Baaghi TV

Tag: ضیغم قدیر

  • دنیا میں دو طرح کے لوگ!!! — ضیغم قدیر

    دنیا میں دو طرح کے لوگ!!! — ضیغم قدیر

    دنیا میں دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں!

    اچھی زندگی گزارنے والے
    اچھی زندگی گزارنے والوں سے جلنے والے

    حماد صافی نامی پبلک فگر پر اس لئے تنقید ہو رہی ہے کہ وہ مغرب کیخلاف بات کرکے وہیں جوانی کو انجوائے کرنے چلا گیا ہے۔ مگر وہ بچہ بالکل درست کر رہا ہے۔ اس کے پیرنٹس کو پتا ہے کہ یہاں ہمارے ملک میں مغرب دشمنی کا چورن بیچ کر وہ پیسہ تو کما سکتے ہیں مگر لائف انجوائے نہیں کر سکتے، اس لئے انہوں نے اپنے بچے کو باہر بھیجنا مناسب سمجھا۔ اب میرے یا آپکے جلنے سے نا اسکی زندگی کا مزہ کم ہوگا نا ہی سکون، ہاں مگر کچھ دن تک حماد صافی پہ ہر جگہ ہوتی تنقید سے یہی نظر آ رہا ہے کہ بہت سے لوگ بس اس کنویں سے فرار چاہتے ہیں اور ان کو مسئلہ کسی کے فرار سے نہیں اپنے پیچھے رہ جانے سے ہے کہ وہ آگے کیوں نہیں بڑھ پا رہے۔

    وہ بچہ سچ بول کر گیا ہو یا جھوٹ بول کر، ایٹ لیسٹ وہ اپنی ٹین ایج سے لیکر تھرٹیز تک ایک بہترین زندگی جئیے گا۔ یہی ہر خود غرض انسان کا مقصد ہوتا ہے دوسرے کو کنویں میں دھکا دیکر اس کے کندھوں پہ پاؤں رکھ کر خود کو اس کنویں سے نکالو اور پھر کنارے پر کھڑے ہو کر کنویں کے کیچڑ میں جینے کی فضیلت بیان کرو۔

    اگر نہیں یقین تو ٹاپ لیڈرشپ کو دیکھ لیں 99% بیسویں سکیل کے افسر سے لیکر تمام سابق آرمی چیفس، وزرائے اعظم اور صدور تک سب کی اولاد پاکستان سے باہر ہے۔ خود یہ بھی چھ سات مہینے باہر گزارتے ہیں۔

    وہیں

    عام شخص کو بس بتایا جاتا ہے کہ کنویں میں جینا بہترین ہے اور اس کو بدلنا ناممکن ہے۔

    وہ دو بکریوں والی کہانی سنی ہوگی، جس میں سے ایک بکری دوسری کو کنویں میں بلاتی ہے کہ بہت مزے کی زندگی ہے اور وہ پھر اسی بھولی بکری کے کندھوں پہ چڑھ کر باہر نکلتی ہے۔

    بس وہی کہانی یہاں چل رہی ہے۔

    ضیغم قدیر

  • نجم سیٹھی اور رمیز راجہ — ضیغم قدیر

    نجم سیٹھی اور رمیز راجہ — ضیغم قدیر

    نجم سیٹھی سے میرا بطور کرکٹ فین بس ایک مسئلہ ہے کہ یہ الاؤنس کھانے کے لئے ٹی سی کرکے آنیوالوں میں سے ایک ہے۔ جبکہ رمیز نے کوئی الاؤنس نہیں لئے، وہیں پر پرفارمنس بھی واضح ہے۔

    آپ پی سی بی کی انکم اور دوسری ہسٹری دیکھ لیں۔

    پی سی بی کی 2018-19 کی انکم 700 ملین روپے تھی۔ تب منافع کم جبکہ خرچ زیادہ تھے کیونکہ چئیرمین صاحب کو کروڑ کروڑ اپنا ٹریول الاؤنس لینا تھا بی او جی کی میٹنگز کے بل لینے تھے۔

    جبکہ

    رمیز کے انڈر یہی پی سی بی کی انکم بڑھ کر 3.4 بلین روپے ہوگئی تھی۔

    زمیز کی اچیومنٹس اس کے علاوہ پی ایس ایل کا پاکستان انعقاد، پاکستان کرکٹ ٹیم کا تاریخ میں پہلی بار لگاتار تین فائنل کھیلنا، آسٹریلیا کو 25 سال بعد ون ڈے سیریز ہرانا، بنگلہ دیش، سری لنکا کو تاریخی ریکارڈز کیساتھ ہوم سیریز ہرانا رہی ہیں۔

    وہیں پر،

    سیٹھی کے دور میں پی سی بی کی ایسی کوئی تاریخی اچیومنٹس نہیں تھی ماسوائے چیمئنز ٹرافی کے، ہماری ٹیم 2018 سے پہلے تک ون ڈے سیریز تک مشکل سے جیت پاتی تھی۔

    لے دے کر نجم سیٹھی کا واحد اچھا کام پی ایس ایل کا انعقاد تھا لیکن اپنے گرو صاحبان کی طرح اس کے اس نے فی ٹورنامنٹ ایک کروڑ سے زیادہ پیسے لئے۔

    وہیں پر

    رمیز نے پی ایس ایل سے اربوں کی کمائی کے بعد بھی چوانی کا حصہ نہیں لیا۔

    یہاں مسئلہ بس مائنڈ سیٹ کا ہے،

    مجھے نجم سیٹھی سے بھی بطور پی سی بی چئیرمین مسئلہ نہیں ہے لیکن شرط یہ ہے کہ آپ کسی کی ٹی سی کرکے فقط الاؤنس کھانے کے لئے نا آئیں۔

    رمیز راجہ پر اگر کوئی الزام لگائے کہ وہ عمران خان کی پسند سے آیا تھا تو وہ فوائد گنوا دے جو رمیز نے چئیرمین بن کر اٹھائے۔

    جبکہ رپورٹس کے مطابق چڑیا نے ٹریول الاؤنس میں کروڑوں کھائے، پی ایس ایل انعقاد میں کروڑوں کھائے حتی کہ میٹنگز کروانے کے الاؤنس کھائے۔

    اور یہی مسئلہ پوری پڈم کا ہے کہ یہ پاور فل شخص کے خوب اٹھاتے ہیں اور پھر اٹھانے کے بعد اپنا کمیشن کھاتے ہیں اور یہ کمیشن بیرونی دوروں، الاؤنسز اور ذاتی کمپنیوں کے ٹھیکوں کی شکل میں ہوتے ہیں۔

    جبکہ رمیز نے پی سی بی سے چوانی کا کمیشن بھی نہیں کھایا وہ ایک دیانت دار اور محنتی شخص تھا اس کا سیٹھی جیسے ٹی سی ایکسپرٹ سے موازنہ ہی غلط ہے۔

  • انڈس ڈولفنز — ضیغم قدیر

    انڈس ڈولفنز — ضیغم قدیر

    آج جہاں پاکستان ہے وہاں 50 ملین سال پہلے ایک سمندر تھا جس میں ڈولفنز بھی رہا کرتی تھی۔ مگر رفتہ رفتہ یہ سمندر سوکھ گیا اور چھوٹے بہاؤ کے راستے یا پھر دریا بچ گئے۔

    وہ ڈولفنز جو کہ کھلے سمندروں کی باسی تھی اور صاف پانیوں کی دلدادہ تھی وہ ایک گہرے گدلے پانی میں پھنس کر رہ گئی۔ اس سروائیول کے دوران ان ڈولفنز نے خود میں ارتقائی تبدیلیاں کروائی اور ان کی آنکھوں کے جینز سائلنٹ ہوگئے۔

    اور یوں یہ ہمیشہ کے لئے اندھی ہو کر رہ گئی۔

    وقت کی اس دوڑ میں فطرت سے یہ ڈولفنز جیت گئی مگر پھر انسانوں سے ہار گئی۔

    آٹھویں کلاس میں کہیں پڑھا تھا کہ انڈس ڈولفن ناپید ہو رہی ہے۔ بہت تجسس ہوا، سرچ کیا پتا چلا کہ انسانی آلودگی ان کے لئے نقصاندہ ہے مگر اس آلودگی کیساتھ ساتھ انسانی ذہنی آلودگی بھی ان کے ناپید ہونے کی طرف جانے کی وجہ ہے۔

    یہ جاننا میرے لئے ڈسٹربنگ تھا کہ،

    سندھی کلچر میں یہ سالوں پرانی روایت ہے کہ اگر آپ انڈس ڈولفن کیساتھ جنسی عمل کریں گے تو آپ کی مردانہ طاقت میں اضافہ ہوگا۔ اب جبکہ مردانہ طاقت ہمارے معاشرے میں موجود واحد طاقت ہے جس کی کمی ہر مرد کو ہے اس لئے انہوں نے کئی سالوں سے ان معصوم مچھلیوں کیساتھ جنسی زیادتی کرنے کا ایک کلچر بنا لیا اور یہ ایک اچیومنٹ بن گئی کہ انڈس ڈولفن کیساتھ جنسی عمل کیا ہے۔

    اب اس بات کو آزادانہ سورسز تسلیم کرنے سے انکار کر دیتے ہیں۔ مگر ایک معاشرے کے فرد کو ان چیزوں کے نا ہونے پہ حیرت بالکل نہیں ہوتی کیونکہ یہاں پر گدھیوں، بکریوں اور ہرن تک کو جنسی زیادتی سے کوئی نہیں بچا سکتا بلکہ یہ بہت سے لوگوں کا پسندیدہ موضوع ہے اور اس پر باقاعدہ لطیفے بھی بنائے جاتے ہیں۔

    خیر،

    اب چونکہ یہ آبی مخلوق تھی گدھیوں کی طرح یہ انسانی زیادتی اور انسانی آب و ہوا دونوں برداشت نہیں کر پاتی تھی اس لئے مرنا انکی قسمت ہوا کرتی تھی۔

    اب ماحولیاتی آلودگی اور انسانی آلودگی کی وجہ سے ان مچھلیوں کی تعداد کم ہو کر ہزار سے پندرہ سو رہ گئی ہے اور اگر IUCN درمیان میں نا آتا تو شائد اب تک ان ہزار باقی ماندہ کا بھی جنسی شکار کر لیا جاتا مگر اب یہ مشکل ہو چکا ہے۔

    لیکن ابھی بھی بہت سے دوسرے جانور انسانی درندگی کا نشانہ بنتے ہیں اور چونکہ انکی زبان نہیں ہے اس لئے کوئی یہ نہیں جان سکتا۔ مگر یہ سچ ہے اور دیہات میں رہنے والے بخوبی جانتے ہیں۔

    یاد رہے،

    اس ضمن میں یہ چیز فقط پاکستان تک محدود نہیں ہے بلکہ پوری دنیا میں یہ ٹرینڈ موجود ہے یورپ میں سور اس بات سے نہیں بچ پاتے اور اس کراہت آمیز روایت/کلچر یا پھر شوق کا حصہ رہ چکے ہیں۔ ابھی تعلیم اور شعور کے بعد یہ ٹرینڈ کم ہو چکا ہے لیکن یہ کراہت آمیز عمل انسانی معاشرے میں بخوبی موجود ہے۔

    انڈس ڈولفنز ارتقاء کی بہت اچھی مثال تھی مگر ہم انہیں تقریبا مکمل طور پر کھو دینے والے ہیں اور یہ انتہائی دکھ دینے والی بات ہے۔

  • چیمپئن سیلز — ضیغم قدیر

    چیمپئن سیلز — ضیغم قدیر

    وہ لمحہ جب سب سے چھوٹا خلیہ سب سے بڑے خلئے سے جا ملتا ہے۔ دنیا کا سب سے زیادہ حیران کن لمحہ ہوتا ہے. ان دو خلئیوں کا امتزاج اتنا حسین ہوتا ہے کہ وہ آپ جیسی ایک خوبرو شخصیت کو وجود دیتا ہے۔ (جی آپ خوبرو ہیں) اربوں سپرمز میں سے ایک ایسا چیمپئن سپرم ہوتا ہے جو اس دوڑ میں جیتنے کا چانس رکھتا ہے۔ اسی طرح ملینز آو پوٹینشل ایگ سیل میں سے صرف ایک ایگ سیل ہی آپ کو وجود دے پاتا ہے۔

    سپرم کا سائز اتنا کم کیوں ہوتا ہے؟

    چونکہ سپرم نے صرف جینیٹک میٹیرل ایگ سیل تک لیجانا ہوتا ہے اس لئے ایک سپرم سیل میں اتنی زیادہ ایڈاپٹیشن آ چکی ہیں کہ اس کا سائز کم سے کم ہو گیا ہے۔ یوں سمجھ لیں جیسے ایک لمبے سفر کے لئے آپ صرف ضرورت کی اشیا ساتھ لیکر نکلتے ہیں بالکل ایسے ہی ایک سپرم بھی اپنے پاس سفر کا ضروری سامان رکھتا ہے ۔ یہ سامان درج ذیل ہے.

    ڈی این اے
    فیول
    70-100 مائٹوکانڈریا

    بس ان چند چیزوں کیساتھ یہ سب سے ننھا سیل سب سے بڑے سیل سے ملنے نکل جاتا ہے۔ اس دوران کامیاب مسافر سپرم وہی ہے جو سب سے زیادہ تیز اور انرجی رکھتا ہے۔ یہ انرجی انہیں تیرنے میں مدد دیتی ہے اور یوں یہ ایک ایگ سیل تک پہنچ جاتے ہیں۔

    یہاں اس کا سامنا خود اسے 174000 گنا وزنی سیل سے ہوتا ہے۔

    ایگ سیل اتنا بڑا کیوں ہوتا ہے؟

    ایک نارمل ایگ سیل کو ہم عام آنکھ سے بھی دیکھ سکتے ہیں۔ یہ ایگ اپنے اندر خوراک کا بڑا ذخیرہ رکھتا ہے ۔ کیونکہ تمام طرح کی تقسیم یہی ہونی ہے تو یہ سیل اپنے پاس خوراک کا ہر ممکن ذخیرہ رکھتا ہے۔ یہ تمام ذخیرہ سیل کی تقسیم کے لئے بہت ضروری ہوتا ہے اسی لئے اس کا سائز اتنا بڑا ہے۔

    وہ مسافر سپرم جو کہ سفر کا ضروری سامان لیکر نکلا تھا یہاں آکر خوب خاطر مدارت کرواتا ہے۔ یہاں یہ سپرم اپنی امانت (ڈی این اے) ایگ کو سونپتا ہے. یوں سیل کی تقسیم کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔

    سب سے پہلے یہ خلئیہ ایک سے دو میں تقسیم ہوتا ہے۔ یہ دو پھر چار میں اور یونہی سلسلہ چلتے چلتے اربوں تک پہنچ جاتا ہے اور موت تک چلتا رہتا ہے۔

    ایک نارمل مرد اپنی صحتمند زندگی میں اربوں سپرم سیل پیدا کرتا ہے۔جبکہ اسی طرح ایک مادہ دس لاکھ تک potential ایگ سیل رکھتی ہے۔ بعد میں جوانی تک پہنچتے پہنچتے انکی تعداد دو سے تین لاکھ رہ جاتی ہے اور پھر ان سے محض 300 تک ایگ سیل اوویولیٹ ہو پاتے ہیں۔ یہ تعداد عمر کیساتھ ساتھ کم ہوتی ہے اور عموما چالیس سال بعد ان کا ریلیز ہونا ختم ہوجاتا ہے۔

    ان اربوں سپرم سیلز میں سے صرف ایک سیل ان ملینز میں سے ایک ایگ سیل سے جا ملتا ہے اور آپ کو وجود دیتا ہے۔ تو کیا آپ ان سیلز کو چیمپئن سیلز نہیں کہیں گے؟

    قدرت کا یہ نظام ایک حیرت کدے سے کم نہیں. سب سے چھوٹے اور سب سے بڑے سیل کے حسین امتزاج کے نتیجے میں یہ سب وجود پاتا ہے اور فنا بھی ہوتا ہے اور یونہی حیات کا تسلسل چلتا رہتا ہے۔ جو چیمپئن ہوتے ہیں وہ نیا وجود بنا لیتے ہیں باقی کے فنا ہوجاتے ہیں۔

  • نسل در نسل چلنے والا ٹراما — نکولی لا پریرا (مترجم: ضیغم قدیر)

    نسل در نسل چلنے والا ٹراما — نکولی لا پریرا (مترجم: ضیغم قدیر)

    نسل در نسل چلنے والا ٹراما آپکے فیملی پیٹرنز میں مختلف طریقوں سے ظاہر ہوتا ہے۔ جس میں کچھ عادات، پیٹرن اور خصائص آپ میں آپکے والدین سے منتقل ہوتے ہیں۔

    جیسا کہ فرض کریں،

    آپ کے دادا دادی ایک ایسے خاندان میں پیدا ہوئے تھے جنہوں نے ساری عمر غربت کو ہی دیکھا تھا ڈومیسٹک وائلنس عام چیز تھی۔

    اب وہ بائیس سال کی عمر میں ایک دوسرے کیساتھ ملتے ہیں، شادی ہوتی ہے اور 25 تک بچے ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ مگر دونوں گرینڈ پیرنٹ ابھی تک اپنے چائلڈ ٹراما کو پراسس ہی نہیں کر پائے ہیں۔

    ان کے تین بچے ہوتے ہیں،

    اب غربت میں ان تینوں کو پالنا خاصہ جوکھم والا کام ہے اور یہ ان کو مزید سٹریس دے رہا ہے اور ان کے بچپن کے برے تجربات ان کو ڈپریشن اور انزائٹی میں دھکیل رہے ہیں۔

    اب چونکہ بچپن برا تھا تو اس کی وجہ سے ماں نہایت سٹریس میں رہنے کی وجہ سے گرم طبیعت رکھتی ہے اس کو چھوٹی چھوٹی بات بری لگتی ہے اور وہ اپنے بچوں کے پاس رہ کر بھی ان سے منقطع رہتی ہے وہ جسمانی طور پر تو وہاں موجود ہوتی ہے مگر ذہنی طور پر نہیں ۔

    وہیں پر باپ ہر وقت کام پہ مصروف رہتا ہے اپنے بیوی بچوں کو بہت کم یا پھر صفر ایموشنل سپورٹ دیتا ہے اور کام میں ہی کہیں افئیر چلا لیتا ہے اور چونکہ ٹاکسک ماحول کی سب سے بری عادت راز رکھنا ہوتی ہے سو وہ بخوبی چھپانا جانتا ہے۔

    ان حالات میں ماں شوہر کی ہر بات کو جان رہی ہوتی ہے مگر وہ بند آنکھوں کا ڈرامہ رچا کر کچھ بھی نا دیکھنے کی اداکاری کرنا شروع ہو جاتی ہے اور اس سب سے فرار کی خاطر اپنے بچوں کیساتھ ‘کو ڈپینڈنٹ’ تعلق بنا لیتی ہے جس میں ایک شرط ماں پوری کرتی ہے تو بچے دوسری، یہ تعلق خصوصا بڑے بیٹے کیساتھ ہوتا ہے جس کو وہ اپنا ‘پارٹنر’ سمجھنے لگ جاتی ہے۔

    اب اس بڑے بچے کو دونوں یہ سکھاتے ہیں کہ گھر کا سربراہ صرف وہی ہے اور کوئی نہیں، اور ماں کی ایموشنز کا خیال صرف اسی نے رکھنا ہے۔

    اب بچے چونکہ باپ کا سایہ کبھی دیکھ ہی نہیں پائے ہیں اور نا ہی ان سے کبھی اس موضوع پر بات ہوئی ہے کہ ان کا باپ کیسا ہے تو وہ اس اگنور کرنے کو تسلیم کرکے اپنے احساسات چھپا کر جینا سیکھ جاتے ہیں۔

    اسی دوران یہ بچے اپنی ماں کیساتھ ایک مصنوعی تعلق نبھانا شروع ہو جاتے ہیں اور خود سے وعدہ کرتے ہیں کہ وہ اپنے باپ جیسے کبھی نہیں بنیں گے اور ویسی حرکت کبھی نہیں کریں گے۔

    یہاں اگر انکی فیملی کو اوپر سے دیکھا جائے تو ‘خوش نظر’ آنیوالی فیملی ہے مگر اس میں کچھ بھی خوشی والا نہیں ہوتا ہے۔

    جوان ہونے تک یہ بچے سیکھ جاتے ہیں کہ کیسے انہوں نے ایک ماسک کے نیچے اپنے احساسات کو چھپانا ہے اور کیسے بغیر کسی کو بتائے جینا ہے۔ اسی دوران سب سے بڑا بیٹا نشے یا آوارہ گردی کی طرف چلا جاتا ہے درمیانی بیٹی خود سے بڑی عمر کے شخص سے دوستی کرکے شادی کرنے کی طرف چلی جاتی ہے کیونکہ وہ باپ جیسے پیار کی تلاش میں ہوتی ہے جو کہ اسے کبھی نہیں ملا ہوتا۔

    اور

    سب سے چھوٹی بچی ہر کسی کی بات کو درست مان کر اس کے پیچھے چلنے والی بن جاتی ہے اس کو انزائٹی اور اٹیچمنٹ ایشوز بھی ہوتے ہیں۔

    ان میں سے کوئی بھی اپنے مسائل والدین سے ڈسکس نہیں کرتا کیونکہ ایسا ماحول ہی نہیں مل رہا ہوتا، ایسے خاندان کا واحد ماٹو یہی ہوتا ہے کہ اپنے ٹراما سے تم نے خود ہی لڑنا ہے۔

    جنریشنل ٹراما کے کچھ بنیادی عناصر یہ ہو سکتے ہیں؛

    نشے کی لت یا جوئے کی لت
    خاندان میں ایک سے زائد لوگ ذہنی پریشانیوں کا شکار ہوتے ہیں
    راز رکھنا اور بات تسلیم نا کرنے کو کامیابی سمجھنا
    ایک دوسرے پہ حد سے زیادہ انحصار
    باؤنڈریز نا رکھنا
    خود شناسی کی کمی
    ایموشنلی امیچور ہونا
    کسی بھی طرح کے سٹریس کا سامنا نا کر پانا
    خود کو کمتر سمجھنا
    دوسروں پہ اعتماد نا کرنا
    وغیرہ

    لیکن خوش قسمتی سے ان سائیکلز کو توڑا بھی جا سکتا ہے سائیکل بریکر وہ شخص ہوتا ہے جو اس لائف سٹائل سے فرار ڈھونڈ کر خود شناسی سے ان ٹراماز پہ قابو پانا سیکھ جاتا ہے۔ اور یہ چیز آپ کو خود ہی سیکھنا ہوتی ہے۔

  • انقلاب کہاں کامیاب ہوتے ہیں؟ — ضیغم قدیر

    انقلاب کہاں کامیاب ہوتے ہیں؟ — ضیغم قدیر

    تیسری دنیا کے ممالک میں آپ پچھلے پچاس سالوں کے تمام انقلاب دیکھ لیں وہ انقلاب نہیں بلکہ امریکی سازش کے نتیجے میں پھیلنے والی انارکی تھے۔

    عراق جیسا ہنستا بستا ملک کوئی نہیں تھا۔ دہشتگردی کا دنیا بھر میں وجود نہیں تھا مگر صدام حسین پسند نہیں تھا میر جعفروں کیساتھ مل کر اس کو ہٹایا گیا، نکلا کچھ بھی نہیں مگر وہ عراق جو پہلے پر امن تھا اب ایک عفریت کی جگہ بن گیا۔

    سوویت کی چڑھائی کے دوران افغانیوں کی مدد کی گئی یہ جیت گئے مگر بعد میں جب یہ پر سکون حکمرانی کر رہے تھے تو افغانستان آپریشن شروع کر دیا گیا۔ نتیجہ کھنڈر افغانستان کی صورت میں سامنے ہے۔

    عراق میں جو سنہ 2000 کے آغاز میں بیج بویا گیا اس نے پروان پکڑا اور یمن کی طرف ہجرت شروع کر دی، ایران اور عراق کی اس پراکسی وار میں یمن میں وہاں کے شعیوں کو بتایا گیا کہ وہ خطرے میں ہیں وہیں پر دوسری طرف امریکی مدد سے سعودیوں نے حوثی مخالف گروہوں کو سپورٹ کیا یہ چھوٹی موٹی لڑائیاں جاری تھی کہ عرب اسپرنگ نامی ایک جرثومے نے اس کو تقویت دی۔

    اس عرب سپرنگ نے زور پکڑا اور پھر حوثیوں اور دوسرے گروہوں کی ایسی لڑائی شروع ہوئی کہ آج شام، یمن اور لیبیا تباہ ہو چکے ہیں۔ مصر اور اردن سیکیورٹی رسک پر ہیں اور لبنان پہلے ہی ریڈیکلائزڈ ہے۔ اس وقت شام اور یمن دو ممالک کا نام نہیں بلکہ مختلف باغی تحریکوں کی آماجگاہ ہیں جہاں پر ایک ملک کا وجود صرف باہر موجود شخص کو پتا ہے اندر سے یہ ملک تین سے چار گروہوں کے مجارٹی علاقوں میں منقسم ہیں۔

    لیبیا کی جی ڈی پی معمر قذافی کی حکومت میں بہترین سے اوپر تھی۔صحت سمیت سب کچھ فری تھا حکومت شادی کرنے تک کے پیسے خود دیتی تھی مگر بتایا گیا کہ قذافی ٹھیک نہیں ہے انارکی ہوئی، آج لیبیا انارکی میں جی رہا ہے۔

    انقلاب ایران تو سب کو یاد ہوگا۔ مگر اس انقلاب سے پہلے ایرانی کتنی پرسکون زندگی گزار رہے تھے یہ سب کو معلوم ہے لیکن اس بات کو تسلیم کرنا سب کے بس کی بات نہیں ہے۔ خیر 70 کی دہائی میں آئے ‘انقلاب’ نے بہت کچھ بدلا، ملک شدت پسند ہوا مگر ایک فائدہ یہ ہوا کہ ایران کے اندر کسی اور ملک کی پراکسی وار نا چل سکی۔

    کل سے پاکستانی سوشل میڈیا پہ اس بات کی خوشیاں منائی جا رہی ہیں کہ ایران میں مورالٹی پولیس کا خاتمہ انقلاب ایران دوئم کی طرف اٹھا قدم ہے۔

    یہ خبر ان کے لئے بہت خوش آئند ہوگی۔ مگر ہمیں نتائج معلوم ہیں۔ آج اگر خامنائی کا کنٹرول ایران سے ختم ہوا تو یہ ٹیکسٹ بک میں لکھی بات ہے کہ کل کو ایران بھی اگلا شام، یمن یا عراق ہوگا۔

    یاد رکھیں.

    انقلاب وہاں ہی کامیاب ہوتے ہیں جہاں ہمسائیے امیر اور ترقی یافتہ ہوں ورنہ سانپوں کے بیچ میں اپنی حفاظتی شیلڈ اتار کر انقلاب کی تمنا کرنے والوں کو سانپ ہی ڈستے ہیں۔

    وہیں پر ہمارے تکفیری کالم نگاروں اور تجزیہ کاروں کے لئے یہ کمائی کا سیزن ہے کہ وہ یا تو انقلاب ایران کی ترویج کرکے پیسہ کمائیں یا اس کے مخالف گروہ یعنی ایرانی حکومت کی تائید کرکے، وہیں عام عوام جنہوں نے اس ممکنہ انارکی سے مرنا ہے وہ ان دانشوروں کی قلمی ماسٹربیشن سے تب تک نا آشناء رہتی ہے جب تک پاکستان کی طرح مہنگائی 50% تک اور بینکوں کی اے ٹی ایمز میں سے پیسے ملنے تک سب رک نہیں جاتے تب تک وہ ان قلمکاروں اور انقلاب فروشوں کے نعروں کو خریدتے رہتے ہیں۔

    عرب اسپرنگ سے لیکر پاکستان تک ہر جگہ ان تجزیہ کار لفافوں کی قلمی ماسٹربیشن بہت کچھ بگاڑ چکی ہے۔ اور سدھرنے والا کچھ نہیں ہے یہ گھر اجاڑنے والے لفافے ایسے ہی گھروں کو اجاڑتے رہیں گے۔

  • ٹک ٹاک آپ کی جاسوسی کر رہا ہے؟ — ضیغم قدیر

    ٹک ٹاک آپ کی جاسوسی کر رہا ہے؟ — ضیغم قدیر

    حالیہ دنوں میں بز فیڈ کی جانب سے لیک شدہ آڈیو سے ٹک ٹوک کے بارے میں یہ حیران کن باتیں پتا چلی ہیں؛

    ٹک ٹوک نا صرف کسی بھی یوزر کی گیلری تک رسائی رکھتی ہے بلکہ وہ یوزر کے فنگر پرنٹس سے لیکر ڈرافٹ میسجز تک اور ان سے لیکر کسی بھی شخص کو بھیجے گئے میسجز تک پڑھ سکتی ہے۔

    بات یہیں نہیں رکتی بلکہ وہ جمع شدہ یہ سارا ڈاٹا اپنے چائنیز سرورز کو بھیجتی ہے۔

    چائینیز سرور چونکہ بائیٹ ڈانس نامی کمپنی کی ملکیت ہیں سو وہ عوامی جمہوریہ چین کی سٹیزن سرویلنس پالیسی کے تحت کام کرتے ہیں جس کے تحت کسی بھی شہری کی معلومات کو جاننے کا ریاست کے پاس مکمل قانونی حق حاصل ہے۔

    ٹک ٹوک آپ سے حاصل شدہ یہ سب معلومات جس میں آپ کی دوسرے لوگوں سے کی گئی بات چیت تک شامل ہیں مانیٹر کرتی ہے اور پھر آپ کو مینپولیٹ کرنے کے لئے اور اس سے جدید ٹیکنالوجی بنانے کے لئے استعمال کرتی ہے۔

    انہی الزامات کی بنیاد پر بھارت میں اس ایپلی کیشن پر بین لگا تھا اور اب امریکہ میں بھی بین لگنے کی تیاریاں جاری ہیں۔ وہیں پر امریکہ میں سرکاری ملازموں اور حساس اداروں کے ملازموں پہ ٹک ٹوک انسٹال کرنے پہ پابندی عائد ہے۔

    یاد رہے،

    پاکستان میں کسی بھی ادارے کے ملازمین پر ٹک ٹوک کے استعمال پہ کوئی پابندی عائد نہیں ہے۔

  • نیا آپریٹنگ سسٹم آرہا ہے؟ — ضیغم قدیر

    نیا آپریٹنگ سسٹم آرہا ہے؟ — ضیغم قدیر

    قیاس یہی کیا جا رہا ہے کہ ایپل سٹور سے ٹوئٹر کو ہٹا دیا جائے گا اور تمام آئی فونز پہ آفیشل ٹوئٹر ایپ نہیں چل سکے گی۔ اس قدم کو فالو کرتے ہوئے فریڈم آف سپیچ کے ‘قاعدوں کی خلاف ورزی’ پر گوگل پلے سٹور سے بھی اس کو ہٹا لیا جائے گا۔

    لیکن،

    اس قدم کو اٹھانے سے ایلون مسک کی ایک دھمکی نے روکا ہوا ہے وہ یہ ہے کہ ایلون اپنا ایپ سٹور اور اپنا موبائل فون لانچ کر لے گا۔

    اسکا فائدہ کیا ہوگا؟

    اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ مقابلے کی فضا میں ہمیں ایک نئی، جدید اور بہترین موبائل کمپنی ملے گی جس کے پاس ایک بالکل نیا آپریٹنگ سسٹم اور پراسیسنگ سسٹم ہوگا۔

    اور

    حیران کن بات یہ ہے کہ نیا آپریٹنگ سسٹم مکمل طور پہ ڈی سینٹرلائزڈ مطلب ویب بیسڈ ہوگا جس کو بنانے کی خواہش مرحوم اسٹیو جابز کی تھی۔ اس میں میموری کیشے کی پرابلم بھی ختم ہو جائے گی۔

  • ڈگری کو چھوڑنے کی بات!!! — ضیغم قدیر

    ڈگری کو چھوڑنے کی بات!!! — ضیغم قدیر

    بل گیٹس نے یونیورسٹی چھوڑی، مارک زکر برگ نے یونیورسٹی چھوڑی، سٹیو جابز نے چھوڑی وغیرہ وغیرہ

    یہ جملہ آئے روز سننے کو ملتا ہے مگر کوئی یہ نہیں بتاتا کہ انہوں نے یونیورسٹی چھوڑی تو تب انکی پوزیشن کیا تھی اور ان کو سپورٹ کرنیوالا کون تھا؟

    جس وقت ان سب نے یونیورسٹیوں کو چھوڑا اس وقت یہ اپنی کمپنیاں بنا چکے تھے اور وہ کمپنیاں اتنی زیادہ آؤٹ ریچ پر پہنچ چکی تھی کہ ان کے لئے یونیورسٹی اور کمپنی دونوں ایک ساتھ چلانا مشکل ہوگیا تھا۔ سو انہوں نے ڈگری پہ کاروبار کو ترجیح دی۔ اور کمپنیز کو مزید ترقی دینے پر لگ گئے۔

    لیکن یہاں فائنل سٹیپ بتا کر پہلے سٹیپ نہیں بتائے جاتے۔

    کیوں؟

    کیونکہ پہلے سٹیپ محنت طلب ہیں، جبکہ فائنل سٹیپ سب سے زیادہ آسان اور دل کو لبھانے والا ہے اور انسانی نفسیات ہے کہ وہ آسان باتیں سننا پسند کرتا ہے اور محنت طلب باتوں اور کاموں سے بھاگتا ہے۔

    آسان بات یہ ہے کہ تمام ارب پتی یونیورسٹیوں سے ڈراپ آؤٹ ہوئے تو ارب پتی بنے۔

    مشکل بات یہ ہے کہ یہ سب ارب پتی امریکہ میں رہ رہے تھے، وہاں پر انہیں اچھی سکول ایجوکیشن ملی، بعد میں کالج میں انکی پروفیشنل ڈیولپمنٹ پہ کام ہوا، کالج کے دوران ان کا واسطہ اس ٹیکنالوجی سے ہوا جو غریب ممالک سے تعلق رکھنے والے آپ اور ہم نے پانچ دس سال بعد دیکھنی تھی اور پھر اس ٹیکنالوجی کو پروفیشنلی پراڈکٹ میں بدلنے کے لئے ان کے پاس ملکی وسائل تھے جس میں آسان قرضے سے لیکر والدین کے پیسے تک سب موجود تھا۔ ان پر کسی قسم کا سوشل پریشر نہیں تھا کہ آپ کی کمپنی فلاں کے مذہب، عقیدے وغیرہ کو ٹھیس پہنچائے گی نا ان سے کسی نے یہ پوچھا کہ آپ سلفی ہیں یا مقلد ہیں یا قادیانی، نا ہی ان کو آپ کے والے مسائل تھے کہ بائیس پچیس سال کی عمر تک آپ کی سیکس لائف مکمل ہوئی کہ نہیں، سب کی گرل فرینڈز تھی سو وہ نفسیاتی طور پر آزاد رہ کر کسی بھی آئیڈیا پہ کام کر رہے تھے اور ان کا معاشرہ اور ملک سپورٹ کر رہا تھا۔

    پھر جا کر انکی کمپنیاں جب ملین ڈالر سے زائد کے کیپیٹل پر پہنچی تو انہوں نے کالج سے ڈراپ آؤٹ ہونا پسند کیا۔

    اب یہاں سوال پیدا ہوتے ہیں۔۔۔کہ

    کیا آپ کے ملک میں آپ کے پاس نئے آئیڈیاز سوچنے کے لئے وسائل دستیاب ہیں؟ کیا آپ زندگی کے بنیادی سروائیول کی پسوڑیوں مطلب شادی یا سادہ الفاظ میں سیکس لائف کی پسوڑی سے نکل چکے ہیں؟ کیا آپ کا ملک آپ کو آپکی کمپنی کے لئے خام مال باآسانی دے سکتا ہے؟ کیا آپ کے ملک میں ٹیکنالوجی اس لیول پہ ہے جس پر ایک ہارورڈ کا طالب علم دیکھ رہا ہے؟ کیا آپ کو یقین ہے کہ آپ کی کمپنی میں لوکل انویسٹر شئیر خریدیں گے؟ اور کیا آپکے ملک میں لانگ ٹرم پہ بزنس پالیسی موجود ہے؟

    ان سب سوالوں کا جواب نا میں ہوتا ہے۔

    سو پھر ڈگری کو برا کیوں کہا جائے؟ پھر سیدھا نقطہ یہ ہے کہ آپ سماج کو بدلیں یا اسے چھوڑ دیں پھر جا کر آپ کچھ نیا بنا سکیں گے۔

    اس وقت ہمارا ملک ایک کنزیومر ملک ہے جہاں پر پروڈیوسر بننے کی سوچ کے پیچھے ہزاروں چیلنجز ہوتے ہیں۔ آئیڈیاز ہیں تو وسائل نہیں وسائل ہیں تو آئیڈیاز نہیں اگر دونوں ہیں تو ملکی پالیسیز نہیں ہیں۔

    پاکستان کا سب سے بڑا سٹارٹ اپ میرے خیال سے دراز ہے اور پھر ائیر لفٹ تھی، دراز کے سی او نے کہا تھا کہ وہ پاکستان میں غیر یقینی کی صورتحال دیکھ کر بہت سے آپریشن محدود کریں گے، جبکہ ائیر لفٹ تو مکمل بند کر دی گئی۔ ائیر لفٹ کیساتھ ساتھ کریم اور دیگر ہزاروں چھوٹے سٹارٹ اپس بند ہو گئے۔

    اب یہاں سٹارٹ اپس کے بند ہونے کی وجہ FDI یا فارن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ کا بند ہونا ہے۔ کیونکہ ہمارا لوکل انویسٹر تو دھیلا خرچنا نہیں چاہتا۔ آپ ایک آئیڈیا لائیں اس پر کمپنی بنائیں، لوکل مارکیٹ میں سے کوئی بھی انویسٹ نہیں کرے گا سارا زر باہر سے لانا پڑے گا۔

    وہیں ایک ہاؤسنگ سکیم بنائیں دھڑا دھڑ پلاٹ بکیں گے، انویسٹمنٹ آئے گی پیسہ آئے۔

    مطلب مارکیٹ کی ڈائنامکس ہی کنزیومر بیسڈ ہے پروڈیوسر کو کوئی یہاں پنپتا نہیں دیکھ سکتا۔

    ایسے میں حل یہی ہے باہر جائیں ڈھیر سا پیسہ کما کر یا تو وہاں ہی کمپنی لانچ کریں یا یہاں آ کر لانچ کریں اور پراڈکٹس باہر ایکسپورٹ کریں۔

    مگر باہر جانے کے لئے آپ کو پراپر یونیورسٹی ایجوکیشن چاہیے، اچھا جی پی اے اور سکالرشپ سو اس کے لئے ڈگری پر محنت کریں، 3.4 سے اوپر جی پی اے رکھیں، پرسنل گرومنگ سیکھیں، خود کو پریزنٹ کرنا سیکھیں اور یہاں سے نکلنے کی کوشش کریں۔ ڈگری کو چھوڑنے کی بات کرنے والے ڈفر خود ایک پرزہ تک نہیں بنا سکتے سو ان کا چورن مت خریدیں۔

  • کلاسیکل کنڈیشننگ — ضیغم قدیر

    کلاسیکل کنڈیشننگ — ضیغم قدیر

    بچے اپنی ہی ماں کی پششش کی آواز پر پیشاب کرتے ہیں اسکی وجہ اکثر لوگوں کو معلوم نہیں ہے۔ لیکن اس آواز کے پیچھے بچے کے دماغ کی کنڈیشننگ چھپی ہے جس میں بچے کے دماغ کو اس آواز پر حرکت کرنے کا عادی بنا دیا جاتا ہے۔

    اس سے ریلیٹڈ ایک دلچسپ مثال کتوں پہ کئے گئے تجربے کی ہے۔

    کتے گوشت دیکھ کر منہ سے پانی نکالتے ہیں یہ دیکھ کر ایک روسی نفسیات دان پاؤلو Pavlov کافی حیران ہوا، لیکن اس نے ایک نیا تجربہ کرنے کی کوشش کی۔ اس نے گوشت دینے کیساتھ ساتھ گھنٹی بھی بجانا شروع کی، کچھ عرصہ بعد پاؤلو صرف گھنٹی بجاتا تھا اور کتوں کے منہ سے پانی نکلنا شروع ہونے لگ جاتا تھا۔

    اس کو ہم کلاسیکل کنڈیشننگ کہتے ہیں۔

    بچپن میں جب بچے شروع شروع میں پیشاب کرتے ہیں تو والدین پششش کی آواز نکالتے ہیں۔ آہستہ آہستہ بچوں کا سب کانشش دماغ اس سٹیمولائی کو پیشاب کے ایکشن سے جوڑنا شروع ہوجاتا ہے اور ایک وقت آتا ہے کہ بچے اپنی ماں کی پششش کی آواز پہ ہی بس پیشاب کرتے ہیں۔

    یہ کنڈیشننگ اتنی مضبوط ہے کہ کچھ لوگ بڑے ہو کر بھی اس آواز پہ پیشاب کر دیتے ہیں۔ عموما بچوں کو پوٹی ٹرین کرنے کے دوران ماں کی یہ آواز اس کو اس سٹیمولائی پہ پیشاب کرنے کی عادی بنا دیتی ہے۔