اسلام آباد: وزیر اعظم کے معاون خصوصی شہباز گل نے سابق مشیر داخلہ احتساب شہزاد اکبر کے عہدہ چھوڑنے کی وجہ بتا دی۔
باغی ٹی وی : معاون خصوصی شہباز گل نے شہزاد اکبر کے عہدہ چھوڑنے سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ شہزاد اکبر یا تو کام کر کے تھک گئے ہوں گے یا انہیں کوئی اور اچھا موقع مل رہا ہوگا۔
شہباز گل نے کہا کہ ہو سکتا ہے شہزاد اکبر اپنی موجودہ ذمہ داری سے خود خوش نہ ہوں، بہت سے امکانات ہیں، اس بارے میں بہتر رائے شہزاد اکبر خود دے سکتے ہیں
استعفیٰ قبول ہوگا یا نہیں، فیصلہ وزیراعظم عمران خان کریں گے، شہزاد اکبر کو پارٹی میں اہم ذمہ داری ملنے والی ہے، شہزاد اکبر سیاسی طور پر سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی میں جا رہے ہیں۔
جبکہ معاون خصوصی احتساب و مشیر داخلہ شہزاد اکبر کے استعفے کے حوالے سے عمران خان کا کہنا تھا کہ شہزاد اکبر نے مشکل حالات میں بہترین کام کیا، مافیا کے خلاف ان کا کام قابل تعریف ہے، اب وہ جانا چاہتے تھے-
واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر نے استعفیٰ دے دیا ہے شہزاد اکبر نے اپنا استعفیٰ وزیراعظم عمران خان کو بھجوایا ہے اور خود سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اس بات کی تصدیق کی ہے شہبزاد اکبر کا کہنا تھا کہ میں نے بطور مشیر اپنا استعفیٰ آج وزیراعظم کو بھجوا دیا ہے۔ مجھے پوری امید ہے کہ پی ٹی آئی کے منشور کے مطابق احتساب کا عمل وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں جاری رہے گا۔ میں پارٹی سے وابستہ رہوں گا اور ممبر کی حیثیت سے اپنا حصہ ڈالتا رہوں گا۔
واضح رہے کہ شہزاد اکبر کے حوالہ سے تحریک انصاف کے اندر بھی تشویش پائی جاتی تھی کہ شہزاد اکبر احتساب کے مشیر بنا دیئے گئے اور بلند و بانگ دعوے کرتے نظر آتے ہیں لیکن ابھی تک کسی کا کوئی احتساب نہیں ہوا، نہ ہی کسی سے کوئی برآمد گی ہوئی، شہزاد اکبر نے چند روز قبل بھی لاہور میں شریف فیملی کے خلاف پریس کانفرنس کی تھی
سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کی ہے اور کہا ہے کہ شہزاد اکبر مستعفی ہو گئے انہیں ملک چھوڑنے کی اجازت نہیں ملنی چاہئے، شہزاد اکبر سے براڈ شیٹ اور برطانیہ میں کی گئی ادائیگییوں کی تحقیقات ہونیا چاہئے-
18 جنوری کو کابینہ کمیٹی کی میٹنگ میں وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے نوازشریف کی واپسی سے متعلق سوال اٹھایا تھا جس پر شہزاد اکبر نے نواز شریف کی واپسی کو مشکل قرار دیا تھا وزیراعظم عمران خان شہزاد اکبر کی کارکردگی سے خوش نہیں تھے ،اگر شہزاد اکبر استعفیٰ نہ دیتے تو وزیراعظم عمران خان انہیں گھر بھجوا سکتے تھے، شہزاد اکبر نے دوستوں سے مشاورت کے بعد استعفیٰ دیا-
مسلم لیگ ن کے رہنما عطاء اللہ تارڑ نے شہزاد اکبر کے استعفے پر ردعمل میں کہا ہے کہ آج سے ٹھیک ایک ہفتہ قبل یہ بات کی تھی،کیا شہزاد اکبر سے قوم کا پیسہ اور وقت ضائع کرنے کا حساب لیا جائے گا؟ ایسٹ ریکوری یونٹ نے قوم کے اربوں روپے خرچے اور نتیجہ کچھ نہ نکلا شہزاد اکبر قومی مجرم ہیں، انتقامی کارروائیوں کا مداوا کون کرے گا؟-
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ کل وزیر اعظم عمران خان کی پبلک کالز پر تقریر سن کر ایک شعر میرے ذہن میں آیا۔
آپ کے لیے بھی ارشاد فرما دیتا ہون۔
تم سے پہلے وہ جو اک شخص یہاں تخت نشیں تھا،
اس کو بھی اپنے خدا ہونے پہ اتنا ہی یقیں تھا۔
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ مجھے عمران خان کی باتیں سن کر ایسا لگتا ہے کہ ان کے درباریوں نے انہیں انتہائی خود فریبی کا شکار کر دیا ہے۔ قوم سے وہ ایسے بات کرتے ہیں جیسے بادشاہ حضور احسان فرما رہے ہوں۔
جب کبھی برا وقت آتا ہے یا ان سے ان کی کارکردگی کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے وہ آگے سے احسان جتانا شروع کر دیتے ہیں۔
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اب کوئی ہے کہ جو ان سے پوچھے کہ آپ سیاست میں کیوں تشریف لائے، آپ نے جھوٹے وعدے کیوں کیے، آپ حالات سے اتنے نا علم تھے کہ اب کہتے ہیں میں کچھ اکیلا کچھ نہیں کر سکتا، عوام اور ادارے میرا ساتھ دیں۔ عوام کیا ڈنڈے لے کر سڑکوں پر آجائے، آپ کو ووٹ دے دیا، ملک کا وزیر اعظم بنوا دیا۔ سارے گورنر، وزیر اعلی، وزیر ،مشیر، اداروں کے سربراہ آپ کی مرضی کے لگ گئے۔
کس کس کو اٹھاکر لگا دیا ہے اور انہیں وسیم اکرم پلس کا خطاب دے دیا ہے۔انسان کو کیا چاہیے ہوتا ہے، طاقت وہ آپ نے حاصل کر لی۔ پھر پیسا اس کی آپ کو ضروت نہیں کیونکہ جب ATMکارڈ جیب میں ہو تو پیسہ جیب میں نہیں رکھا جاتا آج کل ویسے بھی ڈیجیٹل دور ہے۔کیوں آپ نے چن چن کر اپنی پارٹی کی ATM کواعلی عہدوں پر بیٹھایا۔ کتنے لوگ ایسے ہیں جنہوں نے آپ کی خدمت کر کے اعلی سرکاری عہدے حاصل کیے اور پھر انہوں نے ملک کو بدنامی کے علاوہ کچھ نہیں دیا۔ ملک کس کے فیصلوں کی وجہ سے برباد ہوا ہے۔ عوام کا بیڑا غرق ہوا ہوا ہے اور آپ فرما رہے ہیں کہ سب ٹھیک ہے۔آپ سے کس نے کہا تھا کہ حضرت عمر کی مثالیں دے دے کر لوگوں کو بے وقوف بنائیں ، کیوں آپ نے اپنا ہوم ورک اقتدار میں آنے سے پہلے ختم نہیں کیا۔ اقتدار مین آکر بھی ساڑھے تین سال ہو گئے ہیں اور آپ کو کچھ نہیں پتا کہ کیا کرنا ہے۔ کیوں سارے فصلی بٹیرے اپنی کابینہ میں شامل کیے، کیوں اقتدار کی خاطر کمپرومائز کیا کس نے آپ کی منتین کی تھی۔ قوم پر قرضہ ڈبل کر کے، آئی ایم ایف کا غلام بنا کر، لوگون کو بے روز گار کر کے۔ آپ کہہ رہے ہیں کہ میرے پاس سب کچھ تھا، مجھے کیا ضرورت ہے دو ٹکے کے لوگوں کی باتیں سننے کی۔آپ کے پرانے ساتھی آپ کے بارے میں کیا کہہ رہے ہیں، آپ کے نظریاتی ساتھی آپ کے بارے میں کیا کہہ رہے ہیں۔
آپ کے پاس سب کچھ تھا تو یہاں قوم کا وقت خراب کرنے کیوں آئے، آپ کو اپنے جھوٹے دعوے اور جھوٹے وعدوں پر جواب دینا ہو گا، آپ کی حکومت اور وزیروں مشروں کے جو ساڑھے تین سال میں اربوں روپے لگے ہیں اس کا جواب دینا ہو گا،روزانہ جو آپ ہیلی کاپٹروں کی سیریں کر رہے ہیں اس کا بھی جواب دینا ہو گا۔
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ عمران خان فرماتے ہیں کہ اگر میں حکومت سے باہر نکل گیاتو زیادہ خطرناک ہوں گا‘ابھی تک تو میں چپ ہوں اور تماشے دیکھ رہاہوں ۔اگرسڑکوں پر نکل آیاتو آپ کیلئے چھپنے کی جگہ نہیں ہوگی ۔پینتیس سالوں میں سب نے ملکر جو ملک کے ساتھ کیا ہے لوگ آپ کو پہچان چکے ہیں ۔آپ سمجھ جائیں جو لاوا نیچے پک رہاہے ۔لوگوں کو صرف آپ کی طرف دکھانا ہے ۔پھر کوئی لندن بھاگ رہاہوگا ۔پہلے بھی لوگ بھاگے ہوئے ہیں ۔باقی بھی ادھر جارہے ہوں گے۔
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ یہ وہ دھمکی ہے جو سمجھا جا رہا ہے کہ عمران خان نے اپنی مان مانی کرنے سے پہلے اسٹیبلشمنٹ کو دھمکی دی ہے، انہوں نے کسی کا نام نہیں لیا لیکن واقفان حال جان گئے ہیں کہ پس منظر میں کیا چل رہا ہے، میں نے ایک ویڈیو کی تھی وہ تیر جو عمران خان کے لیے شہتیر بن سکتا ہے اس میں معاملات کھل کے بیان کیے تھے کہ عمران خان اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے اہم تعیناتی اپنی مرضی سے کرنا چاہتے ہیں۔ اس دھمکی پر سلیم صافی کا کہنا ہے کہمیں بھی آپ کو خبردار کرنا چاہتا ہوں کہ کسی غلط فہمی میں نہ رہنا۔ آپ جن کو دھمکی دے رہے ہیں ،اب وہ آپ کو اچھی طرح پہچان چکے ہیں۔۔آپ نے ابھی تک صرف ان کی لاڈ دیکھی ہے، مار نہیں۔۔۔اگر آپ کے خلاف پہلے وعدہ معاف گواہ اسد عمراور زلفی بخاری نہ بنے تو میرا نام شبلی فراز رکھ لیں۔دھمکیوں پر مریم نواز کا کہنا ہے کہ آپ کی دھمکیاں کہ اقتدار سے نکالا گیا تو مزید خطرناک ہو جاؤں گا گیدڑ بھبکیوں کے سوا کچھ نہیں۔ جس دن آپ اقتدار سے نکلے عوام شکرانے کے نفل پڑھیں گے۔ نا آپ نواز شریف ہیں جس کے پیچھے عوام کھڑی تھی نا ہی آپ بیچارے اور مظلوم ہیں۔ آپ سازشی ہیں اور مکافات عمل کا شکار ہوئے ہیں۔ مشرف زیدی اس پر ٹویٹ کرتے ہیں کہلوگوں میں انتشاری کیفیت پیدا کرکے کرسی پر سوار رہنا؟ کیا یہ ہے، ان کی سوچ میں انصاف پھیلانا؟ یہ کس طرح کی گفتگو ہے ؟ یہ کیا پاکستای عوام کو دھمکی دے رہے ہیں، یا ان کو جنہوں نے ان کا چناؤ کیا تھا؟ افسوس۔
اس کے بعد وزیر اعظم صاحب فرماتے ہیں کہ پرویز مشرف نے دوخاندانوں کو این آراو دیکر ظلم کیا‘قوم جانتی ہے اپوزیشن کا وقت ختم ہوچکا ہے شہباز شریف کو اپوزیشن لیڈر نہیں قوم کا مجرم سمجھتا ہوں اس نے 8 ارب روپے کے گھپلوں کا نیب کو جواب دینا ہے۔ عدلیہ سے اپیل ہے کہ وہ ملک پر رحم کرے اور روزانہ کی بنیاد پران کے کیس کی سماعت کرے‘پی ٹی ایم اور ٹی ایل پی سمیت سب سے بات کرنے کو تیار ہوںمگر چوروں سے نہیں‘ ملک لوٹنے والوں سے مفاہمت اور سمجھوتہ ملک اورقوم سے غداری ہوگی۔اب آپ ان کے ٹون پر غور کریں اور ان کی باتوں پر۔ یہ سانحہ اے پی ایس کے مجرموں سے بات کرنے کے لیے تیار ہیں لیکن وہ لوگ جن کو جیل میں ڈالنا ان کا اپنا مفاد ہے کیونکہ وہ اقتدار ان کے ہاتھ سے چھین سکتے ہیں۔ ان کے سیاسی رقیب ہیں۔ جن کو باہر بھیجنے کے لیے ان کی حکومت کے اپنے بورڈ نے لکھ کر دیا کہ نواز شریف کا علاج پاکستان میں ممکن نہیں ہے۔کیا چیف جسٹس اس بات کا نوٹس لیں گے کہ ملک کا وزیر اعظم عدالت کو کہہ رہا ہے کہ مل پر رحم کریں، جیسے عدالتیں دانستہ طور پر ملک کو تباہ کر رہی ہوں۔ اب اس ملک کے وزیر اعظم کو ترجیحات بھی بتانی پڑیں گی کہ چوری جو کہ ثابت نہیں ہوئی وہ قتل سے بڑا جرم نہیں ہو سکتی۔ جوش خطابت میں بولنے سے پہلے تھورا سوچ لیا کریں۔آج کل وزیر اعظم صاحب کو کچھ بھی اچھا نہیں لگ رہا، میڈیا جب تک گن کا رہا تھا سب ٹھیک تھا، میڈیا کی جے جے ہو رہی تھی لیکن جیسے ہی میڈیا نے آئینہ دیکھانے کی کوشش کی تو برا مان گئے۔ خان صاحب فرماتے ہیں۔میڈیا ہم پر تنقید ضرور کرے مگر پروپیگنڈہ نہیں ۔جان بوجھ کرفیک نیوز کے ذریعے مایوسی پھیلائی جا رہی ہے۔اگر اتنے ہی برے حالات تھے تو ملک کو دیوالیہ ہوجانا چاہیے تھا اور بیروزگاری بڑھنی چاہیے تھی۔میں اکیلا کچھ نہیں کرسکتا۔عوام اور اداروں کو ساتھ دیناہوگا۔ عدالتیں آزادہیں ۔ان کی بھی ذمہ داری ہے ۔ جیلوں میں کوئی طاقتورڈاکونہیں۔وہاں قید چھوٹے لوگوں کو بھی چھوڑدینا چاہئے۔کس نے چھوڑا چور ڈاکوں کو۔ کون ہے جو آپ کے خلاف پراپیگنڈا کر رہا ہے،۔ آپ تو سچ بولتے تھے۔ مجبوری میں اقتدار سے چپکنے والے نہیں تھے۔ آپ کیوں بلیک میل ہو رہے ہیں کون ہے جسے آپ سڑکون پر آکر مزہ چھکا سکتے ہیں۔ کون آپ کو اپنی من مانی کرنے سے روک رہا ہے۔چلو یہ تو عمران خان نے مانا کہ وہ زبردستی اقتدار سے چپکے ہوئے ہیں اور ان کا بس نہیں چل رہا، جب انہیں اقتدار سے گھسیٹ کے نکالا جائے گا تب ہی وہ لوگون کو حقیقت بتائیں گے اور حقیقت بھی وہ جسے وہ حقیقت سمجھتے ہیں۔
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ خان صاحب آپ فرماتے ہیں کہ اگلے پانچ سال بھی میں پورے کروں گا، کون سا تیر آپ نے مارا ہے جو آپ دوبارہ آجائیں گے، اتنے اعتماد سے کہنے کا مطلب ہے جو کھیل آپ نے دو ہزار اٹھارا میں رچایا کیا اسی کی تیاری دوبارہ کی جا رہی ہے۔؟وہ کون سا کارنامہ ہے جو آپ کو نہ صرف دوبارہ منتخب کروائے گا بلکہ دس سال آپ کو اس قوم پر نازل بھی کرے گا۔آپ نے قوم کو اپنے سیاسی مخالفین کی کرپشن اور احتساب کا ڈھنڈورا پیٹ کربے وقف بنایا، اور اپنے اقتدار میں بھی احتساب نہ کر سکے۔ لیکن بس اب نہیں، ہم مزید بے وقوف نہیں بن سکتے۔سارے مافیا اپنے ارد گرد اکھٹے کر کے ہمیں مافیا پر بھاشن مت دیں۔کرپشن بڑھ گئی ہے، غربت بڑھ گئی ہے، بھوک بڑھ گئی ہے۔ لیکن کوئی بات نہیں۔ہمارا وزیر اعظم تو ایماندار ہے جس کے اردگرد سارے مافیا اکھٹے ہیں۔آپ خان صاھب کی باتیں سنییں۔۔ بندہ سر پکڑ کے بیٹھ جاتا ہے۔ موصوف فرماتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں سب سے بڑی خرابی یہی ہے یہاں طاقتور کیلئے ایک اور غریب کیلئے دوسرا قانون ہے، قانون کی بالادستی ختم ہو چکی ہے۔اس وقت جیلوں میں کوئی طاقتور ڈاکو نہیں۔بدعنوان لوگوں کی اس معاشرے میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ساڑھے تین سال سے آپ اس ملک کے سیاہ و سفید کے مالک بنے بیٹھے ہیں اور باتیں ایسے کر رہے ہیں جیسے کوئی مطلق العنان، کرپٹ اور ظالم شخص اس ملک پر حکومت کر رہا ہے، خان صاحب آپ کو اللہ کا واسطہ ہے۔ کنٹینر سے اتر آئیں۔ ورنہ بہت دیر ہو جائے گی۔
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ جاتے جاتے آپ کو یہ خبر دے دوں کہ بارش کا پہلا قطرہ گر چکا ہے ابھی موسلا دھار بارش کا انتظار ہے۔ ملک میں احتساب کے علمبردار اور کرپشن کے سب سے بڑے دشمن، جنہوں نے ملک میں احتساب کو مذاق بنا دیا ۔۔ نے استعفی دے دیا ہے۔ جی ہاں آپ سمجھ چکے ہوں گے۔ وزیر اعظم کے مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر نے ٹویٹر پر استعفی دے دیا ہے۔ انہوں نے اپنی ٹویٹ میں لکھا ہے کہ
I have tendered my resignation today to PM as Advisor. I sincerely hope the process of accountability continues under leadership of PM IK as per PTI’s manifesto. I will remain associated with party n keep contributing as member of legal fraternity.
چلیں اب پریس پریس کانفرنسوں کا بوجھ تو میڈیا سے کم ہو گا۔
شہباز شریف سے سوال کیا جاتا ہے تو کہتے ہیں میرے بیٹوں سے پوچھیں،شہزاد اکبر
مشیر داخلہ و احتساب شہزاد اکبر نے لاہو رمیں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ چالان جمع ہونے کے بعد شہباز شریف کے ضمانت کے معاملے کو دیکھیں گے،
شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ شہباز شریف نے آج تک نیب اور ایف آئی اے کو جواب نہیں دیا ضمانت کے لیے ملزم کا عدالت میں پیش ہونا ضروری ہوتا ہے شہباز شریف کیس میں ایف آئی اے اگلے ہفتے چالان جمع کرائے گا ایون فیلڈ ریفرنس کو التوا میں ڈالنے کی کوشش کی گئی، عدلیہ کو آج بھی متنازعہ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے، رانا شمیم نے عدالت میں بیان دیا کہ میں بیان حلفی کسی کو بھی نہیں دیا،بیان حلفی نواز شریف کے دفتر میں بنایا گیا،ن لیگ عوام کو عدالت سے باہر نکل کر گمراہ کرتی ہے،
شہزاد اکبر کا مزید کہنا تھا کہ شہبازشریف کورونا کی وجہ سے عدالت میں پیش نہیں ہوئے، آج تک شہباز شریف سے ایف آئی اے کو کیس سے متعلق جواب موصول نہیں ہوا،شہباز شریف ،جسٹس قیوم اور سیف اللہ کی ریکارڈنگ تاریخ کا حصہ ہے رانا شمیم کا ضمیر اتنی دیر بعد کیوں جاگا؟ رانا شمیم حلف نامہ کا مقصد اسلام آباد میں ایک کیس کی سماعت پر اثر انداز ہونا تھا،شہباز شریف سے جب سوال کیا جاتا ہے تو کہتے ہیں میرے بیٹوں سے پوچھیں،
شہزاد اکبر کا مزید کہنا تھا کہ مریم نواز نے اسلام آباد میں کیس کو التوا میں ڈالنے کی بڑی کوشش کی گئی پہلا حملہ آڈیو والا تھا وہ ناکام ہو گیا،بیان حلفی کے متن کی کچھ باتیں حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتی،لندن میں بات ہو رہی تھی کہ نواز شریف اقتدار میں آ کر ان کو کسی عہدے پر نوازیں گے،عدلیہ کو آج بھی متنازعہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے
لندن:شہزاداکبرنوازشریف کیس پرتوجہ دیں:جانتی ہوں کہ پاکستانی سیاستدان منی کی کتنی بلیک میلنگ کرتےہیں:معروف ٹک ٹاکر حریم شاہ نے منی لانڈرنگ کے الزامات کے حوالے سے وضاحت دیتے ہوئےکہا ہےکہ سچی باتیں کڑوی لگتی ہیں تو ہزار بار لگیں، میں توکروں گی۔
نجی ٹی وی سےگفتگو کرتے ہوئے حریم شاہ کا کہنا تھا کہ شہزاد اکبر مجھ پر وقت ضائع کرنےکے بجائے نواز شریف کے کیس پر توجہ دیں، شہزاد اکبر، نواز شریف کو تو یہاں سے ہلا نہیں سکے،نوازشریف لندن کی سڑکوں پربڑے مزے سے اکیلے پھرتے ہیں اوربڑے خوش نظرآتےہیں
حریم شاہ نے شہزاد اکبر اور حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ میں تو ہرروز سنتی ہوں کہ کہا جاتا ہے نواز شریف کو آج لے کر آئیں گے، کل لےکر آئیں گے، آج تک تو کچھ کر نہیں سکے، میں تو معمولی شخصیت ہوں،حریم شاہ کا کہنا تھا کہ میں کبھی ڈری نہیں اور اب شہزاد اکبرسے میں ڈرنے والی نہی،
حریم شاہ نے شہزاد اکبر سے کہا کہ سنیں لندن میں ‘چِل’ کر رہی ہوں، برطانیہ میں ثبوت چلےگا، باتیں نہیں، حکام کے رابطوں اور کیسوں سے نہیں گھبراتی،کچھ اور حقائق بھی بتاسکتی ہوں۔حریم شاہ نے شریفانہ لہجےمیں دھمکی دیتے ہوئے یہ بات کہی
ان کا کہنا تھا کہ خود مشہور ہونے کے لیے میرے خلاف خط لکھنےکی بات ہورہی ہے، پاکستانی پاسپورٹ کی قدر کے حوالے سے خبر بھی آگئی ہے، میں نے بھی تو سچی بات کی تھی، حکومت کی نا اہلی کی وجہ سے پاکستانی پاسپورٹ اور کرنسی کی قدر مزید گرتی جا رہی ہے۔
حریم شاہ نے کہا کہ میں تیارہوں کہ میں ایف آئی اے اور مقامی حکام سے منی لانڈرنگ کے حوالے سے تعاون کروں ،
لگتا ہے پاکستانیوں کے خط کو مقامی حکام پڑھتے بھی نہیں اور پھاڑ کر پھینک دیتے ہیں، حریم شاہ نے کہاکہ میں جانتی ہوں کہ پاکستانی سیاستدان کیسے منی کو بلیک کرتے ہیں ، حریم کا کہنا تھا کہ جتنی بلیک منی پاکستانی سیاستدانوں کے پاس ہے اتنی بلیک منی تو پاکستان میں عوام کے پاس بھی نہیں ہے۔
اس موقعے پر لندن میں موجود حریم شاہ کے منہ بولے بھائی دانیال ملک نےکہا کہ میں نے خود اسکاٹ لینڈ یارڈ سے رابطہ کرکےکہا تھا کہ حریم سے کچھ پوچھنا ہے تو حاضر ہیں، پولیس نے حریم شاہ کے منی لانڈرنگ کے حوالے سے انٹرویو میں کسی دلچسپی کا اظہار نہیں کیا۔
وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے دعویٰ کیا ہے کہ شریف خاندان نے عدلیہ پر حملے کی منصوبہ بندی کی۔
باغی ٹی وی :معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر لکھا کہ عرفان ہاشمی کا بڑا انکشاف اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ قوم پہلے سے ہی جانتی ہے، شریف خاندان نے عدلیہ پر حملہ کرنے کے لیے منصوبہ بندی کی اور اس کے خلاف کارروائی میں رکاوٹ ڈالی اور اس انکشاف کے ساتھ کہ نواز شریف نے رانا شمیم سے اپنے دفتر میں موجودگی میں مشکوک حلف نامے پر دستخط کرائے-
Big exposé by Irfan Hashmi affirms what the nation already knows, Sharif family premeditated attack on judiciary to hamper & influence proceedings against unmasked with revelation that Nawaz Sharif had Rana Shamim sign the shady affidavit in his presence n office pic.twitter.com/oa3ORdN0zH
انہوں نے لکھا کہ انکشاف ہوا نواز شریف نے رانا شمیم سے حلف نامے پر دستخط کرائے اور بڑا سوال یہ ہے کہ صحافی کو قابل اعتراض حلف نامہ کس نے دیا۔
Big question now is who gave the questionable affidavit to the ‘journalist’ ? As Rana Shamim says it was in a safe! Can he be trusted ? Or were ‘others’ present the source? Whatever it was, highly shady, questionable and premeditated
شہزاد اکبر نے کہا کہ جیسا کہ رانا شمیم کا کہنا ہے کہ یہ ایک سیف میں تھا! کیا اس پر بھروسہ کیا جا سکتا ہے؟ یا کیا ‘دوسرے’ ذریعہ موجود تھے؟جو بھی تھا، انتہائی مشکوک، قابل اعتراض اور پہلے سے سوچا ہوا تھا۔
ادھر وزیرمملکت فرخ حبیب نے بھی رانا شمیم کے صاحبزادے کے دعوے کی تصدیق کرتےہوئے کہا ہے کہ رانا شمیم ن لیگ وکلا ونگ کے عہدیدار ہیں، یہ بات ان کے صاحبزادے نے خود ٹی وی پر تسلیم کی۔
رانا شمیم ن لیگ وکلا ونگ کے عہدیدار تھے یہ بات ان کا صاحبزادہ TV پر تسلیم کر چکا ہے۔ یہ بہت بڑا انکشاف ہے کہ اب Affidavit بھی نواز شریف نے اپنی موجودگی میں عدلیہ پر حملہ کرنے کے لئے تحریر کروایا ہے۔ اسی لئے تو انکو گارڈ فادر کہا گیا تھا۔ رسی جل گئی ہے مگر بل نہیں گیا https://t.co/XonhDCU9iEpic.twitter.com/BfZVPt2g7F
وزیر مملکت فرخ حبیب کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ نوازشریف نے عدلیہ پر حملے کیلئے بیان حلفی بھی اپنی موجودگی میں تحریر کرایا، یہ بہت بڑا انکشاف ہے ،اسی لئے تو انہیں گارڈ فادر کہا گیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ رسی جل گئی ہے مگر بل نہیں گیا۔
قبل ازیں فواد چودھری نے رانا شمیشم کے حلف نامے سے متعلق اخبار کی خبر سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹوئٹر پر شئیرکی تھی فواد چودھری نے خبر شیئر کرتے ہوئے ٹویٹ میں لکھا تھا کہ رانا شمیم نے حلف نامہ نوازشریف کے دفتر میں ان کےسامنے نوٹیرائز کرایا۔
انہوں نے کہا تھا کہ حلف نامہ ثاقب نثار اوراسلام آباد ہائی کورٹ کے ججوں کے خلاف تھا نئے انکشافات نے پھرشریف فیلی کو سیلین مافیا ثابت کیا وہ مافیا کی طرح عدالتوں سمیت اداروں کو بلیک میل کرنےکی صلاحیت رکھتے ہیں۔
اسلام آباد(سٹاف رپورٹر) پاکستان مسلم لیگ کے راہنماء اور سابق وفاقی وزیر دانیال عزیز نے کہا ہے کہ ریاست مدینہ کے جعلی دعویداروں الزامات کی سیاست کو پروان چڑھایا ہے۔ شہزاد اکبر کے جھوٹے الزامات پر انہیں عدالت میں لیکر جائونگا، شہزاد اکبر کی جانب سے من گھڑت اور بے ہودہ الزامات لگائے ہیں۔ انہوں نے اپنی پریس کانفرنس میں جو کاغذات بانٹے ان میں میرے والد کا نام محمد عزیز لکھا ہوا ہے جبکہ میرے والد کا نام انور عزیز ہے انکو میرے والد کے نام کا ہی نہیں پتہ اور چلے ہیں الزام لگانے۔ نیشنل پریس کلب اسلام میں میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے دانیال عزیز کا کہنا تھا کہ شہزاد اکبر کی طرف سے ان پر لگائے جانے والے تمام تر الزامات بن گھڑت اور جھوٹ کا پلندہ ہیں۔ جس زمین کا ذکر مشیر موصوف نے کیا ہے وہ میرے والد صاحب نے میری پیدائش سے بھی قبل حکومت پنجاب کی اس وقت کی اسکیم کے تحت اور تمام قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد حاصل کی تھی جب وہ خود ابھی سیاست میں بھی نہیں آئے تھے۔ میرا اس زمین سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ وہ میرے والد کے ہی پاس تھی۔ اور میرے والد حکومت پنجاب کو اس معاملے میں عدالت میں لیکر گئے تھے مگر نوٹسز کے باوجود حکومت پنجاب کی طرف سے کوئی بھی اس کیس میں پیش نہیں ہوتا تھا جس پر عدالت نے ذمہ داران کے وارنٹ گرفتاری جاری کئے جس پر ڈی سی سرگودھا اور دوسرے افسران کو ہتھکڑیاں لگا کر عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔ شہزاد اکبر پریس کانفرنس میں یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ حکومت نے یہ زمین واگزار کروا لی ہے مگر عدالت نے اپنے حکم میں حکومت پنجاب سے کہا ہے کہ وہ اس زمین کو انگلی بھی نہیں لگا سکتے۔ اور اب یہ عدالت کا حکم وصول کرنے سے انکاری ہیں۔ دانیال عزیز نے کہا کہ یہ انصاف کا اور صادق اور امین ہونے کا ڈھنڈورہ پیٹے ہیں مگر خود عالت کا حکم ماننے سے بھاگتے پھر رہے ہیں۔ انصاف کی دھجیاں تو پی ٹی آئی حکومت اڑا رہی ہے جو انصاف کی دعویدار بنی پھرتی ہے۔ کیا یہی ریاست مدینہ ہے جس کی مثالیں دی جاتی تھیں؟ انہوں نے مزید کہا کہ میں ابھی امریکہ سے واپس آیا ہوں جہاں میرے والد کا نومبر میں کورونا کے باعث انتقال ہو گیا ہے جن کے کفن دفن سے اور باقی رسم رواج سے فارغ ہونے کے بعد شہزاد اکبر کو انصاف کے کہٹرے میں کھڑا کرونگا اور سب کچھ ثبوتوں کے ساتھ ثابت کرونگا۔