Baaghi TV

Tag: شیریں مزاری

  • ایمان مزاری سے ملاقات کا  معاملہ: شیریں مزاری اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچ گئیں

    ایمان مزاری سے ملاقات کا معاملہ: شیریں مزاری اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچ گئیں

    ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ سے جیل میں ملاقات کی اجازت نہ ملنے پر شیریں مزاری اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچ گئیں، جہاں انہوں نے درخواست دائر کرنے کے لیے اپنی بائیومیٹرک بھی کروائی۔

    شیریں مزاری نے درخواست میں مؤقف اختیار کیا کہ وہ کل بیٹی اور داماد سے ملاقات کے لیے اڈیالہ جیل گئی تھیں، تاہم ملاقات کا مقررہ دن ہونے کے باوجود انہیں اجازت نہیں دی گئی جیل قانون کے مطابق ملاقاتوں کے حوالے سے جو حق حاصل ہے، اسی بنیاد پر انہوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں پٹیشن فائل کی ہے۔

    درخواست میں شیریں مزاری نے اپیل کی کہ بنیادی استدعا یہی ہے کہ جیل قانون کے مطابق ملاقات کا جو حق ہے وہ فراہم کیا جائےوہ ایک ماں ہیں اور بیٹی سے ملنا چاہتی ہیں، اسی طرح داماد سے ملاقات کی خواہش رکھتی ہیں، لیکن اس کے باوجود انہیں روکا جا رہا ہے،انہوں نے متعلقہ حکام کو اپنے قوا نین کا حوالہ دیا ہے اور یہ بھی واضح کیا ہے کہ پاکستان بنیادی انسانی حقوق کے بین الاقوامی معاہدوں پر دستخط کر چکا ہے آرٹیکل ون ذہنی اور جسمانی تشدد کی تشریح کرتا ہے، جس کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے-

    شیریں مزاری کے مطابق نہ صرف بین الاقوامی قوانین بلکہ ملک کے اپنے قوانین کی بھی خلاف ورزی ہو رہی ہےبین الاقوا می قوانین کے حوالے سے پاکستان کی ساکھ ہمیشہ اچھی رہی ہے اور ہم انڈس واٹر جیسے معاملات پر بھارت کو بھی یہی کہتے ہیں کہ وہ خلاف ورزی نہیں کر سکتا،پاکستان شروع سے اپنے بین الاقوامی معاہدوں پر عمل درآمد کرتا آ رہا ہے اور اگر پاکستان کی پوزیشن مضبوط رہی ہے تو اب اسے کیوں کمزور یا تباہ کیا جا رہا ہے۔

  • اسلام آباد ہائیکورٹ نے شیریں مزاری کی گرفتاری کو غیر قانونی قرار دیدیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے شیریں مزاری کی گرفتاری کو غیر قانونی قرار دیدیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق وفاقی وزیر شیریں مزاری کی گرفتاری کو غیر قانونی قرار دے دیا۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی سابق رہنما ڈاکٹر شیریں مزاری کی گرفتاری کو غیر قانونی قرار دے دیا،عدالت نے کمیشن کی رپورٹ کو کالعدم قرار دیتے ہوئے سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور محکمہ داخلہ پنجاب کو تحقیقات کا حکم دے دیا۔

    14 مئی 2024 کو ہونے والی سماعت میں عدالت نے سال 2022 میں اینٹی کرپشن پنجاب کی جانب سے سابق وفاقی وزیر شیری مزاری کی گرفتاری کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔

    کالعدم ٹی ٹی پی کے 2 کمانڈرز گرفتار

    دوران سماعت جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دئیے تھے کہ جب کسی کی گرفتاری غلط ڈیکلئیر ہو جائے تو اس دوران جو ہوا اس کی حیثیت کیا ہوگی؟ ہم صرف یہ دیکھ رہے ہیں اسلام آباد سے ہمارے دائرہ اختیار کے اندر گرفتاری درست ہوئی یا نہیں، اگر کسی دوسر ے صوبے سے گرفتاری چاہیے ہوگی تو کیا باہر سے کوئی آکر اٹھا کر لے جائے گا؟ ایسے منہ اٹھا کر کوئی دوسرے صوبے میں جا کر کیسے گرفتار کر سکتا ہے؟

    واضح رہے کہ 21 مئی 2022 کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی سابق رہنما اور سابق وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری کو اسلام آباد سے ’گرفتار‘ کرلیا گیا تھا، اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ (اے سی ای) نے تصدیق کی تھی کہ شیریں مزاری کو حراست میں لیا گیا ہے۔

    حنا ربانی کھر قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ کی چیئرپرسن منتخب

  • شیریں مزاری کی 2022میں ہونیوالی گرفتاری کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ

    شیریں مزاری کی 2022میں ہونیوالی گرفتاری کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ

    اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ نے شیریں مزاری کی 2022میں ہونیوالی گرفتاری کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا-

    باغی ٹی وی : شیریں مزاری کی 2022میں ہونیوالی گرفتاری کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے کیس کی سماعت کی،درخواست گزار ایمان مزاری کی جانب سے فیصل چودھری ایڈووکیٹ پیش ہوئے،ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل بھی عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔

    دوران سماعت عدالت نے اینٹی کرپشن حکام سے استفسار کیا کہ کیا آپ کی ٹیم گرفتاری کیلئے آئی تھی؟ اینٹی کرپشن حکام نے کہا کہ جی 21مئی 2022کو ہم گرفتاری کیلئے آئے تھے،ایف آئی آر کے اندراج کے بعد ہم نے شیریں مزاری کو نوٹس کیاتھا،گرفتاری سے پہلے ڈپٹی کمشنر کو آگاہ کیا اور تھانہ کوہسار کی پولیس ہمارے ساتھ تھی-

    آئی ایم ایف کی 4 سالوں میں پاکستان میں مہنگائی میں مسلسل کمی کی …

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہاکہ اینٹی کرپشن حکام کو چاہئے تھا کہ گرفتاری کے بعد مجسٹریٹ کے پاس لے جاتے،جسٹس محسن اختر کیانی نے کہاکہ گرفتاری غلط ڈیکلیئر ہو جائے تو اس دوران جو ہوا اس کی حیثیت کیا ہوگی؟ہم یہ دیکھ رہے ہیں ہمارے دائرہ اختیار میں گرفتاری درست ہوئی یا نہیں،کسی دوسرے صوبے کو گرفتاری چاہئے ہو گی کیا باہر سے کوئی آکر اٹھا کر لے جائے گا؟یہ تو ایسے ہی ہوا یہاں کورٹ سے ایک آدمی اٹھا کر لے گئے،دروازے توڑ کر چیزیں توڑ کر جیسے لے گئے، کیا ایسے ہی گرفتاری ہوئی تھی، پھر وہ گرفتاری سپریم کورٹ نے غیرقانونی ڈیکلیئرکر دی تھی،جو آج ہو رہا ہے، دو سال بعد دوسرے والوں کے ساتھ ہو رہا ہو گا۔

    حکومتی ملکیتی اداروں کی نجکاری سے ٹیکس دہندگان کے پیسے کی بچت ہو گی،وزیراعظم

    جسٹس محسن اختر کیانی نے کہاکہ ہم یہیں بیٹھیں ہوں گے،ایسے منہ اٹھا کر کوئی دوسرے صوبے میں جا کر کیسے گرفتار کر سکتا ہے، شیریں مزاری کمیشن نے ایکشن کی سفارش کی ہوئی ہے،جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ یہ وقت وقت کی بات ہے، یہ ایک سائیکل ہے،کل ادھر والے دوسرے طرف کھڑے ہوں گے،آج جو حکومت میں ہیں کل وقت بدلے گاتووہ اٹھائے گئے ہوں گے۔

    عدت نکاح کیس:وکیل کی عدم پیشی،عمران خان و اہلیہ کی سزا کیخلاف اپیلوں کی سماعت …

    عدالت نے اینٹی کرپشن حکام سے مکالمہ کرتے ہوئے کہاکہ سرکاری افسران کو ’نہ‘کرنا آنا چاہئے،کمیشن رپورٹ اور عدالت کے فیصلے کے تناظر میں ہم نے آگے چلنا ہے،یہ جو اس کورٹ کے اندر ہوا ہم تو اس کی انکوائری نہیں کر سکے،وکیل فیصل چودھری نے کہاکہ یہاں ہائیکورٹ کا تو پرچہ بھی درج نہیں ہوا، عدالت نے شیریں مزاری کی گرفتاری کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

  • شیریں مزاری کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم

    شیریں مزاری کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق وفاقی وزیر شیریں مزاری کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دے دیا

    ق اسلام آباد ہائیکورٹ میں شیریں مزاری کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست پر سماعت ہوئی۔ جسٹس ثمن رفعت امتیاز نے کیس کی سماعت کی،شیریں مزاری اپنے وکیل کے ہمراہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش ہوئیں۔ نیب پراسیکیوٹر نے عدالت میں کہا کہ نیب نے شیریں مزاری کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی سفارش کر دی تھی، شیریں مزاری 190 ملین پاؤنڈ نیب کیس میں ملزمہ نہیں ہیں،اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہم نے بھی 27 مارچ کو وزیر اعظم کو خط لکھ کر اطلاع دے دی تھی

    جسٹس ثمن رفعت امتیاز نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کابینہ کے پاس اور کام بہت ہیں یہ کام ہم کر دیتے ہیں، عدالت نے شیریں مزاری کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دیتے ہوئے درخواست نمٹا دی

    شیریں مزاری مبینہ اغوا کیس،سیکرٹری کابینہ فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کے ساتھ عدالت پیش

    شیریں مزاری کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کا حکم

    واضح رہے کہ حکومت کی جانب سے شیریں مزاری سمیت پی ٹی آئی کے متعدد موجودہ اور سابق رہنماؤں و قائدین کے نام ای سی ایل ڈالے گئے تھے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سمیت پی ٹی آئی کے 70 رہنماؤں کے نام ای سی ایل میں ڈالےگئے ۔ذرائع کے مطابق جن رہنماؤں کے نام ای سی ایل میں شامل کئے گئے ہیں ان میں عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی، شیخ رشید، شہریار آفریدی، مراد سعید، علی محمد خان، قاسم سوری، اسد عمر، اسد قیصر، ملیکہ بخاری اور دیگر سابق ایم این ایز شامل ہیں رہنماؤں کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کا فیصلہ پولیس کی سفارش پر کیا گیا ۔

    پشاور پولیس کا رویہ… خواجہ سرا پشاور چھوڑنے لگے

    شہر قائد خواجہ سراؤں کے لئے غیر محفوظ

    خواجہ سراؤں پر تشدد کی رپورٹنگ کیلئے موبائل ایپ تیار

    ہ ٹرانسجینڈر قانون سے معاشرے میں خواجہ سرا افراد کو بنیادی حقوق ملے۔

     پاکستان میں 2018 سے قبل ٹرانسجینڈر قانون نہیں تھا،

  • شیریں مزاری  مبینہ اغوا کیس،سیکرٹری کابینہ فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کے ساتھ عدالت  پیش

    شیریں مزاری مبینہ اغوا کیس،سیکرٹری کابینہ فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کے ساتھ عدالت پیش

    اسلام آباد ہائیکورٹ: ڈاکٹر شیریں مزاری کے مئی 2022 میں مبینہ اغوا کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے کیس کی سماعت کی،سیکرٹری کابینہ عدالتی حکم پر فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کے ساتھ عدالت میں پیش ہوئے، جسٹس محسن اختر کیانی نے استفسار کیا کہ کیا وہ گرفتاری خلاف قانون تھی؟ سیکرٹری کابینہ نے کہا کہ نومبر 2022 میں یہ رپورٹ آئی تھی، رپورٹ کے مطابق گرفتاری میں پروسیجرل غلطیاں تھیں، وزیراعظم نے رپورٹ کابینہ کے سامنے پیش کرنے کا حکم دیا تھا،وکیل درخواست گزار نے کہا کہ شیریں مزاری کو گرفتار نہیں بلکہ اغواء کیا گیا تھا، جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ یہ کوئی سیکرٹ دستاویز نہیں بلکہ صرف ایک فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ ہے، ہم انسانی حقوق کا معاملہ دیکھ رہے ہیں، سابق چیف جسٹس نے معاملہ کابینہ کو بھیجا تھا، سیکرٹری کابینہ نے کہا کہ اس رپورٹ میں چھپانے کیلئے کچھ بھی نہیں ہے،

    جسٹس محسن اختر کیانی نے استفسار کیا کہ حکومت نے کمیشن کی رپورٹ پر کیا ایکشن لیا؟یہ معاملہ نئی تشکیل پانے والی کابینہ کے سامنے رکھا جائے،ہم نے پراسیس دیکھنا ہے کہ قانون کے مطابق کارروائی ہوئی یا نہیں،اس حوالے سے رپورٹ پڑھنی پڑے گی، اس فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کو عدالتی ریکارڈ پر لانے کے لیے جمع کرا دیں، کیا اس معاملے کو اب آنے والی کابینہ دیکھے گی؟سیکرٹری کابینہ نے کہا کہ جی، نئی کابینہ اس معاملے کو اب دیکھے گی، جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ ایف آئی اے اور اسلام آباد پولیس کے کردار کو دیکھنا ہے، آفیشلز کے خلاف ایکشن کو دیکھنا ہے،

    پشاور پولیس کا رویہ… خواجہ سرا پشاور چھوڑنے لگے

    شہر قائد خواجہ سراؤں کے لئے غیر محفوظ

    خواجہ سراؤں پر تشدد کی رپورٹنگ کیلئے موبائل ایپ تیار

    ہ ٹرانسجینڈر قانون سے معاشرے میں خواجہ سرا افراد کو بنیادی حقوق ملے۔

     پاکستان میں 2018 سے قبل ٹرانسجینڈر قانون نہیں تھا،

  • شیریں مزاری کا 2022 میں مبینہ اغوا،سیکرٹری کابینہ عدالت طلب

    شیریں مزاری کا 2022 میں مبینہ اغوا،سیکرٹری کابینہ عدالت طلب

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری کے 22 مئی 2022 کو مبینہ اغواء کے خلاف کیس میں سیکریٹری کابینہ کو کل فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کے ساتھ طلب کرلیا۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر شیریں مزاری کے 22 مئی 2022 کو مبینہ اغواء کے خلاف کیس کی سماعت کی،جسٹس محسن اختر کیانی نے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل کو مخاطب کر کے کہا کہ پہلے فیکٹ فائنڈنگ ہوئی ہوگی نا کہ خاتون اغواء ہوئی یا کیا ہوا؟ رپورٹ کہاں ہے؟ کسی نے رپورٹ تو دیکھی نہیں کہ فیکٹ فائنڈنگ کمیشن نے کیا کیا، عدالت میں رپورٹ لائی نہیں گئی اور سیدھی کابینہ کے سامنے رکھ دی گئی، سیکریٹری کابینہ کو کل بلا لیں کہ رپورٹ کے ساتھ آ جائیں،کل وزیراعظم کو بھی بلایا ہوا ہے سیکریٹری کابینہ بھی آ جائیں، وزیراعظم کی موجودگی میں یہیں پر رپورٹ دیکھ کر فیصلہ کر دیں گے

    جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی کابینہ سے کام تو ہوتا نہیں یہیں بٹھا کر کام کروائیں گے، بار بار عدالتی حکم کے باوجود فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ عدالت کے سامنے پیش نہیں کی گئی، سیکرٹری کابینہ فیکٹ فائنڈنگ کی رپورٹ کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوں.

    پشاور پولیس کا رویہ… خواجہ سرا پشاور چھوڑنے لگے

    شہر قائد خواجہ سراؤں کے لئے غیر محفوظ

    خواجہ سراؤں پر تشدد کی رپورٹنگ کیلئے موبائل ایپ تیار

    ہ ٹرانسجینڈر قانون سے معاشرے میں خواجہ سرا افراد کو بنیادی حقوق ملے۔

     پاکستان میں 2018 سے قبل ٹرانسجینڈر قانون نہیں تھا،

  • شیریں مزاری کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کا حکم

    شیریں مزاری کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کا حکم

    اسلام آباد ہائیکورٹ،بیرون ملک جانے کیلئے ڈاکٹر شیریں مزاری کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کی درخواست پر فیصلہ جاری کر دیا گیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے شیریں مزاری کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کا حکم دے دیا، عدالت نے شیریں مزاری کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنا غیر منصفانہ اور غیر قانونی قرار دے دیا ،عدالت نے ڈی جی امیگریشن پاسپورٹ ایک ہفتے میں نام نکال کر ڈپٹی رجسٹرار کو رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا،اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس طارق محمود جہانگیری نے محفوظ فیصلہ سنایا،21 نومبر کو عدالت نے فریقین کے دلائل کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا ،اسلام آباد پولیس کی سفارش پر شیریں مزاری کا نام پی سی ایل لسٹ میں ڈالا گیا تھا

    واضح رہے کہ چند ہفتوں قبل حکومت کی جانب سے شیریں مزاری سمیت پی ٹی آئی کے متعدد موجودہ اور سابق رہنماؤں و قائدین کے نام ای سی ایل ڈالے گئے تھے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سمیت پی ٹی آئی کے 70 رہنماؤں کے نام ای سی ایل میں ڈالےگئے ۔ذرائع کے مطابق جن رہنماؤں کے نام ای سی ایل میں شامل کئے گئے ہیں ان میں عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی، شیخ رشید، شہریار آفریدی، مراد سعید، علی محمد خان، قاسم سوری، اسد عمر، اسد قیصر، ملیکہ بخاری اور دیگر سابق ایم این ایز شامل ہیں رہنماؤں کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کا فیصلہ پولیس کی سفارش پر کیا گیا ۔

    پشاور پولیس کا رویہ… خواجہ سرا پشاور چھوڑنے لگے

    شہر قائد خواجہ سراؤں کے لئے غیر محفوظ

    خواجہ سراؤں پر تشدد کی رپورٹنگ کیلئے موبائل ایپ تیار

    ہ ٹرانسجینڈر قانون سے معاشرے میں خواجہ سرا افراد کو بنیادی حقوق ملے۔

     پاکستان میں 2018 سے قبل ٹرانسجینڈر قانون نہیں تھا،

  • عدالت کا  پولیس کو  شیریں مزاری کو گرفتارنہ کرنے کا حکم

    عدالت کا پولیس کو شیریں مزاری کو گرفتارنہ کرنے کا حکم

    اسلام آباد : ہائیکورٹ نے پولیس کو شیریں مزاری کو گرفتارنہ کرنے کا حکم دے دیا۔

    باغی ٹی وی: اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے عدالتی حکم کے باوجود شیریں مزاری کی گرفتاری پر آئی جی اسلام آباد کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت کی ، آئی جی اسلام آباد اکبر ناصر خان عدالت میں پیش ہوئے۔

    پولیس کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ میں بتایا گیا کہ متعلقہ اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کاروائی شروع کردی گئی ہے، عدالتی حکم پر پولیس رپورٹ کی کاپی درخواست گزار کو فراہم کردی گئی عدالت نے پولیس کوشیریں مزاری کو گرفتار نہ کرنے کا حکم دے دیا آئی جی اسلا م آباد اپنے تحریری جواب میں عدالت سے معافی مانگ چکے ہیں۔

    سرگودھا:انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت,امجد خان نیازی کے ریمانڈ میں مزید چار روز کی توسیع

    واضح رہے کہ اسلام آباد پولیس کو ڈاکٹر شیریں مزاری کی گرفتاری سے روکنے کا اسلام آباد ہائیکورٹ نے حکم جاری کیا تھا لیکن عدالتی حکم کے باوجود ان کو گرفتار کیا گیا تھا، شیریں مزاری کی بیٹی ایمان مزاری نے توہین عدالت کی درخواست دائر کر رکھی ہے۔

    امریکی ڈالر انٹر بینک میں سستا

  • شیریں مزاری کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    شیریں مزاری کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    اسلام آباد ہائیکورٹ: سابق وزیر شیریں مزاری کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا گیا

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس طارق محمود جہانگیری نے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا،اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس طارق محمود جہانگیری نے سماعت کی ،وفاق کی جانب سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل، ڈپٹی اٹارنی جنرل عدالت میں پیش ہوئے، پولیس کی جانب سے وکیل طاہر کاظم عدالت میں پیش ہوئے

    عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پورے اسلام آباد میں کئی لوگوں پرکریمنل کیسز ہیں صرف شیریں مزاری کا نام کیوں شامل کیا گیا ، پولیس کے وکیل نے کہا کہ شیریں مزاری کے خلاف سات مقدمات درج ہیں ،جن کے پاس کھانا پینا نہیں ہوتا انھوں نے تو بیرون ملک نہیں جانا ہوتا ،شیریں مزاری کی ٹریول ہسٹری کافی زیادہ ہے،ان لوگوں سے کوئی ڈر نہیں ہوتا جن کی ٹریول ہسٹری نہ ہو یا کھانے پینے کی کمی ہو،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیسز درج ہیں یا ٹریول ہسٹری زیادہ ہے یہ تو کوئی بات نہ ہوئی ،عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد شیریں مزاری کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا

    واضح رہے کہ چند ہفتوں قبل حکومت کی جانب سے شیریں مزاری سمیت پی ٹی آئی کے متعدد موجودہ اور سابق رہنماؤں و قائدین کے نام ای سی ایل ڈالے گئے تھے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سمیت پی ٹی آئی کے 70 رہنماؤں کے نام ای سی ایل میں ڈالےگئے ۔ذرائع کے مطابق جن رہنماؤں کے نام ای سی ایل میں شامل کئے گئے ہیں ان میں عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی، شیخ رشید، شہریار آفریدی، مراد سعید، علی محمد خان، قاسم سوری، اسد عمر، اسد قیصر، ملیکہ بخاری اور دیگر سابق ایم این ایز شامل ہیں رہنماؤں کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کا فیصلہ پولیس کی سفارش پر کیا گیا ۔

    پشاور پولیس کا رویہ… خواجہ سرا پشاور چھوڑنے لگے

    شہر قائد خواجہ سراؤں کے لئے غیر محفوظ

    خواجہ سراؤں پر تشدد کی رپورٹنگ کیلئے موبائل ایپ تیار

    ہ ٹرانسجینڈر قانون سے معاشرے میں خواجہ سرا افراد کو بنیادی حقوق ملے۔

     پاکستان میں 2018 سے قبل ٹرانسجینڈر قانون نہیں تھا،

  • آئی جی اسلام آباد کے خلاف توہین عدالت کیس سماعت کے لیے مقرر

    آئی جی اسلام آباد کے خلاف توہین عدالت کیس سماعت کے لیے مقرر

    تحریک انصاف کی سابق رہنما شیریں مزاری کی گرفتاری پر آئی جی اسلام آباد کے خلاف توہین عدالت کیس سماعت کے لیے مقرر کردیا گیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے عدالتی حکم کے باوجود شیریں مزاری کی گرفتاری پر آئی جی اسلام آباد ناصر خان کے خلاف توہین عدالت کیس 28 ستمبر کو سماعت کے لیے مقرر کیا ہے ،اس کیس میں آئی جی اسلام غیرمشروط معافی نامہ جمع کراچکے ہیں، آئی جی کی معافی منظور ہوگی یا کارروائی آگے بڑھے گی اس کا فیصلہ آئندہ سماعت پر ہوگا ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب آئی جی کے خلاف کیس کی سماعت کریں گے

    واضح رہے کہ عدالت نے شیریں مزاری کو گرفتار کرنے پر آئی جی اسلام آباد پر 25 ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کیا تھا اور جرمانے کی رقم شیریں مزاری کو دینے کا کہا تھا جس پر آئی جی نے شیریں مزاری کو جرمانہ ادا کردیا تھا

    دوران سماعت جسٹس طارق محمود جہانگیری نے استفسار کیا کہ جب مقدمات بنے تب گرفتاری کیوں نہیں کی؟، 2014 کے مقدمات کا کیا اسٹیٹس ہے؟ ای سی ایل میں بھی وفاقی حکومت ہی منظوری دیتی ہے ان مقدمات کو 10 سال ہوگئے ہیں پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں نام ڈالنے کے لیے کیا وفاقی حکومت سے اجازت لی گئی؟

    عدالت نے ریمارکس دیئے کہ پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں نام ڈالنے کا اختیار وفاقی حکومت کا ہے، جس پر حکام کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ ہمیں تفتیشی ایجنسی لکھتی ہے تب ہی نام شامل کیا جاتا ہے وفاقی حکومت منظوری دیتی ہے جب کہ فہرست وزارت داخلہ تیار کرتی ہے، وفاقی حکومت اپنا اختیار کسی کو دے ہی نہیں سکتی، رولز میں سے وفاقی حکومت کا لفظ ہے ڈی پاسپورٹ کا لفظ نہیں۔

    اسلام آباد پولیس کے افسران کو دفاع کا بنیادی حق نہیں دیا گیا۔ ترجمان اسلام آباد پولیس
    دوسری جانب ترجمان اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ اسلام آباد پولیس کے افسران کے حوالے سے توہین عدالت کارروائی کے متعلق خبریں۔اسلام آباد پولیس قانون کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اپنے فرائض سرانجام دے رہی ہے۔ اسلام آباد پولیس اپنے افسران کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ اسلام آباد پولیس ہر قسم کے حالات کا سامنا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔اسلام آباد پولیس کے افسران کو دفاع کا بنیادی حق نہیں دیا گیا۔ اسلام آباد پولیس اس حوالے قانونی چارہ جوئی کررہی ہے۔ آئی جی اسلام آباد کے حوالے سے پہلے بھی اس طرح کی بے بنیاد خبریں نشر کی گئیں۔افواہوں اور غیر مصدقہ بیانات سے ہوشیار رہیں۔ قانون کی بالا دستی کے لیے پولیس سے تعاون فرمائیں۔

    ریاست کو للکارنے والے علی وزیر،محسن داوڑ کی رکنیت ختم کی جائے، اسمبلی میں مطالبہ

    محسن داوڑ اور علی وزیر کا سی ٹی ڈی نے ریمانڈ مانگا تو عدالت نے بڑا حکم دے دیا

    پی ٹی ایم کے رہنما علی وزیر پر غداری کا مقدمہ بنایا جائے،ٹویٹر پر ٹاپ ٹرینڈ

    ایک بیان کی بنیاد پر کیسے کسی کو نااہل کر دیں؟ علی وزیر نااہلی کیس میں الیکشن کمیشن کے ریمارکس