Baaghi TV

Tag: شہزاد قریشی

  • بدلتی عالمی صورتحال پر توجہ کی ضرورت، تجزیہ:شہزاد قریشی

    بدلتی عالمی صورتحال پر توجہ کی ضرورت، تجزیہ:شہزاد قریشی

    ملک کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں شور شرابے سے باہر نکل کر بدلتی ہوئی عالمی صورتحال پر توجہ دیں۔ ریاستوں کے تعلقات، معاشی تعاون اور علاقائی توازن نئی سمتوں میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ داخلی ہم آہنگی کو مضبوط بناتے ہوئے باہمی احترام، مکالمے اور تعاون پر مبنی حکمت عملی اپنائیں۔ عالمی، تبدیلیاں ان ممالک کے لیے مواقعے پیدا کرتی ہیں جو اتحادِ فکر، استحکام اور دوراندیش سفارتکاری کو ترجیح دیتے ہیں۔ ملک کی اصل ضرورت یہ نہیں کہ کون کس کا ذمہ دار ہے، اصل ضرورت یہ ہے کہ اجتماعی دانش کو بیدار کیا جائے، پالیسیوں میں تسلسل لایا جائے اور سماجی رویوں میں اعتدال پیدا کیا جائے۔ جب تک قوم جذبات کے بجائے بصیرت کو اپنا رہنما نہیں بناتی ترقی کے امکانات محدود ہی رہیں گے۔ دنیا میں تبدیلیاں ناگزیر ہیں مگر افسوس کہ ہم اب تک یہ طے نہیں کر پائے کہ ہم تبدیلیوں کا حصہ بننا چاہتے بھی ہیں یا نہیں۔ دنیا اس وقت ٹیکنالوجی، جدید معاشی طریقے کار اور سائنسی تحقیق کے دور میں داخل ہو چکی ہے۔ اقوام اپنے مستقبل کی سمت متعین کر رہی ہیں، معیشتوں کو ڈیجیٹل بنیادوں پر استوار کر رہی ہیں اور ذہنی صحت کو سماجی پالیسی کا بنیادی حصہ بنا رہی ہیں۔ اس کے برعکس وطن عزیز اب بھی توانائی، مہنگائی اور سیاسی عدم استحکام جیسے بنیادی مسائل کے گرد ہی گھوم رہا ہے۔ نتیجتاً ہم ترقی یافتہ دنیا کی رفتار سے مسلسل پیچھے ہوتے جا رہے ہیں۔ سوشل میڈیا نے صورتحال کو مزید بگاڑا ہے، تحقیق، دلیل اور تنقیدی شعور کمزور پڑ گیا ہے۔ جبکہ جذباتی ردعمل، سطحی رائے اور غیر سنجیدہ گفتگو عام ہوتی جا رہی ہے۔ یہ رجحان معاشرے کی فطری کمزوری کا واضح ثبوت ہے۔

    سیاسی جماعتوں کا طرز عمل بدستور محاذ آرائی اور الزام تراشی کے گرد گھوم رہا ہے۔ قومی مسائل کے حل کے لیے اجتماعی لائحہ عمل اختیار کرنے کے بجائے سیاسی بیانیے، ذاتی مفادات اور جماعتی ترجیحات غالب ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سیاسی قیادت کے پاس ملک کو سمت دینے کی سکت کم اور مخالفین کو زیر کرنے کی خواہش زیادہ ہے۔ اسی سبب عوام میں شدید بےچینی اور بداعتمادی جنم لے رہی ہے۔ وطن عزیز اس وقت جس پیچیدہ صورتحال سے گزر رہا ہے اس پر سنجیدہ اور بامعنی غور و فکر کی ضرورت ہے۔ توانائی بحران، مہنگائی، اقتصادی ابتری اور حکومتی بے سمتی اپنی جگہ موجود ہے۔ مگر حالیہ ایام میں جو بحث غیر ضروری طور پر زور پکڑ رہی ہے وہ معاشرتی رویوں کی وہ کیفیت ہے جسے عمومی طور پر ذہنی بے سمتی یا نفسیاتی انتشار کہا جا رہا ہے۔ تاہم قوم میں جذبہ بہت ہے، بس سمت کی کمی ہے۔ ہمارا بحران صلاحیت کا نہیں ترجیحات کا ہے اگر ہم جذباتی فیصلوں کے بجائے فکری و اجتماعی ذمہ داری کی طرف آئیں تو آج بھی بہت کچھ بہتر ہو سکتا ہے۔ وطن عزیز کے بدنصیبی یہ نہیں کہ دنیا بدل رہی ہے بدنصیبی یہ ہے کہ ہم ابھی تک یہ طے نہیں کر پا رہے کہ ہم بدلنا بھی چاہتے ہیں یا نہیں۔

  • کل کا مدعی آج کا ملزم،سیاست  کب جمہوریت میں بدلے گی؟تجزیہ:   شہزاد قریشی

    کل کا مدعی آج کا ملزم،سیاست کب جمہوریت میں بدلے گی؟تجزیہ: شہزاد قریشی

    کل کا مدعی آج کا ملزم،سیاست کب جمہوریت میں بدلے گی؟
    اقتدار میں آیا تو مخالفین پر مقدمات،اپوزیشن میں انصاف،انصاف کی رٹ
    سیاسی جماعتیں کب’’ باشعور‘‘ ہوجائیں گی،روئیے تبدیل ہوں ملکی تقدیر بدل جائیگی
    عوام کے حصے میں 78 سالوں کے دوران صرف،مہنگائی،بےروزگاری اور لاقانونیت ہی آئی

    تجزیہ، شہزاد قریشی

    وطن عزیز میں جمہوریت مستحکم کیوں نہ ہوئی ، اسباب کیا ہیں؟ بلاشبہ وطن عزیز جمہوریت اور آمریت کے درمیان جھولتا رہا لیکن سیاسی جماعتوں نے جمہوریت کو مستحکم کرنے کے لئے کوئی کردار ادا کیا ؟یہ سوال مجھ سمیت ہر ذی شعور پاکستانی پوچھنے میں حق بجانب ہے ،لیکن وطن عزیز کی سیاست میں انتقامی رویہ ایک مستقل روایت بن چکا ہے، اقتدار سے باہر جماعتیں احتساب کے نام پر انصاف مانگتی ہیں، جیسے ہی خود اقتدار میں آتی ہیں تو انصاف کے بجائے انتقام کو ترجیح دیتی ہیں، جس کا نقصان جمہوریت ملک و قوم کو ہوتا ہے اور انتقامی سیاست کے اثرات ریاستی اداروں پر بھی پڑتے ہیں، ادارے غیر جانبدار نہیں رہ پاتے ،انہیں مخصوص جماعتوں یا قیادت کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے، جس سے ان کی ساکھ مجروح ہوتی ہے، عوام کو ریلیف ،ترقی یا سہولت دینے کے بجائے ساری توانائی سیاسی مخالفین کے خلاف مقدمات بنانے اور گرفتاریاں کرنے پر صرف ہوتی ہے، اس دوران مہنگائی، بے روزگاری اور بد امنی جیسے مسائل بڑھتے رہتے ہیں،جمہوری عمل کا مقصد اقتدار کی پرامن منتقلی اور عوام کی حکمرانی ہے، لیکن جب ہر حکومت پچھلی حکومت کو غدار چور یا دشمن بنا کر پیش کرتی ہے تو وطن عزیز کی جمہوریت ایک انتقامی کھیل لگنے لگتی ہے، اصل مسئلہ یہ ہے، وطن عزیز میں سیاست کو خدمت نہیں بلکہ اقتدار کی جنگ سمجھا جاتا ہے، جب تک سیاستدان خود یہ طے نہیں کرتے کہ ہم سیاسی مخالف ہیں دشمن نہیں، تب تک یہ سلسلہ چلتا رہے گا، مضبوط عدلیہ آزاد میڈیا اور عوامی دباؤ ہی اس روایت کو بدل سکتے ہیں، وطن عزیز میں جمہوریت انتقام کی نہیں بلکہ برداشت مکالمے اور عوامی خدمت کی بنیاد پر ہونی چاہیے، وطن عزیز کی تاریخ میں کئی واضح مثالیں موجود ہیں جو یہ ظاہر کرتی ہیں کہ اقتدار کے بعد اکثر جماعتیں ایک دوسرے کے ساتھ انتقامی رویہ اپناتی رہیں، بھٹو کے اقتدار کے دوران بعض اپوزیشن رہنماؤں کو جیلوں میں ڈالا گیا،ولی خان مرحوم اور دیگر رہنماؤں کو غداری کے مقدمات میں گھسیٹا گیا، جنرل ضیاء الحق نے بھٹو کو پھانسی پر چڑھایا۔ پیپلز پارٹی کے ہزاروں کارکنان کو جیلوں اور کوڑوں کی سزا دی یہ بھی ایک طرح کی ریاستی انتقامی سیاست تھی،نواز شریف کے پہلے دور میں بینظیر بھٹو کی حکومت کو بد عنوان اور غدار ثابت کرنے کی مہم چلائی گئی، بینظیر کے دوسرے دور میں نواز شریف پر کرپشن منی لانڈرنگ کے کیسسز بنائے گئے، 1999 ءمیں خود نواز شریف کو جلا وطنی اور مقدمات کا سامنا کرنا پڑا، تحریک انصاف کے دور میں اپوزیشن لیڈروں نواز شریف شہباز شریف آصف زرداری کو جیلوں میں ڈالا گیا، پاکستان کی سیاسی تاریخ احتساب کے نام پر انتقام سے بھری ہوئی ہے، جب تک سیاسی جماعتیں مکالمہ رواداری اور جمہوری اقتدار کو فوقیت نہیں دیتی یہ سلسلہ ختم نہیں ہوگا، پاکستان کی سیاست کا تسلسل کچھ یوں رہا اقتدار میں مخالفین پر مقدمات، اقتدار سے باہر ہوتے ہی خود مقدمات کا سامنا یعنی کل کا مدعی آج کا ملزم بن جاتا ہے، اس تاریخی تسلسل سے صاف لگتا ہے جب تک ادارے ازاد اور غیر جانبدار نہیں ہوں گے اور سیاستدان ایک دوسرے کو دشمن کے بجائے سیاسی مخالف ماننا نہیں سیکھیں گے یہ سلسلہ چلتا رہے گا، یاد رکھیے وطن عزیز اور قوم مقدم ہے، اداروں کو بقاء اور شخصیات کو فنا حاصل ہے-

  • مثبت سیاست ہماری قومی ضرورت، تجزیہ : شہزاد قریشی

    مثبت سیاست ہماری قومی ضرورت، تجزیہ : شہزاد قریشی

    خواجہ آصف ملک کے سینئر سیاستدان ہیں اور ان کے پاس وزارت دفاع کا قلمدان ہے ان کے بیان میں اور سوشل میڈیا پر افواہ سازی پھیلانے والوں میں کچھ تو فرق ہونا چاہئے اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ملک کی بیورو کریسی، بیورو کریٹ اور دیگر نے بیرون ملک میں پراپرٹی خرید رکھی ہے اور جہاں پراپرٹی خرید رکھی ہے وہاں کی شہریت لینے کی تیاری کر رہے ہیں۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ خواجہ آصف ان بیورو کریسی اور بیورو کریٹ کی ایک لسٹ عوام کے سامنے رکھتے کہ وہ کون شخصیات ہیں جو حاضر سروس ہیں اور ریاست سے تنخواہ اور دیگر مراعات بھی لے رہے ہیں اور بیرون ملک پراپرٹی بھی خرید رہے ہیں۔

    پاکستان سے لاکھوں ڈالر کس طرح انہوں نے منتقل کئے ؟ اس منی لانڈرنگ میں کون کون ملوث ہے؟ اگر وزیر دفاع کے پاس ثبوت نہیں ہیں تو پھر انہوں نے عوام میں مایوسی پھیلائی ہے قوم جاننا چاہتی ہے کہ وہ اعلیٰ شخصیات کون ہیں؟ کیا اس طرح کے غیر قانونی کاموں میں ملوث شخصیات کے لئے پارلیمنٹ میں قانون بنایا گیا ہے اگر نہیں بنایا گیا تو پھر اس ریاست کے ساتھ کھلا مذاق نہیں؟ کہ ملک کے بیورو کریٹ ، بیورو کریسی، سیاستدان اعلیٰ ترین پولیس افسران، سرمایہ دار ، جاگیردار ، وڈیرے کس طرح منی لانڈرنگ کے ذریعے لاکھوں ڈالر بیرون ملک منتقل کرتے ہیں اور اپنے اور اپنے بچوں کے نام پرپراپرٹی خریدتے ہیں؟ اس ملک اور قوم کے ساتھ عجب تماشا جاری ہے، افواہ سازی، جھوٹ کے سہارے نہ قوم ترقی کرتی ہے نہ ہی استحکام پاکستان کا خواب پورا ہوتا ہے۔

    ایمانداری، دیانتداری سے ملک و قوم کی تقدیر بدلتی ہے پہلے ہی سیاستدانوں کی وجہ سے نہ جمہوریت مستحکم نہ قانون کی حکمرانی، نہ ملک و قوم کی ترقی ہوئی۔ کسی زمانے میں سیاست نظریے کے گرد گھومتی تھی یاد رکھیئے !مثبت سیاست ہماری قومی ضرورت ہے کاروباری سیاست اور مفاداتی سیاست کو دفن کرنا ہوگا۔ مکانوں کا حسن سنگ و خشت سے نہیں ان میں مقیم انسانوں کے کردار سے ہوتا ہے۔ جمہوریت ایک ذمہ داری کا نام ہے۔

    (تجزیہ شہزاد قریشی)

  • ملکی بقاء،سلامتی،جمہوریت کا اصل قوم کو کون بتائے گا؟ تجزیہ:شہزاد قریشی

    ملکی بقاء،سلامتی،جمہوریت کا اصل قوم کو کون بتائے گا؟ تجزیہ:شہزاد قریشی

    بدلنا ہے تو زندوں سے کہو اپنا چلن بدلیں،ساقی بدلا دینے سے میخانہ نہ بدلے گا،،(کیچ لائن)
    ملکی بقاء،سلامتی،جمہوریت کا اصل قوم کو کون بتائے گا؟
    الیکشن جنرل ہوں یا ضمنی شکست تسلیم کرنے کیلئے کوئی تیار نہیں،جمہوریت کہاں گئی
    ملاوٹ،ہلڑبازی،افراتفری ،گدی نشینی،وڈیرا ازم عام،معاشرے میں گند پھیلا دیا گیا
    پنجاب میں کبھی پی پی کا طوطی بولتاتھا،اب نواز شریف اور مریم نواز عوام کے ’’راجہ‘‘ ٹھہرے

    تجزیہ،شہزاد قریشی

    پاکستان کی سیاسی جماعتوں کا ماضی عالمی دنیا سے الگ تھلگ ہے، الیکشن قومی ہوں یا ضمنی شکست کو تسلیم نہیں کیا جاتا،بلاشبہ کسی زمانے میں پنجاب بھٹو کا تھا ،پھر پنجاب میں نواز شریف کا طوطی بولنے لگا تادم تحریر پنجاب نواز شریف اور اُن کی بیٹی مریم نواز کا طوطی بولتا ہے،پی ٹی آئی نے نوجوان بچوں اور بچیوں کو انقلا ب اور حقیقی آزادی کا نام نہاد نعرے کے پیچھے لگا کر گمراہ کیا، مریم نواز نے کالجوں ،یونیو رسٹیوں میں جا کر تقسیم نوجوانوں کو ایک جھنڈے تلے اکٹھا کیا، بطور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صوبے میں گڈ گورننس ، میرٹ ، چٹ سسٹم کا خاتمہ ، ترقیاتی کاموں کا جال بچھا دیا،جس سے مریم نواز پنجاب کی عوام کی توجہ کا مرکز بن گئی،ضمنی الیکشن میں ن لیگ کی واضح اکثریت مریم نواز کی عوام دوست پالیسیاں ہیں، پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی دھاندلی ،دھاندلی کا واویلا ڈوبتے ہوئے کسی شخص کا نوحہ ہی قرار دیا جا سکتا ہے، ملکی سیاسی گلیاروں میں مسخرے پن کی حدوں کو کراس کیا جا رہاہے،قومی فریضہ کیا ہے،قومی سلامتی کیا ہے ،ملکی بقاء کیا ہے ،معاشرے میں ایسا گند پھیلایا جا رہا ہے خدا کی پناہ، سیاسی جماعتوں نے جو جمہوریت کا نعرہ بلند کرتی ہیں جمہوریت کے لئے کونسی خدمات سر انجام دی ہیں، کیا لکھا جائے جس ملک میں ملاوٹ شدہ خوراک ،ملاوٹ شدہ ادویات ،وہاں سیاست بھی ملاوٹ اورجمہوریت میں ملاوٹ شدہ ہو چکی ہے،سیاسی گلیاروں میں ہلڑ بازی ،افراتفری ،جاگیرداری ،سرمایہ داری ،گدی نشین سیاستدانوں کے کردار اور نفسیات کو بے نقاب کررہی ہے، موجودہ دور کی سیاست کی حقیقت تلاش کرنے کی ضرورت نہیں ان کی گفتگو، حرکات و سکنات سب کچھ عیاں کر رہی ہے بلکہ انسانوں کو تعفن زدہ کر رہی ہے، اس تعفن زدہ سیاست میں ملک و قوم کیونکر ترقی کرے اور کیسے کرے، یاد رکھیئے پاکستان کی شناخت اور عوام کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ چکا ہے، مزید ان کی گنجائش نہیں ،ملکی اورقومی مفادات کو ترجیح دی جائے، لینڈ مافیا سے اپنے محلات فارم ہائوس کروانے، ٹھیکیداروں سے کمیشن وصول کرنے والے بس کریں ، ملک کو ا س وقت مستحکم معیشت اور تعمیر ومضبوطی کی ضرورت ہے،ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھیں ،ترقی کے سفر میں اپنا کردار ادا کریں ، بقول شاعر،بدلنا ہے تو زندوں سے کہو اپنا چلن بدلیں،ساقی بدلا دینے سے میخانہ نہ بدلے گا-

    تجزیہ:شہزاد قریشی

  • ملک ناقابل تسخیربنایا نواز شریف  تیرا شکریہ،تجزیہ :شہزاد قریشی

    ملک ناقابل تسخیربنایا نواز شریف تیرا شکریہ،تجزیہ :شہزاد قریشی

    دو کالم،،،،،،،،،،،،،،تجزیہ ،،،،،،،،،،،،،،،،،تصحیح شدہ
    امریکہ کی بدلتی پالیسی،یورپ سمیت دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا
    یوکرائن جنگ،غزہ کی بگڑتی صورتحال،ایران ٹارگٹ، ٹرمپ نےجنگ کا ماحول بنادیا
    بھٹو شہید نے ایٹمی ملک کی بنیاد رکھی ،نواز شریف نے دھماکے کرکے دنیا کو پیغام دیدیا
    ملک ناقابل تسخیربنایا نواز شریف تیرا شکریہ!معاشی استحکام ن لیگ کا خاصا،ڈار کااہم کردار
    دہشتگردی جنگ میں فورسز نے ہزاروں جانیں قربان کیں’’سیاسی‘‘ حدودو قیود کا خیال رکھیں

    تجزیہ ،شہزاد قریشی
    آج عالمی قوتوں کی بدلتی ہوئی خارجی پالیسی اور عالمی نقشے پر دفاعی لحاظ سے کمزور ممالک کی طرف توجہ، دیکھا جائے تو وطن عزیز کو دفاعی لحاظ سے مضبوط کرنے والی شخصیات بھٹو سے نوازشریف اور ان فوجی حکمرانوں کے لئے دعا نکلتی ہے جنہوں نے اس وطن عزیز کو خونخوار پنجوں سے محفوظ کرنے میں کردار ادا کیا ،ان سیاسی شخصیات میں نوازشریف قوم میں موجود ہیں، قوم کو ان پر فخر ہے جبکہ پاک فوج ،جملہ اداروں اور پولیس کے ان شہداء پر بھی فخر ہے، جنہوں نے ملک کو دہشت گردوں سے محفوظ رکھنے کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ دیا اور تادم تحریر ملک قو م کی حفاظت کے لئے قربانیاں دے رہے ہیں تاکہ یہ گلشن آباد رہے،ایران پرامریکی صدر کا دبائو، مشرق وسطیٰ کے حالات ، روس، یوکرائن جنگ کی بدلتی عالمی صورتحال کو اگر مدنظر رکھا جائے تو خوف آتا ہے کہ دنیا میں کیا نیا ہونے جا رہا ہے خدا نہ کرے اگر ایران مذاکرات کے دروازے بند کرتا ہے تو کیا ایک نئی جنگ کے لئے دنیا کو تیار رہنا چاہیے، عالمی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کسی نے نہیں سوچا تھا کہ امریکی صدر ٹرمپ 1945ء کے بعد امریکی پالیسی کو اتنی تیزی سے بدل دیں گے امریکی صدر نے خارجہ پالیسی کو ڈرامائی طور پر تبدیل کر دیا ہے، امریکی اتحادی یورپی ممالک بھی حیران ہیں،امریکی صدر کے فیصلوں سے دنیا پر کیا اثرات مرتب ہوں گے اس کے لئے دنیا کو انتظار کرنا پڑے گا،کمزور معیشت کے حامل ممالک جن میں پاکستان بھی شامل ہے امریکی خارجہ پالیسی سنبھالنے کے لئے کافی ہمیں اپنی معیشت پر بھرپور توجہ دینا ہوگی، ماضی میں نوازشریف کے دور حکومتوں میں معیشت مستحکم رہی موجودہ وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا کردار اہم رہا ،نوازشریف کو ملکی معیشت مستحکم کرنے کے لئے وطن عزیز کے لئے اہم کردار ادا کرنا ہوگا، ماضی میں بھی سیاسی عدم استحکام کا وطن عزیز کو سامنا رہا ہے، جمہوری نظام کو اگر چلتا کیا تو اس میں سیاسی جماعتوں نے ہی کردار ادا کیا کون سی سیاسی و مذہبی جماعت ہے جس نے فوجی حکمرانی کو قبول نہیں کیا؟ سیاسی مسخرے پن کی حدوں کو کراس نہ کریں ملک و قوم کے لئے اپنے ذاتی مفادات کو پس پشت ڈال کر ملکی مفادات کے لئے کردار ادا کریں، خلق خدا کے لئے آسانیاں پیدا کریں خالق کائنات کو راضی کرنے کےلئے تکبر غرور سے باہر نکل کر اس وطن عزیز کے لئے قومی فریضہ ادا کریں-
    تجزیہ

  • جیل میں قید”مرشد”،ملک ریاض کی پارسائی،حقیقت یا فریب؟.تجزیہ:شہزاد قریشی

    جیل میں قید”مرشد”،ملک ریاض کی پارسائی،حقیقت یا فریب؟.تجزیہ:شہزاد قریشی

    جیل میں قید مرشد پارسا، مرشد کے دوست پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض بھی پارسا،لینڈ مافیا اور قبضہ گروپوں کی پشت پناہی کرنے والے سیاستدان، بیورو کریٹ، بیورو کریسی، اعلیٰ ترین پولیس افسران، سول انتظامیہ اور محکمہ مال کے افسران بھی پارسا، لاہور، کراچی، راولپنڈی میں بطور گفٹ پلاٹ اور کوٹھیاں لینے والے بھی پارسا۔ تمام ادارے پارسا پارسائی کے تمام دعوے دار پھر پاکستان عالمی اداروں کا مقروض کس نے کیا؟ عام آدمی نے؟ پیرخانے بھی مالدار، گدی نشین بھی مالدار، عام آدمی غریب کیوں ہے؟
    کہاں میں اور کہاں یہ آب کوثر سے دھلی خلقت
    میرا تو دم گھٹ رہا ہے ان پارسائوں میں

    کیا ہم کو تسلیم کر لینا چاہئے ملک ریاض نے کوئی غلط کام نہیں کیا۔ جیل میں قید مرشد سے تو خطا ہو ہی نہیں سکتی۔ بقول شاعر۔
    مجروع قافلے کی مرے داستاں یہ ہے
    رہبر نے مل کر لوٹ لیا راہزن کیساتھ

    سیاسی گلیاروں میں عجب بے معنی شور ہے مشکلات میں گھرے عوام اور پاکستان کو اس بے معنی شور نے اس مقام پر لاکھڑا کیا ہے جس کی توقع نہیں تھی۔ سیاسی گلیاروں میں چمچہ گیری، چاپلوسی اور واہ ہی واہ کرنے والوں اور اپنے ہی سیاسی قائدین کی مخبری کرنے والوں میں اضافہ ہو چکا ہے ذرا سوچئے! ہم کن راہوں پر چل نکلے ہمارا کیا بنے گا؟ وطن عزیز اور اس کے اداروں کی ناقدری نہ کریں غیروں کی سازشوں کا آلہ کار نہ بنیں۔ گھر کے سیاسی جھگڑوں کو لندن اور امریکہ کی پارلیمنٹرین کے سامنے اپنے وطن عزیز اور اداروں کو بدنام کر کے ہم کون سا فریضہ سرانجام دے رہے ہیں؟ بلوچستان میں پاکستان مخالف قوتیں بالخصوص بھارت مکروہ کھیل میں شریک ہے۔ افغانستان کے راستے پاکستان میں دہشت گردی، پاک فوج اور جملہ ادارے وطن عزیز اور عوام کی سلامتی کے لئے شہید ہو رہے ہیں۔ برطانیہ اور امریکہ میں موجود مرشد کے عاشقان مرشد سے التجا ہے کہ وطن عزیز اور اس کی حفاظت پر مامور اداروں کے خلاف پروپیگنڈہ نہ کریں قوم کب تک محو تماشا رہے گی تاریخ آپ کو کوڑے دان میں پھینک دے گی۔ انہی حرکتوں کی وجہ سے ہم آج تک ترقی پذیر ہیں صدق دل سے وطن عزیز کی ترقی میں ہر آدمی اپنا اپنا کردار ادا کرے ترقی پذیر ممالک یک ترقی کا راز علم، عمل اور قانون کی حکمرانی ہے انصاف ہے۔ قوم کو اپنی پاک فوج اور جملہ اداروں کیخلاف پروپیگنڈہ کرنے والوں کو منہ توڑ جواب دینا ہوگا۔ افغانستان میں موجود دہشت گرد بھارت کی توجہ کا مرکز ہیں پاک فوج ہی جس نے قربانیاں دے کر ان کا راستہ روکا ہوا ہے

  • گوادر کا جدید ہوائی اڈہ، پاک چین دوستی ،عالمی تجارتی نیٹ ورک میں اہم اضافہ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    گوادر کا جدید ہوائی اڈہ، پاک چین دوستی ،عالمی تجارتی نیٹ ورک میں اہم اضافہ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    ٹرمپ انتظامیہ کی بھرپور توجہ معیشت پر ہے اور فسٹ امریکہ پر ہے۔ پاکستان نے نیو ائیر پورٹ گوادر کا افتتاح کردیا ہے۔ اس بڑے منصوبے کی تکمیل میں جمہوری حکومتوں اور پاک فوج جملہ اداروں کا بہت بڑا کردار ہے۔ پاکستان کی معیشت کو لے کر مستقبل میں معاشی مستحکم پاکستان کا خواب پورا ہوتا نظر آرہا ہے۔ آج اس منصوبے کے مکمل ہونے پر میری بات نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے ہوئی جنہوں نے خدا پاک کا شکریہ ادا کیا ۔

    قارئین، پاکستان کو معاشی مستحکم کرنے میں نواز شریف اور اسحاق ڈار جو نواز شریف کے دور حکومتوں میں وزیر خزانہ رہے۔ معیشت کو مستحکم کرنے میں کردار ادا کیا مگر سازشوں نے نواز شریف کو اپنی مدت پوری نہیں کرنے دی ،ہر بار کوئی نہ کوئی سازش تیار کی گئی، کبھی جلا وطنی ، کبھی اٹک قلعہ ،کبھی اڈیالہ جیل ، کبھی کوٹ لکھپت جیل بند کردیا گیا ۔ بدقسمتی سے سیاسی جماعتیں ان سازشوں کا حصہ رہیں۔ ملک کے اس عظیم الشان منصوبے سے بہت سے ممالک کے پیٹ میں مروڑ اُٹھ رہے ہیں ۔ نیو ائیر پورٹ کے منصوبے یعنی گوادر پورٹ بھارت سمیت دنیا کے کئی ممالک نے خوفناک سازش کی تاہم پاک فوج اور جملہ اداروں نے ان بین الاقوامی سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ اس منصوبے کو ناکام بنانے کے لئے کس کس سازش کا نام لوں۔ اب اس کے فعال ہو جانے سے دبئی پورٹ اور ایران کی بندر گاہ عباس کی پہلے جیسی اہمیت نہیں رہے گی ۔ کاروباری لحاظ سے یہ بہت بڑی منڈی ہے۔ چین کو کم سے کم سمندری اور کم سے کم زمینی فاصلے کی ضرورت تھی ۔ گوادر پورٹ چین کی اس ضرورت کو پورا کرنے کے لئے نہایت اہم روٹ ہے۔ چین نے اس منصوبے میں دل کھول کر سرمایہ کاری کی ہے۔ چین موجودہ دور دور کا اقتصادی سپر پاور ہے ۔ اس سے تجارت اور سیاحت کو فروغ ملے گا ۔ پاکستان کی معیشت کو نمایاں فائدہ ہوگا۔ بین الاقوامی ہوائی کمپنیوں کے لئے ایک بہت بڑا مرکز بن جائے گا۔

    گوادر کا یہ بین الاقوامی ہوائی اڈہ پاکستان کے ایوی ایشن انفراسٹرکچر کو بڑھانے اور گوادر کو علاقائی اور عالمی تجارتی نیٹ ورکس میں مربوط کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ جنوبی ایشیائی قوم کے لئے ترقی کا ایک نیا باب کھولے گا۔ چین اور پاکستان کے درمیان ٹھوس دوستی کی علامت ہے۔ نیو گوادر ائیر پورٹ جدید ترین ٹیکنالوجی اور تعمیراتی منصوبے سے لیس ہے۔ اگر پاکستان فسٹ پر عمل کرتا رہا تو ایک دن پاکستان بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے چھٹکارا حاصل کرلے گا

  • مفروضوں پر مبنی بیانیے کا جادو کب تک سر چڑھ کر بولے گا،تجزیہ:شہزاد قریشی

    مفروضوں پر مبنی بیانیے کا جادو کب تک سر چڑھ کر بولے گا،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پی ٹی آئی کے مفروضوں پر مبنی بیانیے کا جادو کب تک سر چڑھ کر بولے گااور حکومتی حلقوں کی سچائیوں کو شکست ہوتی رہے گی۔ وفاقی و صوبائی وزارت اطلاعات کو خواب خرگوش سے جاگنا ہوگا۔ پی ڈی ایم اور بالخصوص (ن) لیگ کے ترجمانوں کو اپنی منجھی تلے ڈانگ پھیرنی ہوگی۔ گذشتہ کئی سالوں سے القادر یونیورسٹی ٹرسٹ کی تحقیقات اور اس میں مبینہ کرپشن کئی سالوں سے اس میں کرپشن کی داستانوں پر فیصلے کا انتظار کرنے والے صاحبان اقتدار خصوصی وفاقی وزیراطلاعات و نشریات اور ان کے مقرر کردہ ترجمان آئے روز ٹی وی مباحثوں میں نوازشریف کے بیانیے کو برتری نہ دلوانے میں اپنی گردنیں جھکائے رکھتے ہیں جبکہ پی ٹی آئی کے دور حکومت کی ناکامیاں اور کرپشن کو بانی پی ٹی آئی کے سرخرو ہوتے دیکھتے رہتے ہیں۔ القادر یونیورسٹی پر قائم پی ٹی آئی کے بیانیے کوکسی بھی ترجمان کسی بھی حکومتی وزیر نے اس بنیاد پر چیلنج نہ کیا کہ یہ تو سوہاوہ کے نزدیک سنگلاخ چٹانوں پر بے آب زمین پر قائم ہونے والے غیر مکمل عمارت میں موجود ایک یونیورسٹی ہے ہی نہیں بلکہ یہ تو ایک ڈگری درجے کا کالج ہے جس کی باقاعدہ رجسٹریشن بطور گریجویٹ کالج محکمہ تعلیم کالجز کے ڈائریکٹوریٹ راولپنڈی کے ذریعے ڈی پی آئی کالجز پنجاب کے دفتر میں ہوئی ہے ۔ اور اتنے بڑے نام نہاد پراجیکٹ کے لئے 458 کنال زمین حقیقی مالکان سے کس بھائو خریدی گئی ہے اور بعد میں کس بھائو ٹرسٹ کے نام منتقل ہوئی ۔

    ستم یہ ہے کہ اس کالج کی زمین کے نیچے سنگلاخ چٹانوں میں قابل استعمال زیر زمین پانی بھی میسر نہیں ۔ ادھر وفاقی وزارت خارجہ اور وزارت ہوا بازی نے یورپ میں پی آئی اے کی پروازوں کا دوبارہ آغاز کروایا جو کہ ایک تاریخ ساز کامیابی ہے لیکن وزارت اطلاعات اور پی آئی اے کی پبلسٹی ونگ کی غفلت نے سوشل میڈیا پر حکومتی کامیابی کو جھوٹے اوربے بنیاد بیانیے کے ہاتھوں شکست دلوائی۔ آخر کیوں اور کب تک حکومت اور بالخصوص (ن) لیگ کوا پنی ابلاغیات کی جنگ میں نئی صف بندی کرنی ہوگی ایسے کہنہ مشق اور آزمائے ہوئے مخلص اذہان کو آزمانا ہوگا ۔ جو دلیل مکالمے اور ڈائیلاگ کے کرشمے سے جھوٹ کو جھوٹ اور سچ کو سچ ثابت کرنے کا کمال رکھتے ہوں۔ نواز شریف کی قربانیاں اور مریم نواز کی انتھک محنت اورا ن کی مخلص ٹیم کی کارکردگی جھوٹے نعروں کے بیانیے میں دب جائے گی۔

  • اڑان پاکستان،  عمل کی ضرورت، فقط نعرے سے کچھ نہیں بدلے گا.تجزیہ:شہزاد قریشی

    اڑان پاکستان، عمل کی ضرورت، فقط نعرے سے کچھ نہیں بدلے گا.تجزیہ:شہزاد قریشی

    اڑان پاکستان ایک اچھا نعرہ ہے ۔ لیکن یاد رکھیئے جب تک عمل نہیں ہوگا اُ س وقت تک کوششیں رنگ نہیں لائیں گی میری عمر کے لوگوں نے اس طرح کے نعرے بہت سنے ،صدق دل سے اس نعرے پر عمل کیا جائے امریکہ اور مغربی ممالک کی ترقی کا راز علم اورعمل ہے ۔ پیچیدہ بحرانوں کے بوجھ تلے دبی قوم اور پاکستان کے لئے اُمید سے بھرا نعرہ ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے توا س نعرے پر عمل شروع کردیاہے۔ باقی صوبے بھی عملی اقدامات کریں ۔ صوبہ سندھ ،سندھ کے دیہی علاقوں میں تعلیم پر توجہ دیں۔ ہم جس عہد کے مسافر ہیں اس عہد میں پُرفتن حالات سوچنے کا تقاضا کرتے ہیں خلق خدا کو اس طوفان بلاخیز سے بچانا ان کی رہنمائی کرنا ہمارے فرائض میں شامل ہے۔ پنجاب میں نوجوان بچوں اور بچیوں کو تعلیم کے حوالے سے جو کچھ پنجاب کی وزیراعلٰی کر رہی ہیں، وہ قابل تحسین ہے۔ علم کی برکت سے زندگی کے راستے تبدیل ہوتے اور اسلوب زندگی میں عالمگیر انقلاب پیدا ہوتاہ ے۔

    پاکستان جس طرح ایک سُپر اوراسلامی دنیا کا واحد ایٹمی طاقت رکھنے والا ملک ہے کا ش ہمارے پاس طاقت اور سیاسی لیڈر شپ بھی ہوتی ۔ بدقسمتی سے بھٹو ، بے نظیر بھٹو کے بعد نواز شریف ہی سیاسی گلیاروں میں سُپر پاور تھے۔ نواز شریف نے دفاعی لحاظ اور معیشت مستحکم کرنے میں کردار ادا کیا۔ ملک کی سیاسی جماعتوں نے ہی سازش کی اور نواز شریف کو ایک سازش یعنی نام نہاد پانامہ کیس بنا کر چوراور ڈاکو ثابت کرنے کی کوشش کی گئی مشرف دور میں طیارہ اغواء اور نہ جانے کیسے کیسے کیسوں میں اُلجھا دیا گیا ۔ آج جو جماعتیں قانون آئین اور پارلیمنٹ کی بالادستی اور جمہوریت کی باتیں کرتی ہیں یہ ان سازشوں کا باقاعدہ حصہ رہیں۔ نام نہاد ڈان لیکس کا کھیل کھیلا گیا اور سینیٹر پرویز شید جیسے بے ضرر انسان کو نشانہ بنا دیا گیا۔ پرویز رشید سیاسی گلیاروں میں سادگی کی عملی مثال ہیں۔ سیاسی گلیاروں میں بہت ہی کم ایسے لوگ رہ گئے جن کی مثال د ی جا سکتی ہے۔ آج بھی سیاسی جماعتیں اپنے مفادات اور سیاسی مستقبل کے ایک دوسرے کے خلاف سازش میں مبتلا ہیں ۔

    کے پی کے تحریک انصاف کے پاس ہے ، صوبہ سندھ پیپلزپارٹی اور پنجاب (ن) لیگ ۔ پیپلزپارٹی نے آئینی عہدے اپنے پاس کھے ہوئے ہیں مگر وہ صوبہ پنجاب پر نظر رکھے ہوئے ہے ۔ پنجاب کے کچھ ڈویژن میں اختیارات مانگ کر کیا وہ ملک وقوم کی کونسی خدمات سرانجام دینا چاہتی ہے ؟ پنجاب میں (ن) لیگ کی بڑھتی ہوئی مقبولیت سے خوفزدہ ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ پی پی پی پنجاب میں(ن) لیگ کی مقبولیت سے خوفزدہ ہے

    بے باک صحافت کی ایک روشن مثال،مبشر لقمان،سالگرہ مبارک

    میدان صحافت میں جرات کی مثال،مبشر لقمان،سالگرہ مبارک

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کی سالگرہ

  • اقتدار کی لالچ سے باہر نکل کر حقیقی ترقی کی راہ اپنانا ضروری،تجزیہ:شہزاد قریشی

    اقتدار کی لالچ سے باہر نکل کر حقیقی ترقی کی راہ اپنانا ضروری،تجزیہ:شہزاد قریشی

    ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کو اپنا رُخ اپنے ذاتی مفاد ،اقربا پروری سے ہٹا کر عوام کی طرف موڑنا ہوگا ۔کرپشن سے پاک ہی پاکستان ترقی کر سکتا ہے ۔ عوام کی اکثریت نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ جعلی نمود ونمائش سے باہر نکل کر خلق خدا کی خدمت کرنا ہوگی۔ عوام اورریاست کو درپیش مسائل پر توجہ دینا ہوگی۔ ملکی سیاستدانوں کو خود کی خدمت کرنے والا غیر مہذب ناقابل اعتماد مذاق سے باہر نکلنا ہو گا۔ سیاسی جماعتوں کو سیاست اور جمہوریت کے مستقبل پر غور کرنا چاہیئے۔ صف اول کی سیاسی قیادت کو ضلعی اور تحصیل سطح کے ارکان اسمبلی کو لینڈ مافیا ، منشیات اسمگلروں ،غنڈوں اور دیگر جرائم میں ملوث افراد کی پشت پناہی سے روکنا ہوگا۔ اس کے اثرات سیاسی جماعتوں پر پڑتے ہیں اور صف اول کی سیاسی قیادت اس کا خمیازہ داخلی اور خارجی سطح پر ماضی میں بھگت چکی ہے اور بھگت رہی ہے اور بھگت رہی ہے۔ نوجوانوں کی اکثریت اب ایسے سیاستدانوں ایسی قیادت کی خواہاں ہے جو حقیقت پسند ، بامعنی ، اُمید مند اور بااختیار ہو جو سیاسی قیادت خود کو اپنے شہریوں کے اعتماد کا اہل ثابت کرے گی اُسی پر اعتماد کریں گے۔ ملک اور قوم کے بہتر مستقبل کے لئے مختلف رکاوٹوں کو بہانا بنا کر اب قوم کو گمراہ نہیں کیا جا سکتا ۔ معاشی مشکلات سے ملک وقوم کو نکالنے کے اقدامات کرنا ہونگے۔

    قبضہ مافیا،لینڈ مافیا کے ہاتھوں بےگناہ قتل،ذمہ دار کون،تجزیہ:شہزاد قریشی

    عالمی دنیا میں اس کی مثالیں موجود ہیں۔ دنیا کے کئی ممالک کی مثال دی جا سکتی ہے ۔ دبئی اور سنگاپور کی مثالیں موجود ہیں۔صدق د ل سے سیاستدانوں ،بیورو کریسی ، بیورو کریٹ ،سول انتظامیہ قومی سلامتی کے ادارے مل کر اس ملک وقوم کے روشن مستقبل کی طرف توجہ دیں۔ امریکہ اور یورپی ممالک کی ترقی کا راز علم اور عمل ہے ۔ہم عمل سے کوسوں دور ہیں۔کیا ایک اسلامی مملکت کو زیب دیتا ہے کہ وہ نجومیوں اور جادو ٹونے والوں سے پوچھتی پھرے کہ ہمارا مستقبل کیا ہے ۔ کیا میں اس ملک کا وزیراعظم بن سکتا ہوں۔

    میزائل پروگرام،پابندیاں،امریکہ پاکستانی خود مختاری کا پاس رکھے،تجزیہ:شہزاد قریشی

    غور کیجئے کیا ہم اسلامی مملکت کے دعویدار ہیں؟قرآن وحدیث کو چھوڑ کر ہم سامری جادوگر کے پیرو کار بنتے جا رہے ہیں۔ جادوگروں اور نجومیوں کے جھرمٹ میں رہنے والوں پر فوری طور پر امریکہ اور مغربی ممالک نے اعتماد کرنا چھوڑ دیا ہے۔ روس یو کرین کی جنگ میں بھارت کی دوغلی پالیسی امریکہ اور مغربی ممالک پر عیاں ہو چکی ہے ۔ روس پر پابندیوں کے باوجود بھارت مودی حکومت تیل اور برکس رکن ممالک میں شمولیت امریکہ مغربی ممالک کی نظر میں ہیں۔ ٹرمپ برکس ممالک کو صدارتی عہدے کا حلف اٹھانے سے پہلے ناراضگی کا اظہار کر چکے ہیں۔ اس سلسلے میں ٹرمپ کی امریکہ فسٹ پالیسی مودی حکومت کے لئے مشکلات پیدا کر سکتی ہے

    مریم نواز کی کاوشیں، پنجاب بدلنے لگا، تجزیہ : شہزاد قریشی

    بھارتی دہشت گردی، پاکستان کا دفاع اور ٹرمپ کی پالیسی، تجزیہ : شہزاد قریشی

    معذرت کے ساتھ، پاکستان سیاسی محاذ پر سیاسی یتیم ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    مذاکرات سے خلق خدا کو کیا حاصل ہوگا؟تجزیہ:شہزاد قریشی