Baaghi TV

Tag: عام انتخابات

  • گلگت بلتستان اسمبلی کے نو منتخب ارکان نے حلف اٹھا لیا

    گلگت بلتستان اسمبلی کے نو منتخب ارکان نے حلف اٹھا لیا

    گلگت بلتستان اسمبلی کے 30 نو منتخب ارکان نے آج اپنی رکنیت کا حلف اٹھالیا، جس کے ساتھ ہی 2026 کے عام انتخابات کے بعد نئی اسمبلی کی آئینی مدت کا باقاعدہ آغاز ہوگیا ہے۔

    اسپیکر گلگت بلتستان اسمبلی نذیر احمد ایڈووکیٹ نے نو منتخب ارکان سے حلف لیا پیپلز پارٹی کے 13، ن لیگ کے 9 ارکان نے حلف اٹھایا، جبکہ استحکام پاکستان پارٹی کے 6 اور ایم ڈبلیو ایم کے ایک رکن نے حلف اٹھایا پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد رکن بھی حلف اٹھانے والوں میں شامل ہیں اب اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر اور قائدِ ایوان کا انتخاب عمل میں لایا جائے گا-

    اسپیکر کے انتخاب کے بعد وزیراعلیٰ کا انتخاب ہوگا، جو اطلاعات کے مطابق پیپلز پارٹی کے امجد حسین ایڈووکیٹ بلامقابلہ منتخب ہوں گے، جبکہ اسپیکر کے لیے بھی پیپلز پارٹی کے عمران ندیم پہلے ہی بلامقابلہ منتخب ہو چکے ہیں اسپیکر گلگت اسمبلی نے نومنتخب ارکان کو مبارکباد پیش کی ، بعد ازاں جی بی اسمبلی کا اجلاس دن آج 3 بجے دن تک ملتوی کر دیا گیا، اجلاس کے دوبارہ آغاز پر نئے اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کا انتخاب کیا جائے گا-

    واضح رہے کہ گلگت کے تین حلقوں کے انتخابی نتائج کا نوٹیفکیشن عدالتی احکامات کے باعث تاحال جاری نہیں کیا جا سکا، جس کے باعث ان نشستوں پر نمائندگی کا مرحلہ مکمل نہیں ہو سکا۔

  • گلگت بلتستان میں چوتھے عام انتخابات کے لیے انتخابی مہم شروع

    گلگت بلتستان میں چوتھے عام انتخابات کے لیے انتخابی مہم شروع

    گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے لیے کاغذاتِ نامزدگی کا عمل مکمل ہونے کے بعد چوتھے عام انتخابات کے لیے انتخابی مہم شروع ہو گئی ہے، جس کے لیے ووٹنگ 7 جون کو ہوگی، جبکہ انتخابات کے لیے سیاسی جماعتوں نے انتخابی مہم تیز کر دی ہے مختلف اضلاع میں جلسوں، کارنر میٹنگز اور انتخابی رابطہ مہم کا آغاز ہو چکا ہے جبکہ سوشل میڈیا پر بھی سیاسی سرگرمیاں عروج پر ہیں۔

    الیکشن کمیشن گلگت بلتستان کے مطابق قانون ساز اسمبلی کے انتخابات 7 جون کو ہوں گے اور مجموعی طور پر 24 جنرل نشستوں کے لیے 664 امیدوار میدان میں ہیں،گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کی مجموعی طور پر 33 نشستیں ہیں جن میں 24 جنرل جبکہ 9 مخصوص نشستیں ہیں۔

    الیکشن کمیشن گلگت بلتستان کی جانب سے حاصل ہونے والی تفصیلات کے مطابق گلگت حلقہ 1 سے 34، حلقہ 2 سے 58 اور حلقہ 3 سے 32 امیدواروں نے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے ہیں نگر 1 سے 38 اور نگر 2 سے 30 امیدواروں نے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے، ہنزہ کے واحد حلقے سے 38 امیدوار سیاسی قسمت آزمائی کریں گے، اسکردو 1 سے 33، اسکردو 2 سے 23، اسکردو 3 سے 18 اور اسکردو 4 سے 25 امیدوار مدمقابل ہوں گے۔

    اسی طرح کھرمنگ سے 21 اور ضلع شگر سے 19 امیدواروں نے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے ہیں گانچھے 1 سے 15، گانچھے 2 سے 29 اور گانچھے 3 سے 15 امیدواروں نے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرا دیے ہیں استور 1 سے 19 جبکہ استور 2 سے 57 امیدوار مدمقابل ہوں گے، اسی طرح دیامر 1 سے 29، دیامر 2 سے 15، دیامر 3 سے 14 اور دیامر 4 سے 11 امیدوار میدان میں ہیں، غذر 1 سے 20، غذر 2 سے 42 اور غذر 3 سے 25 امیدواروں کے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے گئے ہیں، گلگت 2 میں سب سے زیادہ 58 امیدواروں کے درمیان بڑا مقابلہ ہوگا، جبکہ دیامر 4 میں سب سے کم 11 امیدوار انتخابی معرکے میں شریک ہوں گے۔

    گلگت بلتستان میں پہلی مرتبہ 2009 میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات گلگت بلتستان ایمپاورمنٹ اینڈ سیلف گورننس آرڈر کے تحت منعقد ہوئے تھے اور پہلے عام انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت بنی جبکہ موجودہ گورنر مہدی شاہ پہلے وزیراعلیٰ بنے تھے اس کے بعد 2015 میں مدت ختم ہونے پر دوسرے عام انتخابات ہوئے جن میں ن لیگ کو اکثریت ملی اور حافظ حفیظ الرحمان دوسرے وزیراعلیٰ بنے ن لیگ کی حکومت نے بھی مدت پوری کی اور سال 2020 میں تیسرے عام انتخابات ہوئے جن میں اس وقت وفاق میں حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف کو اکثریت ملی اور خالد خورشید تیسرے وزیراعلیٰ بن گئے۔

    تاہم پی ٹی آئی حکومت اپنی مدت پوری نہ کر سکی اور 2023 میں خالد خورشید جعلی ڈگری کیس میں نااہل ہو گئے، جس کے بعد پی ٹی آئی حکومت ختم ہو گئی، بعد ازاں حاجی گلبر خان کی سربراہی میں نیا گروپ سامنے آیا اور مخلوط حکومت قائم ہوئی، جس میں حاجی گلبر خان وزیراعلیٰ بن گئے اب حاجی گلبر حکومت کی مدت پوری ہونے کے بعد چوتھے انتخابات کی تیاریاں شروع ہو گئی ہیں۔

  • بنگلہ دیش : جماعت اسلامی اور این سی پی کے درمیان مفاہمت

    بنگلہ دیش : جماعت اسلامی اور این سی پی کے درمیان مفاہمت

    ڈھاکہ: بنگلہ دیش کی جماعتِ اسلامی نے آئندہ عام انتخابات سے قبل نیشنل سٹیزنز پارٹی (این سی پی) اور دیگر ہم خیال جماعتوں کے ساتھ انتخابی مفاہمت قائم کر لی ہے۔

    جماعت کے امیر شفیق الرحمان نے اتوار کی شام ڈھاکہ کے نیشنل پریس کلب میں ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پہلے ہی 8 جماعتیں اس انتخابی اتحاد میں شامل تھیں، جبکہ اب این سی پی اور لبرل ڈیموکریٹک پارٹی (ایل ڈی پی)، جس کی قیادت ریٹائرڈ کر نل اولی احمد کر رہے ہیں، بھی اس مفاہمت کا حصہ بن گئی ہیں اس طرح اس اتحاد میں شامل جماعتوں کی تعداد 10 ہو گئی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ مختلف حلقوں میں نشستوں کی تقسیم پر بات چیت کے بعد اتفاق کیا گیا ہے تاکہ ہر حلقے میں ایک متفقہ امیدوار کو میدان میں اتارا جا سکے مزید یہ کہ دیگر جماعتوں نے بھی اس اتحاد میں شامل ہونے کی دلچسپی ظاہر کی ہے، تاہم اس حوالے سے حتمی فیصلہ بعد میں کیا جائے گا۔

    ہر شہری کو تعلیم یافتہ بنانا ریاست کے لئے ایک بڑا چیلنج ہے، ملک احمد خان

    رپورٹس کے مطابق جماعتِ اسلامی نے حالیہ عوامی تحریک کے بعد کئی اسلامی اور دائیں بازو کی جماعتوں کے ساتھ مذاکرات شروع کیے تھے، جن میں اسلامی اندولن بنگلہ دیش، کھیلَافت مجلس، بنگلہ دیش کھیلَافت مجلس، بنگلہ دیش کھیلَافت اندولن، نظامِ اسلام پارٹی اور جاتیہ گن تانترک پارٹی (جے اے جی پی اے) شامل تھیں، بعد ازاں بنگلہ دیش ڈیولپمنٹ پارٹی بھی اس اتحاد میں شامل ہو گئی تھی۔

    سیاسی مبصرین کے مطابق اس انتخابی مفاہمت کا مقصد ووٹوں کی تقسیم روکنا اور مشترکہ حکمت عملی کے تحت انتخابات میں حصہ لینا ہے۔

    پنجاب پولیس خدمت مراکز کی کارکردگی رپورٹ جاری

  • نیپال میں عام انتخابات مارچ میں کرانے کا فیصلہ

    نیپال میں عام انتخابات مارچ میں کرانے کا فیصلہ

    نیپال کے صدر رام چندر پوڈیل نے پارلیمنٹ تحلیل کرتے ہوئے 5 مارچ 2026 کو عام انتخابات کے انعقاد کا اعلان کر دیا ہے۔

    صدر کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ایوانِ نمائندگان کو تحلیل کر دیا گیا ہے اور نئے انتخابات کی تاریخ مقرر کر دی گئی ہےاسی دوران صدر پوڈیل نے سابق چیف جسٹس سوشیلا کارکی کو ملک کی پہلی خاتون عبوری وزیراعظم مقرر کر دیا،ان کی تقرری 2 روزہ مذاکرات کے بعد عمل میں آئی جن میں صدر، آرمی چیف اشوک راج سگڈیل اور احتجاجی رہنماؤں نے شرکت کی۔

    یہ ملک گیر احتجاج اُس وقت بھڑکا جب حکومت نے سوشل میڈیا پر پابندی عائد کی، تاہم وزیراعظم کے پی شرما اولی کے استعفے کے بعد ہی صورتحال قدرے پرسکون ہوئی، نیپال پولیس کے مطابق حالیہ جھڑپوں میں اب تک 51 افراد ہلاک اور 1700 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔

    بھارت نے بھی نیپال کی تازہ سیاسی پیش رفت پر ردعمل دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ اقدامات امن و استحکام کو فروغ دیں گے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے سوشیلا کارکی کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ بھارت نیپالی عوام کی ترقی اور خوشحالی کے لیے پرعزم ہے۔

    واضح رہے کہ جسٹس سشیلا کارکی نیپال کی سپریم کورٹ کی واحد خاتون چیف جسٹس رہ چکی ہیں اور بدعنوانی کے خلاف سخت موقف کے لیے مشہور ہیں، منصب پر رہتے ہوئے انہوں نے کرپشن پر زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی تھی۔

    ایک سال سے بھی کم عرصے میں ان کے خلاف مواخذے کی تجویز آئی تھی مگر عوامی دباؤ کی وجہ سے اسے مسترد کرنا پڑا، اس کے بعد انہوں نے چیف جسٹس کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

    یاد رہے کہ نیپال میں گزشتہ دنوں ملک گیر مظاہروں اور ہنگاموں کے باعث کٹھمنڈو سمیت دیگر شہروں میں حالات کشیدہ رہے، مظاہروں میں 51 افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوئےمظاہرین نے پارلیمنٹ، صدارتی محل اور مرکزی سیکریٹریٹ پر حملے کیے اور سوشل میڈیا پر پابندی کے باوجود احتجاج جاری رہا، کئی مقامات پر درجنوں گاڑیاں جلائی گئیں اور عمارتیں تباہ ہوئیں، جن کی ویڈیوز بھی سامنے آئی ہیں احتجاج بدعنوانی اور بے روزگاری کے خلاف ملک گیر تحریک کی شکل اختیار کر گیا تھا،فوج نے دارالحکومت کھٹمنڈو کا کنٹرول سنبھالا ہوا ہے جب کہ سابق وزرائے اعظم، کابینہ ارکان، پارلیمنٹ اور عدالتوں کو نذر آتش کیا جا چکا ہے۔

    دوسری طرف وزیرداخلہ رمیش لیکھک اور وزیر زراعت رامناتھ ادھیکاری سمیت کئی وزراء نے استعفیٰ دے دیا ہے، وزیراعظم کھگندر پرساد اولی نے بھی استعفیٰ دے کر نگراں حکومت کی قیادت قبول کر لی ہے، فوج نے وزراء کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا تھاصدر رام چندر پاؤڈل نے عوام سے پرامن رہنے اور مزید خون خرابہ روکنے کی اپیل کی ہے۔

  • عام انتخابات، پی ٹی آئی خواتین میں مقبول جماعت رہی

    عام انتخابات، پی ٹی آئی خواتین میں مقبول جماعت رہی

    عام انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف خواتین میں مقبول جماعت رہی، فافن نے رپورٹ جاری کردی ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق فافن نے مردوں کے مقابلے میں خواتین ووٹرز کے رحجان سے متعلق رپورٹ جاری کردی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عام انتخابات میں 18فیصدخواتین نے مردوں سے مختلف ووٹ ڈالے،82فیصد حلقوں میں مرد اور خواتین ووٹرز کا انتخاب جیتنے والا امیدوار تھا۔فافن رپورٹ کے مطابق شہری حلقوں میں خواتین نے مردوں کے مقابلے میں مردوں سے مختلف ووٹ دیا،اسلام آباد کے حلقوں 37 فیصد خواتین نے مرد ووٹرز کے مقابلے میں مختلف امیدوار کو ووٹ دیا، بلوچستان کی خواتین نے37،سندھ19اور پنجاب18فیصد مردوں سے مختلف ووٹ دیا۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی خواتین میں سب سے مقبول جماعت رہی، خواتین میں ووٹرز کے تناسب سے ن لیگ دوسرے جبکہ پی پی تیسرے نمبر پر ہے۔ عام انتخابات میں خواتین ووٹرز میں پی ٹی آئی ملک بھر میں مقبول رہی، پنجاب میں ن لیگ خواتین ووٹرز میں زیادہ مقبول رہی،سندھ میں پی پی نے خواتین ووٹرز کو زیادہ راغب کیا۔فافن رپورٹ کے مطابق این اے 37میں خواتین نے جیتنے والے امیدوار کے مخالف کو زیادہ ووٹ کیا، این اے266میں خواتین ووٹرز نے جیتنے والے امیدوار کو زیادہ ووٹ دئیے، خواتین پولنگ اسٹیشنز پر زیادہ ووٹ جیتنے والے امیدواروں نے حاصل کیا، ملک بھر کے سات حلقوں میں جیتنے والے امیدواروں نے خواتین پولنگ اسٹیشنز کے باعث لیڈ حاصل کی۔

    ڈیٹا چوری کرنے کیلئےہیکرز 16 مخصوص براؤزر زکا استعمال کر رہے ہیں

  • نواز شریف ناراض،جعلی مینڈیٹ سے بنی حکومت نہیں چل سکے گی، شوکت یوسفزئی

    نواز شریف ناراض،جعلی مینڈیٹ سے بنی حکومت نہیں چل سکے گی، شوکت یوسفزئی

    تحریک انصاف کے رہنما ،سابق صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی نے کہا ہے کہ نواز شریف اور مریم نواز سیٹ جیت نہیں سکتے تھے زبردستی لی گئی ہے

    پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شوکت یوسفزئی کا کہنا تھاکہ الیکشن میں بدترین دھاندلی ہوئی ہے، ہمارا مینڈیٹ چھینا گیا ہے، نواز شریف ، مریم اپنی سیٹ نہیں جیت سکے، ہم عدالت جائیں گے،ان شاء اللہ ہمیں کافی امیدیں ہیں، انصاف ملے گا، مخصوص سیٹوں کا معاملہ بھی خوش اسلوبی سے طے ہو گا، پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ معاشی بحران کسی کو سمجھ نہیں آ رہا،جن کو زبردستی حکومت میں دھکیلا جا رہا ہے انہیں تو کچھ سمجھ نہیں آ رہا، ڈیڑھ سال یہ حکومت میں رہے اور ملک میں تباہی مچائی، نواز شریف کو دوتہائی اکثریت نہیں ملی تو تووہ ناراض ہو گئے، شہباز شریف کو آگے کیا گیا، پی پی اور ن لیگ کا عہدوں پر اختلاف ہے، ساری سیاسی جماعتیں کہہ رہی ہیں دھاندلی ہوئی ہے، پی ٹی آئی ورکرز کو آگے لائی ہے، میاں اسلم کو دیکھ لیں، عمر ایوب کو دیکھ لیں یہ کارکن ہیں، جمہوریت آج ختم ہو رہی ہے، فیملیز پارٹیز بن گئی ہیںَ،ہمارا حکومت سازی کا عمل مکمل ہو گیا ہے جلد سامنے لائیں گے، صحت کارڈ دوبارہ بحال کریں گے، وفاق سے اپنا حق مانگ رہے ہیں اور لیں گے، جعلی مینڈیٹ کے ذریعے آپ حکومت بنالیں گے، آئی ایم ایف کی غلامی کریں گے،مریم اپنی سیٹ نہیں جیت سکی، نواز شریف کا ڈرامہ فیل ہوا، نواز شریف کو دوتہائی نہیں ملی، مریم کو وزیراعلی پنجاب اور شہباز شریف وزیراعظم، یہ فیملی پارٹی ہے، عوام مایوس ہو چکی ہے، آپ کدھر جائیں گے، ایک دو ماہ بعد جلسے جلوس شروع ہو جائیں گے، ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی نے جو سیٹی جیتیں یہ ہمارا مینڈیٹ ہے، نواز شریف تو اپنی سیٹ نہیں جیت سکا، یہ حکومت میں عہدے لے کر کیا کریں گے، معاشی بحران شدید ہے، جب تک عوامی مینڈیٹ نہیں ہو گا آپ کچھ نہیں کر سکتے،گیس مہنگی ہو گئی، بجلی مہنگی،پٹرول مہنگا ہو رہا، آئی ایم ایف کی شرائط پر عملدرآمد ہو گا، عوام کو کیسے مطمئن کریں گے؟

    دوسری جانب پی ٹی آئی کے رہنما تیمور سلیم جھگڑا نے الیکشن کمیشن کے باہر میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن میں پشاور کے 9 حلقوں کی کیسز کی سماعت ہوئی ہے،فارم 45 اور فارم 47 میں زمین آسمان کا فرق ہے،پشاور کے قومی و صوبائی اسمبلیوں کے حلقوں کے نتائج تبدیل کیے گئےہم پہلے بھی الیکشن کمیشن آئے، پھر ہائیکورٹ بھیجا گیا، پانچ آر اوز نے ایک جیسی رپورٹ بنا کر بھیج دی ہے،آر اوز نے رپورٹ میں جھوٹ لکھا ہے،جو دھاندلی اور پیسہ چلا ہے ، وہ سب کے سامنے ہیں میں بہت عرصہ سے الیکشن میں حصہ لے رہا، آج تک فارم 45 کو تبدیل ہوتا نہیں دیکھا،فارم 45 جو ٹیمپر ہوئے ہیں یہ سیدھا فوجداری کا کیس بن رہا ہے، جو کریمنل کام ہوا ہے، اسے ہم چھوڑ نہیں سکتے ہیں،

    اسلام آباد میں خواتین کی حنیف عباسی،خواجہ سعد رفیق کے ساتھ بدتمیزی

    آبائی نشست سے متوقع ہار ،نواز شریف افسردہ ،ماسک پہن کر ماڈل ٹاؤن سے روانہ،تقریر بھی رہ گئی

    مخلوط حکومت کانام نہ لیں ایک پارٹی کی اکثریت ضروری ہے،نواز شریف

    انتخابات ابھی تک تو پُر امن ہیں،نگران وزیراعظم

    آر او کے دفاتر میں دھاندلی کی گئی، پولیس افسران معاون تھے،سلمان اکرم راجہ

  • انتخابات کالعدم قرار دینے کی درخواست سپریم کورٹ  سے خارج

    انتخابات کالعدم قرار دینے کی درخواست سپریم کورٹ سے خارج

    سپریم کورٹ نے آٹھ فروری کو ملک بھر میں ہونے والے عام انتخابات کالعدم قرار دینے کی درخواست خارج کر دی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی، جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی بینچ کا حصہ تھے،سپریم کورٹ نے 19 فروری کو شہری علی خان کو وزارتِ دفاع کے ذریعے نوٹس جاری کیا تھا تاہم درخواست گزار سابق بریگیڈیئر علی خان پیش نہیں ہوئے،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ علی خان کے گھر پولیس بھی گئی، وزارتِ دفاع کے ذریعے نوٹس بھی بھیجا، علی خان گھر میں نہیں ہیں، نوٹس ان کے گیٹ پر لگا دیا گیا ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ علی خان کون ہیں؟ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ یہ سابق بریگیڈیئر ہیں جن کا 2012ء میں کورٹ مارشل ہوا تھا،

    شوکت بسرا قرآن لے کر چیف جسٹس کی عدالت پہنچ گئے، چیف جسٹس نے بات نہ سنی بٹھا دیا
    دوران سماعت تحریک انصاف کے رہنما شوکت بسرا روسٹرم پر آ گئے تاہم عدالت نے انہیں بولنے کی اجازت نہیں دی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے شوکت بسرا کو بیٹھنے کا حکم دیا،شوکت بسرا نے عدالت میں کہاکہ میں بہاولنگر سے منتخب رکن اسمبلی ہوں، اس کیس میں پیش ہونا چاہتا ہوں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے شوکت بسرا سے استفسار کیا کہ آپ علی خان کے وکیل ہیں؟شوکت بسرانے عدالت میں جواب دیا کہ نہیں میں ان کا وکیل نہیں ہوں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہاکہ آپ بیٹھ جائیں ہمیں وکیلوں کو سننے دیں، شوکت بسرا نے کہاکہ میں بھی ہائیکورٹ کا وکیل ہوں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہاکہ مبارک ہو آپ ہائیکورٹ کے وکیل ہیں مگر آپ تشریف رکھیں ،شوکت بسرا نے استدعا کی کہ میری بات تو سن لیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہاکہ آپ بیٹھ جائیں ورنہ لائسنس منسوخ کرنے کا حکم دے کر توہین عدالت کا نوٹس بھی کر سکتے ہیں، آپ کا اس کیس سے تعلق کیا ہے؟شوکت بسرا نے کہاکہ میرا اس کیس سے تعلق نہیں لیکن میرے ہاتھ میں قرآن ہے اس کی قسم کھانا چاہتا ہوں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ یہ نہ کریں ورنہ توہین کا نوٹس کر دیں گے،شوکت بسرا نے کہاکہ پاکستان کی سب سے بڑی عدالت ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہاکہ تقریر نہ کریں، ہمارے سامنے، پہلے سن لیجیے، بالکل ہی اخلاق چھوڑ دیا ہے،آئندہ آپ نے یہ کیا تو وکالت کا لائسنس منسوخی کا معاملہ بار کو بھیجیں گے،سب نے ملکر سپریم کورٹ کو مذاق بنایا ہوا ہے ،اب اس درخواست گزار کو دیکھیں درخواست دائر کر کے بیرون ملک روانہ ہو گیا،شوکت بسرا کا کنڈکٹ دیکھیں، مجھ سے معافی تک نہیں مانگی، شہزاد شوکت نے کہا کہ سپریم کورٹ میں کبھی اتنی شفافیت نہیں تھی جنتی چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کے آنے کے بعد آئی، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ درخواست گزار کا کہنا ہے کہ اس نے کسی میڈیا چینل سے بات کی نا ہی درخواست جاری کرائی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے صدر سپریم کورٹ بار شہزاد شوکت سے سوال کیا کہ شوکت بسرا کے خلاف رپورٹ ہونی چاہیے یا بار کونسل کارروائی کرے گی؟صدر سپریم کورٹ بار نے کہا کہ میری درخواست ہے کہ شوکت بسرا والے معاملے کو فیصلے کا حصہ نا بنایا جائے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کے کہنے پر ان کو چھوڑ رہے ہیں، اگر شوکت بسرا نے باہر جا کر اس کیس سے متعلق میڈیا پر بات کی تو یہ بھی کسی چیز کے لیے تیار رہیں، وکیل شہزاد شوکت نے کہا کہ میں شوکت بسرا کو سمجھا دوں گا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا یہ کوئی سازش نہیں ہے کہ ایک دن درخواست دائر کر کے اگلے ہی دن درخواست گزار ملک سے چلا گیا، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ یہ نہیں ہو سکتا کہ درخواست گزار خود نا آئے اور دوسری پارٹی کو راستہ دکھائے کہ اس درخواست کے ذریعے عدالت آجاو،

    میڈیا کا آج کل بس یہی کام ہے کہ جھوٹی خبریں چلا کر ریٹنگ لو،چیف جسٹس پھٹ پڑے
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ عدالت کا غلط استعمال ہو رہا ہے، اس ملک کو دنیا کے لیے جگ ہنسائی کا سامان بنا دیا گیا ہے،ہفتے کو ایک مرکزی ٹی وی چینل پر خبر چلی کہ ججز کا اجلاس ہو گیا ہے،میرا ساتھی ججز کے ساتھ کوئی اجلاس نہیں ہوا لیکن یہاں تو میڈیا آزاد ہے،میرے ساتھی ججز مجھ سے پوچھ رہے ہیں کہ بتائیں پھر اجلاس میں کیا ہوا؟ ججز آ کر اب پریس کانفرنس کر کے وضاحتیں تو نہیں دے سکتے، خبر چلانے سے پہلے تصدیق تو کر لیا کریں رجسٹرار کو کال کر کے پوچھ لیں،یہاں جینوین صحافی نوکری سے فارغ ہو رہے ہیں، اب یہ میڈیا چلائے گا نہیں کہ بریگیڈئیر کا کورٹ مارشل ہوا تھا،ہر چیز پر بس ضمیر بیچ دو، گھر بیٹھ کر کچھ بھی چلا دیتے ہیں،سچ بولیں اور سچ بتائیں لیکن نہیں، یہاں میڈیا کو بس اپنی ریٹنگ کی پڑی ہے،اب ہر کوئی آ کر کھڑا ہو جائے کہ درخواست خارج کیوں کر دی، میڈیا کا آج کل بس یہی کام ہے کہ جھوٹی خبریں چلا کر ریٹنگ لو، صدر سپریم کورٹ بار شہزاد شوکت نے کہا کہ ہفتے کو تو یہ خبر بھی چل گئی تھی کہ بنچ بن گیا اور سماعت شروع ہو گئی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میڈیا سے غلطی بھی ہو سکتی ہے لیکن وضاحت بھی تو چلائیں کہ خبر غلط چلی، اگر میڈیا 10 جھوٹی خبریں چلائے گا تو لوگ ان کی خبروں پر اعتماد کرنا چھوڑ دیں گے، میں نے ایسا کبھی پہلے نا دیکھا نا سنا، یہ نہیں ہے کہ بس اداروں پر ملامت شروع کر دیں،ملک میں بس دو تین ہی تو ادارے باقی رہ گئے ہیں،ایک سپریم کورٹ ہے ایک پارلیمنٹ اور ایک دو اور ادارے،

    سپریم کورٹ نے 8 فروری کے انتخابات کو کالعدم قرار دینے کی درخواست خارج کر دی جبکہ عدم پیشی پر درخواست گزار پر 5 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کر دیا

    سپریم کورٹ میں 8 فروری کے انتخابات کو کالعدم قرار دینے کیلئے درخواست دائر کی گئی تھی، درخواست میں کہا گیا تھاکہ8 فروری کے انتخابات کے نتیجے میں حکومت بننے کے عمل کو روکا جائے ،عدلیہ کی زیر نگرانی 30 روز میں نئے انتخابات کروانے کا حکم دیا جائے ،درخواست علی خان نامی شہری نے دائر کی تھی

    واضح رہے کہ آٹھ فروری کو ملک بھر میں انتخابات ہوئے جس میں کسی بھی جماعت نے واضح اکثریت حاصل نہیں کی،سیاسی جماعتیں دھاندلی کے خلاف بھی سراپا احتجاج ہیں،سندھ میں دھرنا دیا گیا ہے تو تحریک انصاف نے ملک بھر میں احتجاج کیا ہے، ن لیگ بھی کہہ رہی ہے ہماری سیٹیں چھینی گئیں تو پیپلز پارٹی کا بھی یہی دعویٰ ہے

    پنجاب میں میاں اسلم،بلوچستان میں سالار وزارت اعلیٰ کے امیدوار،بیرسٹر گوہر کا اعلان

    جماعت اسلامی کا تحریک انصاف سے اتحاد سے انکار

    نواز شریف کا چوتھی بار وزارت عظمیٰ کا خواب ادھورا، شہباز شریف وزیراعظم نامزد

    اگر آزاد کی اکثریت ہے تو حکومت بنا لیں،ہم اپوزیشن میں بیٹھ جائینگے، شہباز شریف

    پی ٹی آئی کا وفاق اور پنجاب میں ایم ڈبلیو ایم ،خیبر پختونخوامیں جماعت اسلامی سے اتحاد کا اعلان

    نواز شریف چیخ اٹھے مجھے کیوں بلایا،زرداری کی شرط،مولانا کی ضد،ن کی ڈیمانڈ

    موبائل بندش سے نتائج تاخیر کا شکار،دھاندلی بھی ہوئی، الیکشن کمیشن کی تصدیق

    جہانگیر ترین پارٹی عہدے سے مستعفی،سیاست چھوڑنے کا اعلان

  • سری لنکا میں عام انتخابات  اگلے برس کرانے کا  فیصلہ

    سری لنکا میں عام انتخابات اگلے برس کرانے کا فیصلہ

    کولمبو: سری لنکا میں عام انتخابات کا اعلان کر دیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق سری لنکن وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ انتخابات اگلے برس 2025 میں ہوں گے سری لنکا کے عام انتخابات کے لیے مالیاتی انتظامات اگلے سال کے بجٹ میں فراہم کیے جائیں گے صدار تی انتخاب مقررہ مدت کے اندر کرائے جائیں گے۔

    واضح رہے کہ 2024 میں 64 ممالک میں انتخابات ہونا تھے، جن میں سے پاکستان سمیت 10 ممالک میں 8 فروری تک انتخابات کا انعقاد ہو چکا ہے ، 2025 میں سری لنکا کے علاوہ دیگر کئی ممالک میں بھی لوگ حق رائے دہی استعمال کریں گے۔

     

    علی امین گنڈا پور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نامزد

    اگر آزاد کی اکثریت ہے تو حکومت بنا لیں،ہم اپوزیشن میں بیٹھ جائینگے، شہباز شریف

    پی ایس ایل 9 کیلئے ٹرافی کی رونمائی کردی گئی

  • الیکشن کمیشن پانچوں اسمبلیوں میں سیاسی جماعتوں کی ابتدائی پارٹی پوزیشن جاری کر دی

    الیکشن کمیشن پانچوں اسمبلیوں میں سیاسی جماعتوں کی ابتدائی پارٹی پوزیشن جاری کر دی

    اسلام آباد: الیکشن کمیشن نے عام انتخابات کے بعد قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں سیاسی جماعتوں کی ابتدائی پارٹی پوزیشن جاری کر دی-

    باغی ٹی وی: الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری ابتدائی اعداد وشمار کے مطابق قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے 854 حلقوں میں سے 348 پر آزاد امیدوار کامیاب ہوئے اور سب سے زیادہ نشستیں حاصل کر لیں، پاکستان مسلم لیگ (ن) مجموعی طور پر 227 نشستیں جیت کر سب سے بڑی جماعت بن گئی، پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) 160 نشستوں کے ساتھ دوسرے اور متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان 45 نشستیں حاصل کر کے تیسرے نمبر پر رہی-

    دیگر جماعتوں میں مسلم لیگ (ق) اور جمعیت علمائے اسلام(جے یو آئی) 15،15 اور جماعت اسلامی کے 5 امیدوار کامیاب ہوئے، مجلس وحدت المسلمین (ایم ڈبلیو ایم)، عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی)،گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے)، بلوچستان نیشنل عوامی پارٹی (بی این پی)، مسلم لیگ ضیا سمیت چھوٹی پارٹیوں نے دیگر نشستیں حاصل کیں-

    8 فروری کوالیکشن کم اورسودا گری کا بازار زیادہ تھا، ایمل ولی خان

    قومی اسمبلی میں آزاد امیدواروں نے مجموعی طور پر 101،مسلم لیگ ن نے 75، پی پی پی نے 54 نشستیں حاصل کیں اور سرفہر ست جماعتیں رہیں، جمعیت علمائے اسلام نے 4 ، مسلم لیگ (ق) 3، استحکام پاکستان پارٹی اور بلوچستان نیشنل پارٹی نے 2،2، مجلس وحدت المسلمین، مسلم لیگ ضیا، بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی)، نیشنل پارٹی، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اور پختونخوا نیشنل ملی عوامی پارٹی ایک،ایک نشست جیتنے میں کامیاب رہی۔

    پنجاب میں مسلم لیگ (ن)، سندھ میں پیپلزپارٹی، خیبر پختونخوا میں آزاد اور بلوچستان میں جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) اور پی پی پی کو11،11نشستیں حاصل ہوئیں جبکہ خیبربختونخوا میں صوبائی اسمبلی کی 90 نشستوں پر آزاد امیدوار ، جمعیت علمائے اسلام کے7، مسلم لیگ (ن) کے 5، پی پی پی کے 4، جماعت اسلامی کے 3، پی ٹی آئی پارلیمنٹرین (پی ٹی آئی پی) 2، اور ایک نشست عوامی نیشنل پارٹی(اے این پی) کو حاصل ہوئی۔

    این اے 121 سے کامیاب پی ٹی آئی حمایت یافتہ امیدوار ن لیگ میں …

    پنجاب اسمبلی میں پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ اور دیگر سمیت مجموعی طور پر 138 آزاد امیدوار کامیاب ہوئے، مسلم لیگ (ن) کو 137، پی پی پی کو10، مسلم لیگ (ق) کو 8، استحکام پاکستان پارٹی، مسلم لیگ ضیا اور تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کو ایک،ایک نشست ملی، جبکہ سندھ اسمبلی کی 84 نشستوں پی پی پی کامیاب ہوئی، ایم کیو ایم پاکستان کو 28، آزاد امیدوار13، جی ڈی اے اور جماعت اسلامی کو بالترتیب 2،2 نشستیں حاصل ہوئیں۔

    بلوچستان اسمبلی میں پی پی پی اور جمعیت علمائے اسلام کو 11،11 نشستیں حاصل ہوئیں، مسلم لیگ (ن) کو 10 نشستیں ملیں، بلوچستان عوامی پارٹی کو 4، نیشنل پارٹی کو 3، عوامی نیشنل پارٹی کو 2، بلوچستان نیشنل پارٹی، بی این پی عوامی، حق دو تحریک بلوچستان اور جماعت اسلامی کو ایک،ایک نشست حاصل ہوئی۔

    حماس سربراہ اسماعیل ہانیہ کے بیٹے کی اسرائیلی حملے میں شہادت کی اطلاعات

  • آزاد امیدواروں نے بڑےناموں کو شکست دیکر ایوان پہنچنے سے روک دیا

    آزاد امیدواروں نے بڑےناموں کو شکست دیکر ایوان پہنچنے سے روک دیا

    عام انتخابات 2024، آزاد امیدوار سب پر بازی لے گئے تو وہیں بڑے نام ایوانوں تک نہ پہنچ سکے

    تحریک انصاف چھوڑ کر نئی سیاسی پارٹیاں بنانے والے بھی اپنی سیٹیں نہ جیت سکے، کئی جماعتوں کے سربراہان بھی الیکشن ہار گئے، آزاد امیدواروں نے بڑے مارجن سے جیت حاصل کی اور امیدواروں کو شکست دی، سابق وزیراعظم نواز شریف دو سیٹوں پر امیدوار تھے، لاہور سے نواز شریف جیت گئے تو مانسہرہ سے ہار گئے، مولانا فضل الرحمان بھی دو سیٹوں پر امیدوار تھے، ڈی آئی خان میں آبائی سیٹ ہار گئے ، پشین سے جیت گئے، جہانگیر ترین بھی دو سیٹوں پر امیدوار تھے،اور دونوں سیٹوں پر ہار گئے، بلاول زرداری لاڑکانہ سے جیت گئے تا ہم لاہور سے ہار گئے، جہانگیر ترین کو ایک سیٹ پر آزاد امیدوار اور ایک پر ن لیگ نے شکست دی ہے،امیر جماعت اسلامی سراج الحق دیر سے ہار گئے، مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو لاہور سے ہار گئے، تحریک لبیک کے امیر حافظ سعد رضوی ہار گئے،عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد بھی ہار گئے،

    سابق وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الہیٰ ہار گئے، کے پی کے دو سابق وزراء اعلیٰ پرویز خٹک اور محمود خان دونوں ہار گئے،سابق وفاقی وزراء خواجہ سعد رفیق، رانا ثناء اللہ، جاوید لطیف ہار گئے، ن لیگی رہنما عابد شیر علی ہار گئے،آفتاب شیر پاؤ بھی نہ جیت سکے،ایمل ولی خان کو بھی شکست ہوئی، سابق وفاقی وزیر سینیٹر طلحہ محمود بھی این اے ون چترال سے ہار گئے،اے این پی کی ثمر ہارون بلو ر بھی ہار گئی،این اے 2 مالاکنڈ پر مسلم لیگ (ن) کے امیر مقام کو آزاد امیدوار امجد خان سے شکست ہوئی۔ البتہ امیر مقام این اے 11 سے منتخب ہوگئے ہیں،این اے 246 کراچی میں حافظ نعیم الرحمان ایم کیو ایم کے امین الحق سے ہار گئے ہیں، البتہ حافظ نعیم صوبائی اسمبلی کی سیٹ سے جیت چکے ہیں،

    جماعت اسلامی ، تحریک لبیک قومی اسمبلی میں نہ پہنچ سکیں تا ہم جماعت اسلامی سندھ، بلوچستان اور کے پی کی اسمبلی میں پہنچ گئی، تحریک لبیک پنجاب اسمبلی میں پہنچ گئی،استحکام پاکستان پارٹی پنجاب اور قومی اسمبلی میں پہنچ گئی، پی ٹی آئی پارلیمنٹرین کے پی اسمبلی میں پہنچ گئی، اگرچہ ان سب جماعتوں کی ایک دو دو سیٹیں ہیں،

    این اے 130 لاہور ، نواز شریف جیل میں گرفتار یاسمین راشد سے جیت گئے

    بلاول کا "تیر” چل گیا، پیپلز پارٹی اب تک قومی کی ایک،صوبائی کی 5سیٹوں سے کامیاب

    سیاسی جماعتوں کی خواتین امیدوار کم ، عدالت نے الیکشن کمیشن کو کیس بھیج دیا

    تخت لاہور،لطیف کھوسہ، میاں اظہر ،وسیم قادر کی جیت،شہباز،حمزہ،مریم،ایازصادق کی بھی جیت

    پنجاب،عمران نذیر،سلمان رفیق،میاں اسلم اقبال،بلال یاسین جیت گئے، رانا مشہود کو شکست

    انتخابی نتائج،آزاد امیدوار وں کا پلڑا تاحال بھاری، ن لیگ دوسرے نمبرپر

    تحریک انصاف کیلیے اچھی خبر، مخصوص نشستوں کا حصول آسان ہو گیا

    آزاد امیدوار ابھی تک آگے،مگر نواز شریف کو حکومت بنانے کی جلدی

    مانسہرہ سے نواز شریف جیت چکے ہیں،اسحاق ڈار کا دعویٰ