Baaghi TV

Tag: عدالت

  • پاکستانیوں کا حساس ڈیٹا ڈارک ویب پر،وفاقی حکومت سے جواب طلب

    پاکستانیوں کا حساس ڈیٹا ڈارک ویب پر،وفاقی حکومت سے جواب طلب

    سندھ ہائیکورٹ ،ساڑھے گیارہ کروڑ پاکستانیوں کا حساس ڈیٹا ڈارک ویب پر فروخت کرنے کا کیس کی سماعت ہوئی

    ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ وفاقی حکومت سے جواب طلبی کے بجائے صوبائی حکومت کو نوٹس جاری کیے گئے، وفاقی حکومت کو عدالتی نوٹس جاری ہوگا تو جواب دیں گے،درخواست گزار نے کہا کہ تمام ادارے جواب جمع کرا چکے، قائمقام چیف جسٹس نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ کون ہے انکا بڑا؟ طارق منصورایڈوکیٹ نے کہاکہ سیکرٹری آئی ٹی اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن سے جواب طلبی ضروری ہے،

    عدالت نے یکم نومبر تک وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا ،عدالت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل کو 20 اپریل 2021 کے فیصلے پر عمل درآمد کرنے کا حکم دیا اور ہدایت کی کہ آپ اگلی سماعت پر دلائل دیں، عدالت نے کہا کہ 20 اپریل 2021 کے فیصلے کی روشنی میں عمل درآمد کریں، عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہ کیا گیا تو سیکرٹری آئی ٹی اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن ذاتی حیثیت میں پیش ہوں، وکیل درخواست گزار نے کہاکہ وفاقی حکومت کی جانب سے قانون سازی میں مسلسل تاخیر کی جا رہی ہے،ابھی تک کوئی نیشنل سائبر پالیسی نہیں، سائبر سے متعلق پاکستان میں چار بڑے واقعات ہو چکے،

    چائلڈ پورنوگرافی سے منسلک عناصر اپنے شکار تک پہنچنے کے لیے طویل عرصے سے انٹرنیٹ، نام نہاد "ڈارک ویب” کا استعمال کر رہے ہیں

    پاکستان کی تاریخ کا سب سےبڑا اسکینڈل،وزیراعظم آفس کی 100 گھنٹے سے زائد گفتگو ڈارک ویب پر برائے فروخت،ریکارڈنگ ہوئی کیسے؟ ذمہ دار کون؟

    ڈارک ویب کیا ہے؟ ڈارک ویب پر گندے کام ، کیسے استعمال ہوتا؟

    کبالہ جادو اور شیطان کے پیروکار، جنسی زیادتی ،قتل اور ڈارک ویب سے کیا تعلق؟

    ساڑھے11 کروڑ پاکستانیوں کا ڈیٹا ڈارک ویب پر فروخت ہونے کا انکشاف

    ڈارک ویب کی پراسرار دنیا، اہم انکشافات ، سنئے مبشر لقمان کی زبانی

  • کوئی ملک آپ کو ڈالر نہیں دے گا اگر آپ کے شہری محفوظ نہیں ہوں گے،عدالت

    کوئی ملک آپ کو ڈالر نہیں دے گا اگر آپ کے شہری محفوظ نہیں ہوں گے،عدالت

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں صحافی مدثر نارو اور دیگر لاپتہ افراد بازیابی کیس کی سماعت ہوئی،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے غیر معمولی ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ شہریوں کا لاپتہ ہونا انتہائی غیرمعمولی نوعیت کا معاملہ ہے لاپتہ افراد کیسز دنیا میں پاکستان کے نام پر سیاہ دھبہ لگا رہے ہیں عدالت بار بار ڈائریکشنز جاری کرتی ہے لیکن کوئی عملدرآمد نہیں ہو رہا لوگ لاپتہ ہو جاتے ہیں لیکن ریاست کچھ بھی نہیں کرتی ریاست طاقتور ہے لیکن لاپتہ افراد کے کیسز میں کہتی ہے کہ ہم کچھ نہیں کر سکتے اس ملک میں صورتحال یہ ہے کہ لوگ لاپتہ ہو جاتے ہیں وزیراعظم اس عدالت میں پیش ہوئے لیکن انہوں نے بھی عدالت کو گمراہ کیا، اگلے وزیراعظم آئیں گے تو انکی ترجیحات کچھ اور ہونگی یہاں لوگ لاپتہ ہوتے ہیں کیا آپ اس ملک کے ترقی کرنے کی امید رکھتے ہیں کوئی ملک آپ کو ڈالر نہیں دے گا اگر آپ کے شہری محفوظ نہیں ہوں گے

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لوگوں کا لاپتہ ہونا ملک کی بدنامی کا باعث بنتا ہے، عدالتی معاون فیصل صدیقی نے کہا کہ عدالتوں کو شہریوں کا لاپتہ کرنے کا عمل کسی طور برداشت نہیں کرنا چاہئے، جسٹس حسن اورنگزیب نے کہا کہ اٹارنی جنرل وزیراعظم سے ملاقات کر کے پیشرفت سے آگاہ کریں،چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پرانے اٹارنی جنرل نے بھی صرف باتیں کی اب محض باتیں مت کریں،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا ہے کہ اس معاملے پر کمیٹی تشکیل دی گئی، سنجیدہ کوششیں کی جا رہی ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کمیٹی بنی تو پھر کیا ہوا سب کو پتہ ہے، عملی کام کریں، لاپتہ افراد سے متعلق اپیلیں 5 سال سے زیر التوا ہیں، ہمیں ایسے بیٹھتے شرمندگی ہوتی ہے، کیس کی سماعت دو ہفتے کیلئے ملتوی کر دی گئی

    تعلیمی ادارے میں ہوا شرمناک کام،68 طالبات کے اتروا دیئے گئے کپڑے

     چارکار سوار لڑکیوں نے کارخانے میں کام کرنیوالے لڑکے کو اغوا کر کے زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا

    لاپتہ افراد کی عدم بازیابی، سندھ ہائیکورٹ نے اہم شخصیت کو طلب کر لیا

     لگتا ہے لاپتہ افراد کے معاملے پر پولیس والوں کو کوئی دلچسپی نہیں

    سندھ ہائیکورٹ کا تاریخی کارنامہ،62 لاپتہ افراد بازیاب کروا لئے،عدالت نے دیا بڑا حکم

  • سائفر کیس،جرم کیا ہے تو سزا ہو گی، نہیں کیا تو بریت ملے گی،جج

    سائفر کیس،جرم کیا ہے تو سزا ہو گی، نہیں کیا تو بریت ملے گی،جج

    سائفر کیس کی اڈیالہ جیل میں سماعت ہوئی،

    آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت میں جج ابوالحسنات ذوالقرنین اور پی ٹی آئی وکیل شیراز رانجھا کے درمیان دلچسپ مکالمہ ہوا،وکیل شیراز رانجھا نے کہاکہ چیئرمین پی ٹی آئی کو بتائے بغیر اٹک سے اڈیالہ جیل منتقل کیا گیا،چیئرمین پی ٹی آئی کو اٹک سے اڈیالہ جیل منتقل ہی نہیں کرنا چاہئے تھا،جج نے کہاکہ اڈیالہ جیل کے حالات سازگار نہیں، ماحول اٹک جیل سے بہت مختلف ہے،اڈیالہ جیل میں 2200ملزمان کی گنجائش ہے لیکن 7ہزار قیدی ہیں،درجنوں مرغیوں کے ڈربے میں 32مرغیاں ہوں گی تو کیا حالات ہوں گے،اٹک جیل میں چیئرمین پی ٹی آئی سے آمنے سامنے بات ہوتی تھی،اڈیالہ میں حالات ہی مختلف ہیں،

    جج نے پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہاکہ اڈیالہ جیل میں بہت رش ہے ، اٹک جیل میں سکون تھا، وکیل شیراز رانجھا نے کہاکہ چیئرمین پی ٹی آئی پر غیرضروری سختی ہو رہی ہے،عدالت بہتر کلاس کا فیصلہ کرتی،چیئرمین پی ٹی آئی کو ٹی وی، بہتر بستر کیوں نہیں دیتے؟ اٹک جیل میں سکون تھا،جج نے کہاکہ اٹک جیل میں لائبریری ، ورزش ، اخبار کی سہولت چیئرمین پی ٹی آئی کو دی تھی،جیل منتقلی کا خوامخواہ تماشا بنایاگیا، اڈیالہ جیل میں کوئی کہانی ہی نہیں،

    پٹرول کی پوری ٹنکی لگتی تھی لیکن اٹک جیل میں سماعت آسانی سے ہوتی تھی، نوٹ کر لو سب،شکر ہے آپ اڈیالہ جیل منتقلی کی غلطی مانے تو سہی،عدالت
    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے وکیل شیراز ارانجھا نے کہاکہ جیل منتقلی کی درخواست سے قبل شیر افضل کو قانونی ٹیم سے مشاورت کرنی چاہئے تھی،اٹک جیل میں وکلا کی ملاقات بہت آسان تھی، اڈیالہ جیل میں تو بہت مسائل ہیں،جج ابوالحسنات نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ کل ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کے دفتر بیٹھا تھا، میرے سامنے سے 70ملزمان گزرے ،پٹرول کی پوری ٹنکی لگتی تھی لیکن اٹک جیل میں سماعت آسانی سے ہوتی تھی، نوٹ کر لو سب،شکر ہے آپ اڈیالہ جیل منتقلی کی غلطی مانے تو سہی، کوئی اور بہتر جج لگتا ہے تو لے آئیں، میں صاف بات کرنے والا جج ہوں،مجھے کوئی شوق نہیں ، میں اپنا پیشہ ورانہ کام کررہا ہوں،وکیل شیراز رانجھا نے عدالت میں کہاکہ ہم چاہتے ہیں سائفر کیس کا ٹرائل ہی نہ ہو،جج نے کہا کہ جرم کیا ہے تو سزا ہو گی، نہیں کیا تو بریت ملے گی،سائفر کیس کی سماعت کیلئے لمبی تاریخ دے دیتا ہوں،وکیل نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی جتنے دن قید ہیں ا س کا کیا ہوگا؟

    ہمایوں دلاور نے اپنے انداز سے توشہ خانہ کیس چلایا، ابوالحسنات سائفر کیس اپنے طریقے سے چلائے گا، جج
    جج نے کہاکہ آپ مجھے جج ہمایوں دلاور سمجھتے ہیں وہ بھی انسان تھے،ہمایوں دلاور نے اپنے انداز سے توشہ خانہ کیس چلایا، ابوالحسنات سائفر کیس اپنے طریقے سے چلائے گا، سائفر کیس کا ٹرائل ہو گا تو چیئرمین پی ٹی آئی باہر آئیں گے نا ،مجھے بتائیں اب تک سائفر کیس کی سماعت کیا موثر انداز میں نہیں ہوئی؟وکیل شیراز رانجھا نے کہاکہ کوئی شک نہیں کہ آپ پی ٹی آئی وکلا کی باتوں کو سمجھتے ہیں، جج نے کہا کہ اللہ نے سائفر کیس کا فیصلہ ابوالحسنات کے ہاتھوں سے کرانا ہے تو ابوالحسنات ہی کرے گا، وکیل شیراز رانجھا نے کہاکہ آپ نے مائنڈ نہیں کرنا، سائفر کیس کی سماعت 10اکتوبر کو تھی، نقول کیلئے کیوں جلد سماعت رکھی؟ جج نے کہاکہ اگر سائفر کیس کا ٹرائل چلانا ہے تو بتائیں، نہیں چلانا تب بھی بتا دیں،ٹرائل کیلئے وافر وقت دے رہا ہوں، آپ کی قانونی ٹیم کو سمجھ ہی نہیں آ رہی،میں سائفر کیس کا ٹرائل بہت موثر انداز میں چلانا چاہ رہا ہوں،ابوالحسنات ذوالقرنین نہیں تو کوئی اور سائفر کیس کا ٹرائل کرلے گا، سائفر کیس میں چالان کی نقول کبھی نہ کبھی تو فراہم کرنی ہیں نا،جوڈیشل ریمانڈ کی اہمیت کو سمجھیں ، چالان آ جائے تو جوڈیشل ریمانڈ غیرموثر ہو جاتا ہے ،جوڈیشل ریمانڈ کا مقصد چیئرمین پی ٹی آئی کی 14روز بعد خیروعافیت معلوم کرنا ہے،

    وکیل نے کہاکہ سپریم کورٹ کے ججز نے کہاجج ہمایوں دلاور کو توشہ خانہ کیس میں کیا جلدی ہے،توشہ خانہ، سائفر کیس میں ملزم کو ٹرائل کی جلد ی ہونی چاہئے،یہاں مدعی جلدی کررہا ہے،دیگر کیسز معمول کے مطابق چلائے جارہے ہیں، چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف کیسز کا جلدی ٹرائل کیا جا رہا ہے،جج نے کہا کہ سائفر کیس عام نوعیت کا نہیں، ہائی پروفائل حساس کیس ہے، اہمیت کو سمجھیں ،وکیل شیراز رانجھا نے کہاکہ سائفرکیس کوئی حساس کیس نہیں، سائفر کیس کو حساس بنایا جا رہا ہے،جج نے کہاکہ سائفر کیس چالان کی نقول فراہم کرنی تھی، پی ٹی آئی قانونی ٹیم نے عدالت کی نہیں سنی

    چئیرمین پی ٹی آئی سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کے لئے لیگل ٹیم کے تین ارکان کو اجازت مل گئی،اجازت ملنے والی وکلاء کی ٹیم میں حامد خان، عمیر نیازی، شعیب شاہین شامل ہیں،اڈیالہ جیل کے باہر بھی وکلا کی بڑی تعداد موجودہے

     سائفر کیس،چیئرمین پی ٹی آئی نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست ضمانت دائر کردی

    سائفر کیس میں سابق وفاقی وزیر اسد عمر کی درخواست ضمانت قبل ازگرفتاری پر سماعت

    سائفر کیس کی اٹک جیل میں سماعت کیخلاف درخواست پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت

    سلمان رشدی کا وکیل، عمران خان کا وکیل بن گیا

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    امریکی سائفر کے بیانیہ پر سیاست کرنے والا خود امریکیوں سے رحم کی بھیک مانگنے پر مجبور،

    ایف آئی اے نے چالان آفیشل سیکرٹ ایکٹ خصوصی عدالت میں جمع کرا دیا ،چالان میں چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی قصوروار قرار دیئے گئے،ایف آئی اے نے چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کو ٹرائل کرکے سزا دینے کی استدعا کر دی،اسد عمر ملزمان کی لسٹ میں شامل نہیں ،سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان ایف آئی اے کے مضبوط گواہ بن گئے ،اعظم خان کا 161 اور 164 کا بیان چالان کے ساتھ منسلک ہے،

  • ملزم کو کسی کیس میں گرفتار نہ کیا جائے یہ کس قانون میں لکھا ؟ سپریم کورٹ

    ملزم کو کسی کیس میں گرفتار نہ کیا جائے یہ کس قانون میں لکھا ؟ سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ: سابق وزیراعلی پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کی غیر قانونی حراست کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    جسٹس طارق مسعود کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، وکیل لطیف کھوسہ نے عدالت میں کہا کہ
    میں نے چوہدری پرویز الٰہی کے خلاف مقدمات سے متعلق آگاہی کے لیے درخواست دائر کی تھی،پرویز الہی کو ایک کیس میں ضمانت ہوتی ہے دوسرے میں پکڑ لیتے ہیں۔

    دوران سماعت جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ پرویز الٰہی کیخلاف لاہور ہائیکورٹ نے ایم پی او کیس میں حکم دیا گرفتار نہ کیا جائے،اب جب اسلام آباد پولیس نے گرفتار کرلیا ہے تو لاہور ہائیکورٹ کیا کرے؟ لاہور ہائیکورٹ کیا حکم کر سکتا تھا،یہ نہ سمجھیں جو ہو رہا ہے اس سے ہمیں خوشی ہو رہی ہے،قانونی سوالات اٹھتے ہیں جن پر جواب دیں، لاہور ہائیکورٹ کیسے اسلام آباد میں درج ایف آئی آر ختم کر سکتی ہے؟

    جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ملزم کو کسی کیس میں گرفتار نہ کیا جائے یہ کس قانون میں لکھا ہے۔اسلام آباد میں عدالت نے اس قسم کا آرڈر جاری کیا۔کیا عدالتیں ملزم کو جرم کرنے کا لائسنس دے رہی ہے۔ہم نے اور ان ججز نے بھی قانون کے تحفظ اٹھایا ہے۔فیصلہ دیا جاتا اب ملزم کی گرفتاری عدالت کی اجازت سے ہوگی۔وہ ملزم ضمانت پر رہا کرکے دو بندے قتل کردے پولیس کچھ نہ کرے۔پولیس کیا ملزم کے سامنے ہاتھ جوڑ کر پہلے عدالتی اجازت لے پھر گرفتار کرے۔

    وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ یہ بھی مذاق ہے ضمانت کے بعددوسرے کیس میں پھر گرفتار کر لیتے ہیں۔جسٹس سردار طارق مسعود نےکہا کہ یہ مذاق تو ستر سال سے ہو رہا ہے۔آپ قانون کا بتائیں قانون کیا کہتا ہے۔ وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہمارےساتھ وہ ہورہاہےجیسے کشمیرمیں ہوتاہے ،جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کشمیرکی بات نہ کریں، کشمیرمیں بھارتی فوج قابض ہے،وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ تو ہمارےساتھ ویساسلوک نہ کریں ناں،کپڑوں کےبغیر آکراغواکرلیاجاتا ہے،جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ دن کو بغیر کپڑوں کے بغیر؟ وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ میرا کہنے کا مطلب ہے یونیفارم کے بغیر،

    جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ پرویز الٰہی قانونی طور پرحراست میں لئے گئے ہیں،لطیف کھوسہ نے کہاکہ ہائیکورٹ وہ آرڈر کر سکتی ہے جو سپریم کورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی کیس میں کیا، جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ آپ گھڑی کو بہت پیچھے نہ لے جائیں، اسی کیس پر رہیں،لطیف کھوسہ نے کہاکہ اگر آپ کو اس کیس کو غیرموثر ہی کرنا ہے تو پاکستان کے مقدر کا خداحافظ ہے،جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ پاکستان کا مقدر چند لوگوں کے ہاتھ میں نہیں ہو سکتا،وکیل لطیف کھوسہ نے کہاکہ کیس کی سماعت کل یا پیر کورکھ لیں، جسٹس منصور علی شاہ نے کہاکہ پیر کو تو پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے خلاف کیس ہوگا،جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ سادہ سا کیس ہے آپ ہمیں غیرمتعلقہ معاملات میں الجھانا چاہتے ہیں،عدالت قانون کے مطابق چلے گی،لطیف کھوسہ نے کہاکہ حقوق پامالی کی اجازت نہیں،25کروڑ عوام کے حقوق کا سوال ہے،جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ خود کیس کی تیاری کرکے نہیں آئے اور بات ہم پر ڈال رہے ہیں،معاون وکیل سردار عبدالرازق نے کہاکہ شیخ رشید کو بھی بوگس کیس میں پکڑ لیا گیا ہے،جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ زبانی باتیں نہ کریں شیخ رشید کا کیس ہمارے سامنے نہیں ہے،

    جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بھٹو صاحب کے دور میں ایف آئی آر دکھا کر گرفتاری کا قانون آیا،بھٹو صاحب کے دور میں یہ قانون ظہور الٰہی کیلئے آیا تھا،یہ تو لائسنس ٹو کرائم والی بات ہے، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ یہ ضمانتیں بنیادی حقوق کی خلاف ورزی پر ہو رہی ہیں،جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ پھر یہ قانون عام بندے کیلئے بھی رکھیں نا، سب کو یہ حق دیں،آج کل ہائیکورٹ میں بندہ پیش نہیں ہوتا اور ضمانتیں دے دی جاتی ہیں،قانون کے مطابق ملزم کو ضمانت کیلئے خود پیش ہونا پڑتا ہے،جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ ہائیکورٹ کس طرح ایک آرڈر سے تمام کیسز میں ضمانت دے رہی ہے؟یہ بتائیں کیا ہائیکورٹ ایسا حکم دے سکتی ہے کہ ایک شخص کو کسی کیس میں گرفتار نہ کرو؟جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ کیس غیرموثر ہو گیا تو کیسے آگے چلائیں،صرف دو سوالوں کے جواب دے دیں،

    عدالت عظمٰی نے وکیل لطیف کھوسہ سے دو سوالوں کے جواب طلب کرلئے، عدالت نے سوال کیا کہ کیا ہائیکورٹ کسی ملزم کو نامعلوم ایف آئی آر پر وسیع ریلیف دے سکتی ہے،حبس بے جا کی درخواست پر لاہور ہائیکورٹ مذید کیا کرسکتی ہے،وکیل پرویز الہیٰ نے کہا کہ مجھے تیاری کیلئے وقت دیں ،

    سابق وزیر اعلی پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کی غیر قانونی گرفتاری سے متعلق کیس کی سماعت اگلے ہفتے تک ملتوی کر دی گئی

  • فیض آباد دھرنا کیس،ایم کیو ایم کی بھی نظر ثانی درخواست واپس لینے کی درخواست

    فیض آباد دھرنا کیس،ایم کیو ایم کی بھی نظر ثانی درخواست واپس لینے کی درخواست

    ایم کیو ایم پاکستان نے بھی فیض آباد دھرنا کیس میں نظرثانی واپس لینے کی درخواست دائر کردی
    ایم کیوایم کی جانب سے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی، نظرثانی واپس لینے کی درخواست ایڈووکیٹ آن ریکارڈ محمود اے شیخ نے دائر کی،ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ایم کیو ایم اور رابطہ کمیٹی کی ہدایات پر نظرثانی پر کارروائی نہیں چاہتے.

    واضح رہے کہ فیض آباد دھرنا کیس میں تحریک انصاف، پیمرا، وزارت دفاع نے بھی نظر ثانی درخواست واپس لینے کی درخواست دائر کر رکھی ہے، گزشتہ سماعت پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ درخواستیں واپس کیوں لی جارہی ہیں، ہمیں بتائیں، سچ بولنے سے ہر کوئی کترا کیوں رہا ہے؟ کیا یہ کہہ رہے ہیں مٹی پاو بعد میں دیکھیں گے، 12 مئی کو 55لوگ مرے، خون ہوا، آپ کہہ رہے ہیں مٹی پاؤ۔ بتائیں نا کیوں مٹی ڈالیں؟ کیا نئے واقعے کا انتظار کریں،؟ فیض آباد دھرنا کیس میں سب نے نظرثانی درخواستیں دائر کیں جس سے امید تھی کہ نظرثانی دائر کرینگے انہوں نے دائر نہیں کی۔ آپ سب سے تو کم از کم خادم رضوی بہتر رہے، انہوں نے نظر ثانی درخواست بھی نہیں ڈالی جس کا مطلب ہے کہ ٹی ایل پی نے اپنی غلطی تسلیم کی اور ہمارے فیصلہ کو تسلیم کیا۔ خادم رضوی صاحب زندہ تھے اس وقت مگر شاید ہمارے فیصلے سے مطمئن تھے۔ غلطی ہوجاتی اسے تسلیم کرنا بڑاپن ہوتا ہے ،،نظرثانی واپس لیکر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ جو ہوا مٹی پاؤ ،، 12 مئی کے واقعات پر بھی مٹی پاؤکہیں گے کیا،

    بعد ازاں سپریم کورٹ نے تحریری حکمنامے میں کہا کہہ عدالت ایک اور موقع دیتی ہے کوئی بھی شخص حقائق منظر عام پر لانا چاہے تو اپنا بیان حلفی عدالت میں پیش کرے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ فیض آباد دھرنا ایک محدود وقت کے لیے اس کے دائرہ اختیار کو وسیع نہیں کیا جانا چاہیے، کوئی بھی فریق یا کوئی اور شخص اپنا جواب جمع کروانا چاہے تو 27 اکتوبر تک جمع کروا دے، کیس کی آئندہ سماعت یکم نومبر کو ہوگی

  • اپنے وعدہ معاف گواہ بن گئے، عمران خان کو کتنی سزا ہوگی؟

    اپنے وعدہ معاف گواہ بن گئے، عمران خان کو کتنی سزا ہوگی؟

    عمران خان کو کتنی سزا ہوگی اس بارے میں سینئر وکیل راجہ رضوان عباسی نے پروگرام کھرا سچ میں مبشر لقمان کے ایک سوال کہ کیا عمران خان کو سزا ہوجائے گی کے جواب میں کہا کہ اس کے کیس میں شواہد موجود ہیں اور امید ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کو سزا ہوسکتی ہے باقی فیصلہ تو عدالت نے کرنا ہے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ سیکرٹ ایکٹ کا مطلب ہی سیکرٹ ہے اور یہ اوپن ہو نہیں سکتا جب ہم نے جو درخواست دی وہ یہی ہے کہ یہ کیس ان کیمرہ ہونا چاہئے کیونکہ اس کیس جو خود سیکرٹ ایکٹ بارے ہے کو اوپن نہیں کیا جاستا ہے۔

    علاوہ ازیں ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ کیس بہت ہی مضبوط کیس ہے اور اس کیس میں اعظم خان گواہ ہیں مگر وعدہ معاف گواہ نہیں ہیں جبکہ اینکر مبشر لقمان نے کہا کہ اعظم خان سمیت دو اہم لوگ بھی وعدہ معاف گواہ بن گئے ہیں لیکن رضوان عباسی ہمیں بتا نہیں رہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    خاتون کا رشتہ داروں پر چالیس لاکھ روپے کے عوض بیچنے کا الزام،ویڈیو وائرل
    سیمنٹ کی قیمت میں بھی اضافہ https://login.baaghitv.com/cement-ki-qemat-me-izafa/
    آئی سی سی پی کی جرائم کی شرح میں نمایاں کمی پر تمام افسران کو شاباش
    ممی کو 128 سال بعد مناسب طریقے سے دفنانے کی اجازت دے دی گئی
    انتخابات میں عالمی مبصرین کو بلانے بارے الیکشن کمیشن کا اجلاس
    امریکی کرنسی کے مقابلے روپیہ مزید تگڑا
    راجہ رضوان نے وضاحت کی کہ وعدہ معاف گواہ وہ ہوتا ہے جو اس کیس میں پہلے ہی شامل ہو یعنی اس کیس میں ملزم ہو وہ وعدہ معاف گواہ بن سکتا ہے لہذا اعظم خان اس کیس میں صرف گواہ ہیں۔

  • حسان نیازی کیس، عدالت کی متعلقہ اتھارٹی سے رابطہ کرنے کی ہدایت

    حسان نیازی کیس، عدالت کی متعلقہ اتھارٹی سے رابطہ کرنے کی ہدایت

    لاہور ہائیکورٹ ،حسان نیازی کی بازیابی اور ملاقات سے متعلق درخواست پر تحریری حکم جاری کر دیا گیا

    لاہور ہائیکورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے بھانجے حسان نیازی کی بازیابی کے لیے درخواست پر محفوظ فیصلہ سنادیا ،عدالت نے فریقین کے وکلا کو مزید دلائل کیلئے 17 اکتوبر کو طلب کرلیا ،عدالت نے پنجاب حکومت کے وکیل کو پندرہ دن میں متعلقہ اتھارٹی سے رابطہ کرنے کی ہدایت کردی ،جسٹس سلطان تنویر نے حسان کے والد حفیظ اللہ نیازی کی درخواست پر گزشتہ سماعت کا تحریری حکم جاری کیا ،حفیظ اللہ نیازی نے بیٹے حسان نیازی سے ملاقات کی استدعا کررکھی ہے ، تحریری حکم میں عدالت نے کہا کہ سرکاری وکیل کے مطابق معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے تب تک سماعت ملتوی کی جائے۔عدالت نے مزید کاروائی 17 اکتوبر تک ملتوی کردی

    حسان نیازی کو ایبٹ آباد سے گرفتار کیا گیا تھا، نو مئی کے واقعہ کے بعد حسان نیازی روپوش ہو گئے تھے، انہیں دوست کے گھر سے پولیس نے گرفتار کیا تھا،حسان نیازی کے والد حفیظ اللہ نیازی، تحریک انصاف کے خلاف ہیں،انہوں نے ٹویٹر پر تصدیق کی کہ حسان نیازی کو گرفتار کر لیا گیا ہے،

    واضح رہے کہ عمران خان کی گرفتاری کے بعد تحریک انصاف کے شرپسندوں نے ملک بھر میں جلاؤ گھیراؤ کیا تھا، لاہور میں جناح ہاؤس سمیت دیگر عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا وہیں ن لیگ کے دفتر کو بھی آگ لگائی گئی تھی، شرپسند عناصر کے‌ خلاف کاروائیاں جاری ہیں، کئی افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے، کئی روپوش ہیں، تحریک انصاف کے رہنما پارٹی چھوڑ رہے ہیں تو دوسری جانب کارکنان اظہار لاتعلقی کر رہے ہیں

    حسان خان نیازی کو 18 اگست کو عدالت پیش کرنے کا حکم

    پائلٹس کے لائسنس سے متعلق وفاق کے بیان کے مقاصد کی عدالتی تحقیقات ہونی چاہیے، رضا ربانی

    کراچی طیارہ حادثہ کی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش، مبشر لقمان کی باتیں 100 فیصد سچ ثابت

    ایئر انڈیا: کرو ممبرزکیلیے نئی گائیڈ لائن ’لپ اسٹک‘ ’ناخن پالش‘ خواتین کے لیے اہم ہدایات

  • پی ایم ڈی سی کا کردار غیر پیشہ ورانہ ہے،پشاور ہائیکورٹ

    پی ایم ڈی سی کا کردار غیر پیشہ ورانہ ہے،پشاور ہائیکورٹ

    میڈیکل کالجز میں داخلے کیلئے ٹیسٹ سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی،

    جسٹس عبدلشکور اور جسٹس ارشد علی نے سماعت کی ،ایڈووکیٹ جنرل اور پی ایم ڈی سی وکیل عدالت میں پیش ہوئے،ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ 6 ہفتوں میں ٹیسٹ دوبارہ ہوگا، سرکاری وکیل نے کہا کہ پی ایم ڈی سے 6 ہفتوں میں ٹیسٹ کیلئے تاریخ دیگا، پی ایم ڈی سی وکیل نے کہا کہ کونسل کی اپرول سے سال میں صرف ایک بار ٹیسٹ ہوگا،جسٹس ارشد علی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا پی ایم ڈی سی نے خود سے انکوائری نہیں کی، پی ایم ڈی سی اگر ذمہ دار ہے تو اتنے بڑے واقعہ پر نوٹس کیوں نہیں لیا، پی ایم ڈی سی کا کردار غیر پیشہ ورانہ ہے، آج بھی پی ایم ڈی سی کا کوئی بندہ پیش نہیں ہوا، اب آگے دیکھتے ہیں پی ایم ڈی سی کتنا سنجیدہ ہے،

    وکیل نے کہا کہ ایم ڈی کیٹ ٹاپر نے کوہاٹ بورڈ بھی ٹاپ کیا، پہلے کبھی نقل پکڑنے سے پورا امتحان کینسل نہیں ہوا، ذہین طلباء نے رات بھر پڑھ پڑھ کر ٹیسٹ پاس کیا، ٹیسٹ کینسل کرنا ان ذہین طلبہ کے ساتھ نا انصافی ہوگی، جسٹس ارشد علی نے کہا کہ ری کنڈکٹ سے ذہین طلبہ پھر نمبر لے لینگے، جسٹس ارشد علی نے کہا کہ دو دن قبل پیپر آوٹ ہوا تھا، ایم ڈی کیٹ ری کنڈکٹ ہونا چاہیئے،عدالت نے تمام وکلاء کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا

    پی ایم ڈی سی کے میڈیکل کالجز میں داخلہ کے قواعد و ضوابط پر عدالت کا اہم حکم

    کرونا وائرس لاہور میں پھیلنے کا خدشہ، انتظامیہ نے بڑا قدم اٹھا لیا

    کرونا ویکسین کی تیاری کے لئے امریکہ مسلمان سائنسدانوں کا محتاج

  • شاہ محمود قریشی کی درخواست پر ایف آئی اے کو نوٹس جاری

    شاہ محمود قریشی کی درخواست پر ایف آئی اے کو نوٹس جاری

    انسداد دہشتگردی عدالت ،شاہ محمود قریشی کی بینک جوائنٹ اکاؤنٹ کھلوانے کے لیے بائیو میٹرک کی اجازت کی درخواست پر سماعت ہوئی،

    کیس کی سماعت جج ابو الحسنات ذوالقرنین نے کی ، آفیشل سیکرٹ ایکٹ خصوصی عدالت نے ایف آئی اے کو نوٹس جاری کرکے آج ہی جواب طلب کر لیا، وکیل علی بخاری نے کہا کہ شاہ محمود قریشی ایک ہی اکاؤنٹ ہولڈ کرتے ہیں ،شاہ محمود قریشی جیل میں ہیں اور روز مرہ امور چلانے کے لیے جوائنٹ اکاؤنٹ کھلوانا چاہتے ہیں ،بائیو میٹرک کے لیے بینک اسٹاف کو جیل جانے کی اجازت دی جائے ،شاہ محمود قریشی کا ایک بیٹا ہے وہ واحد خود کفیل ہیں ملازمین کو تنخواہیں بھی دینی ہے ، عدالت نے ایف آئی اے کو نوٹس جاری کرکے سماعت میں وقفہ کردیا

    شاہ محمود قریشی کو سائفر کیس میں گرفتار کیا گیا ہے، وہ اڈیالہ جیل میں قید ہیں، ایف آئی اے نے چالان میں شاہ محمود قریشی کو قصور وار قرار دیا ہے، سائفر کیس میں شاہ محمود قریشی کو چار اکتوبر کو عدالت نے پیش کرنے کی ہدایت کر رکھی ہے،

     سائفر کیس،چیئرمین پی ٹی آئی نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست ضمانت دائر کردی

    سائفر کیس میں سابق وفاقی وزیر اسد عمر کی درخواست ضمانت قبل ازگرفتاری پر سماعت

    سائفر کیس کی اٹک جیل میں سماعت کیخلاف درخواست پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت

    سلمان رشدی کا وکیل، عمران خان کا وکیل بن گیا

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    امریکی سائفر کے بیانیہ پر سیاست کرنے والا خود امریکیوں سے رحم کی بھیک مانگنے پر مجبور،

    ایف آئی اے نے چالان آفیشل سیکرٹ ایکٹ خصوصی عدالت میں جمع کرا دیا ،چالان میں چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی قصوروار قرار دیئے گئے،ایف آئی اے نے چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کو ٹرائل کرکے سزا دینے کی استدعا کر دی،اسد عمر ملزمان کی لسٹ میں شامل نہیں ،سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان ایف آئی اے کے مضبوط گواہ بن گئے ،اعظم خان کا 161 اور 164 کا بیان چالان کے ساتھ منسلک ہے،

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے سائفر اپنے پاس رکھا اور اسٹیٹ سیکرٹ کا غلط استعمال کیا ، شاہ محمود قریشی نے 27 مارچ کی تقریر کی پھر چیئرمین پی ٹی آئی کی معاونت کی ، چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کی 27 مارچ کی تقریر کا ٹرانسکرپٹ سی ڈی منسلک ہے،ایف آئی اے نے 28 گواہوں کی لسٹ چالان کے ساتھ عدالت میں جمع کرا دی ،سیکرٹری خارجہ اسد مجید اور سابقہ سیکرٹری خارجہ سہیل محمود بھی گواہوں میں شامل ہیں،ایڈیشنل سیکرٹری خارجہ فیصل نیاز ترمزی بھی ایف آئی اے کے گواہوں میں شامل ہیں، سائفر وزارت خارجہ سے لیکر وزیراعظم تک پہنچنے تک تمام چین گواہوں میں شامل ہیں

  • نواز شریف کورٹ کے سامنے سرنڈر کریں. عابد ساقی

    نواز شریف کورٹ کے سامنے سرنڈر کریں. عابد ساقی

    پروگرام کھرا سچ میں اینکرپرسن مبشر لقمان سے بات کرتے ہوئے سابق وائس چیئر مین پی بی سی عابد ساقی نے کہا کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کو چاہئے کہ وہ عدالت کے سامنے آکر سرنڈر کردیں اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ وہ ایک درخواست لکھیں اور کہیں کہ میں عدالت کے سامنے خود کو سرنڈر کرنا چاہتا ہوں جبکہ انہوں نے مزید کہا کہ اس کے علاوہ بھی ایک قانونی طریقہ ہے اور وہ یہ کہ اگر ان کو گرفتاری کا ڈر ہے تو وہ عدالت سے گزارش کریں کہ مجھے گرفتاری کا ڈر ہے لہذا میں جو بھی عدالتی پراسیز ہے اس میں شامل ہونا چاہتا ہوں.

    سابق وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل کا یہ بھی کہنا تھا کہ چونکہ اس ملک میں قانون سب کیلئے برابر نہیں ہے لہذا وہ پاور فل لوگوں سے بات کریں جیسے کہ یہاں قانون کے طاقت کت تابع چلتا ہے لہذا ہے اسی کا سہارا لیا جاسکتا ہے.

    واضح رہے کہ عابد ساقی نے موقف اپنایا کہ جب سب چیزیں طے ہوجائیں گی تو پھر کوئی مسئلہ بھی نہیں ہوگا لہذا ابھی وہی چیزیں طے کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، کیونکہ یہ بالکل واضح ہے کہ عام آدمی اور کسی خاص کیلئے قانون بالکل بھی برابر نہیں ہے۔


    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے خلاف کاروائی کو انتقامی قرار دے دیا

    مذہبی ہم آہنگی کے فروغ کیلیے اسلامی نظریاتی کونسل کو مزید متحرک ہونا ہو گا،وزیراعظم
    نومبر یا مارچ میں الیکشن کرایا جائے ، مولانا عبدالواسع
    امریکی ڈالر کے مقابلے روپیہ کی قدر میں مزید بہتری
    علاوہ ازیں صدر سپریم کورٹ بار عابد زبیری نے کہا کہ پی آئی اے ایک زمانے میں بہت اعلیٰ ائیر لائنز ہوا کرتی تھی جبکہ اب خود حال دیکھ لیں اور کمرشل پر چلایا جاتا تھا جبکہ اسے چلانے والے جہاں سے لائے گئے اور پھر اس کو ڈیفنس میں رکھا گیا تو یہ صحیح نہیں کیونکہ جب تک کمرشل پر نہیں آئے گی تب تک ترقی نہیں کرے گی، اور کرپشن نے تباہ کیا کیونکہ ہر حکومت نے اپنے لوگوں اس اور ریلوے میں ڈالا ہے۔