Baaghi TV

Tag: عالمی منڈی

  • خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز

    خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز

    عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت پہلی مرتبہ مئی کے آخر کے بعد 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق جمعرات کو برینٹ خام تیل کے سودے 6.58 ڈالر یعنی تقریباً 7 فیصد اضافے کے بعد 100.65 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے،جو گزشتہ دو ماہ کی بلند ترین سطح ہےجبکہ عالمی مارکیٹ میں ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کی قیمت بھی 91.65 ڈالر فی بیرل کی سطح تک پہنچ چکی ہے۔

    دوسری جانب مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز سے گزرنے والے آئل ٹینکرز کی تعداد کم ہو کر دو ماہ کی کم ترین سطح پر آ گئی ہےخبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جمعرات کو صرف ایک آئل ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزرا، خام تیل لے جانے والا جہاز نیو جائنٹ، جس میں تقریباً 20 لاکھ بیرل عراقی خام تیل لدا تھا، جمعرات کو آبنائے ہرمز سے گزر کر چین کی بندرگاہ ریژاؤ پورٹ کی جانب روانہ ہوا۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آئندہ دنوں میں تیل کی قیمتوں کا رخ اس بات پر منحصر ہوگا کہ حوثی بحیرہ احمر کے راستے باب المندب سے کن بحری جہازوں کو گزرنے کی اجازت دیتے ہیں اور کنہیں نشانہ بناتے ہیں۔

    حوثیوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ سعودی عرب سے آنے والے تیل بردار جہازوں کی بحری ناکہ بندی کریں گے اور سعودی عرب، اسرائیل اور امریکا سے وابستہ آئل ٹینکروں کو باب المندب میں نشانہ بنائیں گے،یہ آبی گزرگاہ بحیرہ احمر کو بحرِ ہند سے ملاتی ہے اور عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہےجمعرات کو حوثیوں نے 2 سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کا دعویٰ کیا، جبکہ سعودی خبر رساں ایجنسی نے تصدیق کی کہ ان میں سے ایک جہاز میں آگ لگ گئی۔

  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں6 ہفتوں سے زائد عرصے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں

    عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں6 ہفتوں سے زائد عرصے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں

    عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد قیمتیں 6 ہفتوں سے زائد عرصے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔

    برینٹ خام تیل کے سودے 1.93 ڈالر، یعنی تقریباً 2 فیصد اضافے کے بعد 96 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے، جو 8 جون کے بعد بلند ترین سطح ہے،گزشتہ روز بھی برینٹ خام تیل کی قیمت 3 ڈالر سے زائد اضافے کے ساتھ 94.07 ڈالر فی بیرل پر بند ہوئی تھی،امریکی خام تیل یعنی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت بھی 1.44 ڈالر، یعنی 1.7 فیصد اضافے کے بعد 88.27 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی،اس سے قبل بدھ کے روز اس کی قیمت میں تقریباً 3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔

    ماہرین کے مطابق بحیرۂ احمر میں حوثیوں کی بحری ناکہ بندی اور آبنائے ہرمز میں ایران کی جانب سے عائد پابندیاں عالمی توانائی کی رسد کو متاثر کر سکتی ہیں، جس کے باعث عالمی تیل منڈی میں بے یقینی اور قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

    دوسری جانب امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق گزشتہ ہفتے امریکا میں خام تیل کے ذخائر میں 20 لاکھ بیرل اضافہ ہوا یہ اضافہ ریفائنریوں کی سرگرمیوں میں کمی، خام تیل کی برآمدات میں کمی اور درآمدات میں اضافے کے باعث سامنے آیا، جبکہ ماہرین نے اس کے برعکس 11 لاکھ بیرل کمی کی توقع ظاہر کی تھی۔

  • امریکا ایران کشیدگی ، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں

    امریکا ایران کشیدگی ، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں

    امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ کشیدگی شروع ہونے کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں 4 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس کے بعد برینٹ خام تیل کی قیمت 3.10 ڈالر یا 4.08 فیصد اضافے کے بعد 79.11 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل 2.95 ڈالر یا 4.11 فیصد بڑھ کر 74.36 ڈالر فی بیرل ہو گیا۔

    امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی تھی ماہرین کے مطابق قیمتوں میں یہ اضافہ اس خدشے کے باعث ہوا ہے کہ جاری کشیدگی آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل کو متاثر کر سکتی ہے۔

    امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق جنگ سے قبل دنیا بھر میں سپلائی ہونے والے خام تیل کا تقریباً 20 فیصد آبنائے ہرمز کے راستے منتقل کیا جاتا تھا، اسی لیے اس اہم آبی گزرگاہ کی صورتحال پر عالمی منڈی کی گہری نظر ہے۔

    واضح رہے کہ امریکی فوج نے ایران پر مزید حملے شروع کردیے ہیں۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ امریکی افواج نے ایران کے خلاف مزید حملوں کا آغاز کر دیا ہے سینٹکام کے مطابق ان حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے شہری بحری جہازوں اور تجارتی جہازوں پر حملے کرنے کی ایران کی صلاحیت کو مزید کمزور کرنا ہے۔

    دوسری جانب ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے پیر کو دعویٰ کیا کہ انہوں نے کویت اور بحرین میں امریکی فوجی اڈوں پر حملے کیے ہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو کہا کہ آبنائے ہرمز تجارتی جہازوں کے لیے کھلی ہے تاہم ایران نے اس سے پہلے اعلان کیا تھا کہ ایک جہاز غیر منظور شدہ راستے سے گزرا تھا اور اسے نشانہ بنائے جانے کے بعد آبنائے کو بند کر دیا گیا۔

    جنگ شروع ہونے سے قبل دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی ترسیل اسی آبنائے سے ہوتی تھی جہازوں کی نگرانی کر نے والی کمپنی کلیپر کے اعداد و شمار کے مطابق اتوار کو صرف 6 جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، جو گزشتہ پانچ ہفتوں میں سب سے کم تعداد ہے۔

    واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان گزشتہ ماہ ایک عبوری معاہدہ طے پایا تھا جس کا مقصد آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا اور مزید 60 روزہ مذاکرات کے بعد جنگ ختم کرنا تھا لیکن حالیہ حملوں نے اس معاہدے کے مستقبل پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) نے اپنی ماہانہ رپورٹ میں بتایا کہ معاہدے کے بعد جون میں عالمی تیل کی سپلائی میں 41 لاکھ بیرل یومیہ اضافہ ہوا، تاہم یہ جنگ سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں اب بھی 94 لاکھ بیرل یومیہ کم ہے۔

    آئی جی مارکیٹ کے تجزیہ کار ٹونی سیکامور نے کہا کہ تیل کی قیمتوں میں نسبتاً محدود اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مارکیٹ موجودہ صورتحال کو ایک کمزور جنگ بندی کے دوران کشیدگی میں اضافے کے طور پر دیکھ رہی ہے، نہ کہ مکمل جنگ بندی کے خاتمے کے طور پر،یہ اندازہ کتنا درست ہے، اس کا فیصلہ آنے والے دنوں میں ہوگا۔

  • عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں بڑا اضافہ

    عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں بڑا اضافہ

    عالمی منڈی میں جمعرات کے روز سونے کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

    اسپاٹ گولڈ کی قیمت 0.7 فیصد اضافے کے بعد 4,057.92 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی ، گزشتہ سیشن میں یہ جون کے بعد کی بلند ترین سطح پر ریکارڈ کی گئی تھی ، جبکہ امریکی سونے کے فیوچرز معمولی کمی کے ساتھ 4,070.10 ڈالر فی اونس پر ٹریڈ ہوئے ،جبکہ بدھ کے روز سونا تقریباً سات ماہ کی کم ترین سطح کے قریب پہنچنے کے بعد 4,029.89 ڈالر پر بند ہوا۔

    دوسری جانب دیگر قیمتی دھاتوں میں چاندی کی قیمت 1 فیصد اضافے کے ساتھ 59.76 ڈالر فی اونس، پلاٹینم 0.4 فیصد بڑھ کر 1,583.05 ڈالر اور پیلیڈیم 1.1 فیصد اضافے کے ساتھ 1,223.80 ڈالر فی اونس ہو گیا۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ سونا عام طور پر افراط زر سے بچاؤ کے لیے محفوظ سرمایہ سمجھا جاتا ہے، تاہم بلند شرح سود کے ماحول میں اس کی کشش کم ہو جاتی ہے کیونکہ یہ کوئی منافع نہیں دیتا،خام تیل کی قیمتوں میں کمی نے بھی سونے کی منڈی پر اثر ڈالا ہے، کیونکہ ایران اور امریکہ کے درمیان آبنائے ہرمز سے متعلق مذاکرات میں کوئی بڑی پیش رفت سامنے نہیں آئی،تاہم سرمایہ کار اب بھی فیڈرل ریزرو کی آئندہ پالیسی پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

    فیڈرل ریزرو کے چیئرمین کیون وارش نے کہا کہ مرکزی بینک 2 فیصد مہنگائی کے ہدف پر قائم رہے گا، تاہم انہوں نے شرح سود کے مستقبل کے بارے میں کوئی واضح اشارہ نہیں دیا۔ مارکیٹ میں اس وقت ستمبر میں شرح سود میں اضافے کے تقریباً 64 فیصد امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی

    عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی

    عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی۔

    بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق برینٹ کروڈ آئل کی قیمت 73 سینٹ یا 1.02 فیصد کمی کے بعد 70.84 ڈالر فی بیرل پر آ گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل کی قیمت 83 سینٹ یا 1.21 فیصد کمی کے بعد 67.75 ڈالر فی بیرل ریکارڈ کی گئی۔

    رپورٹ کے مطابق گزشتہ تجارتی سیشن میں بھی دونوں عالمی معیار کے خام تیل کی قیمتیں ایک فیصد سے زائد گر گئی تھیں، جو گزشتہ چار ماہ کی کم ترین سطح سمجھی جا رہی ہیں۔

    ذرائع کے مطابق امریکی اور ایرانی مذاکرات کاروں نے دوحہ میں دو روز تک جاری رہنے والی بات چیت کے دوران آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت، عالمی جہاز رانی کی سلامتی اور ایران کے منجمد مالی اثاثوں کی بحالی جیسے اہم معاملات پر تبادلہ خیال کیا-

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی پیش رفت کا سلسلہ جاری رہا اور آبنائے ہرمز میں صورتحال معمول پر آئی تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے، تاہم ان کا کہنا ہے کہ خطے میں کسی بھی نئی کشیدگی کی صورت میں قیمتیں دوبارہ تیزی سے بڑھ سکتی ہیں۔

    ماہرین کے مطابق سرمایہ کار اس وقت دونوں ممالک کے درمیان آئندہ مذاکرات، آبنائے ہرمز میں بحری سرگرمیوں کی بحالی اور ایران کے منجمد اثاثوں سے متعلق ممکنہ فیصلوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ یہی عوامل آنے والے دنوں میں عالمی توانائی کی مارکیٹ کا رخ متعین کریں گے۔

  • عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی

    عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی

    عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھنے میں آئی ہے-

    منگل کے روز برینٹ کروڈ کی قیمت 91 سینٹ کمی کے ساتھ 93.34 ڈالر فی بیرل ہو گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کی قیمت 1.13 ڈالر کمی کے بعد 90.17 ڈالر فی بیرل ریکارڈ کی گئی۔

    یہ کمی اس وقت سامنے آئی جب ایران اور اسرائیل نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اپیل پر حملے روکنے کا اعلان کیا، اگرچہ دونوں ممالک نے خبردار کیا ہے کہ ضرورت پڑنے پر کارروائیاں دوبارہ شروع کی جا سکتی ہیں۔

    اس سے قبل قیمتوں میں 5 فیصد تک اضافہ دیکھا گیا تھا جب اسرائیل کے ایران اور لبنان میں حملوں نے جنگ کے خاتمے کی امیدوں کو کمزور کر دیا تھا، تاہم بعد ازاں ایران کی جانب سے فوجی کارروائیاں روکنے کے اعلان پر قیمتیں نیچے آ گئیں۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق وقتی طور پر کشیدگی میں کمی سے مارکیٹ کو کچھ ریلیف ملا ہے؛ یہ صورتحال دیرپا ثابت ہوئی تو ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں واضح کمی کا امکان ہے۔

    اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے دوبارہ حملہ کیا تو بھرپور جواب دیا جائے گا، جبکہ ایران نے کہا ہے کہ اگر لبنان میں حزب اللہ کو نشانہ بنایا گیا تو وہ کارروائی دوبارہ شروع کرے گاادھر امریکا ایران سے مذاکرات میں آبنائے آبنائے ہرمز کھولنے پر زور دے رہا ہے، جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی تیل سپلائی گزرتی ہے۔

  • عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی

    عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی

    عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی ہے تاہم قیمتیں اب بھی 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر برقرار ہیں۔

    رپورٹس کے مطابق برینٹ کروڈ فیوچرز کی قیمت میں ایک فیصد سے زائد کمی ہوئی جس کے بعد یہ تقریباً 112 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آ گئی، جبکہ امریکی خام تیل (یو ایس آئل) کی قیمت بھی کم ہو کر 104 ڈالر فی بیرل سے کچھ نیچے آگئی ہے۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ قیمتوں میں کمی آئی ہے، لیکن یہ کمی عارضی ہو سکتی ہے کیونکہ خطے میں غیر یقینی صورتحال اب بھی برقرار ہے خاص طور پر امریکا اور ایران کے درمیان نازک جنگ بندی اور آبنائے ہرمز میں جاری تنازع عالمی تیل کی سپلائی کو متاثر کر رہا ہے۔

    ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین تیل گزرگاہوں میں شامل ہے، جہاں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت پر فوری اثر ڈالتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تیل کی قیمتیں کم ہونے کے باوجود اب بھی بلند سطح پر موجود ہیں جب تک خطے میں کشیدگی ختم نہیں ہوتی اور سپلائی مکمل طور پر بحال نہیں ہوتی، تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی کا امکان کم ہے۔

  • عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ

    عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ

    آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتوار کے روز نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

    برطانوی خام تیل کی قیمت میں 5 فیصد اضافہ ہوگیا، 5.13 ڈالر اضافے سے برطانوی خام تیل کی قیمت 95.51 ڈالر فی بیرل ہوگئی اسی طرح امریکی خام تیل کی قیمت بھی 7 فیصد اضافے کے ساتھ 90.33 ڈالر فی بیرل ہو گئی۔

    جمعہ کو یہ اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ ایران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے پر آمادہ ہے، جس کے بعد قیمتوں میں کمی دیکھی گئی تھی، تاہم ہفتے کے روز ایر ان نے اچانک اس اہم راستے کو دوبارہ بند کرنے کا اعلان کر دیا دوسری جانب امریکی بحریہ نے خلیج عمان میں ناکہ بندی عبور کرنے کی کوشش کرنے والے ایک ایرانی پرچم بردار مال بردار جہاز پر فائرنگ کرتے ہوئے اسے تحویل میں لے لیا، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔

    جہازوں کی نقل و حرکت کے دستیاب اعداد و شمار کے مطابق اتوار کے روز آبنائے ہرمز سے کوئی آئل ٹینکر نہیں گزرا، جس نے عالمی توانائی منڈیوں میں تشو یش کی لہر دوڑا دی ہے۔

  • عالمی منڈی میں تیل کی قیمت میں کمی

    عالمی منڈی میں تیل کی قیمت میں کمی

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ عنقریب ختم کرنے کے بیان کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمت میں کمی آگئی۔

    بدھ کے روز عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں تین فی صد کمی کے بعد 100 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گئی ہیں تیل کی قیمتوں میں یہ کمی گزشتہ شب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بیان کے بعد واقع ہوئی ہےامریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکا ’بہت جلد‘ ایران سے نکل جائے گا اور فوجی کارروائیاں دو یا تین ہفتوں میں ختم ہو سکتی ہیں۔

    تاہم، برینٹ خام تیل کی قیمتیں ایران جنگ کے آغاز سے پہلے کے مقابلے میں اب بھی 39 فی صد زیادہ ہیں جنگ کے آغاز کے بعد سے ایران نے عالمی تیل اور گیس کی سپلائی کے لیے استعمال کیے جانے والے ایک اہم راستے آبنائے ہرمز کو مؤثر طریقے سے بند کیا ہوا ہے عالمی تیل کی تجارت کا 20 فی صد آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے۔

  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز

    عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز

    عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں معمولی کمی کے بعد ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہیں۔

    منگل کے روز اسرائیل اور ایران کے درمیان رات بھر ہونے والی جھڑپوں کے بعد برینٹ کروڈ کی قیمت میں 1.6 فیصد اضافہ ہوا ہے جس کے بعد قیمت 101.5 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے، جبکہ امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ 2.7 فیصد اضافے کے ساتھ 90.5 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا ہے۔

    پیر کے روز برینٹ کروڈ ایک موقع پر 114 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گیا تھا، تاہم بعد میں کمی کے بعد 99.94 ڈالر پر بند ہوا۔ گزشتہ روز تیل کی قیمتوں میں 10 فیصد سے زائد کمی آئی تھی،اس کمی کی وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا وہ بیان تھاجس میں انہوں نےایران کےساتھ جنگ کےخاتمے کے لیے مثبت اور مفید بات چیت کا کا دعویٰ کیا تھا۔

    تاہم ایران نے امریکا کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات کی سختی سے تردید کی ہے، تاہم وہیں دونوں ممالک کے درمیان جنگ روکنے کے لیے پاکستان، ترکیہ اور مصر سمیت دیگر ممالک کی جانب سے ثالثی کی کوششیں جاری ہیں۔