Baaghi TV

Tag: شہزاد قریشی

  • اقتدار کی خاطر مذہبی تاویلیں،رب کو ناراض نہ کریں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    اقتدار کی خاطر مذہبی تاویلیں،رب کو ناراض نہ کریں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    دہشت گردی ،قتل و غارت گری، سماجی معمول کا درجہ اختیار کر جائیں، رشتے مٹ رہے ہوں، احساس ماند پڑ جائے، بیروزگاری، ناخواندگی عام ہو ۔۔کوئی راستہ کوئی منزل نظر نہ آئے ۔ بدعنوانی اور منافقت اخلاقیات کا درجہ اختیار کر لیں تو سیاست اور جمہوریت کیسی؟ ان حالات میں ریاست کی حالت کیا ہوگی؟ تاہم بدترین داخلی انتشار کے باوجود پاک فوج اور جملہ اداروں نے ریاست کے ساتھ ساتھ دفاع کو بھی اپنی حفاظت میں لیا ہوا ہے۔ یاد رکھیئے! ریاست کے نگہبانوں کو فساد اور انتشار کا سدباب کرنا آتا ہے ریاست کے استحکام پر کسی فرد واحد کو اہمیت حاصل نہیں ہوتی۔ ریاست کے استحکام کے لئے پاک فوج اور جملہ ادارے دیوار چین کی طرح کھڑے ہیں۔

    قوم نے طویل تین مارشل لاء دیکھے موجودہ صدی کے پیروں، نام نہاد گدی نشینوں ، ججز، وڈیروں، سیاستدانوں، نام نہاد دانشوروں، سرمایہ داروں نے ان مارشل لاء لگانے والوں کا بھرپور ساتھ دیا ،میڈیا نے بھی بھرپور ساتھ دیا الزام صرف فوج پر نہیں لگایا جا سکتا۔ میاں محمد نوازشریف کو تین بار حکومت سے علیحدہ کیا گیا اس کی ذمہ داری سیاستدانوں پر ہی آتی ہے۔ سیاستدانوں کے ساتھ ساتھ ان کی اپنی جماعت میں نہ سیاست اور نہ جمہوریت ہے، پانامہ لیکس ایک غلط اور بے بنیاد مقدمہ بنا کر نوازشریف اور اسکے خاندان کو بدنام کیا گیا اس مقدمے کے پیچھے سیاستدان ہی تھے، عمران خان جو آج جمہوریت آئین کی بات کرتے تھکتے نہیں کیا وہ بتا سکتے ہیں کہ وہ ایک جمہوری حکومت کیخلاف سازش میں کیوں شامل ہوئے؟ 2018ء کے الیکشن میں انہوں نے کس طرح کامیابی حاصل کی وہ کن ملاحوں کی مدد سے اقتدار کی کرسی پر بیٹھے ،نوازشریف کا اس وقت گناہ کیا تھا؟ 2024ء کے الیکشن پر سینہ کوبی کرنے والے بتا سکتے ہیں 2018ء کا الیکشن ہی تھا؟

    یاد رکھیئے۔ پاکستان کی سیاست سیاستدانوں اورنام نہاد جمہوریت سے امریکہ سمیت عالمی دنیا آگاہ ہے سوشل میڈیا جھوٹ بولنے کی فیکٹریاں ہیں بدقسمتی سے الیکٹرانک میڈیا بھی سوشل میڈیا کا اسیر بن چکا ہے۔ کلمہ پڑھ کر جھوٹ بولتے ہیں سیاستدانوں کی اکثریت نام نہاد پیروں اور گدی نشینوں، نام نہاد عالم دین، خدا کے عذاب سے ڈرتے نہیں روز محشر خدا کی عدالت میں کس منہ سے کھڑے ہوں گے پاکستان کی سرزمین بھی خدا پاک کی ملکیت ہے اس سرزمین پر بسنے والے خدا پاک کی مخلوق ہے اپنے اقتدار اور اختیارات کی خاطر مذہبی تاویلیں دے کر خدا پاک کو ناراض نہ کریں دین اسلام پر عمل کریں

  • پاکستان میں جاری عدم استحکام، سیاست اور عالمی تناظر.تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستان میں جاری عدم استحکام، سیاست اور عالمی تناظر.تجزیہ:شہزاد قریشی

    ملک میں جاری عدم استحکام ،سیاسی جماعتوں کے آپس میں تنازعات ،ان تنازعات سے پاکستان بطور ریاست اور بے بس لاچار عوام ۔جمہوریت سیاسی رہنمائوں کو پکار رہی ہے اب اس میں فتوے لگانے والوں نے بھی شمولیت اختیار کرلی ہے۔ فتویٰ تو ملاوٹ شدہ خوراک ادویات فروخت کرنے والوں پر لگانا چاہئے۔ فتویٰ صفائی نصف ایمان ہے ،جو اپنی دکانوں گلی محلوں کی صفائی نہیں کرتے جس کی وجہ سے آلودگی میں اضافہ ہوتا ہے۔ مخلوق خدا کی زندگیوں سے کھیلتے ہیں ان کے خلاف فتوے جاری کرنے کی ضرورت ہے۔ مگر افسوس علمائے کرام اور مشائخ ایک حدیث پر عمل کروانے سےقاصر ہیں ’’جس نے ملاوٹ کی ، وہ ہم میں سے نہیں۔‘‘ دین اسلام کا ذمہ اگر اللہ تعالیٰ نے نہ لیا ہوتا تو آج کا مسلمان اسے کب کا گنوا چکا ہوتا ۔مسلم امہ کا ہدف دین اسلام کی سربلندی نہیں ،اپنی ذاتی نفسیات خواہشات ذاتی مفادات کے گرد گھومتا ہے مسلم امہ کا ہر کام مذمت تک محدود ہے۔

    بین الاقوامی سیاستدان نئے امریکی صدر ٹرمپ کو اور ان کے دنیا کے ساتھ معاملات کو دیکھ رہے ہیں وہ نئے امریکی صدر بل کلنٹن بھی نہیں بائیڈن بھی نہیں ٹرمپ ہنری کسنجر کی طرح دانشور یا جمی کارٹر کی طرح شائستہ نہیں ہو سکتے لیکن کاروبار، سرمایہ کاری کے پس منظر سے آنے والے امریکہ جیسے سرمایہ دار ملک میں ان کے فائدے میں ہے، نئے امریکی صدر ٹرمپ تجزیہ کاروں کی زبان استعمال نہیں کرتا اور تجزیہ کار سیاستدانوں کی شائستگی یا چالبازی کے لئے نہیں جانا جاتا، ٹرمپ نے اپنے سابقہ دور صدارت میں دنیا بھر کے مسلمان ممالک کی حمایت حاصل کرنے کے لئے سعودی عرب کا انتخاب کیا تھا ٹرمپ کو اس وقت امریکی سیاستدانوں کی طرف سے تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا تھا ایک بار پھر امریکہ اور سعودی عرب کے تعلقات مستحکم ہوں گے ٹرمپ دعویٰ کرتے ہیں کہ روس یوکرین جنگ، غزہ، لبنان کی جنگ کو ختم کروا سکتے ہیں تو امید کی جا سکتی ہے کہ ٹرمپ مشرق وسطیٰ کو نئی شکل دیں گے معاہدوں اور پابندیوں کے ذریعے دیکھیں گے جنگوں سے نہیں دیکھیں گے۔ مشرق وسطیٰ میں امن کی صورت میں پاکستان کا کردار بہت اہم ہوگا مشرق وسطیٰ میں امن قائم کرنے کے لئے سعودی عرب سمیت دیگر عرب ممالک میں پاکستان کا کردار بہت اہم ہوگا۔ مشرق وسطیٰ کو نئی تبدیلیوں کے لئے تیار رہنا چاہئے۔ یاد رہےموجودہ امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے پہلے ادوار میں دنیا میں بغیر جنگ کے حکومت کی ہے

  • دنیا کی نظریں ٹرمپ پر،کیا جنگ بندیاں ہو پائیں گی؟ تجزیہ:شہزاد قریشی

    دنیا کی نظریں ٹرمپ پر،کیا جنگ بندیاں ہو پائیں گی؟ تجزیہ:شہزاد قریشی

    آنے والے چند مہینوں میں عالمی دنیا کو امریکی صدر ٹرمپ اور اُن کی انتظامیہ کی پالیسی کا علم ہو گا کہ وہ دنیا اور بالخصوص یورپی ممالک کے لئے کیا پالیسی دیتے ہیں ،صدارتی اُمیدوار ٹرمپ کے بیانات اور امریکی صدر ٹرمپ کا کیا موقف ہوگا؟ عالمی دنیا اپنی گھڑی کی طرف دیکھ رہی ہے ۔ یہ ٹرمپ کی طاقت کاعکس ہے یا اس ملک امریکہ کی طاقت کا شاید دونوں کی طاقت کا ۔ دنیا وائٹ ہائوس کے نئے مکین کی طرف دیکھ رہی ہے کہ نیا مکین اُن کے لئے کیسا رہے گا؟انتخابی مہم کے دوران قاتلانہ حملے میں بچ گیا ،رقص کیا ،سرخ ٹائی سے خون صاف کیا اور انتخابی مہم جاری رکھی اور امریکی عوام نے بھاری اکثریت سے کامیاب کروایا۔ ٹرمپ دنیا کے معاشی سلامتی اور دیگر مسائل بحرانوں کو حل کرنے کا دعویٰ بھی کرتے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کے لئے سب سے بڑا مسئلہ روس یو کرین جنگ جبکہ اسرائیل، فلسطین ، ایران اور لبنان جنگ کا ہے۔ غزہ خون کی ایک جھیل میں تبدیل ہو چکا ہے ۔ غزہ ملبے لاشوں اور بے گھر لوگوں سے بھرا ہے ۔ کیا وائٹ ہائوس میں داخل ہونے والا نیا مکین مشرق وسطٰی میں جاری قتل عام کو روکنے کی صلاحیت رکھتا ہے ؟ مشرق وسطیٰ سمیت دنیا میں جہاں جہاں بھی جنگ ہے یا جنگ کے سائے منڈلا رہے ہیں جنگ بندی تک پہنچنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔

    دنیا میں جہاں جہاں جنگ ہے ایک مضبوط امریکی کردار کی ضرورت ہے۔ ان تمام بڑی بڑی مشکلات کو اگر مد نظر رکھا جائے توکیا امریکی صدر ٹرمپ اور اُن کی انتظامیہ کو پاکستان کی کسی سیاسی جماعت یا کسی فرد واحد کی فکر لاحق ہو سکتی ہے ؟ہمارے سیاستدانوں ، مشیروں ، بیورو کریسی ، بیورو کریٹ کی عوام دوستی اور تباہ کاریوں سے کون واقف نہیں امریکہ اور مغربی ممالک کے ساتھ برابری کی سطح پر بات کرنا ایک خواب بن چکا ہے۔ سفارتی سطح پر دنیا کو باور کرانے کی ضرورت ہے کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے پاکستان جو دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑرہا ہے اس کا براہ راست تعلق خطہ اور عالمی سیاست کے استحکام کے ساتھ جڑا ہے۔ پاک فوج اور جملہ اداروں نے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لئے قربانیاں دی اور دے رہی ہیں جبکہ عوام نے بھی قربانیاں دی ہیں.

  • ٹرمپ کی کامیابی اور پاکستانی دانشوروں کے لایعنی تبصرے،تجزیہ: شہزاد قریشی

    ٹرمپ کی کامیابی اور پاکستانی دانشوروں کے لایعنی تبصرے،تجزیہ: شہزاد قریشی

    امریکی صدارتی ا نتخابات اور ٹرمپ کی کامیابی کے بعد ہمارے الیکٹرانک میڈیا پر ہمارے دانشور اور سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں نے ایسے ایسے تبصرے شروع کردئیے ان تبصروں سے نہ تو امریکہ کو فرق پڑتا ہے نہ پاکستانی معاشرے پر ان تبصروں سے کوئی نقصان یا فائدہ ہوتا ہے جس معاشرے کو تباہ کرتے ہیں، نجومی درہم و دینار کے عوض فتویٰ فروش ، جھوٹے راوی ، غنڈے خود ساختہ حق اور سچ کے دعویدار زائچے بنانے والے خوشامدی موقع پرست سیاستدان افواہ پھیلانے والوں کی بہتات ہو ،الیکٹرانک میڈیا پر معاشرے کو سدھارنے کی باتیں کی جائیں، خوراک اور ادویات میں ملاوٹ کے خلاف جہاد کریں، مخلوق خدا کی زندگیوں سے کھیلنے والوں کے خلاف جہاد کریں۔ امریکی صدر کو کسی نجومی ، کسی زائچے بنانے والے نے کامیاب نہیں کروایا امریکہ میں موجود مخلوق خدا نے کامیاب کروایا ہے۔

    امریکہ بطور ریاست اور ٹرمپ بطور امریکی صدر کو بین الاقوامی تنازعات کا سامنا ہے ، امریکی پالیسی اُسی راستے پر چلتی رہے گی تاہم امریکی پالیسی کا انداز اور لہجہ مختلف ہو سکتا ہے۔ ٹرمپ کی جیت ایک خبر کی کہانی اور سیاسی پنڈتوں کے لئے موضوع بحث ہے کچھ زیادہ نہیں۔ ٹرمپ کی کامیابی سعودی حکمرانوں کے لئے بھی اچھی خبر ہے ٹرمپ کے ساتھ سعودی حکمرانوں کے اچھے تعلقات ہیں تاہم دیکھنا ہوگا کہ اسرائیل فلسطین ،لبنان ،ایران کے درمیان جاری جنگ کو ٹرمپ اور سعودی حکمران کیا کردار ادا کرتے ہیں ، بائیڈن کی رخصتی اورٹرمپ کی آمد دنیا میں جاری جنگی ممالک میں کیا رُخ دیتی ہے ٹرمپ کے مزاج و انداز میں کیا کوئی تبدیلی آئے گی؟تاہم پاکستان کے لئے ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسی کیا ہوگی اس کے لئے چند ماہ انتظار کرنا پڑے گا

  • امریکی انتخابات پر سب کی نظریں.تجزیہ:شہزاد قریشی

    امریکی انتخابات پر سب کی نظریں.تجزیہ:شہزاد قریشی

    امریکہ کے موجودہ انتخابات دنیا کی تقدیر کا تعین کریں گے سلامتی اور معیشت کے ساتھ ساتھ اُن ممالک کی تقدیر کا تعین کریں گے جو بد نظمی کا شکار ہیں ،نیا وائٹ ہائوس کا ماسٹر دنیا کی اعلیٰ معیشت اور دنیا کی جدید ترین اور طاقتور فوج رکھنے والا بحری بیڑوں سمندروں کو حرکت دینے والا نئے ماسٹر کا پلان کیا ہوگا؟یقینا وہ سب سے پہلے امریکی مفادات کو تحفظ فراہم کرنے کا کردار ادا کرے گا۔ اقوام عالم امریکی انتخابات کو نظر انداز نہیں کر سکتی ۔ دنیا کے ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک نیٹو کے انتظار میں ہیں۔ اسرائیلی وزیراعظم امریکی انتخابات کے نتائج کا شدت سے انتظار کررہے ہیں جبکہ روس کے صدر کو انتظار ہے ۔ روس اور یو کرین کی جنگ بندی کی چابی امریکہ کے ہی پاس ہے جبکہ مشرقی وسطیٰ کے رہنمائوں کی نظریں امریکی انتخابات کے نتائج پر لگی ہیں۔

    امریکہ کو اس سے فرق نہیں پڑتا کہ آپ امریکہ سے نفرت کرتے ہیں یا محبت یا امریکہ کے خاتمے کی بات کرتے ہیں۔ دنیا کی سب سے طاقتور معیشت اور طاقتور فوج اور طاقتور بحریہ پر امریکہ فخر کرتا ہے ۔ امریکہ دنیا کے کئی ممالک کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔ ضمانتیں اور حل فراہم کرتا ہے۔ دنیا جنگوں اور تباہی سے بچنے کے لئے امریکہ کی طرف دیکھتی ہے ۔ کیا وائٹ ہائوس کے نئے ماسٹر امریکی داخلی سیاسی اور خارجہ پالیسی تبدیل ہو جائے گی جس سے امریکی عوام اوربین الاقوامی دنیا کو فائدہ ہوگا

  • ڈینگی کا وار ، محکمہ صحت پنجاب کی کارکردگی،مریم کو افسران کا دھوکہ،تجزیہ: شہزاد قریشی

    ڈینگی کا وار ، محکمہ صحت پنجاب کی کارکردگی،مریم کو افسران کا دھوکہ،تجزیہ: شہزاد قریشی

    ترقی یافتہ اقوام کی ترقی کا راز میرٹ ،وقت کی پابندی ،رائٹ مین فار رائٹ جاب ہے ۔بلاشبہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ان راستوں کا انتخاب کر کے صوبے پنجاب میں انقلاب برپا کر دیا ہے لیکن یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے پنجاب کی سول بیورو کریسی کن راستوں پر چل پڑی ہے چیف سیکرٹری پنجاب سمیت صوبائی سیکرٹریوں نے اپنے الگ راستوں کا انتخاب کر لیا ہے، ڈینگی کو لے کر سول بیورو کریسی اور پنجاب کی انتظامیہ جو اقدامات کر رہی ہے وہ نہ صرف وزیراعلیٰ پنجاب بلکہ عوام سے کھلے مذاق کے مترادف ہے۔ ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک میں وبائی امراض یا دیگر امراض قابو پانے کی تمام تر ذمہ داری محکمہ صحت کے افسران اور فیلڈ سٹاف کی ہوتی ہے اور وہ کامیابی سے مستعدی سے ان امراض پر قابو پاتے ہیں۔ مگر ڈینگی کو لے کر پنجاب بھر کی سول انتظامیہ کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز کے دفاتر تمام محکموں کے ضلعی سربراہان کی بے سود میٹنگز اور فوٹو سیشن کاوشوں نے کیا ڈینگی کے بے قابو جن پر کنٹرول کر لیا ہے ہفتے میں چار پانچ دن ڈینگی کی میٹنگ سے دیگر محکموں کی کارکردگی متاثر ہو رہی ہے دیگر محکموں کے افسران عام آدمی کو میسر نہیں ہوتے بلکہ ان روزانہ کی میٹنگز سے خود کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز، عوام اور ان کے مسائل کے حل سے بہت دور ہو چکے ہیں۔

    ضرورت اس امر کی ہے کہ محکمہ صحت کے افسران کو مکمل ذمہ داریاں ایک ہی بار سونپ کر فیلڈ سٹاف سے کارکردگی مانگی جائے اور دیگر محکموں کو اپنے اپنے دائرہ کار میں پرفارم کرنے کا موقع دیا جائے نہ کہ تعلیم، بلڈنگ، سماجی بہبود اور دیگر محکمے اپنے اپنے فوکل پرسن کے ذریعے فوٹو سیشن کی تصاویر بھیج کر ڈینگی کی سب اچھا کی رپورٹ صوبائی حکومت کو ارسال کریں پنجاب کے ہسپتالوں کے وارڈز ڈینگی مریضوں سے بھرے پڑے ہیں عملی طور پر نہ تو مکمل سپرے کیا جا رہا ہے اور نہ ہی گندے و صاف پانی کے گڑھوں کو ختم کیا جا رہا ہے قد آدم سے بلند گھاس بوٹیاں ڈینگی مچھروں کی آماجگاہ بنی ہوئی ہیں، صفائی کے ایس او پیز تو ضلعی انتظامیہ کی ذمہ داری ہے جبکہ ہسپتالوں میں بھی صفائی کا انتظام نہیں نظر آرہا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ محکمہ صحت کے افسران بشمول سیکرٹری صحت وزیر صحت کو فیلڈ میں نکل کر انسپکشن کر کے وزیراعلیٰ پنجاب کو ضلعی افسران انتظامیہ و صحت کی کارکردگی کی رپورٹ پیش کریں

  • ترمیم ترمیم کے کھیل میں سیاست دھندلا گئی ، قوم حیران- تجزیہ : شہزاد قریشی

    ترمیم ترمیم کے کھیل میں سیاست دھندلا گئی ، قوم حیران- تجزیہ : شہزاد قریشی

    ترمیم ترمیم کے کھیل میں سیاست دھندلا گئی،قوم حیران
    ایک دوسرے پر سبقت کی کوشش،25کروڑ عوام کی کسی کو فکر نہیں
    پنجاب میں وزیر اعلیٰ کے فلاحی اقدامات کو سبوتاژ کرنے کی سازش
    دو اور دو چار ہوتے ہیں،سیاستدانوں کا آئین پر حساب کتاب کمزورکیوں ؟
    تجزیہ،شہزاد قریشی

    سیاست کی دنیا میں دھند بڑھتی ہی جا رہی،باران رحمت کاانتظار،قوم حیران،کسی کو پچیس کروڑ عوام کی فکر نہیں،پنجاب میں عوام کی اس دھند زدہ سیاست میں فکر نظر آرہی،پنجاب میں وزیراعلیٰ مریم نواز کے عوامی خدمت کے ایجنڈے پر نوجوانوں کے ذریعے حملہ کیا گیا،من گھڑت کہانی بنا کر ترقی کرتے پنجاب کو عالمی سطح پر بدنام کیا گیا،ایسے تماشوں کا وزیراعلیٰ پنجاب کو مزید انتظار کرنے اور ان تماشوں کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار رہنا ہوگا کیونکہ تماش بینوں کا کام صرف تماش بینی ہوتا ہے،اسلام آباد میں آئین کو لے کر سیاسی تماشے ہو رہے ہیں آئین کو ڈھال بنا کر سیاسی و مذہبی جماعتیں کون سا کھیل کھیلنے میں اور ایک دوسرے سے جیتنے میں مصروف ہیں جبکہ آئین تو دو اور دو کی طرح بالکل آسان ہے آئینی سوال کو مشکل ترین بنا دیا گیا،سب کو معلوم ہے آئین کیا ہے اکثریت کیا ہے معلوم نہیں ہمارے سیاستدانوں کا آئین کو لے کر حساب کتاب کیوں کمزور ہے؟ تاہم بات سمجھ سے بالاتر ہے کون کس کے ساتھ کیا گیم کھیل رہا ہے،امریکی سیاستدان الیکشن میں مصروف ہیں،دنیا کی نظریں امریکی انتخابات پر لگی ہیں ڈونلڈ ٹرمپ یا کملا ہیرس ،وائٹ ہائوس کانیا مکین کون ہوگا امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق ٹرمپ کی کامیابی یقینی ہو سکتی ہے امریکی عوام کی اکثریت کوئی معاوضہ لئے بغیر ٹرمپ کی انتخابی مہم چلا رہی، اگر ٹرمپ کامیاب ہو گئے تو ان کی بھرپور توجہ معیشت پر ہوگی،امریکہ کے صدر جوبائیڈن نے اپنی صدارت کا آخری دورہ یورپ کا کر لیا ہے، یورپی یونین کی چند ریاستیں ٹرمپ کی دوسری صدارت کا خیر مقدم کریں گی۔
    تجزیہ

  • ایس سی اوکانفرنس،علاقائی قوتوں کا پاکستان پر اعتماد .تجزیہ: شہزاد قریشی

    ایس سی اوکانفرنس،علاقائی قوتوں کا پاکستان پر اعتماد .تجزیہ: شہزاد قریشی

    نواز شریف اور مقتدر حلقے ملکی ترقی اور خشحالی کے راستے پر گامزن
    نئے پاکستان کا نعرہ لگانے والے آج بھی ملک کو اندھیروں میں دھکیلنے پر بضد
    ایس سی او کانفرنس کا انعقاد اسحاق ڈار کی کامیاب سفارت کاری کا کرشمہ

    پاکستان کی ترقی اور عوام کی خوشحالی کا عزم میاں نواز شریف کی قیادت کا خاصہ ہے،اسلام آباد میں شنگھائی تعاون کونسل کے رکن ممالک کا سربراہی ا جلاس منعقد ہونا علاقائی قوتوں کا پاکستان پر اعتماد کا مظہر ہے اور پاکستان کے علاقائی ترقی اور باہمی تعاون میں کردار کا اعتراف ہے، شنگھائی تعاون کونسل کے سمٹ اجلاس میں پاکستان کے روشن مستقبل اور ترقی کی راہیں پوشیدہ ہیں،اس تناظر مین پاکستان کے عوام کو ترقی اور تنزلی ، استحکام اور انتشار ،اتحاد اور امن اوربدامنی کے راستوں میں تفریق کرنی ہوگی، میاں نواز شریف اور مقتدر حلقے پاکستان کی ترقی ، امن ،استحکام اور باہمی اتفاق کے راستوں پر گامزن ہیں جبکہ چند ناعاقبت اندیش سیاسی و لسانی عناصر اپنے مذموم مقاصد اور ذاتی عناد اور مفاد کی خاطر ادھر اُدھر دھرنا دھونس کی سیاست کے طبل بجا کر شنگھائی تعاون کونسل کے اجلاس میں روڑے اٹکانے کی کوشش کرتے ہیں اور ان ہجوموں میں ” نک دا کوکا” نچنے دا دل کردا” ۔ ” پروگرام وڑگیا” کے بے مقصد نعرے نوجوان نسل کو پاکستان کی حقیقی منزل سے دور کررہے ہیں، اس سے قبل 2014 ء میں ہمارے پاکستان کے قابل فخر دوست چین کے صدر کے دورے کے عین وقت پر منسوخی نے سی پیک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا اور پھر نئے پاکستان کے نام نہاد نعرے میں پاکستانی قوم نے اخلاقی اور تعلیمی انحطاط ، ترقی سے تنزلی اور اداروں میں سُست روی کا ایسا دور دیکھاجس کا خمیازہ پوری قوم بھگت رہی ہے،پاکستان میں شنگھائی تعاون کونسل کا اجلاس میاں نواز شریف،وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی کامیاب سفارت کاری کا کرشمہ ہے،جس کے اثرات تمام خطے پر پڑیں گے اور خصوصاً پاکستان کا علاقائی ترقی میں کردار نمایاں ہوگا،عوام کی ترقی کی راہوں کا انتخاب مبارک ہو۔

  • پاکستان کو کس کی نظر لگ گئی،استحکام کیسے آئے گا؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستان کو کس کی نظر لگ گئی،استحکام کیسے آئے گا؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    سیاست سے پہلے ریاست کا استحکام سلامت رہناچاہیے،تنقید بند کی جائے
    سوشل میڈیا کے خطر ناک جراثیم کی ملکی اداروں پر تنقید کیوں،لگام کون ڈالے گا

    تجزیہ،شہزاد قریشی
    فرانکو جرمن جوڑی کئی دہائیوں سے یورپی یونین کا کلیدی پتھر رہاہے،اس مضبوط اتحاد کے ذریعے ہی اس بلاک نے اپنا راستہ برقرار رکھا اور بڑے استحکام کے ساتھ ترقی کی، عالمی بُحران کے دوران بھی یہ شراکت داری حل تلاش کرنے اور یوپی یونین کے اداروں پر اعتماد برقرار رکھنے میں کامیاب رہی، وطن عزیز کی موجودہ معاشی اور سیاسی بحران کا بغور جائزہ لیا جائے تو 2017 تک میاں محمد نواز شریف اور سینیٹر اسحاق ڈاراپنی خدمات سرانجام دیتے رہے،اس جوڑی نے بھی پاکستان کو معاشی بحران سے نکالنے ، دفاعی لحاظ سے بھی مضبوط کرنے میں اہم کردارا دا کیا ، دنیا بدل گئی سیاسی او رمعاشی بحران نے پاکستان کو اپنی لپیٹ میں لے لیا،اس جوڑی کی اہم اور غالب پوزیشن کو کمزور کرنے میں بہت سی سیاسی اور دیگر قوتوں کا ہاتھ رہا،جس کا خمیازہ پاکستان بطور ریاست اور عوام تاددم تحریر بھگت رہے ہیں، پاکستان کے معاشی مستحکم مستقبل بنانے کے لئے ایک وقت ایسا بھی آیا کہ نواز شریف کی قیادت اور ان کی معاشی ٹیم نے پاکستان کو غیر ملکی قرضوں سے نجات دلانے کے قریب تر پہنچا دیامگرنادیدہ قوتوں نے ایک ایسی سازش کی کہ ترقی کے راستوں پر چلتا پاکستان دوبارہ معاشی کھائی میں جاگرا، سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ غیر یقینی سیاسی صورت حال میں پاکستان معاشی مستحکم ہو سکے گا ؟

    بلاشبہ پی ٹی آئی ایک مقبول جماعت ہے تاہم یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ افغانستان سے امریکہ کی واپسی کے بعد عمران خان کی تبلیغ کا مرکز پختون خواہ ہی کیوں رہا؟ وہ افغانستان کی صورت میں گرفتار ہو گئے ؟ تحریک عدم اعتماد کے بعد اُن کا سارا فوکس احتجاج پر ہی کیوں رہا؟ سوشل میڈیا یوٹیوبر وطن عزیز کی مسلح افواج اور پاک فوج کو نشانہ کیوں بناتے رہے اور بنار ہے ہیں؟ بیرون ممالک میں بیٹھ کر سوشل میڈیا پر آخر عسکری اداروں کو ہی نشانے پر کیوں رکھا گیا ؟یہ جانتے ہوئے کہ شخصیات کو فنا اور اداروں کو بقا حاصل ہے،ملکی دفاعی اداروں اور اعلٰی عدلیہ کو سوشل میڈیا کے ذریعے کیوں نشانہ بنایا جا رہاہے؟ریاست کو غیر مستحکم کرنے والے خطرناک جراثیم سے محفوظ کرنا کسی کی ذمہ داری بنتی ہے،ان خطر ناک جراثیم سے ملکی اداروں،معیشت اوراستحکام کو خطرہ ہے،سیاست سے پہلے ریاست کا استحکام سلامت رہناچاہیے،آئینی اصلاحات رواں ماہ کامیاب ہوتی نظر آرہی ہیں

  • پنجاب میں لینڈ مافیا،وزیراعلیٰ پنجاب اک نظر ادھر بھی.تجزیہ:شہزاد قریشی

    پنجاب میں لینڈ مافیا،وزیراعلیٰ پنجاب اک نظر ادھر بھی.تجزیہ:شہزاد قریشی

    وطن عزیز کا کوئی بھی صوبہ ایسا نہیں جو وسائل سے مالا مال نہیں بدقسمتی سے مختلف محکموں میں ایسے افسران تعینات ہیں جن کو وطن عزیز کے مفادات سے زیادہ اپنے مفادات عزیز ہیں صوبہ پنجاب میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی میرٹ پالیسی، وقت کی پابندی، چٹ سکیم کا خاتمہ، یہ وہ اقدامات ہیں جو ترقی پذیر ممالک میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ ہم اگر معاشی زوال پذیر ہیں تو اس کی ایک وجہ رائٹ مین فار رائٹ جاب پر عمل نہ کرنا بھی شامل ہے۔ مل کر سوچنا ہوگا کہاں شگاف ہے۔ کہاں غلطیاں ہیں، کون سی کل انفرادی بھی اور اجتماعی بھی ٹیڑھی ہے۔ پنجاب حکومت کی توجہ عوامی مسائل کو حل کرنے پر لگی ہے بلاشبہ وسائل کی کمی کے باوجود وزیراعلیٰ پنجاب کے اقدامات قابل تحسین ہیں۔ اگر پنجاب کے محکموں کے اعلیٰ افسران اگر صدق دل سے وزیراعلیٰ پنجاب کے عوامی خدمت کے ہمسفر ہو جائیں تو وسائل کی کمی دور کی جاسکتی ہے پنجاب میں اربوں کا ریونیو اکٹھا کیا جا سکتا ہے۔ راولپنڈی گوجر خان سمیت محکمہ جنگلات کی ہزاروں کنال زمینوں پر لینڈ مافیا قابض ہے جنگلات کے افسران کی ملی بھگت سے پنجاب بھر میں لینڈ مافیا سرکاری زمینوں پر قابض ہے حکومت پنجاب کو خوابیدہ افسران کو جگا کر اپنی کروڑوں اربوں کی قیمتی اراضی کو واگزار کرا کے اپنی ملکیت میں لے سکتی ہے جنگلات کو بازیاب کرا کے ماحولیات کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ جبکہ پنجاب بھر میں محکمہ اوقاف کی شہروں میں قیمتی پراپرٹی جن میں دکانیں، مکانات اور پلاٹ موجود ہیں جن کا کرایہ کوڑیوں ، چند سو روپے اور ہزار روپے ماہانہ وصول کیا جاتا ہے جبکہ انہی جائیدادوں کے نزدیک عوام کی ملکیتی دکانوں، مکانوں اور پلاٹ کا کرایہ لاکھوں میں ہے۔ محکمہ اوقاف کے کارندے اپنی جیبیں گرم کرنے کے لئے وطن عزیز کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور صوبہ پنجاب کے خزانے کو بھی ضرورت اس امر کی ہے کہ صاف و شفاف بے رحمانہ احتسابی عمل کو متحرک کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب کو اپنے صوبے میں سرکاری ریونیو کو بڑھانے کے لئے محکمہ جنگلات، اوقاف، ٹی ایم اے، ضلعی کونسل اور دیگر سرکاری اراضیوں کو واگزار کرانے اور وسائل کے استعمال کے لئے حکومتی مشینری کو متحرک کرنا ہوگا تاکہ صوبہ پنجاب میں خوشحالی، خودانحصاری اور ترقی کے بے مثال وہ دور شروع ہو سکے جو میاں محمد نوازشریف کا وژن ہے