Baaghi TV

Tag: صدارتی ریفرنس

  • جسٹس محمد علی مظہر  کا  ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے صدارتی ریفرنس پر تفصیلی نوٹ جاری

    جسٹس محمد علی مظہر کا ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے صدارتی ریفرنس پر تفصیلی نوٹ جاری

    اسلام آباد: سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس محمد علی مظہر نے سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے صدارتی ریفرنس پر اپنا 24صفحات پر مشتمل تفصیلی نوٹ جاری کر دیا-

    جسٹس مظہر نے24صفحات پر مشتمل نوٹ میں سابق چیف جسٹس نسیم حسن شاہ کے ماضی میں دیے گئے انٹرویوز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے خود اعتراف کیا تھا کہ بھٹو کیس کا فیصلہ دباؤکے تحت کیا گیا تھا، سابق چیف جسٹس کا یہ اعتراف کسی بھی عقل سلیم رکھنے والے شخص کے لیے اس بات میں شک کی گنجائش نہیں چھوڑتا کہ یہ ایک عدالتی قتل تھا اور ایسا اعتراف ایک جج کے حلف کی خلاف ورزی ہے، جلد بازی، غصے یا تعصب میں کیے گئے فیصلے ناصرف ملکی قانون بلکہ اسلامی اصولوں کے بھی منافی ہیں۔

    فیصلے میں مزید کہا گیا کہ اگر جج کسی فریق یا وکیل سے ناراض ہو جائے یا اپنا صبر کھو دے، تو اس کے لیے قانون کے مطابق انصاف کرنا ناممکن ہو جاتا ہے فاضل جج نے آبزرویشن دی کہ بھٹو کیس کی سماعت کرنے والے جج مبینہ طور پر اپیل کی سماعت کے دوران "غصے” میں تھے، جس سے آزادانہ ذہن کے ساتھ فیصلے کا امکان ختم ہو گیا تھا۔

  • ذوالفقار علی بھٹو کو سزا آئین  وقانون کے مطابق نہیں تھی،سپریم کورٹ

    ذوالفقار علی بھٹو کو سزا آئین وقانون کے مطابق نہیں تھی،سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ میں ذوالفقار علی بھٹوکیس سے متعلق صدارتی ریفرنس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے رائے سنادی

    سپریم کورٹ کے نو رکنی بنچ نے متفقہ طور پر صدارتی ریفرنس میں رائے دی،سپریم کورٹ نے صدارتی ریفرنس میں پوچھے گئے سوالات کے جواب دے دیئے،سپریم کورٹ نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کی بھٹو کیس میں کاروائی بنیادی انسانی حقاق کے مطابق نہیں تھی،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے رائے سناتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کی رائے اس معاملے پر متفق ہے، ہم ججز پابند ہیں کہ قانون کے مطابق فیصلہ کریں، سپریم کورٹ کی رائے متفقہ ہو گی، جب تک غلطیاں تسلیم نہ کریں خود کو درست نہیں کر سکتے، ریفرنس میں 5 سوالات اٹھائے گئے ہیں، ذوالفقار علی بھٹو کو آئین کے مطابق فیئر ٹرائل کا موقع نہیں ملا، بھٹو کے ٹرائل میں بنیادی حق پر عمل نہیں کیا گیا،بھٹو کیس میں فئر ٹرائل کے تقاضے پورے نہیں ہوئے، ذوالفقار علی بھٹو کو سزا آئین وقانون کے مطابق نہیں تھی،

    سپریم کورٹ نے کہا کہ ذولفقار علی بھٹو ٹرائل میں قانونی راستہ نہیں اپنایا گیا،لاہور ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ میں فئیر ٹرائل اور آئینی تقاضوں کو پورا نہیں کیا گیا،ذولفقار علی بھٹو کی سزائے موت کے فیصلے کو ختم نہیں کر سکتے،سپریم کورٹ کے نو رکنی لارجر بینچ نے مختصر رائے سنا دی،تفصیلی وجوہات بعد میں جاری کی جائینگی،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسی سربراہی میں 9 رکنی لارجر بینچ نے 4 مارچ کو صدارتی ریفرنس پر رائے محفوظ کی تھی جو اب سنا دی گئی ہے،جسٹس طارق مسعود، جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس امین الدین، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس مسرت ہلالی لارجر بینچ کا حصہ تھے

    چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری سپریم کورٹ میں موجود تھے، پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمان،فیصل کریم کنڈی و دیگر بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے،

    عدالت نے مانا ہے شہید ذوالفقار علی بھٹو کو فئیر ٹرائل کا موقع نہیں ملا،بلاول
    عدالتی فیصلے کے بعد پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ عدالت نے مانا ہے شہید ذوالفقار علی بھٹو کو فئیر ٹرائل کا موقع نہیں ملا،تفصیلی فیصلے کے بعد اپنے وکلاء سے بات کریں گے،عدالت نے مانا ہے شہید ذوالفقار علی بھٹو کو فئیر ٹرائل کا موقع نہیں ملا،سپریم کورٹ نے کہا کہ ماضی کی غلطیوں کو درست کرنے کے لئے یہ فیصلہ سنا رہے ہیں،اس فیصلے کی وجہ سے پاکستان ترقی کر سکے گا،اس فیصلے کی وجہ سے پاکستان کی عوام انصاف کی امید رکھے بیٹھے تھے،اس فیصلے کے بعد عوام کو اس ادارے سے انصاف کی امید ہو گی،اس فیصلے کے بعد نظام صحیح سمت میں چلنا شروع ہو جائے گا،

    شہید بھٹو کے ساتھ ٹرائل میں فیصلہ بدلنے کیلئے تعصب کیا گیا،شیری رحمان
    قبل ازیں پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمان نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امید ہے عدالت سے انصاف ملے گا،تاریخ عدالتی رائے کو یاد رکھے گی،چیف جسٹس اور 9 رکنی بینچ نے بڑے تحمل سے سب کو سنا،
    شہید بھٹو کے ساتھ ٹرائل میں فیصلہ بدلنے کیلئے تعصب کیا گیا،شہید بھٹو کے کیس میں عدالت نے ماتھے پر کاری ضرب لگائی،انصاف اور قانون کی حکمرانی کے بغیر کوئی نظام نہیں چل سکتا،ایک مقبول نمائندے کا عدالتی ٹرائل کے ذریعے قتل کیا گیا،چاہتے ہیں عدالت اس بات کو تسلیم کرے کہ فیصلے میں غلطی ہوئی ،ذوالفقار بھٹو نے ڈکٹیٹر سے سمجھوتہ کرنے سے منع کیا تھا،امید ہے لوگ بلاول بھٹو کی مفاہمت کی سیاست کو سمجھیں گے،آصف زرداری ایک بارپھر صدر کی کرسی پر بیٹھیں گے،پیپلزپارٹی کی حمایت پر تمام اتحادیوں کے شکرگزار ہیں.

    تاریخی غلطی کا ازالہ ممکن نہیں لیکن سنگین غلطی کے اعتراف سے ایک نئی روایت قائم ہوئی ،وزیراعظم
    وزیر اعظم شہباز شریف نےسابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو شفاف ٹرائل نہ ملنے کی سپریم کورٹ کی رائے پر بلاول بھٹو زرداری، نامزد صدر آصف علی زرداری، پی پی پی قیادت اور کارکنوں کو مبارک دی ہے، وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ تاریخی غلطی کا ازالہ ممکن نہیں لیکن سنگین غلطی کے اعتراف سے ایک نئی تاریخ ایک نئی روایت قائم ہوئی ہے. عدالت سے ہونے والی زیادتی کو عدالت کا درست کرنا مثبت پیش رفت ہے.بھٹو ریفرنس میں سپریم کورٹ کی متفقہ رائے قومی سطح پر تاریخ کو درست تناظر میں سمجھنے میں مددگار ہو گی. ماضی کی غلطیوں کی درستگی اور تلخیوں کے خاتمہ سے ہی قومی اتحاد اور ترقی کا عمل تیز ہوسکتا ہے.

    ذوالفقار علی بھٹو سے متعلق عدالتی ریفرنس پر سپریم کورٹ کی رائے پر پی ٹی آئی کا ردّعمل سامنے آیا ہے، ترجمان پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کے معاملے میں اس حقیقت تک پہنچتے پہنچتے کہ انہیں فیئر ٹرائل نہیں ملا سپریم کورٹ کو 50 سال لگ گئے،بانی پی ٹی آئی کو فیئر ٹرائل کے بنیادی دستوری حق کی دستیابی کیلئے کیا اب قوم کو مزید 50 سال انتظار کرنا ہوگا، ذوالفقار علی بھٹو کے معاملے میں عدالتی رائے صرف اسی صورت میں معنی خیز ہو سکتی ہے کہ عدالتِ عظمیٰ آج لاقانونیت کی راہ روکنے کیلئے پوری قوت سے بروئے کار آئے، فراہمی انصاف کا آفاقی اصول ہے کہ ”انصاف میں تاخیر انصاف کا قتل ہے“، بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ سمیت تحریک انصاف کے اسیر قائدین اور ہزاروں بے گناہ کارکنان کو قیدِ ناحق سے فوراً رہا کیا جائے اور فیئرٹرائلز کے ذریعے ان کے خلاف جھوٹے مقدمات کے فیصلے کئے جائیں،

    دعا کرتے ہیں کہ ایسی ناانصافی دوبارہ نہ ہو ،فاطمہ بھٹو کا صدارتی ریفرنس رائے پر ردعمل
    سابق وزیر اعظم اور پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی و چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کی پوتی فاطمہ بھٹو نے بھٹو سزائے موت ریفرنس کیس میں عدالتی رائے پر ردعمل دیا ہے، سوشل میڈیا پر فاطمہ بھٹو کا کہنا تھا کہ آج سپریم کورٹ نے پاکستان کے پہلے جمہوری طور پر منتخب وزیر اعظم کے خلاف کی گئی تاریخی ناانصافی کا اعتراف کیا ہے، ہم عدالت کے متفقہ فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہیں، ہم دعا کرتے ہیں کہ ایسی ناانصافی دوبارہ نہ ہو تاکہ اس ملک کے شہری، یہ جان کر خود کو محفوظ سمجھیں، ملکی نظامِ انصاف میں تاخیرتو ممکن ہے لیکن پاکستان اور اس کے بچوں سے کبھی انصاف سے انکار نہیں کیا جائے گا،

    جس کیس میں بھٹو کو سزا دی گئی، اس ایف آئی آر میں نامزد ہی نہیں کیا گیا تھا،عدالتی معاون

    سپریم کورٹ میں ذوالفقار بھٹو کی پھانسی پر صدارتی ریفرنس کی سماعت جاری

    واضح رہے کہ سابق صدر آصف زرداری نے اپریل 2011 میں صدارتی ریفرنس سپریم کورٹ میں دائر کیا تھا، جس کے بعد ذوالفقار بھٹو سے متعلق صدارتی ریفرنس پر سپریم کورٹ میں 6 سماعتیں ہوئیں، اس وقت سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اپنی سربراہی میں 11 رکنی لارجر بینچ تشکیل دیا تھا جس نے 3 جنوری 2012 سے 12 نومبر 2012 تک کیس کی 6 سماعتیں کیں لیکن کوئی فیصلہ نہ دیا، صدارتی ریفرنس پر آخری سماعت 9 رکنی لارجر بینچ نے کی تھی، اب تقریباً 11 برس کے طویل عرصے بعد ریفرنس دوبارہ سماعت کے لیے مقرر کیا گیا تھا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں بینچ نے سماعت مکمل کی ہے جس پر فیصلہ آج سنا دیا گیا

     پیپلز پارٹی نے 108 صفحات پر مشتمل تحریری جواب سپریم کورٹ میں جمع کروا دیا

    بھٹو صدارتی ریفرنس کی گزشتہ سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری 

    ہمارا بھٹو تو واپس نہیں آئے گا، ہمیں امید ہے غلط فیصلے کو غلط کہا جائے گا

    سپریم کورٹ کے ہاتھ 40 برسوں سے شہید ذوالفقار علی بھٹو کے لہو سے رنگے ہوئے

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

  • بھٹو صدارتی ریفرنس،سپریم کورٹ کل اپنی رائے سنائے گی

    بھٹو صدارتی ریفرنس،سپریم کورٹ کل اپنی رائے سنائے گی

    سپریم کورٹ بھٹو صدارتی ریفرنس پر اپنی رائے کل سنائے گی

    سپریم کورٹ نے رائے سنانے کیلئے تمام فریقین کو نوٹسز جاری کردئیے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی سربراہی میں 9 رکنی لارجر بینچ نے 4 مارچ کو صدارتی ریفرنس پر رائے محفوظ کی تھی،،جسٹس طارق مسعود، جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس امین الدین، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس مسرت ہلالی لارجر بینچ کا حصہ تھے

    صدارتی ریفرنس کی سماعت کے دوران رضا ربانی نے دلائل دیئے،رضا ربانی نے کہا کہ بھٹو کیس کے وقت لاہور ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ آئین کے تحت کام نہیں کر رہے تھے، اس وقت ملک میں مارشل لاء نافذ تھا، بنیادی انسانی حقوق معطل تھے، اس وقت استغاثہ جنرل ضیاء تھے، اس وقت اپوزیشن اور حکومت کے درمیان نئے الیکشن کے لیے معاملات طے ہو چکے تھے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا کوئی معاہدہ بھی ہو چکا تھا؟رضا ربانی نے کہا کہ معاہدے پر دستخط ہونے باقی تھے لیکن پھر مارشل لاء نافذ کر دیا گیا، 24 جولائی کو ایف ایس ایف کے انسپکٹرز کو گرفتار کیا گیا، 25 اور 26 جولائی کو ان کے اقبالِ جرم کے بیانات آ گئے، مارشل لاء دور میں زیرِ حراست ان افراد کے بیانات لیے گئے، اس وقت مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر، چیف جسٹس پاکستان، قائم مقام چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کا ٹرائی اینگل تھا، ذوالفقار علی بھٹو کی برییت سے تینوں کی جاب جا سکتی تھی،

    جسٹس یحییٰ آفریدی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ رضا ربانی آپ کہہ سکتے ہیں کہ حسبہ بل میں عدالتی رائے بائنڈنگ تھی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ حسبہ بل میں کتنے جج صاحبان تھے؟جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حسبہ بل کے صدارتی ریفرنس میں بھی 9 جج صاحبان تھے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم بھی 9 ہی جج ہیں، کوئی اختلاف بھی کر سکتا ہے،رضا ربانی نے کہا کہ احمد رضا قصوری پر حملوں کے 1976 تک چھ مقدمات درج ہوئے کسی ایف آئی آر میں بھٹو کو نامزد نہیں کیا گیا،رضا ربانی نے کہا کہ اس وقت جج جج نہیں تھے، مختلف مارشل لاء ریگولیشن کے تحت کام کر رہے تھے، مارشل لاء ریگولیشن کے باعث ڈیو پراسس نہیں دیا گیا، بیگم نصرت بھٹو نے بھٹو کی نظر بندی کو چیلنج کیا تھا، اسی روز مارشل لاء ریگولیشن کے تحت چیف جسٹس یعقوب کو عہدے سے ہٹا دیا گیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ رضا ربانی صاحب آپ کتنا وقت لیں گے؟ ہم نے آج سماعت مکمل کرنی ہے، جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ آپ ہمیں پھانسی کے بعد منظر عام پر آنے والے تعصب کے حقائق کی تفصیلات تحریری طور پر دے دیں

    رضا ربانی کے دلائل مکمل ہو گئے، آصفہ بھٹو، بختاور بھٹو اور صنم بھٹو کے وکیل رضا ربانی نے دلائل مکمل کر لیے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے استفسار کیا کہ کیا سپریم کورٹ صدارتی ریفرنس میں مختصر رائے بھی دے سکتی ہے؟عدالتی معاون رضا ربانی نے کہا کہ عدالت ایسا کر سکتی ہے، سپریم کورٹ مکمل انصاف کی فراہمی کیلئے آرٹیکل 187 کا استعمال کرسکتی ہے، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر ہم نے آرٹیکل 187کا استعمال کیا وہ رائے کے بجائے فیصلہ ہوجائے گا،

    جس کیس میں بھٹو کو سزا دی گئی، اس ایف آئی آر میں نامزد ہی نہیں کیا گیا تھا،عدالتی معاون

    سپریم کورٹ میں ذوالفقار بھٹو کی پھانسی پر صدارتی ریفرنس کی سماعت جاری

    واضح رہے کہ سابق صدر آصف زرداری نے اپریل 2011 میں صدارتی ریفرنس سپریم کورٹ میں دائر کیا تھا، جس کے بعد ذوالفقار بھٹو سے متعلق صدارتی ریفرنس پر اب تک سپریم کورٹ میں 6 سماعتیں ہوچکی ہیں، اس وقت سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اپنی سربراہی میں 11 رکنی لارجر بینچ تشکیل دیا تھا جس نے 3 جنوری 2012 سے 12 نومبر 2012 تک کیس کی 6 سماعتیں کیں لیکن کوئی فیصلہ نہ دیا، صدارتی ریفرنس پر آخری سماعت 9 رکنی لارجر بینچ نے کی تھی، اب تقریباً 11 برس کے طویل عرصے بعد ریفرنس دوبارہ سماعت کے لیے مقرر کیا گیا تھا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں بینچ نے سماعت مکمل کی ہے جس پر فیصلہ کل سنایا جائے گا

     پیپلز پارٹی نے 108 صفحات پر مشتمل تحریری جواب سپریم کورٹ میں جمع کروا دیا

    بھٹو صدارتی ریفرنس کی گزشتہ سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری 

    ہمارا بھٹو تو واپس نہیں آئے گا، ہمیں امید ہے غلط فیصلے کو غلط کہا جائے گا

    سپریم کورٹ کے ہاتھ 40 برسوں سے شہید ذوالفقار علی بھٹو کے لہو سے رنگے ہوئے

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

  • سپریم کورٹ، بھٹو صدارتی ریفرنس ،سماعت مکمل ،فیصلہ محفوظ

    سپریم کورٹ، بھٹو صدارتی ریفرنس ،سماعت مکمل ،فیصلہ محفوظ

    سپریم کورٹ میں سابق وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو صدارتی ریفرنس کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 9 رکنی بینچ نےسماعت کی،جسٹس طارق مسعود، جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس امین الدین، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس مسرت ہلالی لارجر بینچ کا حصہ ہیں۔

    صدارتی ریفرنس کی سماعت کے دوران رضا ربانی نے دلائل دیئے،رضا ربانی نے کہا کہ بھٹو کیس کے وقت لاہور ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ آئین کے تحت کام نہیں کر رہے تھے، اس وقت ملک میں مارشل لاء نافذ تھا، بنیادی انسانی حقوق معطل تھے، اس وقت استغاثہ جنرل ضیاء تھے، اس وقت اپوزیشن اور حکومت کے درمیان نئے الیکشن کے لیے معاملات طے ہو چکے تھے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا کوئی معاہدہ بھی ہو چکا تھا؟رضا ربانی نے کہا کہ معاہدے پر دستخط ہونے باقی تھے لیکن پھر مارشل لاء نافذ کر دیا گیا، 24 جولائی کو ایف ایس ایف کے انسپکٹرز کو گرفتار کیا گیا، 25 اور 26 جولائی کو ان کے اقبالِ جرم کے بیانات آ گئے، مارشل لاء دور میں زیرِ حراست ان افراد کے بیانات لیے گئے، اس وقت مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر، چیف جسٹس پاکستان، قائم مقام چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کا ٹرائی اینگل تھا، ذوالفقار علی بھٹو کی برییت سے تینوں کی جاب جا سکتی تھی،

    جسٹس یحییٰ آفریدی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ رضا ربانی آپ کہہ سکتے ہیں کہ حسبہ بل میں عدالتی رائے بائنڈنگ تھی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ حسبہ بل میں کتنے جج صاحبان تھے؟جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حسبہ بل کے صدارتی ریفرنس میں بھی 9 جج صاحبان تھے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم بھی 9 ہی جج ہیں، کوئی اختلاف بھی کر سکتا ہے،رضا ربانی نے کہا کہ احمد رضا قصوری پر حملوں کے 1976 تک چھ مقدمات درج ہوئے کسی ایف آئی آر میں بھٹو کو نامزد نہیں کیا گیا،رضا ربانی نے کہا کہ اس وقت جج جج نہیں تھے، مختلف مارشل لاء ریگولیشن کے تحت کام کر رہے تھے، مارشل لاء ریگولیشن کے باعث ڈیو پراسس نہیں دیا گیا، بیگم نصرت بھٹو نے بھٹو کی نظر بندی کو چیلنج کیا تھا، اسی روز مارشل لاء ریگولیشن کے تحت چیف جسٹس یعقوب کو عہدے سے ہٹا دیا گیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ رضا ربانی صاحب آپ کتنا وقت لیں گے؟ ہم نے آج سماعت مکمل کرنی ہے، جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ آپ ہمیں پھانسی کے بعد منظر عام پر آنے والے تعصب کے حقائق کی تفصیلات تحریری طور پر دے دیں

    رضا ربانی کے دلائل مکمل ہو گئے، آصفہ بھٹو، بختاور بھٹو اور صنم بھٹو کے وکیل رضا ربانی نے دلائل مکمل کر لیے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے استفسار کیا کہ کیا سپریم کورٹ صدارتی ریفرنس میں مختصر رائے بھی دے سکتی ہے؟عدالتی معاون رضا ربانی نے کہا کہ عدالت ایسا کر سکتی ہے، سپریم کورٹ مکمل انصاف کی فراہمی کیلئے آرٹیکل 187 کا استعمال کرسکتی ہے، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر ہم نے آرٹیکل 187کا استعمال کیا وہ رائے کے بجائے فیصلہ ہوجائے گا،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم نے محمود مسعود کے بارے میں پوچھا تھا، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہم ریکارڈ ڈھونڈ رہے ہیں، نادرا کے پاس بھی پرانا ریکارڈ نہیں ہے، تین وزارتوں کو ہم نے ریکارڈ کے حصول کیلئے لکھا ہے،بھٹو کیس میں پرائیویٹ کمپلینٹ 1977 میں دائر کی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ قتل 1974 کا تھا آپ نے اتنا وقت کیوں لیا؟ احمد رضا قصوری نے کہا کہ پہلے کیس بند ہوگیا تھا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیس بھی کافی پہلے بند ہوا آپ تبھی کیوں نہیں گئے کہ ناانصافی ہوگئی، آپ نے تین سال کیوں لیے تھے اس کا جواب کیا ہوگا؟ احمد رضا قصوری نے کہا کہ اس وقت زوالفقار علی بھٹو وزیراعظم تھے صورتحال ہی ایسی تھی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کے اور کتنے بہن بھائی موجود تھے 1974 میں؟ احمد رضا قصوری نے کہا کہ ہم چھ بھائی ہیں کوئی بہن نہیں ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کا ایک اچھی اثر رسوخ ،تعلقات اور وسائل والا خاندان تھا، آپ جیسا بااثر خاندان کیسے کمپلینٹ فائل کرنے میں اثر لیتا رہا؟جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آپ نے انکوائری بند ہونے کا آرڈر بھی چیلنج نہیں کیا تھا،

    ذوالفقار علی بھٹو صدارتی ریفرنس پر کارروائی مکمل،سپریم کورٹ نے رائے محفوظ کر لی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آج نہیں، مگر کسی روز دوبارہ شاید اپنا فیصلہ سنانے بیٹھیں،

    جس کیس میں بھٹو کو سزا دی گئی، اس ایف آئی آر میں نامزد ہی نہیں کیا گیا تھا،عدالتی معاون

    سپریم کورٹ میں ذوالفقار بھٹو کی پھانسی پر صدارتی ریفرنس کی سماعت جاری

    واضح رہے کہ سابق صدر آصف زرداری نے اپریل 2011 میں صدارتی ریفرنس سپریم کورٹ میں دائر کیا تھا، جس کے بعد ذوالفقار بھٹو سے متعلق صدارتی ریفرنس پر اب تک سپریم کورٹ میں 6 سماعتیں ہوچکی ہیں، اس وقت سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اپنی سربراہی میں 11 رکنی لارجر بینچ تشکیل دیا تھا جس نے 3 جنوری 2012 سے 12 نومبر 2012 تک کیس کی 6 سماعتیں کیں لیکن کوئی فیصلہ نہ دیا، صدارتی ریفرنس پر آخری سماعت 9 رکنی لارجر بینچ نے کی تھی، اب تقریباً 11 برس کے طویل عرصے بعد ریفرنس دوبارہ سماعت کے لیے مقرر کیا گیا

     پیپلز پارٹی نے 108 صفحات پر مشتمل تحریری جواب سپریم کورٹ میں جمع کروا دیا

    بھٹو صدارتی ریفرنس کی گزشتہ سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری 

    ہمارا بھٹو تو واپس نہیں آئے گا، ہمیں امید ہے غلط فیصلے کو غلط کہا جائے گا

    سپریم کورٹ کے ہاتھ 40 برسوں سے شہید ذوالفقار علی بھٹو کے لہو سے رنگے ہوئے

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

  • سپریم کورٹ،بھٹو کی پھانسی سے متعلق صدارتی ریفرنس کی سماعت جنوری تک ملتوی

    سپریم کورٹ،بھٹو کی پھانسی سے متعلق صدارتی ریفرنس کی سماعت جنوری تک ملتوی

    سپریم کورٹ میں بھٹو قتل صدراتی ریفرنس کی سماعت ،کمرہ عدالت میں سابق صدر آصف زرداری سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو، سینیٹر رضا ربانی، نئیر بخاری موجود ہیں ،پی پی رہنما نثار کھوڑو، ناصر شاہ، ڈاکٹر شیریں مزاری، ڈاکٹر نفیسہ شاہ اور دیگر بھی موجود ہیں

    سابق وزیر اعظم ذولفقار بھٹو کے قتل سے متعلق صدارتی ریفرنس پر سماعت شروع ہو گئی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا نو رکنی لارجر بینچ سماعت کررہا ہے۔چیف جسٹس کی سربراہی میں لارجر بینچ میں جسٹس سردار طارق ، جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس یحییٰ آفریدی شامل ہیں،جسٹس امین الدین خان ، جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس محمد علی مظہر بھی لارجر بینچ کا حصہ ہیں،جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس مسرت ہلالی بھی صدارتی ریفرنس کی سماعت کے لارجر بینچ میں شامل ہیں

    فاروق ایچ نائیک اور اٹارنی جنرل عدالت میں پیش ہوئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نےکہا کہ ہم یہ کاروائی براہ راست نشر کر رہے ہیں ،آپ سپریم کورٹ کی ویب سائٹ اور یوٹیوب پر کیس براہ راست دیکھ سکتے ہیں،آپ کی درخواست سے پہلے ہی ہم نے انتظام کر لیا تھا، فاروق ایچ نائیک کی جانب سے کاروائی براہ راست نشر کرنے پر اظہار تشکر کیا گیا ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ شکریہ کی بات نہیں یہ اہم سماعت ہے، ہم صدارتی ریفرنس شروع کر رہے ہیں،اٹارنی جنرل صاحب آپ آغاز کریں،اٹارنی جنرل نے کہا کہ مجھے کوئی ہدایات نہیں ملی کہ یہ ریفرنس نہ سنا جائے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے کہا کہ یہ صدارتی ریفرنس ہے تو کیا حکومت اس کو اب بھی چلانا چاہتی ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ مجھے ہدایات ہیں کہ صدارتی ریفرنس کو حکومت چلاناچاہتی ہے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ ریفرنس 15 صفحات پر مشتمل ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اٹارنی جنرل سے سوال کیا کہ صدارتی ریفرنس میں صدر صاحب ہم سے کیا چاہتے ہیں،اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ کیس آخری بار 2012 میں سنا گیا، بلاول بھٹو نے فریق بننے کی درخواست دے دی،فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ میں بلاول بھٹو کی نمائندگی کرونگا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پہلے یہ دیکھ لیتے ہیں کون کس کی نمائندگی کرتا ہے، ہم آپ کو ورثا کے طور پر بھی سن سکتے ہیں اور بحثیت سیاسی جماعت کے طور پر بھی،

    عدالت نے ریفرنس میں پیش ہونے والے وکلا کے نام لکھ لیے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سپریم کورٹ کی کارروائی پہلے پاکستان ٹیلی ویژن پر نشر کرتے تھے،اب ہماری کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر کارروائی لائیو ہوگی،کون سے صدر نے یہ ریفرنس بھیجا تھا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ ریفرنس صدر زرداری نے بھیجا تھا, چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ اس کے بعد کتنے صدر آئے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ ان کے بعد دو صدور آ چکے ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کسی صدر نے یہ ریفرنس واپس نہیں لیا، سپریم کورٹ کی جانب سے پہلے ریفرنس مقرر نہ کئے جانے پر افسوس کا اظہار کرتا ہوں، احمد رضا قصوری نے کہا کہ اس کیس میں مجھے بھی سنا جائے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہر قانونی وراث کا حق ہے کہ اسے سنا جائے، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ آپ ریفرنس کا ٹائٹل پڑھیں،اٹارنی جنرل نے ریفرنس میں اُٹھائے گئے سوالات عدالت کے سامنے رکھ دیئے،ریفرنس میں جج کے تعصب سے متعلق آصف زرداری کیس 2001 کا بھی حوالہ دیا گیا،جسٹس مسرت ہلالی نے استفسار کیا کہ کیا لاہور ہائی کورٹ میں ٹرائل کے دوران بنیچ پر اعتراض کی کوئی درخواست دی گئی،اٹارنی جنرل نے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق کئی درخواستیں دی گئی تھی، ،اٹارنی جنرل نے جسٹس (ر)نسیم حسن شاہ کے انٹرویو کا حوالہ دیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ یہ انٹرویو کس کو دیا گیا تھا، فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ یہ انٹرویو جیو پر پروگرام جوابدہ میں افتخار احمد کو دیا گیا تھا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا افتخار احمد اب بھی جیو میں موجود ہے، فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ اب وہ جیو میں نہیں ہے، انٹرویو موجود ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ دو انٹرویو کا ذکر کیا گیا ہے، فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ دوسرا انٹرویو کسی انجان کو دیا گیا ، دوسرے انٹرویو میں نسیم حسن شاہ نے کہا مارشل لاء والوں کی بات ماننی پڑتی ہے، احمد رضا قصوری روسٹروم پر آگئےماحمد رضا قصوری نے نسیم حسن شاہ کے نوائے وقت کے انٹرویو کا حوالہ دیامجسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ کیا آپ نسیم حسن شاہ کے انٹرویو پر انحصار کریں گے، جسٹس نسیم حسن شاہ نے یہ بتایا کہ کس نے ان پر دباو ڈالا تھا،فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ اس وقت مارشل لا تھا تو مارشل لا کی بات کی گئی،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ایک سینئر ممبر بینچ میں شامل نہیں ہونا چاہتے تھے، دو اور ججز نے ذاتی وجوہات پر معذت کی، اس کے بعد 9 رکنی بنچ تشکیل دیا گیا، احمد رضا قصوری نے کہا کہ ریفرنس میں کوئی قانونی سوال نہیں اٹھایا تھا، بابر اعوان بوکھلاہٹ کا شکار ہو گئے تھے،جسٹس میاں محمد علی مظہر نے کہا کہ کیا اس میں ضمنی ریفرنس بھی آیا تھا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ متفرق درخواست کے ساتھ چیزیں آئی تھیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سپریم کورٹ آرڈر میں اس کا ذکر کیوں تھا،اٹارنی جنرل نے کہا کہ 21 اپریل 2011 کو صدارتی حکمنامہ جاری کیا گیا تھا، جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ بھٹو ریفرنس میں تو کوئی سوالات تھے ہی نہیں تو سپلیمنٹری ریفرنس داخل کیوں کیا گیا؟اٹارنی جنرل نے کہا کہ صدارتی حکمنامے کے ذریعے بھٹو ریفرنس کے سوالات فریم کیے گئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ صدارتی ریفرنس کس وکیل نے دائر کیا؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ صدارتی ریفرنس 2011 میں بابر اعوان کے ذریعے دائر کیا گیا لیکن ان کا لائسنس دو سال کیلئے منسوخ ہوا، احمد رضا قصوری نے کہا کہ صدارتی ریفرنس کی 2012 میں سماعت کے دوران بابر اعوان سے سخت سوالات ہوئے،بابر اعوان کے پاس عدالتی سوالات کا جواب نہیں تھا تو وہ مشتعل ہوئے اور عدالت نے ان کا لائسنس منسوخ کیا،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ آپ ریفرنس کے سوالات پڑھیں، اس کیس میں کئی وکلا وفات پاچکے،اس کیس میں عدالتی معاونین مقرر کریں گے ، ناموں کا فیصلہ بعد میں کرتے ہیں،فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ میں انٹرویوز کا ٹرانسکریپٹ اور ویڈیوز پیش کروں گا،احمد رضا قصوری نے کہا کہ تو یہ چیزیں تو میں نے دینی تھی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ وہ دیتے اور صفائی میں آجاتے،ایس ایم ظفر اور مختلف وکلا استعمال کرچکے ہیں ،علی احمد کرد صاحب کیا آپ معاونت کرینگے، علی احمد کرد نے کہا کہ جی میں معاونت کروں گا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا اعتزاز احسن اس کیس میں آئینگے؟ معاون وکیل اعتزاز احسن نے کہا کہ اعتزاز وکیل بھی ہیں بطور معاون نہیں آئینگے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ تقریر نہ کریں ہاں یا نہ میں بتائیں، معاون وکیل نے کہا کہ نہیں وہ بطور معاون نہیں آئینگے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ قاضی اشرف بھی اس کیس میں معاون تھے،فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ قاضی اشرف تندرست ہیں اور پریکٹس کررہے ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا پولیس سے کیس کا اصل ریکارڈ ملا تھا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ ریکارڈ اصل نہیں ملا، فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ ریکارڈ کے تین بنڈل آئے تھے ،

    جسٹس منصور علی شاہ نے صدارتی ریفرنس پر سوالات اٹھا دیئے ، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ سپریم کورٹ بھٹو کیس میں فیصلہ سنا چکی اور نظرثانی بھی خارج ہو چکی،ایک ختم ہوئے کیس کو دوبارہ کیسے دیکھ سکتے ہیں؟ سپریم کورٹ دوسری نظرثانی نہیں سن سکتی، ایک معاملہ ختم ہو چکا ہے، عدالت کو یہ تو بتائیں کہ اس کیس میں قانونی سوال کیا ہے،فیصلہ برا تھا تو بھی سپریم کورٹ کا فیصلہ حتمی ہے بدلا نہیں جا سکتا،یہ آئینی سوالات ہیں جن کا جواب ضروری ہے، جسٹس منصور علی شاہ نے فاروق ایچ نائیک سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ عدالت کو کوئی قانونی حوالہ تو دیں،آرٹیکل 186 کے تحت دائر صدارتی ریفرنس کے ذریعے سپریم کورٹ کے فیصلوں پر نظرثانی نہیں ہو سکتی،اب ہم بھٹو فیصلے کو چھو بھی نہیں سکتے، عدالت کو بتائیں کو جو معاملہ حتمی ہو کر ختم ہو چکا اسے دوبارہ کیسے کھولیں؟ فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ بھٹو کیس عوامی اہمیت کا حامل کیس تھا، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ عوامی اہمیت کا حامل سوال صدر نے دیکھنا تھا عدالت قانونی سوال دیکھے گی، جو بھی کیس ہو عدالت قانونی سوالات کے بغیر فیصلہ کیسے کر سکتی ہے؟عدالت کس قانون کے تحت یہ ریفرنس چلائے؟ کیا جب یہ سارا کیس چلا مُلک میں آئین موجود تھا ؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ اُس وقت ملک میں مارشل لاء تھا ،فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ کیس میں جو شکایات دائر ہوئی تھی اس کا ریکارڈ موصول نہیں ہوا تھا،عدالت نے حکم نامے میں رجسٹرار لاہور ہائی کورٹ کو سارا ریکارڈ فراہم کرنے کا کہا تھا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جو ٹریبونل بنایا تھا اس کا کیا نام تھا ؟ فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ ٹریبونل نے دیکھنا تھا کہ ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف مقدمات درست تھے یا نہیں،ٹریبونل نے ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف تمام مقدمات کو جعلی قرار دیا تھا ،اب معلوم نہیں اس ٹریبونل کا ریکارڈ کہاں ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ چاہتے ہیں کہ یہ ریفرنس کھبی نہ سنا جائے تو اعتراض اٹھاتے رہیں،ہمارے سامنے وہ بات کریں جو سامنے موجود ہے،ایسا کرنا ہے تو ایک درخواست دے دیں کہ کس کس کو احکامات دیئے جائیں،اٹارنی جنرل نے کہا کہ شفیع الرحمان ٹریبونل رپورٹ کو پبلک کیا تھا،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ پھانسی کا فیصلہ سپریم کورٹ سے برقرار رہا اور نظرثانی کی اپیل بھی مسترد ہوئی ،اٹارنی جنرل آپ ہمیں اب اس ریفرنس کے قابل سماعت ہونے پرمطمئن کریں، آپ ہمیں بتائیں ارٹیکل 186 کے تحت قانونی سوال کیا ہے؟جو فیصلہ حتمی ہوچکا ہے اس کو ٹچ نہیں کرسکتے ،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے حکم نامہ لکھوانا شروع کر دیا، حکمنامہ میں کہا گیا کہ آرٹیکل 186 کے تحت صدارتی ریفرنس دائر کر دکیا گیا،آخری بار ریفرنس 2012 میں سنا گیا،بدقسمتی سے یہ ریفرنس اس کے بعد سنا نہیں گیا اور زیر التوا رہا،فاروق اییچ نائیک نے بلاول بھٹو کی جانب سے فریق بننے کی درخواست دی،فاروق ایچ نائیک نے بتایا کہ ذوالفقار بھٹو کی صرف ایک بیٹی زندہ ہیں،عدالت کو بتایا گیا کہ ذوالفقار بھٹو کے 8پوتے پوتیاں،نواسے نواسیاں ہیں،ورثا کی جانب سے جو بھی وکیل کرنا چاہے کر سکتا ہے،بلاول بھٹو کی جانب سے براہ راست نشریات کی بھی درخواست دائر کی گئی،براہ راست نشریات کی درخواست غیر موثر ہو چکی،ہم آئینی معاملات پر بھی اور کریمنل معاملات پر بھی ماہر معاون مقرر کر دیتے ہیں ،

    جسٹس منظور ملک کو عدالتی معاون بنانے کا فیصلہ کیا گیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ خواجہ حارث،خالد جاوید خان اور سلمان صفدر کو بھی عدالتی معاون بنالیتے ہیں،کیا کسی کو ان معاونین پر اعتراض ہے؟ احمد رضا قصوری نےرضا ربانی پر اعتراض کیا، اور کہا کہ عدالتی معاونین نیوٹرل ہونے چاہئیں ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ صلاح الدین،زاہد ابراہیم ،فیصل صدیقی بھی معاون ہوسکتے ہیں ،ذوالفقار علی بھٹو کے ورثا اگر اپنا وکیل مقرر کرنا چاہے تو کرسکتے ہیں، ریفرنس پر آئندہ سماعت کب رکھیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ سردیوں کی چھٹیوں کے بعد کی تاریخ رکھیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اس بار کی چھٹیوں کے بعد ہی رکھیں نا ،آخری سماعت کب ہوئی تھی،یہ کیس گیارہ سال بعد مقرر کیوں ہوا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ جواب آپ نے دینا ہے،احمد رضا قصوری نے سماعت الیکشن کے بعد تک ملتوی کرنے کی استدعا کی اور کہا کہ یہ کیس الیکشن کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ قصوری صاحب اس ریفرنس کے بعد کئی ریفرنس آئے، اس وقت بھی الیکشن معاملات تھے مگر وہ ریفرنس سنے گئے، اب یہ ریفرنس دیر آئد درست آئد پر ہے،جنوری میں آئندہ سماعت ہوگی

    علی احمد کرد روسٹرم پر آگئے اور کہا کہ کئی عدالتی معاونین کا انتقال ہوچکا ہے، کیا عدالت ان کے لیے افسوس کا اظہار نہیں کرے گی؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کرد صاحب یہ کیس بھی سنجیدگی کا متقاضی ہے، اسے سنجیدگی سے دیکھنے دیں، آپ نے کوئی بیان دینا ہے تو میڈیا پر جا کردیں ،اٹارنی جنرل سے پوچھا گیا کیا صدارتی ریفرنس کبھی واپس لیا گیا ؟عدالتی حکم پر اٹارنی جنرل نے ریفرنس پڑھ کر سنایا ،ریفرنس میں مقرر کیے گئے معاونین کا انتقال ہوچکا ہے، ایک معاون علی احمد کرد ہیں جو معاونت پر بھی رضا مند ہوئے، مخدوم علی خان کے معاون وکیل نے بتایا کہ وہ معاونت کے لیے تیار ہیں ، آرٹیکل 186 کے اسکوپ کا معاملہ توجہ طلب ہے، کس نوعیت کی رائے دی جاسکتی ہے یہ بھی اہم معاملہ ہے،معاملے کے قابل سماعت ہونے پر فوجداری اور آئینی ماہرین کی رائے کیا ہوگی؟جسٹس (ر) منظور ملک کو بھی عدالتی معاون مقرر کیا جاتا ہے،عدالتی معاون تحریری یا زبانی طور پر معاونت کرسکتے ہیں،خواجہ حارث بطور ایڈووکیٹ جنرل پنچاب کیس کا حصہ رہ چکے ہیں، خواجہ حارث کو عدالتی معاون مقرر کیا جاتا ہے، سلمان صفدر ، رضا ربانی ، خالد جاوید ، ذاہد ابراہیم اور یاسر قریشی بھی معاون مقرر کرتے ہیں ،عدالتی معاونین فوجداری اور آئینی معاملات پر رائے دیں ،یفرنس میں ایک انٹرویو کابھی حوالہ بنایا گیا ہے،احمد رضا قصوری نے بھی نسیم حسن شاہ کی کتاب کا حوالہ دیا،فاروق نائیک نے جسٹس دراب پٹیل کے انٹرویو کا بھی حوالہ دیا،فاروق نائیک اسی انٹرویو کا ٹرانسکرپٹ بھی فراہم کرینگے،

    نسیم حسن شاہ کا انٹرویو فراہم کرنے کے لیے نجی ٹی وی چینل کو بھی نوٹس جاری کر دیا گیا،حکمنامہ میں کہا گیا کہ آخری سماعت پر سپریم کورٹ بار اور عاصمہ جہانگیر کو بھی نوٹس جاری کیا گیا تھا،سپریم کورٹ بار بھی وکیل مقرر کرنا چاہتے ہیں تو کرلیں، سابق جج منظور ملک کو عدالتی معاون مقرر کر دیا گیا،جسٹس ر منظور ملک کو عدالتی معاون مقرر کیا جاتا ہے،جسٹس ر منظور ملک کی معاونت ان کی رضامندی سے مشروط ہوگی، جسٹس ر منظور ملک کرمنل معاملات پر عدالت کی معاونت کیلئے تحریری جواب یا ذاتی حیثیت میں پیش ہو سکتے ہیں،فوجداری معاملات پر عدالت کی معاونت کیلئے خواجہ حارث کو بھی عدالتی معاون مقرر کیا جاتا ہے، بیرسٹر سلمان صفدر بھی عدالتی معاون مقرر کیے جاتے ہیں،مخدوم علی خان اور احمد علی کرد پہلے سے ہی عدالتی معاون مقرر ہیں،

    سپریم کورٹ کی جانب سے 9 افراد عدالتی معاون مقرر کر دیئے گئے، سپریم کورٹ نے کہا کہ معاونت کی جائے کہ ریفرنس میں عدالت سے کس قسم کی رائے درکار ہے؟ عدلت کی معاونت کی جائے کہ صدارتی ریفرنس قابل سماعت کیسے ہے؟ ریفرنس کے قابل سماعت ہونے پر فوجداری اور آئینی معاملات پر معاونین درکار ہوں گے،عدالت کے پہلے سے 10مقرر کردہ عدالتی معاونین میں سے6 کا انتقال ہو چکا،جیو نیوز ذوالفقار بھٹو کیس سے متعلق انٹرویوز اور کلپس کا ریکارڈ فراہم کرے ،سپریم کورٹ نے جسٹس دراب پٹیل کے انٹرویو کا ریکارڈ بھی طلب کر لیا،ججز کی دستیابی پر آئندہ سماعت کی تاریخ دی جائے گی،جنوری سے صدارتی ریفرنس کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر ہوگی، جنوری میں سماعت شروع ہونے پر کوئی التوا نہیں دیا جائے گا،،ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی سے متعلق صدارتی ریفرنس کی سماعت جنوری تک ملتوی کر دی گئی،تمام عدالتی معاونین کو نوٹس جاری کر دیئے گئے،

    بھٹو ریفرنس کی کاروائی براہ راست دکھائی گئی،گزشتہ روز پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے کاروائی براہ راست دکھانے کی درخواست دائر کی تھی، درخواست بلاول بھٹو کی جانب سے وکیل فاروق ایچ نائیک نے دائر کی، سپریم کورٹ میں‌دائر درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ انصاف کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ریفرنس کی سماعت براہ راست نشر کی جائے،

    واضح رہے کہ سابق صدر آصف زرداری نے اپریل 2011 میں صدارتی ریفرنس سپریم کورٹ میں دائر کیا تھا، جس کے بعد ذوالفقار بھٹو سے متعلق صدارتی ریفرنس پر اب تک سپریم کورٹ میں 6 سماعتیں ہوچکی ہیں، اس وقت سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اپنی سربراہی میں 11 رکنی لارجر بینچ تشکیل دیا تھا جس نے 3 جنوری 2012 سے 12 نومبر 2012 تک کیس کی 6 سماعتیں کیں لیکن کوئی فیصلہ نہ دیا، صدارتی ریفرنس پر آخری سماعت 9 رکنی لارجر بینچ نے کی تھی، اب تقریباً 11 برس کے طویل عرصے بعد ریفرنس دوبارہ سماعت کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بہت ہی اہم خبر لے کر آیا ہوں، 

    مبش لقمان کا کہنا تھا کہ ضیا الحق کی مدد کرنے والوں میں نواز شریف سب سے آگے تھے

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    وزیراعظم سمیت کروڑوں کا ڈیٹا لیک،سیاست کا 12واں کھلاڑی کون

  • بھٹو پھانسی کے خلاف صدارتی ریفرنس کی سماعت کی براہ راست نشریات کیلئے درخواست دائر

    بھٹو پھانسی کے خلاف صدارتی ریفرنس کی سماعت کی براہ راست نشریات کیلئے درخواست دائر

    اسلام آباد: پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سپریم کورٹ میں ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے خلاف صدارتی ریفرنس کی سماعت کی براہ راست نشریات کیلئے درخواست دائر کردی۔

    باغی ٹی وی : بلاول بھٹو کی جانب سے درخواست وکیل فاروق ایچ نائیک نے دائر کی جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کا نواسہ ہونے کے ناطے انصاف کیلئے درخواست کی، ذوالفقار علی بھٹو نے ہمیشہ قانون کی بالادستی کیلئے کردار ادا کیا، ان کا قتل نظام انصاف پر دھبہ ہے،عوام کے سامنے حقائق رکھنے کیلئے کیس کی لائیو نشریات بہت اہم ہے۔

    درخواست میں استدعا کی گئی کہ انصاف کے تقاضے مدنظر رکھتے ہوئے ریفرنس کی سماعت براہ راست نشر کی جائے۔

    گیس مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    قبل ازیں پاکستان پیپلز پارٹی کے سنئیر رہنما فیصل کریم کُنڈی نے مطالبہ کیا تھا کہ ذوالفقار علی بھٹو ریفرنس کی سماعت براہ راست نشر کی جائےاپنے ایک ویڈیو بیان میں فیصل کریم کنڈی نے کہا تھا کہ پاکستان پیپلزپارٹی کے بانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کو اُس وقت کے ڈکٹیٹر نے ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت 4 اپریل 1979 کو پھانسی دلوائی تھی۔

    انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان پیپلزپارٹی کے بانی سابق وزیرِ اعظم جنہوں نے پاکستان کو آئین دیا پاکستان کو ایٹمی قوت بنایا مسلم سربراہی کانفرنس کی، اور جو ذولفقار علی بھٹو نے پوری دنیا میں کردار ادا کیا وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں،آصف علی زرداری جب پاکستان کے صدر تھے تو انہوں نے 4 اپریل 2010 کو صدارتی ریفرنس بھیجا کہ ذوالفقار علی بھٹو کا عدالتی قتل ہوا ہے اس کا ٹرائل ہونا چاہیے، سالوں کی جدوجہد کہ بعد اب سپریم کورٹ نے کیس لگایا ہے اور منگل کو ذوالفقار علی بھٹو کا کیس پاکستان کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سنا جائے گا۔

    پاکستان سے ہوئی زیادتی کے ازالے کیلئے اپنی ذات سے بلند ہوکر سوچنا ہوگا،نواز شریف

    انہوں نے کہا تھا پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی درخواست دی ہے کہ انہیں بھی اس کیس میں پارٹی بنایا جائے، مزید یہ کہ منگل کو پیپلزپارٹی اپنے وکلا کے ساتھ سپریم کورٹ میں ہوں گے تاکہ دنیا کو بتایا جائے ذوالفقار علی بھٹو کا قتل کیسے ہوا۔

    فیصل کریم کُنڈی نے اپنے بیان میں سپریم کورٹ سے یہ اپیل اور مطالبہ بھی کیا کہ ذوالفقار علی بھٹو ریفرنس کا ٹرائل لائیو دکھایا جائے اس سے پہلے بھی ایک کیس لائیو دکھایا گیا تھا تو ہمارا مطالبہ ہے ذوالفقار علی بھٹو کے کیس کو بھی لائیو نشر کیا جائے۔

    واضح رہے کہ سابق وزیراعظم ذوالفقارعلی بھٹو کے عدالتی قتل سے متعلق صدارتی ریفرنس پر سماعت منگل 12 دسمبر کو ہو گی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 9 رکنی لارجر بینچ دن 11 گیارہ بجے سماعت کرےگا۔

    شمال کی طرف ابھی کسی بارش کاامکان نہیں، چیف میٹرولوجسٹ

    یاد رہے کہ 2011 میں اس وقت کے صدر آصف علی زرداری نے ذوالفقار علی بھٹو کے عدالتی قتل سے متعلق ریفرنس دائر کیا تھا اور اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے دسمبر 2012 تک کیس کی 6 سماعتیں بھی کی تھیں لیکن ریفرنس سے متعلق کوئی فیصلہ نہیں ہو سکا تھا۔

  • بھٹو عدالتی قتل صدارتی ریفرنس،کیس کی براہ راست نشریات کیلئے درخواست

    بھٹو عدالتی قتل صدارتی ریفرنس،کیس کی براہ راست نشریات کیلئے درخواست

    سپریم کورٹ ،ذوالفقار بھٹو کے عدالتی قتل کیخلاف صدارتی ریفرنس،بلاول بھٹو زرداری نے کیس کی براہ راست نشریات کیلئے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی

    درخواست بلاول بھٹو کی جانب سے وکیل فاروق ایچ نائیک نے دائر کی، سپریم کورٹ میں‌دائر درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ انصاف کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ریفرنس کی سماعت براہ راست نشر کی جائے،

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم اور پیپلزپارٹی کے بانی ذوالفقارعلی بھٹو قتل کیس میں صدارتی ریفرنس سماعت کے لیے مقرر کردیا۔چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا 9 رکنی لارجر بینچ 12 دسمبر کو ذوالفقار علی بھٹو قتل کیس کی سماعت کرے گا، رجسٹرار سپریم کورٹ کی جانب سے جاری روسٹر کے مطابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 9 رکنی لارجر بینچ میں جسٹس سردار طارق مسعود، جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس یحیٰی آفریدی ، جسٹس امین الدین، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس مسرت ہلالی شامل ہیں۔

    واضح رہے کہ سابق صدر آصف زرداری نے اپریل 2011 میں صدارتی ریفرنس سپریم کورٹ میں دائر کیا تھا، جس کے بعد ذوالفقار بھٹو سے متعلق صدارتی ریفرنس پر اب تک سپریم کورٹ میں 6 سماعتیں ہوچکی ہیں، اس وقت سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اپنی سربراہی میں 11 رکنی لارجر بینچ تشکیل دیا تھا جس نے 3 جنوری 2012 سے 12 نومبر 2012 تک کیس کی 6 سماعتیں کیں لیکن کوئی فیصلہ نہ دیا، صدارتی ریفرنس پر آخری سماعت 9 رکنی لارجر بینچ نے کی تھی، اب تقریباً 11 برس کے طویل عرصے بعد ریفرنس دوبارہ سماعت کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بہت ہی اہم خبر لے کر آیا ہوں، 

    مبش لقمان کا کہنا تھا کہ ضیا الحق کی مدد کرنے والوں میں نواز شریف سب سے آگے تھے

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    وزیراعظم سمیت کروڑوں کا ڈیٹا لیک،سیاست کا 12واں کھلاڑی کون

  • وفاداری بنیادی آئینی اصول ہے، ایک نااہلی کوئی معمولی بات ہے؟ چیف جسٹس

    وفاداری بنیادی آئینی اصول ہے، ایک نااہلی کوئی معمولی بات ہے؟ چیف جسٹس

    وفاداری بنیادی آئینی اصول ہے، ایک نااہلی کوئی معمولی بات ہے؟ چیف جسٹس
    سپریم کورٹ میں آرٹیکل 63 اے کی تشریح کیلئے صدارتی ریفرنس پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے سماعت کی پیپلز پارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے دلائل دیئے،فاروق ایچ نائک نے کہا کہ 1997 میں 13 ویں ترمیم کے زریعے 58 ٹو بی کو ختم کیا گیا تھا مشرف نے 2002 میں ایل ایف او کے ذریعے 58 ٹو بی کو بحال کیا،2010 میں 18 ویں ترمیم کے ذریعے 58 ٹو بی دوبارہ ختم ہوئی، چودہویں ترمیم میں آرٹیکل 63 اے کو آئین میں شامل کیا گیا ،چودہویں ترمیم میں پارٹی سربراہ کو بہت وسیع اختیارات تھے الیکشن کمیشن کے پاس پارٹی سربراہ کا فیصلہ مسترد کرنے کا اختیار نہیں تھا

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 62 ون کی تشریح سپریم کورٹ نے کی، فاروق نائیک نے کہا کہ قانون سازوں نے آرٹیکل 63 اے میں منحرف رکن کی نااہلی کا تعین نہیں کیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آرٹیکل 63 اے میں 4 مواقعوں پر وفاداری کو پارٹی پالیسی سے مشروط کر دیا ہے،وفاداری بنیادی آئینی اصول ہے، ایک نااہلی کوئی معمولی بات ہے، آرٹیکل 63 اے کا مقصد پارٹی سے دفاداری کو یقینی بنانا ہے ضروری نہیں جو حاصل کرنا ہے،وہ آرٹیکل 63 اے سے حاصل کریں،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئین کو مجموعی طور پر دیکھنا ہے، پارٹی ٹکٹ ہولڈر ہر امیدوار حلف دیتا ہے،ٹکٹ ہولڈر حلف دیتا ہے کہ کس پارٹی سے وابستہ ہے،

    جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ نااہلی جیسی بڑی سزا ٹرائل کے بغیر نہیں دی جا سکتی،آزاد کامیاب ہو کر پارٹی میں شامل ہونے والے نے جماعت سے وفاداری کا حلف نہیں لیا ہوتا، فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ عدالت گھوڑے اور گدھے کو ایک نہیں کر سکتی،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ واضح کریں کہ گدھا کون ہے اور گھوڑا کون، فاروق نائیک نے کہا کہ کوئی رکن اسمبلی پارٹی سربراہ کی ہر بات ماننے کا حلف نہیں اٹھاتا،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ پارلیمانی جمہوریت میں آزاد اراکین ہونے ہی نہیں چاہیے، چند اراکین کے آزاد ہونے سے فرق نہیں پڑتا، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی جماعتیں پارلیمانی نظام میں ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہیں، ریڑھ کی ہڈی کو کینسر لگا کر نظام کیسے چلایا جا سکتا ہے؟ فاروق نائیک نے کہا کہ منحرف اراکین ڈی سیٹ ہوتے لیکن ہیں نااہل نہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 63 اے کا مستقبل یہ بھی ہے کہ پارٹی معاف کردے،1998سے یہ آرٹیکل آج تک صرف ایک کیس میں آیا ہے،اس کا مطلب ہے پارٹی سربراہ نے اس آرٹیکل کو سنجیدہ نہیں لیا، اس کی کیا وجہ ہے پارٹی سے انحراف کرنے والوں کو واپس لیا جاتا ہے، پارٹی منحرف اراکین کو واپس لینے کی وجہ سیاست میں لچک ہے،وکیل فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ سیاست میں سخت گیری سے انتشار پھیلتا ہے،

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ بتادیں کوئی انحراف کرے وہ ڈی سیٹ کے بعد ضمنی الیکشن لڑسکتا ہے، وکیل فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ انحراف سے ڈی سیٹ ہونے والا ضمنی الیکشن لڑسکتا ہے انحراف کرنے والے کی یہی سزا ہے کہ ڈی سیٹ ہو، پیپلزپارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک کے دلائل مکمل ہو گئے ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریما رکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے اچھے دلائل دیئے ،

    عثمان بزدار ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی کے پاس پہنچ گئے

    وفاقی حکومت نے گورنر پنجاب کو عہدے سے ہٹا دیا

    جب تک صدر پاکستان عہدے سے نہیں ہٹاتے میں گورنر پنجاب ہوں، عمرسرفراز چیمہ

    مولانا فضل الرحمان نے فوری الیکشن کا مطالبہ کر دیا

    بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار

    ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا

    فرح خان کتنی جائیدادوں کی مالک ہیں؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

    10 سے15 ہزار لوگ جمع کر کےعدالتی فیصلے پر تنقید کریں تو ہم کیوں فیصلے دیں،چیف جسٹس

  • کیا وزیراعظم کو غیر ذمہ دارانہ بیانات سے نہیں روکا جاسکتا؟ سپریم کورٹ

    کیا وزیراعظم کو غیر ذمہ دارانہ بیانات سے نہیں روکا جاسکتا؟ سپریم کورٹ

    ایک رکن دوسری جماعت کو فائدہ دیتا ہے تو سسٹم کو خطرہ کیسے ہو گیا، سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ میں آرٹیکل 63اے کی تشریح کیلئے دائر صدارتی ریفرنس پر سماعت ہوئی

    اٹارنی جنرل کی جانب سے سپریم کورٹ میں دلائل دیئے گئے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ سوال ہوا تھا جو آئین میں نہیں لکھا ہوا وہ عدالت کیسے پڑھے،اس نقطے پر سپریم کورٹ 2018کے فیصلے کا حوالہ دینا چاہتا ہوں، عدالت نے تمام امیدواروں سے کاغذات نامزدگی کیساتھ بیان حلفی مانگا قانون میں بیان حلفی نہیں تھا عدالتی حکم پر لیا گیا،بیان حلفی کے بغیر کاغذات نامزدگی عدالت نے نامکمل قرار دیئے تھے، عدالتی حکم پر کاغذات نامزدگی سے نکالی گئی معلومات لی گی،عدالت نے فیصلے میں کہا انتحابی عمل میں شفافیت کے لیے بیان حلفی لیے گیے،

    جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپکو لگتا ہے کہ آرٹیکل 63 اے میں کسی قسم کی کمی ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرٹیکل 63 اے کو الگ نہیں پڑھا جاسکتا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالتی فیصلے میں انتخابات کی ساکھ اور تقدس کی بات کی گئی ہے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ پارٹی ٹکٹ پر کامیاب ہونے والے جماعتیں ڈسپلن کے پابند ہوتے ہیں،کوئی پارٹی کے ساتھ نہیں چل سکتا تو مستعفی ہوسکتا ہے پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ دینے والا تاحیات نااہل ہونا چاہیے ،

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 63 اے کو 62 ون ایف کے ساتھ کیسے جوڑیں گے؟ کیا کسی فورم پر رشوت لینا ثابت کیا جانا ضروری نہیں، رشوت لینا ثابت ہونے پر 62 ون ایف لگ سکتا ہے ،اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرٹیکل 63 اے کی خلاف ورزی قانونی طور پر بددیانتی ہے قانونی بددیانتی پر آرٹیکل 62 ون ایف کا اطلاق ہوگا ،جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ منحرف رکن اگر کسی کا اعتماد توڑ رہا ہے تو خیانت کس کے ساتھ ہوگی ؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ سب سے پہلے خیانت حلقے کی عوام کے ساتھ ہو گی ،ووٹر اپنا ووٹ ڈال کر واپس نہیں لے سکتا ، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ووٹ جس سمت میں تیر چلائے وہ کہیں اور چلا جائے ،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ کیا مستعفی ہونے پر کوئی سزا ہے ؟ جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ کوئی مستعفی نہیں ہورہا یہی تو مسئلہ ہے ،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ کسی سیاسی بندے کا ذکر نہ کریں ہمارا اس سے کوئی لینا دینا نہیں، عدالت کے سامنے صدارتی ریفرنس ہے اسی تک رہیں ،کیا 63 اے کے نتیجے میں سیٹ خالی ہونا کافی نہیں؟ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی سے انحراف از خود مشکوک عمل ہے ،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی پالیسی کے خلاف ورزی کے نتائج بھگتنا ہوتے ہیں ،آرٹیکل 63 اے میں لکھا ہے کہ رکنیت ختم ہو جائے گی،آپ نااہلی کی مدت کا تعین کروانا چاہتے ہیں ؟ آرٹیکل 62 ون ایف کے لیے عدالتی فیصلہ ضروری ہے، آرٹیکل 63 میں نااہلی دو سے 5 سال تک ہے ،قرض واپس کرنے پر نااہلی اسی وقت ختم ہو جاتی ہے،

    جسٹس مظہر عالم میاں خیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نے کمالیہ کی تقریر میں کیا کہا کہ ججز کو ساتھ ملایا جارہا ہے؟ کیا آپ نے وزیراعظم کی بات کا نوٹس لیا ہے؟ عدالتی سوالات کو کس طرح لیا جاتا ہے اسکو بھی دیکھیں سوشل میڈیا اور ٹی وی پر سنا تھا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی قائدین کو علم ہونا چاہیے کہ زیر التوا مقدمات پر بات نہ کریں، جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا وزیراعظم کو عدلیہ پر اعتماد نہیں ہے؟ کیا وزیراعظم کو غیر ذمہ دارانہ بیانات سے نہیں روکا جاسکتا؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سوالات کے ذریعے کیس سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ،عدالت تقاریر اور بیانات سے متاثر نہیں ہوتی، اٹارنی جنرل نے کہا کہ تقاریر سنتا نہیں اس لیے کچھ نہیں کہہ سکتا. چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا پر بھی کارروائی سے متعلق احتیاط کرنا چاہیے،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ وزیراعظم کو اعلیٰ عدالتوں پر اعتماد نہیں تو انکے نمائندوں کو کیسے ہو گا؟

    اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ عدالت کو بیانات اور تقاریر سے متاثر ہونا بھی نہیں چاہیے وزیر اعظم کو عدلیہ پر مکمل اعتماد ہے،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ جس فیصلے کا آپ نے حوالہ دیا الیکشن سے پہلے کا ہے الیکشن سے پہلے کا قانون بعد میں کیسے لاگو کردیں؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ الیکشن قوانین آئین سے بالاتر نہیں ہو سکتے، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ پارٹی سربراہ ڈکلیئریشن دے تو الیکشن کمیشن کو فیصلہ کرنے دیں، قانون میں طریقہ واضح کردیا ہے تو کیا چاہتے ہیں؟ ہو سکتا ہے کسی کا سچ میں ضمیر جاگ گیا ہو، الیکشن کمیشن کا فیصلہ سپریم کورٹ آئے گا تو دیکھا جائے گا،اٹارنی جنرل نے کہا کہ طریقہ کار سے متعلق کوئی سوال ریفرنس میں نہیں پوچھا،جسٹس مظہر عالم نے کہا کہ نااہلی کی مدت کا تعین کس بنا پر ہو گا؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ توقع ہے آج آپکے دلائل مکمل ہو جائیں گے،اصل نقطہ نااہلی کا ہے اس پر سب ہی آپکو سننا چاہتے ہیں اٹارنی جنرل نے کہا کہ آج شاید مزید وقت درکار ہو،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ کیا آپ مستقبل کے لیے ریفرنس لائے ہیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ اسمبلی اجلاس میں کیا ہورہا ہے عدالتی کارروائی پر فرق نہیں پڑنا چاہیے، نااہلی کی مدت کے حوالے سے آرٹیکل 63 اےنیوٹرل ہے

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 63 اے کی خلاف ورزی کا سسٹم پر براہ راست اثر پڑتا سکتا ہے، 10سے15 اراکین منحرف ہو جائیں تو یہ سسٹم کا مذاق بنانے والی بات ہے، پندرہ لوگ حکومت بدل کر دوبارہ الیکشن لڑیں تو میوزیکل چیئر چلتی رہے گی ،اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرٹیکل 63 اے سسٹم کو بچانے کے لیے ہے،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 63 اے کی خلاف ورزی کا سسٹم پر براہ راست اثر پڑ سکتا ہے،مطمئن کریں کہ منحرف ہونے سے سسٹم کو خطرہ ہو گا اور سنگین جرم ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ سپریم کورٹ نے ہارس ٹریڈنگ کو کینسر قرار دیا ہے، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ ایک رکن دوسری جماعت کو فائدہ دیتا ہے تو سسٹم کو خطرہ کیسے ہو گیا؟ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ حلقے میں الیکشن کا کتنا خرچہ آتا ہو گا؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آرٹیکل95 مشترکہ حکومت کی بات کرتا ہے،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی جماعت اپنے لیڈر کے خلاف عدم اعتماد کر سکتی ہے پارٹی خود عدم اعتماد کرے تو کسی کے خلاف کارروائی نہیں ہوسکتی،پارلیمانی پارٹی وزیراعظم تبدیل کرنے کا فیصلہ کرے تو پارٹی سربراہ بادشاہ نہیں ہو گا،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ اصل نکتہ نااہلی کا ہے اس پر سب ہی آپکو سننا چاہتے ہیں، پارلیمانی پارٹی آرٹیکل 63 اے کے تحت کارروائی کی سفارش کرے تو کیا پارٹی سربراہ روک سکتا ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ پارٹی سربراہ من پسند افراد کو ڈکلیریشن نہیں دے سکتا، یہ سیاسی فیصلہ ہے جو پارٹی سربراہ نے کرنا ہوتا ہے،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ اصل معاملہ سیاسی نظام کے استحکام کا ہے، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ بلوچستان میں اس وقت حکومت اپوزیشن کی مدد سے آئی ہے،جب تک ایوان خوش ہے کام چلتا رہتا ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ پارٹی وزیراعظم کو ووٹ نہ دے اور عدم اعتماد بھی ناکام ہو جائے تووہ کام کرتے رہیں گے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جمہوریت اچھا نظام ہے لیکن بعض چیزیں بہت پیچیدہ ہیں،جسٹس جمال خان نے کہا کہ کیا تمام جماعتیں آرٹیکل 63اے پر تاحیات نااہلی چاہتی ہیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ ریفرنس سے قبل کوئی ریفرنڈم نہیں کرایا گیا،اپنے پرائے تو سب ہی تاحیات نااہلی چاہتے ہیں، جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ کو نااہلی کی مدت کا فیصلہ کرنے دیں ،جسٹس جمال خان نے کہا کہ پارلیمنٹ اپنا کام کر چکی اب عدالت نے تشریح کرنی ہے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر حکومتی جماعت کے اراکین مستعفی ہو جائیں تو بھی اکثریت ختم ہو جائے گی،ایسی صورت میں وزیراعظم کو اعتماد کا ووٹ لینا ہو گا، اٹارنی جنرل نے کہا ہککہ عوام اپنی رائے کا اظہار صرف ووٹ سے کرسکتی ہے،عدالت عوام کو مدنظر رکھتے ہوئے تشریح کرے، جسٹس جمال نے کہا کہ منحرف رکن سے لوگ ناراض ہوں گئے تو ووٹ نہیں دیں گے،اسلام میں طلاق جائز ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ مرد کو چار اور عورت کو ایک شادی کی اجازت ہے،مناسب ہو گا طلاق اور شادی پر نہ جایا جائے آئین نے جرم کرنے والے اراکین کو پانچ سال کے لیے نااہل قرار دیا فیصلہ عوام پر ہی چھوڑنا ہوتا تو پانچ سال کی نااہلی شامل نہ ہوتی

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جمہوریت ایک ندی ہے جسے بے وفائیاں آلودہ کرتی ہیں،بے وفائی اور منحرف ہونے کا مثبت مطلب کسی ڈکشنری میں نہیں لکھا،اٹارنی جنرل نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم میں ہارس ٹریڈنگ روکنے کے لیے 63 اے شامل کیا گیا،چوری کے کام کی رسید نہیں ہوتی ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ گاڑی چلانا جرم نہیں لیکن اووراسپیڈنگ پر چالان ہوتا ہے، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ ممکن ہے انحراف کرنا غلط کے خلاف ہی ہو، کسی سے غلط کو غلط کہنے کا حق کیسے چھینا جا سکتا ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرٹیکل 63 اے میں کسی ثبوت کی ضرورت نہیں ہوتی پارلیمانی نظام کے لیے اہم ترین کیس ہے،دلائل مکمل کرنے کے لیے ایک سے دو سماعتیں مزید درکار ہوں گی ،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ جمعرات اور جمعہ کو بینچ لاہور میں ہو گا، رمضان شروع ہونے والا ہے ایک بجے سماعت ممکن نہیں ہو گی کل تک اپنے دلائل مکمل کرنے کی کوشش کریں دوسرے وکلا کو وقت دینا لازمی ہے عدالت اپنے تحریری دلائل سے استفادہ کرے گی، کل ایک گھنٹہ آپ اور ایک گھنٹہ دوسرے فریقین کو سنیں گے، علی ظفر ایڈوکیٹ نے کہا کہ اٹارنی جنرل کے بعد پی ٹی آئی کی جانب سے دلائل دوں گا،جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ دوسرے وکلا کا موقف سن کر ذہن مزید کھلے گا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مخدوم علی خان اور رضا ربانی کے دلائل سننا چاہیں گے ابھی تک ہوا میں گھوڑے چل رہے ہیں،پارلیمنٹ نے آج تک آرٹیکل 63 اے کی نااہلی کی مدت کیوں مقرر نہیں کی؟اٹھارویں ترمیم میں آرٹیکل 63 اے کیا سوچ کر شامل کیا گیا ،جمہوریت آئین کا بہترین ڈھانچہ ہے،جمہوریت کے لیے کیا اچھا ہے یہ سوچ کر دلائل دیں، وقت کی کمی ہے کوشش کریں دلائل مختصر ہی رکھیں،

    ن لیگی وکیل نے کہا کہ لازمی نہیں کہ جمہوریت آلودہ کرنے والے اپوزیشن سے ہی نکلیں ، جسٹس جمال نے کہا کہ جمہوریت لوگوں سے اور لوگوں کے لیے ہوتی ہے، دیکھنا ہے حکومت بچانی ہے یا پارٹی،عوام کا فائدہ کس میں ہے یہ بھی مدنظر رکھیں گے

    ہمارا ساتھ دو، خاتون رکن اسمبلی کو کیا آفر ہوئی؟ ویڈیو آ گئی

    بریکنگ، وزیراعظم کیخلاف عدم اعتماد، قومی اسمبلی کا اجلاس طلب

    آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے ریفرنس، اٹارنی جنرل سپریم کورٹ پہنچ گئے

    پیکا ترمیمی آرڈیننس کے خلاف درخواستوں پر سماعت ملتوی

    کسی کو ووٹ دینے سے روکا نہیں جاسکتا،سپریم کورٹ

    صدارتی ریفرنس کی سماعت کیلیے لارجر بینچ کی تشکیل ،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا چیف جسٹس کو خط

    عدلیہ اورججز پرانگلیاں اٹھانا، ججز پر الزامات لگانا بند کریں،جس پراعتراض ہے اس کا نام لیں،چیف جسٹس

    کیا کوئی بھی رکن وزیراعظم پر عدم اعتماد کا اظہار کر سکتا ہے؟ سپریم کورٹ

    سندھ ہاوس حملے کے ملزمان کو گرفتار کرنے کا حکم

  • کیا کوئی بھی رکن وزیراعظم پر عدم اعتماد کا اظہار کر سکتا ہے؟ سپریم کورٹ

    کیا کوئی بھی رکن وزیراعظم پر عدم اعتماد کا اظہار کر سکتا ہے؟ سپریم کورٹ

    کیا کوئی بھی رکن وزیراعظم پر عدم اعتماد کا اظہار کر سکتا ہے؟ سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ میں آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق صدارتی ریفرنس پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ سماعت کررہا ہے، اٹارنی جنرل خالد جاوید خان کی جانب سے دوسرے روز دلائل شروع کر دیئے گئے ، اٹارنی جنرل نے کہا کہ پارلیمنٹ میں خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستیں ہوتی ہیں،مخصوص نشستوں والے ارکان نے عوام سے ووٹ نہیں لیا ہوتا ہے، مخصوص نشستوں والے ارکان بھی سندھ ہاؤس میں موجود تھے،مخصوص نشستیں پارٹی کی جانب سے فہرست پر ملتی ہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ خیانت کی قرآن میں بہت سخت سزا ہے، اعتماد توڑنے والے کو خائن کہا جاتا ہے،آپکے مطابق پارٹی کو ووٹ نہ دینے والے خیانت کرتے ہیں؟کیا کوئی رکن بھی ڈکلیئریشن دیتا ہے کہ پارٹی ڈسپلن کا پابند رہے گا،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئین میں کہیں واضح نہیں کہ پارٹی سے وفادار رہنا ہے یا نہیں،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا ممبر شپ فارم میں رکن ڈکلیئریشن دیتا ہے کہ ڈسپلن کا پابند رہے گا؟ اگر پارٹی ممبر شپ میں ایسی یقین دہانی ہے تو خلاف ورزی خیانت ہو گی، جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نے اپنے عہدے کا حلف اٹھایا ہوتا ہے،اگر وزیراعظم آئین کی خلاف ورزی کرے تو کیا ممبر ساتھ دینے کا پابند ہے؟کیا کوئی بھی رکن وزیراعظم پر عدم اعتماد کا اظہار کر سکتا ہے؟

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ پارٹی ٹکٹ ایک سرٹیفکیٹ ہے جس پر انتحابی نشان ملتا ہے وزیراعظم اور رکن اسمبلی کے حلف میں فرق ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ووٹر انتحابی نشان پر مہر لگاتے ہیں کسی کے نام پر نہیں، پارٹی کے نشان پر الیکشن لڑنے والے جماعتی ڈسپلن کے پابند ہوتے ہیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ برصغیر میں بڑے لیڈرز کے نام سے سیاسی جماعتی آج بھی قائم ہیں، مسلم لیگ اور کانگریس بڑے لیڈرز کی جماعتیں ہیں،پارلیمانی جمہوریت میں پارلیمانی پارٹی اجلاس ہوتے ہیں،اراکین اسمبلی ربڑ ا سٹمپ نہیں ہوتے، پارٹی فیصلے سے متفق نہ ہوں تو مستعفی ہوا جا سکتا ہے، پارٹی اختلاف کا یہ مطلب نہیں کہ حکومت کیخلاف جایا جائے،رضا ربانی نے پارٹی ڈسپلن کے تحت فوجی عدالتوں کے حق میں ووٹ دیا،یقین ہے رضا ربانی نے نااہلی کے ڈر سے ووٹ نہیں دیا ہوگا،پارٹی ٹکٹ پر الیکشن لڑنے والا جماعت کے ڈسپلن کا بھی پابند ہوتا ہے،

    جسٹس جمال خان مندو خیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہر شخص کو آئین اپنے خیالات کے آزادانہ اظہار کا حق دیتا ہے،کیا خیالات کے اظہار پر تاحیات نااہلی ہونی چاہیے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ اراکین اسمبلی صرف 4مواقع پر آزادی سے ووٹ نہیں دے سکتے،بطور ایڈووکیٹ جنرل سندھ ہاؤس میں رہتا تھا، سندھ ہاؤس میں ایسی کوئی ڈیوائس نہیں تھی جو ضمیر جگائے ،حکومتی جماعت کے لوگوں کا سندھ ہاؤس میں جاتے ہی ضمیر جاگ گیا، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ وزیراعظم ملک کے خلاف کوئی فیصلہ کریں تو کیا رکن مخالفت نہیں کر سکتا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ ملک کے خلاف کام ہونے پر رکن خود کو پارٹی سے الگ کر سکتا ہے،جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیاکہ پارٹی سے اختلاف کرنے والا شخص کیا دوبارہ مینڈیٹ لے سکتا ہے؟

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو بتانا ہوگا کہ رکن تاحیات نااہل کب ہوگا؟ 62ون ایف کوالی فکیشن کی بات کرتا ہے ،62ون ایف میں نااہلی کی بات نہیں کی گئی، ذاتی مفاد کیلئے اپنے لوگوں کو چھوڑ کر جانا بے وفائی ہے،پارٹی کے اندر جمہوریت ہوتو آرٹیکل 63 اے کی ضرورت نہیں رہتی، آرٹیکل63 اے کی خوبصورتی ہے کہ اسے استعمال کرنے کا موقع ہی نہ ملے،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ کیا مناسب نہ ہوتا کہ صدر پارلیمانی جماعتوں کوبلا کر مشورہ کرتے،کیا عدالت سے پہلے سیاسی جماعتوں سے مشورہ کرنا مناسب نہیں ہوتا؟ پارلیمانی جماعتوں سے ملکر آئین میں ترمیم ہو سکتی تھی، اٹارنی جنرل نے کہا کہ غلام اسحاق اسی طرح سب کو بلایا کرتے تھے،جسٹس مظہر عالم نے کہا کہ ابھی تو کسی نے انحراف کیا ہی نہیں آپ ریفرنس لے آئے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ جرم کو ہونے سے روکنا مقصد ہے،جسٹس مظہر عالم نے کہا کہ جرم ہونے سے پہلے سزا کیسے دی جا سکتی ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ قانون واضح کرنے کیلئے عدالت آئے ہیں،جرم ہو تو سزا دینے کے لیے قانون واضح ہونا چاہیے،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئین کی تشریح کرنا اس سپریم کورٹ کا کام ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ حسبہ بل کے ڈرافٹ پر ہی حکومت عدالت آگئی تھی،حسبہ بل ریفرنس میں بھی قانون نہ بننے کا اعتراض آیا تھا ،سپریم کورٹ نے بل کی منظوری نہ ہونے کا اعتراض مسترد کر دیا تھا

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے آرٹیکل 63 اے کے تحت اعتراف کے نتائج کا تعین کرنا ہے، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ کیا عدالت ریفرنس میں جوڈیشل اختیارات استعمال کرسکتی ہے؟ اٹارنی جنرل نے اٹھارہویں ترمیم پر ہونے والے پارلیمانی بحث عدالت میں پیش کردی. چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ خالی جگہ عدالت نے پر کرنی ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرٹیکل 62ون ایف میں بھی خالی جگہ موجود ہے،عدالت نے آرٹیکل 62 ون ایف کی تشریح کر دی،

    جسٹس جمال خان نے کہا کہ لوٹوں کو سپورٹ کرنے والا آخری شخص ہوں گا،پارٹی سے انحراف کرنے والے کے خلاف الیکشن کمیشن کا فورم موجود ہے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ کسی کی بھوک مٹانے کے لیے چوری کرنا بھی جرم ہے، جسٹس جمال خان مندو خیل نے کہا کہ کوئی چوری کرنے والے کا ساتھ جائے تو کیا ہو گا؟ صدر مملکت کو ایسا مسئلہ کیا ہے؟ جو رائے مانگ رہے ہیں، صدر کے سامنے ایسا کونسا مواد ہے جس پر سوال پوچھے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت صدارتی ریفرنس پر رائے دینے کی پابند ہے، جسٹس جمال خان نے کہا کہ کیا عدالت آئین میں کسی فل ا سٹاپ کا بھی اضافہ کر سکتی ہے؟اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرٹیکل62اور63میں براہ راست تعلق ثابت کروں گا، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آئین کے کسی آرٹیکل کو الگ سے نہیں پڑھا جاسکتا،آرٹیکل62اور63 کو ملا کر پڑھا جاتا ہے، پارلیمانی بحث میں ہارس ٹریڈنگ کو کینسر قرار دیا گیا ہے،

    آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق صدارتی ریفرنس پر سماعت پیر تک ملتوی کر دی گئی، ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد نے کہا کہ گزشتہ روزعدالت نے جلسوں کے بارے میں یقین دہانی لی،ایک پارٹی اجازت کی خلاف ورزی کرکے کشمیر ہائی وے بلاک کررہی ہے، کامران مرتضیٰ نے کہا کہ مجھے کچھ دیر پہلے شوکاز نوٹس جاری کیا گیا اس کو بیٹھ کر حل کریں گے

    جسٹس اعجاز الاحسن نےکہا کہ صدر نے آئین کی تشریح کا کہا ہے، تشریح سے ادھر ادھر نہیں جاسکتے،ممکن ہے ریفرنس واپس بھیج دیں ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن ایکٹ 2017 بناتے وقت کس چیز کا خوف تھا؟ پارلیمنٹ نے آئین میں ڈی سیٹ سے زیادہ کچھ نہیں لکھا،اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرٹیکل62ون ایف کے تحت تا حیات نااہلی بھی پارلیمنٹ نے نہیں کی،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ اگر تمام جماعتیں متفق ہیں تو آئین میں ترمیم کر لیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ آئین ازخود نہیں بلکہ عدالتوں کے ذریعے بولتا ہے ،آئین کی درست تشریح عدالت ہی کرسکتی ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ قانون سازی کے ذریعے بھی آرٹیکل 63 اے کے تحت نااہلی شامل کی جاسکتی تھی،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ اگر ووٹ شمار نہ ہو تو دوسری کشتی میں جانے کی ضرورت نہیں رہے گی، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا آرٹیکل 63 اے آزادی اظہار رائے پر پابندی نہیں؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ دفعہ 302 بھی قتل سے نہیں روکتی لیکن جیل جانا پڑتا ہے، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ قتل تو 302 کی سزا کے باوجود بھی ہو رہے ہیں، آرٹیکل 63 اے کے تحت رکن اپنی رائے کا اظہار کر سکتا ہے؟رکن پارٹی ڈائریکشن کی خلاف ورزی کرے گا تو آئینی نتائج بھگتے گا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرٹیکل 63 اے کے تحت آج تک کوئی نااہل نہیں ہوا،آرٹیکل 63 اے کی خلاف ورزی پر پیسے لینا ثابت کرنا ضروری نہیں، آئندہ سماعت پر دو گھنٹے میں دلائل مکمل کر لوں گا، اٹارنی جنرل نے پیر 2بجے تک دلائل مکمل کرنے کی یقین دہانی کروا دی

    مریم اورنگزیب کو اسمبلی جانے سے روکا گیا،پولیس کی بھاری نفری تھی موجود

    پی ٹی آئی اراکین واپس آ جائیں، شیخ رشید کی اپیل

    پرویز الہیٰ سے پیپلزپارٹی کے رکن اسمبلی،بزدار سے ن لیگی رکن اسمبلی کی ملاقات

    لوٹے لے کر پی ٹی آئی کارکنان سندھ ہاؤس پہنچ گئے

    کرپشن مکاؤ کا نعرہ لگایا مگر…ایک اور ایم این اے نے وزیراعظم پر عدم اعتماد کا اظہار کر دیا

    ہمارا ساتھ دو، خاتون رکن اسمبلی کو کیا آفر ہوئی؟ ویڈیو آ گئی

    بریکنگ، وزیراعظم کیخلاف عدم اعتماد، قومی اسمبلی کا اجلاس طلب

    آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے ریفرنس، اٹارنی جنرل سپریم کورٹ پہنچ گئے

    پیکا ترمیمی آرڈیننس کے خلاف درخواستوں پر سماعت ملتوی

    کسی کو ووٹ دینے سے روکا نہیں جاسکتا،سپریم کورٹ

    صدارتی ریفرنس کی سماعت کیلیے لارجر بینچ کی تشکیل ،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا چیف جسٹس کو خط

    عدلیہ اورججز پرانگلیاں اٹھانا، ججز پر الزامات لگانا بند کریں،جس پراعتراض ہے اس کا نام لیں،چیف جسٹس