Baaghi TV

Tag: صحافت

  • عمران خان کو”پریس فریڈم پریڈیٹر”کا شرمناک خطاب دیا گیا،وزیراعظم شہباز شریف،بلاول کا بھی خصوصی پیغام

    عمران خان کو”پریس فریڈم پریڈیٹر”کا شرمناک خطاب دیا گیا،وزیراعظم شہباز شریف،بلاول کا بھی خصوصی پیغام

    عمران خان کو”پریس فریڈم پریڈیٹر”کا شرمناک خطاب دیا گیا،وزیراعظم شہباز شریف،بلاول کا بھی خصوصی پیغام

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ عمران خان کے دورحکومت میں فریڈم انڈیکس 18 پوائنٹس گرا،

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ عمران خان کو "پریس فریڈم پریڈیٹر” کا شرمناک خطاب دیا گیا،پاکستان عمران حکومت کے آخری سال میں پریس فریڈم انڈیکس میں12پوائنٹس نیچے گیا عمران خان نے ہماری جمہوریت کو بھی بری طرح سے روشناس کرایا،ہم آزادی اظہار رائے کے لیے پوری طرح پرعزم ہیں،

    دوسری جانب پی پی پی چیئرمین و پاکستان کے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے آزادی صحافت کے عالمی دن پر پیغام جاری کیا ہے. بلاول بھٹو زرداری نے آزادی صحافت کے عالمی دن پر پاکستان سمیت دنیا بھر کے صحافیوں کو مبارکباد دی ہے اور کہا ہے کہ پاکستان کا آئین آزادی صحافت اور شہریوں کی درست اطلاع تک رسائی کے حق کی ضمانت دیتا ہے پیپلز پارٹی نے آزادی تحریر و تقریر پر کبھی بھول کر بھی سمجھوتہ نہیں کیا، نہ آٸندہ کبھی کرے گی کیا پی پی پی اور پاکستان کی صحافی برادری نے آزادی اظہار و صحافت کے تحفظ کے لیٸے مل کر جدوجہد کی ہے، جو پانچ دہاٸیوں پر محیط ہے دنیا بھر میں میڈیا سے منسلک کارکنان کو مشکل حالات کا سامنا ہے

    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ ایک طرف انٹرنیٹ تک رساٸی اور مواد کو سنسر کرنے کے رجحانات میں اضافہ ہو رہا ہے دوسری جانب فیک نیوز اور انسانیت کے درمیان نفرت بونے والی پروپیگنڈہ میں بھی اضافہ ہو رہا ہے دنیا بھر میں میڈیا سے وابستہ کارکنان کے تحفظ کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے درست اطلاع تک رساٸی مضبوط جمہوری معاشرے کی بنیاد ہے

    وزیراعظم کے مشیر قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ آج کا دن ہمیں مناسب موقع فراہم کرتا ہے کہ آزادی اظہار جس کی ضمانت آئین میں دی گئی ہے اس کا تحفظ کریں٬ اطلاعات تک رسائی کا حق استعمال کرنے کیلئے آزادی اظہار کی ضرورت ہوتی ہے یہ ضروری ہے کہ صحافی کو اسکی جان پر کسی قسم کا دباؤ اور خطرات لاحق نہ ہوں عالمی یوم صحافت کے موقع پر ہم صحافی برادری کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں٬ گزشتہ حکومت نے آزادی اظہار رائے کو دبانے کی ناکام کوششیں کیں لیکن پاکستان کی عوام نے صحافی برادری کیساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اس غیر قانونی غیر جمہوری اقدام کو روکنے پر حکومت وقت کو مجبور کیا صحافت ایک مقدس پیشہ ہے ہمارے صحافیوں کو بھی ہمیشہ سچ عوام کے سامنے لانا ہوگا

    پیپلز پارٹی کی رہنما، وفاقی وزیر شیری رحمان کا کہنا ہے کہ رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز نے ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس کی رپورٹ جاری کی ہے، 2017 میں ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس کی درجہ بندی میں پاکستان 139 ویں نمبر پر تھا،گزشتہ سال اس انڈیکس میں پاکستان 145 ویں نمبر پر تھا، تازہ انڈیکس میں پاکستان 12 درجے مزید گر کر 157ویں نمبر پر آ گیا ہے،ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس میں 18 درجے تنزلی کی ذمہ دار بھی ماضی کی حکومتیں ہیں عمران خان نے سنسرشپ اور پابندیوں کے نئے ریکارڈ قائم کئے،آزادی اظہار کو کچلنے والے عمران خان اب میڈیا پر پیسے لینے کا الزام لگا رہے ہیں پی ٹی آئی حکومت نے میڈیا ہاوسز اور صحافیوں پر پابندیوں اور سختیوں کا بدترین مظاہرہ کیا، 2017میں ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس کی درجہ بندی میں پاکستان 139 ویں نمبر پر تھا، ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس پی ٹی آئی کی میڈیا دشمن ہونے کا مصدقہ ثبوت ہے،عمران خان اور تحریک انصاف کو میڈیا پر قدغنیں لگانے پر معافی مانگنی چاہیے،

    قبل ازیں امریکا کے وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کا کہنا ہے کہ ہم نے پاکستانی حکومت کیساتھ آزادی صحافت کا معاملہ اٹھایا ہے آزادی صحافت کا معاملہ پاکستان کےتشخص کو متاثر کررہا ہے پاکستانی میڈیا، سول سوسائٹی پر پابندیوں کے حوالے سے آگاہ ہیں اور آزادی صحافت کے مسئلے کا ذکر انسانی حقوق سالانہ رپورٹ میں بھی ہے آزاد اور متحرک میڈیا، باخبر قوم کے مستقبل کیلئے کلیدی حیثیت رکھتا ہے لیکن پاکستان میں پابندیوں کا یہ طرز عمل آزادی اظہار کو مجروح کرتے نظر آتا ہے اور اس طرح کے اقدامات پرامن احتجاج کو نقصان پہنچاتے ہیں آزادی صحافت کا معاملہ پاکستان کےتشخص کو متاثر کررہا ہے اور میڈیا پر پابندیاں پاکستان کی ترقی کی صلاحیت کو بھی متاثر کررہی ہیں، پاکستان کیساتھ مذاکرات میں آزادی صحافت پر بات ہوتی ہے

     پاکستان کی اہم خاتون کو جسم فروشی کی پیشکش کی گئی ہے جس پر خاتون نے کھری کھری سنا دیں

    سفاک دیور نے بھابھی کو ہی جسم فروشی کے دھندے میں لگا دیا

    لاک ڈاؤن ختم کیا جائے، شوہر کے دن رات ہمبستری سے تنگ خاتون کا مطالبہ

    لاک ڈاؤن، فاقوں سے تنگ بھارتی شہریوں نے ترنگے کو پاؤں تلے روند ڈالا

    بیرون ملک سے لڑکی کی جسم فروشی کے لئے پاکستان سمگلنگ،عدالت نے کس کو کیا طلب؟

    شوبز سے وابستہ لڑکیوں سے کروائی جا رہی جسم فروشی، 60 ہزار میں ہوتا ہے "سودا”

    فحاشی کے اڈے پر چھاپہ، پولیس کو ملیں صرف خواتین ،پولیس نے کیا کام سرانجام دیا؟

    جادو سیکھنے کے چکر میں بھائی کے بعد ملزم نے کس کو قتل کروا دیا؟

    پولیس کا ریسٹورنٹ پر چھاپہ، 30 سے زائد نوجوان لڑکے لڑکیاں گرفتار

    واٹس ایپ پر محبوبہ کی ناراضگی،نوجوان نے کیا قدم اٹھا لیا؟

    غیرت کے نام پر سنگدل باپ نے 15 سالہ بیٹی کو قتل کر دیا

    بیوی طلاق لینے عدالت پہنچ گئی، کہا شادی کو تین سال ہو گئے، شوہر نہیں کرتا یہ "کام”

    50 ہزار میں بچہ فروخت کرنے والی ماں گرفتار

    ایم بی اے کی طالبہ کو ہراساں کرنا ساتھی طالب علم کو مہنگا پڑ گیا

    صحافت کے نام پر جسم فروشی کا اڈہ ،30 سے زائد مردوخواتین گرفتار

  • صحافت کے نام پر جسم فروشی کا اڈہ ،30 سے زائد مردوخواتین گرفتار

    صحافت کے نام پر جسم فروشی کا اڈہ ،30 سے زائد مردوخواتین گرفتار

    صحافت کے نام پر جسم فروشی کا اڈہ ،30 سے زائد مردوخواتین گرفتار

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں پولیس نے کاروائی کی ہے اور صحافت کے نام پر جسم فروشی کا دھندہ کرنیوالے ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے

    لاہور پولیس نے نواب ٹاؤن میں کاروائی کی ہے، جس جگہ کاروائی کی گئی تھی وہاں پی یو جے آفشیل کے بینر لگے ہوئے تھے جبکہ اس مقام کو میڈیا کا دفتر کہا جا رہا تھا، پولیس نے نواب ٹاؤن میں یوٹیوب چینل اور صحافت کی آڑ میں جسم فروشی کرنے والا گروہ گرفتار کرلیا گیا، پولیس نے قحبہ خانے پر چھاپہ مار کر 30 سے زائد مرد و خواتین کوگرفتار کیا ہے

    نواب ٹاؤن تھانہ پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان یوٹیوب چینل کی آڑ میں جسم فروشی کا دھندہ کر رہے تھے، ملزمان نے قحبہ خانے کی عمارت کے باہر یوٹیوب چینل کی فلیکسز لگا رکھی تھیں، ملزمان نے مکروہ دھندے کو جاری رکھنے کیلئے یوٹیوب چینل بنا رکھا ہے قحبہ خانہ سلیم مسیح عرف وسیم بھٹی کی جانب سے چلایا جا رہا تھا

    ایس پی صدر جاوید بھٹی کا کہنا ہے کہ ملزم وسیم بھٹی، راشد عرف ڈڈو سمیت دیگر ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے ملزم وسیم بھٹی جسم فروشی سمیت دیگر 12 مقدمات میں ریکارڈ یافتہ ہے صحافت کی آڑ میں جرائم کرنے والوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی قانون کی بالادستی، عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا

     پاکستان کی اہم خاتون کو جسم فروشی کی پیشکش کی گئی ہے جس پر خاتون نے کھری کھری سنا دیں

    سفاک دیور نے بھابھی کو ہی جسم فروشی کے دھندے میں لگا دیا

    لاک ڈاؤن ختم کیا جائے، شوہر کے دن رات ہمبستری سے تنگ خاتون کا مطالبہ

    لاک ڈاؤن، فاقوں سے تنگ بھارتی شہریوں نے ترنگے کو پاؤں تلے روند ڈالا

    بیرون ملک سے لڑکی کی جسم فروشی کے لئے پاکستان سمگلنگ،عدالت نے کس کو کیا طلب؟

    شوبز سے وابستہ لڑکیوں سے کروائی جا رہی جسم فروشی، 60 ہزار میں ہوتا ہے "سودا”

    فحاشی کے اڈے پر چھاپہ، پولیس کو ملیں صرف خواتین ،پولیس نے کیا کام سرانجام دیا؟

    جادو سیکھنے کے چکر میں بھائی کے بعد ملزم نے کس کو قتل کروا دیا؟

    پولیس کا ریسٹورنٹ پر چھاپہ، 30 سے زائد نوجوان لڑکے لڑکیاں گرفتار

    واٹس ایپ پر محبوبہ کی ناراضگی،نوجوان نے کیا قدم اٹھا لیا؟

    غیرت کے نام پر سنگدل باپ نے 15 سالہ بیٹی کو قتل کر دیا

    بیوی طلاق لینے عدالت پہنچ گئی، کہا شادی کو تین سال ہو گئے، شوہر نہیں کرتا یہ "کام”

    50 ہزار میں بچہ فروخت کرنے والی ماں گرفتار

    ایم بی اے کی طالبہ کو ہراساں کرنا ساتھی طالب علم کو مہنگا پڑ گیا

  • دہرا معیار – توقیر عالم

    دہرا معیار – توقیر عالم

    دہرا میعار
    تحریر : توقیر عالم

    ہم پاکستانی بحثیت قوم جس زوال کا شکار ہیں اس کی بنیادی وجوہات میں سے ایک وجہ ہمارا دہرا میعار ہے حدیث نبوی ہے ” تم میں سے کوئی شخص اُس وقت تک کامل ایمان والا نہیں ہوسکتا جب تک کہ اپنے بھائی کے لیے وہی چیز پسند نہ کرے جو وہ اپنے لیے پسند کرتا ہے ”
    اگر ہم اپنے اردگرد نظر دوڑائیں تو آپ کو اس بات کا بخوبی اندازہ ھو گا کہ ہمارا میعار اپنے مفادات اور ترجیحات کی بنیاد پر بدل جاتا ھے
    سارا دن ٹھنڈے کمرے میں بیٹھنے والا افسر شام کو واپسی پر چند منٹ کی گرمی برداشت نہیں کر پاتا اور سخت گرمی کے سٹیٹس لگاتا ہے مگر اپنے نیچے سخت گرمی میں کام کرنے والے مزدور کو چند منٹ سکون کرتا دیکھ کر برہم ھو جاتا ہے
    خدا سے دن میں پانچ وقت نماز میں رحم اور کرم کی دعا مانگنے والا امید رکھتا ہے خدا اسے معاف کرے مگر خود نہ تو کسی دوسرے انسان کو معاف کرنا گوارہ کرتا ہے نہ ہی کسی کے عیب چھپاتا ہے الٹا اس کے جہنمی ھونے کے فتوے جاری کرتا ہے کیا معلوم اس انسان کی کونسی ادا بارگاہ خداوندی میں مقبول ھو جائے اور بخشش کا وسیلہ بن جائے ایسے ہی اگر آپ کہیں مہمان جا رہے ہیں تو جان لیں آپ کی عزت اور مہمان نوازی آپ کی مالی حیثیت کے مطابق کی جائے گئی اب تو غریب بھائی سے تعلق منقطع کر لیا جاتا ہے اور امیر دوستوں کو بھائی بنا لمیا جاتا ہے
    نظام عدل کی بات کی جائے تو انصاف کا میعار آپ کی مالی حیثت طے کرے گی اگر آپ غریب ہیں تو سمجھ لیں جمع پونجی اور وقت برباد ھو گا مگر انصاف ملنے کی امید بہت کم ہے اگر آپ صاحب حثیت ہیں تو خوش خبری ہے آپ کو بہت جلد انصاف مل جاے گا بلکہ آپ کی مالی حالت کے حساب سے بہت زیادہ بھی مل سکتا ہے اگر آپ سابقہ وزیر اعظم ہیں تو آپ کو اربوں روہے کی کرپشن کے الزامات کے باوجود عدالت کے ذریعے لندن جانے کی اجازت مل جاتی ھے البتہ اگر آپ غریب صلاح الدین ہیں تو پولیس کی حراست میں مارے جائیں گے
    ہماری صحافت میں دوہرے میعار کی بہت سی مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں ابھی چند روز پہلے دو صحافیوں پر تشدد کیا گیا اک صحافی کی بھرپور حمایت کی گئی جبکہ دوسرے صحافی کے معاملے میں خاموشی اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ ہمارا میعار اخلاقیات نہیں اپنے تعلقات ہیں آج عیدالضحیٰ کے موقع جب تمام مسلمان اللہ کی راہ میں جانور قربان کر رہے ہیں تو سارا سال کے ایف سی میکڈونلڈ نہاری اور بریانی کھانے اور ان کی مشہوری کرنے والے صحافی ہمیں جانوروں کی قربانی سے باز رہنے کی تلقین فرما رہے ہیں
    سیاست میں بھی معاملہ کچھ مختلف نہیں کرونا سے بچنے کی تدابیر کے بارے میں میڈیا پر آگاہی مہم میں حکومت اور اپوزیش بھرپور طریقے سے حصہ لیتی ہے مگر پھر پی ڈی ایم کے پورے پاکستان میں جلسے اور ان میں احتیاطی تدابیر کو مکمل طور پر نظر انداز کیا جاتا ہے گلگت بلتستان اور کشمیر کے الیکشن میں حکومت اور اپوزیشن نے انسانی جانوں کی پرواہ کئیے بغیر بیسیوں جلسے کئیے اور ان میں کسی احتیاطی تدبیر کا خیال نہیں رکھا گیا
    ضیاالحق کے دور حکومت میں جہاد کو حکومتی سطح پر بھرپور تعاون حاصل رہا اور افغانستان میں روس کو شکست دی گئی مجاھدین ہمارے ہیرو قرار پائے
    وقت اور حالات بدلے اور انہیں مجاھدین کو دہشتگرد قرار دے دیا گیا مجاھدین کے خلاف بیس سال تک امریکہ کی مدد کی گئی وقت نے ایک بار پھر کروٹ بدلی امریکہ رات کی تاریکی میں افغانستان سے نکل بھاگا اور مجاھدین پھر سے ہمارے محسن اور ہیرو قرار پائے افغانستان میں طالبان کی فتح پر خوشیاں منانے والی پاکستانی حکومت خود پاکستان میں جماعت الدعوۃ اور تحریک لبیک جیسی مذہبی تنظیموں پر پابندی لگا چکی ہے اور ان کی قیادت پابند سلاسل ہے کشمیر و فلسطین پر آواز بلند کرنے والے چین کے اویغور مسلمانوں کے حق میں ایک بیان تک نہیں دے سکے
    الغرض ہمارے مفادات اور ترجیحات کے باعث ہمارے میعار بدل جاتے ہیں
    خدا ہم سب کو حق اور سچ کا ساتھ دینے کی توفیق عطا کرے۔

    پاکستان کے حالات اور امید کی کرن
    توقیر عالم

    توقیر عالم ایک پر امید فری لانس رائٹر ہیں۔ ان کی تحاریر ملک عزیز کے نمایاں پہلوؤں کو اجاگر کرتی ہیں۔ ان کے ذاتی ٹویٹر اکاؤنٹ پر وزٹ کریں۔
    @lovepakistan000

  • صحافت اور پولیس کا چولی دامن کا ساتھ

    صحافت اور پولیس کا چولی دامن کا ساتھ

    صحافت اور پولیس کا آپس میں چولی دامن کا ساتھ ہے ایس ایچ او تھانہ سٹی چونیاں

    تفصیلات کے مطابق ایس ایچ او تھانہ سٹی چونیاں عابد محمود چھینہ نے مرکزی پریس کلب کے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کے صحافی بھائیوں کو ایسے افراد کی نشاندہی کرنی چاہیے جو جرائم میں ملوث ہیں کیوں کہ صحافی اور پولیس کا آپس میں چولی دامن کا ساتھ ہےاور اس شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے معاشرے سے بہت سارے جرائم ختم کر سکتے ہیں انہوں نے کہا کہ صحافی بھائیوں کو ایسے افراد کی نشاندہی کرنی چاہیے جو جرائم میں ملوث ہیں تاکہ ان کی سرکوبی کی جا سکے معاشرے میں بہت ساری خرابیاں ایسی ہیں جن کو ہم نے مل جل کر حل کرنا ہے تاکہ معاشرے سے جرائم ختم ہوسکے انہوں نے کہا کہ اصلاحی خبریں لگانے سے معاشرہ بہتری کی طرف جاتا ہے انہوں نے کہا کہ صحافی بھائیوں کو پولیس کے ساتھ ہر ممکن تعاون کرنا چاہیے انہوں نے کہا کہ معاشرے میں جرائم ختم تو نہیں ہو سکتا مگر بروقت نشاندھی اور ان پر فوری کاروائی سے جرائم میں کمی ممکن ہے جیسا کہ میں نے روڈ ڈکیتی کو روکنے کے لیے محافظ فورس کا گشت یقینی بنایا ہے اس سے چوری ڈکیتی کی وارداتوں میں کافی حد تک کنٹرول ہے

  • سوشل میڈیا سے وابستہ صحافیوں کی آواز: علی حسین مرزا

    سوشل میڈیا سے وابستہ صحافیوں کی آواز: علی حسین مرزا

    وہ تمام صحافی جن کا تعلق سوشل میڈیا پلیٹ فارمز یا آن لائن یوٹیوب چینلز اور ویب پورٹلز سے ہوتا ہے ان کو تھانہ کچہری اور جائے واقعہ وغیرہ پر استحصال کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ حالانکہ فی زمانہ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کی نسبت سوشل میڈیا پر خبر پہلے پہنچتی ہے اور زیادہ وائرل ہوتی ہے۔ انصاف کی نگاہ سے دیکھا جائے تو سوشل میڈیا سے وابستہ چینلز اور پیجز سے وابستہ صحافی حضرات الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا سے وابستہ صحافیوں کی نسبت زیادہ دماغ کھپائی کرتے ہیں۔ وقت کم ہوتا ہے اور فی الفور خبر بریک کرنا ہوتی ہے۔ الیکٹرانک میڈیا کی تیزرفتاری اپنی جگہ لیکن خبر بریک ہوکر وائرل ہونے میں سوشل میڈیا زیادہ کارآمد ثابت ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بڑے بڑے اور کامیاب الیکٹرانک میڈیا ہاوسز بھی سوشل میڈیا کا سہارا لیتے ہیں تاکہ انکو رینکنگ ملے۔ المختصر سوشل میڈیا کی طاقت کا ہر صحافتی ادارہ معترف ہے لیکن پھر کیا وجہ ہے کہ سوشل میڈیا سے وابستہ صحافی طبقے کو استحصال کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ کیوں؟ صحافت پیغمبرانہ فعل ہے۔ اور یہ فعل کسی ایک طبقے کی میراث نہیں ہے۔ سچ کو آشکار کرنے کے لیے ایمانداری بروئے کار لائی جاتی ہے ناکہ بیجز اور مائیک اور ہرے بھرے لوگوز۔

    سوشل میڈیا سے وابستہ صحافی طبقے کی آواز

    بقلم: علی حسین باغی ٹی وی اوکاڑہ

  • لوگ صحافت کیوں چھوڑنا چاہتے ہیں …  ناصر بیگ چغتائی

    لوگ صحافت کیوں چھوڑنا چاہتے ہیں … ناصر بیگ چغتائی

    ہم جب پرنٹ میں تھے تو ہم پر ہر قسم کی مافیا کا دباو تھا ۔دباو بھی ایسا کہ رات کو تعاقب کیا جاتا تھا ۔گھر پر فون کر کے کہا جاتا تھا کہ آج تو آجائے گا لیکن باز نا آیا تو پھر واپس نہیں آئے گا ۔ کبھی فون امی اٹھا لیتیں تو ہماری جان پر بن جاتی بھی کہ وہ دل کی مریض تھیں ۔۔۔کئی بار پوچھا یہ کون لوگ ہیں ۔۔۔ہم ان کے نام بتاتے تو ہنس پڑتیں
    ایک دن میرے دوست مسرور احسن کا پیپلز پارٹی سے اور دوسرے دوست آفاق احمد کا ایم کیو ایم سے فون آیا 1۔ شارع فیصل سے مت جانا 2 ۔ یونیورسٹی روڈ سے مت جانا ۔۔۔۔پوچھا پھر کون سا راستہ اختیار کریں ہم لوگ ۔۔۔۔دونوں ہنس پڑے ۔۔۔۔ہم چپ رہے لیکن رات 3 بجے شارع فیصل سے ہی گئے
    اس زمانے میں ذہنی دباو بہت تھا اور یہ مالکان اور اسٹاف دونوں پر تھا ۔ دن بھر دھمکیاں اور خوف کے سائے لیکن موت کا خوف ہونے کے باوجود کسی کا ہارٹ اٹیک ہوا نا برین ہیمرج ۔ یہ دباو ہر جماعت کا تھا حتی کہ جماعت اسلامی بھی گھیراو کا شوق پورا کر لیتی تھی ۔۔۔۔۔لیکن یہ کیسا دباو ہے کہ یکے بعد دیگرے بے روزگار ہی نہیں با روزگار بھی دل کے دورے سے یا برین ہیمرج سے مر رہے ہیں ۔ چالیس سے 50 سال کا تجربہ رکھنے والے نکالے جارہے ہیں اور پندرہ بیس سال محنت کرنے والے دل کے دورے سے مر رہے ہیں ۔
    پہلے دور میں جب سیاسی دباو تھا کارکنوں کو تنخواہ بر وقت ملتی تھی ۔۔۔سات آٹھ بونس مل جاتے تھے اور سروس اسٹرکچر تھا ۔۔۔پراویڈنٹ فنڈ ایک بڑا سہارا تھا ۔۔۔۔۔
    اب ایسا کیا ہے کہ میڈیا سے اموات کی خبریں مسلسل آرہی ہیں ۔ بہت سی ہم تک نہیں پہنچیں ۔ لیکن لوگ مر رہے ہیں ۔ وجہ ؟؟؟؟؟
    1۔ 5 پانچ مہینے کی تنخواہ نہیں ملنا
    2 ۔ ملازمت کی سیکیورٹی نا ہونا
    3۔ ملازمت چھوڑنے یا ختم ہونے کی صورت میں خالی ہاتھ گھر جانا
    4 ۔ کنٹریکٹ پر ملازمتیں
    5 ۔ میڈیکل کی ناکافی سہولت
    6 ۔ لائف انشورنس کا نا ہونا ۔
    کامران فاروقی اس راہ مرگ کا نیا راہی ہے ۔ اپنے چھوٹے بچوں اور بیوہ کو سال گرہ والے دن چھوڑ گیا ۔ صدمہ سب کو ہوا بہت سے روئے ۔ بیوہ حنا سے بھی خواتین جا کر ملیں جو خود صحافی تھی اور جس نے گھر کی خاطر ملازمت چھوڑ دی تھی ۔
    دوست بتا رہے ہیں کہ کامران یہ ” کم بخت پیشہ ” چھوڑنے والا تھا جس نے اس کو میڈیکل ٹیسٹ کرانے کی بھی مہلت اور وسائل نہیں دئیے ۔ وہ ھی ہر ایک کی طرح دوسروں سے پوچھتا تھا کہ تنخواہ کب آئے گی ۔۔۔۔وعدے یقین دہانیاں سب بے سود رہیں ۔ کامران نے دوسری نوکری کی تلاش شروع بھی کردی ۔ بقول بن غازی ۔۔۔وہ کچھ سرٹیفیکٹ بھی تیار کروا رہا تھا ۔۔
    یہ کامران کی کہانی نہیں ۔۔۔درجنوں صحافیوں کیمرہ مین اور ٹیکنیکل کی کہانی ہے جو اس ” گلیمرس کیرئر ” سے نجات حاصل کر کے دوسری نوکری کی تلاش کررہے ہیں
    یہ ہے سوچنے کی بات ۔ اگر تربیت یافتہ صحافی چلے گئے اور یا نکال دیئے گئے تو صحافت کی ننگی نہائے گی کیا نچوڑی گی کیا؟


    Nasir Baig Chughtai