Baaghi TV

Tag: عالمی دن

  • پاکستان سمیت دنیا بھر میں چائے کا عالمی دن منایا جا رہا ہے

    پاکستان سمیت دنیا بھر میں چائے کا عالمی دن منایا جا رہا ہے

    دنیا بھر میں چائے کا عالمی دن (International Tea Day) ہر سال 21 مئی کو منایا جاتا ہے ، اس دن کو منانے کا مقصد چائے کی عالمی تجارت کو فرو غ دینا، اس کی پیداوار میں پائیداری لانا اور لاکھوں کسانوں کی معاش میں بہتری کے لیے اقدامات کرنا ہے۔

    چائے کا عالمی دن منانے کا مقصد بھوک اور غربت سے لڑنے کیلئے پسماندہ ممالک میں فروغ پاتی ہوئی چائے کی صنعت کو فروغ دینے کے لیے اقوامِ عالم کی حوصلہ افزائی کرنا ہے جس کے تحت ہر سال مختلف تقاریب کے ذریعے عوام الناس میں شعور اجاگر کیاجاتا ہے۔

    گرمی ہو یا سردی چائے پاکستان سمیت دنیا بھر کا ایک مقبول ترین مشرو ب ہے دن بھر کی تھکان میں چائے کی چسکیاں سارے مسائل حل کردیتی ہیں پاکستان میں تو ویسے بھی چائے پیش کرنا ہماری ثقافت کا حصہ بن چکا ہے، مہمان آئیں یا بزرگوں کی سیاسی بیٹھک ہو، خوشی کا موقع ہو ہو یا دکھ کی گھڑی، چائے پیش کرنا ہماری تہذیبی روایات میں شامل ہو چکا ہےمہمانوں کے چائے بمعہ لوازمات پیش کرنا ضروری سمجھا جاتا ہے۔

    چائے کا استعمال عام طور پر صبح ناشتے میں کیا جاتاہے جبکہ کچھ افراد ایسے دن بھر کی تھکاوٹ سے چھٹکارا اور ذہن کو تروتازہ رکھنے کیلئے کرتے ہیں۔ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں چائے ایک مقبول ترین مشروب کا درجہ اختیار کر چکی ہے، روزانہ دو ارب لوگ اپنے دن کا آغاز چائے کی پیالی سے کرتے ہیں۔

    اس ہر دلعزیز مشروب کا آغاز ہزاروں سال قبل قدیم چین سے ہوا، جہاں اسے آغاز میں ایک جڑی بوٹی اور دوا کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ چائے کا پودا، جسے سائنسی زبان میں کیمیلیا سائنینسز کہا جاتا ہے، سرحدیں عبور کرتا ہوا پوری دنیا میں پھیل گیا۔

    اجناس کی تاریخ میں چائے کی تجارتی اور سیاسی اہمیت اتنی زیادہ رہی ہے کہ اس نے سلطنتوں کے عروج و زوال اور مختلف تہذیبوں کے سماجی رنگ ڈھنگ کو بدل کر رکھ دیا۔ آج سبز چائے کے روایتی اور پرسکون انداز سے لے کر، برصغیر کی کڑک، دودھ اور مصالحہ جات سے بھرپور ”مسالہ چائے“ تک، یہ مشروب دنیا کے ہر کونے میں اپنے الگ ذائقے، خوشبو اور پہچان کے ساتھ راج کر رہا ہے۔

    چینی روایات کے مطابق اس مشروب کی دریافت کا تعلق شین نونگ سے جوڑا جاتا ہے، جو زراعت اور جڑی بوٹیوں کے علم کے بانی مانے جاتے ہیں، تقریباً پانچ ہزار سال قبل شین نونگ ایک دن کھلے آسمان تلے گرم پانی پی رہے تھے اسی دوران قریبی درخت سے چائے کے چند پتے اڑ کر ان کے پیالے میں آ گرے۔ جب انہوں نے وہ پانی پیا تو اس کا ذائقہ، خوشبو اور جسم میں پیدا ہونے والی تازگی انہیں بہت پسند آئی۔ یوں اس روایت کے مطابق چائے کی پہلی پیالی کا تصور سامنے آیا شروع میں چائے کو موجودہ دور کی طرح ایک عام تفریحی مشروب کے طور پر استعمال نہیں کیا جاتا تھا، بلکہ یہ ایک قیمتی دوا سمجھی جاتی تھی۔

    قدیم چینی طبیبوں کا ماننا تھا کہ چائے کے پتوں کو ابال کر پینے سے جسمانی تھکن دور ہوتی ہے، نظر تیز ہوتی ہے اور ہاضمے کا نظام بہتر ہوتا ہے۔ صدیوں تک چینی لوگ اسے صرف مختلف بیماریوں کے علاج اور ذہنی توانائی اور چستی بڑھانے کے لیے ایک ٹانک کے طور پر استعمال کرتے رہے۔ بعد میں ہان خاندان کے دور میں یہ شاہی درباروں سے نکل کر عام لوگوں کے روزمرہ کے پینے کا مشروب بنی۔

    چینی تاجروں کے ذریعے چائے کا یہ سفر آگے بڑھا اور یہ یورپ تک پہنچ گئی۔ 17ویں صدی تک پہنچتے پہنچتے انگریز اس مشروب کے دیوانے ہو چکے تھے لیکن یہاں ایک بڑا مسئلہ تھا چائے کی پوری عالمی تجارت پر چین کی اجارہ داری تھی اور برطانوی سلطنت اس اجارہ داری کو توڑنا چاہتی تھی یہی وہ ضرورت تھی جو چائے کو بڑے پیمانے پر ہندوستان میں لے کر آئی۔

    برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی نے شروع میں چین سے چائے کے بیج لا کر ہندوستان میں کاشت کرنے کی کوشش کی، لیکن اصل کامیابی اس وقت ملی جب آسام کے جنگلوں میں چائے کے پودے پائے گئے اس دریافت کے بعد آسام، دارجیلنگ اور نیلگیری جیسے علاقوں میں چائے کے وسیع باغات پھیل گئے حیرت کی بات یہ ہے کہ شروع میں یہ تمام چائے صرف باہر کے ملکوں میں برآمد کرنے کے لیے اگائی جاتی تھی اور مقامی لوگ خود چائے پینے کے عادی نہیں تھے، یہ تو 20ویں صدی میں چائے کی تشہیر کے لیے چلائی جانے والی بڑی مہمات کا نتیجہ تھا کہ چائے برصغیر کے ہر گھر کی بنیادی ضرورت بن گئی۔

    جب چائے مقامی لوگوں کے ہاتھ لگی، تو انہوں نے اس کی پوری شخصیت ہی بدل دی۔ جہاں چینی لوگ چائے کو بالکل سادہ پینا پسند کرتے تھے، وہیں یہاں کے لوگوں نے اس میں دودھ، چینی، ادرک، الائچی اور مختلف مصالحہ جات شامل کر دیے۔ اس ملاپ سے ”مسالہ چائے“ نے جنم لیا، جو ذائقے میں زیادہ بھرپور، کڑک اور خوشبودار تھی۔

    چینی چائے ہلکی، دھیمی اور پھولوں یا مٹی کی خوشبو جیسی ہوتی ہے، جسے بہت سکون اور گہرائی سے محسوس کیا جاتا ہے اس کے برعکس برصغیر کی چائے کڑک، تیز اور بھرپور ہوتی ہے، جو انسان کو فوری طور پر بیدار کرنے والی کیفیت رکھتی تھی حتیٰ کہ ان کو پینے کے انداز میں بھی واضح فرق ہے چین میں چائے نوشی کا مطلب خاموشی، تامل اور فکری سوچ ہوتا ہے جبکہ دوسری طرف چائے کا مطلب گفتگو، رونق اور چائے کے ساتھ کھانے کے مختلف لوازمات ہیں یہاں چائے خاندانی باتوں، دفتری وقفوں، ٹرین کے سفر اور رات دیر تک ہونے والی محفلوں کا بہانہ بنتی ہے۔

  • منشیات  کی غیر قانونی ترسیل ایک عالمی چیلنج ہے، آصف زرداری

    منشیات کی غیر قانونی ترسیل ایک عالمی چیلنج ہے، آصف زرداری

    صدر مملکت آصف علی زرداری نےمنشیات کے غلط استعمال اور غیر قانونی اسمگلنگ کے خلاف عالمی دن کے موقع پر پیغام جاری کیاہے-

    صدر مملکت نے منشیات کے غلط استعمال اور غیر قانونی اسمگلنگ کے خلاف عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ منشیات اور نشہ آور اشیاء نوجوان نسل کے مستقبل کو داؤ پر لگا دیتی ہیں معاشرے سے منشیات کے خاتمے کیلئے کوششوں کے عزم کا اعادہ کرتے ہیں، منشیات کی ترسیل کے نیٹ ورکس کو توڑنا و قت کی اہم ضرورت ہے۔

    انہوں نے کہا کہ منشیات کے خاتمے کیلئے مربوط حکمت عملی اختیار کرنا ضروری ہے، منشیات کا غلط استعمال اور اس کی غیر قانونی ترسیل ایک عالمی چیلنج ہے، انسداد منشیات کیلئے مسلسل اور مشترکہ بین الاقوامی تعاون کی ضرورت ہےحکومتِ پاکستان منشیات کے خاتمے کے لیے پُرعزم ہے، وزارت داخلہ اور انسدادِ منشیات فورس نمایاں کردار ادا کر رہی ہے، ایک صحت مند و محفوظ پاکستان کی تعمیر میں ہم سب کو کردار ادا کرنا ہوگا۔

    اوچ شریف: سفیرانِ امن قافلہ کا دورہ، محرم الحرام میں امن و بھائی چارے کے عزم کا اظہار

    برطانیہ کو 9 بڑے سیکورٹی خطرات لاحق،برطانوی وزیراعظم

    امریکی ایئرلائن کا مسافر طیارہ بڑے حادثے سے بال بال بچ گیا

  • صدر مملکت اور وزیراعظم کا  اسکاؤٹس کے عالمی دن کے موقع پر پیغام

    صدر مملکت اور وزیراعظم کا اسکاؤٹس کے عالمی دن کے موقع پر پیغام

    اسلام آباد: صدر مملکت آصف زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے اسکاؤٹس کے عالمی دن کے موقع پر پیغام جاری کیا ہے-

    باغی ٹی وی : صدر آصف زرداری نے کہا کہ اپنے نوجوانوں کی کردار سازی میں اسکاؤٹس کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں، اسکاؤٹنگ نوجوانوں میں نظم و ضبط اور استقامت پیدا کرتی ہے،اسکاؤٹنگ نوجوانوں کو معاشرے کی خدمت کرنے کی ترغیب دلاتی ہے۔

    صدر مملکت نےکہا کہ خدمت اسکاؤٹنگ کی روح ہے، اسکاؤٹس کو چاہیے کہ تبدیلی لانے کیلئے ہراول دستہ بنیں، اسکاؤٹس کو بحرانوں اور روزمرہ کی زندگی میں خدمت کیلئے ہمیشہ تیار رہنا چاہیے اسکاؤٹس شجرکاری، خواندگی، اور سماجی بہبود کے اقدامات کی قیادت کریں اور ایک سرسبز، ہمہ گیر اور ترقی پسند پاکستان بنانے میں مدد کریں،انہوں نے کہا کہ آج اٹھایا گیا ہر چھوٹا قدم ایک بہتر کل کی بنیاد ہے،چیف اسکاؤٹ کی حیثیت سے مجھے اپنے نوجوانوں کی صلاحیتوں پر اعتماد ہے، نوجوان قوم کا مستقبل ہیں، وہ مضبوط اور خوشحال پاکستان کی راہ ہموار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

    قائمقام چیف جسٹس تعیناتی اور ججز سنیارٹی کیس،دوبارہ درخواستیں دائر

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے یوم عالمی اسکاؤٹس کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ تربیت یافتہ اسکاؤٹس کاامن اور بحرانوں میں کردار اہمیت کا حامل ہے، پاکستان میں اسکاؤٹ تحریک سے نوجوانوں کو اسکاؤٹنگ کی اقدار کواپنانے اور قومی خدمت کے لئے خود کو وقف کرنے کی ترغیب ملے گی۔

    وزیراعظم نے کہاکہ اسکاؤٹس کے اس عالمی دن پر میں پاکستان اور دنیا بھر کے اسکاؤٹس کو دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں کیونکہ آج کا دن ہم قیادت اور خدمت کے جذبے سےمنا رہے ہیں جو پوری تحریک کی بنیاد ہے ہر سال 22 فروری کو دنیا بھر میں اسکاؤٹس، اسکاؤٹنگ کی تحریک کے بانی لارڈ رابرٹ سٹیفنسن سمتھ بیڈن پاول کی خدمات کو یاد کرتے ہیں، وژن 2030 اور ورلڈ اسکاؤٹ بیورو کے ایشیا پیسیفک ریجن کے ساتھ تعاون سے ایسوسی ایشن بین الاقوامی شراکت کو مضبوط بنانے، پاکستان کے لئے عالمی سطح پر بہترین اقدامات اور پاکستان کی عالمی سکاؤٹنگ کیلئے خدمات کو اجاگرکیا جائے گا۔

    واجب الادا ٹیکس کی ایک ایک پائی عوام کی امانت ہے،شہباز شریف

  • ذیابیطس کے تقریباً 80 سے 90 لاکھ افراد کی تشخیص نہیں ہو پاتی، وزیراعظم

    ذیابیطس کے تقریباً 80 سے 90 لاکھ افراد کی تشخیص نہیں ہو پاتی، وزیراعظم

    وزیر اعظم محمد شہباز شریف نےذیابیطس کے عالمی دن کے موقع پر پیغام جاری کیا ہے

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ذیابیطس کے عالمی دن کو منانے کا مقصد ذیابیطس اور اس کی روک تھام بارے میں آگاہی کو اجاگر کرنا ہے۔ آج، پاکستان انٹرنیشنل ذیابیطس فیڈریشن اور ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے ساتھ مل کر ذیابیطس کے شکار لاکھوں لوگوں کی زندگی بہتر بنانے کے لیے کام کر رہا ہے۔ 2024 سے لے کر 2026 تک کے دورانیے میں ذیابیطس کے عالمی دن کا موضوع "ذیابیطس اور فلاح و بہبود” ہے جس میں ذیابیطس کے مریضوں کی دیکھ بھال اور ان کی مدد تک رسائی پر توجہ دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ دنیا میں سائنسی میدان میں بے شمار ترقی کے باوجود ہر دسواں شخص ذیابیطس کا شکار ہے۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ ذیابیطس کے 50 فیصد مریض اب بھی غیر تشخیص شدہ ہیں۔ اس سے ذیابیطس کے مریضوں میں دل کی بیماری، گردے کی خرابی، اعصابی عوارض، فالج اور اندھے پن جیسی پیچیدگیوں کی شرح بڑھ جاتی ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان کو بھی ذیابیطس کے چیلنج کا سامنا ہے اور ہمارے تقریباً 33 ملین شہری ذیابیطس کا بوجھ برداشت کر رہے ہیں۔ اس خطرناک شرح کی وجہ سے پاکستان سب سے زیادہ ذیابیطس کے مریضوں کی آبادی رکھنے والے ممالک کی فہرست میں شامل ہے۔ پاکستان میں مزید 11 ملین بالغ افراد میں اس مرض کی ابتدائی علامات دیکھنے میں آئی ہیں۔ ذیابیطس کے تقریباً 80 سے 90 لاکھ افراد کی تشخیص نہیں ہو پاتی، جس کی وجہ سے بروقت علاج میں تاخیر ہو جاتی ہے۔ پاکستان میں ذیابیطس کے خطرے کے بڑے عوامل میں جینیاتی تغیرات، خوراک اور غیر فعال طرز زندگی کے علاوہ ماحولیاتی اور جغرافیائی وجوہات شامل ہیں۔

    وزیراعظم شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ حکومت پاکستان ذیابیطس کے مریضوں میں اس بڑھتے ہوئے اضافے پر قابو پانے اور ذیابیطس کے مریضوں کی فلاح و بہبود کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔ حکومت نے غیر متعدی بیماریوں سے نمٹنے کے لیے صحت کے شعبے میں اہم اصلاحات شروع کی ہیں، جن میں ذیابیطس کو اہم ترجیح دی گئی ہے۔ حکومتی سطح پر ذیابیطس کی روک تھام اور کنٹرول کے لیے مختلف پروگرام تیار کیے جا رہے ہیں۔ وفاق میں ہم وزارت صحت کے تعاون سے ذیابیطس کی روک تھام اور کنٹرول کے لیے وزیر اعظم کا پروگرام (Prime Minister’s Program for Prevention and Control of Diabetes Mellitus) شروع کریں گے۔ اس پروگرام کا مقصد وفاقی علاقوں میں اس بیماری پر قابو پانا اور تمام صوبوں میں ذیابطیس کے مریضوں کے لیے یونیورسل ہیلتھ کوریج، تشخیص اور علاج فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ آگاہی اور طرز زندگی بہتر بنانا ہے۔ حکومت پاکستان سب کو صحت کی سہولیات کی فراہمی کے لیے پرعزم ہے۔ ایک خوشحال مستقبل کے لیے، معیشت کا انحصار شہریوں سے بیماریوں کے بوجھ کو کم کرنے پر ہے۔صحت مند پاکستان ذیابیطس جیسی بیماریوں کے خاتمے کے لیے مل کر کام کرنے سے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔

    غیر رجسٹرڈ اور غیر قانونی وی پی اینز کی رجسٹریشن کیلئے ایک محفوظ عمل متعارف

    سوشل میڈیا،فحش مواد دیکھنے کیلئے پاکستانی وی پی این استعمال کرنے لگے

    پاکستان میں سوشل میڈیا پر فحش مواد دیکھنےکا رجحان بڑھنے لگا

    گن پوائنٹ پر خواجہ سرا ڈولفن ایان سے برہنہ رقص کروا کر ویڈیو کر دی گئی وائرل

    اکرم چوہدری کی مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش ،ہم نے چینل ہی چھوڑ دیا،ایگریکٹو پروڈیوسر بلال قطب

  • پاکستان میں ایڈز کے بڑھتے مریض، ماہرین تشویش میں مبتلا

    پاکستان میں ایڈز کے بڑھتے مریض، ماہرین تشویش میں مبتلا

    پاکستان سمیت دنیا بھر میں ایڈز سے بچاؤ کا آج عالمی دن منایا جا رہا ہے،

    ایڈز کو انسانی تاریخ کا مہلک ترین مرض کہا جاتا ہے، اس لیے یہ دن منانے کا مقصد ایڈز سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر کے بارے میں آگاہی اور لوگوں کو معلومات فراہم کرنا ہے،ایڈز ایک ایسی بیماری ہے جو انسانی امیونو وائرس کی وجہ سے ہوتی ہے جس کو اینٹی ریٹرو وائرل تھراپی سے کنٹرول کیا جا سکتا ہے لیکن اس کا کوئی باقاعدہ علاج نہیں ہے۔ ایڈز سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنی ضروری ہیں۔

    پاکستان میں ایڈز کے مریضوں میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، رواں برس اب تک ایڈز کے 9 ہزار 284 نئے مریض سامنے آ چکے ہیں ،وفاقی وزارت صحت کے مطابق پاکستان میں ہر ماہ ایچ آئی وی کے تقریباً 900 سے ایک ہزار کے درمیان نئے مریض سامنے آ رہے ہیںَ، ایچ آئی وی کے سب سے زیادہ کیسز پنجاب اور سندھ سے سامنے آرہے ہیں،اسلام آباد اور گردونواح بشمول کشمیر سے بھی ہر ماہ تقریباً 40 سے 50 نئے کیسز سامنے آرہے ہیں،

    دوسری جانب پاکستان کے صوبہ سندھ میں ایڈز کے رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد 23 ہزار تین سو سے بڑھ چکی ہیں، ایڈز کے مریضوں میں خواتین، بچے،مرد، خواجہ سرا بھی شامل ہیں،سندھ میں ایڈز پر قابو پانے کے لئے بیس سے زائد سنٹر بنائے گئے ہیں،ایڈز کے رجسٹر مریضوں میں 13 ہزار سے زائد مرد، 3 ہزار 764 خواتین،1 ہزار 453 بچے،918 بچیاں اور 710 خواجہ سرا شامل ہیں،حکومت سندھ ایڈز کے مریضوں کا مفت علاج کر رہی ہے،

    پاکستان میں ایڈز کے بڑھتے ہوئے مریضوں کو لے کر ماہرین اور حکومتی ادارے انتہائی تشویش میں مبتلا ہیں،ایڈز کی روک تھام کے لئے پاکستان میں ایک ایسا ماحول پیدا کرنا ہوگا جہاں ایچ آئی وی کے شکار افراد کو اپنی بیماری پر لب کشائی کرنے پر انہیں کسی قسم کی پریشانی یا دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے، ایڈز کے بڑھتے ہوئے مریضوں کی وجہ سے لوگوں میں شعور اجاگر کرنے کے لئے معاشرے کے ہر شخص کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا اس کے علاوہ جو غیر سرکاری تنظیمیں ایڈز کے حوالے سے کام کررہی ہے وہ ان مریضوں کا بھی کھوج لگائے جن کی سکریننگ ہوئی اور ان میں ایچ آئی وی پایا گیا تاکہ ا نہیں علاج کے لئے رجسٹرڈ کرکے نیٹ ورک میں لایا جائے،ایڈز کا علاج بہت مہنگا اور ادویات بھی ناپید رہتی ہے تاہم حکومت اپنے دستیاب وسائل کے توسط سے اقدامات اٹھارہی ہے اور گلوبل فنڈز سے ملنے والے فنڈز اور ادویا ت کے ذریعے لوگوں کو علاج کی سہولت دے رہے ہیں،

    ایڈز کے خلاف پروگرامز کی فنڈنگ کے لیے سالانہ 8 ارب ڈالر سے زیادہ کی ضرورت
    دوسری جانب اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کا کہنا ہے کہ گزشتہ دس سال میں ایڈز سے اموات میں بڑی کمی آ چکی ہے تاہم اب بھی ایڈز سے ہر ایک منٹ میں ایک موت ہوتی ہے،ہ 2004 میں اپنے عروج کے بعد سے ایڈز سے متعلق اموات میں تقریباً 70 فی صد کمی آئی ، ایچ آئی وی کے نئے انفیکشن 1980 کی دہائی کے بعد سب سے کم ترین سطح پر ہیں تاہم ایڈز اب بھی ہر منٹ میں ایک جان لیتا ہے، ہم 2030 تک صحت عامہ کو لاحق اس خطرے کو ختم کر سکتے ہیں اور یہ ضروری بھی ہے تاہم ایڈز کے خاتمے کا راستہ کمیونٹیز سے ہو کر گزرتا ہے، یعنی سماج میں بالکل نچلی سطح پر اس کے حوالے سے سرگرمیاں انجام دینے کی ضرورت ہے،ایڈز کے خلاف پروگرامز کی فنڈنگ کے لیے سالانہ 8 ارب ڈالر سے زیادہ کی ضرورت ہے، ایڈز قابل شکست ہے

    ایڈز دنیا کے مہلک امراض میں سے ایک خطرناک مرض ہے،راجہ پرویز اشرف
    اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے ایڈز کے عالمی دن پر پیغام میں کہا ہے کہ ایڈز کے خاتمے کے عالمی دن کو منانے کا مقصد ایڈز کے خاتمے کو کمیونٹیز میں اجاگر کرنا ہے۔ایڈز دنیا کے مہلک امراض میں سے ایک خطرناک مرض ہے۔پاکستان میں ایڈز سے 2لاکھ انسان متاثر ہو چکے ہیں۔ ایڈزکے مہلک مرض سے دنیا بھرمیں کم از کم ڈھائی کروڑ افرادہلاک ہوچکے ہیں۔ اس بیماری سے نہ صرف بچا جا سکتا ہے بلکہ اس کا علاج بھی ممکن ہے۔پاکستان کو ایچ آئی وی سے پاک کر کے ہم اپنی نسلوں کےمستقبل کو تابناک بنا سکتے ہیں۔ایچ آئی وی کی روک تھام، تشخیص اور علاج تک رسائی یقینی بنانا ہماری قومی ذمہ داری ہے۔

    خیبر پختونخوا میں ایچ ائی وی ایڈز بے قابو

    ایڈز کے خواجہ سرا مریض، ہسپتال کو فوری علاج کا حکم

    جیلوں میں 140 نوزائیدہ بچے بھی ماؤں کے ہمراہ قید، جیلوں میں ایڈز کے مریض کتنے؟

     پنجاب میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد کے حوالے سے رپورٹ پنجاب اسمبلی میں جمع 

    نوجوان مرد ہم جنس پرست ایڈز کے مریض بننے لگے،اسلام آباد میں شرح بڑھ گئی

    پنجاب میں ایڈز کے مریض بڑھنے لگے،سیکس ورکرز کے کئے گئے ٹیسٹ

    لاڑکانہ میں 11 سو سے زائد بچے ایڈز کا شکار، نیو یارک ٹائمز نے بھٹو کے شہر پر تہلکہ خیز رپورٹ شائع کر دی

    چنیوٹ :ایڈز بےقابو ہونے لگا، 2 ماہ میں 40 نئے کیسزرپورٹ

    ایچ آئی وی ایڈز کے مریضوں کو ہر جگہ امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے

  • نوجوانوں کی ترقی وخوشحالی پاکستان کی ترقی کی ضامن ہے،وزیراعظم

    نوجوانوں کی ترقی وخوشحالی پاکستان کی ترقی کی ضامن ہے،وزیراعظم

    پاکستان سمیت دنیا بھر میں نوجوانوں کاعالمی دن آج منایا جا رہا ہے،جس کا مقصد نوجوانوں کو دورحاضر کے چیلنجز اور مشکلات کے بارے میں شعور و آگاہی فراہم کرنا ہے ۔

    نوجوانوں کے عالمی دن کے موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی 60 فیصد سے زائد آبادی جو نوجوانوں پر مشتمل ہے کو عالمی یومِ نوجوانان بہت بہت مبارک ہو.

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان کو جہاں رب کریم نے بے شمار قدرتی وسائل سے نوازا ہے وہیں ہماری نوجوان افرای قوت ہماری سب سے بڑی طاقت ہے. بد قسمتی سے ماضی میں نوجوانوں کی ترقی کی طرف کوئی خاص توجہ نہ دی گئی مگر اللہ کے فضل و کرم سے جب جب عوام نے مجھے اپنے اعتماد سے اپنی خدمت کی ذمہ داری سونپی، میں نے اپنی تمام تر توانائیاں اس کوشش میں صرف کیں،گزشتہ 15 ماہ میں ہی میں نے نوجوانوں کیلئے بین الاقوامی معیار کی تعلیمی سہولیات، عالمی تقاضوں سے ہم آہنگ پیشہ ورانہ تربیت، لاتعداد وظائف، اینڈاؤمنٹ فنڈز، کھیلوں کی سہولیات، لیپ ٹاپس اور آسان قرض فراہم کئے. نوجوان ہمارا مستقبل ہیں، یہ ہمارے ملک کے معمار ہیں. نوجوانوں کی ترقی و خوشحالی پاکستان کی ترقی کی ضامن ہے.

    مفتی عزیز الرحمان کا اعتراف جرم، کہا بہت شرمندہ ہوں

    مفتی عزیزالرحمان ویڈیو سیکنڈل کی حمایت کرنیوالا مفتی اسماعیل بھی گرفتار

    مفتی عزیز الرحمان کو دگنی سزا ملنی چاہئے، پاکستان کے معروف عالم دین کا مطالبہ

    مفتی عزیزالرحمان ویڈیو سیکنڈل، پولیس نے مانگا مفتی کا مزید”جسمانی” ریمانڈ

    مدرسہ ویڈیو سیکنڈل ،مفتی عزیز الرحمان کی عدالت پیشی، عدالت کا بڑا حکم

    مدرسہ ویڈیو سیکنڈل،مفتی عزیز الرحمان کے بیٹوں کی درخواست ضمانت پر ہوئی سماعت

  • پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج ماؤں کا عالمی دن

    پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج ماؤں کا عالمی دن

    پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج ماؤں کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔

    باغی ٹی وی: ویسے تو ماں کے لیے سال کا ہر دن ہی ہوتا ہے لیکن دنیا بھر میں ماؤں کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے ہر سال دنیا بھر میں مئی کے دوسرے ہفتے میں اتوار کے روز ماؤں کا عالمی دن (Mother’s Day) منایا جاتا ہےآج کا دن ماؤں کا اپنے بچوں کیلئے قربانیاں اور محبت پر سراہنے کا دن ہے۔

    ماں کی عظمت سے کوئی بھی انسان، مذہب، قوم اور فرقہ انکار نہیں کرسکتا، اس عظیم ہستی کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیےگوگل کا ڈوڈل بھی بدل گیا ہےاس دن کو منانے کا مقصد ماں کے مقدس رشتے کی عظمت و اہمیت کو اجاگر کرنا اور ماں کیلئے عقیدت، شکر گزاری اور محبت کے جذبات کو فروغ دینا ہے۔

    سب سے پہلے مدرز ڈے 1908ء میں اینا جاروس نے اپنی ماں کی یاد میں گریفٹن، ویسٹ ورجینیا کے اینڈریو میتھڈسٹ چرچ میں منایا، جہاں آج انٹرنیشنل مدرز ڈے کی علامت کے طور پر ایک مزار موجود ہے، اینا جاروس نے امریکا میں مدرز ڈے منانے کی کمپیئن 1905ء میں ہی شروع کردی تھی، اسی سال ان کی ماں اینا ریوس کاانتقال ہوا تھا، اینا جاروس امن کی علمبردا ر ایک ایکٹیوسٹ تھیں جو امریکن سول وار کے دوران زخمی فوجیوں کی تیمار داری اور مرہم پٹی کرتی تھیں۔

    انہوں نے مدرز ڈے ورک کلب بھی قائم کیا تاکہ لوگوں تک صحت عامہ کے مسائل کی آگاہی پہنچا سکیں، اینا جاروس کا مقصد اپنی ماں کو عزت واحترام دلوانا اور کم از کم ایک دن ماؤں کے نام کروانا تھا جو اپنی ساری زندگی بچوں کی پرورش اور انہیں عمدہ شہری بنانے میں تیاگ دیتی ہیں، اینا کا یقین تھا کہ ماں ہی وہ ہستی ہے جو آپ کے لیے اس دنیا میں آپ سے زیادہ کوششیں کرتی ہے۔

    ہر سال ماؤں کاعالمی دن منانے کے لیے مختلف ممالک میں ایک ہی دن مختص نہیں ہے، پاکستان اور اٹلی سمیت مختلف ملکوں میں یہ دن مئی کے دوسرے کو اتوار منایا جاتا ہے جبکہ کئی دیگر ممالک میں یہ دن جنوری، مارچ، اکتوبر یا نومبر میں منا کر ماؤں کو خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے،

  • آج دنیا بھر میں کینسر سے آگاہی کا عالمی دن منایا جا رہا ہے

    آج دنیا بھر میں کینسر سے آگاہی کا عالمی دن منایا جا رہا ہے

    پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج کینسر سے آگاہی کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔

    باغی ٹی وی: پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن (پیما) کی جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق پیما کے زیر اہتمام ملک بھر میں کینسر سے آگاہی کے پروگرامات کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔

    کمرہ امتحان میں 500 لڑکیاں اکیلا لڑکا غش کھا کر گر پڑا

    کینسر کا علاج کرنے والے ملک کے نامور طبی ماہرین پیما کے ویبینار میں شریک ہوں گے جو رات ۹ بجے فیس بک پر براہ راست دکھایا جائے گا۔

    مرکزی صدر پیما ڈاکٹر عبدالعزیز میمن، ڈاکٹر محمد قاسم، ڈاکٹر افتخار برنی اور ڈاکٹر عبدالرشید وہاب کا کہنا ہے کہ کینسر قابل علاج مرض ہے بروقت تشخیص اور مکمل علاج سے کینسر جیسے موذی مرض سے چھٹکارا پایا جا سکتا ہے۔

    انسانی شریانوں میں پلاسٹک کے ننھے ذرات دریافت

    طبی ماہرین نے زور دیا کہ صحت مند غذا اور فعال طرز زندگی کے ذریعے کینسر کے امکانات کو کم کیا جا سکتا ہے۔

    پیما کے مطابق گزشتہ سال پاکستان میں کینسر کے 178,000 نئے کیس رجسٹرڈ ہوئے اور اندازاً ایک لاکھ سے زائد افراد کینسر کے باعث وفات پا گئے

  • آج دنیا بھر میں ٹریفک حادثات سے متاثرہ افراد کی یادکا عالمی دن

    آج دنیا بھر میں ٹریفک حادثات سے متاثرہ افراد کی یادکا عالمی دن

    لاہور:آج دنیا بھر میں ٹریفک حادثات سے متاثرہ افراد کی یادکا دن عالمی طور پر منایا جارہا ہے،تفصیلات کے مطابق اس دن کا مقصد ٹریفک حادثات کی وجوہات اور غلطیوں سے سبق سیکھنا ہے جس کے لئے روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں شہریوں کو ٹریفک قوانین سے آگاہی دی جارہی ہے‘

    تفصیلات کے مطابق آج دنیا بھر میں ٹریفک حادثات سے جاں بحق اور زخمی افراد کی یاد کا عالمی دن منایا جارہا ہے اس دن کو منانے کے لئےآج لاہور ٹریفک پولیس بھی تقریباًت کا انعقاد کر رہی ہے۔

    اس دن کا مقصد نہ صرف ٹریفک حادثات میں جاں بحق افراد کے لواحقین سے اظہارِ تعزیت کرنا ہے بلکہ اس دن کا مقصد ٹریفک حادثات کی وجوہات اور غلطیوں سے سبق سیکھنا بھی ہے۔

    حادثات ٹریفک قوانین کی پاسداری نہ کرنے کا نتیجہ ہیں۔حادثات قسمت میں نہیں بلکہ ہماری غیر ذمہ دارانہ ڈرائیونگ کیوجہ سے رونماں ہوتے ہیں۔

    دہشت گردی سے زیادہ جانیں ٹریفک حادثات میں ضائع ہورہی ہیں اور70 سے 80 فیصد حادثات ڈرائیور کا ٹریفک قوانین کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ پانچ سے دس فیصد حادثات دیگر روڈ یوزرز کی غلطی کی وجہ سے رونماں ہوتے ہیں تاہم گاڑی میں مکینکل خرابی، ٹائروں کا درست حالت میں نہ ہونا بھی حادثات کا سبب بنتا ہے ۔

    صرف یہ ہی نہیں بلکہ نامناسب روڈ انفراسٹرکچر بھی حادثات کا باعث بنتا ہے۔ حادثات میں سب سے زیادہ 21 سے 30 سال کی عمر کے نوجوانوں کی تعداد شامل ہے اس حوالے سے روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں شہریوں کو ٹریفک قوانین سے آگاہی دی جارہی ہےاور انہیں بتایا جارہا ہے کہ محفوظ سفر کےلئے قوانین کا احترام کتنا ضروری ہے۔

    پاک فوج ملکی سلامتی کی ضامن۔ شہدا کی قربانیوں پر فخر
    پاکستانی طلبا و طالبات نے 14 ممکنہ نئے سیارچے دریافت کرلیے
    ہمت ہے تو کھرا سچ کا جواب دو، پروپیگنڈہ مبشر لقمان کو سچ بولنے سے نہیں روک سکتا

  • صحرا بندی اورخشک سالی سےنمٹنےکاعالمی دن:17جون کوپاکستان سمیت دنیابھرمیں منایاجائےگا

    صحرا بندی اورخشک سالی سےنمٹنےکاعالمی دن:17جون کوپاکستان سمیت دنیابھرمیں منایاجائےگا

    لاہور:صحراوں اورخشک سالیوں میں اضافے پرقابوپانے کے حوالے سے عالمی برادری کی کوششوں کوایک دن کے طورپرمتعارف کروانے کا سلسلہ کئی سالوں سے جاری ہے ، یہی وجہ ہے کہ ہرسال کی طرح اس سال بھی صحرا بندی اور خشک سالی سے نمٹنے کا عالمی دن 17 جون (جمعہ) کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں منایا جائے گا تاکہ صحرا بندی کے عمل کو روکا جا سکے اور بین الاقوامی ماحولیاتی ایجنڈے پر خشک زمین کے مسئلے کی نمائش کو مضبوط کیا جا سکے۔

    مختلف ممالک جیسے کہ آسٹریلیا، الجزائر، کینیڈا، چین، گھانا اور امریکہ میں افراد اور تنظیموں نے حالیہ برسوں میں اس دن میں شرکت کی ہے۔ بہت سے واقعات صحرائی اور خشک سالی سے متعلق مسائل سے نمٹنے میں مدد کے لیے تعلیمی سرگرمیوں پر توجہ مرکوز کرتے ہیں۔

    فعال سرگرمیوں میں تعلیمی اداروں اور عام لوگوں میں بیداری پیدا کرنے والے مواد کی تقسیم، جیسے کیلنڈر، فیکٹ شیٹ، پوسٹر اور پوسٹ کارڈ شامل ہو سکتے ہیں۔ اس دن میں تعلیمی کیس اسٹڈیز، فورمز یا خشک سالی اور صحرا بندی، معاشرے پر اس کے اثرات اور اس مسئلے کو کم کرنے کے طریقے بھی شامل کیے جا سکتے ہیں۔

    تاہم، صحرائی اور خشک سالی کے خلاف لڑنے کی کوشش صرف اس دن نہیں ہوتی۔ بہت سے ممالک اس مسئلے کو فعال طور پر حل کرنے اور حل تلاش کرنے کے لیے ایک مسلسل کوشش کر رہے ہیں۔ریاستوں کو عالمی دن منانے کے لیے اس بات پرقائل کیا گیا تھا تاکہ صحرا بندی اور خشک سالی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی تعاون کی ضرورت کے بارے میں بیداری کو فروغ دیا جا سکے، اور صحرا بندی سے نمٹنے کے کنونشن کے نفاذ کے لیے کوششوں کو عملی جامعہ پہنایا جاسکے۔

    یہ وجہ ہے اس دن سے اقوام متحدہ کے کنونشن ٹو کامبیٹ ڈیزرٹیفیکیشن (UNCCD) کی ملکی پارٹیاں، غیر سرکاری تنظیمیں اور دیگر دلچسپی رکھنے والے اسٹیک ہولڈرز ہر سال 17 جون کو دنیا بھر میں اس مخصوص دن کو آؤٹ ریچ سرگرمیوں کے ساتھ مناتے ہیں۔