Baaghi TV

Tag: صدر

  • برازیل  میں پرتشدد مظاہرے:صدر نے آرمی چیف کو برطرف کر دیا

    برازیل میں پرتشدد مظاہرے:صدر نے آرمی چیف کو برطرف کر دیا

    برازیل کے صدر لولا ڈی سلوا نے آرمی چیف کو برطرف کر دیا۔

    باغی ٹی وی : بی بی سی کے مطابق صدر لولا ڈی سلوا نے دارالحکومت برازیلیا میں دو ہفتوں کے احتجاج کے بعد ملک کے آرمی چیف جنرل جولیو سیزر ڈی اروڈا کو عہدے سے برطرف کر دیا۔

    عالمی مالیاتی بحران میں شدت: امریکی بینکوں میں بڑے پیمانے میں برطرفیوں کی تیاریاں

    میڈیا رپورٹس کے مطابق آرمی چیف جنرل جولیو سیزر ڈی اروڈا نے 30 دسمبر کو اپنا عہدہ سنبھالا تھاجنرل اروڈا کی جگہ صدر لولا ڈی سلوا کے قریبی کمانڈر جنرل ٹومس ربیریو پیویا کو نیا آرمی چیف لگایا جا رہا ہے جنہوں نے مظاہرین سے پرامن رہنے کی اپیل کرتے ہوئے عوام کو صدارتی انتخابات کے نتائج کو تسلیم کرنے کا مشورہ دیا تھا۔

    صدر لولا ڈی سلوا کا کہنا ہے انہیں شک ہے کہ آرمڈ فورسز کے اہلکار بھی مظاہرین کے ساتھ ملے ہوئے تھے، برازیل کے صدر نے حالیہ دنوں فوج کے کئی افسران کو برطرف کیا ہے۔

    یاد رہے کہ برازیل کے سابق صدر جیر بولسونارو کے ہزاروں حامیوں نے 8 جنوری کو دارالحکومت برازیلیا میں مظاہرہ کیا تھا اور سرکاری عمارتوں پر حملے بھی کیے تھے۔

    عکس کی کہانی کا اقتباس ہم ہی تھے آئینے کے باہر بھی آس پاس ہم تھے:غالب عرفان کی…

    میڈیا رپورٹس کے مطابق مظاہروں میں درجنوں سکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے تھے اور مظاہرین نے صدارتی محل، کانگریس اور سپریم کورٹ کی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچایا تھا۔

    برازیل کے پولیس حکام کے مطابق 8 جنوری کو ہونے والے پر تشدد مظاہروں میں 2000 افراد کو حراست میں لیا گیا تھا جس میں سے 1200 تاحال زیر حراست ہیں۔

    سپریم کورٹ اس کی تحقیقات کر رہی ہے کہ کیا ہوا اور اس میں جائر بولسونارو کو بھی شامل کیا گیا ہے استغاثہ نے کہا کہ انتہائی دائیں بازو کے سابق رہنما نے ایک ویڈیو پوسٹ کرنے کے بعد فسادات کو بھڑکا دیا ہے جس میں گزشتہ سال کے صدارتی انتخابات کی قانونی حیثیت پر سوالیہ نشان لگایا گیا تھا۔

    اس نے اپنے حامیوں کی طرف سے بغاوت میں ملوث ہونے یا اس کی ذمہ داری سے انکار کیا ہے۔

    امریکا کے قرضے بھی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے،ڈیفالٹ ہونے کا خطرہ

  • ویتنام میں کرپشن الزامات پر صدر مستعفی

    ویتنام میں کرپشن الزامات پر صدر مستعفی

    ویتنام کے صدر نگوین شوآن فوک نے کرپشن کیسز میں ان کے خلاف مبینہ کارروائی یا گرفتاری اور عوام کے شدید دباؤ کے پر استعفیٰ دیدیا۔

    باغی ٹی وی : دی گارڈین کے مطابق سرکاری میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، ویتنام کے صدر نے ان افواہوں کے بعد استعفیٰ دے دیا ہے کہ وہ بدعنوانی کے خلاف مہم کے ایک حصے کے طور پر برطرف ہونے والے تھے جس کی وجہ سے کئی وزراء کو برطرف کیا گیا تھا۔

    موسمیاتی شدت: 2023 گزشتہ سال سے زیادہ تباہ کن ثابت ہوسکتا ہے،ماہرین کا انتباہ

    ویتنام میں کرپشن کے خلاف مہم جاری ہیں اور ملک کے کئی اہم عہدوں پر فائز شخصیات کے خلاف گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے کرپشن کے خلاف مہم کو کمیونسٹ پارٹی اور عوام کی حمایت بھی حاصل ہے نگوین شوآن فوک 2021 میں صدر منتخب ہوئے تھے۔

    ویتنام کے صدر نگوین شوآن فوک کو کمیونسٹ پارٹی نے بطور وزیر اعظم 2016 سے 2021 کے دوران اپنے ماتحت سینئر وزراء کی کرپشن کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔

    جس کے بعد سے صدر کے گرد گھیرا تنگ کیا گیا اور ممکن تھا کہ انھیں برطرف کرکے گرفتار کرلیا جائے تاہم اس سے پہلے ہی وہ خود مستعفی ہوگئے اور استعفے کی وجہ ذاتی مصروفیات بتائیں۔

    Phuc کی اچانک رخصتی کمیونسٹ ویتنام میں ایک غیر معمولی اقدام ہے، جہاں سیاسی تبدیلیوں کو عام طور پر احتیاط سے ترتیب دیا جاتا ہے، جس میں محتاط استحکام پر زور دیا جاتا ہے۔

    ریاستی میڈیا نے کہا کہ کمیونسٹ پارٹی نے فیصلہ دیا ہے کہ وہ صدر بننے سے پہلے، 2016-21 کے وزیر اعظم کے دوران اپنے ماتحت سینئر وزراء کے غلط کاموں کے لیے ذمہ دار ہیں-

    سعودی عرب میں افراطِ زرکی شرح 3.3 فی صد؛ مکانات کی وجہ سے مہنگائی میں اضافہ

    انسداد بدعنوانی کی کارروائی میں اس ماہ دو نائب وزرائے اعظم کو برطرف کیا گیا تھا جس کی وجہ سے درجنوں عہدیداروں کی گرفتاری ہوئی ہے، جن میں سے بہت سے الزامات ویتنام کے کوویڈ ردعمل کے حصے کے طور پر کیے گئے معاہدوں سے متعلق ہیں۔

    VNA نے پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے سرکاری بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ "جب دو نائب وزیر اعظم اور تین وزراء سمیت متعدد عہدیداروں نے خلاف ورزیوں اور کوتاہیوں کا ارتکاب کیا تو فوک نے رہنما کے طور پر سیاسی ذمہ داری قبول کی۔”

    ملک کی قومی اسمبلی نے رواں ماہ فام اور وو ڈک ڈیم کو نائب وزیراعظم کے عہدوں سے ہٹا دیا تھا فام وزیر خارجہ تھے اور ڈیم ملک کے وبائی مرض سے نمٹنے کے انچارج تھے۔

    ہرفرد موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات کی روک تھام کیلئے کردار ادا کرسکتا ہے،بل…

    ڈیم کے اسسٹنٹ سمیت کم از کم 100 عہدیداروں اور کاروباری افراد کو کووڈ ٹیسٹنگ کٹس کی تقسیم کے اسکینڈل کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا ہے۔

    وبائی امراض کے دوران ویتنامی لوگوں کی وطن واپسی کے حوالے سے تحقیقات میں سینتیس افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، جن میں سے بہت سے سینئر سفارت کار اور پولیس اہلکار ہیں۔

    وائرس کے پھیلاؤ کو کم کرنے کے لیے اپنی سرحدیں بند کرنے کے بعد، ویتنام نے 60 ممالک اور خطوں سے شہریوں کو گھر لانے کے لیے تقریباً 800 چارٹر پروازوں کا اہتمام کیالیکن مسافروں کو ویتنام واپس جانے کے لیے حد سے زیادہ ہوائی کرایوں اور قرنطینہ کی فیس ادا کرتے ہوئے پیچیدہ طریقہ کار کا سامنا کرنا پڑا۔

    خیال رہے کہ موجودہ صدر سے پہلے صدر رہنے والے نے بھی استعفیٰ دیا تھا تاہم انھوں نے استعفے کی وجہ طبیعت خرابی کے باعث ذمہ داریاں نہ سنبھال پالنے کو قرار دیا تھا۔

    چیچن صدر نے یوکرین تنازع کو تیسری عالمی جنگ قرار دیا

  • برازیلین صدر کا فوج پر فسادات میں ملوث ہونے کا الزام

    برازیلین صدر کا فوج پر فسادات میں ملوث ہونے کا الزام

    برازیل کے صدرنے فوج پرفسادات میں ملوث ہونے کا الزام عائد کردیا۔اطلاعات کے مطابق برازیل کے صدر لوئیز اناسیو نے پریس کانفرنس میں بتایا سیکیورٹی فورس کے ارکان حکومت مخالف مظاہروں اور توڑپھوڑکرنے والوں کی پشت پناہی میں ملوث ہیں۔صدر کا یہ بھی کہنا ہےکہ فوج کو سیاسی معاملات میں دخل اندازی نہیں کرنی چاہیے اس سے مزید حالات خراب ہورہے ہیں‌

    بھارتی وزیر اعظم کے دورہ پاکستان کے حوالہ سے خبروں پر دفترخارجہ کا ردعمل

    برازیلین صدر لوئیز اناسیو نے اپنے ہیڈ کوارٹرکے باہرمظاہرین کو کنٹرول نہ کیے جانے پربھی فوج پرتنقید کی۔برازیل کے سابق صدر جائیر بولسونارو کے ہزاروں حامیوں نے اتوار کو ملک کے دارالحکومت میں کانگریس، سپریم کورٹ اور صدارتی محل پر دھاوا بول دیا تھا۔جس کی وجہ سے بہت زیادہ پیمانے پر نقصانات کی اطلاع ہے

    واضح رہے کہ برازیل میں بڑے پیمانے پر یہ فسادات اس وقت ہوئے جب صدر لولا ڈی سلوا کی حلف برداری کو محض ایک ہفتہ ہی گزرا تھا۔جس کےبعد یہ فسادات پھوٹ پڑے ، پورے ملک میں بے ہیجانی کی کیفیت ہے اورعوام الناس انتہائی پریشان دکھائی دیتے ہیں

    اتوار کے روز برازیل میں پارلیمنٹ، سپریم کورٹ سمیت اہم عمارتوں پر دھاوا بولنے والے ہزاروں مظاہرین کو جھڑپوں کے دوران انھیں لوٹ مار کرتے اور جھنڈے لہرا تے بھی دیکھا گیا۔ سابق صدر بولسونارو نے حالیہ انتخابات کا نتیجہ تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا اور ملک سے باہر چلے گئے تھے۔

  • امریکی صدر جوبائیڈن توالیکشن مہم کے قابل ہی نہیں:اہم امریکی شخصیت کے بڑے انکشافات

    امریکی صدر جوبائیڈن توالیکشن مہم کے قابل ہی نہیں:اہم امریکی شخصیت کے بڑے انکشافات

    واشنگٹن:امریکی صدر جوبائیڈن توالیکشن مہم کے قابل ہی نہیں:اہم امریکی شخصیت کے بڑے انکشافات ،اطلاعات کے مطابق سابق امریکی نمائندہ اور تجربہ کار، تلسی گبارڈ نے امریکی صدر جو بائیڈن کے بارے میں چونکا دینے والے انکشافات کیے ہیں۔

    فاکس نیوز پر ایمی ایوارڈ یافتہ براڈکاسٹ جرنلسٹ ٹکر کارلسن کےساتھ ایک پروگرام میں گیبارڈ نے کہا کہ جو بائیڈن کا ایشیا کا حالیہ دورہ "منصوبہ بندی پر نہیں تھا”۔ گبارڈ نے کہا کہ آسیان سربراہی اجلاس کے لیے کمبوڈیا میں ہونے کے باوجود بائیڈن کو یقین تھا کہ وہ کولمبیا میں ہیں۔

    امریکی صدر کی خطرناک بیماری کے حوالے سے انکشاف کرتے ہوئے کانگریس کی سابق خاتون نے دلیل دی کہ یہ بدقسمتی کی بات ہے، اس حالت میں‌ صدر نہ صرف امریکہ کے لیے بلکہ باقی دنیا کے لیے بھی "بہت زیادہ نتیجہ خیز فیصلے” کر رہے ہیں۔

    "یہ واقعی افسوسناک ہے کیونکہ وہ ریاستہائے متحدہ کے صدر ہیں۔ وہ بہت زیادہ نتیجہ خیز فیصلے کر رہے ہیں۔”

    طبی ماہر ڈاکٹر مارک سیگل جو شو میں بطور مہمان پیش ہوئے امریکی انتخابات سے متعلق بائیڈن کے مستقبل کے بارے میں گبارڈ کی غیر یقینی صورتحال کی بازگشت کو ڈاکٹر سیگل نے کہا کہ "یہ ایک ڈاکٹر کے طور پر میرے لیے خطرے کی گھنٹی کا اشارہ ہے، یہاں کیا علمی مسائل چل رہے ہیں؟”یہ پریشانی سے کم نہیں‌

    سیگل نے مزید کہا کہ "میں ڈاکٹر کیون او کونر اور دیگر ڈاکٹروں سے پوچھنا چاہتا ہوں جنہوں نے ان کا معائنہ کیا ہے کہ سالانہ جسمانی چیک اپ کرتے ہیں‌تو انہوں نے صدر کی صحت کے حوالے سے پہلے آگاہ کیوں نہیں کیا؟ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یاد رکھیں، امریکہ جیسی سپر پاور کے صدر کی اس کیفیت کو ہم دنیا کے سامنے کھول رہے ہیں‌ جوکہ بدنامی کا سبب بنے گا

    ڈاکٹرسیگل کا کہنا تھا کہ ان حالات میں دشمن کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہیں اور ہم ابھی تک اپنے صدر کی صحت کے حوالے سے غیرذمہ داری کا مظاہرہ کررہےہیں، اس سے بڑھ کرنااہلی نہیں ہے ، اس پر جلد قابو پانا چاہے اور امریکی صدر کے دنیا بھر کے دوروں سے پہلے صدر کی صحت کو بہتر انداز سے ڈیل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے

    پاک فوج ملکی سلامتی کی ضامن۔ شہدا کی قربانیوں پر فخر
    پاکستانی طلبا و طالبات نے 14 ممکنہ نئے سیارچے دریافت کرلیے
    ہمت ہے تو کھرا سچ کا جواب دو، پروپیگنڈہ مبشر لقمان کو سچ بولنے سے نہیں روک سکتا

  • ملکہ الزبتھ دوئم کے انتقال پر صدر پاکستان اور وزیراعظم  کا گہرے دکھ و افسوس کا اظہار

    ملکہ الزبتھ دوئم کے انتقال پر صدر پاکستان اور وزیراعظم کا گہرے دکھ و افسوس کا اظہار

    صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی ،وزیراعظم شہباز شریف سمیت اہم رہنماوں نے برطانیہ کی ملکہ الزبتھ دوئم کے انتقال پر گہرے دکھ و افسوس کا اظہارکیا ہے،رہنماوں نےبرطانیہ کے شاہی خاندان اور برطانوی عوام سے دلی ہمدردی و اظہار تعزیت کیا

    https://twitter.com/PresOfPakistan/status/1567934211637628940
    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے برطانیہ کے شاہی خاندان، برطانوی حکومت اور برطانوی عوام سے ملکہ الزبتھ دوئم کے انتقال پر گہرے دکھ و افسوس کا اظہارکیا.سلام آباد سے جاری تعزیتی بیان میں صدر مملکت نے ملکہ برطانیہ کے انتقال پر شاہی خاندان، برطانوی حکومت اور برطانوی عوام سے اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ ملکہ برطانیہ کے انتقال سے دنیا میں پیدا ہونے والا خلا پر کرنا مشکل ہو گا۔

    انہوں نے مزید کہا کہ ملکہ الزبتھ دوم کو تاریخ میں سنہری حروف سے یاد رکھا جائے گا۔


    وزیراعظم شہباز شریف نے ملکہ الزبتھ دوئم کے انتقال پر گہرے دکھ و افسوس کا اظہارکیا ہے،وزیراعظم نے برطانیہ کے شاہی خاندان، برطانوی حکومت اور برطانوی عوام سے ملکہ الزبتھ دوئم کے انتقال پردل کی گہرائی سے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے.


    وفاقی وزیر خارجہ اور پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ ہمارے زمانے کی اہم ترین شخصیت کی وفات پر انتہائی صدمہ ہوا،ملکہ الزبتھ دوم ایک عہد کی نمائندہ ہیں، ہمدردی اور امید کا ایک روپ تھیں،دکھ کی اس گھڑی میں ہم برطانیہ کے عوام، حکومت اور شاہی خاندان کے ساتھ ہیں.

    وزیر اعلی پنجاب چودھری پرویزالٰہی نے برطانیہ کی ملکہ الزبتھ دوئم کے انتقال پر گہرے دکھ و افسوس کا اظہارکیا ہے، وزیر اعلی پنجاب چودھری پرویزالٰہی کا برطانیہ کے شاہی خاندان اور برطانوی عوام سے دلی ہمدردی و اظہار تعزیت کیا،چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ
    ملکہ الزبتھ دوئم نے انسانیت کی فلاح وبہبود کیلئے گراں قدر خدمات سرانجام دیں۔ملکہ الزبتھ دوئم نے محروم معیشت طبقے کے لئے بے مثال کام کئے جو ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے ، ملکہ الزبتھ دوئم کا پاکستان کے ساتھ خصوصی تعلق اور لگاو تھا ۔ ملکہ الزبتھ دوئم کے انتقال سے دنیا انسانیت سے محبت کرنے والی شفیق شخصیت سے محروم ہو گئی ہے۔ ملکہ الزبتھ دوئم جیسی عظیم شخصیت صدیوں بعد پیدا ہوتی ہیں۔ ملکہ الزبتھ دوئم کی گراں قدر خدمات کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا، پنجاب حکومت شاہی خاندان اور برطانوی عوام کے دکھ میں برابر کی شریک ہے۔

    مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کا کہنا ہے ملکہ برطانیہ کے انتقال سے ایک عظیم وراثت کا دور ختم ہو گیا۔

  • شہبازشریف کا  آذربائیجان کے صدر عزت مآب الہام حیدر علیئیف کو ٹیلی فون، امداد پر شکریہ ادا کیا

    شہبازشریف کا آذربائیجان کے صدر عزت مآب الہام حیدر علیئیف کو ٹیلی فون، امداد پر شکریہ ادا کیا

    وزیراعظم محمد شہبازشریف کا آذربائیجان کے صدر عزت مآب الہام حیدر علیئیف کو ٹیلی فون۔ کال کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے آذربائیجان کی جانب سے پاکستان کے سیلاب متاثرین کے لیے فراخدلانہ امداد پر شکریہ ادا کیا۔

    پاک فوج کی جانب سے سیلاب زدگان کو بچانے کیلئے ریسکیو اینڈ ریلیف آپریشن

     

    آذربائیجان کی جانب سے 2 ملین امریکی ڈالر کے عطیہ کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان شدید ترین مون سون کی لہروں کی زد میں ہے، جس کے نتیجے میں جانوں کا ضیاع، ذریعہ معاش اور انفراسٹرکچر کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔ نتیجتاً سیلاب سے متاثرہ افراد کی امداد اور نقل مکانی شدید محدود رہی۔

     

    عمران خان کا 58 تحائف 3 کروڑ میں خرید کر 4 تحائف 5 کروڑ 80 لاکھ میں بیچنے کا اعتراف

     

    وزیراعظم نے توانائی کے تعاون سمیت مختلف شعبوں میں آذربائیجان کے ساتھ پاکستان کے تعاون کو مزید گہرا اور وسیع کرنے کے اپنے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔

     

    سیلاب متاثرین کی مدد، یو اے ای بازی لے گیا، سب سے زیادہ امدادی پروازیں

     

    پاکستان اور آذربائیجان اقوام متحدہ، او آئی سی اور ای سی او جیسے بین الاقوامی فورمز پر ایک دوسرے کی حمایت کرتے ہیں۔ آذربائیجان جموں و کشمیر پر OIC رابطہ گروپ کا ایک اہم رکن ہے۔ دونوں ممالک کے لوگ مشترکہ عقیدے، ثقافتی وابستگیوں اور گہرے تاریخی رشتوں سے جڑے ہوئے ہیں۔

  • 400 ملین یوآن کے امدادی پیکج پر چین کے صدر شی جن پنگ کا مشکور ہوں،شہباز شریف

    400 ملین یوآن کے امدادی پیکج پر چین کے صدر شی جن پنگ کا مشکور ہوں،شہباز شریف

    وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان میں سیلاب متاثرین کے لئے 400 ملین یوآن کے امدادی پیکج پر چین کے صدر شی جن پنگ کا شکریہ ادا کیا۔


    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر وزیراعظم نے لکھا کہ میں عزت مآب شی جن پنگ کا بے حد مشکور ہوں جنہوں نے پاکستان میں سیلاب زدگان کے لیے 400 ملین یوآن کے چینی امدادی پیکج دیا ، جو کہ ابتدائی 100 ملین یوآن سے زیادہ ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ یہ ہماری مضبوط دوستی کی عکاسی ہے۔ اس تعاون سے لوگوں کو انتہائی ضروری ریلیف فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔

    علاوہ ازیں وزیر اعظم محمد شہباز شریف سے سری لنکا کے صدر رانیل وکرما سنگھے نے ٹیلیفونک رابطہ کیا ۔

    صدر وکرما سنگھے نے پاکستان میں حالیہ سیلاب سے ہونے والی وسیع تباہی پر ہمدردی کا اظہار کیا اور جانوں کے ضیاع پر وزیر اعظم شریف سے تعزیت کی۔ انہوں نے پاکستان کی حکومت اور عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا جو غیر متوقع قدرتی آفت کا عزم کے ساتھ مقابلہ کر رہے ہیں۔

    وزیر اعظم شہباز شریف نے آزمائش کی اس گھڑی میں صدر وکرم سنگھے کی ہمدردی اور حمایت کے اظہار پر شکریہ ادا کیا اور انہیں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں پاکستان بھر میں غیر معمولی بارشوں سے ہونے والی بڑے پیمانے پر ہونے والی تباہی سے آگاہ کیا۔

    وزیر اعظم نے کہا کہ سیلاب نے انسانی جانوں، ذریعہ معاش، مویشیوں، فصلوں، املاک اور اہم انفراسٹرکچر کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا ہے۔ وزیر اعظم نے صدر وکرماسنگھے کو اس آفت سے نمٹنے کے لیے حکومت کے اقدامات سے بھی آگاہ کیا .

    وزیر اعظم نے کہا سیلاب کے حوالے سے امدادی کاروائیوں کو مؤثر بنانے کے حوالے سے ایک ریلیف فنڈ قائم کیا گیا ہے جس میں پاکستان اور بیرون ملک مقیم لوگ سیلاب کی امدادی سرگرمیوں میں عطیہ دے سکتے ہیں۔

    انہوں نے سیلاب کے پیمانے کے بارے میں بین الاقوامی برادری میں آگاہی بڑھانے کی ضرورت کا اعادہ کیا ۔ وزیر اعظم نے امید ظاہر کی کہ 30 اگست 2022 کو پاکستان کے سیلاب کے ردعمل کے لیے "2022 اقوام متحدہ کی فلیش اپیل” ریلیف فنڈنگ ​​کی ضروریات کو پورا کرنے میں معاون ثابت ہوگی ۔ وزیر اعظم نے بحالی اور تعمیر نو کے مرحلے کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔

    وزیر اعظم نے صدر وکرما سنگھے کو سری لنکا کے نئے صدر منتخب ہونے پر مبارکباد دی۔ دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے شعبوں میں پاکستان اور سری لنکا کے درمیان برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی خواہش کا اظہار کیا۔

    اُدھر وزارت اطلاعات و نشریات کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق متحدہ عرب امارات، ترکی، قطر، ازبکستان، چین اور فرانس سے 28 طیارے امدادی سامان لے کر پاکستان پہنچ چکے ہیں، مزید دو پروازیں امدادی سامان لے کر آج پہنچ رہی ہیں۔

    بیان کے مطابق برادر اسلامی ممالک اور دیگر ممالک سے متاثرین سیلاب کیلئے امدادی سامان کی ترسیل کا فضائی آپریشن 28 اگست کو شروع ہوا اس روز متحدہ عراب امارات سے ایک جبکہ ترکیہ سے دو طیارے پاکستان پہنچے۔

    ہفتہ کو شیڈول دو پروزاوں میں ایک پرواز فرانس سے امدادی سامان لے کر اسلام آباد ایئر پورٹ پہنچ چکی ہے جبکہ ترکیہ سے آنے والی دوسری پرواز بھی پہنچ رہی ہے۔ اتوار 4 ستمبر کو متحدہ عرب امارات سے دو جبکہ یونیسیف کا ایک طیارہ مزید امدادی سامان لے کر پاکستان پہنچے گا۔

    اسی طرح 5 ستمبر کو متحدہ عرب امارات سے مزید دو جبکہ ترکمانستان سے ایک طیارہ، 6 ستمبر کو متحدہ عرب امارات سے دو، یونیسیف سے ایک پرواز پاکستان پہنچے گی۔ اسی طرح 7 ستمبر کو اردن سے سی130طیارہ امدادی سامان لے کر پاکستان پہنچے گا۔

  • صدر مملکت عارف علوی کو غیر ملکی کے نامزد سفراء نے سفارتی اسناد پیش کیں

    صدر مملکت عارف علوی کو غیر ملکی کے نامزد سفراء نے سفارتی اسناد پیش کیں

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کو جرمنی، سپین، بلجیئم ، لیبیا، کینیا اور ایتھوپیا کے نامزد سفیروں نے ایوان صدر میں منعقد ایک تقریب میں اپنی سفارتی اسناد پیش کیں۔ ایوان صدر کے پریس ونگ سے جاری بیان کے مطابق صدر مملکت سے پاکستان میں جرمنی کے سفیر الفریڈ گریناس، سپین کے سفیر جوز انتونیا دی اورے پرل، بیلجیئم کے سفیر چارلس ڈیگلون، لیبیا کے سفیر معمر زیدو عبدالمطلب، کینیا کے ہائی کمشنر میری نیمبورا کماؤ اور ایتھوپیا کے سفیر جمال بکر عبداللہ نے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے جرمنی کے سفیر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جرمنی پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے والے بڑے ممالک میں سے ایک ہے، ہوا، شمسی توانائی اور ہائیڈل پاور پراجیکٹس میں مہارت رکھنے والی جرمن کمپنیاں ان شعبوں میں موجود مواقع اور مراعات سے فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جرمن سرمایہ کار سی پیک کے تحت پاکستان کے خصوصی اقتصادی زونز میں سرمایہ کاری کریں، دونوں ممالک کے مابین تجارت اور سرمایہ کاری کے وسیع امکانات کے پیش نظر تجارت کی موجودہ سطح کو مزید بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی اور گلوبل وارمنگ کے منفی اثرات کم کرنے کیلئے دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تعاون کی ضرورت ہے۔

    صدر مملکت سے پاکستان میں سپین کے نئے سفیر نے بھی ملاقات کی۔ صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان اور سپین کے مابین اقتصادی، تجارتی، سرمایہ کاری اور سیاحت کے شعبوں میں تعلقات کو مزید وسعت دینے کی ضرورت ہے، صدر مملکت نے جی ایس پی پلس سکیم پر پاکستان کیلئے سپین کی حمایت کو سراہا۔ انہوں نے پاکستان اور سپین کے درمیان دفاعی تعاون کے معاہدے کو جلد حتمی شکل دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ صدر مملکت سے بیلجیئم کے نامزد سفیر نے بھی ملاقات کی۔ صدر مملکت نے کہا کہ تجارتی وفود کے تبادلوں، تجارتی میلوں میں شرکت اور مشترکہ منصوبوں سے تجارتی تعاون بڑھایا جا سکتا ہے، پاکستان اور بیلجیئم کے مابین دوطرفہ تجارتی حجم کو 1.35 ارب ڈالر کی موجودہ سطح سے مزید بڑھانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ زراعت، پورٹ ہینڈلنگ اور سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں بامعنی تعاون کی ضرورت ہے۔ بعد ازاں صدر مملکت عارف علوی سے پاکستان میں لیبیا کے نئے سفیر نے بھی ملاقات کی۔

    ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ پاکستان اور لیبیا کے مابین تجارتی تعلقات کو وسعت دینے، اقتصادی تعاون کی نئی راہیں تلاش کرنے کی ضرورت ہے، امید ہے کہ 11 سال کے وقفے کے بعد تعینات ہونے والے نئے سفیر برادر ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید فروغ دیں گے۔ صدر مملکت سے پاکستان میں کینیا کے سفیر نے بھی ملاقات کی۔ صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان کینیا کے ساتھ اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے، کینیا افریقہ میں پاکستان کا سب سے بڑا برآمدی اور دوسرا بڑا درآمدی شراکت دار ہے۔ ڈاکٹر عارف علوی نے تجارت، معیشت، دفاع اور بارڈر مینجمنٹ کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون اور ہم آہنگی کی موجودہ سطح پر اطمینان کا اظہار کیا۔

    صدر مملکت سے پاکستان میں ایتھوپیا کے سفیر نے بھی ملاقات کی۔ صدر مملکت نے ایتھوپیا کی جانب سے اسلام آباد میں سفارتی مشن کھولنے کے فیصلے کو سراہا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ فیصلے سے تعلقات میں بہتری آئے گی، دوستی اور تعاون کے نئے دور کا آغاز ہو گا۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان ہوا بازی کے شعبے میں بڑھتے ہوئے تعاون کو سراہا۔ صدر مملکت نے کراچی اور عدیس ابابا کے مابین 2 ہفتہ وار براہ راست پروازوں کا بھی خیرمقدم کیا

  • پبلک سیکٹر  کے آڈٹ اور اکاؤنٹس کے محکمے جدید تکنیکی آلات کو  اپنائیں،صدرعارف علوی

    پبلک سیکٹر کے آڈٹ اور اکاؤنٹس کے محکمے جدید تکنیکی آلات کو اپنائیں،صدرعارف علوی

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی سے پاکستان آڈٹ اینڈ اکاؤنٹس سروس کے زیرِ تربیت افسران نے ملاقات کی .ملاقات میں آڈیٹر جنرل آف پاکستان محمد امجد گوندل اور سینئر حکام نے شرکت کی.

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ پبلک سیکٹر کے آڈٹ اور اکاؤنٹس کے محکمے بہترین بین الاقوامی طریقوں اور جدید تکنیکی آلات کو اپنائیں ، بہتر اکاؤنٹنگ سے بہتر مالیاتی کنٹرول اور عوام کے بہترین مفاد میں عوامی فنڈز کے موثر اور شفاف استعمال میں مدد ملے گی ، نئے افسران خود کو جدید علم ، پیشہ ورانہ اور تکنیکی مہارتوں اور بہتر فنِ گفتگو سے لیس کریں .

    صدر مملکت کا کہنا تھا کہ افسران عام آدمی کی خود تک رسائی بہتر بنائیں ، سرکاری ذمہ داریوں کو عاجزی اور انصاف سے ادا کریں، ٹیکنالوجی تیزی سے ترقی کررہی ہے جنکہ فیصلہ سازوں اور سول سرونٹس کی فیصلہ سازی کی رفتار سست ہے ، بلاک چین، اور ورچوئل اور آگمینٹڈ ریائلٹی جیسی اہم ٹیکنالوجیز اپنانے کی ضرورت ہے، حکومتی عمل کو خودکار بنانے ، بغیر کیش لین دین کی طرف منتقل ہونے سے سرکاری اخراجات کی بہتر ٹریکنگ میں مدد ملے گی .

    انہوں نے کہا کہ تعلیم یافتہ اور ہنر مند آبادی قوم کا اثاثہ ہے اور ترقی و خوشحالی کا ذریعہ بن سکتی ہے، نوجوانوں اور خواتین کو معیاری تعلیم فراہم کرنے اور کاروباری سرگرمیوں میں شامل کرنے کی ضرورت ہے ، روایتی ، آن لائن اور ہائبرڈ طریقہ تعلیم سے نوجوانوں اور خواتین کو ہنرمند بنانا ہوگا.

  • یوم آزادی پاکستان، صدر، وزیراعظم کا قوم کے نام پیغام

    یوم آزادی پاکستان، صدر، وزیراعظم کا قوم کے نام پیغام

    صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے یوم آزادی پرقوم کے نام اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان کی آزادی کی 75ویں سالگرہ کے پر مسرت موقع پر پوری قوم کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ یہ دن ہمیں مادر وطن "پاکستان” کے حصول کیلئے قائداعظم محمد علی جناح کی متحرک قیادت میں بانیانِ پاکستان کی لاتعداد قربانیوں کی یاد دلاتا ہے۔ آج ہم نظریہ ِپاکستان کو برقرار رکھنے اور پاکستان کو ایک مثالی جدید اسلامی فلاحی ریاست بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہیں۔

    اس سال ہم آزادی کی ڈائمنڈ جوبلی بھی منا رہے ہیں اور اس سلسلے میں ملک بھر میں مختلف تقریبات کا انعقاد کیا جارہا ہے۔ ان تقریبات کا مقصد عوام بالخصوص پاکستان کے نوجوانوں میں قومی یکجہتی ، نظریہ ِپاکستان اور تحریکِ آزادی کے بارے میں شعوراجاگر کرنا ہے ۔ اس تاریخی موقع کو منانے کے حوالے سے تمام اداروں کی کاوشیں لائق ِ تحسین ہیں۔

    ڈائمنڈ جوبلی کے اس موقع پر ہمیں اپنی کامیابوں اور خامیوں کا بھی احاطہ کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ اپنی 75 سالہ تاریخ میں ہم نے مختلف مشکلات پر کامیابی سے قابو پایا۔ ہم نہ صرف ایک ایٹمی قوت بن کر ابھرے ، بلکہ دہشت گردی کے عفریت کو بھی شکست دی۔ حالیہ ماضی میں ہم نے کورونا وبا پر بھی کامیابی سے قابو پایا۔ اس تاریخی موقع پر ، ہم افواجِ پاکستان اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے جوانوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں کہ انہوں نے مادر وطن کے دفاع اور سلامتی کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ میں پاکستان کے محنت کشوں ، مزدوروں ، خواتین ، کاروباری برادری ، اقلیتوں اور اُن تمام لوگوں کی کوششوں کو سراہتا ہوں جنہوں نے پاکستان کی ترقی میں اپنا کردار ادا کیا۔ اگرچہ آج کے پاکستان کو معاشی اور سیاسی سطح پر مشکلات کا سامنا ہے مگر میرا قوی یقین ہے کہ یہ قوم اپنی اولوالعزمی ، پختہ ارادے، حب الوطنی ، شبانہ روز محنت ، اتحاد، تنظیم ، باہمی ہم آہنگی اور یکجہتی سے ان مشکلات سے بھی سرخرو ہوکر نکلے گے۔

    ہمیں آج یوم ِ آزادی مناتے ہوئے غیر قانونی طور پر بھارتی زیرِتسلط جموں و کشمیر کے مظلوم اور بھارتی جبر و استبداد کے شکار بہن بھائیوں کو بھی نہیں بھولنا چاہئے۔ بھارت کئی دہائیوں سے کشمیر میں انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزیوں کا مرتکب ہو رہا ہے اور بھارت کی طرف سے 5 اگست 2019 ء کو آرٹیکل 370 اور 35 اے ختم کر کے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی قانونی حیثیت ختم کرنے کے یکطرفہ اقدامات کو بھی تین سال مکمل ہوگئے ہیں۔ میں اپنے کشمیری بھائیوں کو یقین دلاتا ہوں کہ پاکستان اقوام ِمتحدہ کی قرادادوں کے مطابق ان کے حق خودارادیت کے حصول کی جائز جدوجہد کی ہر ممکن سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔

    آخر میں ، میں قوم کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ ملک کی تعمیرو ترقی کے لیے ثابت قدم رہتے ہوئے دلجمعی سے کام جاری رکھیں ۔ آج پاکستانی قوم کو درپیش معاشرتی، معاشی اور سلامتی کے مسائل سے نبرد آزما ہونے کے لیے متحد رہنے کی ضرورت ہے۔ آ ئیے ، عہد کریں کہ ہم اس وطن کے لوگوں کے وقار اور عزت نفس، اور اِس مادر وطن کی عظمت اور سربلندی کے لئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ انشاءاللہ !

    علاوہ ازیں وزیراعظم محمد شہبازشریف نے کہا ہے کہ پاکستان لاکھوں قربانیوں کے بعد حاصل کیا گیا ، کھلے دل سے اس سچائی کا اعتراف کرنا ہو گا کہ ہم اپنی نسلوں کو وہ پاکستان نہیں دے سکے جس کا خواب قائد اور اقبال نے دیکھا تھا ۔

    ہم نے تہیہ کیا ہے کہ پاکستان کو معاشی خود انحصاری کے راستے پر لیکر جائیں گے ، معاشی آزادی کے بغیر حقیقی آزادی کا تصور ناممکن ہے اپوزیشن لیڈر کے طور پر میثاق معیشت کی پیشکش کا بطور وزیراعظم آج ایک مرتبہ پھر خلوص دل سے اعادہ کر رہا ہوں ، اس کی پیشکش کررہا ہوں ، وقت کا تقاضا ہے کہ اب ہم بحیثیت قوم درست سمت میں اپنے سفر کو جاری رکھیں اور قومی مفاد کو ذاتی عناد ، ضداور ہٹ دھرمی کی بھینٹ نہ چڑھنے دیں ، حقیقی سیاسی قیادت انتخابات پر نہیں آنے والی نسلوں کے مستقبل پر نظر رکھتی ہے

    ، ہمارا سامنا بے رحم حقائق سے ہے جن کا مقابلہ ہم قومی اتفاق رائے پر مبنی پالیسیوں کے تسلسل ، معاشی اور سیاسی استحکام سے کر سکتے ہیں ، ہمیں خود ی اور خود داری کے اسی جذبے کو زندہ کرنا ہے جس نے پاکستان بنایا تھا جو تحریک پاکستان کی اصل روح ہے، اسی جذبے سے تعمیر پاکستان ہو گی ،14اگست ایک دن ہے آئیں اس دن ہم ایک قوم بن جائیں ۔

    قوم سے خطاب میں وزیراعظم نے کہاکہ تاریخ گواہ ہے کہ لاکھوں مسلمانوں کے لہو سے لکھی گئی داستان کا عنوان پاکستان ہے ، وطن عزیز کی 75ویں سالگرہ پر میں تحریک آزادی کے ان گنت شہداء کو خراج عقیدت اور پوری دنیا میں آباد ہر پاکستانی کو مبارکباد پیش کرتا ہوں ۔ وزیراعظم نے کہاکہ آج محض ایک مبارکباد کافی نہیں یقیناً ہم ہر سال بڑی دھوم دھام اور خوشی سے یوم آزادی ، یوم پاکستان ، یوم قائداعظم اور یوم اقبال مناتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہم نے گزشتہ 75سال سے ان دنوں کو صرف منایا ہے مگر ان کے اصل مقاصد کو اپنایا نہیں ہے ۔

    وزیراعظم نے کہاکہ پاکستان کو ایسا نہیں بنایاجسے دیکھ کر خود ہمارا دل یہ گواہی دے کہ اس سے قائد اور لاکھوں شہداء کی روحیں مطمئن اور آسودہ ہوں گی ، اسی لئے یوم آزادی کے موقع پر میرا دل خوش بھی ہے اور بے چین بھی ہے ۔ آج ہمیں کھلے دل سے یہ اعتراف کرنا ہوگا کہ اپنے بچوں ، اپنی نئی نسل کو وہ سب نہیں دے سکے جس کے وہ حقدار ہیں ۔

    وزیراعظم نے کہاکہ وہ قوم جس پر اللہ تعالی کی ہمیشہ بے پایہ رحمت رہی جس میں قائداعظم کا عمل اور اقبال کی فکر موجود ہے پھر وہ کیوں منزل کی تلاش میں بھٹک رہی ہے ، ہم ان بحرانوں سے کیوں دوچار ہیں جن میں سب سے بڑھ کر معاشی بحران ہے ۔

    انہوں نے کہاکہ سب سے پہلے میں اس جذباتی بحران کا ذکر کرنا چاہوں گا جس کا آج ہمیں سامنا ہے ، یہ بحران خودی ، خود داری ، خود اعتمادی پر ہمارے یقین کا متزلزل ہونا ہے جس کے اثرات آج ہمارے قومی
    وجود کو اپنی لپیٹ میں لئے ہوئے ہیں ۔ حالانکہ ہمارا قومی کردار جذبے ، ہمت ، محنت اور کر دکھانے سے عبارت ہے جس کا سب سے بڑا ثبوت خود پاکستان کا قیام ہے ۔

    یہی وہ جذبہ تھا جو علامہ اقبال نے سوئی ہوئی ملت میں جگایا ، جس کی بدولت قائداعظم محمد علی جناح کی عظیم الشان قیادت نے اس خواب کو تعبیر میں بدل دیا اور پاکستان معرض وجود میں آگیا ۔ انہوں نے کہاکہ تعمیر پاکستان کے اس مشن کو ہماری قومی و سیاسی قیادت نے جمہوری و آئینی جدوجہد کے ذریعے آگے بڑھایا ۔ انہوں نے کہاکہ حقائق سے نظریں نہیں چرائیں ، ہوش مندی سے سچائی کا سامنا کیا اور شدید مالی انتظامی اور ہر طرح کے مسائل کا صبر ، استقامت اور دانشمندی سے مقابلہ کیا ۔

    قوم کو متفقہ آئین دیکر ایک قومی ایجنڈے پراکٹھاکیا ، ادارے بنائے ، معیشت ، زراعت اور صنعت کو ترقی دی ، قوم کو روزگار دیا اور پاکستان کو دنیا میں قابل عزت بنایا ، یہ وہ قوم ہے جس نے وسائل نہ ہونے کے باوجود وزیراعظم شہید ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں پاکستان کے لئے جوہری پروگرام شروع کیا اور سابق وزیراعظم محمد نوازشریف کی قیادت میں تمام تر ترغیبات اور دبائو کے باوجود اسے مکمل کر کے قومی دفاع کو ہمیشہ کے لئے ناقابل تسخیر بنادیا

    ، اس قوم نے ہولناک زلزلوں اور سیلاب کی تباہ کاریوں کا مقابلہ کیا ، ہمت نہیں ہاری ، آگے بڑھتی رہی ، اسی قوم کے بیٹوں اور بیٹیوں نے کھیلوں کے عالمی مقابلوں میں پاکستان کا پرچم سربلند کیا ، اسی مہینے میں کامن ویلتھ گیمز میں ارشد ندیم اور نوح بٹ سمیت قوم کے بیٹوں اور بیٹیوں نے کامیابیاں حاصل کر کے پاکستان کا نام دنیا میں سربلند کیا۔ وزیراعظم نے کہاکہ اسی قوم نے ملکر دہشت گردی کو شکست فاش دی ۔

    یہ ہمارے قومی عزم اور اعتماد کی چند مثالیں ہیں ، جو اس امر کا ثبوت ہے کہ ہماری قوم ہر مقصد کو حاصل کرنے کی بھر پور صلاحیت رکھتی ہے لیکن آج قوم کو مایوسی کے ایک اور بحران کا سامنا ہے ، انتشار اور نفرت کے بیج بوئے جارہے ہیں ۔قوم کو تقسیم در تقسیم اور قومی وحدت کو پارہ پارہ کرنے کی ناپاک کوشش کی جارہی ہے اس کے ساتھ ہی ساتھ گزشتہ حکومت کے پیدا کردہ معاشی بحران نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے ۔ آج مالی محتاجی جیسے ہماری قومی شناخت بن گئی ہے جس کا ہمارے بزرگوں نے کبھی تصور بھی نہ کیا ہو گا۔ انہوں نے کہاکہ گیارہ اپریل 2022سے اب تک بطور وزیراعظم میرا سب سے تلخ تجربہ یہی ہے ۔

    انہوں نے کہاکہ میں نے آپ کو تاریخ کے آئینے میں تصویر کے دونوں رخ دکھا دیئے ہیں ایک مایوسی کا ہے اور دوسرا امید کا ہے لیکن راستہ صرف ایک یقین محکم کا ہے اور عمل پیہم ، عزم و ہمت اور امید کا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم غور کریں تو ہر بحران میں مواقعے چھپے ہوتے ہیں، بس دیکھنے کو چشم اور کرنے کو عزم چاہئے ، اس جدوجہد کی ابتدا ہم کر چکے ہیں ہم نے اللہ کے فضل و کرم سے مختصر وقت میں ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کے لئے دن رات محنت کی جو اب بھی جاری ہے ، جس کی وجہ سے پاکستانی معاشی طور پر دیوالیہ ہونے سے بچ گیا، اس پر اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں ۔

    انہوں نے کہاکہ سابق حکومت نے 48ارب ڈالر کا پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا تجارتی خسارہ چھوڑا ہے ، اس خسارے کو کم کرنے کے لئے ہمیں دوست ممالک اور عالمی مالیاتی اداروں سے قرض لینا پڑا ہے ۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا یہ حقیقی آزادی ہے ، سابق حکومت نے پونے چار سال میں بیس ہزار ارب روپے کا تاریخ کا سب سے بڑا قرض لیا جس کے سود کی ادائیگی بھی محال ہو چکی ہے ۔

    انہوں نے کہا کہ 2017-18میں ہم پاکستان کو گندم میں خود کفیل چھوڑ کر گئے تھے آج گزشتہ حکومت کی مجرمانہ غفلت کے نتیجے میں ہم اربوں ڈالر کی لاگت سے گندم باہر سے منگوانے پر مجبور ہیں کیا یہ حقیقی آزادی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ گزشتہ حکومت نے کرپشن ، سنگین اور مجرمانہ غفلت کرتے ہوئے ایل این جی کا کوئی بھی طویل المدتی معاہدہ نہیں کیا جو اس وقت انتہائی سستے داموں مل رہی تھی ، آج لوڈشیڈنگ اور مہنگی بجلی کی بنیادی وجہ یہی ہے ۔

    وزیراعظم نے کہاکہ کیا میں یہ سوال کر سکتاہوں کہ گزشتہ حکومت نے کس کے اشارے پر سی پیک کے منصوبوں کو بند کر کے پاکستان کی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ۔وزیراعظم نے کہاکہ ہماری معاشی پالیسیوں کے نتیجے میں غیر ضروری درآمدات کو سختی سے کنٹرول کیا گیا ہے جس کے نتیجے میں آج پاکستانی روپیہ دن با دن مضبوط ہو رہاہے ۔ وزیراعظم نے کہاکہ سادگی کو اپناتے ہوئے ہم خود دار قوموں کی طرح اپنے وسائل پر انحصار کریں گے۔

    اربوں ڈالر خرچ کر کے ہم باہر سے تیل اورگیس منگوا کر مہنگی بجلی پیدا کرتے ہیں اس کی جگہ ہم نے ہزاروں میگاواٹ سولر انرجی کے منصوبے لگانے کا فیصلہ کیا ہے ، اس سے ایک طرف اربوں ڈالر کی بچت ہوگی اور دوسری طرف عوام کو سستی بجلی بھی مہیا ہو گی ۔ وزیراعظم نے کہاکہ ہم نے تہیہ کیا ہے کہ پاکستان کو معاشی خود انحصاری کے راستے پر لیکر جائیں گے ، کیونکہ معاشی آزادی کے بغیر آزادی کا تصور ناممکن ہے اسی لئے میں نے اپوزیشن لیڈر کے طور پر میثاق معیشت کی پیشکش کی تھی اور بطور وزیراعظم آج ایک مرتبہ پھر خلوص دل سے اس کا اعادہ کر رہا ہوں ، اس کی پیشکش کررہا ہوں ۔

    وزیراعظم نے کہاکہ وقت کا تقاضا ہے کہ اب ہم بحیثیت قوم درست سمت میں اپنے سفر کو جاری رکھیں اور قومی مفاد کو ذاتی عنا ، زد اور ہٹ دھرمی کی بھینٹ نہ چڑھنے دیں ۔ وزیراعظم نے کہاکہ ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ حقیقی سیاسی قیادت انتخابات پر نہیں آنے والی نسلوں کے مستقبل پر نظر رکھتی ہے ۔

    وزیراعظم نے کہاکہ ہمارا سامنا بے رحم حقائق سے ہے جن کا مقابلہ ہم قومی اتفاق رائے پالیسیوں کے تسلسل ، معاشی اور سیاسی استحکام سے کر سکتے ہیں ، سب سے بڑھ کر ہمیں خود ی اور خود داری کے اسی جذبے کو زندہ کرنا ہے جس نے پاکستان بنایا تھا جو تحریک پاکستان کی اصل روح ہے اسی جذبے سے تعمیر پاکستان ہو گی ۔ وزیراعظم نے کہاکہ 14اگست ایک دن ہے آئیں اس دن ہم ایک قوم بن جائیں ۔\