Baaghi TV

Tag: صادق سنجرانی

  • صادق سنجرانی کا کمال،سینیٹ میں خلاف ضاطہ بھرتیوں کی بھرمار،اکثریت اراکین کی رشتے دار

    صادق سنجرانی کا کمال،سینیٹ میں خلاف ضاطہ بھرتیوں کی بھرمار،اکثریت اراکین کی رشتے دار

    سابق چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی سینیٹ میں ملازمین کی پوری فوج بھرتی کرکے چلے گئے،دستاویزات کے مطابق سینیٹ سیکرٹریٹ میں بھرتیوں کی بھرمار، 6 برس میں مستقل اور کنٹریکٹ پر 480 بھرتیاں کی گئی ہیں

    سینیٹ میں بھرتیاں 2018 تا 2024 سابق چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے دور میں ہوئیں، اسی مدت میں مختلف عہدوں پر دیگر محکموں سے 26 ملازمین ڈیپوٹیشن پر بھی بلائے گئے، صحافی کی طرف سے معلومات تک رسائی کے قانون کے تحت سینیٹ سیکرٹریٹ سے ڈیٹا حاصل کیا گیا تو اس میں یہ انکشاف سامنے آیاسینیٹ سیکرٹریٹ بڑے پیمانے پر بھرتیوں کی وجوہات اور خالی آسامیوں سے متعلق جواب نہ دے سکا،سینیٹ سیکرٹریٹ نےبھرتیوں کے عمل میں شفافیت سے متعلق سوالات کا جواب دینے سے بھی انکار کیا .

    سینیٹ سیکرٹریٹ میں 6 برس میں گریڈ 17 تا 20 کے 21 افسران تعینات کیے گئے، سرکاری دستاویزات کے مطابق 90 نائب قاصد، 77 جونیئر اسسٹنٹ، 49 اسٹینو ٹائپسٹ، 33 ڈرائیور بھرتی کیے گئے، 7 سیکشن افسران، 9 اسسٹنٹ ڈائریکٹر، 35 اسسٹنٹ پرائیویٹ سیکرٹری بھرتی کیے گئے۔سینیٹ میں جن افراد کو بھرتی کیا گیا وہ مبینہ طور پر صادق سنجرانی، ممبران پارلیمنٹ کے رشتہ دار ہیں۔سینیٹ سیکریٹریٹ نے 60 فیصد سے زائد بھرتیاں خلاف ضابطہ کی ہیں۔

    واضح رہے کہ قومی اسمبلی میں بھی ایسا ہی ایک سیکنڈل سامنے آیا تھا جس کا نیب نے نوٹس لے رکھا ہے،،نیب نے 2018 سے مارچ 2024 تک بھرتیوں کی تفصیلات طلب کرلیں،نیب کی جانب سے جاری نوٹس میں کہا گیا ہے کہ اسد قیصراورراجہ پرویز اشرف ادوار میں بھرتیوں کی تفصیلات دی جائیں،نیب کے مراسلے میں بھرتیوں کے طریقہ کار،وزارت خزانہ سے منظوری متعلق استفسار کیا گیا ہے

    واضح رہے کہ باغی ٹی وی نے خبر شائع کی تھی کہ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں غیر قانونی بھرتیاں کی گئی ہیں،سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور راجہ پرویز اشرف نے انت مچا دی، غیر متعلقہ اور اضافی افراد کو بھرتی کیا گیا ہے جو حکومت پاکستان کے خزانے کو قوی نقصان پہنچا رہے ہیں، اسد قیصر نے ملازمین کو بھرتی کیا تو وہیں راجہ پرویز اشرف بھی ان سے پیچھے نہ رہے ، قومی خزانے کا بے دردی سے اس طرح استعمال کیا جا رہا ہے کہ سیکرٹری قومی اسمبلی کا ڈرائیور بحریہ ٹاؤن فیز ایٹ سے سرکاری گاڑی پر دودھ لینے جاتا ہے، اسمبلی ہاؤس میں ملازمین کی بھر مار، میرٹ سے ہٹ کر بھرتیاں کی گئیں،راجہ پرویز اشرف نے اسد قیصر کے غیر قانونی کاموں کو اس لئے تحفظ دیا کیونکہ وہ خود اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھونا چاہتے تھے

    قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں‌غیر قانونی بھرتیوں بارے چیئرمین نیب کو بھی درخواست دی گئی تھی جس پر چیئرمین نیب نے نوٹس لیا اور تفصیلات طلب کر لی ہیں،

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    سوشل میڈیا پر فوج مخالف پروپیگنڈہ کےخلاف سینیٹ میں قراردادمنظور

    سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد کی تشہیر،یورپی ممالک سے 40 پاکستانی ڈی پورٹ

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

  • چیئرمین سینیٹ صدارتی انتخابات میں ووٹ نہیں ڈال سکیں گے

    چیئرمین سینیٹ صدارتی انتخابات میں ووٹ نہیں ڈال سکیں گے

    چیئرمین سینیٹ صدارتی انتخابات میں ووٹ نہیں ڈال سکیں گے
    صادق سنجرانی کے بلوچستان اسمبلی کے ممبر بننے کے بعد وہ سینیٹر نہیں رہے،چیئرمین سینیٹ نے بلوچستان اسمبلی سے الیکشن لڑا تھا اور وہ جیت گئے، بلوچستان اسمبلی کا رکن منتخب ہونے کے بعد صادق سنجرانی صدارتی انتخابات میں ووٹ نہیں ڈال سکیں گے،

    چئیرمین سینیٹ کی صوبائی اسمبلی کی نشست پر کامیابی کے نوٹیفیکیشن جاری ہو چکے ہیں،ووٹرز کے لئے اسمبلی ممبر کے طور پر حلف لینا ضروری ہے،چئیرمین سینیٹ نے صوبائی اسمبلی کے ممبر کے طور پر حلف نہیں لیا،صادق سنجرانی صوبائی اسمبلی کی نشست پر سولہ فروری کو کامیاب قرار پائے،آئینی ماہرین کے مطابق صادق سنجرانی 16فروری کے بعد سینیٹ کے ممبر نہیں رہے،سولہ فروری کے بعد ان کی سینیٹ میں سرگرمیاں غیر قانونی ہیں سینیٹ کی ذمہ داریاں ڈپٹی چئیرمین نبھا سکتے ہیں ،

    الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری شیڈول کے مطابق ملک میں صدارتی انتخاب 9 مارچ کو ہو گا، صدارتی الیکشن کے لیے پولنگ پارلیمنٹ ہاؤس اور چاروں صوبائی اسمبلیوں میں ہو گی، آئین کے مطابق صدارتی انتخاب کا ریٹرننگ افسر چیف الیکشن کمشنر ہوتا ہے۔

    صدارتی انتخابات میں مقابلہ آصف زرداری اور سنی اتحاد کونسل کے محمود اچکزئی کے مابین ہے، دونوں کے کاغذات نامزدگی منظور ہو چکے ہیں

    صدر عارف علوی کی 5 سالہ آئینی مدت 8 ستمبر 2023 کو ختم ہو چکی ہے تاہم ملک میں نگران سیٹ اپ ہونے کی وجہ سے عارف علوی صدر پاکستان کی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں اور آئین کے مطابق الیکشن ہونے کے ایک ماہ تک صدر اپنے عہدے پر فائز رہ سکتے ہیں،آٹھ فروری کو ملک بھر میں عام انتخابات ہوئے، اسکے بعد اب 9 مارچ کو صدارتی انتخابات متوقع ہیں پیپلز پارٹی کی جانب سے آصف زرداری صدر کے امیدوار ہیں، ن لیگ سمیت دیگر سیاسی جماعتیں آصف زرداری کی حمایت کریں گی

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    صدر مملکت ایک بار پھر آئین شکنی کرنا چاہتے ہیں ، اسحاق ڈار

  • سینیٹ اجلاس،ادویات کی قلت پر بحث،وزیر کی عدم موجودگی،چیئرمین برہم

    سینیٹ اجلاس،ادویات کی قلت پر بحث،وزیر کی عدم موجودگی،چیئرمین برہم

    چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیر صدارت سینیٹ اجلاس ہوا

    ڈاکٹر مہر تاج روغانی نے ادویات کی قلت پر توجہ دلاؤ نوٹس دیا، ڈاکٹر ندیم وزیر صحت اور سیکرٹری صحت کی غیر حاضری پرایوان بر ہم ہو گیا، چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ سیکرٹری سمیت کوئی وزارت صحت سے کوئی ایوان میں موجود نہیں۔اگر سیکرٹری صحت جمعہ کو نہیں آئے تو سسپینڈ کردوں گا۔ڈاکٹر مہرتاج روغانی نے کہا کہ ادویات کی قلت کے اہم معاملے پر بھی وفاقی وزیر صحت کا ایوان سے غیر حاضر ہونا افسوسناک ہے۔چیئرمین سینیٹ نے اظہار برہمی کیا اور وفاقی وزیر کو جلد ایوان میں پہنچنے کا پیغام دینےکی ہدایت کی اور کہا کہ ڈاکٹر ندیم جان آپ سے ڈرتا ہے ،آپ ان کی استاد ہیں۔ڈاکٹر مہر تاج نے کہا کہ نگران وزیر نہ آئیں تو کوئی بات نہیں ،ہمارے دور میں تو وزیروں کو بہت رگڑا دیتے تھے۔وزیر پارلیمانی امور مرتضیٰ سولنگی نے کہا کہ وفاقی وزیر راستے میں ہیں،اگر اجلاس ختم ہو گیا تو اگلے اجلاس میں بیان دیں گے۔چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ وزیر وقت پر کیوں نہیں آتے کیا ایوان ان کا انتظار کرتا رہے۔مہرتاج نے کہا کہ مجھے معلوم ہوا کہ وزیرستان میں ادویات کی قلت کے سبب ایک بچہ جاں بحق ہوگیا ،بچوں کے لیے وزیرستان میں ادویات دستیاب نہیں ، مپہلے روس سے اینٹی ڈیفتھیریا سیرم اتا تھا پھر انڈیا سے آرہا تھا ،دونوں ممالک نے بند کردیا ہے ،اب مقامی کمپنی بیچ رہی ہے جو بلیک میں مل رہاہے ،میزلز،لاکڑا کاکڑا،خسرہ اور ٹائی فائیڈ سمیت کئی وباؤں کی ادویات دستیاب نہیں ہیں ،ملک میں آج امیونائزیشن کی شرح بہت کم ہوگئی ہے ،

    ایوان بالا کے اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران سینیٹر فوزیہ ارشد نے اسلام آباد میں غیر قانونی ہاؤسنگ سکیموں کا معاملہ اٹھایا اور کہا کہ ان ہاؤسنگ سکیموں کی وجہ سے وہاں پر گھر تعمیر کرنے والے لوگوں کو بہت زیادہ مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے،سی ڈی اے کو اس حوالے سے سخت اقدامات کرنے چاہئیں اور غیر قانونی ہاؤسنگ سکیموں کی قطعاً اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے یہ معاملہ قائمہ کمیٹی کو بھجواتے ہوئے ہدایت کی کہ اس پر غور کیا جائے اور غیر قانونی ہاؤسنگ سکیموں کی روک تھام کے لئے سخت اقدامات کئے جانے چاہئیں،

    دو سال میں دہشت گردی کے 1560 واقعات،فورسز کے 593 اہلکار،263 عام شہری شہید
    مئی 2022 سے اگست 2023 تک ملک میں دہشت گردی کے ہونے والے واقعات کی تفصیلات سینیٹ میں پیش کر دی گئی،ملک میں دو سال میں دہشت گردی کے 1560 واقعات ہوئے، دہشت گردی کے دوران قانون نافذ کرنے والے 593 اور 263 شہری شہید ہوئے،دہشت گردی کے واقعات میں 1365 سیکورٹی فورسز اور 773 دیگر زخمی ہوئے،سال 2022 میں دہشت گردی کے 736 واقعات میں 227 سیکورٹی فورسز اور 97 دیگر شہید ہویئے،سال 2022 میں 520 سیکورٹی فورسز اور 401 دیگر افراد زخمی ہوئے ،یکم اگست 2023 تک ملک میں دہشت گردی کے 824 واقعات میں 366 سیکورٹی فورسز اور 166 دیگر افراد شہید ہویئے،یکم اگست 2023 تک دہشت گردی کے واقعات میں 845 سیکورٹی فورسز اور 372 دیگر افراد زخمی ہوئے،

    بلوچستان میں دہشتگردی کے 263، خیبر پختونخوا میں 457،پنجاب میں پانچ،سندھ میں سات واقعات
    بلوچستان میں دہشتگردی کے 263 واقعات ہوئے،52 سکیورٹی اہلکار شہید ہوئی 43 عام شہری ان واقعات میں شہید ہوئے،108 سکیورٹی اہلکار زحمی ہوئے اور 250 عام شہری زحمی ہوئے،گلگت بلتستان میں 2022 میں 3 دہشتگردی کے واقعات ہوئے لیکن کوئی جانی نقصان نہیں ہوا،اسلام آباد میں 2022 کے دوران ایک دہشتگردی کا واقع ہوا ایک سکیورٹی اہلکار شہید اور 5 سکیورٹی اہلکار زحمی اور ایک عام شہری زحمی ہوا،خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے 457 واقعات ہوئے،172 سکیورٹی اہلکار شہید ہوئے ،50 عام شہری ان واقعات میں شہید ہوئے 409 سکیورٹی اہلکار زحمی ہوئے،104 عام شہری زحمی ہوئے،پنجاب میں سال 2022 میں 5 دہشتگردی کے واقعات ہوئے ایک سکیورٹی اہلکار شہید ایک عام شہری شہید 14 عام شہری زحمی ہوئے،سندھ میں سال 2022 کے دوران 7 دہشتگردی کے واقعات ہوئے جن میں ایک سکیورٹی اہلکار شہید 3عام شہری شہید 3سکیورٹی اہلکار زحمی ہوئے 32 عام شہری زحمی ہوئے،

    داعش بھی پاکستان میں پنجے گاڑ رہی ہے، وزارت داخلہ کا سینیٹ میں جواب
    وزارت داخلہ نے تحریری جواب میں کہا کہ افغانستان سے امریکہ کے انخلا کے بعد افغان عبوری حکومت کی جانب سے بے عملی کے بعد ٹی ٹی پی کو اپنا اثر رسوق اور کاروائی بڑھانے کا موقع ملا،امن مزکرات کے دوران ٹی ٹی پی نے خود کو دوبارہ منظم کیا،ضم اضلاع میں ٹی ٹی پی کی آمد کے بعد وہاں خود کش حملہ آوروں کی بھرتی اور تربیت تشویش ناک ہے،ٹی ٹی پی اور دیگر دہشت گردی تنظیم سرحد پر باڑ کو سبوتاژ کر رہی ہیں ،داعش بھی پاکستان میں پنجے گاڑ رہی ہے،
    isis

    2022 کے دوران سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو پی ٹی اے کی جانب سے انتہاپسند، فرقہ وارانہ ، ریاست مخالف اور دہشت گرد مواد کو بلاک کرنے 16 ہزار 522 شکایات ارسال کی گئیں ،سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو ان کے اکاونٹ کو بلاک کرنے 2021 میں 55 ہزار 200, سال 2022 میں 16 ہزار 522 اور جون 2023 تک 3456 درخواست کیں ،دہشت گرد مواد والی سال 2021 میں 19 ہزار 80، 2022 میں 4323 اور جون 2023 میں 2138 سوشل میڈیا لنکس کو بلاک کیا گیا ،دہشت گردی مواد کی 2021 میں 14 یو ار ایل URLs 2022 میں 3 اور ۲۰۲۳ میں 1 یو ار ایل بلاک کی گئی،

    سال 2022 میں 209 دہشتگرد ہلاک،1781 گرفتار،جون 2023 تک 1083 دہشت گردوں کا چالان ، 114 کو سزا ،133 بری
    سال 2022 میں سی ٹی ڈی نے دہشت گردوں کے خلاف 4892 انٹیلجنس بیس آپریشنز کی جس میں 209 دہشت گرد ہلاک اور 1781 گرفتار ہوئے،ان intelligence based operationsمیں 169 قانون نافذ کرنے والے اہلکار شہید اور 284 زخمی ہوئے،جنوری جون 2023 میں 3364 اپریشنز میں 172 دہشت گرد مارے گئے اور 171 گرفتار ہویئے،سال 2020 میں 1079 دہشت گردوں کا چالان ہوا، 189 کو سزا ہوئی اور 172 بری ہوئے،سال 2021 میں 1528 دہشت گردوں کا چالان ہوا، 150 کو سزا ہوئی، 165 بری ہوئے،سال ۲۰۲۲ میں 2006 دہشت گرد کا چالان ہوا ، 218 کو سزا ہوئی ، 306 بری ہوئے،جون 2023 تک 1083 دہشت گردوں کا چالان ہوا، 114 کو سزا ہوئی اور 133 بری ہوئے،

    2021 سے اکتوبر 2023 کے دوران ریڈ بک میں موجود 44 انسانی سمگلرز گرفتار
    یورپی ممالک سے 2021 سے 2023 تک دوران غیر قانونی داخلے پر 17 ہزار 773 پاکستانیوں کو ڈی پورٹ کیا گیا،ترکی سے سب سے زیادہ 15 ہزار 40 پاکستان کو غیر قانونی داخلے پرڈی پورٹ کیا گیا،آسٹریا سے 45، سائپرس سے 98, فرانس سے 71، جرمنی سے 962 , یونان سے 1377 اور رومانیہ سے 63 پاکستانیوں کو ڈی پورٹ کیا،اس عرصے کے دوران مجموعی طور پر 1 لاکھ 54 ہزار 205 پاکستانیوں کو ڈی پورٹ کیا گیا ،جعلی یا ناکافی دستاویزات پر پرواز سے 44 ہزار 283 افراد کو اف لوڈ کیا گیا،اپریل میں یونان کشتی حادثے میں 281 پاکستانی متاثرین کی اطلاع دی گئی 15 کی نشاندہی بائیو میٹرک سے ہوئی ،یونان کشتی حادثے پر 193 ایف آئی ار رجسٹر ہوئیں ، 240 سمگلرز کی نشاندہی ہوئی ، 89 سمگلر گرفتار ہوئے ، بیرون ملک موجود 35 سمگلرز کی اطلاع آئی،سال 2021 سے 2023 کے دوران تارکین وطن کی اسمگلنگ کے 1042 کیسز رجسٹر ہوئے ، 572 چلان ہوئے ، 494 انسانی اسمگلر رجسٹر ہوئے اور 499 کو سزا ہوئی ،2021 سے اکتوبر 2023 کے دوران ریڈ بک میں موجود 44 انسانی سمگلرز گرفتار ہوئے،انٹر ایجنسی ٹاسک فورس نے اس عرصے میں انسانی سمگلنگ کے 5308 ممکنہ متاثرین کو روکا.

    رپورٹ، محمد اویس،اسلام آباد

    فوج مخالف پروپیگنڈہ کےخلاف سینیٹ میں قرارداد متفقہ طور پر منظور

    تمام امیدواران کو الیکشن کا برابر موقع ملنا چاہئے

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

     این اے 15سے نوازشریف کے کاغذات نامزدگی منظور

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    انتخابات سے متعلق سروے کرنے پر ٹی وی چینلز کیخلاف کارروائی کا حکم

    تحریک انصاف کے وکیل شعیب شاہین چیف جسٹس پاکستان کے سامنے پیش

    ٹکٹوں کی تقسیم،ن لیگ مشکل میں،امیدوار آزاد لڑیں گے الیکشن

    الیکشن کمیشن کا فواد حسن فواد کو عہدے پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

  • امت مسلمہ کی وکالت میں متحدہ عرب امارات کی قیادت،چیئرمین سینیٹ نے سراہا

    امت مسلمہ کی وکالت میں متحدہ عرب امارات کی قیادت،چیئرمین سینیٹ نے سراہا

    چیئرمین سینیٹ، محمد صادق سنجرانی نے وفد کے ہمراہ متحدہ عرب امارات کی فیڈرل نیشنل کونسل کے اسپیکر صقر غوباش سے ابوظہبی میں ملاقات کی۔

    ملاقات کے دوران دوطرفہ تعلقات کے مختلف پہلوؤں اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے متحدہ عرب امارات میں پرتپاک استقبال پر اماراتی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے عوام مشترکہ ثقافتی اور مذہبی اقدار سے جُڑے ہیں۔ متحدہ عرب امارات پاکستانی عوام کے دلوں میں ایک خاص مقام رکھتا ہے۔ چیئرمین سینیٹ نے عالمی سطح پر امت مسلمہ کی وکالت میں متحدہ عرب امارات کی قیادت کے کردار کو سراہا۔

    محمد صادق سنجرانی نے کہا کہ تمام بین الاقوامی فورمز پر متحدہ عرب امارات نے ہمیشہ پاکستان کی حمایت کی ہے۔ چیئرمین سینیٹ نے متحدہ عرب امارات کے 52 ویں قومی دن کے حوالے سے عرب امارات کی حکومت اورعوام کو مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے COP28 کانفرنس کے کامیاب انعقاد پر بھی اماراتی قیادت کو مبارک باد پیش کی۔دونوں معززین نے فلسطین کی موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ غزہ میں فوری جنگ بندی کی جائے۔ تمام مسلم اُمہ اپنے فلسطینی بھائیوں کے ساتھ کھڑی ہیں۔ ملاقات میں کشمیر میں بھارتی جارحیت کے خاتمے اور کشمیری عوام کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حق استصواب رائے دینے کے عزم کا بھی اعادہ کیا گیا۔ چیئرمین سینیٹ نے پاکستان کے مختلف شہروں کے رہائشیوں پر عائد متحدہ عرب امارات کے ویزوں کی پابندی کے خاتمے پر بھی زور دیا، جس پر سپیکر غوباش نے اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کا یقین دلایا۔

    سپیکر، صقر غوباش نے متحدہ عرب امارات کی ترقی میں محنتی پاکستانی کمیونٹی کے کردار کی تعریف کی اور کہا کہ پاکستانی محنتی اور امن پسند لوگ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر طرح کے مشکل حالات میں پاکستان کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔ سپیکر صقر غوباش نے پاکستانی وفد کے اعزاز میں ظہرانے کا اہتمام کیا۔ پاکستانی وفد کے ارکان میں سینیٹر پرنس احمد عمر احمد زئی، سینیٹر ذیشان خانزادہ، سینیٹر فیصل سلیم رحمان، سینیٹر عبدالقادر، سینیٹر دلاور خان، دبئی میں پاکستانی کونسل جنرل حسین محمد، سابق سینیٹر سجاد طوری، مشیر چیئرمین سینیٹ، سید عابد حسن شامل تھے

  • چیئرمین سینیٹ سینیٹر کا استعفیٰ لینے بیرون ملک سینیٹر کے گھر پہنچ گئے

    چیئرمین سینیٹ سینیٹر کا استعفیٰ لینے بیرون ملک سینیٹر کے گھر پہنچ گئے

    اسلام آباد(محمداویس)پاکستان میں سینیٹ کی تاریخ میں انوکھی تاریخ رقم ہوگئی،چیئرمین سینیٹ سینیٹر کا استعفیٰ لینے بیرون ملک سینیٹر کے گھر گئے ان سے ملاقات کی ان سے استعفیٰ لیا اور منظور بھی بیرون ملک ہی کرلیا۔

    پاکستان تحریک انصاف کو چھوڑنے والے سینیٹر شوکت ترین نے سینیٹ کی نشست سے استعفیٰ دے دیا۔اورچیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نےسابق وزیرِ خزانہ شوکت ترین کاسینیٹ کی رکنیت سےاستعفیٰ منظور بھی کر لیا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان کی سینیٹ کو تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے کہ چیئرمین سینیٹ استعفیٰ لینے بیرون ملک گئے ۔چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی عراق سے دبئی گئے جہاں پر تحریک انصاف کے سینیٹت شوکت ترین نے ان سے ملاقات کی۔شوکت ترین نے ملاقات میں چیئرمین سینیٹ کو اپنا استعفیٰ پیش کیا۔جو وہاں پر ہی فورا منظور بھی کرلیا گیا ۔

    رپورٹ، محمد اویس

    واضح رہے کہ قبل ازیں شوکت ترین نے پاکستان تحریک انصاف کو بھی چھوڑنے کا اعلان کیا تھا شوکت ترین 2021 میں پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر خیبرپختونخوا سے سینیٹ کی نشست پر منتخب ہوئے، وہ 17 اکتوبر 2021 سے 11 اپریل 2022 تک عمران خان کی کابینہ میں وزیر خزانہ رہے۔

    ملک بھر میں 15 دسمبر سے سرد ہوائیں پاکستان کا رخ کریں گی

    دوسری جانب ن لیگ کے سابق ضلع نائب ناظم ملک صدیق پارٹی رکنیت سے مستعفی ہوگئے، انہوں نے الزام عائد کیا ہے کہ امیر مقام نے چار مرتبہ من پسند افراد کو ٹکٹیں دیں، جو ناکام ہوئے، ہم 1970 سے خاندانی مسلم لیگ میں ہیں، آج تک ہم نے کوئی الیکشن نہیں ہاراسوات میں مسلم لیگ پارٹی کو ایک خاندان تک محدود کردیا گیا ہے، کس پارٹی میں شمولیت اختیار کروں گا فیصلہ نہیں کیا۔

    کراچی ایکسپریس ٹرین کی پاور وین میں آگ لگ گئی

  • ایک سینیٹر کی تنخواہ ایک لاکھ 40 ہزار،گورنر سٹیٹ بینک کی تنخواہ 40 لاکھ،سینیٹر پھٹ پڑے

    ایک سینیٹر کی تنخواہ ایک لاکھ 40 ہزار،گورنر سٹیٹ بینک کی تنخواہ 40 لاکھ،سینیٹر پھٹ پڑے

    چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیر صدارت سینیٹ اجلاس ہوا
    چیئرمین سینیٹ نے استفسار کیا کہ وزیر خزانہ کہاں ہیں،ایوان سے ممبر نے کہا کہ وزیر خزانہ ائی ایم ایف کے ساتھ ہیں، جس پر چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ اوہ چلیں پھر چپ رہتا ہوں ، نگران وزیراطلاعات مرتضیٰ سولنگی نے کہا کہ وزیرخزابہ سینیٹ میں ہیں اور وزارت خزانہ کے افسران سے بریفنگ لے رہی ہیں، چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ وزیرخزانہ سینیٹ میں ہیں تو ایوان میں آئی کیوں نہیں ؟ انہیں بلائیں، اس کے بعد وزیر خزانہ شمشاد اختر ایوان میں آ گئیں،

    نگراں وفاقی وزیر پارلیمانی امور مرتضیٰ سولنگی نے سینیٹ میں سینیٹر مشتاق کے سوال پر جواب میں کہا کہ پی سی آر ڈبلیو آر نے اپنی سہ ماہی رپورٹ اپریل سے جون 2022ءمیں پانی کے 20 برانڈز کو مضر صحت قرار دیا تھا، ان میں سے دو برانڈز ایسے ہیں جو پی ایس کیو سی اے کے تحت رجسٹرڈ تھے، بہت سے گروہ اس طرح کی مضر صحت اشیاءتیار کرتے ہیں، ان کے خلاف ایکشن لیا گیا،پی ایس کیو سی اے کےقانون کے مطابق غیر لائسنس یافتہ افراد کو50ہزار روپے جرمانہ ، ایک سال کی سزا عدلیہ کے ذریعے دی جاتی ہے،جب تک ان برانڈز کی پراڈکٹس معیار پر پورا نہیں اتریں، تب تک انہیں کھولا نہیں گیا، بقیہ18برانڈ رجسٹرڈ نہیں تھے، بہت سے ایسے گروہ اس طرح کی مضر صحت اشیاءتیار کرتے ہیں، ان کے خلاف ایکشن لیا گیا،سینیٹر صاحب کے پاس اس ادارے کے بارے میں کرپشن کے حوالے سے شواہد ہیں تو ضرور آگاہ کریں، متعلقہ اداروں سے تحقیقات کروائیں گے، قائداعظم محمد علی جناح کی 11 اگست 1947ءکی پہلی تقریر سے لے کر اب تک ہماری تقاریر میں کرپشن کا معاملہ ضرور شامل رہا ہے، ایک سرکاری ادارے کو کرپشن کا گڑھ کہنا قابل افسوس ہے،

    سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ سپریم کورٹ کے ایک ڈرائیور کی تنخواہ ہمارے ایک سینیٹر کی تنخواہ سے بھی ڈبل ہے، جس پر چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ یہ معاملہ لاء منسٹری کو بھیجتے ہیں جو ایوان میں رپورٹ جمع کروائے گی،

    گورنر اسٹیٹ بینک ایسا کونسا کام کرتے ہیں کہ ان کی تنخواہ 40 لاکھ روپے ہے،پلوشہ خان
    اجلاس میں سینیٹرز نے اسٹیٹ بینک ملازمین کی زیادہ تنخواہوں پر تعجب کا اظہار کیا، اراکین نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کے گریڈ 8کے ملازم کی تنخواہ تقریبا40 لاکھ روپے ہیں، ہماری تنخواہ ایک لاکھ60 ہزار اور گریڈ8 کے ملازم کی 40 لاکھ روپے کیوں ؟ سینیٹر دنیش کمار نے کہا کہ سنا ہے گورنر اسٹیٹ بینک کی تنخواہ 40 لاکھ رو پے ہے، نگران وزیر خزانہ شمشاد اختر نے کہا کہ اسٹیٹ بینک ایک کارپوریٹ باڈی ہے،یہ تمام معاملات اسٹیٹ بینک بورڈ آف گورنرز کی باڈی کرتی ہے، سینیٹر پلوشہ نے کہا کہ ایک سینیٹر کی تنخواہ ایک لاکھ 40 ہزارروپے ہے، گورنر اسٹیٹ بینک ایسا کونسا کام کرتے ہیں کہ ان کی تنخواہ 40 لاکھ روپے ہے، ہم آئی ایم ایف سے بھیک مانگتے اور دوسری جانب اسٹیٹ بینک کے لوگوں کی اتنی تنخواہ ،نگران وزیر خزانہ شمشاد اختر نے کہا کہ اسٹیٹ بینک نے پالیسی دی تھی کہ پنشن ختم ہونے کی صورت میں تنخواہ بڑھا دی،اسٹیٹ بینک کی پنشن بوجھ بڑھ رہا تھا تو یہ پالیسی لائی گئی،دنیا بھر میں سینٹرل بینک کا سیلری اسٹرکچر سب سے مختلف ہوتا ہے،

    وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ غزہ کے معاملے پر او آئی سی اجلاس میں اسلامی ممالک نے اسرائیل پر جو پریشر ڈالا اسکا اثر ضرور ہوا ہے،او آئی سے نے کوشش کی کہ جنگ بندی ہو اور مسئلے کا مستقل حل تلاش کیا جائے، اسوقت اسرائیل کا جو نیریٹو ہے،اسکی دنیا میں قبولیت بہت کم ہے، دنیا میں فلسطین کے حق میں جلوس نکل رہے ہیں، اسرائیل سمجھتا تھا کہ یہ مسئلہ دب جائے گا لیکن ایسا نہیں ہوا، ایک ماہ میں فلسطین کا مسئلہ دنیا بھر میں اجاگر ہوا ہے،پاکستان ان چند ممالک میں شامل ہے جنہوں نے فلسطین کے لئے ایکٹو رول پلے کیا ،

    پاکستان اسرائیل کو دہشتگرد کیوں نہیں کہہ رہا؟ سینیٹر مشتاق احمد
    جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ ایک ریاست اور دو ریاست کی گردان کو ابوعبیدہ نے دفن کردیا ،پاکستان کو دو ریاستی حل کے بجائے آزادفلسطینی ریاست کی بات کرنی چاہیے،میں وزیر خارجہ سے چند مطالبات کرتاہوں کہ پاکستان ایکٹو ڈپلومیسی کیوں نہیں کر رہا، پاکستان مضبوط موقف کیوں نہیں دے رہا، پاکستان دہشت گرد کو دہشت گرد کیوں نہیں کہہ رہا، پاکستان عالمی عدالت میں کیوں نہیں جا رہا، پاکستان کی ڈپلومیسی سمجھ نہیں آ رہی، اب پاکستان سیز فائر کو بڑھوائے، او آئی سی کے پیغام سے طاقتور پیغام ہونا چاہئے کہ سیز فائر بڑھنی چاہئے،پاکستان اعلان کرتا کہ ہم تمام زخمیوں‌کو ایئر لفٹ کرنا چاہتے ہیں، کسی نے اجازت نہیں دینی تھی تا ہم ہمدردی کا اظہار ہو جاتا، لیکن پاکستان خاموش ہیں، آپ ایسا اعلان کرتے تو دنیا سے لوگ پیسہ دیتے،

    سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ اسلام آباد میں سرکاری دفاتر اور رہائش گاہوں کو سالانہ دس ارب روپے مالیت کی مفت بجلی فراہم ہوتی ہے، جس پر سینیٹ اجلاس میں نگران وزیر خزانہ شمشاد اختر نے کہا کہہم تمام وزارتوں کے سیکرٹریوں کو مراسلہ ارسال کرتے ہیں کہ اس خرچ کو کنٹرول کیا جائے.

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    نواز شریف کو سزا سنانے والے جج محمد بشیر کی عدالت میں عمران خان کی پیشی 

     لیگل ٹیم پولیس لائن گئی تو انہیں عدالت جانے سے روک دیا گیا

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

    جی ایچ کیو حملے میں پی ٹی آئی خواتین رہنماوں کا کردار,تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے آئی ہے،

    جناح ہاؤس میں سب سے پہلے داخل ہونے والا دہشتگرد عمران محبوب اسلام آباد سے گرفتار 

    حکومت کی شاہ خرچیاں بڑھ رہی ہیں،رضا ربانی
    پیپلز پارٹی کے رہنما سینیٹر رضا ربانی نے ایوان میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ اشرافیہ کی تنخواہ اور مراعاتیں بے حساب بڑھائی جا رہی ہیں، سرمایہ دار 32 ہزار روپے مزدور کو دینے کو تیار نہیں، پارلیمنٹیرین کی تنخواہ ایک لاکھ 60 ہزار روپے ہے، وزارت خزانہ نے اسکیل ایم پی ون، ٹو اور تھری کی تنخواہ بڑھائی ہے، ایم پی ون کی تنخواہ 8 سے 10 لاکھ روپے ماہانہ اور مراعات کے ساتھ 11 لاکھ ہو گئی ہے،ہ اسکیل ایم پی ٹو کی تنخواہ اب 3 لاکھ 70 ہزار سے 6 لاکھ روپے ہو گی، اسکیل ایم پی تھری کی ماہانہ تنخواہ 24 لاکھ سے 33 لاکھ روپے ہوگی، کہا جاتا ہے پارلیمنٹ پیسہ کھا گئی ہے، پیسہ پارلیمنٹ نے کھایا ہے کہ سول بیوروکریسی کھا رہی ہے،164 ریٹائرڈ فوجی اور سول افسران جو باہر پینشن لے رہے ہیں ڈالرز میں، اس کا کیا جواز ہے پھر کہا جاتا ہے اٹھاوریں ترمیم، این ایف سی، صوبے سارے پیسے کھا گئے، ایک طرف آئی ایم ایف کے کہنے پر بجلی گیس کی قیمت بڑھائی جا رہی ہے، دوسری طرف حکومت کی شاہ خرچیاں بڑھ رہی ہیں.

  • چیئرمین سینیٹ سے برطانیہ میں تعینات پاکستانی ہائی کمشنر کی ملاقات

    چیئرمین سینیٹ سے برطانیہ میں تعینات پاکستانی ہائی کمشنر کی ملاقات

    چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی سے برطانیہ میں تعینات پاکستانی ہائی کمشنر ڈاکٹر محمد فیصل کی پارلیمنٹ ہاؤس میں ملاقات ہوئی ہے،

    چئیرمین سینیٹ نے ڈاکٹر فیصل کو نئی ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارکباد دی ،انہوں نے ڈاکٹر فیصل کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا ،چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی کا کہنا تھا کہ امید ہے بطور پاکستانی ہائی کمشنر پاکستان اور برطانیہ کے دو طرفہ تعلقات مزید بہتر ہوں گے، چئیرمین سینیٹ نے ڈاکٹر فیصل کو ماحولیات، تجارت، آئی ٹی، تعلیم کے شعبوں میں برطانیہ کے ساتھ تعاون کو مزید فروغ دینے کے حوالے سے ہدایات دیں

    چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی کا کہنا تھا کہ برطانیہ کے تاجروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کیلئے اقدامات اٹھانے چاہئے، سرمایہ کاروں کا اعتماد معیشت کے استحکام میں مدد گار ثابت ہوگا، کاروباری و معاشی روابط عوام کو مزید قریب لانے میں مدد گار ثابت ہونگے، برطانیہ میں مقیم پاکستانی دونوں ملکوں کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کر رہے ہیں، برطانیہ میں مقیم پاکستانیوں کو درپیش مسائل کے حل کیلئے فوری اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے، امید ہے آپ اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے نبھائیں گے،

     کسی سویلین کا ٹرائل ملٹری کورٹ میں نہیں ہونا چاہیے

    کرپشن کا ماسٹر مائنڈ ہی فیض حمید ہے

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

  • الیکشن وقت پر، قوم مطمئن رہے اور تیاری کرے، چیئرمین سینیٹ

    الیکشن وقت پر، قوم مطمئن رہے اور تیاری کرے، چیئرمین سینیٹ

    چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی مزار قائد پہنچ گئے

    چیئرمین صادق سنجرانی کو مزار قائد پر چاک و چوبند دستوں نے سلامی دی ،چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے مزار قائد پر حاضری دی،چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے مزار قائد پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور فاتحہ خوانی کی ،چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے مہمانوں کی کتاب میں اپنے تاثرات قلمبند کئے

    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کا کہنا تھا کہ چیئرمین سینیٹ ہوں، مجھے پورے ملک کی بات کرنی ہے،جہاں ضرورت پڑتی ہے اپنا کردار ادا کرتا ہوں،پاکستان میں اس وقت نگران حکومتیں آچکی ہے، پاکستان کا جمہوری تسلسل آگے بڑھتا رہیگا۔ہ م نے 77 سال میں بہت ترقی ہے۔مشکل وقت ضرور آتا ہے، بلوچستان کے حقوق کی آواز سینیٹر بلند کررہے ہیں،احساس محرومی اسی طرح سے دور کرینگے، بلوچستان کے سارے مسائل 60 یا 90 روز میں ختم نہیں ہوسکتے،بلوچستان بڑا صوبہ، رقبے کے لحاظ سے 48 فیصد ہے،بلوچستان کی ترقی کیلئے وسائل کی ضرورت ہے ،بلوچستان کا احساس محرومی دور کرنا حکومت کا کام ہے، پاکستان دنیا کے بہت ممالک سے بہتر ہے، الیکشن ضرور ہونگے اور وقت پر ہونگے، انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کا کام ہے،الیکشن وقت پر ہونگے، قوم مطمئن رہے اور تیاری کرے،

    چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کا کہنا تھا کہ سینیٹ آف پاکستان ہاوس آف فیڈریشن ہے، نگران حکومت خوش اسلوبی کے ساتھ پورے ملک میں قیام لا چکے ہیں، نگران حکومتوں کے ساتھ مل کر کام کریں گے ، چاروں صوبوں کا دفاع کریں ، پاکستان کا جمہوری تسلسل آگے بڑھ رہا ہے، 9 ستمبر کو صدر کی مدت ختم ہورہی ہے، ہمیں ہمیشہ بہتری کا سوچنا چاہیے، راجہ ریاض کا نہیں پتہ کہ کس کو بڑا کہا ہے، سب نے مل کر مردم شماری کی منظوری ہے۔الیکشن کروانا الیکشن کمیشن کا کام ہے، بلوچستان عوامی پارٹی بلوچستان میں سب سے بڑی پارٹی ہے،دعا کرے کہ بلوچستان عوامی پارٹی اسی طرح سے ترقی کرتی رہے

     کسی سویلین کا ٹرائل ملٹری کورٹ میں نہیں ہونا چاہیے

    کرپشن کا ماسٹر مائنڈ ہی فیض حمید ہے

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

  • پرتشدد انتہا پسندی کی روک تھام کا بل ارکان کی مخالفت کے بعد ڈراپ

    پرتشدد انتہا پسندی کی روک تھام کا بل ارکان کی مخالفت کے بعد ڈراپ

    اسلام آباد: چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے پرتشدد انتہا پسندی کی روک تھام کا بل ارکان کی مخالفت کے بعد ڈراپ کر دیا۔

    باغی ٹی وی : وزیر مملکت برائے قانون شہادت اعوان نے پرتشدد انتہاپسندی کی روک تھام کا بل 2023 سینیٹ میں پیش کیا۔ بل پیش ہوتے ہی اپوزیشن ارکان اپنی نشستوں پر کھڑے ہوگئےپی ٹی آئی سینیٹر ہمایوں مہمند نے کہا کہ لگتا ہے یہ بل تحریک انصاف کو الیکشن سے روکنے کا بل ہے اس بل کی تمام شقوں سے تحریک انصاف کے خلاف بو آ رہی ہے حکومتی اتحادی جماعتوں جے یو آئی ف اور نیشنل پارٹی نے بھی بل کی مخالفت کر دی-

    مسلم لیگ ن کے سینیٹرعرفان صدیقی نے کہا کہ پرتشدد انتہاپسندی کی روک تھام بل 2023 اہمیت کا حامل ہے، اس بل کو پاس کرنے سے پہلے کمیٹی میں پیش کرنا چاہیے تھا،کل کو کوئی بھی اس بل کا شکار ہوسکتا ہے،ابھی جلد بازی میں بل پاس ہورہا ہے،کل کہا جائے گا بل پاس ہورہا تھا تو آپ کہاں تھے،سینیٹر عرفان صدیقی نے بھی بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ بل کل ہمارے گلے پڑے گا-

    زمین کا وہ مقام جہاں نظام شمسی کے گرم ترین سیارے جتنی سورج کی روشنی …

    سینیٹرکامران مرتضیٰ نے کہا کہ یہ بل کل ہم سب کیلئے مصیبت بنے گا، اعتماد میں لیے بنا قانون سازی نہیں کرنی چاہیے جے یو آئی ف کے مولانا عبدالغفورحیدری نے بھی بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ کسی کیخلاف نعرہ بھی لگایا گیا تو کہا جائے گا عوام کو اکسایا گیا ہے،سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ یہ بل پی ٹی آئی نہیں تمام سیاسی جماعتوں کے خلاف ہے، یہ بل جمہوریت کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگا،اس بل کی مخالفت کرتا ہوں۔

    سینیٹر طاہر بزنجو نے کہا کہ یہ بل جمہوریت کیخلاف ہے، یہ بل کل تمام جماعتوں کے گلے کا پھندہ بن جائے گا،یہ بل جمہوریت پر کھلا حملہ ہے، ہم اس بل کی سختی سے مخالفت کرتے ہیں، اگر بل منظور کیا گیا تو ایوان سے ٹوکن واک آؤٹ کروں گا، پیپلزپارٹی پی ڈی ایم کا حصہ نہیں، ن لیگ سے سخت گلہ ہے، کسی جماعت کو بھی اعتماد میں نہیں لیا گیا،وفاقی وزیرشیری رحمان نے کہا کہ بل عجلت میں پاس کرنے میں کوئی ممانعت نہیں، ہم اس بل میں اپنی ترامیم لائیں گے۔

    گلوکارہ ٹیلر سوئفٹ کے کانسرٹ کی وجہ سے2.3 شدت کا زلزلہ

    چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی نے کہا کہ یہ بل منظور کرنے کے لیے اجلاس نہیں بلایا ، حکومت کرے یا نہ کرے ، میں اس بل کو ڈراپ کررہا ہوں-

  • بلوچستان میں سیاسی جماعتوں کی صف بندی شروع ،صادق سنجرانی وزیر اعلیٰ کیلئے موزوں شخصیت  قرار

    بلوچستان میں سیاسی جماعتوں کی صف بندی شروع ،صادق سنجرانی وزیر اعلیٰ کیلئے موزوں شخصیت قرار

    کوئٹہ(تجزیہ: منصور مگسی ) ،بلوچستان میں سیاسی جماعتوں کی صف بندی شروع ،صادق سنجرانی وزیر اعلیٰ کیلئے موزوں شخصیت قرارباپ پارٹی دو واضح دھڑوں میں تقسیم ہو چکی ہے-

    جنرل الیکشن 2023 کی مناسبت سے بلوچستان میں سیاسی جماعتوں کی صف بندی شروع کر دی گئی ہے جس کیلئے مختلف پہلوؤں پر غور کرتے ہوئے حکمت عملی طے کی جا رہی ہے باخبر ذرائع کے مطابق بلوچستان میں حسب روایت مخلوط حکومت بنے گی جس کی قیادت بلوچستان عوامی پارٹی (باپ) کو سونپی جائے گی باپ پارٹی دو واضح دھڑوں میں تقسیم ہو چکی ہے جام کمال گروپ اور قدوس بزنجو گروپ ایک دوسرے سے اپنی راہیں الگ کر چکے ہیں-

    میرون لیزلی مڈلکوٹ پاک فضائیہ کا جنگجو پائلٹ ،جو وطن پہ قربان ہوا اور سمندر …

    ذرائع کے مطابق جام گروپ میں شامل سردار سرفراز خان ڈومکی ، نوابزادہ طارق خان مگسی ، خالد خان مگسی اور سردار صالح محمد بھوتانی و دیگر ہم خیال ساتھیوں کی مسلم لیگ ن میں شمولیت کا قوی امکان ہے جبکہ وزیر اعلیٰ میر عبدالقدوس بزنجو ، اسپیکر صوبائی اسمبلی میر جان محمد جمالی، صوبائی وزیر حاجی محمد خان لہڑی سابق صوبائی وزیر میر عبدالغفور لہڑی، میر سرفراز بگٹی اور چیئرمین سینیٹ میر صادق سنجرانی اور ان کے دیگر ہم خیال ساتھی بلوچستان عوامی پارٹی میں ہی رہیں گے جبکہ صوبائی وزیر روینیو میر سکندر خان عمرانی ” قدوس بزنجو گروپ” میں ہوتے ہوئے بھی پارٹی میں خود کو اجنبی اور تنہا محسوس کر رہے ہیں اس لیے شاید وہ آزاد حیثیت سے الیکشن لڑنے کو ترجیح دیں گے-

    محافظ ہو جہاں محمود عالم سا کوئی بیٹا ، وہ دھرتی سر اٹھاتی ہے وہ …

    ذرائع کایہ بھی کہنا ہے کہ نصیر آباد میں میر سکندر خان عمرانی کی جگہ میر شوکت خان بنگلزئی کو بلوچستان عوامی پارٹی میں شمولیت کیلئے آمادہ کر کے صوبائی اسمبلی کی نشست کیلئے ان کو پارٹی ٹکٹ دینے کیلئے کوشش کی جائے گی اس ساری صورتحال میں مختلف حلقوں کی جانب سے میر صادق سنجرانی کو بلوچستان کے وزیر اعلیٰ کیلئے موزوں اور قابل قبول شخصیت قرار دے کر ہوم ورک شروع کر دیا گیا ہے-

    شاہ محمود قریشی اور اسد عمر کی عبوری ضمانت میں توسیع