Baaghi TV

Tag: صوفیہ مرزا

  • پاکستان نے مفرور بہنوں صوفیہ مرزا اور مریم مرزا کی گرفتاری کے لیے انٹرپول ریڈ نوٹس جاری کر دیے

    پاکستان نے مفرور بہنوں صوفیہ مرزا اور مریم مرزا کی گرفتاری کے لیے انٹرپول ریڈ نوٹس جاری کر دیے

    حکومت پاکستان نے سابق ماڈل و اداکارہ صوفیہ مرزا (خوش بخت مرزا) اور ان کی بہن مریم مرزا کے خلاف انٹرپول ریڈ نوٹس جاری کر دیے ہیں۔ واضح رہے کہ صوفیہ اور مریم دونوں گزشتہ کئی ماہ سے لندن میں مقیم ہیں جبکہ ان کے خلاف دبئی میں مقیم بزنس مین عمر فاروق ظہور کی جانب سے پاکستان میں مقدمات درج کرائے گئے تھے، دونوں کے درمیان بچوں کی تحویل کے حوالے سے طویل عرصے سے تنازع چل رہا ہے۔

    وزارت داخلہ کی جانب سے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے توسط سے ملزمین (مفرور) کے خلاف ریڈ نوٹس جاری کرتے ہوئے نوٹس نمبر 2023/66146 کے تحت صوفیہ مرزا اور نوٹس نمبر 2023/66156 کے تحت مریم مرزا کے خلاف ریڈ نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔ ایف آئی اے کے متعلقہ ڈائریکٹر نے نوٹس میں لکھا ہے کہ مجھے ہدایت کی جاتی ہے کہ ایف آئی آر نمبر 156/23 میں ملوث ملزمان خوش بخت مرزا اور مریم مرزا کے خلاف ریڈ نوٹس جاری کرنے کے لیے مجاز اتھارٹی یعنی اسپیشل سیکرٹری ایم او آئی سے منظوری لی جائے۔

    ایف آئی اے کی جانب سے جاری نوٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ انٹرپول سیکریٹریٹ، فرانس کے سیکریٹری جنرل سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ ملزمان خوش بخت مرزا اور مریم مرزا کو انٹرپول کے ذریعے گرفتار کرنے کے لیے ریڈ نوٹس جاری کریں۔ انٹرپول کی جانب سے ریڈ نوٹس کا تعلق سابق وزیر احتساب شہزاد اکبر، ماڈل صوفیہ مرزا، ان کی ٹینس کھلاڑی مریم مرزا اور دیگر کے خلاف 2020 کے موسم گرما میں جھوٹے اور انتقامی مقدمات درج کرنے پر اسلام آباد میں دائر مجرمانہ شکایت سے ہے۔ یہ شکایت پی پی سی 1860 کی دفعہ 420، 468، 471، 385، 386، 389، 500 اور 506 کے تحت دھوکہ دہی، جعلی دستاویزات کی تیاری، بھتہ خوری، ہتک عزت اور مجرمانہ دھمکیوں کے تحت درج کی گئی تھی۔

    ایف آئی آر کے مطابق وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کارپوریٹ کرائم سرکل (سی سی سی) لاہور نے مئی 2020 میں عمر فاروق ظہور اور دیگر کے خلاف انکوائری نمبر 72/20 کا آغاز کیا تھا جس میں ان کی سابق اہلیہ خوش بخت مرزا کی جانب سے جمع کرائی گئی درخواست کو ذرائع کی رپورٹ کے طور پر لیا گیا تھا۔ ایف آئی آر میں نامزد افراد نے ایف آئی اے کارپوریٹ کرائم سرکل لاہور میں عمر فاروق ظہور کے خلاف جھوٹے مقدمات درج کرکے ان سے رقم وصول کرنے کا کام کیا۔

    ایف آئی آر کی درخواست میں خاص طور پر شہزاد اکبر کے کردار کا ذکر کیا گیا ہے جنہوں نے عمر فاروق ظہور کے خلاف مہم چلانے کے لئے کابینہ کو استعمال کیا۔ ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ فوجداری مقدمات کے اندراج کے بعد وزیر اعظم کے اس وقت کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے غیر قانونی مالی فائدے کے لیے سی آر پی سی 1898 کی دفعہ 1898 کے تحت دھوکہ دہی سے کابینہ سے منظوری حاصل کی اور اس حقیقت کو چھپایا کہ سوئٹزرلینڈ اور ناروے میں مقدمات پہلے ہی بند ہو چکے ہیں۔ درخواست گزار سال 2023 میں تحقیقات میں شامل ہوا اور ایف آئی آر نمبر 36/20 اور 40/20 کی تحقیقات کے لئے تشکیل دی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم مکمل تحقیقات کے بعد اس نتیجے پر پہنچی کہ مذکورہ ایف آئی آر میں لگائے گئے الزامات جھوٹے، بے بنیاد اور من گھڑت ہیں۔ بعد ازاں جے آئی ٹی ایف آئی اے نے بورڈ کی منظوری سے دونوں ایف آئی آرز میں سی آر پی سی کی دفعہ 173 کے تحت منسوخی رپورٹ مجاز عدالتوں میں جمع کرائی۔ فاضل عدالت نے منسوخی کی رپورٹس کو قبول کیا اور اجازت دی .

    ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ 2006 میں عمر فاروق ظہور سے شادی کرنے والی صوفیہ مرزا (خوش بخت مرزا) نے درخواست گزار کو بلیک میل کرنے اور اس سے رقم وصول کرنے کے لیے اس کے خلاف تحویل کا مقدمہ شروع کیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عمر فاروق ظہور نے سپریم کورٹ کی ہدایت پر سال 2013 میں انہیں 10 لاکھ روپے کی خطیر رقم بھی ادا کی تھی جس کے بعد سپریم کورٹ نے اس تنازعے کا ہمیشہ کے لیے فیصلہ کیا تھا۔ تاہم خوش بخت مرزا نے سال 2020 میں وزیراعظم کے اس وقت کے مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر اور عمید بٹ اور علی مردان شاہ (ایف آئی اے کے افسران) کے ساتھ مل کر درخواست گزار کو ایک بار پھر بلیک میل کرنا شروع کر دیا تاکہ اس سے مزید رقم وصول کی جا سکے۔ اس کے بعد خوشاب مرزا مذکورہ افراد کی مدد سے درخواست گزار اور اس کے خاندان کے دیگر افراد کے خلاف جھوٹے مجرمانہ مقدمات درج کرانے میں کامیاب ہوگئے۔ درخواست گزار کو بلیک میل کیا گیا، دھمکیاں دی گئیں اور ہراساں کیا گیا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ورلڈ کپ؛ نیوزی لینڈ نے بنگلہ دیش کو 8 وکٹ سے شکست دے دی
    ہم نے ریاست کو بچانے کے لیے اپنی سیاست کا نقصان کیا. شہباز شریف
    سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف مذمتی قرارداد
    حماس کے حملے کی تعریف کرنے پر اسرائیلی بچہ گرفتار
    شہر چھوڑ دیں،جب تک کہا نہ جائے، کوئی واپس نہ آئے، اسرائیل نے غزہ میں پمفلٹ گرا دیئے
    مقدمات درج کرتے وقت صوفیہ مرزا نے اپنی شناخت چھپانے کے لیے شکایت کنندہ خوش بخت مرزا کے طور پر اپنا نام استعمال کیا اور یہ حقیقت بھی کہ ظہور ان کا سابق شوہر تھا اور دونوں اپنی دو کم عمر بیٹیوں کی تحویل کے حوالے سے عدالتی تنازعمیں ملوث تھے۔ عمر فاروق نے عوامی طور پر الزام عائد کیا ہے کہ صوفیہ اور اس کے ساتھیوں نے اس سے بھتہ لینے کی کوشش کی اور جب اس نے انکار کیا تو انہوں نے پی ٹی آئی حکومت میں اپنے حکومتی روابط کا استعمال کرتے ہوئے اس کے خلاف مقدمات شروع کردیئے۔ ایف آئی اے نے عدالت کو بتایا کہ تحقیقات کے دوران یہ بات ریکارڈ پر لائی گئی کہ عمر فاروق ظہور نے نہ صرف الزامات کی تردید کی بلکہ ناروے پولیس کی جانب سے ایک خط بھی پیش کیا جس میں تصدیق کی گئی کہ مذکورہ انکوائری شواہد کی کمی کی وجہ سے بند کردی گئی اور کیس خارج کرنے کی سفارش کے ساتھ اوسلو پولیس کی ایک اور دستاویز پبلک پراسیکیوٹر کو بھی پیش کی۔ جب صوفیہ مرزا سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ انہیں وزارت داخلہ کی جانب سے جاری ریڈ نوٹسز کے بارے میں علم نہیں ہے۔

  • جعلی مقدمات چلانے پر شہزاد اکبر اور ماڈل صوفیہ مرزا کے خلاف فوجداری مقدمہ درج

    جعلی مقدمات چلانے پر شہزاد اکبر اور ماڈل صوفیہ مرزا کے خلاف فوجداری مقدمہ درج

    اسلام آباد : سابق وزیر احتساب شہزاد اکبر، ماڈل صوفیہ مرزا اور دیگر کے خلاف 2020میں بزنس مین عمر فاروق ظہور کے خلاف "جھوٹے اور انتقامی مقدمات” درج کرانے پر فوجداری مقدمہ درج کیا گیا ہے-

    باغی ٹی وی : اسلام آباد سیکرٹریٹ پولیس سٹیشن میں درج ایف آئی آر کی کاپی کے مطابق صوفیہ مرزا (جن کا اصل نام خوش بخت مرزا ہے)، اس کی بہن مریم مرزا، مائرہ خرم، عمید بٹ اور علی مردان شاہ کے خلاف پی پی سی 1860 کی دفعہ 420، 468، 471، 385، 386، 389، 500 اور 506 کے تحت فوجداری تفتیش کا باقاعدہ مقدمہ درج کر لیا گیاہے-

    بدقسمتی سے پی ٹی آئی دوسری ایم کیو ایم بننے جا رہی ہے،فیصل واوڈا

    مقدمہ عمر فاروق شہزاد کی مدعیت میں تھانہ سیکرٹریٹ میں درج کیا گیامقدمہ دھوکہ دہی، جعلی دستاویزات تیار کرنے،رقم کی خورد برد، ہتک عزت اور مجرمانہ دھمکیاں دینے کے الزام میں درج کیا گیا ہے-

    مقدمہ کے متن کے مطابق عمر فاروق ظہور اور دیگر کے خلاف انکوائری وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کارپوریٹ کرائم سرکل (سی سی سی) لاہور نے ان کی سابق اہلیہ صوفیہ مرزا کی جانب سے جمع کرائی گئی درخواست کو سورس رپورٹ کے طور پر مانتے ہوئے شروع کی تھی ایف آئی آر میں نامزد افراد نے تاجر ظہور کے خلاف ایف آئی اے کارپوریٹ کرائم سرکل لاہور میں جھوٹے مقدمات کا اندراج کرکے ان سے رقم بٹورنا چاہی-

    ایف آئی آر کی درخواست میں خاص طور پرشہزاد اکبر کے کردار کا ذکر ہے جس نے ظہور کےخلاف مہم چلانےکے لیے کابینہ کا استعمال کیاایف آئی آر میں کہا گیا کہ مذکورہ بالا فوجداری مقدمات کے اندراج کے بعد، وزیر اعظم کے اس وقت کے خصوصی مشیر برائے احتساب جناب شہزاد اکبر نےغیر قانونی مالیاتی فوائد کے لیےدھوکہ دہی سےسیکشن 188 سی آر پی سی 1898 کے تحت کابینہ سے منظوری حاصل کی۔ حقیقت یہ ہے کہ سوئٹزرلینڈ اور ناروے میں مقدمات پہلے ہی بند ہو چکے ہیں۔

    پاکستان نے بھارت کےساتھ نیوٹرل وینیو پر ٹیسٹ سیریز کیلئے گرین سگنل دیدیا

    درخواست گزار سال 2023 میں تفتیش میں شامل ہوا اور ایف آئی آر نمبر 36/20 اور 40/20 کی تحقیقات کے لیے تشکیل دی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم مکمل چھان بین کے بعد اس نتیجے پر پہنچی کہ مذکورہ ایف آئی آر میں لگائے گئے الزامات جھوٹے، غیر سنجیدہ ہیں۔ اس کے بعد، جے آئی ٹی ایف آئی اے نے بورڈ کی منظوری سے، سیکشن 173 سی آر پی سی کے تحت دونوں ایف آئی آرز میں مجاز عدالتوں کے سامنے کینسلیشن رپورٹ جمع کرائی۔

    ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ صوفیہ مرزا، جس نے 2006 میں ظہور سے شادی کی تھی، نے درخواست گزار کے خلاف اسے بلیک میل کرنے اور اس سے رقم بٹورنے کے لیے مقدمہ شروع کیا عمر فاروق ظہور نے سال 2013 میں معزز سپریم کورٹ کی ہدایت پر اسے دس لاکھ روپے کی بھاری رقم بھی ادا کی –

    علی محمد خان اور شیریں مزاری دوبارہ گرفتار

    تاہم صوفیہ مرزا نے سال 2020 میں اس وقت کے وزیر اعظم کے مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر اور عمید بٹ اور علی مردان شاہ (ایف آئی اے کے اہلکار) کے ساتھ مل کر درخواست گزار کو دوبارہ بلیک میل کرنا شروع کر دیا تاکہ اس سے مزید رقم بٹور سکے پھر صوفیہ مرزا نے مذکورہ افراد کی مدد سے درخواست گزار اور اس کے خاندان کے دیگرافراد کے خلاف جھوٹے فوجداری مقدمات درج کروانے میں کامیابی حاصل کی۔ درخواست گزار کو بلیک میل کیا گیا، دھمکیاں دی گئیں اور ہراساں کیا گیا-

    گزشتہ ہفتے، جوڈیشل مجسٹریٹ لاہور کے جج غلام مرتضیٰ ورک نے تاجر ظہور کو منی لانڈرنگ کے دو مقدمات میں بری کر دیا، جو ان کے خلاف ان کی سابق اہلیہ صوفیہ مرزا اورشہزاد اکبر نے درج کرائے تھے –

    ایف آئی اے نے عدالت کو بتایا کہ اس کی تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ ملزم فراڈ، منی لانڈرنگ اور بدعنوانی میں ملوث نہیں تھا جس کے بعد جج غلام مرتضیٰ ورک نے ظہور کو بری کر دیا اور دو ایف آئی آرز کو منسوخ کر دیا-

    ملیکہ بخاری رہائی ملنے کے بعد دوبارہ گرفتار

    دونوں مقدمات اکتوبر 2020 کے اوائل میں شروع کیے گئے جب صوفیہ مرزا نے شہزاد اکبر کی مدد سے ایف آئی اے لاہور کے کارپوریٹ سرکل سے رابطہ کیا، جس نے ظہور اور اس کے بہنوئی کی جانب سے تقریباً 16 ارب روپے کے فراڈ اور منی لانڈرنگ کے الزامات پر تحقیقات کی منظوری کے لیے کابینہ سے رجوع کیا۔

    مقدمات کے اندراج کے وقت، صوفیہ مرزا نے اپنی شناخت چھپانے کے لیے بطور شکایت کنندہ خوش بخت مرزا کا نام استعمال کیا اور یہ حقیقت کہ ظہور اس کا سابق شوہر تھا اور دونوں اپنی دو نوعمر بیٹیوں کی تحویل پر عدالتی تنازعہ میں ملوث تھے۔

    ظہور نے عوامی طور پر الزام لگایا ہے کہ صوفیہ مرزا اور اس کے ساتھیوں نے ان سے رقم بٹورنے کی کوشش کی اور جب اس نے انکار کیا تو انہوں نے پی ٹی آئی حکومت میں اپنے سرکاری رابطوں کا استعمال کرتے ہوئے ان کے خلاف مقدمات شروع کر دیے۔

    آج رات 12 بجے کے بعد عمران خان کی گرفتاری ممکن ہے،رانا ثنااللہ

    ایف آئی اے نے عدالت کو بتایا کہ دوران تفتیش یہ بات ریکارڈ پر لائی گئی کہ ظہور نے نہ صرف الزامات کی تردید کی بلکہ ناروے پولیس کی جانب سے ایک خط بھی پیش کیا جس میں تصدیق کی گئی کہ مذکورہ انکوائری کو عدم ثبوت کی وجہ سے بند کیا گیا تھا اور ایک اور دستاویز بھی پیش کی۔ اوسلو پولیس نے پبلک پراسیکیوٹر کو مقدمہ خارج کرنے کی سفارش کی۔

    فاضل جج نے قرار دیا کہ ایف آئی اے کی تحقیقاتی رپورٹس کی بنیاد پر ایف آئی آرز خارج کی جائیں۔

    ‏علی زیدی کے گھر کو سب جیل قرار دینے کے احکامات واپس،جیکب اباد جیل منتقل …

  • فراڈ کیس میں گرفتاری کا خدشہ، صوفیہ مرزا برطانیہ فرار

    فراڈ کیس میں گرفتاری کا خدشہ، صوفیہ مرزا برطانیہ فرار

    فراڈ کیس میں گرفتاری کا خدشہ، صوفیہ مرزا برطانیہ فرار

    پاکستان کی اداکارہ صوفیہ مرزا دھوکہ دہی کیس میں گرفتاری کے خدشے سے لندن فرار ہو گئی ہیں، شادی میں رقص کے حوالہ سے کئے گئے معاہدے کی خلاف ورزی اور مالی دھوکہ دہی میں سندھ پولیس کی جانب سے تحقیقات کے دوران صوفیہ مرزا کو گرفتار کئے جانے کا امکان تھا، تاہم وہ فرار ہو گئیں

    میڈیا رپورٹس کے مطابق صوفیہ مرزا نے اس بات کی تصدیق کی ہے وہ برطانیہ میں اپنی بہن مریم مرزا کے ساتھ ہیں، مریم مرزا کے خلاف بھی تحقیقات جاری ہیں، صوفیہ نے تصدیق کی کہ انکے دوست مائرہ ختم کو برطانیہ کا ویزہ نہیں مل سکا جس کی وجہ سے وہ انکے ساتھ نہیں ہے،

    صوفیہ مرزا 27 دسمبر 2022 کو اسلام آباد ایئرپورٹ سے برمنگھم کے لیے قطر ایئرویز کی پرواز سے براستہ دوحہ روانہ ہوئیں اور تب سے برمنگھم میں ہی مقیم ہیں۔ 5 اپریل کو پنجاب اور سندھ پولیس نے لاہور میں صوفیہ مرزا کے گھر پر مشترکہ چھاپہ مارا، اس دوران پولیس کو صوفیہ مرزا کے ملازمین نے بتایا کہ وہ دسمبر سے برطانیہ میں ہے

    تین ماہ قبل محکمہ داخلہ سندھ نے پنجاب حکومت سے کہا تھا کہ وہ مالی فراڈ کی تحقیقات میں اداکارہ صوفیہ مرزا، ان کی ٹینس کھلاڑی بہن مریم مرزا اور ان کے دوست کی گرفتاری اور تحقیقات کے لیے سندھ پولیس سے تعاون کرے۔محکمہ داخلہ پنجاب کو لکھے گئے خط میں محکمہ داخلہ سندھ نے پنجاب پولیس سے کہا تھا کہ وہ سندھ پولیس کے ان افسران کے ساتھ تعاون کرے جو صوفیہ مرزا، مریم مرزا اور ان کے دوست کو گرفتار کر کے سکھر لے جائیں گے جہاں انہوں نے فراڈ کیا،

    اداکارہ صوفیہ مرزا، مریم مرزا اور ان کے منیجر دوست کے خلاف شادی کی تقریب میں ڈانس اور مجرہ کرانے کے لیے 150000 لاکھ روپے لیے لیکن تقریب میں حاضر نہ ہونے پر فراڈ کا مقدمہ درج کیا گیا ہے،۔مقامی رہائشی ثناء اللہ مہیسر نے ایف آئی آر نمبر 226/2022 کے تحت پولیس اسٹیشن اے سیکشن ڈسٹرکٹ سکھر میں صوفیہ مرزا، مریم مرزا اور مائرہ خرم کے خلاف دفعہ 154 CR.P.C کے تحت مقدمہ درج کروایا،درخواست گزار کے مطابق نہ تو صوفیہ مرزا، مریم مرزا شادی کی تقریب میں ڈانس کے لئے آئے بلکہ بعد میں انہوں نے دھمکیاں بھی دیں،15 لاکھ میں انہوں نے اور خواتین ڈانسر کو بھی ساتھ لانا تھا، گواہوں مختار حسین ، محمد وارث کی موجودگی میں مریم مرزا کو دس لاکھ روپے دیئے اور باقی ادائیگی بعد میں ہونی تھی، جس دن شادی کا پروگرام تھا اس دن ہم فون کرتے رہے لیکن انہوں نے فون تک نہیں سنا،

    صوفیہ مرزا حالیہ برسوں میں کئی سکینڈلز سے منسلک رہی ہیں۔ اس سے قبل یہ بتایا گیا تھا کہ اس نے 2007 میں دبئی میں اپنے شوہر کو بھی چاقو مارا تھا،فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) نے اداکارہ و ماڈل صوفیہ مرزا کے خلاف ہائی پروفائل منی لانڈرنگ کی تحقیقات دوبارہ شروع کر دی ہیں، جسے اس سے قبل شہزاد اکبر نے اثاثہ جات ریکوری یونٹ کے تحت ایف آئی اے کے سربراہ بننے کے بعد بند کر دیا تھا۔

    اداکارہ صوفیہ مرزا کی بچیوں کی حوالگی سے متعلق کیس میں سپریم کورٹ نے توہین عدالت کی درخواست واپس لینے پر خارج کردی۔

    صوفیہ مرزا بالوں کی حفاظت کس طرح کرتی ہیں ؟ انہوں نے آسان ٹپس بتا دیں،

    صوفیہ مرزا کے چاہنے والوں نے توحد ہی کردی،

    اداکارہ و ماڈل صوفیہ مرزا کا کہنا ہے کہ معاشرے میں لڑکیوں کا بھی حق ہے کہ انہیں لڑکوں کے برابر حقوق ملیں-

    ے بنیاد اور وحشیانہ قتل کب بند ہوں گے:صوفیہ مرزا بھی چُپ نہ رہ سکیں‌

    پیٹ کیسے کم کرنا ہے؟صوفیہ مرزا نے آسان حل بتادیا 

    اداکارہ صوفیہ مرزا کی جانب سے دائر کردہ درخواست پر عدالت نے ان کے سابق شوہر اور کاروباری شخصیت عمر فاروق ظہور کے میڈیا پر آنے پر پابندی لگانے سے انکار کردیا ہے.

    شوہر کے گھر ڈاکہ ڈالنے کی سازش رچی، ناکامی پر خود کو زخمی کر لیا صوفیہ مرزا

  • صوفیہ مرزا کو بڑا دھچکا، عدالت نے عمر فاروق ظہور کے خلاف بیٹیوں کے اغوا کا مقدمہ خارج کردیا

    صوفیہ مرزا کو بڑا دھچکا، عدالت نے عمر فاروق ظہور کے خلاف بیٹیوں کے اغوا کا مقدمہ خارج کردیا

    لاہور کی مقامی عدالت نے عمر فاروق ظہور کے خلاف بیٹیوں کو اغوا کرنے کا مقدمہ خارج کردیا۔

    باغی ٹی وی :جوڈیشل مجسٹریٹ لاہور غلام مرتضیٰ ورک نے فیصلے میں کہا ہے کہ ایف آئی اے کو لاہور میں مقدمہ درج ہی نہیں کرنا چاہیے تھا 14 برس قبل بچیوں زینب اور زنیرہ کے اغوا کا مبینہ واقعہ کراچی میں ہوا تو کارروائی بھی وہیں ہونی چاہیے تھی۔

    عدالت نے حکم دیا کہ معاملہ ہمارے دائرہ کار میں نہ نہیں ہے اس لیے اس کیس کی فائل تمام انکلوژرز اور شواہد کے ساتھ استغاثہ کو واپس کر دی جاتی ہے تاکہ اسے مناسب فورم پر دائر کیا جا سکے۔

    عدالت میں عمر ظہور کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ سپریم کورٹ میں معاملہ 2013 میں حل ہوچکا، صوفیہ مرزا نے 10 لاکھ لے کر کیس نمٹا دیا تھا۔

    ایف آئی اے نے مقدمے میں لائبیریا کے سفیر عمر فاروق، صدف ناز اور محمد زبیر کو نامزد کیا تھا،مجسٹریٹ کے فیصلے کے بعد تفتیشی عمل مکمل کرنے کیلئے کیس ایف آئی اے کراچی کو بھیجا جائے گا۔

    عمر فاروق ظہور نے شکایت کی درج کرائی تھی کہ ان کی سابق اہلیہ صوفیہ مرزا سابق وزیر احتساب شہزاد اکبر اور ایف آئی اے کے ڈائریکٹر (مرحوم) ڈاکٹر رضوان کے ساتھ مل کر سازش کی اور ان کے خلاف منی لانڈرنگ اور اغوا کے جعلی مقدمات درج کرائے تاکہ ان پر ایف آئی اے کو سزا دی جائے۔

    انتقام کی مہم اور آج کے آرڈر آف لرنڈ مجسٹریٹ نے اپنے موقف کی توثیق کی ہے کہ شہزاد اکبر نے ایف آئی اے لاہور کو اس حقیقت کے باوجود کہ ایف آئی اے لاہور کے دائرہ اختیار میں کمی کے باوجود ایف آئی اے لاہور کو اپنے خلاف جھوٹے مقدمات درج کرنے پر مجبور کر کے اپنے اختیارات کا غلط استعمال کیا۔

    حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ صدف ناز کی درخواست کے مطابق کراچی میں 2009 میں ہونے والے مبینہ جرم کی ایف آئی آر کے اندراج میں 10 سال سے زائد کی غیر وضاحتی تاخیر ہوئی ہے اور استغاثہ نے 9 گواہ پیش کیے ہیں لیکن وہ جرم کا ریکارڈ پیش کرنے میں ناکام رہا ہے۔ ملزم کے خلاف مواد صدف ناز نے استدعا کی تھی کہ انہیں بغیر کسی وجہ کے "جعلی اور فرضی” کیس میں گھسیٹا گیا اس لیے ان کے خلاف مقدمہ خارج کیا جائے۔

    سمجھا جاتا ہے کہ جج غلام مرتضیٰ ورک کے فیصلے کے بعد کیس اب باقی تفتیش مکمل کرنے کے لیے ایف آئی اے کراچی کو بھیجا جائے گا۔

    اس حوالے سےعمر فاروق ظہورکا کہنا تھا کہ سابقہ اہلیہ صوفیہ مرزا نے جون 2020 میں نےانتقامی کارروائی کیلئےجعلی مقدمہ درج کرکے ایف آئی کو ملوث کیا تھا، مقدمہ درج کرانے کیلئے صوفیہ مرزا کو سابق مشیر احتساب شہزاد اکبر اور ایف آئی اے کے ڈائریکٹر مرحوم ڈاکٹر رضوان کی معاونت حاصل تھی۔

    انہوں نے کہا کہ مجسٹریٹ کے فیصلے سے ثابت ہوگیا ایف آئی اے کو غلط مقدمہ درج کرنے کیلئے مجبور کیا گیا۔

    گزشتہ سال جون میں جیو اور دی نیوز نے تحقیقات کے بعد انکشاف کیا کہ صوفیہ مرزا کی طرف سے عمر فاروق ظہور پر مبینہ فراڈ اور 16 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کے الزامات لگائے گئے شہزاد اکبر نے ایف آئی اے کو استعمال کرنے کیلئے صوفیہ مرزا کو شکایت درج کرانے کا مشورہ دیا، شکایت وزارت داخلہ کے ذریعے پی ٹی آئی حکومت کی کابینہ تک پہنچی تاہم کابینہ نے عمر فاروق ظہور اور ان کے عزیز کے خلاف 16 ارب روپے کے مبینہ فراڈ کی ایف آئی اے کو تحقیقات کی اجازت دی۔

    ایف آئی اے نے تفتیش مکمل کرنے کے بعد عمر فاروق ظہور کے خلاف دو کیسز درج کیے، تحقیقات کے مطابق عمر فاروق ظہور اور شریک ملزم نے ناروے اور سوئٹزرلینڈ میں فراڈ کیے، اوسلو میں 2010 میں 89.2 ملین ڈالر کا بینک فراڈ اور برن میں 12 ملین ڈالر کے فراڈ کا الزام عائد کیا گیا۔

    ایف آئی اے کو شکایت میں خوش بخت مرزا نے یہ نہیں بتایا کہ وہ بطور اداکارہ و ماڈل صوفیہ مرزا کے نام سے معروف ہیں، صوفیہ مرزا نے شکایت میں یہ بھی نہیں بتایا کہ عمر فاروق ظہور ان کے سابق شوہر ہیں۔

    شکایت میں الزام لگایا گیا کہ عمر فاروق ظہور نےکئی ممالک میں فراڈ کیا اور ناروے میں سزا یافتہ اور مطلوب ہے،عمر فاروق ظہور نے مبینہ طور پر 9.37 ملین ترک لیرا کا بھی فراڈ کیا، گھانا میں 510 ملین ڈالر کا مشکوک معاہدہ بھی کیا، عمر فاروق ظہور کے پاس کالے دھن کے کئی ملین ڈالر اور پاکستان و دبئی میں کئی جائیدادوں کا الزام بھی لگایا گیا۔

    صوفیہ مرزا نے سابق شوہر پر سونے کی اسمگلنگ، مہنگی گاڑیاں اورگھڑیوں کی ملکیت اور سونا و رقم گھر میں رکھنے کا الزام بھی لگایا۔

    ماڈل صوفیہ مرزا نے ایف آئی سے استدعا کی کہ وہ پاکستان کو بدنام کرنے والے شخص کے خلاف تحقیقات کرے، کابینہ میں شہزاد اکبر کی طرف سے پیش کی گئی سمری کے حوالے سے کوئی سوال نہیں کیا گیا تھا کابینہ کو یہ بتانے کی زحمت بھی نہیں کی گئی کہ خوش بخت مرزا ہی اصل میں صوفیہ مرزا ہیں،کابینہ کو عمر فاروق ظہور کے خوش بخت کا سابق شوہر ہونے اور جڑواں بچیوں کی تحویل کی لڑائی سے بھی لا علم رکھا گیا۔

    جوڑے کی 2008 میں طلاق کے بعد بچیاں اپنی مرضی سے والد کے ساتھ دبئی میں مقیم ہیں، کابینہ کو اس بات سے بھی لاعلم رکھا گیا کہ پاکستان اور یو اے ای کی اعلیٰ عدالتوں میں بچیوں کی تحویل کا معاملہ طے ہوچکا ہے۔

    صوفیہ مرزا نے بدعنوانی کے دو مقدمات سے قبل سابق شوہر پر بچیوں کے اغوا کا مقدمہ بھی درج کروایا، والدین پر اپنے بچوں کے اغوا کا مقدمہ نہ بننے کے قانون کے باوجود شہزاد اکبر کی ہدایت پر عمر فاروق ظہور کے خلاف مقدمہ بنا، کابینہ میں سمری کی منظوری کے بعد عمر فاروق ظہور کا نام ایگزٹ کنٹرول میں ڈال دیا گیا، قانونی کارروائی مکمل کیے بغیر ناقابل ضمانت وارنٹس کے اجرا کے علاوہ پاسپورٹ اور قومی شناختی کارڈ بلیک لسٹ کردیے گئے، انٹرپول کے ذریعے عمر فاروق ظہور کی گرفتاری کیلئے ریڈ وارنٹس بھی جاری کر دیے گئے۔

    عمر فاروق ظہور نے لائبیریا کے سفیر کے طور پر ایف آئی اے کے اقدامات کو ختم کرانے کیلئے کارروائی شروع کی، عدالتی کارروائی کے بعد ناقابل ضمانت وارنٹس اور ریڈ وارنٹس منسوخ ہوئے۔

    عدالت نے یہ مشاہدہ کیا کہ اشتہاری قرار دینے سے قبل مجوزہ طریقہ کار پر عمل نہیں کیا گیا تھا، عدالت نے یہ مشاہدہ بھی کیا کہ 2019 سے لائبیریا کا سفیر ہونے کی حیثیت سے عمر فاروق ظہور کو قانونی کارروائی سے استثنیٰ حاصل ہے۔

    عمر فاروق ظہور کو سفارتی استثنیٰ حاصل ہونے کے باوجود ایف آئی اے نے ڈفیوژن نوٹس جاری کیا، عمر فاروق کو استثنیٰ اور ہائی کورٹ کے احکامات کے باوجود ان کے خلاف ناقابل ضمانت وارنٹس جاری کرائےگئے۔

    عدالتی حکم نامے کے مطابق ایف آئی اے نے ڈفیوژن نوٹس کی اجازت کے حوالے سے انٹرپول سے جھوٹ بولا، ایف آئی اے کے غیر قانونی اقدامات سے بچانے کیلئے عمر فاروق نے جوڈیشل مجسٹریٹس لاہور غلام مرتضیٰ ورک سے رابطہ کیا۔

    جوڈیشل مجسٹریٹس لاہور غلام مرتضیٰ ورک کے مشاہدے میں یہ بات آئی کہ دونوں کیسز میں نہ تو ناقابل ضمانت وارنٹس جاری کیےگئے اور نہ ایف آئی اے کی جانب سے کوئی رپورٹ پیش کی گئی، عمر فاروق ظہور کا نام سرخیوں میں اس وقت آیا جب سابق ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن نے عمران خان کے غیرقانونی احکامات ماننے سے انکار کا انکشاف کیا۔

    بشیر میمن پر مارچ 2022 میں الزام لگایا گیا کہ انہوں نے عمر فاروق کو پاکستان کے دورے کرنے کی غیر قانونی اجازت دی، سوئس حکام نے 7 دسمبر 2020 کو تصدیق کےشواہدکی کمی اور ٹائم بار کے سبب عمر فاروق کے خلاف کیس خارج کردیا گیا۔

    ترک باشندے کی طرف سے لگائےگئے فراڈ کے الزام کی نیب نے انکوائری کی، کرپشن کا کوئی ثبوت نہ ملنے پر اگست 2013 کو احتساب عدالت نے عمر فاروق کو کلین چٹ دی تھی۔

    مئی 2020 میں ناروے حکام نے بینک فراڈ کیس عدم ثبوت پر عمر فاروق کے خلاف کیس بند کردیا تھا، سوئٹزرلینڈ اور ناروے کی طرف سے عمر فاروق ظہور پر کیسز ختم ہوتے ہی ان پر پاکستان میں عجلت میں کیسز بنائےگئے۔

  • صوفیہ مرزا اورمریم مرزا کی گرفتاری کے لیے اقدامات حتمی مراحل میں داخل

    صوفیہ مرزا اورمریم مرزا کی گرفتاری کے لیے اقدامات حتمی مراحل میں داخل

    سکھر:سکھررینج پولیس کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل نے اداکارہ صوفیہ مرزا اور ان کی ٹینس پلیئر بہن مریم مرزا کو سکھر میں ایک شادی ڈانس پروگرام میں بالی ووڈ ڈانس پرفارم کرنے سے متعلق دھوکہ دہی کے الزامات کے سلسلے میں گرفتار کرنے کی اجازت مانگی ہے۔

    انسپکٹر جنرل سندھ کو لکھے گئے خط میں ڈی آئی جی سکھر رینج نے پولیس حکام کو بتایا ہے کہ ملزمہ مریم مرزا، صوفیہ مرزا (جن کا اصل نام خوش بخت مرزا ہے)، ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی فیز 06 لاہور سے محمد لطیف مرزا اور ان کی دوست مائرہ خرم کو ایف آئی آر نمبر 226/2022 کے تحت 420,147,148, 149,500/2,5u4 PPC آف PS "A’ سیکشن، ضلع سکھر میں مطلوب ہے۔

    سکھر رینج نے درخواست کی ہے کہ مذکورہ کیس کی تفتیش اور ملوث ملزمان کی گرفتاری کے مقصد سے PS "A” سیکشن، ضلع سکھر کی پولیس پارٹی کو ضلع لاہور اور سیالکوٹ، صوبہ پنجاب روانہ کرنے کے لیے ضروری اجازت دی جائے۔ ایک اے ایس آئی، دو پولیس کانسٹیبل اور دو لیڈی کانسٹیبل کے لیے اجازت مانگی گئی ہے۔

    تفصیلات کے مطابق اداکارہ صوفیہ مرزا، مریم مرزا اور ان کے منیجر دوست کے خلاف شادی کی تقریب میں ڈانس اور مجرہ کرانے کے لیے 150000 لاکھ روپے لیے لیکن تقریب میں حاضر نہ ہونے پر فراڈ کا مقدمہ درج کرلیا گیا۔مقامی رہائشی ثناء اللہ مہیسر نے ایف آئی آر نمبر 226/2022 کے تحت پولیس اسٹیشن اے سیکشن ڈسٹرکٹ سکھر میں صوفیہ مرزا، مریم مرزا اور مائرہ خرم کے خلاف دفعہ 154 CR.P.C کے تحت مقدمہ درج کیا۔

    فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) کی تفصیلات اور مقامی پولیس کے تفتیشی افسر کی تصدیق کے مطابق صوفیہ مرزا، مریم مرزا اور مائرہ خرم نے گزشتہ ماہ سکھر کے بیراج کالونی میں واقع اوطاق گیسٹ ہاؤس میں شادی میں ڈانس کرنے کے لیے 10 لاکھ روپے ایڈوانس لیے تھے۔ لیکن نہ صرف ڈانسرز سامنے نہیں آئے بلکہ بعد میں غنڈوں کے ذریعے اسے دھمکیاں بھی دیں۔

    صوفیہ مرزا پر عدالت کا برہمی کا اظہار،خاموش رہو، ملا آخری موقع

    ثناء اللہ مہیسر نے اپنی شکایت میں کہا کہ اس نے تینوں کی بکنگ کا فیصلہ حال ہی میں منعقدہ ایک ڈانس ایونٹ میں ان تینوں سے ملاقات کے بعد کیا جہاں لاہور میں مقیم صوفیہ مرزا اور مریم مرزا بالی ووڈ کے ڈانس نمبرز پر لیڈ پرفارمنس کر رہی تھیں۔ثناء اللہ مہیسر کا کہنا ہے کہ انہوں نے بکنگ مائرہ خرم کے ذریعے کروائی جنہوں نے مریم مرزا اور صوفیہ مرزا سے ملاقات کا اہتمام کیا جہاں یہ طے پایا کہ وہ 15 لاکھ روپے میں ون نائٹ پرفارمنس کریں گے اور دیگر خواتین کو بھی ساتھ لائیں گے۔

    شکایت کنندہ نے بتایا کہ ان پر بھروسہ کرتے ہوئے ہم نے گواہ مختار حسین ولد غلام فرید سومرو اور محمد وارث ولد محمد ایوب میرانی سکنہ شرف آباد سکھر کے سامنے مریم مرزا، مائرہ خرم اور خوشابت کو 10 لاکھ روپے دیئے۔ ہم نے فیصلہ کیا کہ پروگرام کے دن مزید ادائیگی کی جائے گی۔ جس دن شادی کا پروگرام تھا وہ سب نہیں آئے تھے۔ ہم فون کرتے رہے لیکن انہوں نے جواب نہیں دیا۔ثناء اللہ مہیسر نے کہا کہ انہوں نے مائرہ خرم کو فون کرکے رقم کی واپسی کا مطالبہ کیا اور وعدہ کیا کہ کوئی ان سے رقم واپس کرنے کے لیے ملاقات کرے گا۔

    اداکارہ صوفیہ مرزا اور شہزاداکبراورسابق ڈی ایف آئی اے پرمقدمہ درج

    اس نے شکایت کی کہ 27 نومبر 2022 کو ایک نامعلوم خاتون اور پانچ مرد 1715 بجے 5 بجے طے شدہ ملاقات کی جگہ پر ان سے ملنے آئے۔ ان میں سے تین نے ہماری طرف پستول تان کر کہا کہ اگر آپ مائرہ خرم، مریم مرزا اور خوش بخت مرزا سے پیسے مانگیں گے تو آپ کا انجام بہت برا ہو گا۔ انہوں نے ہمیں مارنے کی دھمکی دی اور گالی گلوچ کرتے ہوئے سفید رنگ کی کار میں گھر سے نکل گئے۔ میں اپنے بزرگوں سے مشورہ کرنے کے بعد پولیس اسٹیشن میں حاضر ہوا ہوں، میرا دعویٰ ہے کہ مجرموں کے خلاف قانونی کارروائی کی جانی چاہیے،‘‘ شکایت کنندہ نے کہا۔

    مائرہ خرم سے رابطہ کرنے پر ان کا کہنا تھا کہ اداکارہ بیمار ہونے کی وجہ سے پنڈال تک نہیں پہنچ سکیں اور انہوں نے شادی کے منتظم کو آگاہ کر دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے یا صوفیہ مرزا نے شکایت کنندہ کو دھمکی دینے کے لیے کسی کو نہیں بھیجا تھا۔

    صوفیہ مرزا حالیہ برسوں میں کئی سکینڈلز سے منسلک رہی ہیں۔ اس سے قبل یہ بتایا گیا تھا کہ اس نے 2007 میں دبئی میں اپنے شوہر کو بھی چاقو مارا تھا اور اس کے بعد سے وہ کبھی وطن واپس نہیں آئیں۔گزشتہ ہفتے یہ اطلاع ملی تھی کہ فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) نے اداکارہ و ماڈل صوفیہ مرزا کے خلاف ہائی پروفائل منی لانڈرنگ کی تحقیقات دوبارہ شروع کر دی ہیں، جسے اس سے قبل شہزاد اکبر نے اثاثہ جات ریکوری یونٹ کے تحت ایف آئی اے کے سربراہ بننے کے بعد بند کر دیا تھا۔

    صوفیہ مرزاکیس:عمر فاروق ظہورکا نام ایگزٹ اور پاسپورٹ کنٹرول لسٹ سے خارج

    کراچی میں ایف آئی اے کے کارپوریٹ کرائم سرکل (سی سی سی) نے تصدیق کی ہے کہ اداکارہ کو کراچی میں پیش ہونے اور منی لانڈرنگ کیس سے متعلق سوالات کے جوابات دینے کو کہا گیا ہے۔ایف آئی اے کے کراچی سرکٹ کی جانب سے بھیجے گئے ایک خط میں اداکارہ کو تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہونے کو کہا گیا تھا کہ وہ "اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 کے تحت اس سرکل میں درج ایف آئی آر نمبر 53/2022” کے بارے میں سوالات کے جوابات دیں۔

    نوٹس میں کہا گیا: "تحقیقات کے دوران، یہ سامنے آیا ہے کہ آپ نے ملزم کو بغیر کسی پرچی/ رسید کے غیر ملکی کرنسی فراہم کرنے کے لیے اس کے ساتھ خرید و فروخت کا لین دین کیا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ آپ جرم سے بخوبی واقف ہیں۔”

  • اداکارہ صوفیہ مرزا اور شہزاداکبراورسابق ڈی ایف آئی اے  پرمقدمہ درج

    اداکارہ صوفیہ مرزا اور شہزاداکبراورسابق ڈی ایف آئی اے پرمقدمہ درج

    اسلام آباد:اداکارہ صوفیہ مرزا اور شہزاداکبر پرمقدمہ درج،اطلاعات کے مطابق اداکارہ صوفیہ مرزا کے سابق شوہر کی طرف سے دائر درخواست کے بعد اسلام آباد میں ایک مقدمہ درج کرلیا گیا ہے ،

     

    اسلام آباد پولیس نے  شہزاد اکبر ، اداکارہ صوفیہ مرزااور سابق ڈی جی ایف آئی اے ثناءاللہ عباسی کے خلاف تھانہ سیکرٹریٹ نے صوفیہ مرزا کے سابق شوہر عمر فاروق ظہور کی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا

    اس مقدمے میں کہا گیا ہے کہ صوفیہ مرزا اورمرزا شہزاد اکبر اور سابق ڈی جی ایف آئی اے ثنا اللہ عباسی نے ملک کر صوفیہ مرزا کے سابق شوہر عمر فاروق ظہور کے خلاف ایک خود ساختہ کہانی گھڑ کرمقدمے میں پھنسا کرگرفتار کرنے کی سازش کی اور اس کے ساتھ ساتھ بیرون ملک بھی عمرفاروق ظہور جو کہ پاکستان کے لائبیریا کے لیے ایک ایمبسڈر کے طورفرائض سرانجام دے رہے تھے ، ان کو بیرون ملک بھی پریشان کیا گیا

     

    [wp-embedder-pack width=”100%” height=”400px” download=”all” download-text=”” attachment_id=”558721″ /]

    سابق مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر، اداکارہ صوفیہ مرزا اور سابق ڈی جی ایف آئی اے ثناء اللہ عباسی کیخلاف اسلام آباد میں مقدمہ درج کرلیا گیا، جس میں فراڈ، ریکارڈ ٹیمپرنگ سمیت دیگر دفعات شامل کی گئی ہیں۔

    اسلام آباد کے تھانہ سیکریٹریٹ میں صوفیہ مرزا کے سابق شوہر عمر فاروق نے مقدمے کے اندراج کی درخواست دائر کی، جس پر پولیس نے سابق مشیر احتساب، شہزاد اکبر، ادکاارہ صوفیہ مرزا اور سابق ڈی جی ایف آئی اے ثناء اللہ عباسی کیخلاف مقدمہ درج کرلیا۔

    مقدمے میں فراڈ، ریکارڈ ٹیمپرنگ سمیت دیگر دفعات کے تحت درج کیا گیا۔ جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ شہزاد اکبر اور سابق ڈی جی ایف آئی اے نے دیگر کے ساتھ ملکر جعلی وارنٹس تیار کروائے، صوفیہ مرزا، شہزاد اکبر اور ثناء اللہ عباسی نے جھوٹے مقدمے بھی درج کرائے۔

    ایف آئی آر کے متن میں مزید لکھا گیا ہے کہ ملزمان نے بوگس عدالتی دستاویزات تیار کیں، ملزمان نے غیرقانونی طور پر عدالتی ریکارڈ تیار کرکے مذموم مقاصد کیلئے استعمال کیا۔

  • صوفیہ مرزا پر عدالت کا برہمی کا اظہار،خاموش رہو، ملا آخری موقع

    صوفیہ مرزا پر عدالت کا برہمی کا اظہار،خاموش رہو، ملا آخری موقع

    صوفیہ مرزا پر عدالت کا برہمی کا اظہار،خاموش رہو، ملا آخری موقع

    لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد جمیل نے عمر فاروق ظہور کو پاکستانی میڈیا اور انکی سابق اہلیہ صوفیہ مرزا کی جانب سے لگائے گئے الزامات کا دفاع کرنے سے روکنے کی کوششوں پر صوفیہ مرزا اور اسکے وکلاء پر اظہار برہمی کیا ہے، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر صوفیہ مرزا عدالتی عمل میں بلا وجہ مداخلت کرتی رہیں گی تو اسکو نتائج بھگتنا پڑیں گے

    گزشتہ سماعت کے دوران لاہور ہائیکورٹ کے جج نے صوفیہ مرزا سے کہا تھا کہ وہ اپنے وکیل کی موجودگی میں عدالتی عمل میں مداخلت سے گریز کریں اور موجودہ سماعت پر معزز جج نے صوفیہ مرزا اور ان کے وکیل چوہدری عدنان فیض دونوں کو ان کی درخواست خارج کرنے کی وارننگ دی

    جسٹس شاہد جمیل نے خوش بخت مرزا (فلم انڈسٹری میں صوفیہ مرزا کے نام سے مشہور) کے وکیل سے پوچھا کہ انہیں عدالت کی مدد کرنی ہے کہ پیمرا کی جانب سے عمر فاروق ظہور کے بارے میں مواد نشر کرکے قانون کی کون سی شق کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ فاضل جج نے گزشتہ سماعت پر دیا گیا حکم نامہ بھی پڑھ کر سنایا اور وکیل سے استفسار کیا کہ پیمرا میں دائر شکایت کہاں ہے؟ تاہم وکیل نے مطلوبہ دستاویز عدالت میں پیش کرنے کے بجائے گوگل سرچ سے نکالا گیا مواد جج کو دیا جس پر جج نے برہمی کا اظہار کیا اور وکیل سے کہا کہ وہ ٹھیک سے نہیں سن رہے ہیں کیونکہ انہیں کہا گیا ہے کہ وہ دائر شکایت کی کاپی فراہم کریں۔ پیمرا کے سامنے اس پر وکیل نے چند پرنٹ شدہ صفحات معزز جج صاحبان کے حوالے کر دیئے۔

    وکیل نے تسلیم کیا کہ وہ وقت کی کمی کی وجہ سے کاغذات درست طریقے سے فائل نہیں کر سکے۔ اس دوران صوفیہ مرزا نے مداخلت کرنے کی کوشش کی تو عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے صوفیہ مرزا سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ چپ رہو یا بیٹھ جاؤ، دوران سماعت عدالت نے وکیل سے کہا کہ یہ عدالت انہیں تین چار دن کا وقت دے رہی ہے ، اگلی سماعت تک عدالت کی معاونت کریں دلائل دیں ورنہ درخواست نمٹا دی جائے گی

    گزشتہ سماعت کے دوران، عدالت نے پیمرا کو کاروباری شخصیت عمر فاروق ظہور کی سابق اہلیہ اور اداکارہ صوفیہ مرزا کی جانب سے دائر درخواست پر میڈیا میں پیشی پر پابندی کے لیے نوٹس جاری کرنے سے انکار کر دیا تھا۔صوفیہ مرزا نے
    لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی کہ پیمرا کے ذریعے تمام ٹی وی چینلز کو عمر فاروق ظہور پر پابندی لگانے کی ہدایات جاری کی جائیں۔

    شوہر کے گھر ڈاکہ ڈالنے کی سازش رچی، ناکامی پر خود کو زخمی کر لیا صوفیہ مرزا

    خیال رہے کہ اس جوڑے کی 14 سال قبل طلاق ہوئی تھی اور تب سے وہ اپنی 14 سالہ بچیوں زینب عمر اور زنیرہ عمر کی تحویل کے لیے قانونی جنگ میں مصروف ہیں جو دبئی میں اپنے والد کے ساتھ رہتی ہیں۔ قبل ازیں بچیوں نے کہا تھا کہ وہ دبئی میں اپنے والد کے ساتھ خوشی سے رہ رہی ہیں اور اپنی ماں کے ساتھ رہنا نہیں چاہتیں۔

    اداکارہ صوفیہ مرزا کی بچیوں کی حوالگی سے متعلق کیس میں سپریم کورٹ نے توہین عدالت کی درخواست واپس لینے پر خارج کردی۔

    صوفیہ مرزا بالوں کی حفاظت کس طرح کرتی ہیں ؟ انہوں نے آسان ٹپس بتا دیں،

    صوفیہ مرزا کے چاہنے والوں نے توحد ہی کردی،

    اداکارہ و ماڈل صوفیہ مرزا کا کہنا ہے کہ معاشرے میں لڑکیوں کا بھی حق ہے کہ انہیں لڑکوں کے برابر حقوق ملیں-

    ے بنیاد اور وحشیانہ قتل کب بند ہوں گے:صوفیہ مرزا بھی چُپ نہ رہ سکیں‌

    پیٹ کیسے کم کرنا ہے؟صوفیہ مرزا نے آسان حل بتادیا 

    اداکارہ صوفیہ مرزا کی جانب سے دائر کردہ درخواست پر عدالت نے ان کے سابق شوہر اور کاروباری شخصیت عمر فاروق ظہور کے میڈیا پر آنے پر پابندی لگانے سے انکار کردیا ہے.

  • شوہر کے گھر ڈاکہ ڈالنے کی سازش رچی، ناکامی پر خود کو زخمی کر لیا صوفیہ مرزا

    شوہر کے گھر ڈاکہ ڈالنے کی سازش رچی، ناکامی پر خود کو زخمی کر لیا صوفیہ مرزا

    ماڈل صوفیہ مرزا جن کے اپنے سابق شوہر کے ساتھ ایک لمبے عرصے سے طلاق کے باوجود تنازعات چل رہے ہیں اس کہانی میں ایک نیا موڑ آیا ہے اور ماڈل نے اعتراف کر لیا ہے کہ اس نے اپنے سابق شوہرعمر فاروق کے دبئی والے گھر میں ڈاکہ ڈالنے کی سازش کی لیکن جب سازش ناکام ہوگئی تو خود کو زخمی کر لیا.رپورٹس کے مطابق قانونی دستاویزات میں باقاعدہ ماڈل کی طرف سے اعتراف جرم کر لیا گیا ہے. ماڈل نے اپنے سابق شوہر کےدبئی کے اپارٹمنٹ میں ڈاکہ ڈال کر نصف ملین کے قریب درہم نقد اور جیولری اور لاکھوں درہم مالیت

    کی گھڑیاں چرانے کی سازش کی تھی. اداکارہ کو جب یہ منصوبہ ناکام ہوتا نظر آیا تو انہوں نے پھر اپنے سابق شوہر کو قتل کرنے کا منصوبہ بنا لیا اور چاقو سے ان پر وار کئے. صوفیہ مرزا نے سازش اپنی ملازمہ اور سہیلی کے ساتھ مل کر رچی، لیکن ماڈل نے اس سازش کے بارے ڈاکٹر اسد جو ابوظہبی کے ہستپال میں کام کرتے تھے کو بتا دیا ڈاکٹر نے ان کے شوہر کو بتا دیا اور کہا کہ اگر ایسا کچھ ہو تو مزاحمت نہ کرنا قتل بھی کئے جا سکتے ہو.یوں ماڈل کے سابق شوہر نے ماڈل کا منصوبہ ناکام بنا دیا.یاد رہے کہ ماڈ ل نے کچھ عرصہ پہلے ایک پریس کانفرنس کرکے کہا کہ میرا شوہر میری بچیوں‌کو زبردستی دبئی لے گیا ہے مجھے ان سے ملنے نہیں دیتا تو اطلاعات یہ بھی ہیں کہ بیٹاں اپنی ماں کے ساتھ نہ رہنا چاہتی ہیں اور نہ ہی ان سے ملنا چاہتی ہیں ان کا کہنا ہے کہ ان کی ماں جو بھی کررہی ہے ان کا اس کوئی واسطہ نہیں ہے.

    صوفیہ مرزا بالوں کی حفاظت کس طرح کرتی ہیں ؟ انہوں نے آسان ٹپس بتا دیں،

    صوفیہ مرزا کے چاہنے والوں نے توحد ہی کردی،

    اداکارہ و ماڈل صوفیہ مرزا کا کہنا ہے کہ معاشرے میں لڑکیوں کا بھی حق ہے کہ انہیں لڑکوں کے برابر حقوق ملیں-

    ے بنیاد اور وحشیانہ قتل کب بند ہوں گے:صوفیہ مرزا بھی چُپ نہ رہ سکیں‌

    پیٹ کیسے کم کرنا ہے؟صوفیہ مرزا نے آسان حل بتادیا 

    صوفیہ مرزا کی بچیوں کی حوالگی کا کیس،سپریم کورٹ وزارت خارجہ پر برہم

  • صوفیہ مرزا کے سابق شوہر نے اداکارہ کے خلاف ہتک عزت کا دعوی دائر کر دیا

    صوفیہ مرزا کے سابق شوہر نے اداکارہ کے خلاف ہتک عزت کا دعوی دائر کر دیا

    اداکارہ و ماڈل صوفیہ مرزا جو وقتا فوقتا سوشل میڈیا پر اپنی ذاتی زندگی ڈسکس کرتی رہتی ہیں اور وہ مسلسل اپنے سابق شوہر پر الزامات لگاتی رہتی ہیں حالانکہ دونوں کے کیسز عدالتوں میں چل رہے ہیں اس کے باوجود صوفیہ مرزا ذہر اگلنے سے باز نہیں آتیں. صوفیہ مرزا کی جانب سے مسلسل اپنے سابق شوہر عمر فاروق ظہور کی سوشل میڈیا پر کردار کشی سے تنگ آکر اداکارہ کے خلاف ہتک عزت کا پچاس کروڑ روپے کا دعوی دائر کر دیا ہے. عدالت نے صوفیہ مرزا کو نوٹس جا ری کر دیا ہے.عمر فاروق ظہور کے وکیل نے استدعا کی کہ عدالت صوفیہ مرزا کے خلاف 50کروڑ روپے کی ہتک عزت کی ڈگری جاری کرے سیشن عدالت نے صوفیہ مرزا کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 7ستمبر تک جواب جمع کروانے کا حکم دے دیا۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل صوفیہ مرزا نےاپنے شوہر کے خلاف پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں اپنی بیٹیوں سے دس سال سے نہیں‌ملی کیونکہ میرا سابق شوہر مجھے ان سے ملنے نہیں دیتا، انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف سے یہ بھی استدعا بھی کی تھی کہ وہ اس ضمن میں ان کی مدد کریں اور ان کی بیٹیاں ان کو واپس دلوا دیں .صوفیہ مرزا نے تو یہاں تک کہہ دیا تھا کہ ان کا سابق شوہر دھوکے سے ان کی بیٹیوں کو دبئی لیکر گیاہے.

  • والدین کی آپس کی لڑائی اولاد کا مستقبل تباہ کردیتی ہے:مبشرلقمان

    والدین کی آپس کی لڑائی اولاد کا مستقبل تباہ کردیتی ہے:مبشرلقمان

    لاہور:والدین کی لڑائی اولاد کا مستقبل تباہ کردیتی ہے:صوفیہ مرزا کی بیٹیوں کی مبشرلقمان سے دُکھ بھری گفتگو،اطلاعات کے مطابق سینئرصحافی مبشرلقمان سے اداکارہ ماڈل صوفیہ مرزا کی بیٹیوں نے اپنے والدین کے درمیان پیدا ہونے والے تنازعے پرگفتگو کرتےہوئے کہا ہے کہ والدین کی لڑائی نے ہماری زندگی اجیرن کردی ہے، ہم نے بہت دُکھ سہے ہیں لیکن اب برداشت سے معاملات باہرہوتے جارہے ہیں‌

    اس حوالے سے سنیئرصحافی مبشرلقمان کہتے ہیں کہ وہ بحیثیت باپ بچیوں کی اپنی والدہ سے دوری پربہت دُکھی تھے ، ایک وقت وہ بھی تھا جب میں نے صوفیہ مرزا کے کہنے پریہ معاملہ اٹھایا اوراس سارے معاملے کا ذمہ داربچیوں کے باپ کوٹھہرا لیکن بعد میں پتہ چلا کہ صوفیہ مرزا نے بہرکیف مجھے غلط گائیڈ کیا جو کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا

     

    https://www.youtube.com/watch?v=ZgLrw94oEuI

    مبشرلقمان کہتے ہیں کہ اب معاملات مختلف اندازسے سامنے آرہے ہیں ، سابق حکومت کے اہم رُکن شہزاد اکبر نے بھی اس معاملے کو صوفیہ جس طرح بیان کرتی رہی ہیں حل کرنے کی کوشش کی لیکن اس وقت آیف آئی اے کو بھی غلط معلومات دی گئی تھیں

    مبشرلقمان کہتے ہیں کہ اس دوران انہوں نے فیصلہ کیا کہ اب بہتر یہی ہے کہ صوفیہ مرزا اورسابق شوہر کی باتوں کوبنیاد بنانے کی بجائے بچیوں سے ہی بات کرلیں کہ اس سارے معاملے کا کون ذمہ دارہے تو صوفیہ کی بچیوں زینب اورزنیرہ نے اس سارے واقعہ اورحادثے میں اپنی والدہ محترمہ صوفیہ مرزا کو قصورٹھہرایا اور کہا کہ بہرکیف صوفیہ انکی والدہ محترمہ ہیں لیکن والدہ کوایسا نہیں کرنا چاہیے تھا جو وہ کررہی ہیں یا کچھ عرصے سے کرتی چلی آرہی ہیں

    اس سلسلے میں مبشرلقمان نے جب صوفیہ مرزا کی بیٹیوں سے بات چیت کی توان کا کہنا تھاکہ ان کی والدہ نے سوشل میڈیا پرآکرمسلسل غلط بیانی کررہی ہیں ، ہم اپنی مرضی سے والد کے ساتھ رہتی ہیں۔

    ماڈل صوفیہ مرزا کی بیٹیوں کا کہنا ہے کہ ان کی والدہ کے اس بیان میں کوئی صداقت نہیں ہے کہ والد نے ہمیں ہماری مرضی کے خلاف زبردستی اپنے ساتھ رکھا ہوا ہے، ہم سے صرف والد نے ہی نہیں عدالت نے بھی کئی بار پوچھا کہ ہم اپنے والد کے ساتھ رہنا چاہتی ہیں یا نہیں؟ ہم نے ہمیشہ اپنی مرضی سے والد کے ساتھ رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہم اپنی والدہ کو بھی کئی بار بتا چکی ہیں کہ ہم ان کے ساتھ رہنا نہیں چاہتی ہیں لیکن انہوں نے ہمیں مکمل طور پر نظرانداز کرتے ہوئے انٹرنیٹ پر جھوٹا ڈرامہ بنایا ہوا ہے، وہ ظاہر کرنے کی کوشش کرتی ہیں کہ وہ اپنے بچوں کے لیے لڑ رہی ہیں لیکن حقیقت میں ایسا کچھ نہیں ہے، ہم خود کو خوش قسمت سمجھتے ہیں کہ ان کے ساتھ نہیں رہتے۔

    اداکارہ صوفیہ مرزا کی بیٹیوں زینب اورزنیرہ کا مزید کہنا تھا کہ والدہ کے ساتھ سوشل میڈیا پر کافی مرتبہ بات چیت ہوئی ہے لیکن کبھی خوشگوار بات چیت نہیں ہو پائی، وہ ہمیشہ ہمیں انفلوئنس کرکے والد کے خلاف کرنا چاہتی ہیں، اُن کی اس بات میں کبھی کوئی دلچسپی نہیں رہی کہ ہم کیا ہیں اور ہم کیا چاہتی ہیں۔

    بچیوں سے گفتگو کرنے کے بعد مبشرلقمان کا کہنا تھا کہ وہ اس معاملے پرخود بہت پریشان ہیں کہ والدین کی باہمی لڑائی کس طرح اولاد کوتباہ کردیتی ہے ، دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ‌سب کے والدین کے درمیان محبت اورایک دوسرے کے احترام کی توفیق دے تاکہ اولاد اپنے والدین کے حُسن سلوک سے تربیت پاکرایک بہترانسان بن سکیں