Baaghi TV

Tag: عام انتخابات

  • پی ٹی آئی کاعام انتخابات 90 روز میں کرانےکیلئےسپریم کورٹ سے رجوع

    پی ٹی آئی کاعام انتخابات 90 روز میں کرانےکیلئےسپریم کورٹ سے رجوع

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) نے عام انتخابات 90 روز میں کرانے کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا۔

    باغی ٹی وی: پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل عمر ایوب نے سینیٹر علی ظفر کے ذریعے درخواست دائر کی جس میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ چاروں صوبوں کے گورنرز کو انتخابات کی تاریخ کے لیے ہدایات جاری کرے،صدر مملکت کو انتخابات کی تاریخ کے اعلان کا آئینی حق آرٹیکل 58 ون کے تحت حاصل ہے۔

    درخواست میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کے پاس کوئی اختیار نہیں کہ الیکٹورل پراسس کوحلقہ بندیوں کےبہانے سے التوا میں ڈالے،مردم شماری سے متعلق فیصلہ کرنے والی مشترکہ مفادات کونسل کی تشکیل مکمل نہیں تھی، الیکشن کمیشن غیر آئینی مشترکہ مفادات کونسل کے فیصلے پر انحصار کر کے انتخابات میں تاخیر نہیں کر سکتا۔

    انڈونیشیا میں حجاب نہ پہننےپراسکول ٹیچرنے14 طالبات کےبال ہی کاٹ دیئے

    پی ٹی آئی کی جانب سے دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ مشترکہ مفادات کونسل کے فیصلے اور فیصلے کے بعد جاری نوٹیفکیشن کالعدم قرار دیا جائے، انتخابات بروقت نا ہونے سے پاکستان ایک اور آئینی بحران کا شکار ہو جائے گا الیکشن کمیشن کو انتخابات میں التوا کا اختیار آئینی رو سے جائز نہیں، کالعدم قرار دیا جائے،درخواست میں وفاق، چاروں صوبوں، الیکشن کمیشن، گورنرز اور مشترکہ مفادات کونسل کو فریق بنایا گیا ہے۔

    دوسری جانب 90 روز میں انتخابات کا انعقاد یقینی بنانے کے لیے جماعت اسلامی نے سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا, جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ نے عدالت عظمی میں آئینی درخواست دائر کر دی،جماعت اسلامی کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں الیکشن کمیشن، وفاقی حکومت، صوبائی حکومتوں اور صوبائی الیکشن کمشنرز کو فریق بنایا گیا ہے-

    لاہور:پولیس کااینٹی نارکوٹکس یونٹ منشیات فروش نکلا،4 اہلکار گرفتار،ڈی ایس پی فرارہو گیا

    درخواست میں سپریم کورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ الیکشن کمیشن کو نوے روز میں انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں،الیکشن کمیشن کو الیکشن شیڈول جاری کرنے کا حکم دیا جائےآرٹیکل 218(3) کے تحت نگران حکومتوں اور اتھارٹیز کو آزادانہ اور شفاف انتخابات کے انعقاد کے لیے الیکشن کمیشن کی معاونت کا حکم دیا

  • پیپلز پارٹی کا سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا دوسرا اجلاس لاہور میں بلانے کا فیصلہ

    پیپلز پارٹی کا سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا دوسرا اجلاس لاہور میں بلانے کا فیصلہ

    آئندہ انتخابات کا معاملہ ،پیپلز پارٹی نے سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا دوسرا اجلاس لاہور میں بلانے کا فیصلہ کر لیا

    پیپلز پارٹی کی سی ای سی کا اجلاس آئندہ ہفتے لاہور میں ہوگا,اجلاس میں سابق صدر آصف علی زرداری ، چئیرمن بلاول بھٹو زرداری سمیت دیگر رہنما اور ممبران شریک ہونگے,پیپلز پارٹی نے حالیہ کراچی میں ہونے والی سی ای سی میں پانچ رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے جو سوموار کو الیکشن کمیشن سے ملاقات کرے گی ،کمیٹی الیکشن کمیشن سے مقررہ وقت میں انتخابات کروانے کے حوالے سے تجاویز پیش کرے گی کمیٹی میں سید نئیر بخاری، شیری رحمان، فیصل کریم کنڈی و دیگر کو شامل کیا گیا ہے,کمیٹی آئندہ سی ای سی میں الیکشن کمیشن کے ساتھ ہونے والی انتخابات کے حوالے سے ملاقات پر ممبران کو آگاہ کرے گی, کمیٹی کی الیکشن کمیشن سے ملاقات کی روشنی میں سی ای سی میں آئندہ کے فیصلے کیے جائیں گے,

    دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی سنٹرل پنجاب کے سیکرٹری اطلاعات شہزاد سعید چیمہ نے سنٹرل سیکرٹریٹ ماڈل ٹاؤن میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کل اجلاس میں ملکی حالیہ الیکشن کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا ،سی آئی سی نے آئینی مدت کے اندر انتخابات کے انعقاد پر اتفاق کیا، الیکشن کمیشن آرٹیکل 224 کو اوور رول نہیں کر سکتا،الیکشن کمیشن جنرل الیکشن 2023 کروائے جائیں،ہم پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ الیکشن کا انعقاد وقت پر ہونا چاہیے،اگر کسی بہانے کے ساتھ تاخیر ہوئی تو یہ آئین شکنی ہوگی،اگر مردم شماری کے بعد سیٹوں میں اضافہ نہیں ہو رہا تو یہ پوائنٹ اتنا اہمیت کا حامل نہیں، معاشی بحران بڑھتا جا رہا ہے, عام آدمی کے لیے زندگی گزارنا مشکل ہو چکا ہے، نگران حکومت اپنی ذمہ داری پوری کرے اور الیکشن کے انتظامات کرے،ہم پرسوں الیکشن کمیشن سے ملاقات میں اپنے مطالبات رکھیں گے،الیکشن کے انعقاد کے لیے ہم ہر قانونی حربہ استعمال کریں گے،اعتزاز احسن سوشل میڈیا پر تمام بیانات کی ترتید کر چکے ہیں،ان کی رکنیت کسی نے ختم نہیں کی،

     غیر حاضری کی صورت میں آئندہ عام انتخابات میں انتخابی نشان کے حصول کے لئے پی ٹی آئی کو نااہل قرار دیا جا سکتا ہے 

    سیما کو گرفتاری کے بعد ضمانت مل گئی 

    ضمانت ملی تو ملک کے بعد مذہب بھی بدل لیا،

    سیما کو واپس نہ بھیجا تو ممبئی طرز کے حملے ہونگے،کال کے بعد ہائی الرٹ

     سیما حیدر کے بھارت میں گرفتاری کے ایک بار امکانات

    پب جی پارٹنر ، سیما اور سچن ایک بار پھر جدا ہوا گئے

  • الیکشن کمیشن نے جماعت اسلامی،ایم کیو ایم کو مشاورت کے لئے بلا لیا

    الیکشن کمیشن نے جماعت اسلامی،ایم کیو ایم کو مشاورت کے لئے بلا لیا

    الیکشن کمیشن نے عام انتخابات سے متعلق مشاورتی عمل تیز کرنے کا فیصلہ کر لیا

    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے مختلف سیاسی جماعتوں کو مشاورت کے لیے طلب کر لیا ،پیپلزپارٹی ،ایم کیو ایم اور جماعت اسلامی کو طلب کر لیا گیا ،الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے سیاسی جماعتوں کے سربراہان کو دعوت نامے بھیج دیے گئے ،الیکشن کمیشن نے عام انتخابات سے متعلق مشاورت کے لیے آصف علی زرداری ،خالد مقبول صدیقی اور سراج الحق کو دعوت نامہ بھیج دیا ،

    ایم کیو ایم کے وفد کو 28 اگست کو الیکشن کمیشن آف پاکستان کے مرکزی سیکریٹریٹ طلب کیا گیا ہے ،جماعت اسلامی کے وفد کو 28 اگست کو الیکشن کمیشن آف پاکستان کے مرکزی سیکریٹریٹ طلب کیا گیا ہے .پیپلزپارٹی کے وفد کو 29 اگست کو الیکشن کمیشن آف پاکستان کے مرکزی سیکریٹریٹ طلب کیا گیا ہے الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے سیاسی جماعتوں سے حلقہ بندیوں ،انتخابی شیڈول و دیگر ضروری امور پر بات کی جائے گی الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے جلد دیگر جماعتوں کو بھی خطوط لکھے جائیں گے

    الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے گزشتہ دنوں مسلم لیگ ن ،تحریک انصاف اور جے یو آئی کو بھی مشاورت کے لیے دعوت نامے بھیجے گئے تھے الیکشن کمیشن کی جانب سے آئی جی بلوچستان ،چیف سیکریٹری بلوچستان کو بھی 29 اگست کو طلب کیا گیا ہے الیکشن کمیشن نے صوبائی الیکشن کمشنر بلوچستان کو بھی 29 اگست کو مشاورت کے لیے طلب کیا ہے

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

    الیکشن کمیشن کی جانب سے آئی جی سندھ ،چیف سیکریٹری سندھ کو بھی 29 اگست کو طلب کیا گیا ہے الیکشن کمیشن نے صوبائی الیکشن کمشنر سندھ کو بھی 29 اگست کو مشاورت کے طلب کیا ہے

  • چاہتے ہیں جلد سے جلد منتخب حکومت آئے،احسن اقبال

    چاہتے ہیں جلد سے جلد منتخب حکومت آئے،احسن اقبال

    ن لیگی رہنما، احسن اقبال کی سربراہی میں ن لیگ کے چھ رکنی وفد نے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ سے ملاقات کی وفد میں احسن اقبال، سینیٹر اعظم نزیر تارڑ، زاہد حامد، رانا ثنااللہ ،عطاء تارڑ، اسد جونیجو شامل تھے،ملاقات میں ن لیگی وفد سے انتخابات کے شیڈول، تاریخ اور الیکشن کے روڈ میپ پر مشاورت کی گئی

    ن لیگی رہنما، سابق وفاقی وزیر احسن اقبال نے الیکشن کمیشن کے باہر میڈیا ٹاک کرتے ہوئے کہا کہ آج ن لیگ کا وفد ای سی پی کی دعوت پر آیا اور تجاویز پیش کیں ،ہم نے کہا سی سی آئی کے اجلاس کے بعد مردم شماری کروانے کے پابند ہیں ،الیکشن کمیشن نے ہماری تجویز پر یقین دہانی کروائی ہے ،ہم نے کہا ہے الیکشن میں پیسہ لگانے کے لئے مؤثر اقدامات کئے جائیں ،ہم نے انتخابی عمل کی شفافیت کی بھی تجویز دی ہے کہا ہے کہ 2018 کے الیکشن کے نتائج والا معاملہ نہ ہو،خواتین ووٹرز کی رجسٹریشن کے لئے الیکشن کمیشن اقدامات کرے ،پی ٹی آئی کا مردم شماری کو نظر انداز کرنے کا مطالبہ سمجھ سے بالا تر ہے ،ضروری ہے کہ آئین اور قانون کے دائرے میں جلد حلقہ بندیاں ہوں اور جلد از جلد انتخابات ہوں ،ہم یہ چاہتے ہیں کہ پاکستان میں جلد سے جلد ایک  منتخب حکومت آئے اور پھر آئینی اور جمہوری طور پر منتخب ہونے کے بعد ملکی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرے

    الیکشن کمیشن کا سیاسی جماعتوں سے مشاورت سے متعلق اعلامیہ جاری 

     غیر حاضری کی صورت میں آئندہ عام انتخابات میں انتخابی نشان کے حصول کے لئے پی ٹی آئی کو نااہل قرار دیا جا سکتا ہے 

    سیما کو گرفتاری کے بعد ضمانت مل گئی 

    ضمانت ملی تو ملک کے بعد مذہب بھی بدل لیا،

    سیما کو واپس نہ بھیجا تو ممبئی طرز کے حملے ہونگے،کال کے بعد ہائی الرٹ

     سیما حیدر کے بھارت میں گرفتاری کے ایک بار امکانات

    پب جی پارٹنر ، سیما اور سچن ایک بار پھر جدا ہوا گئے

    علاوہ ازیں جمعیت علماء اسلام کے 7 رکنی وفد کی سینیٹر مولانا عبدالغفورحیدری کی قیادت میں چیئرمین الیکشن کمیشن سے ملاقات کی۔ ملاقات میں سینیٹر کامران مرتضیٰ ، مولانا عطاء الحق درویش ، جلال الدین ایڈوکیٹ ، راوعبدالقیوم ، عطاء اللہ شاہ ایڈوکیٹ ،نوراحمد ودیگر موجود تھے ۔اس موقع پرآئندہ انتخابات کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال گیا ۔جمعیت علماء اسلام کے مرکزی سیکرٹری جنرل سینیٹر مولانا عبدالغفورحیدری نے کہا کہ جمعیت آئین کی دی ہوئی مدت میں صاف وشفاف الیکشن چاہتی ہے ۔2018 کے بدترین انتخابات کی تاریخ نہیں دھرانی چائیے۔

  • بروقت الیکشن کرانے کیلئے سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر

    بروقت الیکشن کرانے کیلئے سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر

    بروقت الیکشن کرانے کیلئے سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر کر دی گئی

    درخواست گزار نے وکلا شاہد کمال ، چوہدری امجد کے ذریعے آئینی سوالات اٹھائے، سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ کیا مشترکہ مفادات کونسل کا 5 اگست 2023 کا اجلاس آئینی تھا؟ کیا پنجاب ، کے پی کے نگران وزرائے اعلٰی اجلاس میں شرکت کے مجاز تھے؟ کیا اپیلٹ فورم کی موجودگی میں اجلاس منعقد کیا جاسکتا تھا؟ کیا نگران حکومت 90 دن سے زیادہ برقرار رہ سکتی ہے؟ کیا الیکشن کمیشن 90 دن میں الیکشن کا آئینی حکم نظر انداز کرسکتا ہے؟

    سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ کیا آئینی حکم نظر انداز کرکے حلقہ بندیاں شروع کی جا سکتی ہیں؟ کیا پارلیمنٹ آئینی ترمیم کے بغیر صدر کا آئینی اختیار کم کرسکتی ہے؟

    قبل ازیں ایک اور درخواست بھی اسی طرز کی سپریم کورٹ میں دائر کی گئی تھی،سپریم کورٹ میں عام انتخابات 90 روز میں کرانے کے لیے درخواست دائر کر دی گئی،درخواست سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے مشترکہ مفادات کونسل کے فیصلوں کے خلاف دائر کی، سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ الیکشن کمیشن کو ہدایت دی جائے کہ وہ 90 روز میں عام انتخابات کرائے، خیبرپختونخوا اور پنجاب کے نگران وزرائے اعلیٰ کی مشترکہ مفادات کونسل میٹنگ میں شرکت کو غیر قانونی قرار دیا جائے، سپریم کورٹ حکم دے کہ الیکشن کمیشن ہر صورت 90 روز کے اندر انتخابات کرائے، قومی اسمبلی کی تحلیل سے ایک ہفتہ قبل مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس بلا کر نئی مردم شماری کے اجراء کی منظوری لینے کا مقصد انتخابات میں تاخیر کرنا ہے، درخواست میں وفاقی حکومت، الیکشن کمیشن، مشترکہ مفادات کونسل اور چاروں صوبوں کو فریق بنایا گیا ہے

     غیر حاضری کی صورت میں آئندہ عام انتخابات میں انتخابی نشان کے حصول کے لئے پی ٹی آئی کو نااہل قرار دیا جا سکتا ہے 

    سیما کو گرفتاری کے بعد ضمانت مل گئی 

    ضمانت ملی تو ملک کے بعد مذہب بھی بدل لیا،

    سیما کو واپس نہ بھیجا تو ممبئی طرز کے حملے ہونگے،کال کے بعد ہائی الرٹ

     سیما حیدر کے بھارت میں گرفتاری کے ایک بار امکانات

    پب جی پارٹنر ، سیما اور سچن ایک بار پھر جدا ہوا گئے

  • 90 دن کے اندر عام انتخابات نہ کروانا آئین سے انحراف ہوگا، پلوشہ خان

    90 دن کے اندر عام انتخابات نہ کروانا آئین سے انحراف ہوگا، پلوشہ خان

    پیپلزپارٹی کے سینٹر وقار مہدی اور سینیٹر پلوشہ خان نے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ 90 دن کے اندر عام انتخابات آئینی ضرورت ہے

    سینیٹر وقار مہدی ‘سینیٹر پلوشہ خان کا کہنا تھا کہ آئینی تقاضے پورے کرنے کے لیے 90 دن کے انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے حلقہ بندیاں 90 دن کے اندر انتخابات میں آئینی رکاوٹ نہیں ہیں 90 دن کے اندر عام انتخابات نہ کروانا آئین سے انحراف ہوگا ہمیں صرف آئین پر عمل کرنا ہوگا

    پیپلز پارٹی کی نائب صدر سینیٹر شیری رحمان کا الیکشن کمیشن سے مقرر وقت پر انتخابات کرانے کا مطالبہ
    سابق وفاقی وزیر پیپلز پارٹی کی رہنما سینیٹر شیری رحمان کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کے حالیہ اعلان سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ نئی مردم شماری کے مطابق حلقہ بندیوں میں چار ماہ لگیں گے، یہ اعلان ہمارے لئے تشویش اور مایوسی کا باعث ہے،
    پاکستان پیپلز پارٹی مطالبہ کرتی ہے کہ الیکشن کمیشن اپنے فیصلے اور جاری کردہ شیڈول پر سنجیدنگی سے نظر ثانی کرے،اسمبلیوں کی جلد تحلیل کرنے کا مقصد الیکشن کمیشن کو تیاریوں کے لیے زیادہ سے زیادہ وقت فراہم کرنا تھا، پیپلز پارٹی نے مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) کے اجلاس میں نئی ​​مردم شماری کے تحت انتخابات کی توثیق کی تھی،اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا تھا کہ موجودہ نشستیں تبدیلی نہیں ہونگی،ڈیجیٹل مردم شماری پر جائز تحفظات کے باوجود، ہم نے نئی مردم شماری کی بنیاد پر عام انتخابات کرانے پر رضامندی ظاہر کی، چونکہ موجودہ قومی اور صوبائی نشستوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہونی، اس لیے حلقہ بندیوں کا عمل تیزی سے مکمل کیا جائے،پیپلز پارٹی اور اس کے ووٹرز عام انتخابات کی تاریخ کے منتظر تھے، حلقہ بندیوں کے شیڈول کے نہیں،انتخابات میں کسی قسم کی تاخیر ملک میں سیاسی غیر یقینی اور عدم استحکام کا باعث بنے گی، جس کا ملک متحمل نہیں، ہمارا آئین الیکشن کمیشن کو پابند کرتا ہے کہ وہ اسمبلی تحلیل ہونے کے 90 دنوں کے اندر عام انتخابات کرائے،ہم الیکشن کمیشن سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آئین کے آرٹیکل 224 کے مطابق انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرے،

    سیکریٹری اطلاعات پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز شازیہ مری کا کہنا ہے کہ آئین کے تحت 90 دن کے اندر انتخابات کروائے جائیں۔
    حلقہ بندی انتخابات کے عمل میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے
    ۔آئین پر عمل کرنا ہوگا 90 دن کے اندر عام انتخابات لازمی ہیں۔ملک کے سیاسی اور معاشی حالات کسی بحران کے متحمل نہیں ہیں۔ پاکستان پیپلزپارٹی انتخابات کے لیئے تیار ہے۔

    واضح رہے کہ پاکستان میں نگران حکومت قائم ہو چکی ہے، قومی اسمبلی وقت سے پہلے تحلیل کر دی گئی تھی ، آئین کے مطابق اب نوے دن میں الیکشن ہونے ہیں تا ہم الیکشن کمیشن نے حلقہ بندیوں کا شیڈول جاری کر دیا ہے، جس کی وجہ سے نوے دن میں الیکشن بظاہر نظر نہیں آ رہے، پیپلز پارٹی کی کوشش ہے کہ الیکشن نوے دن میں ہی ہو جائیں تا ہم ن لیگ کی خواہش ہے کہ الیکشن لیٹ ہوں اور نواز شریف کو واپس آنے اور الیکشن مہم چلانےکا کھلا موقع مل جائے

    عام انتخابات میں تاخیر کے خلاف پشاور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کردی گئی ہے۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ مقررہ مدت میں الیکشن نہ کرانا آئین پاکستان اور سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی ہے۔ الیکشن کمیشن کا کام ہی بروقت الیکشن اور شفاف الیکشن کرنا ہے انتخابات میں تاخیر کا اختیار الیکشن کمیشن کو نہیں۔

     نگران وزیر اعظم انوارالحق کاکڑ کو خط لکھ دیا،

    سپریم کورٹ میں عام انتخابات 90 روز میں کرانے کے لیے درخواست دائر کر دی گئی،درخواست سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے مشترکہ مفادات کونسل کے فیصلوں کے خلاف دائر کی، سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ الیکشن کمیشن کو ہدایت دی جائے کہ وہ 90 روز میں عام انتخابات کرائے، خیبرپختونخوا اور پنجاب کے نگران وزرائے اعلیٰ کی مشترکہ مفادات کونسل میٹنگ میں شرکت کو غیر قانونی قرار دیا جائے، سپریم کورٹ حکم دے کہ الیکشن کمیشن ہر صورت 90 روز کے اندر انتخابات کرائے، قومی اسمبلی کی تحلیل سے ایک ہفتہ قبل مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس بلا کر نئی مردم شماری کے اجراء کی منظوری لینے کا مقصد انتخابات میں تاخیر کرنا ہے، درخواست میں وفاقی حکومت، الیکشن کمیشن، مشترکہ مفادات کونسل اور چاروں صوبوں کو فریق بنایا گیا ہے

    غیر حاضری کی صورت میں آئندہ عام انتخابات میں انتخابی نشان کے حصول کے لئے پی ٹی آئی کو نااہل قرار دیا جا سکتا ہے 

    سیما کو گرفتاری کے بعد ضمانت مل گئی 

    ضمانت ملی تو ملک کے بعد مذہب بھی بدل لیا،

    سیما کو واپس نہ بھیجا تو ممبئی طرز کے حملے ہونگے،کال کے بعد ہائی الرٹ

     سیما حیدر کے بھارت میں گرفتاری کے ایک بار امکانات

    پب جی پارٹنر ، سیما اور سچن ایک بار پھر جدا ہوا گئے

  • سپریم کورٹ میں عام انتخابات 90 روز میں کرانے کے لیے درخواست دائر

    سپریم کورٹ میں عام انتخابات 90 روز میں کرانے کے لیے درخواست دائر

    سپریم کورٹ میں عام انتخابات 90 روز میں کرانے کے لیے درخواست دائر کر دی گئی،

    درخواست سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے مشترکہ مفادات کونسل کے فیصلوں کے خلاف دائر کی، سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ الیکشن کمیشن کو ہدایت دی جائے کہ وہ 90 روز میں عام انتخابات کرائے، خیبرپختونخوا اور پنجاب کے نگران وزرائے اعلیٰ کی مشترکہ مفادات کونسل میٹنگ میں شرکت کو غیر قانونی قرار دیا جائے، سپریم کورٹ حکم دے کہ الیکشن کمیشن ہر صورت 90 روز کے اندر انتخابات کرائے، قومی اسمبلی کی تحلیل سے ایک ہفتہ قبل مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس بلا کر نئی مردم شماری کے اجراء کی منظوری لینے کا مقصد انتخابات میں تاخیر کرنا ہے، درخواست میں وفاقی حکومت، الیکشن کمیشن، مشترکہ مفادات کونسل اور چاروں صوبوں کو فریق بنایا گیا ہے

    واضح رہے کہ نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے، نگران کابینہ آج یا کل بن جائے گی، الیکشن کمیشن نے عام انتخابات سے قبل حلقہ بندیوں کے حوالہ سے آج اجلاس بلایا تھا تا ہم کوئی فیصلہ نہ ہو سکا ، اجلاس میں الیکشن کمیشن کی جانب سے معاملے پر مزید مشاورت جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ،الیکشن کمیشن کے اجلاس میں قانونی ٹیم نے حلقہ بندیاں کرنے کی تجویز دے دی الیکشن کمیشن نے جلد دوبارہ اجلاس بلا کر فیصلہ کرنے پر اتفاق کیا،

     غیر حاضری کی صورت میں آئندہ عام انتخابات میں انتخابی نشان کے حصول کے لئے پی ٹی آئی کو نااہل قرار دیا جا سکتا ہے 

    سیما کو گرفتاری کے بعد ضمانت مل گئی 

    ضمانت ملی تو ملک کے بعد مذہب بھی بدل لیا،

    سیما کو واپس نہ بھیجا تو ممبئی طرز کے حملے ہونگے،کال کے بعد ہائی الرٹ

     سیما حیدر کے بھارت میں گرفتاری کے ایک بار امکانات

    پب جی پارٹنر ، سیما اور سچن ایک بار پھر جدا ہوا گئے

  • عام انتخابات کیلئے ساڑھے بیالیس ارب روپے کی گرانٹ منظور

    عام انتخابات کیلئے ساڑھے بیالیس ارب روپے کی گرانٹ منظور

    اقتصادی رابطہ کمیٹی نے الیکشن کمیشن کی سمری منظورکرتے ہوئےعام انتخابات کیلئے ساڑھے بیالیس ارب روپے کی گرانٹ کی منظوری دے دی ہے جبکہ وزیرخزانہ اسحاق ڈار کی زیرصدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس ہوا ہے، جس میں عام انتخابات کیلئے 42.5 ارب روپے کی گرانٹ کی منظوری دے دی گئی تاہم ذرائع کے مطابق عام انتخابات کیلئے فنڈزکی حتمی منظوری وفاقی کابینہ سے لی جائے گی، الیکشن کمیشن کو ابتدائی طور پر 10 ارب روپے جاری کئے جائیں گے۔

    جبکہ دوسری جانب قومی اسمبلی کی پارلیمانی انتخابی اصلاحات کمیٹی نےمجوزہ ترامیم کوحتمی شکل دے دی ہے جس کےمطابق حلقہ بندیاں رجسٹرڈ ووٹرز کی مساوی تعداد کی بنیاد پر کی جائیں گی ،رکن قومی اسمبلی یا سینیٹر ساٹھ روز میں حلف نہیں اٹھاتا تورکنیت ختم کرنےکی تجویزدیدی گئی ۔ مجوزہ ترامیم کے مطابق رکن قومی اسمبلی یا سینیٹر ساٹھ روز میں حلف نہیں اٹھاتا تورکنیت ختم کرنےکی تجویزدیدی گئی۔انتخابی حلقوں میں ووٹرز کی تعدادمیں پانچ فیصد سے زیادہ فرق نہیں ہو گا ، حلقہ بندیوں کیخلاف شکایت تیس روزمیں کی جا سکے گی ، حلقہ بندیوں کاعمل انتخابی شیڈول کے اعلان سے چار ماہ قبل مکمل ہو گا ۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    بھارت،خواتین کی برہنہ پریڈ کروانے والا گرفتار،سپریم کورٹ کا نوٹس
    روپے کی قدر میں 0.47 فیصد کی تنزلی ریکارڈ
    عمران خان کی مشکلات میں کمی نہ ہو سکی، ایک اور جے آئی ٹی نے 21 جولائی کو طلب کر لیا۔
    عراق؛ سویڈن سفارتخانہ نذرآتش، قرآن کی بے حرمتی پر سفیر کو نکلنے کا حکم
    عالمگیر ترین کی موت بارے فرانزک رپورٹ جاری

    کمیٹی کی مجوزہ ترامیم کے مطابق الیکشن کمیشن پولنگ عملے کی تفصیلات ویب سائٹس پر جاری کرے گا ، پولنگ عملہ انتخابات کے دوران اپنی تحصیل میں ڈیوٹی نہیں دے گا ، پولنگ اسٹیشن میں کیمروں کی تنصیب میں ووٹ کی رازداری یقینی بنائی جائے گی ۔ زہ ترامیم کے مطابق کاعذات نامزدگی مسترد یا واپس لینے پرامیدوار کو فیس واپس کی جائے گی ، امیدوار ٹھوس وجوہات پر پولنگ اسٹیشن کے قیام پراعتراض کر سکے گا ، حتمی نتائج کے تین روز میں سیاسی جماعتیں حتمی ترجیحی فہرست فراہم کریں گی ۔ مجوزہ ترامیم کی قومی اسمبلی اورسینیٹ سےمنظوری لی جائے گی ۔

  • اسمبلیاں12 اگست کو تحلیل ہوئیں تو عام انتخابات 11 اکتوبر تک

    اسمبلیاں12 اگست کو تحلیل ہوئیں تو عام انتخابات 11 اکتوبر تک

    اسمبلیاں12 اگست کو تحلیل ہوئیں تو عام انتخابات 11 اکتوبر تک کرا دیں گے، سیکریٹری الیکشن کمیشن

    اسلام آباد،عام انتخاب میں تاخیر کے ساتھ نئے آئینی بحران پیدا ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا سیکرٹری الیکشن کمیشن عمرحمید نے کہاہے کہ ہم الیکشن کے لیے تیار ہیں چاہے 60دن میں ہوں یا 90دن میں ہوں اگر حکومت نے نئی مردم شماری کی منظوری دے دی تو نئی حلقہ بندیوں میں 4ماہ لگیں گے ۔

    جمعرات کو سیکریٹری الیکشن کمیشن عمر حمید نے ای سی پی بیٹ رپورٹرز سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ آئندہ عام انتخابات سے قبل آپ لوگوں سے ملاقات ہوتی رہے گی کوشش ہے کہ میڈیا سے رابطے میں رہیں انتخابی اصلاحات کمیٹی کو الیکشن کمیشن نے 60 سے زائد سفارشات دی تھیں میری معلومات کے مطابق ہماری تقریبا ساری سفارشات مان لی گئی ہیں جب تک باضابطہ ہماری سفارشات منظور نہیں ہوجاتیں اس وقت تک کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔الیکشن کے حوالے سے سوالات پر جواب دیتے ہوئے سیکریٹری الیکشن کمیشن عمر حمید نے کہاکہ الیکشن کمیشن عام انتخابات کے انعقاد کے لئے تیار ہےاگر اسمبلیاں اپنی مدت پوری کریں تو 60دن یا پہلے تحلیل ہوتی ہے تو پھر 90 روز میں الیکشن ہوں گے ہم الیکشن کے لئے تیار ہیں اگر نئی مردم شماری کی منظوری ہو جاتی ہے تو ہمیں حلقہ بندیوں کے لئے 4 ماہ لگیں گے۔

    سپیشل سیکر ٹری الیکشن کمیشن ظفر اقبال نے کہاکہ اگر اسمبلیاں بارہ اگست کو تحلیل ہوتی ہیں تو عام انتخابات 11 اکتوبر تک کرا دیں گے۔ایڈیشنل ڈی جی الیکشن کمیشن مسعود شیروانی نے کہاکہ الیکشن کمیشن کے اندر پولیٹیکل فنانس ونگ کی خاص ذمے داری ہے قانون کے مطابق ہر سیاست دان اپنے اثاثے الیکشن کمیشن کو بتانے کا پابند ہے ہر الیکشن میں امیدوار اپنی مہم پر کئے گئے خرچہ بتانے کا بھی پابند ہوتا ہے پولیٹیکل فنانس ونگ کسی بھی سیاسی جماعت میں انٹرا پارٹی الیکشن اور انتخابی نشان الاٹ کرتا ہےالیکشن کمیشن کے پاس 168 سیاسی پارٹیاں رجسٹرڈ ہیں تمام ڈیٹا ہماری ویب سائٹ پر موجود ہے پارلیمنٹیرینز کے سالانہ گوشوارہ کا ریکارڈز ہمارے موجود ہوتا ہے۔
    رپورٹ، محمد اویس، اسلام آباد

    بجٹ کا پیسہ عوام کے مسائل حل کرنے کے بجائے اشرافیہ کی نذر ہوجاتا ہے. کیماڑی جلسہ عام سے خطاب

    سابقہ حکومت کی نااہلی کا بول کر عوام پر بوجھ ڈالا گیا،ناصر خان موسیٰ زئی

    باغی ٹی وی کی ویڈیو دیکھنے کے لئے یہاں کلک کریں

    اسمبلیوں کی تحلیل۔۔۔ آئین کیا کہتا ہے؟

  • فوری انتخابات:تحریک انصاف قومی اسمبلی میں واپس نہ آنے کے مؤقف پر قائم

    فوری انتخابات:تحریک انصاف قومی اسمبلی میں واپس نہ آنے کے مؤقف پر قائم

    لاہور:پاکستان تحریک انصاف نے قومی اسمبلی میں واپس آنے سے انکار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اب اس ملک میں فوری عام انتخابات ہونے چاہیں،وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے جج صاحبان کی رائے کا بے حد احترام ہے مگر فی الحال پارٹی میں قومی اسمبلی میں واپس آنے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں۔

    ذرائع کےمطابق نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی کاکہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں ہم قومی اسمبلی آنے کو تیار نہیں کیونکہ ہمارا قومی اسمبلی واپس آنا بے معنی ہوگا۔

    وائس چیئرمین تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی میں واپسی کیلئے پارٹی سطح پر کوئی مشاورت بھی نہیں کی گئی، تحریک انصاف کا فوری نئے انتخابات کا مطالبہ برقرار ہے۔

    شان شاہد ضمنی انتخابات میں ووٹ کاسٹ نہ کر سکنے پر برہم

    سابق وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف نے ساڑھے 3سال کی محنت سے ملکی معیشت کو مستحکم کیا تھا مگر آج ملکی معاشی صورتحال روز بہ روز بگڑتی جارہی ہے اور موجودہ حکومت ملک کو دیوالیہ ہونے کی نہج پر لے آئی۔

    شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ڈالر کی قدر بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، صورتحال حکومت کے کنٹرول سے باہر ہے، ان حالات میں ہم کیسے قومی اسمبلی واپس آئیں۔

    یاد رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے اس مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) اور حکومتی اتحاد نے قبل از وقت انتخابات نہ کروانے کا فیصلہ کیا ہے۔

    تحریک لبیک پاکستان ضمنی انتخابات کے نتائج مسترد کر دیئے

    اہم ترین اجلاس میں آصف زرداری، فضل الرحمان اور دیگر جماعتوں کے قائدین شریک ہوئے، ضمنی الیکشن میں بد ترین صورتحال کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا، شرکا کو صوبائی اسمبلی میں نمبر گیم پر بریفنگ بھی دی گئی۔

    پارٹی ذرائع کے مطابق لاہور میں پی ڈی ایم اور اتحادیوں کے اجلاس کا انعقاد کیا گیا، اجلاس میں پی ڈی ایم اور حکومتی اتحاد نے ملک میں قبل از وقت نہ کروانے کا متفقہ فیصلہ کیا۔

    پنجاب کے ضمنی انتخابات تمام سیاسی جماعتوں کیلئے سبق آموز ثابت ہوئے ۔اویس لغاری

    اس حوالے سے پارٹی ذرائع نے مزید بتایا کہ قبل از وقت انتخابات عمران خان کے دباؤ پر نہیں بلکہ حکومتی اتحاد کے متفقہ فیصلے کے تحت ہوں گے اور اسمبلیاں اپنی مدت پوری کریں گی۔