Baaghi TV

Tag: صدر

  • فلسطینی صدر نے نئے وزیراعظم کا تقرر کر دیا

    فلسطینی صدر نے نئے وزیراعظم کا تقرر کر دیا

    فلسطین کے نئے وزیراعظم کی تقرری کر دی گئی، فلسطینی وزیراعظم نے محمد مصطفیٰ کو فلسطین کا نیا وزیراعظم مقرر کیا ہے

    فلسطینی خبر رساں ادارے کی جانب سے فلسطین کے نئے وزیراعظم محمد مصطفیٰ کی تقرری کی تصدیق کر دی گئی ہے، انکی تقرری ایسے وقت میں ہوئی جب گورننگ باڈی پر اصلاحات کے لئے دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے، مقبوضہ بیت المقدس سمیت فلسطینی مقبوضہ علاقوں میں گورننس کی بہتری کے مطالبے کی آواز آ رہی ہے،فلسطینی میڈیا کے مطابق نئے مقرر کردہ وزیراعظم محمد مصطفیٰ غزہ کی پٹی میں ریلیف کے کام، اسٹرکچر کی بحالی اور اداروں میں اصلاحات کے حوالہ سے کاموں کی سربراہی کریں گے،

    محمد مصطفیٰ کا تقرر سابق وزیراعظم محمد شتیہ کی جگہ کیا گیا ہے جنہوں نے فروری میں اپنی حکومت سے استعفیٰ دے دیا تھا، محمد مصطفیٰ فلسطینی صدر محمود عباس کے دیرینہ اقصادی مشیر ہیں اور امریکا سے تعلیم یافتہ ماہر معاشیات ہیں،

    دوسری جانب ماہ رمضان میں بھی اسرائیل کے فلسطین پر حملے جاری ہیں، فلسطینی جانیں قربان کر رہے ہیں تو وہیں مسلم دنیا کی بے حسی ہر طرف سے دیکھنے کو مل رہی ہے، اسرائیل نے ہسپتالوں، تعلیمی اداروں، مساجد سمیت دیگر عبادتگاہوں کو بھی نشانہ بنایا،

  • سابق صدر کا قیدیوں کی سز امعافی کا اعلان،صرف چار قیدی رہا ہو سکے

    سابق صدر کا قیدیوں کی سز امعافی کا اعلان،صرف چار قیدی رہا ہو سکے

    سابق صدر پاکستان عارف علوی کی جانب سےقیدیوں کی سزاوں میں 2سال معافی کا اعلان،پنجاب سے صرف چار قیدی رہا ہو سکے

    لاہور سمیت پنجاب بھر کی جیلوں میں قید65ہزار قیدیوں میں سے صرف 4قیدی مستفید ہوئے،8مارچ کو صدر کی جانب سے ملک بھر کے قیدیوں کی سزاوں میں 2سال معافی کا اعلان کیا گیا تھا،سنگین جرائم ،غداری،مالی امور سمیت حساس نوعیت کے کیسزکے قیدیوں پراطلاق نہیں ہونا تھا،آئی جی جیل نے پنجاب بھر کی جیلوں سے رہائی کےلئے تمام سپرنٹنڈنٹس کو ہدایت کی تھی،لاہور کی دونوں جیلوں سے1بھی قیدی رہا نہ ہو سکا، 2خواتین قیدی سنٹرل جیل 1ساہیوال 1گجرات جیل سے کم عمر بچہ رہا ہوسکا۔

    سابق صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نےایسی خواتین قیدی اور ایسے نو عمر قیدی جن کی سزا 2 سال ہے یا سزا کا باقی عرصہ دو سال رہتا ہے کیلئے معافی کا اعلان کیا ہے۔قیدیوں کو سزا کی معافی آئین پاکستان 1973 کے آرٹیکل 45 کے تحت دی گئی،ایسے مرد قیدی جن کی عمر 65 سال یا اس سے زائد ہے اور اپنی سزا کا 1/3 حصہ کاٹ چکے ہیں ، ان پر بھی اس سزا کی معافی کا اطلاق ہو گا۔

    میرے قتل کی سپاری دی گئی ،شواہد موجود ہیں،شیر افضل مروت کا مریم نواز پر سنگین الزام

    مجھے اپنی جماعت میں جگہ بنانے کیلئے بارہ برس بہت زیادہ محنت کرنا پڑی،مریم نواز

    پاکستانیوں کو خادم مل گیا،وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف

    پیس پلازہ میں آتشزدگی،وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا نوٹس

    وزیر اعلی مریم نواز کا پہلادورہ راولپنڈی،رنگ روڈکی سڑک دسمبر تک مکمل کرنے کا حکم

    مریم نواز نے سرکاری اسپتالوں کی ایمرجنسی میں مفت ادویات کی فراہمی کا پلان طلب کرلیا

    مریم نواز سنی اتحاد کونسل کے رانا آفتاب کے پاس خود چل کر گئیں

  • آصف زرداری نے عہدے کا حلف اٹھا لیا

    آصف زرداری نے عہدے کا حلف اٹھا لیا

    اسلام آباد: پاکستان کے 14ویں صدرآصف علی زرداری نے اپنے عہدے کا حلف اٹھالیا۔

    باغی ٹی وی : حلف برداری کی تقریب ایوان صدر میں منعقد ہوئی جس میں سابق صدر عارف علوی، قائدن لیگ نوازشریف، اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق ، بلاول بھٹو،بختاور بھٹو،آصفہ بھٹو زرداری شریک ہوئے، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا نے بھی تقریب میں شرکت کی۔

    چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے نو منتخب صدر آصف علی زرداری سے حلف لیا،انہوں نے حلف صدارت انگریزی زبان میں لیا، حلف برداری ہوتے ہی ایوان صدر جیئے بھٹو کے نعروں سے گونج اٹھا۔

    چینی صدر کی نومنتخب پاکستانی ہم منصب کو مبارکباد

    واضح رہے کہ آصف علی زرداری کو صدارتی پروٹوکول اور سکیورٹی فراہم کر دی گئی ہے، آصف علی زرداری حلف برداری کی تقریب سے قبل ایوان صدر منتقل ہو جائیں گے، آصف زرداری کا اہم سامان ایوان صدر منتقل کر دیا گیا ہے، سامان آصف زرداری کی پرسنل سیکرٹری رخسانہ بنگش کی نگرانی میں ایوان صدر منتقل کیا گیا۔

    کے پی میں صحت کارڈ کا استعمال سرکاری اسپتالوں تک محدود رکھنے کا فیصلہ

    آصف علی زرداری ملکی تاریخ میں دوسری مرتبہ صدر منتخب ہو نے کااعزاز حاصل ہے، آصف علی زرداری نے 411 الیکٹورل ووٹ حاصل کیے جبکہ ان کے مدمقابل سنی اتحاد کونسل کے نامزد کردہ امیدوار محمود خان اچکزئی کو 180 الیکٹورل ووٹ ملے۔

    مسلم لیگ ن نے کابینہ کیلئے اپنے نام فائنل کر لئے

  • صدارتی انتخابات، آصف زرداری، محمود اچکزئی کے کاغذات جمع

    صدارتی انتخابات، آصف زرداری، محمود اچکزئی کے کاغذات جمع

    صدر مملکت کا انتخاب ، حکومتی اتحاد کی جانب سے آصف زرداری اور سنی اتحاد کونسل کی جانب سے محمود اچکزئی کے کاغذات نامزدگی جمع کرادیے گئے ہیں.

    پیپلز پارٹی کی جانب سے پارٹی رہنما فاروق ایچ نائیک نے سابق صدر آصف زرداری کے کاغذات اسلام آباد ہائیکورٹ میں پریزائیڈنگ افسر کے پاس جمع کرائے،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق نے آصف زرداری کے کاغذات نامزدگی وصول کیے،پیپلز پارٹی کی جانب سے آصف زرداری صدارتی امیدوار ہوں گے ،بلاول بھٹو اپنے والد آصف زرداری کے تجویز کنندہ اور فاروق ایچ نائیک تائید کنندہ ہیں۔

    دوسری جانب سنی اتحاد کونسل نے بھی صدارتی اتنخاب کےلیے محمود خان اچکزئی کے کاغذاتِ نامزدگی جمع کروا دیئے ہیں، رکن قومی اسمبلی، عمران خان کے وکیل لطیف کھوسہ نے محمود اچکزئی کے کاغذات جمع کروائے،اس موقع پر لطیف کھوسہ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس عامر فاروق سے مکالمہ کیا کہ ہم سمجھ رہے تھے آپ چیمبر میں بلا کر چائے وغیرہ پلائیں گے، اسام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ چائے تو اس کے بعد بھی آپ کو پلا دیں گے، عمر ایوب اور علی محمد خان صاحب بھی اس عدالت میں پہلی بار آئے ہیں،علی محمد خان نے کہا کہ میں اس عدالت میں انصاف مانگنے آتا رہا ہوں، اسلام آبا د ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے سوال کیا کہ کھوسہ صاحب آپ اپنا پورا نام کیا لکھتے ہیں؟ اس پر لطیف کھوسہ نے کہا کہ میری پارٹی اب زور دیتی ہے کہ نام کے ساتھ سردار لکھوں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ آپ کو نام کے ساتھ سردار ضرور لکھنا چاہیے۔

    دوسری جانب سنی اتحاد کونسل نے صدارتی نامزد امیدوار کا اعلان کر دیا، سنی اتحاد کونسل کی جانب سے محمو دخان اچکزئی کو صدارتی امیدوار نامزد کیا گیا ہے،سنی اتحاد کونسل کے اراکین محمود خان اچکزئی کو صدرکے لئے ووٹ دیں گے،محمود خان اچکزئی نے گزشتہ روز قومی اسمبلی اجلاس میں عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا، اب صدارتی الیکشن میں مقابلہ آصف زرداری اور محمود خان اچکزئی کے مابین ہو گا،

    صدارتی انتخابات،سینیٹ کی خالی 10 نشستیں بھی اثر انداز ہوں گی، سینیٹ کی دس نشستیں خالی ہو چکی ہیں، سابق صدر آصف زرداری کو ان دس نشستوں کا نقصان ہو گا، ایم کیو ایم نے ابھی تک آصف زرداری کی حمایت نہیں کی تو وہیں پی ٹی آئی نے محمود اچکزئی کو صدارتی امیدوار نامزد کر دیا ہے، جے یو آئی بھی ابھی تک کسی کی حمایت نہیں کر رہی بلکہ بائیکاٹ کا اعلان کر رکھا ہے،ایسے میں آصف زرداری کے لئے ایک ایک ووٹ قیمتی ہے،صدارتی انتخاب کے الیکٹو رل کالج میں سینیٹ کی نشستوں کی بہت اہمیت ہے کیونکہ ہر سینیٹر کا ا یک ووٹ ہوتا ہے جب کہ اسمبلیوں کا فار مولا الگ ہوتا ہے ،اگرچہ قومی اسمبلی، سندھ اسمبلی، پنجاب اسمبلی اور بلوچستان اسمبلی میں اس اتحاد کی اکثر یت ہے ،

    الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری شیڈول کے مطابق ملک میں صدارتی انتخاب 9 مارچ کو ہو گا، 2 مارچ کو کاغذات نامزدگی 12 بجے سے پہلے جمع کرائے جا سکیں گے،الیکشن شیڈول کے مطابق کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال 4 مارچ کو ریٹرننگ آفیسر صبح 10 بجے کریں گے، کاغذات نامزدگی 5 مارچ دوپہر 12 بجے تک واپس لیے جا سکیں گے،صدارت کے امیدواروں کی فہرست 5 مارچ کو 1 بجے آویزاں کی جائے گی اور 9 مارچ کو صدارتی الیکشن ہو گا، صدارتی الیکشن کے لیے پولنگ پارلیمنٹ ہاؤس اور چاروں صوبائی اسمبلیوں میں ہو گی، آئین کے مطابق صدارتی انتخاب کا ریٹرننگ افسر چیف الیکشن کمشنر ہوتا ہے۔

    صدارتی انتخاب کا طریقہ کار کیا ہے؟
    صدارتی انتخابات آئین کے آرٹیکل 41 اور شیڈول ٹو کے تحت کروائے جائیں گے ،چیف الیکشن کمشنر صدارتی انتخاب کے لیے ریٹرننگ افسر کا کردار نبھائیں گے ،صدارتی انتخاب کے لیے الیکٹورل کالج پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں اور چاروں صوبائی اسمبلیوں پر مشتمل ہے ،مجلس شوریٰ کے ارکان پارلیمنٹ ہاؤس، صوبائی اسمبلیوں کے ارکان متعلقہ اسمبلیوں میں پولنگ میں حصہ لیں گے،کوئی بھی رکن پارلیمنٹ یا صوبائی اسمبلی صدارتی امیدوار کا تجویز اور تائید کنندہ ہو سکتا ہے ،صدارتی انتخاب خفیہ رائے شماری کے تحت کروایا جائے گا ،نتائج مرتب کرتے وقت مجلس شوریٰ کے ہر رکن کا ووٹ شمار کیا جائے گا ،صوبائی اسمبلیوں میں ووٹوں کا شمار فارمولے کے تحت کیا جائے گا ،امیدوار کے حاصل کردہ ووٹوں کو سب سے چھوٹی اسمبلی کی مجموعی نشستوں سے ضرب دے کر متعلقہ صوبائی اسمبلی کی مجموعی نشستوں سے تقسیم کیا جائے گا ،فارمولے کے تحت بلوچستان اسمبلی کے بھی ہر رکن کا ڈالا گیا ووٹ شمار کیا جائے گا ،دو یا دو سے زائد امیدواروں کے ووٹ برابر ہونے پر قرعہ اندازی کی جائے گی

    دوسری جانب الیکشن کمیشن آف پاکستان نے صدارتی انتخابات کے لیے قومی اسمبلی سینیٹ ،چاروں صوبائی اسمبلیوں میں پریزائیڈنگ افسران کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ۔تین صوبوں اور وفاق میں چیف جسٹسز پریزائیڈنگ افسر ہوں گے جبکہ پنجاب اسمبلی میں ممبر الیکشن کمشن ون کو پریزائیڈنگ افسر بنایا گیا ہے ۔قومی اسمبلی سینیٹ ارکان کے ووٹ کے لیے قومی اسمبلی میں پریزائڈنگ آفیسر چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ ہوں گے پنجاب اسمبلی میں پریزائیڈنگ افسر ممبر کمشن ون الیکشن کمیشن آف پاکستان ہوں گے سندھ اسمبلی میں چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ،بلوچستان اسمبلی میں چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ اور خیبر پختونخوا اسمبلی میں چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ ہوں گے،دلچسپ بات یہ ہے کہ تین صوبوں اور وفاق میں چیف جسٹسز پریزائیڈنگ افسر ہوں گے جبکہ پنجاب اسمبلی میں ممبر الیکشن کمشن ون کو پریزائیڈنگ افسر بنایا گیا ہے.

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    صدر مملکت ایک بار پھر آئین شکنی کرنا چاہتے ہیں ، اسحاق ڈار

    صدر عارف علوی کی 5 سالہ آئینی مدت 8 ستمبر 2023 کو ختم ہو چکی ہے تاہم ملک میں نگران سیٹ اپ ہونے کی وجہ سے عارف علوی صدر پاکستان کی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں اور آئین کے مطابق الیکشن ہونے کے ایک ماہ تک صدر اپنے عہدے پر فائز رہ سکتے ہیں،آٹھ فروری کو ملک بھر میں عام انتخابات ہوئے، اسکے بعد اب 9 مارچ کو صدارتی انتخابات متوقع ہیں پیپلز پارٹی کی جانب سے آصف زرداری صدر کے امیدوار ہیں، ن لیگ سمیت دیگر سیاسی جماعتیں آصف زرداری کی حمایت کریں گی

  • صدارتی انتخابات، الیکشن کمیشن نے شیڈول جاری کر دیا

    صدارتی انتخابات، الیکشن کمیشن نے شیڈول جاری کر دیا

    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے صدارتی انتخاب کا شیڈول جاری کر دیا ہے

    الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری شیڈول کے مطابق ملک میں صدارتی انتخاب 9 مارچ کو ہو گا، 2 مارچ کو کاغذات نامزدگی 12 بجے سے پہلے جمع کرائے جا سکیں گے،الیکشن شیڈول کے مطابق کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال 4 مارچ کو ریٹرننگ آفیسر صبح 10 بجے کریں گے، کاغذات نامزدگی 5 مارچ دوپہر 12 بجے تک واپس لیے جا سکیں گے،صدارت کے امیدواروں کی فہرست 5 مارچ کو 1 بجے آویزاں کی جائے گی اور 9 مارچ کو صدارتی الیکشن ہو گا، صدارتی الیکشن کے لیے پولنگ پارلیمنٹ ہاؤس اور چاروں صوبائی اسمبلیوں میں ہو گی، آئین کے مطابق صدارتی انتخاب کا ریٹرننگ افسر چیف الیکشن کمشنر ہوتا ہے۔

    صدارتی انتخاب کا طریقہ کار کیا ہے؟
    صدارتی انتخابات آئین کے آرٹیکل 41 اور شیڈول ٹو کے تحت کروائے جائیں گے ،چیف الیکشن کمشنر صدارتی انتخاب کے لیے ریٹرننگ افسر کا کردار نبھائیں گے ،صدارتی انتخاب کے لیے الیکٹورل کالج پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں اور چاروں صوبائی اسمبلیوں پر مشتمل ہے ،مجلس شوریٰ کے ارکان پارلیمنٹ ہاؤس، صوبائی اسمبلیوں کے ارکان متعلقہ اسمبلیوں میں پولنگ میں حصہ لیں گے،کوئی بھی رکن پارلیمنٹ یا صوبائی اسمبلی صدارتی امیدوار کا تجویز اور تائید کنندہ ہو سکتا ہے ،صدارتی انتخاب خفیہ رائے شماری کے تحت کروایا جائے گا ،نتائج مرتب کرتے وقت مجلس شوریٰ کے ہر رکن کا ووٹ شمار کیا جائے گا ،صوبائی اسمبلیوں میں ووٹوں کا شمار فارمولے کے تحت کیا جائے گا ،امیدوار کے حاصل کردہ ووٹوں کو سب سے چھوٹی اسمبلی کی مجموعی نشستوں سے ضرب دے کر متعلقہ صوبائی اسمبلی کی مجموعی نشستوں سے تقسیم کیا جائے گا ،فارمولے کے تحت بلوچستان اسمبلی کے بھی ہر رکن کا ڈالا گیا ووٹ شمار کیا جائے گا ،دو یا دو سے زائد امیدواروں کے ووٹ برابر ہونے پر قرعہ اندازی کی جائے گی،

    دوسری جانب الیکشن کمیشن آف پاکستان نے صدارتی انتخابات کے لیے قومی اسمبلی سینیٹ ،چاروں صوبائی اسمبلیوں میں پریزائیڈنگ افسران کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ۔تین صوبوں اور وفاق میں چیف جسٹسز پریزائیڈنگ افسر ہوں گے جبکہ پنجاب اسمبلی میں ممبر الیکشن کمشن ون کو پریزائیڈنگ افسر بنایا گیا ہے ۔قومی اسمبلی سینیٹ ارکان کے ووٹ کے لیے قومی اسمبلی میں پریزائڈنگ آفیسر چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ ہوں گے پنجاب اسمبلی میں پریزائیڈنگ افسر ممبر کمشن ون الیکشن کمیشن آف پاکستان ہوں گے سندھ اسمبلی میں چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ،بلوچستان اسمبلی میں چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ اور خیبر پختونخوا اسمبلی میں چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ ہوں گے،دلچسپ بات یہ ہے کہ تین صوبوں اور وفاق میں چیف جسٹسز پریزائیڈنگ افسر ہوں گے جبکہ پنجاب اسمبلی میں ممبر الیکشن کمشن ون کو پریزائیڈنگ افسر بنایا گیا ہے

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    صدر مملکت ایک بار پھر آئین شکنی کرنا چاہتے ہیں ، اسحاق ڈار

    صدر عارف علوی کی 5 سالہ آئینی مدت 8 ستمبر 2023 کو ختم ہو چکی ہے تاہم ملک میں نگران سیٹ اپ ہونے کی وجہ سے عارف علوی صدر پاکستان کی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں اور آئین کے مطابق الیکشن ہونے کے ایک ماہ تک صدر اپنے عہدے پر فائز رہ سکتے ہیں،آٹھ فروری کو ملک بھر میں عام انتخابات ہوئے، اسکے بعد اب 9 مارچ کو صدارتی انتخابات متوقع ہیں پیپلز پارٹی کی جانب سے آصف زرداری صدر کے امیدوار ہیں، ن لیگ سمیت دیگر سیاسی جماعتیں آصف زرداری کی حمایت کریں گی

  • قومی اسمبلی کا اجلاس کل صبح دس بجے طلب

    قومی اسمبلی کا اجلاس کل صبح دس بجے طلب

    قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کرلیا گیا،

    قومی اسمبلی کا اجلاس کل صبح 10 بجے طلب کر لیا گیا،قومی اسمبلی اجلاس قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے طلب کرلیا ،قومی اسمبلی اجلاس آرٹیکل 91 کی سب کلاز 2 کے تحت طلب کرلیا گیا ،شام 5 بجے تک صدر مملکت کے احکامات کا انتظار کیا گیا، قومی اسمبلی کا اجلاس صدر کی جانب سے طلب نہ کیے جانے پر قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے طلب کرلیا ،قومی اسمبلی اجلاس کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا،
    qomi

    قومی اسمبلی اجلاس میں نو منتخب اراکین حلف اٹھائیں گے، اسپیکر راجہ پرویز اشرف حلف لیں گے،یکم مارچ کواسپیکر اور ڈپٹی ا سپیکر کے امیدوار اپنے کاغذات نامزدگی جمع کروائیں گے، 2مارچ کوا سپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کا انتخاب خفیہ رائے شماری سے ہوگا، 3مارچ کو وزیراعظم کے انتخاب کیلئے امیدوار کاغذات نامزدگی جمع کروائیں گے،4مارچ کو قومی اسمبلی نئے وزیراعظم کا انتخاب ڈویژن کے ذریعے کرے گی،مسلم لیگ ن نے ایاز صادق کو سپیکر کا امیدوار نامزدکر رکھا ہے

    دوسری جانب نگراں وفاقی وزیر پارلیمانی امور مرتضیٰ سولنگی نے قومی اسمبلی سیکریٹریٹ اور قومی اسمبلی ہال کا دورہ کیا، وفاقی وزیر نے قومی اسمبلی کے افتتاحی اجلاس کے انتظامات کا جائزہ لیا،قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کے حکام نے قومی اسمبلی کے افتتاحی اجلاس سے متعلق انتظامات کے بارے میں نگراں وفاقی وزیر کو بریفنگ دی،نومنتخب اراکین قومی اسمبلی کی سہولت کے لئے قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کی جانب سے خصوصی انتظامات کئے گئے ہیں ،نومنتخب اراکین کو اسمبلی ہال تک رسائی کے لئے خصوصی پاس جاری کئے جائیں گے، اراکین کے لئے اسمبلی ہال میں نشستوں کا خصوصی انتظام کیا گیا ہے، وفاقی وزیر اطلاعات نے پارلیمنٹ ہاﺅس میں قائم فیسلی ٹیشن سینٹر کا دورہ بھی کیا اور وہاں موجود عملہ سے ملاقات کی.اس موقع پر وفاقی وزیر کو فیسلی ٹیشن سینٹر کے امور اور نومنتخب اراکین اسمبلی کو فراہم کی جانے والی سہولیات سے متعلق بریفنگ دی گئی

    قومی اسمبلی کااجلاس طلب کرنے کے معاملے پر وفاقی حکومت نے صدرمملکت کے اعتراضات کا جواب دیدیا

    جسٹس مظاہر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل پر اٹھائے اعتراضات

    ہائیکورٹ نے کیس نمٹا کرتعصب کا مظاہرہ کیا،عمران خان کی سپریم کورٹ میں درخواست

    ،اگر کوئی جج سپریم کورٹ کی ساکھ تباہ کر کے استعفی دے جائے تو کیا اس سے خطرہ ہمیں نہیں ہوگا؟

  • یکم مارچ کو صدر کے انتخاب کا شیڈول جاری کیا جائے گا، الیکشن کمیشن

    الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ 29 فروری کو صدر کے انتخاب کیلئے مطلوبہ الیکٹورل کالج کی تکمیل ہو جائیگی، یکم مارچ کو صدر کے انتخاب کا شیڈول جاری کیا جائے گا،

    الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 41 (4) کے تحت صدر پاکستان کا انتخاب عام انتخابات کے انعقاد کے بعد 30 ایام کے اندر کروانا لازم ہے۔ کیونکہ آئین کے آرٹیکل 91 اور 130 کے تحت تمام اسمبلیوں کی پہلی نشست انتخابات کے بعد 21 ایام کے اندر منعقد ہونا ضروری ہے۔ 29 فروری 2024 کو تمام اسمبلیاں وجود میں آجائیں گی اور اس طرح سے صدر کے انتخاب کیلئے مطلوبہ الیکٹورل کالج کی تکمیل ہو جائیگی۔ الیکشن کمیشن یکم مارچ 2024ء کو صدر کے انتخاب کا شیڈول اور پبلک نوٹس جاری کرے گا۔ آئین کے تحت کا غذات نامزدگی جمع کرانے کیلئے ایک دن مقرر کیا جائیگا۔ مجوزہ پروگرام کے مطابق 2 مارچ دن 12:00بجے تک امیدوار اپنے کاغذات نامزدگی کسی بھی پریزائیڈنگ آفیسر کے پاس جمع کروا سکیں گے۔ لہذا تمام خواہش مند امیدواران آج سے ہی کا غذات نامزدگی الیکشن کمیشن سیکرٹریٹ اسلام آباد اور صوبائی الیکشن کمشنر پنجاب، سندھ، خیبر پختو نخوا اور بلوچستان سے حاصل کر سکتے ہیں۔ مزید معلومات اور راہنمائی کیلئے الیکشن کمیشن سیکرٹریٹ کے ٹیلی فون نمبر 051-9219335 پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

    پی ٹی آئی انٹراپارٹی الیکشن،یہ دھاندلی نہیں دھاندلا ہوا ہے،مریم اورنگزیب

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    صدر عارف علوی کی 5 سالہ آئینی مدت 8 ستمبر 2023 کو ختم ہو چکی ہے تاہم ملک میں نگران سیٹ اپ ہونے کی وجہ سے عارف علوی صدر پاکستان کی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں اور آئین کے مطابق الیکشن ہونے کے ایک ماہ تک صدر اپنے عہدے پر فائز رہ سکتے ہیں،آٹھ فروری کو ملک بھر میں عام انتخابات ہوئے، اسکے بعد اب 9 مارچ کو صدارتی انتخابات متوقع ہیں پیپلز پارٹی کی جانب سے آصف زرداری صدر کے امیدوار ہیں، ن لیگ سمیت دیگر سیاسی جماعتیں آصف زرداری کی حمایت کریں گی

  • صدر کی جانب سے سمری مسترد،سپیکر نے 29 فروری کو قومی اسمبلی کا اجلاس بلا لیا

    صدر کی جانب سے سمری مسترد،سپیکر نے 29 فروری کو قومی اسمبلی کا اجلاس بلا لیا

    صدر کی جانب سے سمری مسترد ہونے کے بعدقومی اسمبلی کا اجلاس 29 فروری صبح دس بجے بلا لیا گیا

    قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کا فیصلہ سپیکر قومی اسمبلی کی زیر صدارت اجلاس میں ہوا،قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کا فیصلہ آئین کے آرٹیکل 91 شق دو کے تحت کیا گیا

    قبل ازیں 16 ویں قومی اسمبلی کے افتتاحی اجلاس کی طلبی ، صدر نے سمری مسترد کردی ،صدر مملکت نے سمری واپس بھجوا دی ہے، صدر کے مطابق پہلے خواتین اور اقلیتوں کی نشستوں کو مکمل کیا جائے.صدر عارف علوی کو 5 دن پہلے وزارتِ پارلیمانی امور نے سمری بھیجی تھی،صدر کا کہنا تھا کہ ایوان ابھی مکمل نہیں، کچھ مخصوص نشستوں کا فیصلہ ہونا باقی ہے

    قومی اسمبلی کا افتتاحی اجلاس 29 فروری کو طلب کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے،آئین کے آرٹیکل 91 کی کلاز ٹو کے مطابق قومی اسمبلی کا اجلاس 29 فروری کو طلب کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے اعلی افسران اور آئینی ماہرین سے مشاورت کی،صدر مملکت ڈاکٹر علوی کی جانب سے سمری پر دستخط نہ کرنے سے پیدا شدہ صورتحال کا جائزہ لیا گیا ،آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ صدر کے سمری پر دستخط نہ کرنے سے قومی اسمبلی کے اجلاس میں طلبی میں کوئی رکاوٹ نہیں ،صدر کا اختیار اکیسویں دن سے پہلے اجلاس طلب کرنے کا ہے ۔ آئین کے مطابق ہر صورت انتخابات کے 21 روز بعد قومی اسمبلی کا افتتاحی اجلاس منعقد ہونا ہے ۔صدر کے سمری مسترد کرنے کے باوجود قومی اسمبلی کا اجلاس 29 فروری کو ہوگا ،

    نئی قومی اسمبلی کے افتتاحی اجلاس کا معاملہ،صدر کے اجلاس نہ بلانے کی صورت میں متبادل پلان تیار کر لیا گیا،نگران حکومت اور قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے تیاری مکمل کرلی ،صدر 29 فروری تک اجلاس نہیں بلاتے تو بھی اجلاس 29 کو ہی ہوگا،قومی اسمبلی سیکرٹریٹ اجلاس کی طلبی کا نوٹیفکیشن جاری کرے گا،سپیکر قومی اسمبلی کو اس حوالے سے نگراں وزیراعظم کی طرف سے سمری بھی بھجوائی جاسکتی ہے،قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کا شعبہ قانون سازی اس بارے آج سپیکر کو بریفنگ بھی دے گا

    آئین کے آرٹیکل 91 کی شق دو کے تحت 29 فروری تک اجلاس ہونا آئینی تقاضا ہے ،صدر اکیس دن میں اجلاس نہ بلا کرآئینی خلاف ورزی کے مرتکب ہونگے،آئین میں کہیں نہیں لکھا کہ صدر نئی قومی اسمبلی کے اجلاس کی سمری روک سکتا ہے ،صدر مخصوص نشستوں کو بنیاد بنا کر بھی اجلاس نہیں روک سکتا،پنجاب اور سندھ اسمبلی کے اجلاس بلائے جاچکے ہیں گورنرز نے ایسی کوئی شرط نہیں لگائی،حکومت آئینی خلاف ورزی کی مرتکب نہیں ہوسکتی

    دوسری جانب مسلم لیگ ن سینیٹر اور سینیئر رہنما اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ صدر عارف علوی نے سمری پر قومی اسمبلی کا اجلاس نہ بلایا تو 29 فروری کو اسپیکر آئین کے مطابق خود اجلاس بلاسکتا ہے، آئین میں واضح ہےکہ 21ویں روز اسپیکر کو اجلاس بلانے کا اختیار ہے، 21دن کی آئینی مہلت کے حساب سے 29فروری آخری تاریخ بنتی ہے۔

    قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ آئین کے مطابق انتخابات کے 21 روز کے اندر اجلاس بلایا جانا لازم ہے، 21 روز 29فروری کو مکمل ہونا ہیں۔

    مسلم لیگ ن کے رہنما، سابق وفاقی وزیر اعظم نذیر تارڑ نے پنجاب اسمبلی میں میڈیا ٹاک کرتے ہوئے کہا کہ صدر نے وقت پر اجلاس بلوانا ہوتا ہے، آئین سے روگردانی کی ہے صدر نے،اگر صدر نے اجلاس نہیں بلانا تو 21 ویں روز تو اجلاس ہونا ہی ہونا ہے ، آپ ملک کے صدر ہیں سیاسی جماعت کے نہیں ،نامکمل اسمبلی کا تصور آئین میں نہیں ہے،جب استعفی دے کر گئے تھے تب بھی اسمبلی کی کاروائی ہوئی، صدر کے پاس کافی لوگ ہیں مشورہ دینے والے, اس لیے اس حال تک پہنچے ہیں،

    صدر آئین کا احترام نہ کرکے اپنی میراث تباہ کر رہے،صدارتی منصب چھوڑ دیں،شازیہ مری
    پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کی سیکریٹری اطلاعات،سابق وفاقی وزیر شازیہ مری کا کہنا ہے کہ صدر کا قومی اسمبلی اجلاس نہ بلانا آئینی عمل سے انحراف ہے،صدر آئین کا احترام نہ کرکے اپنی میراث تباہ کر رہے ہیں، وہ آئین پر عمل کریں یا صدارتی منصب چھوڑ دیں، آمر ضیاء نے آئین سے جو شق نکالی اسے جمہوری حکومت نے بحال کیا، ضیاء نےالیکشن کے 30 دن پورے ہونے تک اجلاس بلانے کی شق ہی نکال دی تھی،18ویں آئینی ترمیم کے تحت صدر 21 دن کے اندر قومی اسمبلی کا اجلاس بلائیں آج پھر صدر عارف علوی آمر ضیاء کی سوچ پر عمل پیرا ہوکر آئین سے کھلواڑ کر رہے ہیں،صدر آئینی بحران پیدا کرکے کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں

    پنجاب اسمبلی اجلاس، اراکین پہنچ گئے

    جسٹس مظاہر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل پر اٹھائے اعتراضات

    ہائیکورٹ نے کیس نمٹا کرتعصب کا مظاہرہ کیا،عمران خان کی سپریم کورٹ میں درخواست

    ،اگر کوئی جج سپریم کورٹ کی ساکھ تباہ کر کے استعفی دے جائے تو کیا اس سے خطرہ ہمیں نہیں ہوگا؟

  • انتخابات کی تاریخ کا اعلان الیکشن کمیشن کرے گا. نگراں وزیراعظم

    انتخابات کی تاریخ کا اعلان الیکشن کمیشن کرے گا. نگراں وزیراعظم

    نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کا کہنا ہے کہ انتخابات کی تاریخ کا اعلان الیکشن کمیشن کرے گا جبکہ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے نگراں وزیراعظم نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے مطابق حلقہ بندیاں آئینی عمل کا حصہ ہیں، نگراں حکومت کا کام انتخابات میں الیکشن کمیشن کی معاونت کرنا ہے علاوہ ازیں‌انہوں نے کہا کہ اسمگلنگ کی روک تھام کیلئے واضح ہدایات دی ہیں، اسمگلنگ کی روک تھام کیلئے احسن انداز سےکام جاری ہے۔

    جبکہ انہوں نے کہا کہ مارکیٹ میں اشیاء کی قیمتیں بتدریج کم ہورہی ہیں، سول اداروں کی کارکردگی میں بہتری سے صورتحال مزید بہترہوگی، ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں ایرانی پیٹرول کی اسمگلنگ کچھ عرصہ جاری رہی، اسمگلنگ کی روک تھام کیلئے مؤثر اقدامات کیے گئے ہیں، اسمگلنگ میں ملوث عناصر کی نشاہدہی ہوچکی ہے، ڈالر کی اسمگلنگ کی روک تھام کیلئے خصوصی اقدامات کیے گئے ہیں، امید ہے روپے کی قدر میں مزید استحکام آئے گا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    سیاسی جماعتوں میں میر جعفر۔ تجزیہ، شہزاد قریشی

    قاضی فائز عیسیٰ کیلئے سکیورٹی مقرر کردی گئی
    ایشین کرکٹ کونسل کے صدر جے شاہ شدید تنقید کے زد میں
    مریم نواز شریف سے پاکستان میں آسٹریلیا کے ہائی کمشنر نیل ہاکنز کی ملاقات
    شیخ رشید نے ایک بار پھر 20 ستمبر تک سیاست میں بڑی ہلچل کا دعوی کردیا/
    نگراں وزیراعظم نے کہا کہ بارڈر مینجمنٹ پر خصوصی توجہ دی گئی ہے، ماضی میں روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے برآمدات میں کمی ہوئی ہے، معاشی اصلاحات وقت کی ضرورت ہے، ان کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعت ملکی مفاد کے خلاف اقدامات نہیں اٹھا سکتی، سانحہ 9 مئی جیسے واقعات کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں، انتشار میں ملوث عناصر کےخلاف کارروائی ہوگی۔

  • 16 ستمبر یوم نجات کے طور پر منایا جائے گا ، عطا تارڑ

    16 ستمبر یوم نجات کے طور پر منایا جائے گا ، عطا تارڑ

    ن لیگی رہنما عطا تارڑ نے کہا ہے کہ 16 ستمبر یوم نجات کے طور پر منایا جائے گا

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ عدلیہ میں سنیارٹی کا اصول آج بھی پامال ہو رہا ہے،چیف جسٹس صاحب اپنی مرضی سے پانچ سال بینچ تشکیل دیتے رہے 16 ستمبر یوم نجات کے طور پر منایا جائے گا کس طرح بنچ تشکیل دیئے گئے سب جانتے ہیں ادارے جوابدہ اور آئین کے تابع ہیں مسلم لیگ ن کے وکلا فارم نے مشکل وقت میں اہم کردار ادا کیا مسلم لیگ ن کے وکلا فورم کی وجہ سے آج انصاف کی فراہمی ممکن ہوئی ہے ن لیگ نے مشکل ترین وقت میں ملک کی بھاگ دوڑ سنبھالی،ہم سیاسی لوگ ہیں ، سختیاں ، مشکلات سب برداشت کیا آمدن سے زائد اثاثوں کی تحقیقات کرنے والا کوئی نہیں،قانون کی حکمرانی کو پانامہ فیصلے کے ذریعے پامال کیا گیا ،امریکی سپریم کورٹ میں تمام ججزمل کرفیصلہ کرتے ہیں ،برازیل،نیپال،فلپائن میں باری باری ججز کی ڈیوٹی لگائی جاتی ہے ،قانون کی حکمرانی اور غیرجانبدار عدلیہ لازم و ملزوم ہیں

    عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ مدت ختم ہونے کے بعد عارف علوی روزہ مرہ کے معاملات چلانے کیلیے ہیں،فیصلہ سازی میں عبوری صدر کا کوئی اختیار نہیں،الیکشن ایکٹ کے تحت انتخابات کا اعلان الیکشن کمیشن نے کرنا ہے، جیسے ہی معیشت بہتر ہوتی ہے پی ٹی آئی سازشیں شروع کر دیتی ہے،

    پائلٹس کی ابتدائی 8 سے 10 ماہ کی تربیت پر 15000 سے 20000 ڈالر کا خرچ

    پاکستان کی قومی ایئر لائن پی آئی اے کو مجموعی طور پر 383 بلین کا خسارہ ہے 

    سپریم کورٹ نے پی آئی اے کو نئی 205 پروفیشنل بھرتیوں کی اجازت دیدی

    اگرکوئی پائلٹ جعلی ڈگری پر بھرتی ہوا ہے تو سی اے اے اس کی ذمے دارہے،پلوشہ خان