Baaghi TV

Tag: عدالت

  • امریکی عدالت نے ٹرمپ کا ایک لاکھ ڈالر ’ایچ ون بی‘ ویزا فیس فیصلہ غیر قانونی قراردیا

    امریکی عدالت نے ٹرمپ کا ایک لاکھ ڈالر ’ایچ ون بی‘ ویزا فیس فیصلہ غیر قانونی قراردیا

    امریکا کی ایک وفاقی عدالت نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اعلیٰ مہارت رکھنے والے غیر ملکی کارکنوں کے لیے ایچ ون بی (H-1B) ویزا پر عائد کی گئی ایک لاکھ ڈالر فیس کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے منسوخ کر دیا ہے۔

    بوسٹن میں امریکی ڈسٹرکٹ جج نے پیر کے روز اپنے فیصلے میں کہا کہ یہ فیس درحقیقت ایک ٹیکس تھی، جس کے نفاذ کی اجازت امریکی کانگریس نے صدر کو نہیں دی تھی یہ مقدمہ 20 ڈیموکریٹک ریاستی اٹارنی جنرلز کی جانب سے دائر کیا گیا تھا، جنہوں نے ستمبر میں صدر ٹرمپ کے اعلان کو عدالت میں چیلنج کیا تھا اس اعلان کے تحت نئے ایچ ون بی ویزوں کی لاگت میں غیر معمولی اضافہ کر دیا گیا تھا۔

    ایچ ون بی پروگرام کے تحت ہر سال 65 ہزار ہنر مند غیر ملکی کارکنوں کو ویزے جاری کیے جاتے ہیں، جبکہ اعلیٰ تعلیمی ڈگری رکھنے والوں کے لیے مزید 20 ہزار ویزے مختص ہوتے ہیں ٹرمپ کے فیصلے سے قبل آجر حضرات مختلف عوامل کے مطابق عموماً 2 ہزار سے 5 ہزار ڈالر تک فیس ادا کرتے تھے۔

    عدالتی دستاویزات کے مطابق ایک لاکھ ڈالر کی فیس نافذ ہونے کے بعد ایچ ون بی ویزا درخواستوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی انتظامیہ کے مطابق 15 فرور ی تک صرف 85 درخواست گزاروں نے یہ فیس ادا کی تھی۔

    حکومت کا مؤقف تھا کہ یہ رقم ایک مالیاتی جرمانہ ہے جسے صدر کو وفاقی امیگریشن قوانین کے تحت بعض غیر ملکی شہریوں کے داخلے کو محدود کرنے کے لیے عائد کرنے کا اختیار حاصل ہے تاہم جج لیو سوروکن، جنہیں سابق صدر اوباما نے تعینات کیا تھا، نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ اس ادائیگی کی نوعیت اور عملی اطلاق واضح طور پر ظاہر کرتا ہے کہ یہ ایک ٹیکس ہے، خواہ اسے کسی بھی نام سے پکارا جائے۔

    عدالت کے فیصلے کے بعد وائٹ ہاؤس کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

  • لاہور ہائیکورٹ:بچے کا نان نفقہ ختم کرنے کی باپ کی اپیل خارج

    لاہور ہائیکورٹ:بچے کا نان نفقہ ختم کرنے کی باپ کی اپیل خارج

    لاہور ہائیکورٹ نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے کی باپ کی اپیل خارج کردی۔

    لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کردیا،عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔

    عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002 میں ہوئی تھی جب کہ 2005 میں طلاق ہوگئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔

    عدالتی حکم نامے میں کہا گیا ہےکہ خاتون نے 2019 میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس میں درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کرسکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے، کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جاسکتا۔

    عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جب کہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا،لاہور ہائیکورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔

  • پنکی کو  ویڈیو لنک کے ذریعے پیش کرنے کی درخواست دائر

    پنکی کو ویڈیو لنک کے ذریعے پیش کرنے کی درخواست دائر

    کراچی: جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں منشیات کے مقدمے میں نامزد ملزمہ انمول عرف پنکی کے کیس کی سماعت ہوئی، جس میں وومن جیل سپرنٹنڈنٹ عدالت کے روبرو پیش ہوئیں۔

    دورانِ سماعت جیل حکام کی جانب سے ملزمہ کو ویڈیو لنک کے ذریعے پیش کرنے کی درخواست دائر کی گئی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ملزمہ کو آج تھانہ گارڈن میں درج مقدمے کے سلسلے میں عدالت میں پیش کیا جانا تھا، تاہم سیکیورٹی خدشات کے باعث اسے عدالت لانا ممکن نہیں، ملزمہ کو عد الت میں پیش کرنے سے نقصِ امن کا خطرہ ہے لہٰذا مقدمے کے لیے نئی تاریخ مقرر کی جائے۔

    جیل حکام نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ آئندہ سماعت پر ملزمہ کو جیل سے آن لائن ویڈیو لنک کے ذریعے پیش کیا جائے گا، جس کے لیے تمام ضروری وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔

    واضح رہے کہ ملزمہ انمول عرف پنکی کے خلاف منشیات کا مقدمہ تھانہ گارڈن میں درج ہے۔

  • شادی کے وقت کیے گئے وعدے بھی قانونی طور پر لازم قرار

    شادی کے وقت کیے گئے وعدے بھی قانونی طور پر لازم قرار

    لاہور ہائیکورٹ نے بیوی کو 5 مرلہ گھر دینے سے متعلق ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے شوہر کی اپیل مسترد کر تے ہوئے قرار دیا ہے کہ شوہر نکاح نامے میں درج حق مہر کے علاوہ شادی کے موقع پر کیے گئے علیحدہ معاہدوں اور وعدوں کو پورا کرنے کا بھی پابند ہے۔

    جسٹس محمد ساجد محمود سیٹھی نے درخواست پر 11 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا، جس میں قرار دیا گیا کہ شادی کے روز شوہر نے ایک الگ معاہد ے کے تحت بیوی کو 5 مرلہ گھر دینے کا وعدہ کیا تھا، لہٰذا اس وعدے کی قانونی حیثیت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

    عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ حق مہر بیوی کا قانونی اور شرعی حق ہے، اسے شوہر کا احسان یا صوابدیدی رعایت نہیں سمجھا جا سکتا قانون کی نظر میں حق مہر شوہر پر ایک قرض کی حیثیت رکھتا ہے جس کی ادائیگی لازم ہے، شادی کے دوران یا بعد میں حق مہر کا مطالبہ نہ کرنا خاتون کے اس حق سے دستبرداری تصور نہیں کیا جا سکتا عدالت نے مشاہدہ کیا کہ معاشرتی، خاندانی اور ثقافتی دباؤ کے باعث بہت سی خواتین اپنے حقوق کا فوری مطالبہ نہیں کرتیں، اس لیے خاموشی کو رضامندی یا حق سے دستبرداری نہیں سمجھا جا سکتا۔

    تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اسلامی قانون کے تحت حق مہر زبانی، تحریری یا بعد میں بھی طے کیا جا سکتا ہے، جبکہ شوہر کو شادی کے بعد حق مہر میں اضافہ کرنے کی بھی اجازت ہے،خاندانی معاملات کا فیصلہ کرتے وقت عدالتیں صرف قانونی موشگافیوں تک محدود نہیں رہتیں بلکہ معاشرتی حقائق اور فریقین کے جائز حقوق کو بھی مدنظر رکھتی ہیں۔

    لاہور ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں ٹرائل کورٹ کے حکم کو درست قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ شادی کے وقت کیے گئے تحریری وعدے اور معاہدے محض رسمی کارروائی نہیں بلکہ قانونی ذمہ داری بھی بن سکتے ہیں، جن پر عمل درآمد ضروری ہے۔

  • مومنہ اقبال اور ثاقب چڈھر کیس میں اہم پیشرفت

    مومنہ اقبال اور ثاقب چڈھر کیس میں اہم پیشرفت

    لاہور ہائیکورٹ میں اداکارہ مومنہ اقبال اور ثاقب چڈھر کے تنازعے سے متعلق کیس میں اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔

    ثاقب چڈھر کو دھمکیاں دینے کے مقدمے میں مومنہ اقبال کے منگیتر حمزہ حبیب کی حفاظتی ضمانت منظور کر لی گئی، عدالت نے حمزہ حبیب کو عبوری ضما نت کے لیے یکم جون تک متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت بھی جاری کر دی،جسٹس عبہر گل نے حمزہ حبیب کی حفاظتی ضمانت کی درخواست پر سماعت کی۔ دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ حمزہ حبیب کے خلاف جھنگ پولیس نے مقدمہ درج کر رکھا ہے۔

    عدالت نے ابتدائی دلائل سننے کے بعد حمزہ حبیب کی حفاظتی ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں متعلقہ فورم سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔

    قبل ازیں اداکارہ مومنہ اقبال اور مسلم لیگ ن کے ایم پی اے کے درمیان تنازع سے متعلق درخواست ایف آئی اے کو بھجوا دی گئی۔

    مومنہ اقبال اور مسلم لیگ (ن) کے ایک ایم پی اے کے درمیان مبینہ لڑائی جھگڑے کے معاملے پر تھانہ چونگ میں دی گئی درخواست ابتدائی قانونی کارروائی کے بعد ایف آئی اے این سی سی آئی اے کو بھجوا دی گئی،پولیس کے مطابق درخواست میں ایسا کوئی جرم نہیں بنتا جو تھانے کے دائرہ اختیار میں آتا ہو، اس لیے معاملہ ایف آئی اے کو ارسال کر دیا گیا ہے۔

    تفتیشی افسر کا کہنا ہے کہ تمام معاملہ اور مبینہ جھگڑا ٹیلیفونک گفتگو کے ذریعے پیش آیا، اسی وجہ سے یہ معاملہ پولیس کے بجائے ایف آئی اے کے دائرہ اختیار میں آتا ہےپولیس کے مطابق درخواست کو داخل دفتر کرتے ہوئے ایف آئی اے کے این سی سی آئی اے سرکل کو بھجوا دیا گیا ہے،مومنہ اقبال تھانہ چونگ آنے کے بجائے ایف آئی اے حکام سے رابطہ کریں۔

  • ایلون مسک کو اوپن اے آئی کے خلاف مقدمے میں شکست

    ایلون مسک کو اوپن اے آئی کے خلاف مقدمے میں شکست

    امریکہ کی وفاقی جیوری نے ارب پتی ایلون مسک کے اوپن اے آئی اور اس کے سی ای او سیم ایلٹمین کے خلاف دائر کردہ دعوے مسترد کر دیے،جیوری نے اپنے متفقہ فیصلے میں قرار دیا کہ ایلون مسک کا مقدمہ قانونی مدت گزر جانے کے باعث قابل سماعت نہیں تھا۔

    کیلیفورنیا کے شہر اوکلینڈ کی وفاقی عدالت میں ہونے والی اس عدالتی کارروائی میں جیوری نے ایلون مسک کے دعوے مسترد کرتے ہوئے کمپنی کو ذمہ دار قرار دینے سے انکار کر دیا،جیوری نے متفقہ طور پر قرار دیا کہ ایلون مسک نے مقدمہ دائر کرنے میں بہت تاخیر کی۔

    مقدمے کی سماعت 28 اپریل سے جاری تھی اور اسے مصنوعی ذہانت کی صنعت کے مستقبل کے لیے اہم مقدمہ قرار دیا جا رہا تھا۔ مقدمے کے دوران اوپن اے آئی اور اس کے سربراہ کی ساکھ بھی زیر بحث رہی، جبکہ فریقین نے ایک دوسرے پر مالی مفادات کو ترجیح دینے کے الزامات عائد کیے۔

    ماسکو اور بیجنگ کے تعلقات غیر معمولی طور پر بے مثال سطح تک پہنچ چکے ہیں، پیوٹن

    ایلون مسک (اوپن اے آئی کے شریک بانی) نے الزام عائد کیا تھا کہ کمپنی اور اس کے ایگزیکٹوز نے پبلک گڈ اور نان پرافٹ (غیر منافع بخش) مشن سے انحراف کرتے ہوئے منافع کمانے والی کمپنی میں تبدیلی کر کے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔

    ایلون مسک کا مؤقف تھا کہ اوپن اے آئی اپنی اصل انسانی فلاح کی پالیسی سے ہٹ گئی ہے اور سرمایہ کاروں کو فائدہ پہنچانے پر توجہ دے رہی ہے انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ مائیکروسافٹ کو شروع سے معلوم تھا کہ اوپن اے آئی مالی مفادات کو ترجیح دے رہی ہے۔

    دوسری جانب اوپن اے آئی کے وکلا نے مؤقف اختیار کیا کہ ایلون مسک خود مالی مفادات کے تحت کارروائی کر رہے ہیں اور انہوں نے بہت دیر سے قانونی دعویٰ دائر کیا۔

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی

    عدالتی کارروائی کے دوران بتایا گیا کہ مائیکرو سافٹ اوپن اے آئی کے ساتھ شراکت داری میں 100 ارب ڈالر سے زائد خرچ کر چکی ہے، جبکہ اوپن اے آئی مستقبل میں حصص کی عوامی فروخت کی تیاری بھی کر رہی ہے، جس سے کمپنی کی مالیت ایک کھرب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔

    9 رکنی جیوری نے صرف دو گھنٹے سے بھی کم وقت میں مشاورت مکمل کر کے متفقہ فیصلہ سنایا کہ ایلون مسک نے بہت تاخیر سے مقدمہ دائر کیا تھا، اس مقدمے میں جیوری نے کمپنی کو ذمہ دار قرار دینے سے انکار کیا اور جج نے مقدمے کو خارج کر دیا۔

    ایلون مسک کے وکلاء نے اس فیصلے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے عدالت کے فیصلے کو چیلنج کرنے اور اپیل دائر کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    ایران میں پاکستان کے نامزد سفیر عمران احمد صدیقی کی اسحاق ڈار سے ملاقات

  • اپنے الوداع کہنے کا وقت خود چن سکنا بھی ایک انعام ہے،جیفری ایپسٹین کا سوسائیڈ نوٹ منظرعام پر

    اپنے الوداع کہنے کا وقت خود چن سکنا بھی ایک انعام ہے،جیفری ایپسٹین کا سوسائیڈ نوٹ منظرعام پر

    بدنام زمانہ سرمایہ کار اور جنسی جرائم کے ملزم جیفری ایپسٹین سے منسوب ایک مبینہ خفیہ ہاتھ سے لکھی گئی تحریر انٹر نیٹ پر گردش کر رہی ہے-

    امریکا میں ایک وفاقی جج نے بدنام زمانہ سرمایہ کار اور جنسی جرائم کے ملزم جیفری ایپسٹین سے منسوب ایک مبینہ خفیہ ہاتھ سے لکھی گئی تحریر منظر عام پر لانے کا حکم دے دیا ہے جو ان کی موت سے تقریباً ایک ماہ قبل لکھی گئی تھی۔

    جولائی 2019 کی اس تحریر میں دعویٰ کیا گیا کہ کئی ماہ تک جاری رہنے والی تحقیقات میں ان کے خلاف کچھ نہیں مل جبکہ نوٹ میں ایک جملہ خاص طور پر توجہ کا مرکز بن گیا جو یہ تھا ’اپنے الوداع کہنے کا وقت خود چن سکنا بھی ایک انعام ہے، تم چاہتے ہو میں پھوٹ پھوٹ کر روؤں؟ کوئی فائدہ نہیں، یہ اس کے قابل نہیں‘۔

    امریکی اخباردی نیویارک ٹائمز نے عدالت سے نوٹ جاری کرنے کی درخواست کی تھی مؤقف اختیار کیا گیا کہ اب اس دستاویز کو خفیہ رکھنے کی کوئی قانونی وجہ باقی نہیں رہی،جج نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ اس نوٹ کو منظر عام پر لانا شفافیت اور احتساب کے اصولوں کے مطابق ہے اور اس سے عدالتی نظام پر عوامی اعتماد برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔

    یہ نوٹ ایپسٹین کے سابق سیل میٹ نکولس ٹارٹاگلیونے کے مطابق ایک کتاب کے اندر چھپا ہوا ملا تھا ٹارٹاگلیونے کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ تحریر جولائی 2019 میں ایپسٹین کی پہلی مبینہ خودکشی کی کوشش کے بعد دریافت کی۔

    ٹارٹاگلیو ایک سابق پولیس افسر اور 4 افراد کے قتل میں سزا یافتہ مجرم ہیں وہ پہلے بھی اس نوٹ کا ذکر ایک پوڈکاسٹ میں کرچکے ہیں اگرچہ ایپسٹین نے کبھی ان پر جیل سیل میں حملے کا الزام لگایا تھا تاہم ٹارٹاگلیونے نے اس الزام کی تردید کی تھی۔

    عدالت کے مطابق یہ دستاویز پہلے ٹارٹاگلیونے کے مجرمانہ مقدمے کے باعث خفیہ رکھی گئی تھی تاہم اب جج نے اسے جاری کرنے کی اجازت دے دی ہے،امریکی حکام اور میڈیا اداروں نے اب تک اس نوٹ کی تحریر یا اس کی مکمل صداقت کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔

    واضح رہے کہ جیفری ایپسٹین اگست 2019 میں نیویارک کی جیل میں مردہ پائے گئے تھے جہاں وہ کم عمر لڑکیوں کی اسمگلنگ اور جنسی استحصال کے مقدما ت کا سامنا کر رہے تھےامریکی حکام نے ان کی موت کو خودکشی قرار دیا تھا تاہم اس واقعے کے بعد سے متعدد سازشی نظریات اور سوالات زیرِ گردش رہے ہیں۔

  • کرپشن کیسز :نیتن یاہو کو عدالت سے ایک اور مہلت مل گئی

    کرپشن کیسز :نیتن یاہو کو عدالت سے ایک اور مہلت مل گئی

    اسرائیل میں وزیر اعظم نیتن یاہو کو کرپشن مقدمات میں سماعت اچانک ملتوی ہونے پر ایک بار پھر عبوری ریلیف مل گیا ہے-

    اسرائیلی میڈیا کے مطابق پیر کے روز عدالت میں نیتن یاہو کے خلاف مقدمات کی سماعت ہونا تھی جس میں انہیں اپنا بیان ریکارڈ کروانا تھا، تاہم عین وقت پر یہ عمل مؤخر کر دیا گیا،یہ فیصلہ نیتن یاہو کے وکیل کی جانب سے رات گئے عدالت کو فراہم کی گئی نئی معلومات کے بعد کیا گیا، لیکن ان تفصیلات کو عوام کے سامنے نہیں لایا گیا عدالت نے اچانک سماعت ملتوی کر دی، جس سے وزیر اعظم کو وقتی طور پر ریلیف مل گیا ہے-

    میڈیا رپورٹس کے مطابق نیتن یاہو اس وقت تین مختلف کرپشن کیسز کا سامنا کر رہے ہیں اور یہ مقدمات 2019 سے زیر سماعت ہیں، اس سے قبل بھی کئی مواقع پر ان مقدمات کی سماعت موخر ہوتی رہی ہے، جس کی بڑی وجوہات میں سیکیورٹی صورتحال اور جنگی حالات شامل رہے ہیں، حالیہ ایران-اسرائیل کشیدگی کے باعث بھی عدالتی کارروائی متاثر ہو رہی ہے۔

    واضح رہے کہ نیتن یاہو 28 اپریل کو عدالت میں پیش ہوئے تھے جو ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد ان کی پہلی پیشی تھی، ماہرین کے مطابق بار بار سماعت ملتوی ہونے سے مقدمات کے حتمی فیصلے میں مزید تاخیر کا امکان ہے۔

  • ایم کیو ایم کارکن کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل

    ایم کیو ایم کارکن کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل

    سپریم کورٹ نے ایم کیو ایم کے کارکن آصف کٹو کے قتل کے مقدمے میں سنائی گئی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا ہے۔

    یہ فیصلہ 2015 میں کراچی کے علاقے کورنگی میں 4 پولیس اہلکاروں کے قتل کے مقدمے سے متعلق اپیل کی سماعت کے دوران سنایا گیا،سماعت کے دوران پراسیکیوٹر نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزم پر اپنے ساتھیوں کے ہمراہ 4 پولیس اہلکاروں کو قتل کرنے کا جرم ثابت ہو چکا ہے۔

    سماعت کے دوران پروسیکیوٹر نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزم پر اپنے ساتھیوں کے ہمراہ 4 پولیس اہلکاروں کو قتل کرنے کا جرم ثابت ہو چکا ہے، لیبارٹری رپو رٹ بھی مثبت ہے، جو استغاثہ کے مؤقف کو تقویت دیتی ہے۔

    دوسری جانب ملزم کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کا نام اور حلیہ ایف آئی آر سے مطابقت نہیں رکھتا آصف کٹو کو جیل سے اٹھا کر اس کے خلاف گرفتاری ڈالی گئی، ملزم ایم کیو ایم کا کارکن تھا اور اسے سیاسی بنیادوں پر مقدمے کا سامنا کرنا پڑا، آصف کٹو دیگر مقدمات میں بری ہو چکے ہیں۔

    سماعت کے دوران جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ موجودہ شواہد ملزم کے لیے سزائے موت برقرار رکھنے کے لیے کافی نہیں، عدالت نے قرار دیا کہ شواہد کمزور ہیں، اس لیے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جاتا ہے۔

  • اٹارنی کے ذریعے بیٹوں کے نام زمین منتقل کرنے کا کیس،سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ جاری

    اٹارنی کے ذریعے بیٹوں کے نام زمین منتقل کرنے کا کیس،سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ جاری

    سپریم کورٹ نے اٹارنی کے ذریعے اپنے بیٹوں کے نام زمین منتقل کرنے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اہم فیصلہ جاری کر دیا۔

    جسٹس بلال حسن نے کیس کا تحریری فیصلہ جاری کیا ،عدالتِ عظمیٰ نے قرار دیا کہ مختار نامہ رکھنے والا شخص مالک کی مرضی کے بغیر جائیداد اپنے رشتہ داروں کو منتقل نہیں کر سکتا۔ اگر پاور آف اٹارنی کے تحت کسی کو جائیداد منتقل کرنی ہو تو اس کے لیے اصل مالک سے پیشگی تحریری اجازت لینا لازمی ہے۔

    فیصلے میں کہا گیا کہ جائیداد کی منتقلی سےقبل اٹارنی پر لازم ہے کہ وہ اصل مالک کو سودے کی تمام تفصیلات سے مکمل طور پر آگاہ کرے، بصورت دیگر ایسی منتقلی قانونی حیثیت نہیں رکھتی،زیرِ سماعت کیس میں خاتون نے اپنے اٹارنی کو زمین اس کے بیٹوں کے نام منتقل کرنے کی اجازت نہیں دی تھی ، ا س کے باوجود منتقلی کی گئی جو قانون کے منافی ہے سپریم کورٹ نے یہ بھی واضح کیا کہ محض چیک کے ذریعے رقم کی ادائیگی جائیداد کی فروخت کا حتمی ثبو ت نہیں سمجھی جا سکتی۔

    کیس کی تفصیلات کے مطابق جواب دہندہ فرحت اقبال کو چشتیاں میں زمین اپنے والد سے وراثت میں ملی تھی بعد ازاں انہوں نے اپنی زمین کی دیکھ بھال کے لیے ایک قریبی رشتہ دار کو مختار عام مقرر کیا، تاہم اٹارنی نے مالک کی اجازت کے بغیر وہ زمین اپنے ہی بیٹوں کے نام منتقل کر دی، جسے عدا لت نے کالعدم قرار دے دیا۔