پاکستان میں ایک بھی ایسا ہسپتال نہ بنایا گیاجہاں شاہی خاندان کے افراد اپنا علاج کروا سکیں
وائسرائے ہند کی طرح یہ لوگ پاکستان حکومت کرنے آتے ہیں، معاون خصوصی وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فردوس کا کہنا ہےتھا کہ ظل سبحانی نے جس ایون فیلڈ سے انکار کیا آج وہاں شان سے مقیم ہیں ، اقتدار سے محرومی پر عوام کو لاورث چھوڑ کر اپنے بچوں کے پاس جانا ان کا وطیرہ ہے۔
ایک طرف دکھی انسانیت کی خدمت کیلئے پناہ گاہیں اور لنگر خانے تعمیر کئے جا رہے ہیں جبکہ دوسری طرف ایون فیلڈ فلیٹ، جاتی امرا ء محل اور سرے محل تعمیر کئے گئے۔ تحریک انصاف کی حکومت عوام کو علاج کی بہترین سہولیات فراہم کرنے کیلئے صحت انصاف کارڈ مہیا کر رہی ہے دوسری طرف 35سال تک باریاں لینے والے ظل سبحانی نے پنجاب پر نحوست کو مسلط رکھا اور پاکستان میں ایک بھی ایسا ہسپتال نہ بنایا جہاں شاہی خاندان کے افراد اپنا علاج کروا سکیں۔
نواز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے انکا کہنا تھا کہ ظل سبحانی کے کالے کرتوت بین الاقوامی سطح پر عیاں ہوئے، براڈ شیٹ کی چارج شیٹ ن لیگ کے خوشامدیوں کی آنکھیں کھولنے کیلئے کافی ہے۔ن لیگ والے چوری اور اوپر سے سینہ زوری کر رہے ہیں۔کنیز اول حکومت پر برستی رہتی ہیں، نادان درباریوں سے کہتی ہوں کہ ظل سبحانی ہجرت کرچکے ہیں۔
عوام جواب چاہتے ہیں پریس کانفرنس کے بدلے پریس کانفرنس نہیں چاہتے۔ کشمیر کمیٹی کا چئیرمین ہوتے ہوئے مولانا نے مقبوضہ کشمیر پر چڑھائی کا اعلان کیوں نہ کیا۔مودی کی بجائے مولانا کا رخ پنڈی کی جانب ہوتا ہے۔ہم منتظر ہیں کہ پی ڈی ایم کب اعتراف جرم کرے گی ۔ پی ڈی ایم والے دل کھول کر مارچ کریں،یہی گھوڑا اور یہی میدان ہے۔عمران خان اور آرمی چیف ایک پیج پر ہیں.دونوں کا مقصد دہشت گردی کا خاتمہ ہے.
معاون خصوصی وزیر اعلیٰ کا کہنا ہے کہ مشکل پڑنے پر مولانا کو بھی زرداری اور نواز شریف اپنے پاؤں کے نیچے دبا لیں گے۔
ان خیالات کا اظہار معاون خصوصی وزیراعلیٰ پنجاب ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے داتا دربار پناہ گاہ کے دورہ کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ بزدار حکومت غریب، بے سہارا، نادار اور مستحقین کے حقوق کی پاسدار ہے۔ماضی کے ڈرامے بازوں اور شوبازوں کے برعکس عوام کے وزیراعظم عمران خان کے ویژن کے مطابق بزدار حکومت معاشرے کے کمزور طبقہ کے حقوق کا تحفظ کرتے ہوئے پناہ گاہوں اور لنگرخانوں کا قیام عمل میں لائی ہے۔ وزیراعلی عثمان بزدار کی زیرسرپرستی پناہ گاہوں میں مقیم افراد کوبہترین سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جارہی ہے۔
پناہ گاہوں کا منصوبہ غریب اور مستحق افراد کیلئے ہے۔مخیر حضرات کا شکریہ ادا کرتی ہوں جنہوں نے پناہ گاہوں کی تعمیر میں حصہ لیا.پناگاہوں میں معیاری کھانا مہیا کیا جاتا ہے. حکومت نے باہمت بزرگ اور وسیلہ پروگرام کے ذریعے بوڑھے بزرگوں کی ذمہ داری اٹھائی۔حکومت کبھی اپنے پسے ہوئے طبقات کو تنہا نہیں چھوڑے گی۔ معاون خصوصی نے پناہ گاہ میں شہریوں کو دی جانے والی سہولیات کا جائزہ لیا اور وہاں مقیم افراد کے ساتھ کھانا بھی کھایا۔
Tag: عثمان بزدار

پی ڈی ایم والے دل کھول کر مارچ کریں، یہی گھوڑا اور یہی میدان ہے، معاون خصوصی وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فردوس کی (ن) لیگ کو للکار اورطنزوں کی بوچھاڑ سب مخالفین کے پول کھول دیئے۔

اپوزیشن رہنماؤں کی ”کورونا سیاست“ نہیں چلے گی، وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار
اپوزیشن نے پہلے سیاست کو کاروبار بنایا اور اب کورونا کو سیاست کی نذر کیا۔ 22 کروڑ عوام دو چہروں والے ان سیاست دانوں کی منفی سیاست سے متنفر ہو چکے ہیں۔ پاکستانی قوم کورونا پر سیاست چمکانے والوں کو کبھی معاف نہیں کرے گی۔ اپوزیشن رہنماؤں کا رویہ ”دوسروں کو نصیحت، خود میاں فصیحت“ کے مترادف ہے۔ عوام کے سامنے بلند و بانگ دعویٰ کرنے والوں کی قلعی کھل چکی ہے۔عثمان بزدار
اپوزیشن جماعتوں نے غیر معمولی حالات میں بھی غیر ذمہ داری کا ثبوت دیا ہے۔ ہنگامی صورتحال کے باوجود اپوزیشن رہنماؤں نے ہر موقع پر سیاست چمکانے کی کوشش کی۔ وقت نے ثابت کیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں حکومت نے بروقت فیصلے کئے۔ حکومت کے دور اندیش اقدامات کے باعث صورتحال سے نمٹنے میں بہت مدد ملی۔ وزیراعلیٰ پنجاب

روجھان میں کچے کے علاقے میں تین پولیس اہلکاروں کے اغوا ء کے واقعہ کا نوٹس
وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے روجھان میں کچے کے علاقے میں تین پولیس اہلکاروں کے اغواء کے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے انسپکٹر جنرل پولیس سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔ پولیس اہلکاروں کی باحفاظت بازیابی یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ اغواء میں ملوث عناصر کوجلد سے جلد قانون کی گرفت میں لایا جائے۔ پولیس اہلکاروں کی بازیابی کیلئے ہر ضروری اقدام اٹھایا جائے۔

وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدارسے صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ جہانزیب کھچی کی ملاقات
ملاقات میں ٹرانسپورٹرز سے متعلقہ امور کا جائزہ لیا گیا. ٹرانسپورٹرز کے مسائل پر بھی غور کیا گیا.
صوبے کے عوام کے مفاد میں ٹرانسپورٹ کو کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے – عید کے پیش نظر لوگ اپنے شہروں میں جاتے ہیں – حکومتی ایس او پیز پر عملدرآمد کرنا ٹرانسپورٹرز کی ذمہ داری ہے – مسافروں کی حفاظت سب سے زیادہ مقدم ہے – ٹرانسپورٹرز کے ایشوز کو خوش اسلوبی سے حل کیا جائے- ہم نے ٹرانسپورٹ بھی چلانی ہے اور مسافروں کو کورونا سے بھی محفوظ رکھنا ہے – عثمان بزدار
صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ جہانزیب کھچی نے وزیر اعلی عثمان بزدارکو ٹرانسپورٹروں سے متعلقہ ایشوز کے بارے میں آگاہ کیا

وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار نے ایل ڈی اے انصاف ویب پورٹل اور موبائل پورٹل لانچ کر دیا
لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے افسران و ملازمین کی جانب سے چیف منسٹر فنڈ برائے کورونا کنٹرول میں 27 لاکھ 78 ہزارروپے کا چیک وزیر اعلی عثمان بزدار کو پیش کیا گیا. لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل احمد عزیز تارڑنے وزیر اعلی پنجاب کو چیک دیا.
شہریوں کوانصاف ویب پورٹل اور موبائل پورٹل کے ذریعے آن لائن درخواستیں دینے کی سہولت فراہم کر دی ہے – لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی طرف سے انصاف پورٹل کا قیام شہریوں کے افسران سے فوری رابطے اور شکایات کے بلا رکاوٹ اندراج کے لئے اہم ترین اقدام ہے- جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے شہریوں کی درخواستو ں پر کم سے کم وقت میں عملدرآمد ممکن ہو سکے گا – ایل ڈی اے فعال طور پر شہریوں کی خدمت کر سکے گا-پورٹل کے ذریعے ایل ڈی اے آفس آنے کے لئے آن لائن اپوائنمنٹ حاصل کی جاسکے گی- پورٹل کے ذریعے پہلے مرحلے میں مختلف قسم کی درخواستیں آن لائن جمع کروائی جا سکیں گی- عدالتی احکامات آن لائن جمع کروائے جاسکیں گے- مختلف قسم کے سوالات آن لائن کئے جا سکیں گے-
ایل ڈی اے کے رجسٹرڈ آر کیٹیکٹس کے ذریعے ایل ڈی اے کی اپنی اور منظور شدہ پرائیویٹ رہائشی سکیموں میں عمارتوں کی تعمیر کے لئے نقشے منظور کرانے کی درخواستیں آن لائن جمع کروائی جا سکیں گی- وزیر اعلی پنجاب
پورٹل کے ذریعے ایل ڈی اے سٹی ہاؤسنگ سکیم کے ترقیاتی اخراجات جمع کرانے کے لئے چالان فارم ڈاؤن لوڈ کئے جا سکیں گے- جمع شدہ درحواستوں کی آن لائن ٹریکنگ اور جوابات کو ڈاؤن لوڈ کیا جا سکے گا- ایل ڈی اے سے متعلقہ اشتہارات، ٹینڈرنوٹسز اور جاویدادوں کی نیلام عام کے بارے میں معلومات حاصل کی جا سکیں گی- آن لائن پورٹل کے اجراء سے ایل ڈی اے کی طرف سے مہیا کی جانے والی خدمات کا معیار بہتر ہو گا –
ادارے پر شہریوں کا اعتماد بہتر ہو گا – شہریوں کے قیمتی وقت کی بچت ہو گی- کاروباری سرگرمیوں میں بہتری آئے گی- ایل ڈی اے کے کاموں میں شہریوں کی شرکت ممکن ہو سکے گی- کورونا کی وباء سے نمٹنے کے لئے سیاسی و انتظامی مشینری متحرک ہے – عثمان بزدار
ڈی جی ایل ڈی اے نے انصاف پورٹل کے بارے میں بریفنگ دی .
صوبائی وزیر ہاؤسنگ میاں محمود الرشید،چیف سیکرٹری ، وائس چیئرمین ایل ڈی اے ایس ایم عمران، سیکرٹری ہاوسنگ،پرنسپل سیکرٹری وزیراعلی ،ڈائریکٹر جنرل احمد عزیز تارڑ ، سیکرٹری اطلاعات، سپیشل مانیٹرنگ یونٹ کے سربراہ اور متعلقہ حکام کی تقریب میں شرکت.
وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کا کورونا کے خلاف فرنٹ لائن پر موجود پولیس افسروں کی خدمات کو خراج تحسین۔
وزیر اعلیٰ عثمان بزدارکی ڈسٹرکٹ پولیس لائنز ڈیرہ غازی خان آمد۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی پولیس کے افسروں اور جوانوں سے گفتگو۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی پولیس لائنز میں شہداکی یاد گارپر حاضری۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے یاد گار شہداء پر پھولوں کی چادر چڑھائی اورفاتحہ خوانی کی ۔
وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کا کورونا کے خلاف فرنٹ لائن پر موجود پولیس افسروں اور جوانوں کی خدمات کو خراج تحسین۔وزیراعلی کی ڈسڑکت لائنز ڈیرہ غازی خان آمد pic.twitter.com/7ZxnKenJvk
— Baaghi TV باغی ٹی وی (@BaaghiTV) May 15, 2020
پولیس کے افسراور جوان آزمائش کی گھڑی میں دلجمعی سے فرائض سرانجام دے رہے ہیں ۔ پولیس کے افسروں اور جوانوں کی خدمات کی دل سے قدر کرتے ہیں۔ کورونا کے خلاف فرنٹ لائن پر فرائض سرانجام دینے والے ہیلتھ پروفیشنلز کی طرز پر پولیس کیلئے بھی شہداء پیکیج کی اصولی منظوری دے دی ہے۔ کورونا وباء کے دوران فرائض ادا کرتے ہوئے شہید پولیس اہلکاروں کے خاندانوں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ شہید پولیس اہلکاروں کے لواحقین کو شہداء پیکج دیا جائے گا۔ پولیس کو عوام کے جان ومال کے تحفظ کے لئے تمام تر ممکنہ وسائل فراہم کئے جا رہے ہیں – پولیس میں مرحلہ وار 10ہزار آسامیوں پر بھرتی کی منظوری دے دی گئی ہے۔ پولیس کوگاڑیاں خریدنے کی اجازت دی گئی ہے – 41 تھانوں کی نئی عمارتوں کی تعمیر جاری ہے – پولیس کا منجمد الاؤنس بھی بحال کیا اور ایگزیکٹو الاؤنس کی بھی منظوری دی ہے – اضلاع کے دوروں کے دوران تھانوں کا معائنہ کر کے مسائل جانتا ہوں، حل کرنے کیلئے کاوشیں بھی کررہا ہوں – پولیس عوام کے ساتھ محبت او راحترام کے ساتھ پیش آ کر میری کاوشوں کا صلہ دے :وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار
وفاقی وزیر زرتاج گل، صوبائی وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان، مشیر صحت حنیف پتافی، اراکین اسمبلی سردار احمد علی دریشک، جاوید اختر لنڈ، سردار محی الدین کھوسہ،ایڈیشنل چیف سیکرٹری اربنائزیشن طاہر خورشید، کمشنر ڈیرہ غازی خان ڈویژن ساجد ظفر، آرپی او ڈیرہ غازی خان عمران احمر،ایڈیشنل آئی جی انعام غنی، ڈپٹی کمشنر ڈیرہ غازی خان، ڈی پی او ڈیرہ غازی خان اور دیگر افسران بھی اس موجود تھے-

مسلم لیگ (ن) پنجاب کی ترجمان عظمیٰ بخاری کا عثمان بزدار کے چینی چوری انکوائری کمیشن میں پیش ہونے پر ردعمل
عثمان بزدار نے چینی انکوائری کمیشن میں تمام ملبہ وفاقی کابینہ پر ڈال دیا ہے،جس کے سربراہ عمران خان ہے۔ عثمان بزدار نے کاشتکاروں کو ذمہ دار ٹھہرانے کی کوشش کی ہے۔ بزدار صاحب پنجاب کا کاشتکار پہلے ہی آپ کی کسان دشمن زرعی پالیسی کا خمیازہ بھگت رہا ہے۔ ہاشم جواں بخت خود اپنی شوگر ملز کو سبسڈی دے کربری الذمہ کیسے ہو سکتے ہیں۔ بزدار صاحب یہ تین ارب کی سبسڈی کی نہیں 100ارب کے ڈاکے کی تحقیقات ہورہی ہیں۔ جہانگیرترین ،خسرو بختیار اور حکومتی اتحادیوں نے ملکر عوام کی جیبوں پر 100ارب کا ڈاکہ ڈالا ہے۔ ہاشم جواں اور عثمان بزدار نے ملکر چینی چوری کاپلان تیار کیا:عظمیٰ بخاری
بزدار صاحب 100ارب کے ڈاکے کا ملبہ ای سی سی پر ڈال کے آپ کی خلاصی نہیں ہوسکتی۔ اسد عمر نے کہا انکوائری کمیشن سے ملاقات ہوئی بیان ریکارڈ نہیں کرایا۔ حکومتی طبقے میں فرعونیت اور حکمرانہ سوچ کوٹ کوٹ کے بھری جاچکی ہے۔ عمران خان ماضی میں واجد ضیاءکو خراج تحسین پیش کرتے رہے ہیں۔ اب عمران خان کو اسی واجد ضیاءکے سامنے پیش ہونے میں کیا مسئلہ ہے۔ عمران خان خود ہی کہتے ہیں کوئی قانون سے بالا تر نہیں ہے۔ عمران صاحب احتساب کا عمل تو اب آپ سے ہی شروع اور ختم ہوگا۔ شہزاد اکبر شہبازشریف کی فکر چھوڑیں پہلے زمینوں کے قبضے کا جواب دیں۔ شہزاد اکبر نے سرکاری مشنری کی مدد سے زمینوں پر قبضہ کیا۔ قبضہ گروپ شہزاد اکبر کا وزیراعظم کا معاون خصوصی احتساب ہونا بھی ایک سوالیہ نشان ہے:مسلم لیگ (ن) پنجاب کی ترجمان عظمیٰ بخاری

وزیراعلیٰ پنجاب کا قائم پور میں مریض کے تیماردار سے ناروا سلوک کے واقعہ کا نوٹس
وزیراعلیٰ عثمان بزدار کا دیہی مرکز صحت قائم پور کے آپریشن تھیٹر اسسٹنٹ (او ٹی اے) محمد صادق کی جانب سے مریض کے تیماردار سے ناروا سلوک کی ویڈیو وائرل ہونے پر سخت ایکشن۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی ہدایت پر دیہی مرکز صحت قائم پور کا او ٹی اے محمد صادق معطل۔ معطل اہلکار محمد صادق کے خلاف پیڈا ایکٹ کے تحت محکمانہ کارروائی شروع۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے سیکرٹری صحت سے رپورٹ طلب کر لی ۔ واقعہ کی تحقیقات کیلئے انکوائری کمیٹی قائم ۔
سرکاری اہلکار کی جانب سے مریض کے تیماردار کے ساتھ ایسا ناروا سلوک کسی صورت برداشت نہیں۔ ہیلتھ فسیلٹیز کے عملے کو مریضوں کے ساتھ شفقت اور نرمی کے ساتھ پیش آنا چاہیئے۔ اپنے دکھوں کا مداوا کیلئے آنے والوں کے ساتھ ایسے ناروا ر سلوک کی اجازت نہیں دی جاسکتی: عثمان بزدار

وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدارکی زیرصدارت سول سیکرٹریٹ میں خصوصی اجلاس
صوبائی سیکرٹری انرجی نے وزیراعلیٰ عثمان بزدار کو صوبے میں انرجی کے منصوبوں سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی
انرجی سیکٹرکے جاری اورزیر تکمیل منصوبوں کا بغورجائزہ لیاگیا. پنجاب میں 50سے 100گھروں کیلئے سولر سسٹم پراجیکٹ لانے کی اصولی منظوری. پراونشنل گریڈسٹیشن قائم کر کے صنعتوں کوبراہ راست بجلی کی فراہمی کے پراجیکٹ تیارکرنے کی ہدایت.کالا شاہ کاکومیں سولر وال پراجیکٹ کو اپ گریڈ کرنے کی منظوری. بہاولپور میں سینٹر آف ری نیوایبل سولر انرجی ٹریننگ سینٹر اور ملتان میں سولر سینٹر آف ایکسی لینس فار سولر ٹیسٹنگ اینڈ ٹریننگ قائم ہوگا. .ہر ڈویژنل ہیڈکوارٹر میں سٹریٹ لائٹس،واسا،نکاسی و فراہمی آب کے منصوبوں کو شمسی توانائی پر منتقل کیا جائیگا، بجلی پیدا کرنے والے یونٹس کو خسارے سے نکال کر منافع میں لانا چاہتے ہیں، بجلی بچانے کیلئے سٹینڈرڈبلڈنگ کوڈپر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے، سرکاری عمارتوں کے بجلی کے بلوں میں کمی لاکر بچت کی جائے، ہائیڈرو پاور پلانٹس میں اضافی جگہ پر سولر پلانٹس لگائے جائیں گے، تین گاؤں میں بائیو اورسولرتوانائی پر مشتمل ہائیڈور پاور سسٹم لگائے جائیں گے، پنجاب میں کوڑا کرکٹ سے 150میگاواٹ بجلی کی تیاری کے منصوبے کو جلد از جلد پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے، جہاں بجلی نہیں وہاں سکولوں میں ترجیحی بنیادوں پر سولر سسٹم لگائے جائیں، قبائلی علاقوں کیلئے متبادل توانائی کے طورپر سولرٹیکنالوجی کو فروغ دیا جاے گااور شجرکاری کے فروغ اوردرختوں کو بچانے کیلئے سولر ٹیکنالوجی بہترین آپشن ہیں۔عثمان بزدار
اجلاس میں سیکرٹری انرجی،پرنسپل سیکرٹری وزیراعلیٰ پنجاب اوردیگرحکام کی شرکت
وزیر اعظم یا وزیر اعلیٰ کی بجائے بحران کا زمہ دار جہانگیر ترین کیوں؟ محبوب اسلم
وفاقی کابینہ کا سربراہ وزیر اعظم ھوتا ھے اور صوبائی کابینہ کا سربراہ وزیر اعلی تو پھر سارا ملبہ جہانگیر ترین پر کیسے گرایا جا سکتا ھے؟؟؟
اھلیان پاکستان
السلام و علیکمیہ سوال واقعی قابل توجہ ھے کہ جب وفاقی کابینہ اور صوبائی کابینہ میں یہ سارے چور ملکر چینی اور آٹے کا بحران پیدا کر رھے تھے اور سبسڈی اور درآمدات کی پالیسیاں منظور کروائی جارھی تھیں تو اسوقت یہ وزیر اعظم اور پنجاب کےوزیر اعلی کدھر تھے؟؟؟ صاف ظاھر ھے کہ اسکی دو ھی وجوھات ھو سکتی ھیں یا تو یہ رَج کے نااھل تھے یا اندر سے ملے ھوئے تھے!
مجھے چونکہ کم ازکم وزیر اعظم کیساتھ کام کا تھوڑا بہت تجربہ ھے تو میرا خیال ھے کہ یہ دونوں ھی وجوھات رھی ھونگیں کہ یہ بندہ رَج کے نا اھل بھی ھے اور چوروں کی سر پرستی کا ٹریک ریکارڈ بھی رکھتا ھے۔ یقین نہ آئے تو جسٹس وجیہ الدین سے کبھی پوچھ لیا جائے!
دوسری طرف ملبہ جہانگیر ترین پر اسلئیے گرایا جارھا ھے کہ اس کو جتنا عمران خان نے استعمال کرنا تھا وہ کر لیا اور اب اسکی ضرورت نہیں رھی۔۔۔اب وہ پرانی والی بات کہاں۔۔۔اگر یقین نہ آۓ تو پارٹی کے اگر لاکھوں نہیں تو ھزاروں ایسے عمران خان کے ”ساتھی“ مل جائینگے جن کا خون چوس کر ھڈیاں عمران خان نے پھینک دیں!
جہاں تک بات ھے رپورٹ شائع کرنے کے کریڈٹ کی تو شنود ھے کہ رپورٹ پہلے ھی میڈیا کو لیک ھو چکی تھی تو پھر آگے بڑھکر قبول کرنے کے علاوہ چارہ کچھ بچا نہ تھا وگرنہ اگر عمران خان نے کرپشن کا قلع قمع کرنا ھوتا تو خسرو بختیار کو ایک گندا کچھا اتروا کر دوسرا نہ پہنایا جاتا اور یہی حال سیٹھ داؤد رزاق کیساتھ کیا گیا کہ ان ساروں نے خوب پیسہ بنایا اور
جواب میں صرف انکی وزارت بدل دی گئی۔۔۔شب کو مے خوب سی پی صبح کو توبہ کر لی
رند کے رند رہے ہاتھ سے جنت نہ گئی!!!باقی رھی مونس الہی کی بات تو وھاں تک تو مجال کس کی ھے کہ یہ خاندان بوٹ والوں کا سدا وفادار ھیں بقول چوھدری صاب ھن مٹی پاؤ تے آگاں ودو؟؟؟
لیکن معاملہ اتنا آسان بھی نہیں ھے کیونکہ آخر پارلیمانی نظام حکومت میں کابینہ کا فیصلہ وزیر اعظم کی مرضی سے آگے چلتا ھے تو پھر بہرحال آخری ذمہداری تو عمران خان کی ھی بنتی ھے اِدھر ادھر کی جتنی بھی ھانک لیں آخر تو ذمہداری سیلیکٹڈ کی ھی بنتی ھے؟؟؟
اور یہ معاملات اگرکورٹ تک پہنچتے ھیںں تو پھر ان معاملات کا کھرا وھاں جا کر ملیگا جہاں اقتدار کی طاقت ھے کہ جتنا بڑا اختیار اتنی ھی بڑی ذمہداری۔۔۔لیکن یہ عمران خان کی پرانی عادت ھے کہ اختیار اور پاور تو انجوائے کرو اور ذمہداری ھمیشہ دوسروں پر ڈالو۔۔۔یوں آثار تو یہ نظر آرھے ھیں کہ یہ سارا معاملہ دب جائیگاکہ کہیں لینے کے دینے نہ پڑ جائیں؟؟؟
دوسری طرف کچھ بھولے بادشاہ امید لگائے بیٹھے ھیں کہ عمران خان کب استعفی دے رھا ھے۔۔۔لیکن اسمیں انکا کوئی قصور نہیں ھے۔۔۔یقین نہ آئے تو خود عمران خان سے پوچھ لیں جو ھمیں یہ بتاتے بتاتے ھلکان ھو جاتا تھاکہ کیسے مغرب میں وزیر اعظم اپنی کابینہ کی اسطرح کی کرپشن پر استعفی دے دیتے ھیں؟؟؟
لیکن صاحب۔۔۔ھماری قوم کے یہ نصیب کہاں؟ کہاں ھم ایک اسلامی جمہوری مملکت اور مدینہ کی ریاست اور کہاں وہ کافر مغربی ممالک؟؟؟ بھلا جس وزیر اعظم اور سپہ سالار کی ضامن جید ”علما“ کی آنسوؤں کی لڑی ھو اسے کونسی غیرت استفعی پر راضی کر سکتی ھے۔۔۔لا حول پڑھیں صاحب لا حول؟؟؟
اللہ ھی پاکستان کا حامی و ناصر ھو۔۔۔ھم نے تو کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی؟؟؟
دعا گو
محبوب اسلم










