Baaghi TV

Tag: عالمی مارکیٹ

  • عالمی منڈی میں‌ تیل کی قیتوں کوآگ لگ گئی:113 ڈالرفی بیرل:150 ڈالرفی بیرل ہونےکا امکان

    عالمی منڈی میں‌ تیل کی قیتوں کوآگ لگ گئی:113 ڈالرفی بیرل:150 ڈالرفی بیرل ہونےکا امکان

    لاہور: عالمی منڈی میں‌ تیل کی قیتوں کوآگ لگ گئی:113 ڈالرفی بیرل:150 ڈالرفی بیرل ہونے کا امکان،اطلاعات کے مطابق عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں پہلے ہی بہت اضافہ ہوچکا تھالیکن جب سے روس اور یوکرین کے درمیان جنگ چھڑی ہے اس وقت سے لیکر اب تک عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کو مسلسل آگ لگی ہوئی ہے اور آج تیل کی قیمتیں‌تاریخ کی بلند تارین سطح پرآگئی ہیں‌

    اطلاعات ہیں کہ آج اچانک تیل کی قیمتیں 113 ڈالرز فی بیرل تک پہنچ گئی ہیں‌، ۔ روس پر پابندیوں کے نتیجے میں عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں کے ابھی اور بھی بڑھنے کے مواقع ہیں ، ۔ادھر ماہرین نے خدشہ ظاہر کیاہے کہ اگر روس اور یوکرین کے درمیان معاملات طئے نہیں ہوتے تو عالمی منڈی میں یہ قیمت 150 ڈالر فی بیرل تک جا سکتا ہے۔

    وزیراعظم کے ریلیف پیکج کے تحت 4 ماہ کے لئے قیمتیں مستقل رکھنے کا فیصلہ پاکستانی صارفین کو مہنگائی کی اس آگ سے محفوظ رکھے گا۔

    دوسری طرف عوام الناس اور عالمی امور سے واقف لوگوں کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے بڑی حکمت عملی سے ملکی معیشت کو ٹریک پرچلایا ہے اور اب ملکی معیشت درست سمت چل پڑی ہے ، اس لیے وزیراعظم نے عالمی مارکیٹ میں‌ پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باوجود قوم کو ریلیف دے کر اپنی اہلیت ثابت کردی ہے

    یہ بھی یاد رہے کہ اس سے پہلے ن لیگ کے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی بھی مختلف میڈیا چینلز پر یہ حیرانی طور پر کہہ چکے ہیں‌کہ دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جارہی ہیں اور ان حالات میں عمران خان نے پٹرول کی قیمتیں‌ کم کرکے حیران کردیا ہے

    یاد رہے کہ اس سے پہلے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے زیادہ ٹیکس اکٹھا کیا ہے جس کی وجہ سے سے بجلی اور پٹرول کی قیمت میں کمی کی گئی ہے۔

    اسلام آباد میں بلا سود قرضوں کے اجرا کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ قوم سے کہتا ہوں کے وہ ٹیکس ادا کریں تاکہ اسے نچلی سطح کے عوام پر خرچ کیا جائے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کے قیام کا مقصد ایک مثالی اسلامی فلاحی ریاست قائم کرنا تھا۔ نبی کریم ﷺ نے مدینے کی جو مثالی ریاست قائم کی اس میں کوئی قانون سے بالا تر نہیں تھا اور ریاست نے معاشرے کے کمزور طبقے کی ذمہ داری لی تھی۔ بدقسمتی سےہم نے ا س نظریے سے روگردانی کی جو قیام پاکستان کی بنیاد تھا۔ دنیاکے کئی غیر اسلامی ممالک ریاست مدینہ کے زریں اصولوں کو اپنا کرترقی و خوشحالی کی شاہراہ پر گامزن ہو گئے جبکہ مسلمان ان کو ترک کرکے زوال کا شکار ہو گئے۔

    عمران خان نے کہاکہ ایف بی آر نے ریکارڈ ٹیکس جمع کیا ہے۔ حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کے لئے پٹرول اور بجلی کی قیمتوں میں کمی کی ہے جبکہ دنیا میں اس کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ ہمارے پاس جتنازیادہ پیسہ جمع ہو گا عوام پر اتنا ہی زیادہ خرچ کریں گے اور ریلیف دیں گے۔ 45 لاکھ خاندانوں کو بلا سود قرضوں کی فراہمی شروع کی ہے، اس کا آغاز پسماندہ علاقوں سے کیا۔ دیہات میں ساڑھے 3 لاکھ روپے تک جبکہ شہروں میں 5 لاکھ روپے تک بلا سود قرضے دیئے جائیں گے تاکہ لوگ اپنا روزگار کمانے کے قابل ہو سکیں ۔ گھر کی تعمیر کے لئے 20 لاکھ روپے قرض دیاجائےگا۔ حکومت نوجوانوں کو مختلف ہنر سکھائے گی تاکہ و ہ اپناروزگار کمانے کے قابل ہو سکیں ۔

  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں ساڑھے7سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں:دنیا مسائل کا شکار

    عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں ساڑھے7سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں:دنیا مسائل کا شکار

    لندن :عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں ساڑھے7سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں:دنیا مسائل کا شکار،اطلاعات کے مطابق یوکرین پر روس کے حملے کے بعد ترسیلی نظام میں تعطل آنے کے خدشے کے پیش نظر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں تقریباً ساڑھے 7 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔

    برطانوی خبر رساں ایجنسی کے رپورٹ کے مطابق منگل کو خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 8 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔مئی کے مہینے کیلئے ہونے والے برینٹ کروڈ آئل کے سودے 7.83 ڈالر اضافے کے بعد 105.80 ڈالر فی بیرل پر طے ہوئے۔

    اس کے علاوہ امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کے اپریل کے کیلئے ہونے والے سودے 8.27 ڈالر فی بیرل اضافے کے بعد 103.99 ڈالر فی بیرل پر ہوئے۔
    کاروبار کے دوران برینٹ کروڈ آئل اگست 2014 اور ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ جولائی 2014 کے بعد کی بلند ترین سطح پر دیکھے گئے۔

    دوسری جانب روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کی وجہ سے سپلائی میں تعطل اور قیمتوں میں اضافے کو روکنے کیلئے عالمی توانائی ایجنسی کے رکن ممالک اپنے اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزروز میں سے 6 کروڑ بیرل تیل مارکیٹ میں جاری کرنے پر غور کر رہے ہیں تاکہ قلت کی وجہ سے قیمتیں اوپر نہ جائیں۔

    اس معاملے پر تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم (اوپیک) اور روس کے مذاکرات بدھ کو ہونے کا امکان ہے۔

    یوکرین پر حملے کی وجہ سے امریکا اور یورپی یونین نے روس پر اقتصادی پابندیاں عائد کردی ہیں اور روسی کمپنیوں اور شخصیات کے اثاثے منجمد کردیے گئے ہیں جس کہ وجہ سے روس سے تیل خریدنے والے ممالک کو ادائیگیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔

    خیال رہے کہ روس یومیہ 40 سے 50 لاکھ بیرل خام تیل برآمد کرتا ہے جبکہ 20 سے 30 لاکھ بیرل تیل کی ریفائنڈ مصنوعات برآمد کرتا ہے۔

  • یوکرین روس کشیدگی، خام تیل کی قیمت 90 ڈالر فی بیرل:پاکستان سمیت غریب ممالک پرپھرمشکل وقت آگیا

    یوکرین روس کشیدگی، خام تیل کی قیمت 90 ڈالر فی بیرل:پاکستان سمیت غریب ممالک پرپھرمشکل وقت آگیا

    واشنگٹن:یوکرین روس کشیدگی، خام تیل کی قیمت 90 ڈالر فی بیرل:پاکستان سمیت غریب ممالک پرپھرمشکل وقت آگیا،اطلاعات کے مطابق یوکرین اور روس کے درمیان کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 90 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی۔

    غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا اور یوکرین کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث بدھ کے روز عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت گزشتہ 7 سالوں میں پہلی بار 90 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ۔

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق روس اور یوکرین تنازعہ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے خام تیل کی ممکنہ سپلائی میں رکاوٹ نے ہلچل مچا دی ہے۔

    رپورٹس کے مطابق دوران ٹریڈنگ برینٹ خام تیل کی قیمت 90 ڈالر17 سینٹس کی سطح پرپہنچ گئی جبکہ ڈبلیو ٹی آئی خام تیل 87 ڈالر 67 سینٹس میں فروخت ہوا۔اس کے علاوہ عالمی منڈی میں گیس کی قیمت میں تقریباً 5 فیصد اضافہ ہوا جس کے بعد دوران ٹریڈنگ گیس کی قیمت سوا 4 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو ہوگئی۔

    واضح رہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے منگل کے روز کہا تھا کہ اگر روس نے یوکرین پر حملہ کیا تو وہ صدر ولادیمیر پوٹن پر ذاتی پابندیوں پر غور کریں گے۔
    دوسری جانب روس نے یوکرین کی سرحدپر تقریباً ایک لاکھ فوجیوں کو تعینات کیا ہوا ہے لیکن حملے کی منصوبہ بندی سے انکار کیا ہے۔

  • عرب ممالک میں کشیدگی، تیل کی قیمتیں7سال کی بلند ترین سطح پر:نقصان غریب ملکوں کو

    عرب ممالک میں کشیدگی، تیل کی قیمتیں7سال کی بلند ترین سطح پر:نقصان غریب ملکوں کو

    لاہور:عرب ممالک میں کشیدگی، تیل کی قیمتیں7سال کی بلند ترین سطح پر:نقصان غریب ملکوں کو،اطلاعات کے مطابق عرب ممالک میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات تیل کی قیمتوں پر بھی پڑنے لگےاور قیمتیں 7 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔

    عرب میڈیا کے مطابق گزشتہ روز ابوظہبی ایئرپورٹ پر حوثی باغیوں کی جانب سے ڈرون حملہ کیا گیا تھا جس میں ایک پاکستانی جاں بحق ہوگیا تھا ، اس حملے کے بعد تیل کی رسد میں ممکنہ رکاوٹوں کے پیش نظر قیمت میں 1 ڈالر کا اضافہ ہوا ہے جو کہ پچھلے 7 سال میں ہونے والا سب سے بڑا اضافہ ہے۔

    اس حوالے سے ماہرین کی جانب سے کہا گیا ہے کہ نئے جغرافیائی و سیاسی تناؤ کے باعث پوری مارکیٹ میں مشکل صورتحال کے آثار سامنے آئے ہیں اوربرینٹ کے خام کی قیمت بڑھ کر 85 سینٹ یا 1 فیصد بڑھ کر 87 اعشاریہ 33 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے، اس سے قبل ایسا 29 اکتوبر 2014 کو ہوا تھا جب 1 روز میں 87 اعشاریہ 55 ڈالر فی بیرل تک پہنچا تھا۔

    اسی طرح یو ایس ویسٹ انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت میں ایک اعشاریہ 13 یا 14 فیصد تک اضافہ دیکھا گیا جو کہ دو ماہ کی بلند ترین سطح ہے جبکہ پیر کے روز امریکہ میں عام تعطیل کی وجہ سے تجارت معطل رہی۔

    حوثیوں کی جانب سے ڈرون اور میزائل کی مدد سے آئل ٹینکرز کو نشانہ بنائے جانے کے بعد بھی خبردار کیا گیا کہ وہ مزید اہداف کو بھی نشانہ بنائیں گے جبکہ دوسری جانب متحدہ عرب امارات نے کہا کہ وہ ان دہشت گرد حملوں کے خلاف کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

    معاشی تجزیہ کار کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ تیل کی قیمتوں میں اضافے کی ایک وجہ سخت سرد موسم بھی ہے کیونکہ گرمی کے لیے ایندھن کا استعمال زیادہ ہو رہا ہے۔

    امارات کی تیل کمپنی نے کہا کہ میزائل حملے کے بعد بھی اپنے مقامی اور بین الاقوامی خریداروں کے لیے تیل کی بلاتعطل سپلائی کے لیے منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔

    ماہرین کے مطابق توقع ہے کہ اس سال طلب رسد سے بڑھ جائے گی کیونکہ دنیا 2 سال کے لاک ڈاؤن کے بعد کھل رہی ہے اور معمول کی زندگی کی طرف آ رہی ہے جبکہ طلب اور رسد میں توازن پیدا ہونے کا امکان نہیں ہے۔

    معاشی ماہر نے کہا کہ اگر موجودہ جغرافیائی و سیاسی تناؤ جاری رہتا ہے اور اوپیک پلس کے ارکان ہر روز چار لاکھ بیرل تیل فراہم کرنے میں ناکام ہوتے ہیں تو قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے اور 100 ڈالر کے نشان کی طرف بڑھ سکتا ہے۔

    اوپیک میں شامل تیل پیدا کرنے والے کچھ ممالک کوشش کر رہے ہیں کہ پیداوار کے لیے تمام صلاحیتیں بروئے کار لائیں تاکہ کمیابی اور سرمایہ کاری کی کمی سے بچا جا سکے جو کہ روس اور اتحادیوں کے ساتھ ایک معاہدے کا حصہ بھی ہے جس کو اوپیک پلس کے طور پر جانا جاتا ہے۔ معاہدے کے مطابق چار لاکھ بیرل تیل ہر روز فراہم کیا جائے گا۔

  • عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کم ہونے لگیں‌

    عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کم ہونے لگیں‌

    نیویارک :عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کم ہونے لگیں‌،اطلاعات کےمطابق کورونا وائرس کی نئی قسم ’ اومی کرون‘ سامنے آنے کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمت کم ہوگئی۔

    کورونا کی نئے ویرینٹ کی خبر نے عالمی سطح پر سرمایہ کاروں کو بھی خوفزدہ کردیا ہے اور خام تیل کی عالمی منڈی میں قیمتیں اپریل 2020 کے بعد کم ترین سطح پر آگئی ہیں۔

    ذرائع کے مطابق برینٹ کروڈ آئل کی قیمت 8.62 ڈالر فی بیرل کم ہوکر 73.60 ڈالر ہوگئی ہے جبکہ امریکی خام تیل کی قیمت 9.36 ڈالر کم ہوکر 69.03 ڈالر فی بیرل ہوگئی ہے۔

    اس کے علاوہ دنیا بھر میں اسٹاک مارکیٹ پر بھی اس کا اثر پڑا ہے اور امریکا، فرانس، جرمنی اور برطانیہ کی اسٹاک مارکیٹوں میں مندی دیکھی گئی۔

    خیال رہے کہ کورونا کی نئی قسم سامنے آنے کے بعد دنیا کے مختلف ممالک نے افریقی ممالک سے فلائٹ آپریشن معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    متحدہ عرب امارات (یواے ای) نے بھی افریقی ملکوں سے آنے والی پروازوں پر پابندی لگادی ہے جبکہ یہ پابندی جنوبی افریقا، زمبابوے، موزمبیق اورنمیبیا سمیت دیگر ملکوں پر لگائی گئی ہے۔