Baaghi TV

Tag: صحافی

  • الیکشن کمیشن حکام نے صحافیوں کو بین الاقوامی مبصرین سے ملنے سے روک دیا

    الیکشن کمیشن حکام نے صحافیوں کو بین الاقوامی مبصرین سے ملنے سے روک دیا

    الیکشن کمیشن حکام کی ہٹ دھرمی جاری ہے، بیٹ رپورٹرز کو الیکشن کمیشن میں کوریج کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے

    آج عام انتخابات کے لئےپاکستان آئے بین الاقوامی مبصرین الیکشن کمیشن آئے تو الیکشن کمیشن حکام نے صحافیوں کو بین الاقوامی مبصرین سے ملنے سے روک دیا، صحافیوں نے بین الاقوامی مبصرین سے ملاقات کی کوشش کی تا ہم الیکشن کمیشن حکام کی جانب سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی، جس پر صحافیوں نے احتجاج کیا ہے،

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر الیکشن کمیشن کی بیٹ کرنیوالے صحافی محمد اویس لکھتے ہیں کہ الیکشن کمیشن کی ہٹ دھرمی ،غرملکی مبصرین کو الیکشن کمیشن بیٹ رپورٹرز کے میڈیا روم میں داخل ہونے سے روک دیا،صاف و شفاف الیکشن کون ماننے گا اگر اس طرح کا رویہ ہوگا؟

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن حکام کی جانب سے صحافیوں کو کوریج کرنے سے روکنے پر چند روز قبل صحافیوں نے احتجاج بھی کیا تھا،الیکشن کمیشن کے باہر صحافیوں نے نعرے بازی کی، صحافیوں کا کہنا تھا کہ رپورٹرز کی نقل و حرکت کی نگرانی کی جاتی ہے، ڈیٹا نا شیئر کیا جاتا ہے نا جواب دیا جاتا ہے،الیکشن کمیشن کے رویہ کے خلاف الیکشن کمیشن بیٹ رپورٹر نے الیکشن کمیشن کے مرکزی دروازے پر احتجاج کیا اور کہا کہ الیکشن کمیشن انفارمیشن کو روک رہا ہے میڈیا روم کے علاوہ کسی صحافی کو کسی برانچ میں جانے نہیں دیا جاتا.

    عائشہ رجب علی پی ٹی آئی کے ساتھ ہاتھ کر گئی، استحکام پاکستان پارٹی میں شامل

    ووٹ ایک قومی فریضہ ہے اسے خریدنا یا بیچنا حرام ہے،مولانازاہد محمود قاسمی

    حلف اٹھا کر پیسے لیں، ووٹ نہ دیں،گنہگار نہیں ہوں گے،راشد محمود سومرو

    پی ٹی آئی کو ووٹ دینے والے کل کو شہیدوں کو کیا منہ دکھائیں گے؟احسن اقبال

    عمران خان کیخلاف بات کرنے پر پی ٹی آئی رہنما نے امام مسجد کو منافق کہہ دیا

    خیبر پختونخوا والو، آپ بھی جھوٹے شخص کے جھانسے میں آگئے؟ نواز شریف کا سوال

    مریم نواز کے جلسے میں پارٹی پرچم پھاڑنے والے طالب علموں پر مقدمہ درج

    ہم ووٹ مانگنے جاتے تو لوگ خواجہ سرا سمجھ کر 50 کا نوٹ دیتے، نایاب علی

    قبل ازیں نگران وفاقی وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی نے بین الاقوامی مبصرین کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ انتخابات میں صرف چار دن باقی رہ گئے ہیں،پاکستان دنیا کی پانچویں بڑی جمہوریت ہے،انتخابات کے حوالے سے انتظامات مکمل کرلئے گئے ہیں، قومی اسمبلی کی 266 نشستوں پر انتخابات ہو رہے ہیں،انتخابات میں سیکورٹی کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے، پولنگ اسٹیشنوں پر سیکورٹی کے بھرپور انتظامات کئے گئے ہیں، پرامن اور شفاف انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنایا جائے گا، پہلے حصے میں پولیس، دوسرے میں رینجرز اور ایف سی سیکورٹی کے فرائض سرانجام دیں گے، 28.8ملین ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے،شفاف الیکشن کیلئے بہترین انتظامات کیے گئے ہیں،پرامن اور شفاف الیکشن کیلئے تمام وسائل استعمال کیے جارہے ہیں،پاکستان آزاد ملک ہے، سب کو تنقید کا حق حاصل ہے،عدالتیں آزاد ہیں، نگران حکومت انہیں کنٹرول نہیں کرسکتی،پاکستان دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں کر رہا ہے، ہماری سیکورٹی فورسز انتخابات کیلئے مکمل طور پر تیار ہیں،

  • تنقید کی بناء پر صحافیوں کو جاری نوٹس فوری واپس لیےجائیں،چیف جسٹس کا حکم

    تنقید کی بناء پر صحافیوں کو جاری نوٹس فوری واپس لیےجائیں،چیف جسٹس کا حکم

    سپریم کورٹ،ایف ائی اے کی جانب سے صحافیوں کو ہراساں کرنے کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی،ہراساں کیے جانے والے صحافی کورٹ میں پیش ہوئے،صحافیوں میں عبد القیوم صدیقی ، سہیل رشید، فیاض محمود اور ثاقب بشیر شامل تھے

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ اٹارنی جنرل منصور اعوان عدالت میں پیش کتنے کیسز ہیں؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ چار درخواستیں ہیں جن میں قیوم صدیقی اور اسد طور درخواستگزارہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا جرنلسٹ ڈیفنس کمیٹی کے پاکستان بار کے نمائندے موجود ہیں؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ جرنلسٹ ڈیفنس کمیٹی اب ختم ہو چکی، وکیل حیدر وحید نے کہا کہ ہم نے وفاقی حکومت کو آزادی اظہار رائے کو ریگولیٹ کرنے کا حکم دینے کی درخواست کی تھی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کی درخواست بعد میں دیکھیں گے،سب سے پہلے تو قیوم صدیقی بتائیں کہ کیس خود چلانا ہے یا پریس ایسوسی ایشن کے صدر دلائل دیں گے؟ صحافی نے کہا کہ میں کچھ حقائق سامنے رکھنا چاہتا ہوں،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ قدرت کا نظام دیکھیں کہ ہم نے ازخود نوٹس کورٹ نمبر دو میں لیا لیکن معاملہ 5 رکنی بنچ کے پاس ازخود نوٹس کے اختیار کے لیے چلا گیا، 5 رکنی بنچ نے طے کیا کہ 184 تین کا ازخود نوٹس لینے کا اختیار صرف چیف جسٹس کا ہے، صحافیوں کی ہی نہیں ججز کی بھی آزادی اظہار رائے ہوتی ہے،عبدالقیوم صدیقی آپ نے تو کہا تھا کہ آپ اس کیس کو چلانا نہیں چاہتے، صحافی نے کہا کہ جب معاملہ جسٹس اعجازالاحسن کے بنچ میں گیا تو کہا تھا کہ کیس نہیں چلانا چاہتا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سپریم کورٹ نے کیس نمٹانے کے بجائے 2021 سے سرد خانے میں رکھ دیا، بتائیں کہ تب کیا درخواست تھی آپ کی اور اب کیا ہے،

    اسد طور صاحب آپ کی مرضی نہیں ہے کہ ٹہلتے ہوئے آئیں اور کہیں کہ اپنی درخواست واپس لے رہا ہوں،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اسد طور پر تشدد ہوا کیا ان کا پتہ چلا کہ کون لوگ تھے؟کیا آپ ان کی شکلیں پہچان سکتے ہیں؟اسد طور نے کہا کہ جی بالکل میں ان کی شکلیں پہچان سکتا ہوں، جو ایف آئی آر دی تھی اس میں بھی میں تشدد کرنے والوں نے اپنا تعارف کروایا تھا.اسد طور نے درخواست واپس لینے کی استدعا کردی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اسد طور سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ نے جھوٹا الزام لگایا ہے؟ اگر آپ پر دباؤ ہے تو ہم آپ کو پیچھے نہیں ہٹنے دیں گے، اسد طور نے کہا کہ میں ایف آئی آر کو اون کر رہا ہوں لیکن اس درخواست میں مجھے غیر ضروری طور پر شامل کیا گیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اسد طور صاحب آپ کی مرضی نہیں ہے کہ ٹہلتے ہوئے آئیں اور کہیں کہ اپنی درخواست واپس لے رہا ہوں،کیا اسد طور کا کیس فعال ہے یا سرد خانے کی نظر ہوگیا ہے؟ اسد طور نے کہا کہ سال 2021 میں دائر کی گئی پٹیشن میں مجھے ٹریپ کیا گیا تھا، تین سال پرانی درخواست سے خود کو الگ کر رہا ہوں، جو حالیہ اعلامیہ ہے اس سے متفق ہوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا آپ نے جھوٹے الزامات لگائے تھے؟ اسد طور نے کہا کہ ایف آئی آر میں عائد الزامات پر قائم ہوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ آپ کیس بھلے نہ چلائیں ہم آپ کو بنیادی حقوق دلوائیں گے، آپ پر دبائو ہے تو کیس واپس نہیں لینے دینگے، اسد طور نے کہا کہ مجھ پر کسی قسم کا کوئی دبائو نہیں ہے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے صدر سپریم کورٹ بار شہزاد شوکت کو روسٹرم پر بلا لیا ، اسد طور نے کہا کہ سال 2021 میں جب درخواست دائر ہوئی تو سمجھا تھا کہ مطیع اللہ جان بھی ساتھ ہیں،جس انداز میں کمرہ عدالت میں درخواست دی گئی وہ طریقہ کار درست نہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جس انداز میں درخواست لگی اس سے میں بھی مطمئن نہیں ہوں،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم یقینی بنائیں گے کہ پاکستان کا ہر صحافی جو لکھنا چاہے وہ آزادی کے ساتھ لکھ سکے۔صحافیوں کو ہراساں کرنے کیخلاف کیس سرد خانے میں چلا گیا،ہم کب تک ماضی کی غلطیوں کو دہراتے رہیں گے،ہمیں سچ بولنا چاہیے،اگر ہم سے غلطی ہوئی تو انگلی اٹھائیں، یہاں مٹی پاؤ نظام چل رہا ہے،جب تک کسی کو قابل احتساب نہیں ٹھہرائیں گے ایسا ہوتا رہے گا،

    میرا مذاق بھی اڑائیں مجھے کوئی فکر نہیں، کسی کو تشدد پر اکسانے یا دیگر انتشار پھیلانے کا معاملہ الگ ہے،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نےصحافیوں کو جاری ایف آئی اے نوٹس فوری واپس لینے کا حکم دے دیا ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ صحافیوں کو اگر تنقید کرنے پر نوٹس دیئے گئے ہیں تو وہ واپس لیں، اگر خامیاں تنقید کے ذریعے اجاگر نہیں کریں گے تو میں اپنی اصلاح کیسے کروں گا،پریس ایسوسی ایشن نے کہا کہ ہمارا مقدمہ صرف صحافیوں کی حد تک ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ نے تفریق کی بات کر دی،دل کھول کر تنقید کریں،تنقید سے اصلاح ہوتی ہے،فیصلوں پر تنقید کو خوش آمدید کہتا ہوں،تنقید روکنے کے سخت خلاف ہوں، آزادی صحافت آئین میں ہے، میرا مذاق بھی اڑائیں مجھے کوئی فکر نہیں، کسی کو تشدد پر اکسانے یا دیگر انتشار پھیلانے کا معاملہ الگ ہے، سپریم کورٹ بارے تنقید پر کوئی مقدمہ درج نہیں ہوگا،جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ سوشل میڈیا نے اداروں کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا ہے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ تھمب نیل پر جو کچھ لکھاہوتاہے وہ اندر نہیں ہوتا،یہ بہت عجیب ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر آپ یہ سمجھ رہے کہ تنقید روک کر میرا یا سپریم کورٹ کا فائدہ کر رہے ہیں تو آپ میرا نقصان کر رہے ہیں

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ گالم گلوچ الگ بات ہے، ایف آئی اے تنقید کی بناء پر کارروائی نہ کرے،عدلیہ کا مذاق اڑائیں گے تو ملک کا نقصان ہوگا، جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ اگر آرٹیکل 19 کا خیال ہے تو کچھ خیال آرٹیکل 14 کا بھی کریں، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ فئیر تنقید میں مسئلہ نہیں لیکن جو زبان استعمال کی جاتی ہے وہ غلط ہے، اٹارنی جنرل نے عدالت کو یقین دہانی کروائی کہ کسی صحافی کے خلاف تنقید پر کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ گالم گلوچ غلط ہے لیکن تنقید پر ممانعت نہیں، اگر کسی صحافی کو صرف تنقید کرنے پر پکڑا جائے تو یہ غلط ہے، مجھے تو گالم گلوچ سے بھی فرق نہیں پڑتا لیکن حدود ہونی چاہئے،صحافی قیوم صدیقی نے کہا کہ وفاقی حکومت سے یہ بھی پوچھا جائے کہ جے آئی ٹی کس کے کہنے پر بنی کیونکہ بہت قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم ان کو بھی حقوق دلائیں گے جو ہمارے سامنے نہیں ہیں، خود پر تنقید کو ویلکم کرتا ہوں، کچھ باتیں قائد اعظم کی کر لیتے ہیں، جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ انہوں نے تو قائد اعظم کا بھی مذاق اڑایا ہے،

    ارشد شریف قتل کیس بھی مقرر کیا جائے، مطیع اللہ جان کی چیف جسٹس سے استدعا
    مطیع اللہ جان نے کہا کہ ارشد شریف کے قتل کا سوموٹو بھی مقرر کیا جائے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ارشد شریف کا کیس ہوسکتا ہے آئندہ سماعت پر ساتھ ہی لگا دیں، اس وقت کوئی ایسا حکم نہیں دینا چاہتے جو ارشد شریف کے کیس میں جاری احکامات سے متصادم ہوں، صدر سپریم کورٹ بارنے کہا کہ فیصلے پر تنقید ہونی چاہیے لیکن ججز کے خلاف من گھڑت کہانیاں نہیں بنانی چاہیے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ یوٹیوب کا کوئی کوڈ آف کنڈکٹ نہیں ہوتا،
    ٹی وی کیلئے تو پیمرا کا ضابطہ اخلاق موجود ہے،جو کچھ یوٹیوب کے تھمب نیل میں ہوتا ہے وہ ویڈیو میں نہیں ہوتا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ نفرت انگیز تقاریر کیساتھ کچھ اور چیزیں بھی صرف پاکستان میں ہی ہوتی ہیں، پولیو ورکرز کو قتل کر دیا جاتا ہے، خواتین کے سکولوں میں بم مارے جاتے ہیں، انتہاء پسند سوچ کیخلاف حکومت کیوں کچھ نہیں کرتی؟ خواتین کو ووٹ ڈالنے اور پولیو قطروں سے روکنے والوں کو کیوں نہیں پکڑا جاتا؟جڑانوالہ میں دیکھیں کیا ہوا، سب نفرت کا نتیجہ ہے، ان لوگوں کو استعمال کیا جاتا رہا ہے اب یہ اژدھا بن گئے ہیں،خواتین کو ووٹ سے روکنے کا فتویٰ دینے والے کو کیوں نہیں پکڑا؟ مطیع اللہ جان نے کہا کہ میڈیا پوری دنیا میں خود احتسابی اور اپنے ضابطہ اخلاق پر چلتا ہے، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ میڈیا خود ضابطہ اخلاق بنانا چاہتا ہے تو بتائے کس کی مدد درکار ہے؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا پریس ایسوسی ایشن کسی غلط خبر کی تردید کرتی ہے؟ہتک عزت کیس ہوجائے تو پچاس سال فیصلہ ہی نہیں ہوگا، سپریم کورٹ نے سماعت کل تک ملتوی کر دی
    خواتین کو ووٹ سے روکنے کا فتویٰ دینے والے کو کیوں نہیں پکڑا؟ چیف جسٹس

    چیف جسٹس اور ریاستی اداروں کے خلاف غلط معلومات کی تشہیر، ایف آئی اے حرکت میں آ گئی

    طلال چوہدری ،عائشہ رجب علی کو ٹکٹ نہ ملنے پر "تنظیم سازی” سوشل میڈیا پر زیر بحث

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    سوشل میڈیا پر فوج مخالف پروپیگنڈہ کےخلاف سینیٹ میں قراردادمنظور

    سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد کی تشہیر،یورپی ممالک سے 40 پاکستانی ڈی پورٹ

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

  • صحافیوں کو ہراساں کرنے کیخلاف ازخود نوٹس کیس سماعت کیلئے مقرر

    صحافیوں کو ہراساں کرنے کیخلاف ازخود نوٹس کیس سماعت کیلئے مقرر

    اسلام آباد: سپریم کورٹ نے صحافیوں کو ہراساں کرنے کیخلاف ازخود نوٹس کیس کو سماعت کیلئے مقرر کردیا۔

    باغی ٹی وی : سپریم کورٹ آف پاکستان کے رجسٹرار کی جانب سے جاری روسٹر کے مطابق چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ پیر کو سماعت کرے گا، سپریم کورٹ نے 2021 میں ازخود نوٹس لیا تھا۔


    قبل ازیں چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے پریس ایسوسی اور ہائیکورٹ جرنلسٹ ایسوسی ایشن کے اعلامیہ کا نوٹس لے لیتے ہوئے دونوں ایسوسی ایشنز کے صدور کو اپنے چیمبر میں طلب کیا،جس کے بعد میاں عقیل افضل ، عمران وسیم ، فیاض محمود کی چیف جسٹس سے ملاقات ہوئی اورچیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بتایا کہ صحافیوں سے متعلق کیس پیر کو مقرر کررہا ہوں، آپ کی جو گزارشات ہیں عدالت میں بتائیں۔

    اداروں کیخلاف سوشل میڈیا پر پراپیگنڈا،ایف آئی اے حرکت میں،صحافی بھی طلب

    9 پاکستانی مزدور ایران کے سرحدی علاقے میں قتل

    پیپلز پارٹی کا عوامی معاشی معاہدے کے نام سے انتخابی منشور جاری

    دونوں ایسوسی ایشنز نے ایف آٸی اے کی جانب سے صحافیوں کو نوٹس جاری کرنے پر سخت تشویش کا اظہار کیا تھا،حکومت کی قائم کردہ جے آئی ٹی نے ججز کی کردارکشی پر نوٹسز جاری کیے تھے، کورٹ رپورٹرز کی تنظیموں نے ایف آئی اے نوٹسز واپس لینے کا مطالبہ کیا تھا۔

  • الیکشن کمیشن میں ڈیٹا سنٹر بارے بریفنگ،صحافیوں کا بائیکاٹ،احتجاج

    الیکشن کمیشن میں ڈیٹا سنٹر بارے بریفنگ،صحافیوں کا بائیکاٹ،احتجاج

    الیکشن کمیشن میں ڈیٹا سنٹر کی متعلق بریفنگ کے موقع پر صحافیوں نےبائیکاٹ کیا ہے

    الیکشن کمیشن کے باہر صحافیوں نے نعرے بازی کی، صحافیوں کا کہنا تھا کہ رپورٹرز کی نقل و حرکت کی نگرانی کی جاتی ہے، ڈیٹا نا شیئر کیا جاتا ہے نا جواب دیا جاتا ہے،الیکشن کمیشن کے رویہ کے خلاف الیکشن کمیشن بیٹ رپورٹر نے الیکشن کمیشن کے مرکزی دروازے پر احتجاج کیا اور کہا کہ الیکشن کمیشن انفارمیشن کو روک رہا ہے میڈیا روم کے علاوہ کسی صحافی کو کسی برانچ میں جانے نہیں دیا جاتا،صحافیوں کا احتجاج ، سیکرٹری الیکشن کمیشن صحافیوں سے مذاکرات کیلئے پہنچ گئے ،سیکرٹری الیکشن کمیشن کے ہمراہ ترجمان الیکشن کمیشن، ڈپٹی ترجمان الیکشن کمیشن بھی موجود تھے

    دوسری جانب ترجمان الیکشن کمیشن حتمی پولنگ سکیم میں ناکامی پر موقف دینے سے گریزاں ہیں،پولنگ سکیم میں قومی و صوبائی اسمبلی کے حلقوں کی مکمل تفصیل ہوتی ہے ،کتنے پولنگ سٹیشن بنے گے، کہاں بننے ہیں اور پولنگ اسٹیشن میں کتنے ووٹرز ہوں گے،اسکیم کا حصہ ہوتا ہے ،پولنگ سٹیشن کے اندر کتنے پولنگ بوتھ ہوں گے،مکمل تفصیل درج ہوتی ہے کب تک حتمی پولنگ سکیم جاری ہوگی کچھ خبر نہیں.

    چیف الیکشن کمشنر کا سخت رویہ، الیکشن کمیشن کے افسران بیمار ہونے لگے

    واضح رہے کہ آٹھ فروری کو ملک بھر میں عام انتخابات ہو رہے ہیں، الیکشن کمیشن نے بھر پور تیاریاں کر رکھی ہیں،

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    انتخابات سے متعلق سروے کرنے پر ٹی وی چینلز کیخلاف کارروائی کا حکم

    تحریک انصاف کے وکیل شعیب شاہین چیف جسٹس پاکستان کے سامنے پیش

    ٹکٹوں کی تقسیم،ن لیگ مشکل میں،امیدوار آزاد لڑیں گے الیکشن

    الیکشن کمیشن کا فواد حسن فواد کو عہدے پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

  • الیکشن کوریج،مبصرین اور غیر ملکی صحافیوں کو 49 ویزے جاری کر دیئے،مرتضیٰ سولنگی

    الیکشن کوریج،مبصرین اور غیر ملکی صحافیوں کو 49 ویزے جاری کر دیئے،مرتضیٰ سولنگی

    نگران وفاقی وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتخابات کے حوالے سے قیاس آرائیوں سے گریز کرنا چاہئے،

    مرتضیٰ سولنگی کا کہنا تھا کہ انتخابات کی کوریج کے لئے غیر ملکی میڈیا کے نمائندے پہلے ہی پاکستان میں موجود ہیں، بہت سے غیر ملکی صحافیوں نے الیکشن کی کوریج کے لئے ویزوں کی درخواستیں دی ہیں، مبصرین اور غیر ملکی صحافیوں کو 49 ویزے جاری کر دیئے ہیں، 32 درخواستوں پر ویزے دینے کا عمل جاری ہے، پاکستان ہائی کمیشن نئی دہلی سے تقریباً 24 اجازت ناموں کی درخواستیں پراسیس میں ہیں، میڈیا کے مختلف اداروں کی طرف سے 174 مجموعی درخواستیں موصول ہوئی ہیں، غیر صحافی کیٹیگری میں صرف برطانیہ سے 25 درخواستیں پراسیس میں ہیں، رشین فیڈریشن کی طرف سے 8 درخواستیں، جاپان سے 13 درخواستیں انڈر پراسیس ہیں، کینیڈا سے 5 پارلیمنٹ کے ارکان نے درخواستیں دی ہیں، کامن ویلتھ سے پانچ درخواستیں پراسیس میں ہیں،

    مرتضیٰ سولنگی کا کہنا تھا کہ پاکستان کے اندر سے بہت سے صحافیوں کو ایکریڈیٹیشن کارڈز دیئے گئے ہیں،اس وقت تک 6065 صحافیوں کو ایکریڈیٹیشن کارڈ دیئے گئے ہیں، لاہور سے 1200، کراچی 1470، پشاور سے 1050، کوئٹہ سے 600، حیدر آباد سے 355، فیصل آباد سے 250 اور ملتان سے 290 صحافیوں کو ایکریڈیٹیشن کارڈز دیئے گئےبین الاقوامی صحافی اور آبزرورز کراچی، لاہور اور اسلام آباد کے لئے اجازت نامے لئے رہے ہیں، ان تین شہروں کے علاوہ اگر کوئی غیر ملکی صحافی کسی دوسرے شہر میں جانا چاہے تو اس کا کیس ٹو کیس جائزہ لیا جائے گا،20 جنوری کی تاریخ گذرنے کے باوجود اب بھی الیکشن کمیشن اور وزارت اطلاعات کے متعلقہ ادارے ان درخواستوں کو دیکھ رہے ہیں،

    عدلیہ کیخلاف گھٹیا اور غلیط مہم چلانے پر سینکڑوں اکاؤنٹ بند کیے،

    مجھے بلے کی آفر ہوئی میں نے انکار کر دیا

    بلے کے نشان کے بعد پی ٹی آئی کا نام و نشان بھی ختم ہوجائےگا ۔

     پی ٹی آئی کے ساتھ آج جو کچھ ہو رہا ہے وہ اسکا اپنا کیا دھرا ہے ،

    عمران خان نے تبدیلی کے نام پر عوام کو دھوکہ دیا

    الیکشن میں میں جہاں بھی ہوں گا وہاں جیت ہماری ہی ہوگی

     بانی پی ٹی آئی اب قصہ پارینہ بن چکے

  • سپریم کورٹ،کورٹ رپورٹرز کے لیے گائیڈلائنز جاری

    سپریم کورٹ،کورٹ رپورٹرز کے لیے گائیڈلائنز جاری

    سپریم کورٹ نے عمارت میں داخلے پر کورٹ رپورٹرز کے لیے گائیڈلائنز جاری کر دی

    ترجمان سپریم کورٹ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ میں اہم کیسز کی سماعت میں کمرہ عدالت میں ایک ادارے سے ایک رپورٹر کو جانے کی اجازت ہو گی، سپریم کورٹ میں صرف اداروں کی جانب سے بیٹ رپورٹرز کو داخلے کی اجازت ہو گی،سپریم کورٹ میں داخلے کے وقت تلاشی کے لیے سیکیورٹی اسٹاف سے تعاون کرنا لازم ہو گا،سپریم کورٹ کی عمارت کے اندر یوٹیوب پروگرام سمیت کسی قسم کی ریکارڈنگ پر پابندی عائد ہو گی،سپریم کورٹ بلڈنگ میں کسی قسم کی ریکارڈنگ بشمول یوٹیوب پروگرام ریکارڈ کرنے منع ہے، بڑے کیسز کے دوران آنے والے رپورٹرز کو باقی کمرہ عدالت میں عدالتی کارروائی دیکھانے کا مناسب انتظام کیا جائے گا، یہ ہدایات رجسٹرار سپریم کورٹ جزیلہ اسلم کی اجازت سے جاری کی گئی ہیں،

    ملک ریاض اور انکے بیٹے علی ریاض ملک کے اثاثے اور بنک اکاؤنٹس عدالتی حکم پر ضبط

    ٹیکنالوجی کے دور میں ریاستیں اظہار رائے کو کنٹرول نہیں کر سکتیں،جسٹس اطہرمن اللہ

    شہداء فورم کا فوجی عدالتوں کی بحالی کا مطالبہ

    سپریم کورٹ، فوجی عدالتوں میں سویلین کا ٹرائل کالعدم قرار

    سپریم کورٹ،فوجی عدالتوں سے متعلق درخواستیں، فل کورٹ تشکیل دینے کی استدعا مسترد

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

  • لنڈی کوتل پریس کلب کے صحافی  ابوذر آفریدی کو بہترین کارکردگی پر ایوارڈ سے نوازا گیا

    لنڈی کوتل پریس کلب کے صحافی ابوذر آفریدی کو بہترین کارکردگی پر ایوارڈ سے نوازا گیا

    لنڈی کوتل(باغی ٹی وی رپورٹ ) پریس کلب کے صحافی ابوذر آفریدی کو بہترین کارکردگی ایوارڈ سے نوازا گیا
    ضلع خیبر تحصیل لنڈی کوتل کے صحافی ابوذر آفریدی کو بہترین کارکردگی پر ایوارڈ دیا گیا۔ لنڈی کوتل تحصیل کے تاتارا کرکٹ سپورٹس کمیٹی نے چالیس سالہ کرکٹ تاریخ میں پہلی سنچری سکور کرنے پر سینئر صحافی ابوذر آفریدی کو جو 1999 میں اس نے اسٹیشن کرکٹ کلب کی جانب سے گراونڈ میں پہلی سنچری نور کرکٹ کلب خلاف کھیلتے ہوئے 119 رنز بنائے تھے سنچری بنانے اور اچھی رپورٹنگ پر آج انہیں بہترین کارکردگی ایوارڈ دیا گیا۔

    لنڈی کوتل پریس کلب کے صحافیوں نے انہیں مبارکباد پیش کی اور صحافت اور سپورٹس میں ان کی خدمات اور کارکردگی کو سراہا۔

  • الیکشن کمیشن میں صحافیوں کو مشکلات،نوگوایریا بنا دیا گیا

    الیکشن کمیشن میں صحافیوں کو مشکلات،نوگوایریا بنا دیا گیا

    عام انتخابات میں چند روز باقی،انتخابات کی شفافیت پر سوالیہ نشان ،الیکشن کمیشن کے مرکزی سیکرٹیریٹ کو صحافیوں کے لیے نو گو ایریا بنا دیا گیا

    اسلام آباد میں الیکشن کمیشن سیکرٹریٹ میں صحافیوں کو میڈیا روم کے علاوہ کہیں نہیں جانے دیا جا رہا، ذرائع الیکشن کمیشن کے مطابق خصوصی ہدایات ہیں کہ صحافی الیکشن کمیشن کے کسی ڈیپارٹمنٹ سے خبر حاصل نہ کر سکیں، اعلی حکام الیکشن کمیشن کے افسران اور اہلکاروں کی کڑی نگرانی کر رہے ہیں، الیکشن کمیشن کے اعلیٰ حکام نےصحافیوں کو انتخابات سے متعلق خبروں سے دور رکھنے کا منصوبہ بنارکھا ہے،الیکشن کمیشن کے مرکزی سیکرٹیریٹ کی ہر راہداری میں ایف سی اور پولیس اہلکار تعینات کئے گئے ہیں،سیکورٹی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ہمیں ہدایات ہیں کہ صحافیوں کو صرف میڈیا روم تک محدود رکھا جائے، لاہور ہائی کورٹ بہاولپور بینچ میں انتخابی نشانات کی زبردستی تبدیلی سے متعلق کیس کی سماعت بھی گزشتہ روز خاموشی سے کی گئی،میڈیا کو کورٹ روم اور لاء ونگ تک جانے کی اجازت بھی نہیں دی جا رہی.اسلام آباد سے صحافی محمد اویس کے مطابق الیکشن کمیشن آفس میں صحافیوں‌کو ترجمان الیکشن کمیشن کے دفتر تک جانے کی بھی اجازت نہیں دی جا رہی.

    عام انتخابات 2024 میں سکیورٹی اہلکاروں کے لیے ضابطہ اخلاق جاری
    الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری ضابطہ اخلاق میں کہا گیا ہے کہ سکیورٹی اہلکار تمام پولنگ سٹیشن کے ڈیوٹی پر موجود ہوں گے،سکیورٹی اہلکار پر امن ماحول کو یقینی بنائیں گے،سکیورٹی اہلکاروں پر بیلٹ پیپرز کی باحفاظت نقل و حرکت کو پہنچانے کی زمہ داری ہو گی،سکیورٹی اہلکار صاف شفاف اور پر آمن انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنائیں گے،پاک فوج اور سول آرمڈ فورسز کیلئے الگ ضابطہ اخلاق جاری کیا جائے گا۔بیلیٹ پیپرز کی چھپائی کے دوران پرنٹنگ کارپوریشنز کی سیکورٹی کیلئے اہلکار تعینات کیے جائیں گے، بیلیٹ پیپرز کی ریٹرننگ افسران تک ترسیل پر بھی سیکورٹی اہلکار تعینات ہونگے، ریٹرننگ افسران کے دفاتر سے پولنگ اسٹیشنز تک بیلیٹ پیپرز کی ترسیل بھی سیکورٹی کی نگرانی میں ہو گی،انتخابی مواد کی ترسیل، پولنگ، گنتی اور نتائج مرتب ہونے تک سیکورٹی اہلکار تعینات ہونگے،پولنگ کے دوران پولنگ اسٹیشن میں قیام امن کی ذمہ داری پریزائڈنگ افسر کی سربراہی میں سیکورٹی اہلکاروں کی ہو گی ،سیکورٹی اہلکار انتخابی عمل کے دوران غیر جانبدار رہیں گے، سیکورٹی اہلکار کسی جماعت یا امیدوار کے حق یا مخالفت میں کام نہیں کرے گا،سیکورٹی اہلکار کسی ووٹر سے اس کی شناخت کا ثبوت نہیں مانگے گا، کسی ووٹر کے پولنگ اسٹیشن میں داخلے کے حق کو سلب نہیں کیا جا سکتا،
    سیکورٹی اہلکار کسی صورت پولنگ عملہ کے فرائض انجام نہیں دے سکتا،کوئی سیکورٹی اہلکار انتخابی مواد کو اپنی تحویل میں نہیں لے سکتا، پریزائڈنگ افسر کی ہدایت کے بغیر اہلکار کسی شخص کو پولنگ اسٹیشن سے گرفتار نہیں کر سکتا، اہلکار کسی بھی واقعہ پر پریزائڈنگ افسر کی ہدایت کے بغیر کارروائی نہیں کر سکتا، سیکورٹی اہلکار کسی امیدوار، پولنگ ایجنٹ، مبصر یا میڈیا سے بحث نہیں کرے گا،

    لاہور سے قومی و صوبائی اسمبلی کی 44 نشستوں پر1079 امیدوار مدمقابل
    لاہور سے قومی و صوبائی اسمبلی کی 44 نشستوں پر امیدواروں کی حتمی فہرستیں جاری کر دی گئی،لاہور سے قومی و صوبائی اسمبلی کی 44 نشستوں پر1079 امیدوار مدمقابل ہیں،الیکشن کمیشن نے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلوں کے بعد فہرستیں جاری کردیں ،چودہ قومی اسمبلی کی نشستوں پر 266 امیدوار مدمقابل ہیں،30 صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر 813 امیدوار مدمقابل ہیں،قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 120 میں سب سے زیادہ 27 امیدوار مدمقابل ہیں،این اے 120 سے ن لیگ سردار آیاز صادق میدان میں ہونگے ،این اے 118 میں سب سے کم 18امیدوار مدمقابل ہیں،این اے 118 سے حمزہ شہباز اور پی ٹی آئی کی عالیہ حمزہ میدان میں ہیں ،صوبائی اسمبلی کی نشست پی پی 161 میں سب سے زیادہ 46 امیدوار مدمقابل ہیں،پی پی 150 میں سب سے کم 13 امیدوار مدمقابل ہیں،

    لاہور کے حلقہ این اے 130 میں مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف اور تحریک انصاف کی ڈاکٹر یاسمین راشد کا مقابلہ ہوگا،یاسمین راشد اس سیٹ سے پہلے الیکشن ہار چکی ہیں، نواز شریف کی نااہلی کے بعد اسی حلقے سے بیگم کلثوم نواز ضمنی الیکشن جیتی تھیں،مرکزی مسلم لیگ کے خالد مسعود سندھو بھی اس سیٹ سے الیکشن لڑ رہے ہیں

    این اے 122 میں خواجہ سعد رفیق اور لطیف کھوسہ کا سخت مقابلہ متوقع ہے۔ مرکزی مسلم لیگ کے حافظ طلحہ سعید اس حلقے سے امیدوار ہیں،حلقہ این اے 127 میں پیپلز پارٹی چیئرمین بلاول زرداری اور ن لیگی امیدوار عطااللہ تارڑ ، تحریک انصاف کے ظہیر عباس کھوکھر امیداور ہیں،حلقہ این اے 129 میں حماد اظہر کے والدمیاں اظہر اور حافظ نعمان آمنے سامنے ہوں گے،این اے 128 سے بیرسٹر سلمان اکرم راجہ تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدوار ہیں۔ تاہم ن لیگ نے اس حلقے سے آئی پی پی سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے تحت اپنا امیدوار کھڑا نہیں کیا ،عون چودھری اس حلقے سے امیدوار ہیں جنہیں مسلم لیگ ن کی بھی حمایت حاصل ہے،این اے 119 سے مریم نواز، این اے 118 سے حمزہ شہباز اور این اے 123 سے شہباز شریف،این اے 120 سے ایاز صادق، این اے 121 سے شیخ روحیل اصغر، این اے 124 سے رانا مبشر اقبال اور این اے 125 سے افضل کھوکھر ن لیگ کے مضبوط امیدوار تصور کیے جارہے ہیں

    انتخابی نشان ماچس،کتاب سے مشابہت رکھتی،مخالف کا نشان تبدیل کیا جائے، امیدوار
    علاوہ ازیں جے یو آئی نے الیکشن کمیشن سے رجوع کیا ہے ،درخواست میں کہا گیا ہے کہ این اے 45 سے ایک مخالف امیدوار کو ماچس کا انتخابی نشان دیا ہے جو انکی پارٹی کے نشان کتاب سے مشابہت رکھتا ہے تبدیل کیا جائے ،پہلی درخواست ہے جو مخالف امیدوار کا نشان تبدیل کروانے متعلق ہے اور مشابہت بھی ایسی کہ ریٹرننگ افسر کو یقین ہوجائے.

    قیصر ہ الہیٰ کو انتخابی نشان نہ مل سکا، عدالت میں درخواست دائر
    لاہور ہائیکورٹ،قیصرہ الہی نے این اے 64 اور پی پی 32 میں مور کے انتخابی نشان کے لیے درخواست دائر کردی،قیصرہ الہی نے ایڈووکیٹ فرمان منیس کے توسط سے درخواست دائر کی، درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ لاہور ہائیکورٹ نے کاغذات نامزدگی منظور کرنے کا حکم جاری کیا،الیکشن کمیشن نے ابھی تک انتخابی نشان الاٹ نہیں کیا،ریٹرننگ آفیسر نے انتخابی نشان کے لیے درخواست وصول کرنے سے انکار کیا،دونوں حلقہ ایک ہی علاقہ میں واقع ہیں،حلقہ میں کسی امیدوار کو مور کا انتخابی نشان الاٹ نہیں کیا گیا،عدالت الیکشن کمیشن کو مور بطور انتخابی نشان الاٹ کرنے کا حکم دے،

    انتخابی مہم میں پلاسٹک کے بنے پینا فلیکس پر پابندی عائد کرنے کا امکان

    غیر ملکی خاتون کے سامنے 21 سالہ نوجوان نے پینٹ اتاری اور……خاتون نے کیا قدم اٹھایا؟

    بیوی طلاق لینے عدالت پہنچ گئی، کہا شادی کو تین سال ہو گئے، شوہر نہیں کرتا یہ "کام”

    50 ہزار میں بچہ فروخت کرنے والی ماں گرفتار

    واش روم استعمال کیا،آرڈر کیوں نہیں دیا؟گلوریا جینز مری کے ملازمین کا حاملہ خاتون پر تشدد،ملزمان گرفتار

    خاتون کی لاش کے کئے 56 ٹکڑے، ٕگوشت بھی کھایا ، ملزمان کا تہلکہ خیز انکشاف

    گرل فرینڈ کی لاش کے 35 ٹکڑے کرنیوالے ملزم نے کیا عدالت میں جرم کا اعتراف

    پاکستان میں جتنا پلاسٹک ویسٹ ہے اس سے کے ٹو کا پہاڑ دو دفعہ کھڑا ہو سکتا ہے

    دور دراز اور ناقابل رسائی علاقوں میں الیکشن میٹیریل کی ترسیل ہیلی کاپٹر کے ذریعے کرنے کا فیصلہ
    نگراں وزیر اعلٰی بلوچستان میر علی مردان خان ڈومکی کی زیر صدارت بلوچستان میں عام انتخابات کے پر امن انعقاد سے متعلق اعلٰی سطحی اجلاس ہوا،اجلاس میں صوبائی انتظامی سیکرٹریز ، ڈویژنل کمشنرز ، ڈپٹی کمشنرز اور پولیس حکام نے شرکت کی، صوبے میں انتہائی حساس پولنگ اسٹیشنوں پر سیکورٹی تعیناتی،سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب اور انتخابی سامان کی بروقت ترسیل سے متعلق اہم فیصلے کئے گئے،چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان ، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ زاہد سلیم اور ڈویژنل کمشنرز نے بریفنگ دی، جس میں کہا گیا کہ حساس اور انتہائی حساس پولنگ اسٹیشنوں پر آٹھ ہزار سی سی ٹی وی کیمرے نصب ہوں گے،انتخابات میں حسب الطلب پولیس اور لیویز اہلکاروں کی تعیناتی کے لئے نفری کا انتظام کیا جاررہا ہے، الیکشن ڈیوٹی کے لئے ریٹائرڈ سیکورٹی اہکاروں کی خدمات بھی حاصل کی جائیں گی، اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ دور دراز اور ناقابل رسائی علاقوں میں الیکشن میٹیریل کی ترسیل ہیلی کاپٹر کے ذریعے ہوگی ، زیارت اور سرد علاقوں میں ممکنہ برف باری کی صورت میں بھاری مشینری متعلقہ ڈسٹرکٹس میں موجود ہوگی ،

    نگراں وزیر اعلٰی بلوچستان میر علی مردان خان ڈومکی کا کہنا تھا کہ الیکشن سے متعلق اب تک اٹھائے گئے اقدامات اطمینان بخش ہیں، قیام امن کیلئے اٹھائے گئے اقدامات میں مزید بہتری لائی جائے، الیکشن سے متعلق امیدواروں اور عوام کے تحفظات کا فوری ازالہ کیا جائے، علاقائی حالات کے مطابق بحالی امن کے لئے کنٹی جنسی پلان تشکیل دئیے جائیں، عوام کو حق رائے دہی کے استعمال کے لئے سازگار فضا قائم کی جائے، امن و امان کی صورتحال پر کڑی نظر رکھی جائے، نسیکورٹی اہلکاروں کی کمی سے نمٹنے کیلئے تجویز کردہ اقدامات پر بلا تاخیر کام شروع کیا جائے، لوگوں کے چھوٹے چھوٹے مسائل اور شکایات فوری طور پر حل کی جائیں تاکہ آنے والے دنوں میں مشکلات پیدا نہ ہوں،

    ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی،آزاد امیدوار کو جرمانہ
    پشاور عام انتخابات 2024،ضابطہ اخلاق کی مانیٹرنگ جاری ہے،مقررہ سائز سے بڑے بل بورڈز لگانے پر ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسر مردان کی کارروائی ،پی کے 58 مردان سے آزاد امیدوار ذوالفقار خان کو 25 ہزار روپے جرمانہ کر دیا، ڈپٹی کمشنر مردان کو جرمانہ وصول کرکے سرکاری خزانہ میں جمع کرکے چالان پیش کرنیکی ہدایت کی گئی ہے،امیدوار کو 16 جنوری کو نوٹس جاری کرکے 17 جنوری کو پیش ہونیکی ہدایت کی گئی،وہ یا ان کی طرف سے کوئی نمائندہ وضاحت کے لئے پیش نہیں ہوا، ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسر مردان نے یک طرفہ کارروائی کرتے ہوئے امیدوار کو جرمانہ کردیا،

    ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسر نجیب اللہ کاکڑ، زیارت بلوچستان نے انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے پر مسلم لیگ ن کے صوبائی اسمبلی پی بی 7 کے امیدوار نور محمد دمڑ پر 40 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا،ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسر مردان نے پی کے 54 مردان سے اے این پی کے امیدوار گوہر علی شاہ پر 10 ہزار روپے اور پی کے 61 مردان سے ن لیگی امیدوار جمشید خان پر 10 ہزار روپے کا جرمانہ عائد کیا ،

  • تکلیف زیادہ تب ہوتی ہے جب کوئی اپنا مارتا ہے،صحافی عمران ریاض

    تکلیف زیادہ تب ہوتی ہے جب کوئی اپنا مارتا ہے،صحافی عمران ریاض

    پاکستان معروف اور سینئیر صحافی عمران ریاض خان کا کہنا ہے کہ تکلیف زیادہ تب ہوتی ہے جب کوئی اپنا مارتا ہے، میں نے اس ملک کے کوئی راز تو نہیں چرائے ہوئے، میں کوئی دشمن ملک کے ساتھ تو نہیں ملا ہوا-

    باغی ٹی وی: اپنی رہائی کے بعد ایک یوٹیوب پوڈکاسٹ کیلئے دئیے گئے پہلے انٹرویو میں عمران ریاض نے کہا کہ جب آپ کو پہلے دن میں ملا تو زندہ لاش کی طرح ہی تھا، اس سے بھی گئی گزری حالت میری رہی ہےحراست کے دوران یہ چیز مجھے زیادہ محسوس ہو رہی تھی کہ یار میں کوئی اس ملک کا غدار تو نہیں ہوں، میں نے اس ملک کے کوئی راز تو نہیں چرائے ہوئے، میں کوئی دشمن ملک کے ساتھ تو نہیں ملا ہوا، یا میں کوئی ایسی بات تو نہیں کر رہا جو میرے ملک اور اس کے نظریات کے خلاف ہے میں جو بات کر رہا تھا وہ اختلافِ رائے میں آسکتی ہے اور وہ بات کوئی بھی کسی سے بھی کر سکتا ہے،دورانِ حراست موت کی افواہوں پر عمران ریاض نے کہا کہ وہ آپشن آسان تھا، میرے سے پوچھے کہ اس دوران کیا آسان تھا تو وہ آسان تھا-

    القسام بریگیڈز نے اسرائیلی فوج پر حملوں کی نئی ویڈیو جاری کردی

    کس کی یاد سب سے زیادہ آئی؟ اس سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یاد تو اللہ کی آئی سب سے زیادہ، لیکن اتنا لمبا عرصہ ہو تو دنیاوی رشتوں میں پھر ’باریاں لگتی ہیں‘۔ کبھی ماں کی یاد آتی ہے کبھی باپ کی یاد آتی ہے، میں اپنے والد کو جانتا ہوں مجھے پتا تھا کہ جب تک وہ مجھے ڈھونڈ نہیں لیتے چین سے نہیں بیٹھیں گے اور جن لوگوں نے بھی میرے لیے آواز اٹھائی میں ان سب کا شکر گزار رہوں گا، رانا ثناء اللہ جب بہت مشکل وقت میں تھا تو میں نے ان کیلئے آواز اٹھائی تھی، مجھے امید تھی کہ رانا ثناء اللہ کچھ نہ بھی کرسکے تو کم سے کم کیچڑ نہیں اچھالیں گے، لیکن میری ٹیم نے بتایا کہ اُس نے آپ کے بارے میں ناصرف لاعلمی رکھی بلکہ آپ کے خلاف پروپیگنڈے کا حصہ بنا رانا ثناء اللہ نے کچھ دن پہلے ان کی ٹیم سے رابطہ کیا اور کہا کہ وہ سیاسی بیانات تھے تو ان پر برا نہ منایا جائے، رانا ثناء اللہ نے کہا کہ میں کمزور تھا میرے بس میں کچھ نہیں تھا۔

    واپڈا نے دریائے سندھ کا رخ موڑ دیا


    انہوں نے میزبان سے سوال کیا کہ مجھے آپ بتائیں آج پاکستان کا میڈیا جو خبر چلاتا ہے وہ کیا میڈیا ہی بناتا ہے؟ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں مسنگ پرسنز (لاپتا افراد) کے بارے میں یہ سوچ بنائی گئی ہے کہ ان میں بہت سے دہشتگرد ہوتے ہیں جنہیں قانونی کمیوں کی وجہ سے غائب کرنا پڑتا ہے،وہ سوچ جو پھیلائی گئی تھی مجھے اس پر اب افسوس ہے، کہ میں نے کبھی زندگی میں یہ سوچا بھی کہ کوئی اگر کبھی غائب ہوا تو وہ ریاست کے مفاد میں ہوسکتا ہے، میں معافی مانگ لیتا ہوں اس کے اوپر ان سارے لوگوں سے جن کا دل دکھا ہو، کسی کو بھی غائب کرنا کبھی بھی جسٹیفائیڈ نہیں ہے میں لوئر کورٹس کی انصاف پسندی پر حیران ہوں، میری سوچ کبھی بھی یہ نہیں تھی‘ لوئر کورٹ کے ججز سزائے موت کے کیسز میں ایک ایک دو دو دن میں فیصلہ کر رہے ہیں حیران کن طور پر مجھے اس سے بڑا حوصلہ ملا۔

    انس سرور کو برطانوی سیاست میں اہم عہدہ مل گیا

    انہوں نے کہا کہ حوصلہ تو ٹھیک ہے، صحت بھی ٹھیک ہے، بولنے کے معاملات ایک دو دن سے بہتر ہوئے ہیں، اس میں سب سے زیادہ مدد قرآن مجید نے کی ہے، باقی زندگی میں اس کتاب کے فائدے ہی گنتا رہوں تو وہ ختم نہیں ہوسکتے، میں نے پہلی دفعہ محسوس کیا کہ یہ کتاب تو باتیں کرتی ہے۔

    واضح رہے کہ عمران ریاض خان کا یہ انٹرویو ان کے وکیل میاں اشفاق نے ایک پاڈ کاسٹ میں کیا جو میاں اشفاق کے بقول ان کے یوٹیوب چینل کی پہلی پاڈ کاسٹ ہے۔

  • اردو کے ممتاز ادیب، شاعر، صحافی ، ناول نگار  اور مترجم انور سن رائے

    اردو کے ممتاز ادیب، شاعر، صحافی ، ناول نگار اور مترجم انور سن رائے

    انور سن رائے

    تلاش ، ترتیب و ترسیل : آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اردو کے ممتاز ادیب، شاعر، صحافی ، ناول نگار اور مترجم انور سن رائے 13 نومبر 1950 میں جنوبی پنجاب کے شہر خیر پور ٹامیوالی میں پیدا ہوئے۔ ان کی وجہ شہرت دو ناول، چیخ اور ذلتوں کے اسیر ، ہیں ۔ ان کا ناول ” چیخ” 1987 میں جبکہ "ذلتوں کےاسیر” 1997 میں شائع ہوا۔ ذلتوں کے اسیر میں انہوں نے سارہ شگفتہ کو اہم کردار کے طور پر شامل کیا ہے۔ انور سن رائے 1963 میں کراچی آئے اور یہاں سے صحافتی خدمات کا آغاز کیا۔ وہ روزنامہ قومی اخبار اور روزنامہ پبلک سمیت چار اخبارات کے مدیر رہ چکے ہیں ۔ کراچی سے تعلق رکھنے والی معروف افسانہ نگار اور شاعرہ عذرا عباس انہوں نے شادی کی عذرا انور سے عمر کے لحاظ سے 2سال بڑی ہیں ۔ یہ دونوں میاں بیوی ترقی پسند ادیب اور شاعر ہیں اور بلا کے سگریٹ نوش ہیں ایک دوسرے کا احترام ایسا کہ کافی عرصے تک یہ دونوں ایک دوسرے سے چھپ کر سگریٹ پیتے رہے، انور سن رائے مشہور شاعر محمود درویش اور اودیس علی احمد سعید کی شاعری کا اردو میں ترجمہ کر چکے ہیں ۔ انور سن رائے ایک عرصے سے بی بی سی اردو سروس سے وابستہ ہیں ۔ ” کچھ محبت کچھ بے بسی” کے عنوان سے ان کا ایک شعری مجموعہ شائع ہو چکا ہے۔

    نظم
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پاگلوں کی مدح میں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پاگلوں سے نہیں
    بہت ڈر لگتا ہے، مجھے
    نارمل اور ذہین لوگوں سے
    کچھ بھی کر سکتے ہیں
    وہ
    اپنی محبوبیت میں
    قہر اور فتنے سے بھری
    خود پسندی میں
    کچھ بھی سوچ سکتے ہیں
    کچھ بھی چاہ سکتے ہیں
    منصوبے بنانا
    اور سازشیں کرنا مشکل نہیں ہوتا
    ان کے لیے
    یقین رہتا ہے انہیں
    کچھ بھی کر سکتی ہے ذہانت
    اگر مشکل کوئی وار کرے گی
    تو ڈھال بن جائے گی ذہانت
    نارمل
    بہت متأثر ہوتے ہیں ان سے
    ان جیسا ہونا چاہتے ہیں
    انہی کا ساتھ دیتے ہیں
    کسی بھی عورت کے بارے میں
    کچھ بھی سوچ سکتے ہیں
    ذہین اور نارمل
    منطق سے چلتے ہیں اور حساب سے
    عشق نہیں کر سکتے اسی لیے
    یہ بات تو ثابت نہیں
    کہ عشق
    پہلے محبوب کے دل میں پیدا ہوتا ہے
    عورتیں یہ سب سمجھتی ہیں
    مردوں سے کہیں زیادہ
    احمق ترین لگنے والی عورت بھی
    ان معاملوں میں
    کہیں آگے ہوتی ہے کسی بھی مرد سے
    پھر بھی
    پھنس ہی جاتی ہیں بے چاری
    پھنستی چلی جاتی ہے
    پاگلوں کو قبول نہیں کرتیں وہ
    حالانکہ وہی جانتی ہیں سب سے زیادہ
    عشق تو کام ہے صرف پاگلوں کا
    ناچ سکتے ہیں پاگل
    ان کے خیال میں
    یاد کر سکتے ہیں انہیں
    پھولوں کو دیکھ کر
    سن سکتے ہیں ہوا سے ان کی باتیں
    جو ان کی طرف سے نہ بھی آئی ہو
    درختوں کو چلتا ہوا دیکھ سکتے ہیں
    ان کے ساتھ
    بھری دوپہروں میں
    دھوپ پر حیران ہو سکتے ہیں
    ان کے مقابل کھڑا کر سکتے ہیں
    دھوپ اور سائے کو پاگل
    اور شاعری بن سکتی ہیں
    ان کے بارے میں
    صرف پاگلوں کی باتیں

    انور سن رائے