Baaghi TV

Tag: صحافی

  • آزادی صحافت کاعالمی دن،پاکستان میں ایک اور صحافی دھماکے میں شہید

    آزادی صحافت کاعالمی دن،پاکستان میں ایک اور صحافی دھماکے میں شہید

    آزادی صحافت کے عالمی دن کے موقع پر پاکستان میں ایک اور صحافی شہید ہو گیا

    خضدار پریس کلب کے صدر بم دھماکے میں شہید ہو گئے ہیں،چمروک کے مقام پر صدیق مینگل کی گاڑی کو دھماکے میں نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں وہ موقع پر شہید جبکہ مزید 9 افراد زخمی ہو گئے ہیں، زخمیوں کو طبی امداد کے لئے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے،صدیق مینگل جے یو آئی کے صوبائی نائب امیر بھی تھے.پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے لیا، پولیس حکام کے مطابق امحمد صدیق مینگل اپنے گھر سے یونیورسٹی جارہے تھے جب انکی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا، واقعہ کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں،

    بلوچستان میں یہ معمول بن چکا ہے کہ دہشتگرد تنظیمیں اپنی مذموم کارروائیوں کی تکمیل کے لیے معصوم نہتے افراد کو نشانہ بنانے میں مصروف ہیں، خاص طور پر ان افراد کو نشانہ بنایا جاتا ہے جو ان کی اصلیت دنیا کے سامنے بے نقاب کرتے ہیں،وزیرِ داخلہ بلوچستان ضیا لانگو نے خضدار واقعے کی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ آزادی صحافت کے دن پریس کلب کے صحافی کی ہلاکت صحافت کا گلا گھوٹنے کے مترادف ہے۔ضلع انتظامیہ تمام زخمیوں کو صحت کی سہولیات فراہم کر رہی ہے ۔

    خضدار دھماکے میں صحافی کی موت، وزیراعظم، وزیر داخلہ،وزیراعلیٰ پنجاب و دیگر کا اظہار افسوس
    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے خضدار دھماکے میں خضدار پریس کلب کے صدر مولانا محمد صدیق مینگل کی شہادت پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کیا ہے،وزیرِ اعظم نے شہید کیلئے مغفرت اور ان کے اہل خانہ کیلئے صبر جمیل کی دعا کی،وزیرِ اعظم نے واقعے مین زخمی ہونے والے افراد کیلئے جلد صحت یابی کی دعا کی ہے

    وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے خضدار میں دھماکے کی مذمت کی ہے،وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نےپریس کلب خضدار کے صدر محمد صدیق مینگل کی شہادت پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا،وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نےلواحقین سے دلی ہمدردی و اظہار تعزیت کیا،وفاقی وزیرداخلہ نے زخمیوں کی جلد صحتیابی کیلئے دعا کی،اور کہا کہ خضدار پریس کلب کے صدر محمد صدیق مینگل کی شہادت پر دلی صدمہ ہوا ہے۔

    پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے خضدار میں دہشتگردانہ بم دھماکے کی شدید مذمت کی ہے، بلاول بھٹو زرداری نے دھماکے میں خضدار پریس کلب کے صدر محمد صدیق مینگل کی شہادت پر اظہار رنج و غم کیا ہے،پی پی پی چیئرمین نے متاثرہ خاندان اور صحافی برادری کے ساتھ دلی تعزیت کا اظہار کیا اور کہا کہ اس طرح کی بزدلانہ کاروائیوں سے پاکستانی قوم کے حوصلے پست نہیں ہوں گے،گھناؤنے جرم میں ملوث درندوں کو ذلت کے علاوہ کچھ نہيں ملے گا، بلاول بھٹو زرداری نے دھماکے میں زخمی ہونے والوں کے لیے جلد صحتیابی کی دعا کی.

    آزادیِ صحافت کے دشمن کبھی اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہوں گے۔ مریم نواز
    وزیرِاعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے خضدار میں دھماکے کی مذمت کی ہے،وزیرِاعلیٰ مریم نواز شریف نے پریس کلب کے صدر کے اہلِ خانہ سے اظہارِ تعزیت کی ہے،وزیرِاعلیٰ مریم نواز نے دھماکے میں زخمی افراد کی جلد صحتیابی کیلئے دعا کی اور کہا کہ آزادیِ صحافت کے دشمن کبھی اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہوں گے۔

    امن وامان قائم کرنے والے ادارے سیاسی مداخلت میں مصروف ہیں،مولانا فضل الرحمان
    جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان نے خضدار دھماکے کی شدید مذمت کی ہے، مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ دھماکے میں جے یو آئی بلوچستان کے صوبائی نائب امیر مولانا محمد صدیق مینگل شہیدہوئے ہیں،اللہ کریم مولانا مرحوم کی کامل مغفرت فرمائے اور ان کی شہادت کو قبول فرمائے ۔امن وامان قائم کرنے والے ادارے سیاسی مداخلت میں مصروف ہیں اور عوام کی جان ومال کا کوئی پرسان حال نہیں ۔واقعے کی شدید مذمت کرتے ہیں ۔مجرموں کو قرار واقعی سزا دی جائے ۔مولانا صدیق شہید کے اہل خانہ سے تعزیت کرتا ہوں ۔اللہ کریم اہل خانہ کو صبر جمیل عطاء فرمائے ۔

    حکومتی نااہلی،سماعت سے محروم سینکڑوں بچوں کا مستقل معذور ہونے کا خدشہ

    معذوری کا شکار طالبات کی ملی دارالاطفال گرلز ہائی سکول راجگڑھ آمد،خصوصی تقریب

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    وفاقی حکومت کی طرف سے پاکستان بیت المال کو سماعت وگویائی سے محروم بچوں کے لیے فنڈز نہ مل سکے ،

    سماعت سے محروم بچے چلا رہے ہیں ریسٹورینٹ، صدر مملکت بھی وہاں پہنچ گئے، کیا کہا؟

    ویلڈن پاک فوج، سماعت سے محروم افراد سننے اور بولنے لگے

    چلڈرن ہسپتال کا کوکلیئر امپلانٹ کے تمام اخراجات برداشت کرنے کافیصلہ،ڈاکٹر جاوید اکرم

  • یوم آزادی صحافت، پاکستان میں ایک سال میں 4 صحافی قتل،104 مقدمے

    یوم آزادی صحافت، پاکستان میں ایک سال میں 4 صحافی قتل،104 مقدمے

    عالمی یوم آزادی صحافت کے موقع پر فریڈم نیٹ ورک نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں ایک برس میں چار صحافی قتل ہوئے جبکہ 104 سے زائد مقدمے صحافیوں پر درج کئے گئے

    تین مئی ، دنیا بھر میں عالمی یوم آزادی صحافت کے طور پر منایا جاتا ہے،تاہم پاکستان میں صحافت ، خطرناک ترین ہوتی جا رہی ہے، صحافیوں کو دھمکیاں، مقدمے، دباؤ، گرفتاریاں سب کچھ برداشت کرنا پڑتا ہے، ریاستی جبر اور غیر ریاستی عناصر کی مبینہ کارروائیوں کے سبب پاکستان میں آزادی صحافت اور رائے کی آزادی کو شدید خطرات لاحق ہیں

    پاکستان دنیا کے ان 3 ممالک میں شامل ہے جہاں پیکا کے کالے قانون کے تحت کسی آن لائن فورم پر رائے دینے پر بھی مقدمات درج کر لیے جاتے ہیں جب کہ دنیا کے باقی ممالک میں ہتک کے قوانین کے تحت کارروائی کی جاتی ہے، عالمی یوم صحافت پر پاکستانی صحافتی برادری اس بات کا عہد کرتی ہے کہ کسی بھی دباؤ کے باوجود آزاد انہ اور ذمہ دارانہ سچ عوام تک پہنچاتے رہیں گے ۔ غیر جانبدار اور آزاد صحافت کسی بھی ملک کی ترقی کی ضامن ہوتی ہے،اسی لیے صحافت کو ریاست کا چوتھا ستون قرار دیا جاتا ہے۔

    میڈیا کی ذمہ داری ہے وہ صحافتی اخلاقیات کی پابندی کرے.صدر مملکت
    صدر مملکت آصف زرداری نے آزادی صحافت کے عالمی دن پر پیغام میں کہا ہے کہ صحافیوں کو ڈر اور خوف سے پاک ماحول فراہم کرنے کی ضرورت ہے، صحافیوں کی سیکورٹی اور سلامتی کیلئےموثر اقدامات کی ضرورت ہے.پاکستان کا آئین آزادی صحافت کی ضمانت دیتا ہے.میڈیا کی بھی ذمہ داری ہے وہ صحافتی اخلاقیات کی پابندی کرے. میڈیا کو جعلی خبروں کے سدباب کیلئے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے.میڈیا عالمی تشویش کے مسائل پر بیداری پیدا کرنے میں تعمیری کردار ادا کرے. موسمیاتی تبدیلی کے خطرے سے بچانے میں میڈیا کا کردار اہم ہے

    میڈیا اور تمام فریقین کو درست اطلاعات کیلئے ملکرکام کرنا ہوگا.وزیراعظم
    آزادی صحافت کے عالمی دن کے موقع پر وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ صحافیوں اور میڈیا ورکرز کو سلام، حریت فکر کے محافظوں کو خراج تحسین.غزہ میں جان قربان کرنے والے مرد وخواتین صحافی انسانیت کے ہیروہیں.جبر سے لڑنا اور سچائی کو سامنے لانا ہی اس دن کا پیغام ہے.صحافت اور اظہار کی آزادی جمہوریت کی بنیاد ہے.میڈیا اور تمام فریقین کو درست اطلاعات کیلئے ملکرکام کرنا ہوگا.میڈیا اور اظہار آزادی پر پختہ یقین رکھتے ہیں.میڈیا انڈسٹری کی بہتری کیلئے بھرپور کردار ادا کریں گے،

    صحافیوں نے ہمیشہ جمہوریت کی نگہبانی اور نگرانی کی ،شرجیل میمن
    سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے آزادی صحافت کے دن پر پیغام میں کہا ہے کہ ملک میں جمہوریت کے لئے صحافیوں کی قربانیوں کو فراموش نہیں کیا جا سکتا، صحافیوں نے ہمیشہ جمہوریت کی نگہبانی اور نگرانی کی ہے، شہید بی بی کے ویژن کے تحت حکومت سندھ نے ہمیشہ آزاد صحافت، تعمیری مکالمے اور باہمی افہام و تفہیم کو فروغ دیا ہے، صحافیوں کے تحفظ کے لئے سب سے پہلے پروٹیکشن آف جرنلسٹس کمیشن کا قیام پیپلز پارٹی کا کارنامہ ہے،اظہار آزادی کو پاکستان پیپلز پارٹی نے ہمیشہ اپنی ترجیحات میں رکھا ہے,صحافیوں کی فلاح و بہبود کو ترجیح دینا چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور صدر آصف علی زرداری کا ویژن ہے,حکومت سندھ اور صحافیوں کے درمیان تعاون اور اشتراک کی متعدد مثالیں موجود ہیں،پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت نے عوامی مفادات اور جمہوری نظریات کے حصول کے لیے ہمیشہ آزاد صحافت کی وکالت کی ہے، حکومتوں کو جوابدہ بنانے اور احتساب و شفافیت کو یقینی بنانے میں صحافی بھائیوں کا ہمیشہ اہم کردار رہا ہے،

    آزاد میڈیا کے بغیر مضبوط جمہوریت اور موثر انصاف کا تصور نا ممکن ہے، خالد مسعود سندھو
    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نے یومِ صحافت کے دن کے موقع پر صحافی برادری کے نام اپنے پیغام میں کہا ہے کہ صحافتی برادری ریاست کے چوتھا ستون کی اہمیت رکھتی ہے اور ملک میں مظلوم کی آواز کو حاکم تک پہنچانے کا سب سے معتبر طریقہ آزادی صحافت ہے ، آزادی صحافت ہی جمہوریت اور انصاف کی بنیاد ہے اور انسانی حقوق کی جان ہے آزادی صحافت کے لئے صحافیوں کی جدوجہد اور بے شمار قربانیاں لائق تحسین ہیں،پاکستان صحافیوں کے لیے خطرناک ترین ممالک میں سے ایک ہیں جہاں آئے روز صحافیوں پر تشدد اور ان کو شہید کیا جاتا ہے آزاد میڈیا کے بغیر مضبوط جمہوریت اور موثر انصاف کا تصور نا ممکن ہے، معاشرے کی اجتماعی اصلاح اور قوم کو اجتماعی شعور دینے میں میڈیا اور صحافیوں کا کردار ہمیشہ سے بہترین رہا ہے صحافت کے اس اہم کردار کے پیش نظر پاکستان مرکزی مسلم لیگ میڈیا کی مکمل آزادی پر نہ صرف یقین رکھتی ہے بلکہ اس مقصد کے لئے صحافیوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے اور اپنے دورِ حکومت میں صحافیوں کے لیے نٸی ہاٶسنگ سوساٸٹیوں و دیگر تمام سہولیات کو فراہم کرنے کا وعدہ کرتی ہے تاکہ صحافی برادری کی معاشی پریشانیوں میں خاطر خواہ کمی ہو سکے

    آزادی صحافت کےلئے احساس ذمہ داری ضروری امرہے۔وزیراعلیٰ پنجاب
    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے آزادی صحافت کے عالمی دن پر آزاری اظہار کے لئے کوشاں صحافیوں کو خراج تحسین پیش کیا،وزیر اعلیٰ مریم نواز نےآزادی اظہار کیلئے شہید ہونے والے برصغیر کے پہلے صحافی مولوی محمد باقر کو سلام پیش کیا،وزیر اعلیٰ مریم نواز نےدور آمریت میں حریت فکر کا علم بلند کرنے والے ہر صحافی کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ میڈیا نے اجتماعی شعور بیدار کرنے کیلئے ناقابل فراموش کردار ادا کیا۔مثبت تبدیلی کے لئے آزادی صحافت کےلئے احساس زمہ داری ضروری امرہے۔ شفافیت ،صحت مند جمہوریت اور باشعور عوام کے لئے اذادی اظہار ضروری امر ہے۔حکومت پنجاب صحافت اور صحافیوں کی فلاح و بہبود کیلئے ممکنہ اقدامات کر رہی ہے۔

    موجودہ دور صحافت اور صحافیوں کے لئے مشکل ترین دور ہے،جان محمد رمضان
    پی ایف یو جے آفیشل کے صدر جان محمد رمضان کا کہنا ہے کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج آزادی صحافت کا دن منایا جا رہا ہے، اقوام متحدہ کی جانب سے 3 مئی کو ہر سال آزادی صحافت کا دن منایا جاتا ہے، جس کا مقصد صحافت کے بنیادی اصولوں کی موجودہ صورتحال پر اعتماد کا اظہار کرنا اور دنیا میں صحافت کی موجودہ صورتحال کی شکل کو پیش کرنا ہے، اس دن کو منانے کا مقصد صحافتی فرائض کے دوران قتل،زخمی یا متاثر ہونے والے صحافیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی اور انہیں خراج عقیدت و تحسین پیش کرنا ہے، صحافت آزادی رائے کا اظہار اور ریاست کے چار ستونوں میں سے ایک اہم ستون ہے،مگر آج ریاست کا یہی ستون نازک دور سے گزر رہا ہے اور اسے کئی چیلنجز کا سامنا ہے، انقلابی رہنما نیلسن منڈیلا نے کہا تھا کہ صحافت جمہوریت کا ستون ہے،خیالات و نظریات کا آزادانہ اظہار اور تنقید و اختلاف رائے کا حق کسی بھی جمہوری معاشرے کے بنیادی اصول ہوتے ہیں، صحافی اور صحافت کی ایک کٹھن تاریخ ہے لیکن موجودہ دور صحافت اور صحافیوں کے لئے مشکل ترین دور ہے جو تمام صحافیوں کو متحد ہوکر ان چیلنجز سے نمٹنا ہوگا

    حقوق کے ساتھ ساتھ صحافتی قدروں اور خبر کی تصدیق کو بھی مدِنظر رکھنا چاہیئے،شازیہ مری
    آزادی صحافت کے عالمی دن پر پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی ترجمان شازیہ مری کا کہنا ہے کہ آزادیِ صحافت کیلے جدوجہد پر تمام صحافیوں کو سلام پیش کرتے ہیں،کٹھن اور مشکل مراحل کے باوجود پاکستان کے صحافیوں نے حق اور سچ کا علم بلند رکھا، سلام ہے ان صحافیوں کو جنہوں نے آمرانہ دور میں سچ لکھنے پر کوڑے کھائے، آمریت کے خلاف جدوجہد میں جیلیں کاٹنے اور کوڑے کھانے والے صحافیوں کو تاریخ ہمیشہ سنہری حروف میں یاد رکھے گی، جن صحافیوں نے سچ کی تلاش میں اپنی جانیں گنوا دیں انہیں سرخ سلام پیش کرتے ہیں، ملک میں جمہوریت اور آئین کی بحالی کے لیئے صحافیوں نے ہمیشہ ہراول دستےکا کردار ادا کیا، آزادیِ اظہارِ رائے اور صحافیوں کے جائز حقوق پر پیپلز پارٹی کا موقف ہمیشہ ایک رہا ہے، آزادیِ اظہارِ رائے پر کوئی سمجھوتا برداشت نہیں، آزادیِ اظہارِ رائے کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے زمہ داری سے سچ کو سامنے لانے والے صحافی خراج کے مستحق ہیں، حقوق کے ساتھ ساتھ صحافتی قدروں اور خبر کی تصدیق کو بھی مدِنظر رکھنا چاہیئے،پیپلز پارٹی مشکل کی ہر گھڑی میں اپنے صحافی بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ کھڑی رہی ہے اور ہمیشہ کھڑی رہے گی،

    حکومتی نااہلی،سماعت سے محروم سینکڑوں بچوں کا مستقل معذور ہونے کا خدشہ

    معذوری کا شکار طالبات کی ملی دارالاطفال گرلز ہائی سکول راجگڑھ آمد،خصوصی تقریب

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    وفاقی حکومت کی طرف سے پاکستان بیت المال کو سماعت وگویائی سے محروم بچوں کے لیے فنڈز نہ مل سکے ،

    سماعت سے محروم بچے چلا رہے ہیں ریسٹورینٹ، صدر مملکت بھی وہاں پہنچ گئے، کیا کہا؟

    ویلڈن پاک فوج، سماعت سے محروم افراد سننے اور بولنے لگے

    چلڈرن ہسپتال کا کوکلیئر امپلانٹ کے تمام اخراجات برداشت کرنے کافیصلہ،ڈاکٹر جاوید اکرم

    صحافی اور صحافتی اداروں کو غیرقانونی دباؤ سے آزاد کریں، ایسوسی ایشن آف الیکٹرانک میڈیا ایڈیٹرز اینڈ نیوز ڈائریکٹرز
    آزادی صحافت کے عالمی دن کے موقع پر ایسوسی ایشن آف الیکٹرانک میڈیا ایڈیٹرز اینڈ نیوز ڈائریکٹرز کا کہنا ہے کہ پاکستان میں صحافی اور صحافتی ادارے کٹھن حالات سے گزر رہے ہیں، ریاستی اور غیر ریاستی عناصر کی جانب سے ٹیلی ویژن پروگراموں کو رکوانا نشریات بند کرانا، صحافیوں کی برطرفی کیلئے غیرضروری دباؤ غیر قانونی مطالبات سمیت انہیں متعدد پابندیوں اور چینلجز کا سامنا رہا ہے اور اس میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ صحافیوں بالخصوص خواتین صحافیوں کی کردار کشی بھی اسی مہم کا حصہ ہے جس میں سیاسی جماعتوں کے کارکنان بھی شامل ہیں، ان تمام چیزوں کا مقصد صحافیوں کو دباؤ میں لاکر اظہار رائے پر قدغن لگانا ہے،صحافیوں کو ایف آئی اے اور دیگر اداروں کی جانب سے نوٹسز کا اجرا اور سوشل میڈیا پر غیرقانونی پابندیاں، اہم مواقع پر موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بند کرنا، متعدد سیاسی اور غیرسیاسی سرگرمیوں کی کوریج رکوانا، پیمرا کے غیر قانونی نوٹسز سب کا مقصد عوام کو معلومات کے حق سے محروم رکھنا ہے جو جمہوری معاشروں کی روح کے صریحاً خلاف ہے، صحافیوں کے اغوا،جبری گمشدگیوں اور جھوٹے مقدمات کی بھی ایک طویل فہرست ہے جس سے ملک میں صحافیوں کو درپیش چیلنجز کی عکاسی ہوتی ہے،پاکستان صحافیوں کیلئے ان خطرناک ترین ممالک میں شامل ہے جہاں اپنے فرائض کی ادائیگی کے دوران متعدد صحافی شہید اور تاحیات معذوری کا شکار ہوئے، ان تمام صحافیوں کی قربانیوں نے ہمارے ارادوں اور عزم کو مزید مستحکم کیا ہے، آزاد اور ذمہ دار میڈیا ریاست، اس کے تمام اداروں اور عوام کے مفاد میں ہے، میڈیا پر قدغنیں لگانے والوں کو پچھتاوے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا اور تاریخ کا یہ سبق سب کو یاد رکھنا چاہیے،ایمنڈ نے صدر اور وزیراعظم سمیت تمام ریاستی اداروں اور سیاسی جماعتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ ملک میں اظہار رائے کی آزادی کو یقینی بنانے کیلئے اپنا کردار ادا کریں، پرنٹ، الیکٹرانک اور بالخصوص سوشل میڈیا سے متعلق کسی بھی قانون سازی سے قبل ایڈیٹرز، نیوز ڈائریکٹرز اور صحافتی تنظیموں سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیں اور غیرقانونی اور غیر آئینی اقدامات کا راستہ بند کریں، صحافی اور صحافتی اداروں کو غیرقانونی دباؤ سے آزاد کریں تاکہ وہ غیرجانب دارانہ اور شفاف ماحول میں اپنے فرائض سرانجام دے سکیں۔

    صحافی برادری کے ساتھ مل کر تعلیمی چیلنجز کا احاطہ کریں گے۔ وزیر تعلیم
    وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے آزادی صحافت کے عالمی دن کے موقع پر پاکستانی صحافیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی صحافی اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر پیشہ ورانہ امور سرانجام دے رہے ہیں۔ پاکستان کے تعلیمی و دیگر مسائل اجاگر کرنے کے حوالے سے صحافیوں کے کردار کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے ملاقات کے دوران انہوں نے مزید کہا کہ تعلیمی و دیگر مافیا کے خطرات کے باوجود صحافی بے باک انداز میں مسائل اجاگر کرتے ہوئے ارباب اختیار کی توجہ مبذول کروا رہے ہیں۔ وزیر تعلیم نے کہا کہ پریس فریڈم کے چیلنجز کے باوجود میڈیا ورکرز کی رپورٹنگ ارباب اختیار کیلئے معاون ثابت ہو رہی ہے۔ انہوں نے فرائض کی ادائیگی میں شہید ہونے والے میڈیا ورکرز کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے مزید کہا کہ صحافیوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانے کیلئے کوشاں ہیں۔ وزیر تعلیم نے میڈیا ورکرز سے تعلیمی و سماجی مسائل اجاگر کرنے اور ان مسائل کے حل کیلئے حکومت کا ساتھ دینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ صحافی بھائیوں کے ساتھ مل کر تعلیمی چیلنجز کا احاطہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی اصلاحات لانے کیلئے تمام سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کر رہے ہیں۔ اس ضمن میں صحافی برادری کی آراء کا بھی خیر مقدم کیا جائے گا۔ وزیر تعلیم نے تعلیمی ایشو کو ہائی لائٹ کرنے کے حوالے سے تعلیمی رپورٹرز کی کاوشوں کو بھی سراہا اور کہا کہ ایجوکیشن رپورٹرز کے ساتھ مل کر تعلیمی نظام میں درستی لائی جائے گی۔

    صحافیوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کےلیے اقدامات عمل میں لائے جائیں،فیصل آباد یونین آف جرنلسٹس
    فیصل آباد یونین آف جرنلسٹس کے زیراہتمام عالمی یوم آزادی صحافت کے حوالے سے ریلی نکالی گئی جس کی قیادت گروپ لیڈر ایف یو جے و مرکزی نائب صدر پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس رانا حبیب الرحمٰن، ممبر فیڈرل ایگزیکٹو کونسل معراج ملک، صدر فیصل آباد یونین آف جرنلسٹسں ساجد خاں، جنرل سیکرٹری میاں کاشف فرید، سابق صدر غلام دستگیر، خاورشفیق رندھاوا نے کی۔اس موقع پر نائب صدور خادم حسین گل، عبدالصبور، جوائنٹ سیکرٹری رباب چیمہ، انفارمیشن سیکرٹری میاں محمد ذیشان، ایگزیکٹو ممبران رانا راشدالعارفین، ظفراللہ خاں، سکندر بٹ، حمزہ شیخ، عدیل مان، ابرار اعوان، محمود احمد، ملک عرفان، شکیل جاوید، اخترعباس اختر، میاں رمضان، اشرف خاں، ملک ظہور، آصف سخی ممبران امنان راجپوت، رانا فیصل، شاہد بٹ، رانا عمران ودیگر نے شرکت کی۔ ریلی ایف یو جے کیمپ آفس سے شروع ہوکر چوک گھنٹہ گھر اختتام پذیر ہوئی۔ اس موقع پر گروپ لیڈر و مرکزی نائب صدر پی ایف یو جے رانا حبیب الرحمٰن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں 3 مئی عالمی یوم آزادی صحافت کا دن صحافیوں کو خراج تحسین پیش کرنے کےلیے منایا جاتا ہے مگر افسوس کہ ملک پاکستان میں ریاست کے چوتھے ستون صحافت کو مکمل آزادی حاصل نہیں ہے صحافیوں کو اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران تشدد کا نشانہ بنانے اور ڈرانے دھمکانے کے ساتھ ساتھ انکے خلاف جھوٹے و بے بنیاد مقدمات درج کیے جاتے ہیں لیکن ہمارے صحافی بھائی تمام تر خطرات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے دلیری اور بہادری کیساتھ حق، سچ کو بلند کررہے ہیں جبکہ حق کا ساتھ دینے پر آج تک فیصل آباد سمیت دنیا بھر میں درجنوں صحافیوں کو ناحق قتل بھی کیا گیا ہے۔ ان تمام تر مشکلات کے باوجود پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے قائدین رانا عظیم اور جی ایم جمالی کی قیادت میں ایف یو جے نے ہمیشہ صحافت پر قدغن لگانے والوں کیخلاف بھرپور مزاحمت کی جس کے باعث آج ہم ایک جگہ پر یکجا نظر آرہے ہیں۔ صدر ایف یو جے ساجد خاں نے کہا کہ موجودہ حالات کے تناظر میں صحافت دن بدن خطرات سے دوچار ہورہی ہے صحافیوں کیجانب سے کرپشن اور بے ضابطگیوں کو بے نقاب کرنے پر کرپٹ عناصر اور مافیا کیطرف سے ان کی منشاء کے مطابق حقائق کو دکھانے اور بیان کرنے کےلیے دباؤ ڈالا جاتاہے گزشتہ دنوں بھی ایف یو جے کے جوائنٹ سیکرٹری عبد الباسط راجپوت نے تھانہ پیپلزکالونی کی ذیلی چوکی طارق آباد کے انچارج رانا ساجد کی خلاف قانون ملزم کو تشدد کا نشانہ بنانے اور مبینہ رشوت وصول کرکے اسے چھوڑنے کی خبر نشر کی جس پر چوکی انچارج نے صحافی کو ہراساں کرنے کےلیے رپٹ درج کردی جس کی وجہ سے ایف یو جے کے ممبران سمیت صحافی برادری میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے مگر ہم اپنے اتحاد اور اتفاق سے ان اوچھے ہتھکنڈوں کو ناکام بنادیں گے جبکہ صحافی برادری جرات کیساتھ عام آدمی کی آواز بلند کرتے رہیں گے۔ جنرل سیکرٹری میاں کاشف فرید نے کہا کہ ریاست کے چوتھے ستون صحافت کی آزادی کےلیے حکومت کیطرف سے قانون سازی تو کی جاتی ہے مگر ان قوانین پر عمل در آمد نہیں کیاجاتا جس کے نتیجہ میں آئے روز صحافیوں پر تشدد کے واقعات رونما ہورہے ہیں اور صحافیوں کیخلاف گھیرا تنگ کیا جارہا ہے۔ ہم حکومت وقت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ صحافیوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کےلیے اقدامات عمل میں لائے جائیں۔
    media fsd

  • فوربز کا صحافی روسی فوج سےمتعلق  فیک نیوز پھیلانے کے  الزام میں ںظر بند

    فوربز کا صحافی روسی فوج سےمتعلق فیک نیوز پھیلانے کے الزام میں ںظر بند

    ماسکو: روس کی ایک عدالت نے مشہور میگزین فوربز سے منسلک صحافی سرگئی منگازوف کو فوج سے متعلق فیک نیوز پھیلانے کے الزام میں دو مہینے نظر بند رکھنے کا حکم دے دیا۔

    باغی ٹی وی : امریکی خبررساں ادارے سی این این کی رپورٹ کے مطابق روس کی سرکاری خبرایجنسی ریا نووسٹی نے بتایا کہ صحافی سرگئی منگازوف کو مبینہ طور پر روسی مسلح افواج کے حوالے سے فیک نیوز چلانے پر گرفتار کیا گیا تھا، جس کے بعد عدالت نے نظربند رکھنے کا حکم دیا۔

    فوربز رشیا نے بیان میں کہا کہ مذکورہ صحافی کم از کم دو ماہ تک نظربند رہے گا، انہیں جمعے کو گرفتار کیا گیا تھا اور ٹرائل کے منتظر تھے روسی خبرایجنسی نے ہفتے کو بتایا تھا کہ فوربز کے صحافی سرگئی منگازوف کو روسی مسلح افواج کے بارے میں غلط خبریں پھیلانے پر گرفتار کیا گیا ہے اور انہیں نظربند کر دیا گیا ہے۔

    ٹائی ٹینک جہاز سے ملنے والی گھڑی 40 کروڑ پاکستانی روپوں میں نیلام

    سرگئی منگازوف کے وکیل کونسٹینٹن ببون نے جمعے کو ایک بیان میں کہا تھا کہ صحافی کو یوکرین کے علاقے بوچا میں پیش آنے والے واقعات کی رپورٹس ٹیلیگرام میں دوبارہ جاری کرنے پر گرفتار کیا گیا ہے ٹیلیگرام پر جاری خبر میں صحافی نے یوکرین کے دارالحکومت کیف کے قریبی علاقے بوچا میں روسی فوجی کی جانب سے مبینہ طور پر کی گئی وحشیانہ کارروائیوں کی خبر شیئر کی تھی جو بی بی سی کی روسی سروس اور ریڈیو فریڈم میں نشر کی گئی تھی۔

    نازیبا ویڈیوز بنانیوالی عراقی ٹک ٹاکر کونامعلوم شخص نے فائرنگ سے قتل کر دیا

    وکیل کونسٹینٹن ببون کا کہنا تھا کہ صحافی پر الزام ہے کہ انہوں نے مصدقہ خبر دینے کی آڑ میں روسی مسلح افواج کے حوالے سے جانتے ہوئے جعلی معلومات پھیلائی ہیں عدالت نے صحافی پر انٹرنیٹ کے استعمال پر پابندی لگائی ہے اور اس کے علاوہ رشتہ داروں، تفتیش کاروں، وکلا اور طبی ماہرین کے علاوہ دیگر افراد سے رابطے رکھنے سے بھی منع کردیا ہے، صحافی کو نظر بند رکھنے کا اقدام احتیاطی تدابیر کے طور پر کیا گیا ہے، روس میں احتیاطی یا انسدادی اقدام ٹرائل پر رکھنا اور اداروں کی حراست میں دینا شامل ہے یا پھر اس دوران ضمانت پر رہائی دی جاتی ہے یا نظر بند رکھا جاتا ہے۔

    ہم سب چیزوں سے بے نیاز ہو کر دعوے کرتے ہیں، جن میں کوئی …

  • لاہور کے صحافیوں کے لئے جلد فیز ٹو لا رہے ہیں،  عظمیٰ بخاری

    لاہور کے صحافیوں کے لئے جلد فیز ٹو لا رہے ہیں، عظمیٰ بخاری

    صوبائی وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا کہ لاہور کے صحافیوں کے لئے جلد فیز ٹو لا رہے ہیں،ہماری ڈکشنری میں فیورٹ ازم نہیں۔

    پریس کلب ہاؤسنگ سوسائٹی کے دورے کے موقع پر پنجاب کی صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ لاہور پریس کلب سوسائٹی میرے دل کے قریب ہے۔شہباز شریف صاحب جب اس سوسائٹی کی ڈیولپمنٹ کررہے تھے تب میں پارلیمانی سیکرٹری کام کررہی تھی۔ انکا کہنا تھا کہ جہاں ہم اس سوسائٹی کو چھوڑ کر گئے یہ اس سے دس سال پیچھے چلے گئی۔پانی کے مسائل کے حوالے سے واسا سے بات ہوئی ہے۔ لیسکو کے جو مسائل ہے اس پر بات چیت ہوئی ہے۔اس سوسائٹی میں آپ کے لئے پارک بننے چاہئیں۔چیف منسٹر پنجاب مریم نواز صاحبہ کے دروازے آپ لئے کھلے ہمیشہ ہیں۔ ماضی میں ایک سی ایم نے پسند نہ پسند پر کچھ فیصلے کئے۔ انہوں نے کہا کہ کینال کی کراسنگ کا ایشو ہے اس کا پی سی ون کرواتے ہیں۔ برج بننے سے صحافی کالونی کے ساتھ دوسری سوسائٹیز کے مسائل بھی حل ہونگے

    وزیراطلاعات پنجاب عظمی زاہد بخاری نے لاہورپریس کلب صحافی کالونی ہربنس پورہ کا دورہ کیا۔ لاہورپریس کلب کے صدر ارشد انصاری، سیکرٹری زاہد عابد،ممبران گورننگ باڈی عمران شیخ، رانا شہزاد، سید بدر سعید، سینئر صحافی جاوید فاروقی، خواجہ نصیر، سدھیر چوہدری، عباس نقوی، مدثر خان، وسیم نیاز، منصور بخاری، فراز فاروقی اور خواجہ منور حسن نے انھیں صحافی کالونی آمدپر خوش آمدید کہا۔صوبائی وزیر اطلاعات نے صحافی کالونی کے بی بلاک اور ایف بلاک کا تفصیلی دورہ کیا۔ اس موقع پر پی جے ایچ ایف، واسا اور پی ایچ اے کے حکام بھی ان کے ہمراہ تھے۔ صدر ارشد انصاری اور سیکرٹری زاہد عابد نے انھیں کالونی کے مسائل سے تفصیلی آگاہ کیا۔عظمی زاہد بخاری نے صحافی کالونی میں درپیش مسائل کے حل کے لئے یقین دہانی کراتے ہوئے کہاکہ صحافی کالونی کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے لئے پی جے ایف کا بورڈ آف گورنرز جلد تشکیل دیا جائے گا، صحافی کالونی کے انتقال کی بحالی کے لئے سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو سے رابطہ کیا گیا ہے اور ایس ایم بی آر انتقال کی بحالی کے لئے آئندہ چند روز میں اپنی مفصل رپورٹ پیش کریں گے۔انھوں نے کہاکہ صحافی کالونی میں ناجائز قابضین کے خلاف موثر حکمت عملی ترتیب دے دی گئی ہے ، صحافیوں کے پلاٹوں کا تحفظ ہماری اولین ترجیح ہے۔ انھوں نے مزیدکہاکہ پی جے ایچ ایف بورڈ کی تشکیل کے بعد ایف بلاک کے ترقیاتی کام بھی ترجیحی بنیادوں پرمکمل کرائے جائیں گے۔انھوں نے کہاکہ صحافی کالونی کے کمرشل ایریا میں تعمیراتی کام شروع کرنے کی ہدایت کر دی گئی ہے جبکہ بی بلاک کے پارکس کو سالانہ ترقیاتی منصوبے میں شامل کرنے کی بھی ہدایات جاری کردی ہیں۔ انھوں نے کہاکہ صحافی کالونی میں بجلی کے مسائل کے حل کے لئے لیسکو حکام سے رابطہ کیا جائے گا۔انھوں نے صحافی کالونی میں صحافیوں کی کثیر تعداد میں رہائش کے باوجود پانی کی فراہمی میں کمی اور سیوریج کی مسنگ لائنزپر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے موقع پر ایم ڈی واسا سے فون پر بات کرتے ہوئے پانی کی سپلائی اور سیوریج کی مسنگ لائنز مکمل کرنے کی ہدایت کی۔ انھوں نے صحافی کالونی کے باہر مین روڈپر یوٹرن بنانے کی ہدایت بھی کی اور صحافی کالونی میں سڑکوں کی تعمیر کے منصوبے کو وزیراعلی کے سڑکوں کے تعمیراتی منصوبے میں شامل کرنے کے لئے ہدایات جاری کیں۔ وزیراطلاعات پنجاب عظمی زاہد بخاری نے کہاکہ صحافی کالونی فیز ٹو کے حوالے سے کام جاری ہے ہمارے ہاں کوئی پسند ناپسند نہیں۔جو بھی حقدار ہے اسے چھت ملے گی اور صحافیوں کو جلد برابری کی بنیاد پر پلاٹ مہیاکئے جائیں گے۔ان کاکہناتھاکہ وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف صحافی دوست ہیں اور وہ وزیراعلی کی ٹیم ممبر اور وزیراطلاعات ہونے کی حیثیت سے صحافیوں کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کریں گی۔انھوں نے صحافی کالونی میں قائم تنورکابھی دورہ کیا اور تنور پر حکومت کے مقررہ کردہ نرخوں پر روٹی ملنے پر اطمینان کا اظہار کیا۔لاہور پریس کلب کے صدر ارشد انصاری نے اس موقع پر کہاکہ عظمی زاہد بخاری ہماری صحافی برادری کا حصہ ہیں، امید ہے موجودہ حکومت صحافیوں کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرے گی۔صوبائی وزیراطلاعات کے صحافی کالونی کے دورے اور مسائل کے حل کی یقین دہانی کرانے پر صدرارشد انصاری نے ان کا شکریہ ادا کیا۔

    نواز شریف ہم قدم، بھتیجی بازی لے گئی، انقلاب آ گیا

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    حریم شاہ مبشر لقمان کے جہاز تک کیسے پہنچی؟ حقائق مبشر لقمان سامنے لے آئے

    متنازعہ ٹک ٹاکر حریم شاہ کی ایک اور نازیبا ویڈیو”لیک”

    مریم نواز کا آٹھ سو کا سوٹ،لاہوری صحافی نے عظمیٰ بخاری سے مدد مانگ لی

    مریم نواز تو شجر کاری مہم بھی کارپٹ پر واک کرکے کرتی ہے،بیرسٹر سیف

    بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

    مہنگائی،غربت،عید کے کپڑے مانگنے پر باپ نے بیٹی کی جان لے لی

    پسند کی شادی کیلئے شوہر،وطن ،مذہب چھوڑنے والی سیماحیدر بھارت میں بنی تشدد کا نشانہ

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

  • اہلیہ بارے جھوٹی خبر،  کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس برہم

    اہلیہ بارے جھوٹی خبر، کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس برہم

    سپریم کورٹ، ایف آئی اے کی جانب سے صحافیوں کو نوٹسز، کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی،پریس ایسوسی ایشن کے وکیل بیرسٹر صلاح الدین نے عدالت میں کہا کہ کیس میں کچھ بھی ارجنٹ نہیں ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ بیرسٹر حیدر وحید کہاں ہیں؟ وکیل نے کہا کہ وہ میڈیا ریگولیشن سے متعلق اپنی درخواست واپس لینا چاہتے ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے استفسار کیا کہ مگر وہ عدالتی کارروائی کے لیے نہیں آئے، کیا ان کی پٹیشن آزادی اظہار کو یقینی بناتی یا مزید روکتی؟ ان کے کیس میں درخواست گزار کون تھے؟ 2022 سے یہ درخواست کس بنیاد پر دائر تھی؟ کیا ان کامقصد پورا ہو گیا ہے؟ درخواست گزاروں میں کوئی چکوال کا تھا کوئی اسلام آباد کا، کون سا مشترکہ مفاد تھا جو ان درخواستگزاروں کو ساتھ لایا تھا؟ میڈیا میں بھی بڑی منتخب رپورٹنگ ہوتی ہے، اب یہ رپورٹ نہیں ہو گا کہ یہ 6 درخواستگزار غائب ہو گئے، اسی لیے ہم نے کہا تھا کہ ہم اپنا یوٹیوب چینل چلائیں گے، کیا حیدر وحید والی درخواست کا کوئی پٹیشنر عدالت میں ہے؟

    بعد ازاں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اٹارنی جنرل کو روسٹرم پر بلایا اور کہا کہ کیا اس طرح کی درخواست عدالت کا غلط استعمال نہیں ہے؟ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ بالکل یہ عمل کا غلط استعمال ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا ایسی درخواستیں عدلیہ کی آزادی یقینی بناتی ہیں یا اسے کم کرتی ہیں؟ اس پٹیشن کے تمام درخواستگزاروں کو نوٹس کر کے طلب کیوں نہ کریں؟اٹارنی جنرل نے بھی درخواستگزاروں کو نوٹس جاری کرنے کی حمایت کردی،بیرسٹر صلاح الدین نے کہا کہ عوامی مفاد کی درخواست واپس نہیں ہو سکتی، آرمی چیف کی توسیع سے متعلق ریاض حنیف راہی والی درخواست بھی واپس نہیں لینے دی گئی تھی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کہیں آپ کی ان لوگوں سے عدالت کے باہر ہی سیٹلمنٹ تو نہیں ہوگئی ہے؟ بیرسٹر صلاح الدین نے کہا کہ ہم ایک صحافتی ادارہ ہیں ایسی سیٹلمنٹ کے وسائل نہیں ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ضروری نہیں پیسے ہی ہوں یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کہا گیا ہو آئندہ میری خبر اچھی چھاپ دینا

    سپریم کورٹ نے میڈیا ریگولیشن والی پٹیشن کے درخواست گزاروں کو ذاتی حیثیت میں طلب کرتے ہوئے نوٹس جاری کر دیے،

    اس کے بعد چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے استفسار کیا کہ کوئی اور ارجنٹ معاملہ ہے؟ اس پر بیرسٹر صلاح الدین کا مطیع اللہ جان کیس کا حوالہ دیا ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل اگر میں ایک کیس کو اوپن اینڈ شٹ کہوں تو وہ مطیع اللہ جان کیس کا ہے، آپ کے پاس اس واقعے کی ویڈیو موجود ہے، حکومت اخبار میں اشتہار کیوں نہیں دیتی کہ ان لوگوں کی تلاش ہے؟ اگر آپ کچھ نہیں کرتے تو ایسا آرڈر آئے گا جو آپ کو پسند نہیں آئے گا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا انہوں نے انٹرویو ریکارڈ کیا تھا؟ یہ کیسی صحافت ہوئی؟ آج کل سلیکٹو رپورٹنگ ہوتی ہے اس لئے ہم اپنا یوٹیوب چینل چلائیں گے، ایسی ایسی خبریں چلتی ہیں جن کی کوئی بنیاد ہی نہیں ہوتی،اگلے ہی دن میری اہلیہ کے بارے میں غلط خبر چل گئی، کہا گیا وہ ایک میٹنگ میں بیٹھی ہوئی تھیں، تو کیا ہم سارا دن بیٹھ کر وضاحتیں جاری کرتے رہیں؟ پھر کہا جائے گا چیف جسٹس کی بیوی نے تو تردید جاری نہیں کی، کیا تاثر جائے گا اس خبر سے کہ چیف جسٹس کی اہلیہ آفیشل میٹنگ میں بیٹھی تھیں؟ تھوڑا سا خوف کریں، ہمارا نہیں تو اللہ تعالیٰ کا خوف کر لیں، کبھی کبھی سچ بول لیں،جھوٹی خبر پر دو چار پروگرام بنائو، چلائو اور یوٹویب سے پیسہ کمائو، خبر غلط ہو تو پھر یوٹیوب سے ہی کاٹو، میرے خلاف کیا جھوٹی خبر چلتی ہے آئی ڈونٹ کیئر، ادارے کی ساکھ تباہ ہوتی ہے، ایسی خبر چلانے والوں کو کیا توہین عدالت کا نوٹس جاری کریں؟ کیا فرد جرم عائد کر کے انہیں جیل بھیجیں؟ اپنے تھمب نیل اور اپنی خبر میں انہوں نے یہی کہہ دیا، کیا زیادہ ری ٹوئٹس ، لائکس سے پیسے کمائے جارہے ہیں؟ کیا کسی صحافی پر جھوٹ بولنا ثابت ہوجائے تو صحافتی ادارے اس کی ممبر شپ ختم کریں گے؟بیرسٹر صلاح الدین نے کہا کہ وارننگ دے کر، شوکاز کر کے ممبر شپ ختم کر سکتے ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس سے کیا ہو جائے گا؟ آپ افسر آف کورٹ ہیں حل بتائیں، بیرسٹر صلاح الدین نے کہا کہ ہتک عزت کا قانون پاکستان میں اتنا مضبوط نہیں اس لیے یہ سب ہوتا ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ "کیا وکلا نے کبھی اپنے ممبر کے خلاف کارروائی کی ہے؟ صحافیوں نے کی ہے؟ یہ سب تو ٹریڈ یونین بن گئی ہیں، ہم نے تو آپ کو اپنے ادارے میں کر کے دکھایا آپ بھی کر کے دکھائیں نا”۔کیا پیسے کمانے کیلئے ایسی خبریں خود سے تیار کی جاتی ہیں،
    اگر کوئی صحافی اپنی خبر میں جھوٹا ثابت ہو تو اس کے خلاف کیا کارروائی ہوتی ہے،بیرسٹر صلاح الدین نے کہا کہ برطانیہ میں ہتک عزت کا قانون بہت مضبوط ہے، برطانیہ میں پاکستانی چینلز بھاری جرمانے عائد ہونے کے سبب نشریات جاری نہیں رکھ سکتے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اب اگر کسی کو نوٹس جاری کرکے طلب کریں تو سارے ہمارے سامنے کھڑے ہو جائیں گے،وہ معاشرے ترقی کرتے ہیں جہاں اداروں میں اندرونی احتساب ہو، ہم نے تو اپنا احتساب کرکے دکھایا،

    عدالت نے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کرتے ہوئے فریقین سے تحریری دلائل بھی طلب کرلیے،عدالت نے ریمارکس دیے کہ سابقہ بینچ کی دوبارہ دستیابی پر کیس دوبارہ مقرر کیا جائے گا

    صحافیوں کو جاری نوٹسز سے متعلق کیس،اگرگزشتہ درخواست پر فیصلہ ہو جاتا تو آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتا،چیف جسٹس

    مونال ریسٹورنٹ کیس،ریکارڈ فوراً پیش کریں ورنہ توہین عدالت کا نوٹس،چیف جسٹس برہم

    اسقاط حمل کو جرم کی تعریف سے نکالنے کی درخواست پر نوٹس جاری

    عمران خان کو رہا، عوامی مینڈیٹ کی قدر کی جائے،عارف علوی کا وکلا کنونشن سے خطاب

    جماعت اسلامی نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کے لیے بنائے گئے انکوائری کمیشن کو مسترد کر دیا۔

    ججز خط کی انکوائری، سپریم کورٹ بار کا تصدق جیلانی کو کمیشن کا سربراہ مقرر کرنے کا اقدام خوش آئند قرار

    ججز کا خط، سابق چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی انکوائری کمیشن کے سربراہ مقرر

    ہائیکورٹ کے 6 ججز نے جو بہادری دکھائی ہیں یہ قوم کے ہیرو ہیں،اسد قیصر

    ججز کے خط نے ثابت کردیا کہ نظام انصاف مفلوج ہوچکا، لہذا چیف جسٹس مستعفی ہو ، پی ٹی آئی

  • سوشل میڈیا پر حساس مذہبی نوعیت کی جھوٹی افواہ پھیلانے  پرصحافی  گرفتار، مقدمہ درج

    سوشل میڈیا پر حساس مذہبی نوعیت کی جھوٹی افواہ پھیلانے پرصحافی گرفتار، مقدمہ درج

    راولپنڈی :سوشل میڈیا پر حساس مذہبی نوعیت کی جھوٹی افواہ پھیلانے پر اسرار راجپوت کے خلاف مقدمہ درج کر کے گرفتار کر لیا گیا-

    باغی ٹی وی : ترجمان راولپنڈی پولیس کے مطابق پیرودھائی پولیس نے میرٹ پر تفتیش کا آغاز کردیا،اسرار راجپوت نے گزشتہ شب ٹوئٹر پر جھوٹی خبر دی کہ تھانہ پیرودھائی کے علاقہ سادات کالونی میں امام بارگاہ پر مشتعل افراد نے حملہ کردیا ہے، جبکہ ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا تھا،حساس نوعیت کے معاملہ پر بے بنیاد خبر سے نہ صرف علاقہ میں سخت خوف و ہراس پھیلا بلکہ مذہبی طبقات کے جذبات بھی مجروح ہوئے-

    ترجمان راولپنڈی پولیس کے مطابق پ تھانہ پیرودھائی پولیس کو اہل علاقہ کی جانب سے مذکورہ ملزم کے خلاف مزید درخواستیں موصول ہوئیں جن میں قانونی کاروائی کا مطالبہ کیا گیا ، راولپنڈی پولیس صحافی برادری کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے، تاہم ذمہ دارانہ رپورٹنگ کو بھی مقدم رکھنا ضروری ہے، آزادی اظہار رائے کسی کو فساد اور شرانگیزی کے لیے جھوٹی افواہیں پھیلانے کی اجازت نہیں دیتی،شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے راولپنڈی پولیس ہمہ وقت سرگرم عمل ہے-

    وفاقی وزیر داخلہ کی اووربلنگ کیخلاف کریک ڈاؤن کرنے کی ہدایت

    دوسری جانب راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹ نے صحافی اسرار احمد راجپوت کے خلاف راولپنڈی پولیس کی جانب سے بنیادی قانونی تقاضوں کو پورا کیا بغیر اندارج مقدمہ اور گرفتاری کے اقدام کی بھرپور مذمت کی-

    راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹ نے ایف آئی آر کے فوری اخراج اور رہائی کا مطالبہ کیا اور پولیس کی انتقامی کاروائی کے خلاف کل پیر کے روز تین بجے نیشنل پریس کلب کے باہر احتجاج مظاہرہ کا اعلان کیا-

    آر آئی یو جے کے صدر طارق علی ورک ،جنرل سیکرٹری آصف بشیر چوہدری اور مجلس عاملہ کے اراکین کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرار احمد راجپوت راولپنڈی میں کرائم رپورٹنگ کرنے والے ایک معتبر صحافی ہیں جنہوں نے ہمیشہ حق اور سچ کی آواز بلند کی ہے_ گذشتہ روز انھوں نے آئی جی پنجاب کو سول ایوارڑ دینے کے معاملے پر تنقید کی تھی اور سیاسی ورکروں کے خلاف انکی کاروائیوں کو ہدف تنقید بنایا تھا –

    جماعت اسلامی کا غزہ مارچ،ڈی چوک پر دھرنا،پولیس اور شرکاء میں بحث

    جس کے بعد راولپنڈی پولیس کی جانب سے ان کے ایک ایسے ٹویٹ کو بہانہ بنا کر گرفتار کر لیا گیا ہے جسے وہ ڈیلیٹ بھی کر چکے تھے_ آر آئی یو جے نے بنیادی قانونی تقاضے پورے کیے بغیر مذہبی جذبات مجروح کرنے،اشتعال پھیلانے اور مذہبی منافرت کو ہوا دینے جیسی سنگین دفعات کے تحت مقدمے کے اندراج کو پولیس کی اعلی قیادت کی انتقامی کاروائی اور مذہب کارڈ کا استعمال قرار دیا ہے_ واضع رہے کہ مقدمہ ایک ایسے وقت درج کیا گیا جب اسرار احمد راجپوت ٹویٹ ڈیلیٹ کر کے اس پر وضاحت بھی دے چکے تھے_

    آر آئی یو جے ایف آئی آر اور گرفتاری کو پولیس کی انتقامی کاروائی اور انصاف کے بنیادی تقاضوں اور آزادی اظہار رائے کے خلاف سمجھتی ہے اور وزیر اعلی پنجاب سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ معاملے کا فوری نوٹس لیں- آر آئی یو جے معاملے پر قانونی چارہ جوئی اور آئی جی پولیس سمیت اعلی افسران کے دفاتر کے باہر احتجاج کی حکمت عملی پر بھی غور کر رہی ہے_

    پنجاب حکومت کا ایسٹر پر 10 ہزار مسیحی خاندانوں کی کفالت کا فیصلہ

  • صحافی اور   یوٹیوبر اسد طور  رہا

    صحافی اور یوٹیوبر اسد طور رہا

    اسلام آباد: عدالت نے صحافی اور یوٹیوبر اسد طو ر کو رہا کر دیا گیا-

    باغی ٹی وی: اسپیشل جج سینٹرل ہمایوں دلاور نے اسد طور کی درخواست ضمانت بعد از گرفتاری پر سماعت کی، اسد طور کی جانب سے ان کے وکلا ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ عدالت میں پیش ہوئے جبکہ کیس کے تفتیشی افسر ریکارڈ سمیت عدالت میں پیش ہوئے، ایف آئی اے کے اسپیشل پراسیکیوٹر سید اشفاق حسین شاہ بھی عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔

    اسد طورکے وکیل نے سپریم کورٹ کی آبزرویشن عدالت میں جمع کروائی جس پر عدالت نے تفتیشی افسر اور ایف آئی اے کے پراسیکیوٹر سے پوچھا یہ آبزرویشن درست ہے؟ ایف آئی اے کے اسپیشل پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ جی یہ آبزرویشن درست ہے۔

    عدالت نے اسد طور کی ضمانت بعد از گرفتاری منظور کرتے ہوئے انہیں 5 ہزار کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا، ایف آئی اے پراسیکیوٹر کی جانب سے اسد طور کی درخواست ضمانت پر مخالفت نہیں کی گئی جبکہ عدالت نے اسد طور کو رہا کرنے کا حکم بھی جاری کیا۔

    دوسری جانب اسلام آباد ہائیکورٹ نے اسد طور کی ایف آئی اے نوٹسز کے خلاف درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے اسد طور کو جاری نوٹسز کو خلاف قانون قرار دے دیا، عدالت نے اپنے تحریری فیصلے میں لکھا کہ نوٹسز خلاف قانون جاری ہوئے پھر ایف آئی آر درج ہو گئی، ایف آئی آر درج ہونے کے بعد متعلقہ فورم سے رجوع کیا جاسکتا ہے، ازخود نوٹس کا اختیار نہیں اس لیے اسد طور کو رہا کرنے کا حکم نہیں دے سکتے، صرف نوٹسز کو چیلنج کیا گیا تھا اس لیے درخواست آبزرویشنز کے ساتھ نمٹا رہے ہیں۔

  • قومی  اسمبلی ، افتتاحی  اجلا س کیلئے نئے  پریس گیلری کارڈز جاری کئے جائیں گے

    قومی اسمبلی ، افتتاحی اجلا س کیلئے نئے پریس گیلری کارڈز جاری کئے جائیں گے

    16ویں قومی اسمبلی کے افتتاحی اجلا س کیلئے نئے پریس گیلری کارڈز جاری کئے جائیں گے ۔

    16ویں قومی اسمبلی کے افتتاحی اجلاس ، سپیکر اور ڈپٹی سپیکر اور قائد ایوان کے انتخابات کیلئے منعقد ہونے والے اجلاس کیلئے میڈیا کے نمائندوں کیلئے نئے پریس گیلری کارڈ جاری کئے جائیں گے ، پریس گیلری کیلئے جاری کئے گئے پرانے کارڈ منسوخ ہو چکے ہیں ،لہذا پرانے کارڈ پر پارلیمنٹ ہاوس میں داخلے کی اجازت نہیں ہو گی، میڈیا کے نمائندوں سے گزارش ہے کہ وہ پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ سے اپنے نئے کارڈ کے اجرا کیلئے رابطہ کریں ۔ پریس گیلری میں صرف نئے کارڈ کے حامل میڈیا کے نمائندوں کو داخلے کی اجازت ہو گی ۔

    پریس گیلری میں محدود نشستیں موجود ہیں لہذا کسی بد نظمی سے بچنے اور سیکورٹی ایشو ز کے پیش نظر پریس گیلری میں موجود نشستوں کے مطابق کارڈ جاری کئے جائیں گے۔ تمام میڈیا نمائندوں سے درخوست ہے کہ وہ پارلیمنٹ ہاوس میں داخلےکے موقع پر اپنے کارڈ اویزاں رکھیں اور سیکورٹی پر مامور عملے سے تعاون کریں ۔

    پنجاب اسمبلی اجلاس، اراکین پہنچ گئے

    جسٹس مظاہر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل پر اٹھائے اعتراضات

    ہائیکورٹ نے کیس نمٹا کرتعصب کا مظاہرہ کیا،عمران خان کی سپریم کورٹ میں درخواست

    جسٹس مظاہر نقوی نے جوڈیشل کونسل کے جاری کردہ دونوں شوکاز نوٹس چیلنج کردیئے

    ،اگر کوئی جج سپریم کورٹ کی ساکھ تباہ کر کے استعفی دے جائے تو کیا اس سے خطرہ ہمیں نہیں ہوگا؟

    قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں نو منتخب معزز ممبران قومی اسمبلی کی سہولت کے لیے کمیٹی روم نمبر 2 میں سہولت سینٹر قائم کر دیا گیا ہے، فیسیلیٹیشن سینٹر میں نو منتخب معزز ممبران کی رجسٹریشن کے علاؤہ کارڈز اور دیگر ضروری دستاویزات کے لیے فوٹو بنائے جائیں گے ،فیسیلیٹیشن سینٹر 22 فروری سے قومی اسمبلی کے افتتاحی اجلاس تک صبح 10 بجے سے سہ پہر 3 بجے تک نو منتخب معزز ممبران قومی اسمبلی کی رجسٹریشن کیلئے خدمات سر انجام دیتا رہے گا،نو منتخب معزز ممبران سے درخواست ہے کہ وہ رجسٹریشن کے سلسلے میں کسی دشواری سے بچنے کیلئے 22 فروری سے اپنی رجسٹریشن کیلئے تشریف لائیں،نو منتخب معزز ممبران قومی اسمبلی رجسٹریشن کے لیے اپنے قومی شناختی کارڈ سمیت دیگر ضروری دستاویزات ہمراہ رکھیں،

  • چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف مہم:ایف آئی سائبر کرائم نے دو صحافیوں کو طلب کر لیا

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف مہم:ایف آئی سائبر کرائم نے دو صحافیوں کو طلب کر لیا

    اسلام آباد: وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) سائبر کرائم نے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف چلائی جانے والی مہم پر صحافی اسد طور اور عمران ریاض کو طلب کرلیا۔

    باغی ٹی وی : ایف آئی اے سائبر کرائم رپورٹنگ سینٹر کی طرف سے صحافی اسد طور اور عمران ریاض کو نوٹسز جاری کیے گئے ہیں، دونوں صحافیوں کو کل 23 فروری کو طلب کیا گیا ہے، وٹسز کے مطابق صحافی اسد طور اور عمران ریاض کو چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف چلائی جانے والی سوشل میڈیا مہم سے متعلق بیان کیلئے طلب کیا گیا ہےصحافی عمران ریاض کو ایف آئی اے سائبر کرائم رپورٹنگ سنٹر گلبرگ لاہور جبکہ اسد طور کو ایف آئی اے سائبر کرائم رپورٹنگ سنٹر اسلام آباد میں پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    آپ نے جس فیصلے کا حوالہ دیا اس میں حتمی فیصلہ ہو چکا ہے،ڈی سی …

    سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کمپنیاں پروپیگنڈے کی روک تھام کے اقدامات کریں۔مرتضیٰ سولنگی
    دوسری جانب نگراں وزیرِ اطلاعات مرتضیٰ سولنگی کا کہنا ہے کہ حکومت سوشل میڈیا پر غیرقانونی سرگرمیوں پر سخت کارروائی کرے گی، اظہار رائے کی آزادی قانون کے دائرے میں ہے، سوشل میڈیا پر کچھ لوگ عوام کو اُکسا رہے ہیں، کسی کو امن و امان خراب کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کمپنیاں پروپیگنڈے کی روک تھام کے اقدامات کریں۔

    واضح رہے کہ نگران حکومت نےسوشل میڈیا پر منفی پراپیگنڈہ مہم چلانے والوں کے خلاف ایکشن لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ وفاقی کابینہ نےالیکشن کمیشن اور سرکاری افسران کےخلاف سوشل میڈیا پر مہم چلانے والوں کیخلاف 5 رکنی جے آئی ٹی تشکیل دینے کی منظوری دیدی ہےکابینہ نے یہ جے آئی ٹی امتناع الیکٹرانک جرائم ایکٹ 2016کی سیکشن 30کے تحت تشکیل دینے کی منظوری دی ہے۔

    اڈیالہ جیل انتظامیہ کا بشری بی بی کو جیل منتقل کرنے سے انکار

    نو ٹیفیکیشن کے مطابق جے آئی ٹی کے کنوینر ا یڈیشنل ڈی جی ایف آئی اے ہوں گے، انٹیلی جنس بیورو ‘ آئی ایس آئی اور پی ٹی اے کا ایک ایک نمائندہ جے آئی ٹی میں شامل ہوگا جو گر یڈ بیس سے کم عہدے کا افسر نہیں ہو گانادرا کا ایک افسر ممبر ہوگا جو گریڈ انیس سے کم عہدے کا افسر نہیں ہوگا،جے آئی ٹی کسی اور ممبر کو بھی شامل ( Opt) کرسکتی ہے۔

    چیف جسٹس کیخلاف سوشل میڈیا پر دھمکی آمیز مہم چلانے والا شخص گرفتار

    جے آئی ٹی کی ٹی او آر ( Terms of Reference) کا تعین کر دیاگیا ہے۔ تین رکنی ٹی او آر کے تحت جے آئی ٹی سوشل میڈیا پر چلائی گئی بد نیتی پر مبنی مہم کی تحقیقات کرے گی جس کا مقصد2024کے الیکشن کے تناظر میں سول سرونٹس کے امیج کو مجروح کرناتھا۔جے آئی ٹی ملزموں کی نشا ندہی کرکے قابل اطلاق قوانین کے تحت استغاثہ کی کا روائی کرے گی۔

  • روڈا کے تحت صحافیوں کوپلاٹ دینے کا اقدام لاہورہائیکورٹ میں چیلنج

    روڈا کے تحت صحافیوں کوپلاٹ دینے کا اقدام لاہورہائیکورٹ میں چیلنج

    لاہور: روڈا کے تحت صحافیوں کوپلاٹ دینے کا اقدام لاہورہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا گیا

    درخواست گزاروں کی حد تک صحافیوں کےپلاٹ دینے پرحکم امتناع جاری کر دیا گیا،عدالت نے پنجاب حکومت اور روڈا کےاشتہار پرعملدرآمد عدالتی حکم سے مشروط کردیا ،عدالت نے پنجاب حکومت ، سی ای اوروڈا ، پنجاب جرنلسٹ ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کو نوٹس جاری کر دیا،لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس سلطان تنویر نے درخواست پر سماعت کی

    عدالت نے استفسار کیا کہ انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ ملازمین کو نظر انداز کر کے پلاٹس کی الاٹمنٹ کیسے ہوسکتی ہے؟محکمہ اطلاعات کے ملازمین خواجہ محمد سمیع اللہ رفیق و دیگر کی درخواست پر سماعت کی گئی،جسٹس سلطان تنویر احمد نے استفسار کیا کہ آپ نے اس اشتہار کو کیوں چیلنج کیا ؟بیرسٹر سید علی نعمان نے کہا کہ پنجاب جرنلسٹ ہاؤسنگ فاؤنڈیشن ایک ادارہ ہے ،ادارہ انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے زیر سرپرستی کام کرتا ہے، جرنلسٹ ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کا کام صحافیوں کی فلاح و بہبود ہے ،فورم کا کام صحافیوں کو رہائش کیلئے بلا معاوضہ بغیر منافع پلاٹ فراہم کرنا ہے،انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ ملازمین کا کوٹہ 2004قانون میں مختص کیا گیا،الاٹمنٹ کے فارم جاری کرنا ، پی جے ایچ ایف کاکام ہے، روڈا ڈویلپمنٹ اتھارٹی ہے اس کا اس میں کوئی دخل نہیں بنتا ، جسٹس سلطان تنویر احمد نے کہا کہ جن حضرات کو کوٹہ دیا گیا اس سے آپ کو کیا اعتراض ہے؟وکیل نے کہا کہ صحافیوں کی لسٹ لاہور پریس کلب مرتب کر کے فورم کو بھجواتی ہے ، جرنلسٹ فاؤنڈیشن صرف ڈویلپمنٹ چارجز کے عوض پلاٹ کی الاٹمنٹ کرتی ہے،