Baaghi TV

Tag: عارف علوی

  • صدر مملکت عارف علوی کی نااہلی کیلئے دائر درخواست پر اعتراضات عائد

    صدر مملکت عارف علوی کی نااہلی کیلئے دائر درخواست پر اعتراضات عائد

    رجسٹرار آفس سپریم کورٹ نے صدر مملکت عارف علوی کی نااہلی کیلئے دائر درخواست پر اعتراضات عائد کردئیے

    عائد اعتراض میں کہا گیا کہ آئین کے آرٹیکل 248 کے تحت صدر مملکت کو فریق نہیں بنایا جا سکتا، درخواست میں عوامی مفاد اور بنیادی حقوق کے سوال کے بارے میں نہیں بتایا گیا،آرٹیکل 184(3) کے استعمال کے حوالے سے اٹھائے گئے نکات تسلی بخش نہیں، درخواست گزار نے کسی دوسرے متعلقہ فورم سے نہ رابطہ کیا اور نہ ہی رابطہ نہ کرنے کی وجہ بتائی، درخواست تحریر کرنے والے وکیل کا نام نہیں بتایا گیا،

    واضح رہے کہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی نااہلی کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی ہے، درخواست گزار کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر عارف علوی عمران خان کی ایماء پر قانون سازی کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر رہے ہیں، قومی اسمبلی اور سینیٹ سے منظوری کے باوجود صدر مملکت نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کی منظوری نہ دی ،درخواست ایک شہری چوہدری محمد امتیاز کی جانب سے دائر کی گئی ہے۔ درخواست میں مزید کہا گیا کہ صدر مملکت کے یہ اقدامات کسی مخصوص پارٹی کی طرف جھکاؤ ظاہر کرتے ہیں ، ایسے طرز عمل کی بناء پر ڈاکٹر عارف علوی صدر کے عہدے کے اہل نہیں،آئین کے آرٹیکل 41 کے ڈاکٹر عارف علوی کو صدر کے عہدے سے ہٹایا جائے۔

    بشری بی بی کی آڈیونےدنیا بدل دی۔قہرٹوٹ پڑا ،عمران خان مایوس،دل ٹوٹ گیا

    عمران خان پرلاٹھیوں کی برسات، حالت پتلی، لیک ویڈیو، خواجہ سرا کے ساتھ

    عمران خان کی محبت بھری شاموں کا احوال، سب پھڑے جان گے، گالی بریگیڈ پریشان

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    درخواست میں مزید کہا گیا کہ صدر مملکت نے پارلیمان کی جانب سے بھجے گئے سپریم کورٹ پروسیجر بل کی منظوری نہ دی صدر مملکت نے نیب ترامیم بل اور اسلام آباد لوکل گورنمنٹ ایکٹ پر بھی دستخط کرنے سے انکار کیا ،صدر مملکت کا اپنی آئینی ذمہ داریوں سے انکار کرنا ظاہر کرتا ہے کہ وہ صدر کیلئے عہدے کیلئے اہل نہیں صدر ایک سیاسی جماعت سے منسلک اور جانبدار ہیں، صدر مملکت نے حکومت کی قانون سازی کو سیاسی جماعت کے چئیرمین کے کہنے پر منظور نہیں کیا،

  • صدر مملکت عارف علوی کی نااہلی کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر

    صدر مملکت عارف علوی کی نااہلی کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی نااہلی کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی گئی

    درخواست گزار کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر عارف علوی عمران خان کی ایماء پر قانون سازی کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر رہے ہیں، قومی اسمبلی اور سینیٹ سے منظوری کے باوجود صدر مملکت نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کی منظوری نہ دی ،درخواست ایک شہری چوہدری محمد امتیاز کی جانب سے دائر کی گئی ہے۔ درخواست میں مزید کہا گیا کہ صدر مملکت کے یہ اقدامات کسی مخصوص پارٹی کی طرف جھکاؤ ظاہر کرتے ہیں ، ایسے طرز عمل کی بناء پر ڈاکٹر عارف علوی صدر کے عہدے کے اہل نہیں،آئین کے آرٹیکل 41 کے ڈاکٹر عارف علوی کو صدر کے عہدے سے ہٹایا جائے۔

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    عمران خان کی محبت بھری شاموں کا احوال، سب پھڑے جان گے، گالی بریگیڈ پریشان

    عمران خان پرلاٹھیوں کی برسات، حالت پتلی، لیک ویڈیو، خواجہ سرا کے ساتھ

    بشری بی بی کی آڈیونےدنیا بدل دی۔قہرٹوٹ پڑا ،عمران خان مایوس،دل ٹوٹ گیا

    درخواست میں مزید کہا گیا کہ صدر مملکت نے پارلیمان کی جانب سے بھجے گئے سپریم کورٹ پروسیجر بل کی منظوری نہ دی صدر مملکت نے نیب ترامیم بل اور اسلام آباد لوکل گورنمنٹ ایکٹ پر بھی دستخط کرنے سے انکار کیا ،صدر مملکت کا اپنی آئینی ذمہ داریوں سے انکار کرنا ظاہر کرتا ہے کہ وہ صدر کیلئے عہدے کیلئے اہل نہیں صدر ایک سیاسی جماعت سے منسلک اور جانبدار ہیں، صدر مملکت نے حکومت کی قانون سازی کو سیاسی جماعت کے چئیرمین کے کہنے پر منظور نہیں کیا،

  • آپ کا خط پی ٹی آئی کی پریس ریلیز دکھائی دیتا ہے،وزیر اعظم کا صدر مملکت کو جوابی خط ارسال

    آپ کا خط پی ٹی آئی کی پریس ریلیز دکھائی دیتا ہے،وزیر اعظم کا صدر مملکت کو جوابی خط ارسال

    اسلام آباد: وزیراعظم شہبازشریف نے صدر مملکت عارف علوی کو 5 صفحات اور 7 نکات پر مشتمل جوابی خط ارسال کر دیا جس میں انہوں نے کہا کہ آپ کا خط صدر کے آئینی منصب کا آئینہ دار نہیں اور آپ مسلسل یہی کر رہے ہیں۔

    باغی ٹی وی: پنجاب میں انتخابات کے التوا اور تحریک انصاف کے کارکنوں کی گرفتاریوں پر صدر ڈاکٹر عارف علوی نے 24 مارچ کو وزیراعظم شہبازشریف کو خط لکھا تھا جس میں صدرمملکت نے کہا تھا کہ پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوگی ہے، سیاستدانوں، سیاسی کارکنوں اور صحافیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہےالیکشن کمیشن نے پنجاب میں انتخابات اکتوبر تک ملتوی کرنے کا فیصلہ مختلف محکموں کے سربراہان کی بریفنگ کی بنیاد پر کیا اور ان سربراہان کو حکومت نے ہدایات دی تھیں۔


    صدر عارف علوی کا کہنا تھا کہ آئین کے تحت وزیراعظم تمام پالیسی امور پر صدر کو آگاہ رکھنے کے پابند ہیں لیکن حکومت کی جانب سے کوئی مشاورت نہیں کی جا رہی، وزیراعظم انتخابات کیلئے الیکشن کمیشن کی معاونت کی ہدایت کریں،الیکشن کا التوا توہین عدالت ہے ، حکام کو انسانی حقوق کی پامالی سے باز رہنے کی ہدایت کی جائے۔


    تاہم اب صدر عارف علوی کی جانب سے کو لکھےگئے خط کے جواب میں وزیراعظم شہباز شریف نے لکھا کہ کہنے پر مجبور ہوں کہ آپ کا خط پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی پریس ریلیز دکھائی دیتا ہے، آپ کا خط یک طرفہ اور حکومت مخالف خیالات کا حامل ہے جن کا آپ کھلم کھلا اظہار کرتے ہیں-

    وزیراعظم شہباز شریف نے لکھا ہےکہ آپ کا خط صدر کے آئینی منصب کا آئینہ دار نہیں، آپ مسلسل یہی کر رہے ہیں، 3 اپریل 2022 کو آپ نے قومی اسمبلی تحلیل کرکے سابق وزیراعظم کی غیر آئینی ہدایت پر عمل کیا، قومی اسمبلی کی تحلیل کے آپ کے حکم کو سپریم کورٹ نے 7 اپریل کو غیر آئینی قرار دیا۔

    وزیراعظم کا کہنا ہےکہ آرٹیکل 91 کلاز 5 کے تحت بطور وزیراعظم میرے حلف کے معاملے میں بھی آپ آئینی فرض نبھانے میں ناکام ہوئے،کئی مواقع پر آپ منتخب آئینی حکومت کے خلاف فعال انداز میں کام کرتے آرہے ہیں، میں نے آپ کے ساتھ اچھا ورکنگ ریلیشن شپ قائم کرنے کی پوری کوشش کی، اپنے خط میں آپ نے جو لب ولہجہ استعمال کیا اُس سے آپ کو جواب دینے پر مجبور ہوا ہوں۔

    وزیر اعظم شہباز شریف نے لکھا ہےکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا آپ کا حوالہ ایک جماعت کے سیاست دانوں اور کارکنوں کے حوالے سے ہے، آئین کے آرٹیکل 10اے اور 4 کے تحت آئین اور قانون کا مطلوبہ تحفظ ان تمام افراد کو دیا گیا ہے، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ریاستی عمل داری کے لیے قانون اور امن عامہ کے نفاذ کے مطلوبہ ضابطوں پر سختی سے عمل کیا ہے، تمام افراد نے قانون کے مطابق داد رسی کے مطلوبہ فورمز سے رجوع کیا ہے۔

    وزیر اعظم شہباز شریف نےکہا ہےکہ جماعتی وابستگی کے سبب آپ نے قانون نافذ کرنے و الے اداروں پر حملوں کو یکسر فراموش کردیا، آپ نے نجی وسرکاری املاک کی توڑپھوڑ، افراتفری پیدا کرنے کی کوششوں کو نظر انداز کردیا، پی ٹی آئی کی جانب سے ملک کو معاشی ڈیفالٹ کے کنارے لانے کی کوششوں کو آپ نے نظرانداز کردیا، پی ٹی آئی کی وجہ سے آئین، انسانی حقوق اور جمہوریت کے مستقبل سے متعلق پاکستان کی عالمی ساکھ خراب ہوئی، آپ نے بطور صدر ایک بار بھی عمران خان کی عدالتی حکم عدولی اور تعمیل کرانے والوں پر حملوں کی مذمت نہیں کی۔

    وزیراعظم نے لکھا کہ عدالت کے حکم کے خلاف کسی سیاسی جماعت کی طرف سے ایسی عسکریت پسندی پہلےکبھی نہیں دیکھی گئی، ہماری حکومت آئین کے آرٹیکل 19 کے مطابق آزادی اظہار پر مکمل یقین رکھتی ہے، آپ کی توجہ ہیومن رائٹس واچ کی سالانہ ورلڈ رپورٹ 2022 کی طرف دلاتا ہوں-

    وزیراعظم شہباز شریف نے خط میں لکھا کہ پی ٹی آئی اس وقت اقتدار میں تھی، اس رپورٹ میں لکھا ہے کہ حکومت پاکستان میڈیا کو کنٹرول کرنےکی کوششیں تیز کرچکی ہے، رپورٹ میں لکھا ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت اختلاف رائے کو کچل رہی ہے، رپورٹ میں صحافیوں، سول سوسائٹی اور سیاسی مخالفین کو ہراساں کرنے، قید وبند اور نشانہ بنانے کی تمام تفصیل درج ہے، پی ٹی آئی حکومت کے دور میں انسانی حقوق کا قومی کمیشن معطل رہا۔

    وزیراعظم نے خط میں کہا کہ قومی کمشن برائے انسانی حقوق کی رپورٹ پی ٹی آئی حکومت پر فرد جرم ہے۔ انسانی حقوق کے عالمی اداروں کی متعدد رپورٹس میں پی ٹی آئی حکومت کی خلاف ورزیوں کا ریکارڈ موجود ہے۔ رکن قومی اسمبلی رانا ثناء اللہ پر منشیات کا جھوٹا مقدمہ بنایا گیا جس کی سزا موت ہے، پی ٹی آئی حکومت نے مرد و خواتین ارکان پارلیمان کو قید وبند اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نشانہ بنایا گیا۔

    وزیراعظم نے کہا کہ ایک سابق وزیراعظم کے خاندان کی خاتون رُکن کو بھی معاف نہ کیا گیا اور سیاسی مخالفین کا صفایا کرنے کے لیے نیب کو استعمال کیا گیا لیکن افسوس بطور صدر پاکستان آپ نے ایک بار بھی اِن میں سے کسی بھی واقعے پر آواز بلند نہ کی۔ آپ بطور صدر انسانی حقوق، آئین اور قانون کی اِن خلاف ورزیوں پر اُس وقت کی حکومت سے پوچھ سکتے تھے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ صدر نے اپنے خط میں سابق حکومت کے وفاقی وزراء کے جارحانہ رویے اور انداز بیان پر اعتراض نہیں کیا جبکہ سابق حکومت کے وزراء مسلسل الیکشن کمشن کے اختیار اور ساکھ پر حملے کررہے ہیں آئین کےآرٹیکل 46 اور رولز آف بزنس کی شق15 پانچ بی کی صدر کی تشریح درست نہیں، صدر اور وزیراعظم کے درمیان مشاورت کی آپ کی بات درست نہیں کیونکہ آئین کے آرٹیکل 48 کلاز وَن کے تحت صدر کابینہ یا وزیراعظم کی ایڈوائس کے مطابق کام کرنے کا پابند ہے۔

    الیکشن کے حوالے سے وزیراعظم نے لکھا کہ پی ٹی آئی کی طرف سے آپ نے پنجاب اور خیبر پختونخوا اسمبلیوں کے انتخابات کی تاریخ دے دی، آپ کا یہ فیصلہ سپریم کورٹ نے یکم مارچ 2023 کے حکم سے مسترد کر دیا، آپ نے 2 صوبوں میں بدنیتی پر مبنی اسمبلیوں کی تحلیل پر کوئی تشویش تک ظاہرنہ کی، یہ سب آپ نے چیئرمین پی ٹی آئی کی انا اور تکبرکی تسکین کے لیےکیا۔

    وزیراعظم نے کہا کہ صوبائی اسمبلیاں کسی آئینی و قانونی مقصد کے لیے نہیں، صرف وفاقی حکومت کو بلیک میل کرنے کے لیے تحلیل کی گئیں اور آپ نے یہ بھی نہ سوچا کہ دو صوبائی اسمبلیوں کے پہلے الیکشن کروانے سے ملک نئے آئینی بحران میں گرفتار ہو جائے گا۔ آپ نے آرٹیکل 218 کلاز تین کے تحت شفاف، آزادانہ اور غیرجانبدارانہ انتخابات کے تقاضے کو بھی فراموش کر دیا، آئین کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کو آپ نے مکمل طور پر نظر انداز کر دیا جو نہایت افسوسناک ہے۔ کا یہ طرز عمل صدر کے آئینی کردار کے مطابق نہیں۔

    وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ صدر کو مطلع رکھنے کی حد تک اس کا اطلاق ہے، نہ زیادہ نہ اس سے کم اور وفاقی حکومت کے انتظامی اختیار کو استعمال کرنے میں وزیراعظم صدر کی مشاورت کا پابند نہیں۔ جناب صدر، میں اور وفاقی حکومت آئین کے تحت اپنی ذمہ داریوں سے پوری طرح آگاہ ہیں، آئین کی مکمل پاسداری، پاسبانی اور دفاع کے عہد پر کار بند ہیں، آئین میں درج ہر شہری کے بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ پر کاربند ہیں۔

    وزیراعظم نے خط میں کہا کہ حکومت پرعزم ہے کہ کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے اور ریاست پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانے کی اجازت نہ دی جائے۔ آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ آئینی طور پر منتخب حکومت کو کمزور کرنے کی ہر کوشش ناکام بنائیں گے۔

  • وقت کی ضرورت ہے تمام سیاستدان یکجا ہوں،عارف علوی

    وقت کی ضرورت ہے تمام سیاستدان یکجا ہوں،عارف علوی

    اسلام آباد: صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا ہے اللہ کا شکر پاکستان میں آج کا دن بڑی تباہی کے بغیر گزر گیا۔

    باغی ٹی وی: سوشل میڈیا پر جاری بیان میں عارف علوی کا کہنا تھا کوئی بھی بڑا حادثہ رونما ہو سکتا تھا لیکن اللہ کا شکر پاکستان میں آج کا دن بڑی تباہی کے بغیر گزر گیا۔

    آواران میں سیکیورٹی فورسز کے خفیہ آپریشن میں تین دہشتگرد ہلاک


    صدر عارف علوی کا کہنا تھا وقت کی ضرورت ہے تمام سیاستدان یک جا ہوں، سیاست دان انتخابات کا رخ اختیار کریں، یہ ہمارا وطن ہے اس کی خاطر امن اور سلامتی کو لبیک کہیں۔

    واضح رہے کہ عمران خان کی توشہ خانہ کیس میں جوڈیشل کمپلیکس اسلام آباد آمد کے موقع پر کمپلیکس کے باہر پی ٹی آئی مظاہرین اور پولیس کے مابین شدید ہنگامہ آرائی میں متعدد پولیس اہلکار زخمی ہوئے پی ٹی آئی مظاہرین کی پتھراؤ سے9 پولیس اہلکارزخمی ہوئے جنہیں فوری طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا جبکہ مشتعل مظاہریں نے 25 سے زائد موٹر سائیکل اور گاڑیاں نذر آتش کردیں۔

    گرفتاری کا خدشہ،ڈونلڈ ٹرمپ نے کارکنوں کو احتجاج کی کال دے دی

    علاوہ ازیں پولیس حکام کے مطابق پولیس کی بم ڈسپوزل اسکواڈ کی گاڑی کوبھی مظاہرین بنے توڑ پھوڑ کے بعد جلا دیا پولیس حکام کے مطابق مظاہرین کی جانب سے پولیس پر مبینہ طور پر پٹرول بموں سے حملہ کیا گیا۔

    پولیس کی جانب سے مظاہرین کو منتشر کرنے اور انہیں کمپلیکس سے دور رکھنے کے لیے بدترین لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا جس کے جواب میں مظاہرین نے بھی پولیس اہلکاروں پر ڈنڈوں سے حملے کیا-

    بلوچستان : آواران میں گاڑی سیلابی ریلے میں بہہ گئی،4 بچوں سمیت 8 افراد جاں

  • عارف علوی فارن فنڈنگ کیس کے جرم میں شریک ہیں،رانا ثناللہ

    عارف علوی فارن فنڈنگ کیس کے جرم میں شریک ہیں،رانا ثناللہ

    وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ عارف علوی فارن فنڈنگ کیس کے جرم میں شریک ہیں۔

    باغی ٹی وی: وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا کہ عارف علوی صدر پاکستان بنیں، عمران خان کے ترجمان نہ بنیں، وہ اپنے منصب کی عزت کا پاس رکھیں، پہلے بھی عمران خان نے صدر، سپیکر، ڈپٹی سپیکر اور گورنر سے کچھ ایسے اقدامات کرائے جس کو سپریم کورٹ نے آئین شکنی قرار دیا تھا۔

    انہوں نے کہا کہ صدر کے آئینی منصب کو پارٹی ترجمان کے عہدہ میں بدلنا افسوسناک ہے، صدر کا الیکشن کی تاریخ کے اعلان سے کوئی سروکارنہیں عارف علوی الیکشن کمیشن کےآئینی اختیار میں مداخلت کر رہےہیں عارف علوی فارن فنڈنگ کیس میں شریک جرم ہیں، عمران خان صدر کے منصب کے ذریعے الیکشن کمیشن کو دباؤ میں لانے کی کوشش کر رہا ہے۔

    جیل بھرو تحریک سے متعلق رانا ثنا اللہ کا کہنا تھاکہ جیل بھرو تحریک کی حکمت عملی بنالی ہے، یہ تحریک دو ہفتے سے زیادہ نہیں چلے گی۔

    پی آئی اے کے نئے سربراہ کی تلاش جاری، 65 امیدواروں کی درخواستیں موصول

    رانا ثنا اللہ کا کہنا تھاکہ دہشت گردی کیلئے کوئی سرحدیں نہیں ہیں، وزیراعظم کی ہدایت پر میں کراچی سمیت تمام جگہوں پر گیا، پچھلے چار ماہ سے خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی زیادہ ہوئی۔

    انہوں نے کہا کہ سی ٹی ڈی سندھ اور پنجاب، کے پی کے اور بلوچستان سے بہت بہتر ہے، سندھ حکومت نے سی ٹی ڈی بہتر بنانے میں بہت کام کیا ہے، دہشت گردی واقعات سندھ اور پنجاب میں کم ہوئے ہیں دہشت گردی کےخلاف رقم صرف پختونخوا کو دی جاتی ہے، کے پی کے میں کرائے کی بلڈنگ میں سی ٹی ڈی کے دفاتر ہیں۔

    دوسری جانب خواجہ آصف نے ایک ٹویٹ میں الیکشن سے متعلق قانون کی دستاویز شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ صدر مملکت انتخابات کے معاملےپرسیاست نہ کریں اوراپنی آئینی اوقات میں رہیں عارف علوی اپنی نہیں تواپنےعہدےکی عزت کا خیال کریں یاد رکھیں وہ اس عہدےپہ 2018 میں ہونے والی سلیکشن/واردات کے نتیجے میں صدر مملکت کے عہدے پر قابض ہوئے۔ خواجہ آصف نے مزید لکھا کہ ریفرنس اور وارننگ کیلئے سپریم کورٹ کا فیصلہ حاضر ہے۔

    باہمی اعتماد، عوام کی مرضی اور تمام اسٹیک ہولڈرز کے درمیان ہم آہنگی کی ضرورت ہے،آرمی چیف

  • واضح پیغام دے رہا ہوں ملک ڈیفالٹ نہیں کرے گا، صدر مملکت عارف علوی

    واضح پیغام دے رہا ہوں ملک ڈیفالٹ نہیں کرے گا، صدر مملکت عارف علوی

    اسلام آباد: صدر مملکت عارف علوی نے کہا کہ آئین کی پاسداری کرو ،آئین کے اندر سراغ مت تلاش کرو،سب ایک دوسرے پرالزامات اور پھر مقدمات بنانے پر لگے ہوئے ہیں،ہر کوئی الیکشن کی ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈال رہا ہے-

    باغی ٹی وی: صدر مملکت عارف علوی نے کہا ہے کہ ملک مشکلات میں ہے،ہم کشتی کو سنبھالا دینے میں نہ ماضی سے سیکھا نہ مستقبل کے اعتبار سے،ماضی کی غلطیوں سے سیکھ کر آگے بڑھا جاسکتا ہے،ملک ڈیفالٹ نہیں کرے گا،بدقسمتی سے ہم نے اپنی غلطیوں سے نہیں سیکھا،آئی ایم ایف کا پیکج لینے کیلئے حکومت نے بڑی محنت کی-

    عارف علوی نے کہا کہ واضح پیغام دے رہا ہوں ملک ڈیفالٹ نہیں کرے گا، مذاق بنا لیا کہ ملک میں کرپشن ہوئی ہے، کرپشن کی سب بات کرتے ہیں مگر کوئی کرپشن کرتے ہوئے پکڑا نہیں جاتا،کہا گیا کہ دشمنیاں چھوڑ کر اپنی کارکردگی پر فوکس کرو،ریکوڈک سے ایک روپیہ نہیں ملا مگر 7،8 ارب ڈالر کا جرمانہ کردیا گیا-

    عمران خان کی حکومت کے 2سال بعد کہا گیا کرپشن چھوڑو اپنی کارکردگی بتاو،عمران خان کی گرفتاری سے ملکی حالات خراب ہی ہوں گے،الیکشن کے ذریعے لوگ سمجھادیتے ہیں کہ یہ بات صحیح کر رہے یہ غلط،الیکشن کیلئے بھی حیلے بہانے تلاش کئے جا رہے ہیں-

    ڈاکٹر یاسمین راشد کا آڈیو ٹیپ کرنیوالوں کیخلاف عدالت جانے کا اعلان

    صدر مملکت عارف علوی نے کہا کہ آئین کی پاسداری کرو ،آئین کے اندر سراغ مت تلاش کرو،سب ایک دوسرے پرالزامات اور پھر مقدمات بنانے پر لگے ہوئے ہیں،ہر کوئی الیکشن کی ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈال رہا ہے-

    صدر مملکت عارف علوی نے کہا کہ اسحاق ڈار تو کہا کہ منی بجٹ کو ایوان میں پیش کریں،عمران خان کے دور میں معیشت کے حالات تھوڑے بہتر تھے،میری کوششیں مسلسل پس پردہ جاری رہتی ہیں،آج کل مذاکرات کی پس پردہ کوئی کوشش نہیں ہو رہی،جمہوریت میں اعتماد الیکشن سے ملتا ہے-

    انہوں نے کہا کہ یہ کہنا مضحکہ خیز ہےکہ الیکشن کے اخراجات برداشت نہیں کرسکتے،بہت سی باتیں وقت پر سمجھ نہیں آتیں،میری کوشش ہوتی ہےکہ بس معاملے کلیئر ہوں،جنرل باجوہ اور عمران خان کی ملاقات میری درخواست پر ہوئی تھی-

    ملک کو لڑائی کی نہیں مفاہمت کی ضرورت ہے، مریم نواز

  • انقلاب کی 44 ویں سالگرہ پرصدر پاکستان کی ایران کو مبارکباد

    انقلاب کی 44 ویں سالگرہ پرصدر پاکستان کی ایران کو مبارکباد

    صدر مملکت عارف علوی صدر مملکت نے ایران میں انقلاب کی 44 ویں سالگرہ پر ایران کو مبارکباد دی ہے-

    باغی ٹی وی: صدرمملکت نے ایران کے اسلامی انقلاب کے رہنما آیت اللہ سید علی خامنہ ای کو مبارکباد کا خط لکھا جس میں عارف علوی نے پاکستان کی حکومت اور عوام کی جانب سے مبارکباد کا پیغام بھیجا۔

    خواتین کے قومی دن پر وفاقی وزیرشیری رحمان کا پیغام

    خط میں صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان اورایران کے برادرانہ تعلقات،لسانی،تقافتی اورمذہبی بنیادوں پر استوار ہیں،پاکستان دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوں میں ان کی روابط کو مزید مضبوط بنانے کیلئے عزم ہے-

    صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے خط میں سید علی خامنہ ای اور ایران کے عوام کی خوشحالی اور فلاح کیلئے نیک تمناؤں کا بھی اظہار کیا-

    ایران میں 1979ء میں برپاشدہ انقلاب کی 44 ویں سالگرہ منائی جا رہی ہےرئیسی کی سخت گیرحکومت کواس وقت نوجوان مظاہرین کی جانب سے سب سے بڑا چیلنج درپیش ہے اور وہ ان کی برطرفی کا مطالبہ کررہے ہیں۔

    انہوں نے اس حوالے سے تقریرمیں ’’دھوکے بازنوجوانوں‘‘سے اپیل کی کہ وہ توبہ کریں تاکہ انھیں ایران کے سپریم لیڈر کی طرف سے معاف کیاجاسکے انہوں نے کہا کہ اگریہ نوجوان توبہ کرتے ہیں توانھیں ایرانی عوام کھلی بانہوں سے گلے لگائیں گے-

    اے این ایف کی منشیات کیخلاف مختلف شہروں میں کارروائیاں

    ہفتہ کے روزحکومت مخالف ہیکروں کی جانب سے ٹیلی ویژن پران کی براہِ راست تقریرقریباً ایک منٹ کے لیے انٹرنیٹ پرروک دی گئی۔اس دوران میں ایرانی حکومت مخالف ہیکروں کے ایک گروپ کی سکرین پرایک لوگو نمودار ہوا جس کا نام’’عدلِ علی‘‘(جسٹس آف علی) ہے۔ ایک آواز’’اسلامی جمہوریہ کی موت‘‘ کے نعرے لگا رہی تھی۔

    ایران میں گذشتہ سال ستمبر میں 22 سالہ مہساامینی کی پولیس کی تحویل میں ہلاکت کےبعد سےملک گیر مظاہرے جاری رہے ہیں سکیورٹی فورسز نے مظاہروں کے خلاف مہلک کریک ڈاؤن کیا ہے۔یہ احتجاجی تحریک 1979 کے انقلاب کے بعد سے اسلامی جمہوریہ کو درپیش سب سے بڑے چیلنجوں میں سے ایک ہے۔

    انقلاب کی سالگرہ کے موقع پرعام معافی کے ایک حصے کے طور پر، ایرانی حکام نے جمعہ کوجیل میں قید باغی فرہاد میسامی اور ایرانی نژادفرانسیسی ماہر تعلیم فریبہ عادل خواہ کو رہا کردیا تھا۔گذشتہ اتوارکوسپریم لیڈرعلی خامنہ ای نے حکومت مخالف مظاہروں میں گرفتار کیے گئے قیدیوں کی ایک بڑی تعداد کے لیے عام معافی کا اعلان کیا تھا۔

    ٹانک میں تھانہ گومل پر دہشتگردوں کا حملہ،بنوں میں سی ٹی ڈی نے کارروائی تین دہشتگرد…

    انسانی حقوق کی تنظیم ہرانا کا کہنا ہے کہ جمعہ تک سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں 528 مظاہرین ہلاک ہوچکے ہیں۔ان میں 71 نابالغ بھی شامل ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ 70 سرکاری سکیورٹی اہلکار بھی ہلاک ہوئے ہیں۔خیال کیا جاتا ہے کہ 19,763 مظاہرین کو گرفتار کیا گیا ہے۔

  • تین بیٹے فوج میں،قربانی کیلئے تیار ہیں ،شہید کے والد کی صدرمملکت سے گفتگو

    تین بیٹے فوج میں،قربانی کیلئے تیار ہیں ،شہید کے والد کی صدرمملکت سے گفتگو

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے مختلف واقعات میں شہید ہونے والے پاک فوج کے جوانوں کے ورثاء سے ٹیلی فونک اظہارِ تعزیت کی ہے

    صدر مملکت نے 31 دسمبر کو جانی خیل ، بنوں میں شہید ہونے والے سپاہی محمد وسیم کے والد سے فون پر اظہار افسوس کیا ہے ،شہید کے والد نے صدر مملکت سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تین بیٹے فوج میں ہیں اور قربانی کیلئے تیار ہیں ، صدر مملکت نے وطن کیلئے شہید کی قربانی اور والد کے جذبہ حب الوطنی کو سراہا ،صدر مملکت نے 29 دسمبر کو کُرم ایجنسی میں شہید ہونے والے صوبیدار شجاع محمد کے بھائی محمد اشرف سے بات کی ، شہید کے بھائی محمد اشرف نے عزم ظاہر کیا کہ ماں کو اپنے شہید بیٹے پر فخر ہے ، ہم بھی قربان ہونے کیلئے تیار ہیں ،

    صدر مملکت نے سپاہی عبدالرحمٰن کے بھائی گوہر یاسین سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا ، شہید کے بھائی نے صدر مملکت سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم سب پاکستان پر قربان ، دس بھائی بھی ہوتے تو شہادت کیلئے تیار ہوتے ، صدر مملکت نے نائیک محمد رمضان کے چچا سے ٹیلی فون پر گفتگو کی اور شہید کیلئے بلندی درجات کی دعا کی ،صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا تھا کہ مادرِ وطن کو دہشت گردی کی لعنت سے پاک کرنے کیلئے شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی، صدر مملکت نے شہداء کو خراج عقیدت ، ورثاء سے اظہار ہمدردی اور صبر جمیل کی دعا کی،

    سیکیورٹی خطرات کے خلاف ہم نے مکمل تیاری کر رکھی ہے، ترجمان پاک فوج

    الیکشن پر کسی کو کوئی شک ہے تو….ترجمان پاک فوج نے اہم مشورہ دے دیا

    فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹا جائے ، دعا ہے علی سد پارہ خیریت سے ہو،ترجمان پاک فوج

    طاقت کا استعمال صرف ریاست کی صوابدید ہے،آپریشن ردالفسار کے چار برس مکمل، ترجمان پاک فوج کی اہم بریفنگ

  • تمام ٹی وی پروگرام اور نیوز بلیٹن اشاروں کی زبان کےساتھ نشرکیےجائیں:ایکٹ منظور

    تمام ٹی وی پروگرام اور نیوز بلیٹن اشاروں کی زبان کےساتھ نشرکیےجائیں:ایکٹ منظور

    اسلام آباد: صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے میڈیا تک بہرے افراد کی رسائی کے ایکٹ 2022 ء کی منظوری دے دی، جس کے بعد نیوز بلیٹن اور ٹی وی پروگراموں کو اشاروں کی زبان کے ساتھ نشر کیا جائے گا۔

    الیکشن کمیشن اور وزارت قانون چار ماہ میں الیکشن پر رضامند

    ذرائع کے مطابق صدر مملکت کی منظوری کے بعد ایکٹ کا نفاذ فی الفور پورے پاکستان پر ہوگا اور 6 ماہ کے بعد کسی بھی سرکاری و نجی الیکٹرونک میڈیا، نجی ٹی وی چینل، کیبل ٹی وی یا کسی دُوسرے میڈیا پر پاکستان سائن لینگویج ترجمان کے بغیر نیوز بلیٹن کی اجازت نہیں ہوگی۔

    اساتذہ کا احتجاج زمان پارک کی سیکورٹی ہائی الرٹ،قیدی وین پہنچا دی گئی

    ایکٹ کے تحت ایک سال بعد کسی بھی سرکاری و نجی الیکٹرونک میڈیا، نجی ٹی وی چینل، کیبل ٹی وی یا کسی دُوسرے میڈیا پر سائن لینگویج ترجمان کے بغیر کسی بھی پروگرام، انٹرٹینمنٹ، اشتہار، ٹالک شو، ڈراما، فلم یا کسی بھی قسم کے تصویری پروگرام کو نشر نہیں کیا جاسکے گا۔

    سندھ کی جیلوں میں افغانی بچوں کی تصاویر، شرجیل میمن نے حقیقت بتا دی

    صدر مملکت کی منظوری کے بعد سرکاری اور نجی میڈیا ہاؤسز کو ایکٹ کے نفاذ کے 6 ماہ کے اندر ایکٹ پر عمل درآمد کیلئے سائن لینگویج ترجمان مقرر کرنا ہوں گے۔

  • قوم دہشتگردی  کے خاتمے کیلئے سیکورٹی فورسز کے ساتھ کھڑی ہے،صدر مملکت

    قوم دہشتگردی کے خاتمے کیلئے سیکورٹی فورسز کے ساتھ کھڑی ہے،صدر مملکت

    قوم دہشتگردی کے خاتمے کیلئے سیکورٹی فورسز کے ساتھ کھڑی ہے،صدر مملکت
    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے 20 دسمبر کو بنوں دہشت گرد حملے میں شہید ہونے والے اہلکاروں کے ورثاء سے ٹیلی فون پر اظہار افسوس کیا ہے، صدر مملکت نے سپاہی بابر ایوب اور لانس نائیک حلیم کے ورثاء سے ٹیلی فون پر بات کی ،صدر مملکت نے شہداء کو ان کی بہادری ، فرض شناسی اور قوم کیلئے قربانی پر خراج تحسین پیش کیا ، صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف لڑتے ہوئے جان کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائینگی ، قوم دہشت گردی کے مکمل خاتمے کیلئے اپنی سیکورٹی فورسز کے ساتھ کھڑی ہے دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنے تک اپنے مشن سے نہیں ہٹیں گے ،

    صدر مملکت نے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا، قوم کیلئے خدمات کو سراہا ،صدر مملکت نے شہداء کے لواحقین سے اظہار ہمدردی کیا، صبر جمیل کی دعا کی

    سیکیورٹی خطرات کے خلاف ہم نے مکمل تیاری کر رکھی ہے، ترجمان پاک فوج

    الیکشن پر کسی کو کوئی شک ہے تو….ترجمان پاک فوج نے اہم مشورہ دے دیا

    فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹا جائے ، دعا ہے علی سد پارہ خیریت سے ہو،ترجمان پاک فوج

    طاقت کا استعمال صرف ریاست کی صوابدید ہے،آپریشن ردالفسار کے چار برس مکمل، ترجمان پاک فوج کی اہم بریفنگ

    دوسری جانب صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے وفاقی محتسب برائے انسدادِ ہراسیت کے ان احکامات کو برقرار رکھا ہے کہ چار بہنوں کو ان کے مرحوم والد کی وراثت میں ملنے والی جائیداد میں ان کا حصہ دینے کے بعد جائیداد کو کھلی نیلامی،فروخت اور اس سے حاصل ہونے والی رقم تمام بہن بھائیوں میں تقسیم کی جائے گی۔

    صدر مملکت نے یہ احکامات انفورسمنٹ آف ویمنز پراپرٹی رائٹس ایکٹ 2019 کے تحت دیئے ہیں، چار بہنوں نے وفاقی محتسب برائے انسدادِ ہراسیت سے شکایت کی تھی کہ ان کے بھائیوں نے اپنے متوفی والد کی جائیداد میں اپنا وراثتی حق دینے سے انکار کردیا تھا اور درخواست کی تھی کہ ان کا متعلقہ حصہ انہیں دلایا جائے۔صدر مملکت نے وفاقی محتسب برائے انسدادِ ہراسیت بمقام ِ کار کے احکامات کو برقرار رکھا، صدر نے 4 بہنوں کو وراثتی جائیداد میں حصہ دینے کا حکم برقرار رکھتے ہوئے اپنے فیصلہ میں کہا کہ وراثتی جائیداد کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم تمام بہن بھائیوں میں حصے کے مطابق تقسیم کی جائے۔ چار بہنوں نے بھائیوں کی جانب سے وراثتی حق نہ دینے پر انسدادِ ہراسیت محتسب کو شکایت کی تھی۔صدر مملکت نے نشاندہی کی کہ متوفی کے قانونی ورثاء نے رضامندی کے ساتھ ایک بیان پر دستخط کیے، معاہدے کے تحت کمیشن کے ذریعے جائیدادکی جانچ کے بعد ہر حصہ دار کو شرعی حصہ دیا جانا تھا، صدر مملکت نے اپنے فیصلہ میں کہا کہ صرف ایک فریق کی خواہش پر اس طرح کے تصفیے کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا، بھائی نے محتسب کے سامنے اپنی رضامندی سے مشترکہ بیان پر دستخط کیے۔ تفصیلات کے مطابق سگی بہنوں شبانہ حنیف، نبیل الفت، ریحانہ ذوالفقار اور نائلہ نعیم (شکایت کنندگان) نے انسدادِ ہراسیت محتسب کو شکایت درج کرائی تھی، والد نے ورثے میں راولپنڈی میں تین منزلہ مکان چھوڑا تھا، خواتین کے چار بھائیوں نے جائیداد میں حصہ دینے سے انکار کیا تھا، ایک بھائی نے محتسب کے سامنے دعویٰ کیا کہ شکایت کنندگان اپنا حصہ وصول کرچکی اور بعد میں محتسب کو شکایت درج کرائی،فریقین نے محتسب کے سامنے اتفاق کیا کہ جائیداد متعلقہ حصوں کے مطابق تقسیم کی جائے، جائیداد قابل تقسیم نہ ہو تو فروخت سے حاصل ہونے والی رقم بہن بھائیوں میں تقسیم کر دی جائے۔ تصفیہ کے بعد بھائی تنویر سرفراز خان نے دعویٰ کیا کہ بہنیں پہلے ہی اپنا حصہ لے چکی اور یہ کہ تصفیہ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ محتسب نے بھائی کے دعوے کو مسترد کیا اور قواعد و ضوابط کے مطابق فروخت کیلئے ایک کمیشن مقرر کرنے کا حکم دیا۔ تنویر سرفراز خان نے فیصلے کے خلاف صدر مملکت کو درخواست دائر کی جسے صدر نے مذکورہ بنیادوں پر مسترد کردیا