Baaghi TV

Tag: صحافی

  • ایس ایچ او کی بدمعاشی ، صحافیوں کا احتجاج

    ایس ایچ او کی بدمعاشی ، صحافیوں کا احتجاج

    قصور
    سنیئر صحافی محمدحسین کے خلاف جھوٹھا مقدمہ درج کرنے پر صحافیوں کا مصطفی آباد للیانی میں احتجاجی مظاہرہ تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز پریس کلب مصطفی آباد کے سنیئر صحافی محمد حسین کے خلاف پولیس تھانہ مصطفی آباد نے میرٹ کو بالائے طاق رکھتے ہوئے جھوٹا و بے بنیاد مقدمہ درج کیا تھا جس کے خلاف پریس کلب مصطفی آباد کی صحافی برادری نے ایس ایچ او تھانہ مصطفی آباد فاروق احمد رانجھا کی غنڈا گردی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا مظاہرین نے پولیس کی غنڈا گردی اور بلیک میلر حملہ آوروں کے خلاف نعرے بازی کی اور جھوٹا مقدمہ خارج کرکے حملہ آور دس افراد کے خلاف مقدمہ درج کرکے انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا،اس موقع پر صدر پریس کلب مصطفی آبادللیانی محمد عمران سلفی ، سرپرست اعلی ڈاکٹر اصغر علی شہزاد، گروپ لیڈر زبیر احمد بھٹی ، سنیئر صحافی شاہد عمر ودیگر صحافیوں نے کہا کہ جھوٹا مقدمہ فوری خارج کرنے اور حملہ آور بلیک میلر دس افراد کو گرفتار کر کے ان کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے نیز مظاہرین نے واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایس ایچ او فاروق احمد رانجھا جھوٹا مقدمہ درج کرکے نہ جانے کون سے عزائم حاصل کرنا چاہتا ہے،اگر ایسے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرکے صحافیوں کو خاموش کروانا چاہتے ہیں تو یہ ان کی بھول ہے،ہم آئی جی پنجاب، ڈی آئی جی ، وزیر اعلی پنجاب، وزیر اطلاعات، ڈی پی او قصور ودیگر اعلی حکام سے فوری نوٹس لیتے ہوئے جھوٹھا مقدمہ خارج کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں، احتجاجی مظاہرہ میں بابا طارق مقبول، سیٹھ محمد حسین، محمد جمیل سندھو،، عبدالقیوم،محمد اکمل کھوکھر،الیاس ملک،سردارہا رون اقبال سندھو، ارشد علی شامی، زرار علی خاں ،واحد ملک،ملک جمیل احمد،منیر احمد بھٹی، ارشد علی جوئیہ،رانا توقیر احمد ، عبدالمنان سلفی، محمد طاہر میو، مہر علی مہران، حافظ محمد طاہر اقبال،مہر مراد علی ایڈووکیٹ،ملک اصغرعلی،ناصر سندھو، حاجی عبدالقادر، چوہدری اشتیاق، آصف امین ، ذوالفقار علی ودیگر صحافیوں کی طرف سے پولیس تھانہ مصطفی آباد کی غنڈا گردی کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی

  • اوکاڑہ تھانہ صدرگوگیرہ کے نئے ایس ایچ او کی صحافیوں سے میٹنگ، جرائم کے خلاف عزم کا اظہار

    اوکاڑہ تھانہ صدرگوگیرہ کے نئے ایس ایچ او کی صحافیوں سے میٹنگ، جرائم کے خلاف عزم کا اظہار

    اوکاڑہ(علی حسین مرزا) جرائم کا خاتمہ اور علاقہ کو امن کا گہوارہ بنانا ہی میرا مقصد اور اولین ترجیح ہے ان خیالات کا اظہار تھانہ گوگیرہ کے نئے ایس ایچ او ملک ارشد نے گوگیرہ پریس کلب کے صحافیوں سے میٹنگ کرتے ہوئے کیا مزید بات کرتے ہوئے بتایا کہ سائلین کے لیے میرے دروازے ہر وقت کھلے ہیں حکومتی احکامات کے مطابق جزوی لاک ڈاون پر سختی سے عملدرآمد کروایا جائے گا علاقہ میں گشت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ گشت کا دورانیہ اور نفری مزید بڑھائی جائے گی تاکہ جرائم پر قابو پایا جاسکے صحافیوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ صحافی معاشرے کا آئینہ ہیں اور پولیس کو جرائم پر قابو پانے کیلئے ہمیشہ صحافیوں کی مدد درکار رہی ہے مزید انھوں نے کہا کہ صحافی جرائم اور جرائم پیشہ عناصر کی نشاندہی کریں تاکہ علاقے سے منشیات فروشی چوری اور ڈکیتی جیسی وارداتوں کو ختم کر کے علاقہ کو پرامن بنایا جاسکے۔

  • صحافیوں کا عزم مثبت کردار کی یقین دہانی

    صحافیوں کا عزم مثبت کردار کی یقین دہانی

    قصور
    الہ آباد میں صحافیوں کا اجلاس محسن چوہدری کی میزبانی میں چونیاں روڈ پر منعقد ہوا
    جس میں صحافیوں کی ایک بڑی بیٹھک ہوئی جس میں الہ آباد میں میڈیا کے حوالے سے اور شہری مسائل کے بارے میں خصوصی نشست کی گئی اور بھرپور انداز میں موجودہ حالات میں اپنا نمایاں اور مثبت کردار ادا کرنے پر اظہار خیال کیا گیا اس سلسلے میں میڈیا کے دوستوں کی مشاورت سوچ بچار کے بعد عوامی پریس کلب الہ آباد کے نام سے بانی و سرپرست چوہدری اختر ضیاء گہلن کی قیادت میں تکمیل ہوا جس میں چئیرمین و بانی چوہدری اختر ضیاء گہلن ۔۔صدر محمد اشفاق ندیم۔سینئر نائب صدر چوہدری جاوید شریف جٹ۔نائب صدر ڈاکٹر ظفر اقبال ۔جنرل سیکرٹری طاہر رضا انصاری ۔ایڈیشنل جنرل سیکرٹری سردار بلال ڈوگر۔ڈپٹی جنرل سیکرٹری مہر وسیم یحییٰ۔ اور فنانس سیکرٹری سردار بدرالزمان انفارمیشن سیکرٹری محمد یسین بادل منتخب ہوئے۔۔اجلاس میں متفقہ طور پر فیصلہ کر کے علمی ادبی شخصیت جناب نصر خیالی کو چیف کوآرڈینیٹر مقرر کیا گیا۔چوہدری آصف جلال خاں ایڈووکیٹ۔اور رانا امتیاز خاں ایڈووکیٹ کو لیگل ایڈوائزر مقرر کیا گیا۔
    تمام صحافیوں نے اس بات کا عزم کیا کہ علاقے میں مسائل کی بھر پور نشان دہی کرینگے

  • جائز تنقید ہمارا حق ہے،سنسنی نا پھیلائیں

    جائز تنقید ہمارا حق ہے،سنسنی نا پھیلائیں

    پریس کلب قصور کے بانی سینئر صحافی محمد رفیق نثار نے کہا ہے کہ صحا فت ایک مقد س پیشہ ہے اس کے تقدس کو بحا ل رکھنے کے لیے صحافیوں کو مثبت کردار ادا کر نا چا ہیے صحا فت ریاست کا چوتھا ستون ہے اور ریاستی اداروں پر مثبت تنقید صحافیوں کا حق ہے مگر اپنے مفاد کے لیے سنسنی پھیلانے سے گریز کر نا ہو گا ان خیالات کا اظہا ر شیخ محمد حسین کی زیر صدارت ورکنگ جرنلسٹ ک نسل پریس کلب قصور کے منعقد منعقدہ اجلاس سے گفتگو کرتے ہوئے کیا
    محمد رفیق نثار نے کہا کہ بے لوث صحافت کرنے والوں کے لیے نہ صر ف بہت سے مسا ئل ہیں بلکہ دباؤ کا شکار بھی رہتے ہیں حق سچ کا سا تھ دینے والے کسی دھمکی اور خوف سے نہیں گھبرا تے صحا فیو ں نے ہمیشہ سچ کا علم بلند کرنے کے لیے کسی بھی دباؤ کی کبھی بھی پرواہ نہیں کی صحا فت کے بل بو تے پر ناجائز اختیارات کا استعمال کر نے والے صحا فیو ں کا محاسبہ کر کے صحافیوں کو ان کا اصل مقا م دلوائیں گے
    معاشرے میں پسے ہوئے طبقہ کی آواز بننے والے صحا فیوں کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے

  • اتحاد صحافت پر اجلاس

    اتحاد صحافت پر اجلاس

    ضلع بھر کے سینئر صحافیوں کا مشاورتی اجلاس صحافیوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی
    ضلع بھر کے سینئر صحافیوں کا مشاورتی اجلاس صحافیوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی، دیگر شعبہ جات کی طرح صحافی برادری میں بھی اتحادو اتفاق کیلئے مشترکہ لائحہ عمل ترتیب دینے پر زور، تفصیلات کے مطابق جرنلسٹ فرینڈز گروپ قصور کی طرف سے ضلع بھر کے صحافیوں کو باہمی مسائل اور مشکلات کے حل کےلئے مشاورتی اجلاس میں اہتمام کیا گیا، اجلاس میں ضلع بھر کے سنیئر صحافیوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی، اجلاس میں شریک الہ آباد، کنگن پور، کھڈیاں، منڈی عثمان والا، مصطفی آباد، کوٹ رادھاکشن، راجہ جنگ، چونیاں، پتوکی، حبیب آباد، سرائے مغل، قصور سٹی کے صحافیوں نے نیشنل پریس کلب پھولنگر کے نو منتخب صدر ندیم سندھو ودیگر عہدیداران کو مبارکباد پیش کی، اجلاس میں شریک صحافیوں نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ صحافت ریاست کا چوتھا ستون ہونے کے ساتھ ساتھ اسلامی نقطہ نظر سے ایک انتہائی مقدس پیشہ ہے، اس مقدس پیشے کو اختیار کرنے والے صحافیوں کو بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور خصوصاً علاقائی صحافی جوکہ اپنے اپنے اداروں کیلئے خبروں کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں کو دوطرفہ مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، تمام صحافیوں کو اپنے ادارے کے ساتھ منسلک رہتے ہوئے ایک دوسرے کی عزت نفس اور اپنے مرتبے کا پاس رکھنا ہو گا اور آپسی اختلافات کو پس پشت ڈالتے ہوئے اس مقدس پیشہ کی لاج رکھتے ہوئے مل بیٹھ کر معاملات کو حل کرنا ہو گا جبکہ کسی بھی اپنے صحافی بھائی پر مشکل وقت آنے پر اس کا ساتھ دینا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ باہمی اختلافات کو ہوا دینے کی بجائے مل بیٹھ کر حل کرنے سے دوسرے سرکاری و غیر سرکاری اداروں اور معاشرے کو مثبت پیغام ملے گا اور اس کے ساتھ ساتھ صحافت کی قدر میں بھی اضافہ ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ جرنلسٹ فرینڈز گروپ قصور نے ایک قلیل عرصہ میں ضلع بھر میں اپنا بہترین تاثر قائم کیا ہے اور یہی وجہ ہے آج ضلع بھر سے ایک بہترین گلدستہ تیار ہوچکا ہے،جرنلسٹ فرینڈز گروپ قصور کی اب تک کی کاوشیں قابل تحسین ہیں، میزبان نیشنل پریس کلب کی نومنتخب کابینہ اتحاد میں بنیادی کردار اداکرنے پر لائق تحسین ہے

  • صحافی کو قتل کی دھمکیاں

    قصور
    پتوکی کے سینئر صحافی اظہر طفیل میئو کو انسپکٹر ایف آئی اے کی دھمکیاں
    تفصیلات کے مطابق پتوکی قصور کے صحافی و سماجی کارکن محمد اظہر طفیل میئو کو محمد شاہد انسپیکٹر ایف آئی اے کی سینئر صحافی کو غلیظ ترین گالیاں اور اغواء کرکے قتل کرنے کی دھمکیاں کچھ عرصہ پہلے محمد شاہد انسپیکٹر ایف آئ اے کا سنیئر صحافی کے ساتھ کاروبار کا لین دین تھا جس پر اظہر طفیل نے اس سے پیسے مانگنے تو شاہد آگ بگولہ ہوگیا اور اپنے ایف آئی اے انسپیکٹر ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اظہر کے والد محترم محمد طفیل کے خلاف جھوٹی درخواست تھانے سرائے مغل کی چوکی ھلہ میں دے دی جو کہ بلکل جھوٹی اور بے بنیاد ہے
    قصور کی صحافی برادری نے اعلیٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ ایسے کرپٹ انسان کے خلاف کارروائی کی جائے اور کیفر کردار تک پہچایا جائے

  • قصور کے مشہور صحافی انتقال فرما گئے

    قصور کے مشہور صحافی رضا الہی سے وفات پا گئے
    تفصیلات کے مطابق قصور مشہور صحافی مقبول احمد بھٹی رضائے الہی سے وفات پا گئے ہیں مرحوم نجی ٹی وی چینل کے رپورٹر تھے اور ایک نڈر اور بے باک صحافی تھے قصور کی پوری صحافی برادری نے ان کی وفات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے اور اللہ تعالی سے ان کی مغفرت کی دعا کی ہے
    مرحوم کی نماز جنازہ آج 3 بجے دوپہر ان کے آبائی گاؤں منڈیانوالا تحصیل پتوکی کے گورنمنٹ سکول میں ادا کی جائے گی جس میں ضلع قصور کی سیاسی شحضیات اور میڈیا نمائندگان شرکت کرینگے

  • س سیٹھ ص صحافی …

    س سیٹھ ص صحافی …

    کچھ دنوں سے ایک مشہور اینکر پرسن کی وڈیوز گردش میں ہیں جس میں وہ چیلنج کرتے نظر آتے ہیں کہ ‘آئو مجھے گرفتار کرو۔ میں پرویز مشرف نہیں کہ بھاگ جائوں گا وغیر ہ وغیرہ’ ۔۔۔ وہ اینکر سے سیاست دان زیادہ نظرآتے ہیں۔ورنہ اُنکا پرویز مشرف سے کیا لینا دینا. شائد سیاست دانوں کے ساتھ بیٹھ بیٹھ کر اُن پر بھی سیاست دانوں کا رنگ چڑھ گیاہے۔
    مجھے حیرانی اس بات کی ہوئی کہ اتنے کھڑپینچ اینکر کو بھی اپنی بات کرنے کے لیے سوشل میڈیا کا سہارہ کیوں لینا پڑ رہاہے جبکہ وہ روز سیاست دانوں کے ساتھ ایک پرائیویٹ چینل پر ٹاک شو میں محفل سجاتاہے ۔ کیاوجہ ہے کہ وہ اپنے مسائل کے لیے ٹاک شو کا پلیٹ فارم استعمال نہیں کرسکتے آخر وہ بھی تو بڑے صحافی ہیں اور کوئی اوراینکر بھی انہیں‌ بطور گیسٹ نہیں بلاتا ورنہ تو سوشل میڈیا کی کسی بھی ویڈیو پرٹاک شوز ہورہے ہوتے ہیں ۔۔۔ یہ آداب صحافت کے خلاف ہے یا سیٹھ اس کی اجازت نہیں دیتا۔ ۔۔؟؟؟
    وجہ کوئی بھی ہوچھوٹے موٹے صحافی یا میڈیا ورکرز سوچتے ہیں کہ جب اتنا تگڑا اینکر اپنی بات ٹی وی چینل پر بات نہیں کرسکتا تو اُنکی بات کون کرے گا جو ‘تبدیلی’ آنے کے بعد سب سے زیادہ سیٹھوں کے زیر عتاب ہیں ۔ وہ سیٹھ جنہوں نے انہی میڈیاورکرزکے خون پسینے سے بڑی بڑی ایمپائرز کھڑی کی ہیں ۔ایک چینل سے کئی چینل بنائے اور کئی کاروبار کھڑے کیے ۔جب اُنکا زرہ سا منافع کم ہوا تو سارا بوجھ میڈیا ورکرز پر ڈال دیاگیا۔ اخبار ہوں یا نیوز چینلز، سب نے بڑی تعداد میں میڈیا ورکرز کو نکال باہرکیا۔ تنخواہیں تیس فیصد سے لیکر پچاس فیصد تک کم کردی گئیں.
    حد تو یہ ہے کہ حالات کا رونا روتے ہوئے میڈیا کے سیٹھوں نے دو دو تینن تین تنخواہیں نیچے لگادیں ۔۔۔ کوئی چھوڑ کر جانا چاہے تو کہاجاتا ہے شوق سے جائوگزشتہ تنخواہیں نہیں ملے گی… مگر یہ تو اینکرز کا مسئلہ ہی نہیں !
    یہی ویڈیو والے اینکر صاحب مزدور ڈے پر ٹائ کوٹ چڑھا کر ایک بھٹے پر مزدوروں سے سوال کرتے نظرآئے کہ اُن کی زندگی کیسے گزرتی ہے اور پھر کسی مزدور کی داد رسی کروا کر ٹوئیٹر پر خود داد بھی سمیٹے نظر آئے ۔۔لیکن کیا ان اینکر صاب کو شائد یہ پتہ نہیں کہ میڈیا ورکرز کی حالت بھٹہ مزدوروں جیسی ہے ۔ میڈیا ورکرز بھی سیٹھوں کے ہاتھوں یرغمال بنے ہوئے ہیں ۔ سیٹھ ڈٹھائی سے ورکرز کی کئی تنخواہیں نیچے لگا رکھتے ہیں . حد تویہ ہے ہمارے جوڈیشیل سسٹم سے ورکرز کی بجائے سیٹھوں کو زیادہ ریلیف ملتے دیکھاہے۔ ۔۔
    اینکرز سارا دن چینلوں پر بیٹھ کر سیاسی دنگل کرواتے ہیں لیکن کتنی بار ایساہوا کہ کبھی میڈیا ورکرز کے استحصال پر کوئی پروگرام کیا گیاہو۔
    اگرکبھی کوئی چینل بند ہوتاہے تو یہی ورکررز ہوتے ہیں جو سڑکوں پر نظر آتے ہیں۔ اور سیٹھوں کے لیے آزادی اظہار کی جنگ لڑتے نظر آتے ہیں۔ لیکن جب یہی سیٹھ ورکرز کے چولھے بند کردیتے ہیں تو اور ورکرز سراپا احتجاج ہوتے ہیں تو کوئی بھی ٹی وی چینل ان کی آواز نہیں بنتا کوئی بھی اینکر ورکرز کا مقدمہ نہیں لڑتا۔کیونکہ سیٹھ اجازت نہیں دیتا۔ کئی میڈیا ورکرز جو کئی کئ سالوں سے سیٹھوں کے پاس کام کررہےتھے جھٹ میں فارغ کر دیے گئے۔ ان میں سے کچھ چھوٹے موٹے کام ڈھونڈ رہے ہیں۔ اور کچھ یوٹیوب پر طبع آزمائی کررہے ہیں ۔۔۔

    پرانے چینلوں سے جو لوگ نکالے گئے انہوں نے نئے آنے والے چینلوں کا رُخ کیا مگر وہاں بھی حالات ورکرز کے حق میں اچھے نہیں۔ یونیورسٹی سےڈگریاں لینے کے بعد جب سٹوڈنٹس نیوز چینلزکا رُخ کرتے ہیں توانہیں انٹرنشپ کے نام پر چھ چھ مہینے مفت کام کروایا جاتاہے ۔ اور پھر 15 ، 20 ہزار پر نوکری دے دی جاتی ہے ۔جو کئی کئی سال تک نہینں بڑھتی ۔ کئی ٹی وی چینل ایسے بھی ہیں جو اس سے بھی کم تنخواہ پر لوگوں کو رکتھے ہیں ۔مگر وہ بھی چھ چھ مہینے نہیں دیتے ۔ نہ میڈیکل نہ فیول اورنہ گریجوئٹی وغیرہ ۔
    اُن کے بارے میں کہا جاتا ہے ‘تُھوک سے پکوڑے تلتے ہیں’ اورمیڈیا ورکرز اکلوتی سیلری پر لگے رہتے ہیں اور وہ بھی وقت پر نہیں ملتی۔

    جو حال ہمارے ملک کے میڈیا ہائوسز کاہے میرے خیال میں میڈیا کی تعلیم میں یہ سبق بھی ڈالاجائےکہ میڈیاکی چھوٹی موٹی نوکری وہ کرے جواس کے ساتھ کوئی دوسرا کاروبار بھی کررہاہو۔۔۔یاپھر شادی بیاہ ، بیوی بچوں کے جھنجھٹ میں نہ پڑے کیونکہ یہ نوکری کسی بھی وقت جاسکتی ہے ۔۔۔

    لیکن یہ مسائل چھوٹے موٹے صحافیوں اورمیڈیا ورکرز کے ہیں ۔ بڑے اینکروں کے نہیں۔ کیونکہ یہ لوگ تو چینلوں سے لاکھوں روپے تنخواہ اور مراعات لیتے ہیں اور سیٹھ بھی انہیں تنخواہیں وقت سے بھی پہلےدے دیتے ہیں۔ کچھ اینکرز ایسے بھی ہیں جنہیں نوکری سے نکالا نہیں جاتا بلکہ یہ خود نئی نوکری پر چلے جاتےہیں ۔ تو پھروہ اینکرز ان ایشوز پر بات کر کہ سیٹھ کو ناراض کیوں کریں گے ۔
    رہی بات صحافتی تنظیموں کی تویہ تنظیمیں سال کے آخرمیں الیکشن کے دنوں میں جاگتی ہیں ۔صحافیوں کے حقوق کے خوب نعرے لگائے جاتے ہیں اورپھر آپس میں لڑ بھڑ کر ہار جیت کر سب سال بھر کے لیے ٹھنڈے پڑے جاتے ہیں ۔ پیمرا کی نظر بھی صرف مواد پر ہوتی ہے ۔میڈیا ہاوءسز میں صحافیوں کے  ہونے والے استحصال پر نہیں

    لیکن ایک بات ہے ۔۔جبسے ‘تبدیلی’ کی گرم ہوا چلی ہے ۔۔اس کی تپش کچھ اینکرز کوبھی لپیٹ میں لے رہی ہے ۔۔ کچھ فارغ کردیے گئے اور وہ اب یوٹیوب پر اپنا منجن بیچ رہے ہیں اور کچھ خاموشی سے تنخواہ کٹوا کر کام کررہے ہیں ۔ لیکن سیٹھ کو کوئی فرق نہیں پڑاکیونکہ اُس کے ٹی وی چینلز کے علاوہ بھی کئی کاروبار ہیں ۔ اور تبدیلی کےاثرات صرف میڈیا ورکرز ہی جھیل رہے ہیں ۔
    آئے روز چینلوں سے لوگ نکالے جارہے ہیں ۔۔اوروہ کبوتر کی طرح آنکھیں بند کیے بیٹھے رہتے ہیں ۔۔۔جو فارغ ہوجاتے ہیں اپنی قسمت پر آنسو بہاتے ہیں اور بچ جانے والے شکر بجا لاتے ہیں ۔۔سیٹھ کے آگے سب بے بس ہیں
    آزادی اظہار کا ڈھنڈورا پیٹنے والوں کو میں اُس دن مانوں گا جب رپورٹر، کیمرہ مین ، ڈرائیور ، او بی وین آپریٹر، پی سی آر اور ایم سی آر سٹاف، نیوز روم ورکرز، رائٹرز، پروڈیوسرز، نان لینئر ایڈیٹرز اور دیگر ورکرز کے مسائل کے بارے میں بھی بولیں گے ! وہاں آزادی اظہار کے بھاشن اچھے نہیں لگتے جہا ں میڈیا ورکر یہ سوچ کر دفتر جائے کہ پتہ نہیں آج نوکری رہتی ہے یا پھر خدا حافظ کا پروانہ ملتا ہے ۔ یہاں سیٹھ کی چلتی ہے صحافی کی نہیں اور سیٹھ صرف کاروبار کرتا ہے اور اُسکی نظر صرف منافع پر ہوتی ہے صحافت جائے بھاڑ میں .

     

  • لوگ صحافت کیوں چھوڑنا چاہتے ہیں …  ناصر بیگ چغتائی

    لوگ صحافت کیوں چھوڑنا چاہتے ہیں … ناصر بیگ چغتائی

    ہم جب پرنٹ میں تھے تو ہم پر ہر قسم کی مافیا کا دباو تھا ۔دباو بھی ایسا کہ رات کو تعاقب کیا جاتا تھا ۔گھر پر فون کر کے کہا جاتا تھا کہ آج تو آجائے گا لیکن باز نا آیا تو پھر واپس نہیں آئے گا ۔ کبھی فون امی اٹھا لیتیں تو ہماری جان پر بن جاتی بھی کہ وہ دل کی مریض تھیں ۔۔۔کئی بار پوچھا یہ کون لوگ ہیں ۔۔۔ہم ان کے نام بتاتے تو ہنس پڑتیں
    ایک دن میرے دوست مسرور احسن کا پیپلز پارٹی سے اور دوسرے دوست آفاق احمد کا ایم کیو ایم سے فون آیا 1۔ شارع فیصل سے مت جانا 2 ۔ یونیورسٹی روڈ سے مت جانا ۔۔۔۔پوچھا پھر کون سا راستہ اختیار کریں ہم لوگ ۔۔۔۔دونوں ہنس پڑے ۔۔۔۔ہم چپ رہے لیکن رات 3 بجے شارع فیصل سے ہی گئے
    اس زمانے میں ذہنی دباو بہت تھا اور یہ مالکان اور اسٹاف دونوں پر تھا ۔ دن بھر دھمکیاں اور خوف کے سائے لیکن موت کا خوف ہونے کے باوجود کسی کا ہارٹ اٹیک ہوا نا برین ہیمرج ۔ یہ دباو ہر جماعت کا تھا حتی کہ جماعت اسلامی بھی گھیراو کا شوق پورا کر لیتی تھی ۔۔۔۔۔لیکن یہ کیسا دباو ہے کہ یکے بعد دیگرے بے روزگار ہی نہیں با روزگار بھی دل کے دورے سے یا برین ہیمرج سے مر رہے ہیں ۔ چالیس سے 50 سال کا تجربہ رکھنے والے نکالے جارہے ہیں اور پندرہ بیس سال محنت کرنے والے دل کے دورے سے مر رہے ہیں ۔
    پہلے دور میں جب سیاسی دباو تھا کارکنوں کو تنخواہ بر وقت ملتی تھی ۔۔۔سات آٹھ بونس مل جاتے تھے اور سروس اسٹرکچر تھا ۔۔۔پراویڈنٹ فنڈ ایک بڑا سہارا تھا ۔۔۔۔۔
    اب ایسا کیا ہے کہ میڈیا سے اموات کی خبریں مسلسل آرہی ہیں ۔ بہت سی ہم تک نہیں پہنچیں ۔ لیکن لوگ مر رہے ہیں ۔ وجہ ؟؟؟؟؟
    1۔ 5 پانچ مہینے کی تنخواہ نہیں ملنا
    2 ۔ ملازمت کی سیکیورٹی نا ہونا
    3۔ ملازمت چھوڑنے یا ختم ہونے کی صورت میں خالی ہاتھ گھر جانا
    4 ۔ کنٹریکٹ پر ملازمتیں
    5 ۔ میڈیکل کی ناکافی سہولت
    6 ۔ لائف انشورنس کا نا ہونا ۔
    کامران فاروقی اس راہ مرگ کا نیا راہی ہے ۔ اپنے چھوٹے بچوں اور بیوہ کو سال گرہ والے دن چھوڑ گیا ۔ صدمہ سب کو ہوا بہت سے روئے ۔ بیوہ حنا سے بھی خواتین جا کر ملیں جو خود صحافی تھی اور جس نے گھر کی خاطر ملازمت چھوڑ دی تھی ۔
    دوست بتا رہے ہیں کہ کامران یہ ” کم بخت پیشہ ” چھوڑنے والا تھا جس نے اس کو میڈیکل ٹیسٹ کرانے کی بھی مہلت اور وسائل نہیں دئیے ۔ وہ ھی ہر ایک کی طرح دوسروں سے پوچھتا تھا کہ تنخواہ کب آئے گی ۔۔۔۔وعدے یقین دہانیاں سب بے سود رہیں ۔ کامران نے دوسری نوکری کی تلاش شروع بھی کردی ۔ بقول بن غازی ۔۔۔وہ کچھ سرٹیفیکٹ بھی تیار کروا رہا تھا ۔۔
    یہ کامران کی کہانی نہیں ۔۔۔درجنوں صحافیوں کیمرہ مین اور ٹیکنیکل کی کہانی ہے جو اس ” گلیمرس کیرئر ” سے نجات حاصل کر کے دوسری نوکری کی تلاش کررہے ہیں
    یہ ہے سوچنے کی بات ۔ اگر تربیت یافتہ صحافی چلے گئے اور یا نکال دیئے گئے تو صحافت کی ننگی نہائے گی کیا نچوڑی گی کیا؟


    Nasir Baig Chughtai