں کے پاکستان میں دہشت گرد گروہوں سے تعلقات تھے،پاکستان مخالف بیانات دینے والوں کے خلاف کسی انتقامی کاروائی پر یقین نہیں رکھتے، ہمیں برطانیہ کے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر مکمل اعتماد ہے،امید ہے مبینہ حملے میں مجرموں کی شناخت اور برطانیہ کے قانون کے مطابق ان کے ساتھ برتاؤ کیا جائے گا، پاکستان تحقیقات پر گہری نظر رکھے گا اور برطانیہ کے حکام کی جانب سے جو بھی معلومات ہمارے ساتھ شیئر کی جائیں گی،

    واضح رہے کہ چند دن قبل تحریک انصاف کے رہنما شہزاد اکبر نے دعویٰ کیا ہے کہ رات کو لندن میں میرے گھر پر حملہ کیاگیا،عمران خان دور حکومت میں وزیراعظم کے مشیر رہنے والے شہزاد اکبر کاکہنا ہے کہ مجھ پر تیزاب پھینکا گیا ،کچھ چوٹیں بھی آئی ہیں،میری اہلیہ اور بچے محفوظ ہیں،شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ اللہ کا شکر ہے کہ حملہ آور پوری طرح سے کامیاب نہ ہوا اور انشاللہ میرا حوصلہ اور عزم برقرار ہے اور رہے گا اور ظالم اپنے ارادوں میں کامیاب نہ ہونگے اور انشاءاللہ جلد بے نقاب بھی ہونگے.میں نے پولیس کو اطلاع کر دی ہے

    شہزاد اکبر نے حملے کے اگلے روز تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کی تھیں جس میں انہوں نے ہاتھ پر پٹی باندھی ہوئی تھی، عینک بھی دکھائی گئی تھی، عینک پر تیزاب کے نشانات تھے تاہم شہزاد اکبر کے چہرے پر کوئی نشان نہیں تھا جس پر سوشل میڈیا صارفین کا ردعمل میں کہنا تھا کہ عینک پر تیزاب گرا تو چہرہ کیسے بچ گیا؟

  • 190 ملین پاونڈ اسکینڈل،ریاستی ملکیت ریکارڈ شہزاد اکبر نے غائب کر دیا

    190 ملین پاونڈ اسکینڈل،ریاستی ملکیت ریکارڈ شہزاد اکبر نے غائب کر دیا

    190 ملین پاونڈ اسکینڈل کی نیب تحقیقات میں اہم انکشافات سامنے آئے ہیں

    نیب رپورٹ کے مطابق این سی اے کے ساتھ خط و کتابت کا ریکارڈ اثاثہ جات ریکوری یونٹ سے غائب ہے،190 ملین پاونڈ سیٹلمنٹ سے پہلے ملک ریاض کی شہزاد اکبر کے ہمراہ سابق وزیراعظم سے ملاقات کی بھی تصدیق ہوئی ہے، محرر پی ایم ہاوس ریکارڈ کیمطابق ملاقات11 جولائی 2019 کو ہوئی تھی،غائب ہونے والا ریکارڈشہزاد اکبر اور ضیا المصطفی نسیم کے پاس تھا، ریکارڈ ریاست پاکستان کی ملکیت تھا،ریکارڈ کو سیاہ کاریاں چھپانے کیلئے غائب کیا گیا، ریکارڈ کا غائب ہونا تفتیش میں رکاوٹ ڈالنے کیلئے تھا،کابینہ ڈویژن ریکارڈ غائب ہونے کی انکوائری کروا چکا،انکوائری میں ریکارڈ گم ہونے کی ذمہ داری شہزاد اکبر اور ضیا المصطفی نسیم پر عائد ہو چکی،

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    واضح رہے کہ عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں عدالت نے سزا سنائی تھی،عمران خان کو زمان پارک سے گرفتار کر کے اٹک جیل منتقل کیا گیا تھا، اسلام آبادہائیکورٹ نے عمران خان کی سزا معطل کی تو عمران خان کو سائفر کیس میں گرفتار کر لیا گیا، عمران خان اب اڈیالہ جیل میں ہیں، سائفر کیس میں عمران خان پر فرد جرم عائد ہو چکی ہے تا ہم اسلام آباد ہائیکورٹ نے جیل ٹرائل کو کالعدم قرار دیا ہے،

    عمران خان نے القادر ٹرسٹ کیس میں ضمانت کیلئے ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف اپیل دائر کررکھی ہے، ایڈووکیٹ لطیف کھوسہ نے اپیل سپریم کورٹ میں دائر کی،سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ عمران خان توشہ خانہ کیس میں گرفتار تھے،ٹرائل کورٹ نے عدم حاضری پر ضمانت خارج کردی، اسلام آباد ہائیکورٹ نے بھی ضمانت خارج کا فیصلہ برقرار رکھا، ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیکر ضمانت بحال کی جائے،

    نیب کی سفارش پر 190 ملین پاونڈ اسکینڈل میں چئیرمین پی ٹی آئی سمیت 29 افراد کو ای سی ایل میں ڈالا گیا ہے، عمران خان، شہزاد اکبر، ذلفی بخاری ، فرح گوگی،ملک ریاض، سمیت 29 افراد کا نام ای سی ایل میں ڈالے گئے، 190 ملین پاؤنڈ کیس میں نیب نےعمران خان اور دیگر ملزمان کے خلاف ریفرنس دائرکر رکھا ہے،ریفرنس میں عمران خان کے علاوہ بشری بی بی، فرح گوگی، شہزاد اکبر اور دیگر شامل ہیں،ملزمان میں زلفی بخاری، بیرسٹر ضیاء اللہ مصطفٰی نسم ،ملک ریاض اور علی ریاض شامل ہیں، نیب راولپنڈی کی جانب سے دائر ریفرنس میں کل 8 ملزمان کے نام شامل ہیں،ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل سردار مظفر عباسی نے تفتیشی افسر میاں عمر ندیم کے ہمراہ ریفرنس دائر کیا

    قومی احتساب بیورو (نیب) کے مطابق ملک کے معروف بزنس ٹائیکون نے سابق وزیرِاعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ کو القادر ٹرسٹ یونیورسٹی کے لیے جہلم میں 458کنال 4 مرلے اور 58 مربع فٹ زمین عطیہ کی جس کے بدلے میں مبینہ طور پر عمران خان نے بزنس ٹائیکون کو 50 ارب روپے کا فائدہ پہنچایا تھا۔

    گزشتہ سال اکتوبر 2022 میں نیب نے تحقیقات شروع کردی تھی۔ نیب دستاویزات کے مطابق 3 دسمبر 2019ء کو عمران خان کی زیرِ صدارت کابینہ اجلاس میں بزنس ٹائیکون کو برطانیہ سے ملنے والی 50 ارب روپے کی رقم بالواسطہ طور پر واپس منتقل کرنے کا فیصلہ ہوا تھا۔ رقم این سی اے کی جانب سے پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض سے منی لانڈرنگ کے الزامات پر ضبط کی گئی تھی۔

    عمران خان نے چار سال قبل ریئل اسٹیٹ ڈویلپر کے حوالے سے کابینہ کے فیصلے کے چند ہفتوں کے اندر القادر یونیورسٹی پروجیکٹ کے لیے ٹرسٹ رجسٹر کیا تھا جو بعد میں یونیورسٹی کے لیے ڈونر بن گیا۔ نیب کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق ٹرسٹ کی رجسٹریشن سے صرف 3 ہفتے پہلے عمران خان کی کابینہ نے نیشنل کرائم ایجنسی کے ذریعے پاکستان کو ملنے والی رقم واپس ملک ریاض کو بالواسطہ طور پر واپس کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

    نیب راولپنڈی نے اس معاملے میں کرپشن اور کرپٹ پریکٹسز کا نوٹس لیتے ہوئے نیب آرڈیننس 1999 کے تحت پرویز خٹک، فواد چوہدری اور شیخ رشید سمیت 3 دسمبر 2019 کی کابینہ اجلاس میں موجود تمام ارکان کو علیحدہ علیحدہ تاریخوں پر طلب کیا تھا۔2019 میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) نے بزنس ٹائیکون کے خلاف تحقیقات کیں اور پھر تحقیقات کے نتیجے میں بزنس ٹائیکون نے تصفیے کے تحت 190 ملین پاؤنڈ کی رقم این سی اے کو جمع کروائی۔ اس تصفیے کے نتیجے میں حاصل ہونے والی 190 ملین پاؤنڈز کی رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت ہے جسے پاکستان منتقل کردیا گیا۔

    تاہم پاکستان میں پہنچنے پر کابینہ کے فیصلے کے تحت رقم قومی خزانے کے بجائے سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ تک پہنچی جس میں بزنس ٹائیکون کراچی کے مقدمے میں سپریم کورٹ کو 460 ارب روپے کی تصفیے کے ذریعے قسطوں میں ادائیگی کر رہے ہیں۔ نیب کے مطابق ملزم سے ضبط شدہ رقم واپس اسی کو مل گئی جبکہ یہ رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت تھی مگر اسے ملک ریاض کے ذاتی قرض کو پورا کرنے میں خرچ کیا گیا۔

    2019 میں عمران خان کی سربراہی میں کابینہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا اور معاملے کو حساس قرار دے کر اس حوالے سے ریکارڈ کو بھی سیل کردیا گیا تھا۔

    nab report

  • سابق مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر کو اشتہاری قرار دے دیا  گیا

    سابق مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر کو اشتہاری قرار دے دیا گیا

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور سابق وزیراعظم کے مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر کو اشتہاری قرار دے دیا گیا،شہزاد اکبر کو تھانہ سیکرٹریٹ میں درج مقدمے میں اشتہاری قرار دیا گیا ہے-

    باغی ٹی وی :تفصیلات کے مطابق انہیں اسلام آباد کے تھانہ سیکرٹریٹ میں فراڈاور دیگر سنگین دفعات کے تحت درج مقدمے میں اشتہاری قراردیا گیا،سول جج احمد شہزاد گوندل کی عدالت نے اشتہاری قرار دینے کا حکم نامہ جاری کیا، شہزاد اکبر پر 420,468،471, 500,506 سمیت دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج ہے۔

    پاکستانی کرکٹرز کے ساتھ ناروا سلوک، آسٹریلین کرکٹ بورڈ انتظامیہ کو شدید تنقید کا …

    احسن اقبال کے خلاف بیان بازی پر دانیال عزیز کو شوکاز نوٹس جاری

    نگران وزیر اعظم کی شام کے وزیر اعظم سے ملاقات

  • لندن میں شہزاد اکبر پر تیزاب پھینک دیا گیا

    لندن میں شہزاد اکبر پر تیزاب پھینک دیا گیا

    تحریک انصاف کے رہنما شہزاد اکبر نے دعویٰ کیا ہے کہ رات کو لندن میں میرے گھر پر حملہ کیاگیا،

    عمران خان دور حکومت میں وزیراعظم کے مشیر رہنے والے شہزاد اکبر کاکہنا ہے کہ مجھ پر تیزاب پھینکا گیا ،کچھ چوٹیں بھی آئی ہیں،میری اہلیہ اور بچے محفوظ ہیں،شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ اللہ کا شکر ہے کہ حملہ آور پوری طرح سے کامیاب نہ ہوا اور انشاللہ میرا حوصلہ اور عزم برقرار ہے اور رہے گا اور ظالم اپنے ارادوں میں کامیاب نہ ہونگے اور انشاءاللہ جلد بے نقاب بھی ہونگے.میں نے پولیس کو اطلاع کر دی ہے

    شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ حملہ انگلینڈ میں میری رہائش گاہ پرکیا گیا جہاں میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہا ہوں، مجھے معمولی زخم آئے تا ہم اہلخانہ محفوظ ہیں

  • عمر فاروق ظہور نامی شخص سے کبھی ملا اور نہ ہی فون پر بات کی،شہزاد اکبر

    عمر فاروق ظہور نامی شخص سے کبھی ملا اور نہ ہی فون پر بات کی،شہزاد اکبر

    سابق مشیر داخلہ و احتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ میں عمر فاروق ظہور نامی شخص سے کبھی ملا اور نہ ہی فون پر بات کی ۔

    باغی ٹی وی: شہزاد اکبر نے سعودی ولی عہد کی جانب سے چیئرمین پی ٹی آئی کو تحفے میں دی گئی گھڑی کے حوالے سے کہا ہے کہ میں عمر فاروق ظہور نامی شخص سے کبھی ملا اور نہ ہی فون پر بات کی میں ذاتی طور پر فرح گوگی کو بھی نہیں جانتا، ان سے کبھی ملاقات ہوئی نہ بات ،یہ سب کہانی گھڑی گئی-

    سابق مشیر احتساب نے کہا کہ پہلے عمر فاروق ظہور نے بیان دیا تھا کہ میں نے زلفی بخاری کے فون کرنے کا بتایا، اب کہہ رہا ہے میں نے فرح گوگی کے فون کرنے کا بتایا، عمر فاروق ظہور ناروے میں پیدا ہوا مگر ناروے میں شہریت ختم کر دی گئی عمر فاروق نے ناروے میں ایک عمر رسیدہ خاتون سے کئی ملین کی رقم لوٹی ، اگر گھڑی کی کہانی اس شخص کے بیانیے پر کھڑی ہے تو عوام کو کہوں گا ’گُڈ لَک۔

    عمران خان سے گھڑی خریدنے والےعمر فاروق عدالت میں پیشی کیلئے تیار

    دوسری جانب گھڑی خریدنے کے دعوے دار عمر فاروق نے کہا کہ اس کیس میں گواہی کے لیے انہیں عدالت نے طلب کیا تو وہ پیش ہوں گے،اس وقت کے مشیر شہزاد اکبر نے رابطہ کیا اور فرح گوگی یہ گھڑی لے کر ان کے پاس آئيں، جب تصدیق کے لیے متعلقہ برانڈ کے شو روم سے رابطہ کیا تو وہاں سے پتا چلا کہ یہ اصلی گھڑی ہے جو سعودی فرمانروا نے آرڈر پر بنوائی تھی۔

    باجوڑ خود کش دھماکا: حملہ آور کی تصویر پولیس نے حاصل کر لی

  • رواں برس انتخابات ہوتے نظر نہیں آرہے،شہزاد اکبر

    رواں برس انتخابات ہوتے نظر نہیں آرہے،شہزاد اکبر

    لندن: سابق مشیر احتساب شہزاد اکبر نے کہا ہےکہ مجھے پہلے ہی معلوم ہو گیا تھا کہ ہماری حکومت کا تختہ الٹ دیا جائے گا-

    باغی ٹی وی : نجی اخبارجنگ میں شائع رپورٹ کے مطابق لندن میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے شہزاد اکبر نے کہا کہ نواز شریف اچھے آدمی ہیں، جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ ہمارے خلاف تھے اور وہ تباہی کے ذمہ دار ہیں، ملک کی موجودہ حالت کے ذمہ دار قمر جاوید باجوہ ہیں شہباز شریف کو وزارت عظمیٰ کا چسکا لگ گیا ہے-

    شہزاد اکبر نے کہا کہ مجھے پہلے ہی معلوم ہو گیا تھا کہ ہماری حکومت کا تختہ الٹ دیا جائے گا،کابینہ نے کاغذات دیکھنے کی زحمت ہی نہیں کی، فیصل واوڈا کو ٹافی دی اس نے کہا انکل دستخط کہاں کرنے ہیں مجھے رواں برس انتخابات ہوتے نظر نہیں آرہے، پی ٹی آئی حکومت میں میرے پاس ایگزیکٹو اختیار نہیں تھا۔

    بھارت نے پانی چھوڑ دیا،درجنوں دیہات زیرآب

    واضح رہےکہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں شہزاد اکبر عمران خان کے مشیر برائے احتساب تھے جب کہ انہیں ایسٹ ریکوری یونٹ کا سربراہ بھی بنایا گیا تھا تاہم حکومت کے آخری دنوں میں عمران خان نے شہزاد اکبر کو ذمہ داریوں سے ہٹادیا تھا۔

    تحریک انصاف کے دور حکومت میں معاون خصوصی مقرر ہونے سے قبل شہزاد اکبر قبائلی علاقوں میں امریکی ڈرون حملوں کے خلاف مختلف عدالتوں میں دائر کی جانے والی درخواستوں کی پیروی کرتے تھےانہوں نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں نیب میں بطور معاون بھی کام کیا تھا۔

    اسٹاک ہوم میں مقامی مسجد کےسامنے ہزاروں افرادکا قرآن پاک ہاتھوں میں اٹھاکر احتجاج

  • جناح ہاؤس حملے میں ملوث خواتین سمیت تمام ملزمان کو سزا ملے گی،عطا تارڑ

    جناح ہاؤس حملے میں ملوث خواتین سمیت تمام ملزمان کو سزا ملے گی،عطا تارڑ

    وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے قانون و داخلہ امور عطا تارڑ کا کہنا ہے کہ جناح ہاؤس حملے میں ملوث خواتین سمیت تمام ملزمان کو سزا ملے گی-

    باغی ٹی وی: لاہور میں پریس کانفرنس عطا تارڑ نے کہاکہ جیل میں قید خواتین ناروا سلوک سے متعلق جھوٹا پروپیگنڈا کررہی ہیں، دفاعی تنصیبات پر حملہ کرنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں شرپسندوں نےفوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا شرپسندوں نے شہدا کی یادگاروں کی بے حرمتی کی، یادگاروں کی بے حرمتی پر شہدا کے ورثاء غمزدہ ہیں۔

    نیب نے عثمان بزدار کے دور میں ہونے والی تقرریوں، تبادلوں پر تحقیقات کا آغاز …

    انہوں نے کہا کہ شرپسندوں نے شہید کیپٹن کرنل شیر خان کے مجسمے کی بھی بے حرمتی کی، شہید کیپٹن کرنل شیر خان کی بہادری کی دشمن نے بھی تعریف کی، میں صوابی جاکر شہید کیپٹن کرنل شیر خان کے ورثا سے معافی مانگ کر آیا فوجی تنصیبات پر حملوں کا مقصد اپنے لیڈر کی کرپشن کو چھپانا تھا، دفاعی تنصیبات پر حملہ کرنے والوں کو نتائج کا سامنا کرنا ہوگا، واقعے کے ذمہ داروں کو سزا بھگتنا ہوگی۔

    بلوچستان حکومت نے ضلع گوادر کو ٹیکس فری زون قرار دے دیا

    وزیراعظم کے معاون خصوصی نے کہا کہ مراد سعید جیسا بزدل آدمی لوگوں کو اہداف پر پہنچنے کی ہدایات جاری کرتا رہا، اب خود چھپا بیٹھا ہے، کوئی بے گناہ جیل نہیں جائے گا، کوئی قصور وارجیل سےبچ نہیں پائےگا دفاعی تنصیبات پرحملےکے دوران فوج کے جوانوں نے انتہائی صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا، 9 مئی واقعات کے ذمہ داروں کو معافی نہیں ملے گی-

    ایران کا پاکستان سمیت خلیجی ریاستوں کے ساتھ بحری اتحاد بنانے کا منصوبہ

    عطا تارڑ کا مزید کہنا تھا کہ شہزاد اکبر کو پاکستان آکر مقدمات کا سامنا کرنا چاہیئے، گزشتہ حکومت میں کابینہ میں بند لفافہ لاکر کہا گیا کہ اسے منظور کیا جائے، قوم کو یہ نہیں بتایا گیاکہ اس بند لفافے میں کیا ہے، یہ وہی بند لفافہ تھا جس پر 60 ارب روپے کرپشن کا کیس بنا ہے، برطانیہ سے آئی رقم سرکاری خزانے میں جمع ہونا تھی لیکن سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ میں جمع کرادی گئی۔

    سعید ہاشمی کے بیٹے نے ” باپ” سے علیحدگی اختیار کر لی