Baaghi TV

Tag: عدالت

  • اٹارنی کے ذریعے بیٹوں کے نام زمین منتقل کرنے کا کیس،سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ جاری

    اٹارنی کے ذریعے بیٹوں کے نام زمین منتقل کرنے کا کیس،سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ جاری

    سپریم کورٹ نے اٹارنی کے ذریعے اپنے بیٹوں کے نام زمین منتقل کرنے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اہم فیصلہ جاری کر دیا۔

    جسٹس بلال حسن نے کیس کا تحریری فیصلہ جاری کیا ،عدالتِ عظمیٰ نے قرار دیا کہ مختار نامہ رکھنے والا شخص مالک کی مرضی کے بغیر جائیداد اپنے رشتہ داروں کو منتقل نہیں کر سکتا۔ اگر پاور آف اٹارنی کے تحت کسی کو جائیداد منتقل کرنی ہو تو اس کے لیے اصل مالک سے پیشگی تحریری اجازت لینا لازمی ہے۔

    فیصلے میں کہا گیا کہ جائیداد کی منتقلی سےقبل اٹارنی پر لازم ہے کہ وہ اصل مالک کو سودے کی تمام تفصیلات سے مکمل طور پر آگاہ کرے، بصورت دیگر ایسی منتقلی قانونی حیثیت نہیں رکھتی،زیرِ سماعت کیس میں خاتون نے اپنے اٹارنی کو زمین اس کے بیٹوں کے نام منتقل کرنے کی اجازت نہیں دی تھی ، ا س کے باوجود منتقلی کی گئی جو قانون کے منافی ہے سپریم کورٹ نے یہ بھی واضح کیا کہ محض چیک کے ذریعے رقم کی ادائیگی جائیداد کی فروخت کا حتمی ثبو ت نہیں سمجھی جا سکتی۔

    کیس کی تفصیلات کے مطابق جواب دہندہ فرحت اقبال کو چشتیاں میں زمین اپنے والد سے وراثت میں ملی تھی بعد ازاں انہوں نے اپنی زمین کی دیکھ بھال کے لیے ایک قریبی رشتہ دار کو مختار عام مقرر کیا، تاہم اٹارنی نے مالک کی اجازت کے بغیر وہ زمین اپنے ہی بیٹوں کے نام منتقل کر دی، جسے عدا لت نے کالعدم قرار دے دیا۔

  • جائیداد کے لیے اپنوں کا خون بہانے والا کسی رعایت کا مستحق نہیں،سپریم کورٹ

    جائیداد کے لیے اپنوں کا خون بہانے والا کسی رعایت کا مستحق نہیں،سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ نے باپ کے قتل میں مجرم غلام مصطفیٰ کی سزائے موت کے خلاف اپیل خارج کردی.

    سپریم کورٹ نے باپ کے قتل کے مجرم غلام مصطفیٰ کی سزائے موت کے خلاف اپیل خارج کرتے ہوئے سزا برقرار رکھی،جسٹس ہاشم کاکڑ نے کیس کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔

    فیصلے کے مطابق مجرم نے جولائی 2020 میں جائیداد کے تنازع پر سوئے ہوئے اہل خانہ پر ٹوکے سے حملہ کیا اور اپنے ستر سالہ والد غلام محمد کو بے دردی سے قتل کر دیا، جبکہ مداخلت کرنے پر سوتیلی ماں اور بہن بھائیوں کو بھی زخمی کیا،چار زخمی عینی شاہدین کی گواہیاں مجرم کو سزا دلوانے کے لیے کافی ہیں اور میڈیکل شواہد و پوسٹ مارٹم رپورٹ ان بیانات کی مکمل تائید کرتے ہیں۔

    سپریم کورٹ نے ریمارکس دیے کہ جائیداد کے لیے اپنوں کا خون بہانے والا کسی رعایت کا مستحق نہیں، جبکہ نہتے والد پر سوتے ہوئے حملہ کرنا جرم کی سنگینی کو مزید بڑھاتا ہے۔

    واضح رہے کہ لاہور ہائیکورٹ ملتان بینچ بھی مجرم کی سزائے موت برقرار رکھ چکا تھا۔

  • شیخ حسینہ واجد سمیت 22 افراد کے خلاف جبری گمشدگی کا مقدمہ دائر

    شیخ حسینہ واجد سمیت 22 افراد کے خلاف جبری گمشدگی کا مقدمہ دائر

    بنگلہ دیش میں سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ واجد سمیت 22 افراد کے خلاف جبری گمشدگی کے الزامات پر انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل میں درخواست دائر کر دی گئی ہے۔

    یہ درخواست پیر کے روز سابق جوبو دل رہنما مشیر رحمان مامون نے چیف پراسیکیوٹر امین الاسلام کے پاس جمع کروائی ملزمان میں ڈائریکٹوریٹ جنرل آف فورسز انٹیلی جنس (ڈی جی ایف آئی) کےسابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) شیخ مامون خالد بھی شامل ہیں، تاہم تمام ملزمان کی مکمل فہرست تاحال جاری نہیں کی گئی۔

    درخواست گزار کے مطابق انہیں 23 فروری 2015 کو ڈھاکا کے بین الاقوامی ہوائی اڈے سے بنکاک جاتے ہوئے مبینہ طور پر سادہ لباس اہلکاروں نے حراست میں لیا، جنہوں نے خود کو قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تعلق رکھنے والا ظاہر کیا انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں 6 ماہ تک نامعلوم مقام پر رکھا گیا، جہاں وہ آنکھوں پر پٹی اور ہتھکڑیوں میں رہے۔

    اسحاق ڈار کا پرتگال کے وزیر مملکت برائے امور خارجہ سے ٹیلی فونک رابطہ

    مامون کے مطابق 23 اگست 2015 کو انہیں ڈیٹیکٹو برانچ کے حوالے کیا گیا، جہاں مختصر ریمانڈ کے بعد انہیں ڈھاکا سینٹرل جیل منتقل کر دیا گیا وہ تقریباً 2 سا ل جیل میں رہے اور بعد ازاں ہائیکورٹ سے ضمانت پر رہائی ملی-

    نیتن یاہو کا چیف آف اسٹاف عہدے سے مستعفیٰ

  • سپریم کورٹ نے مطیع اللہ جان کے خلاف ٹرائل کورٹ کو فردِ جرم عائد کرنے سے روک دیا

    سپریم کورٹ نے مطیع اللہ جان کے خلاف ٹرائل کورٹ کو فردِ جرم عائد کرنے سے روک دیا

    سپریم کورٹ نے صحافی مطیع اللہ جان پر دہشتگردی کی دفعات کے اطلاق کے خلاف کیس میں اہم پیش رفت کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کو فردِ جرم عائد کرنے سے روک دیا۔

    عدالتِ عظمیٰ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کو ہدایت کی ہے کہ مطیع اللہ جان کی جانب سے دہشتگردی کی دفعات کے خاتمے سے متعلق دائر کیس کو جلد سماعت کے لیے مقرر کر کے اس پر فیصلہ کیا جائے، سماعت کے دوران مطیع اللہ جان کی جانب سے وکیل قدیر جنجوعہ عدالت میں پیش ہوئے۔

    سماعت کے دوران پراسیکوشن کی جانب سے ہائیکورٹ کو ہدایات دینے پر کوئی اعتراض نہیں اٹھایا گیا، ڈپٹی پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ اگر عدالت ڈائریکشن دے تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں،جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ جب تک اسلام آباد ہائیکورٹ اس معاملے پر فیصلہ نہیں دیتی، اس وقت تک ٹرائل کورٹ میں فردِ جرم عائد نہیں کی جا سکتی۔

    واضح رہے کہ مطیع اللہ جان نے دہشتگردی کی دفعات کے خاتمے کے لیے ٹرائل کورٹ میں درخواست دائر کی تھی، تاہم متعلقہ عدالت کے فیصلے کو انہوں نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے۔

  • میشا شفیع کا علی ظفر کے حق میں عدالتی فیصلہ ہائیکورٹ میں چیلنج کر نے کا اعلان

    میشا شفیع کا علی ظفر کے حق میں عدالتی فیصلہ ہائیکورٹ میں چیلنج کر نے کا اعلان

    لاہور: گلوکارہ میشا شفیع نے علی ظفر کے حق میں سیشن کورٹ کے فیصلے کو ہائیکورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کر دیا۔

    گلوکارہ میشا شفیع کے وکیل ثاقب جیلانی نے سیشن کورٹ کے حالیہ فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس فیصلے کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کریں گے، پہلے سیشن کورٹ کے فیصلے کی تصدیق شدہ کاپی حاصل کی جائے گی، اور اس کا تفصیلی قانونی جائزہ لیا جائے گاتمام قانونی نکات کا بغور مطالعہ کرنے کے بعد فیصلے کے خلاف باقاعدہ اپیل دائر کی جائے گی۔

    واضح رہے کہ سیشن کورٹ نے گلوکار علی ظفر کے دائر کردہ ہتک عزت کے دعوے میں میشا شفیع کے خلاف فیصلہ سناتے ہوئے انہیں 50 لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا تھا یہ کیس 2018 میں سامنے آنے والے جنسی ہراسانی کے الزامات کے بعد شروع ہوا تھا اور کئی برسوں تک عدالت میں زیر سماعت رہا،مقدمے کی طوالت میں 283 پیشیاں ہوئیں اور 20 گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے گئے، کیس کی سماعت کے دوران 8 سالوں میں 9 بار جج تبدیل ہوئے، اور بالآخر عدالت نے علی ظفر کے حق میں فیصلہ دیا۔

    تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ میشا شفیع کا 19 اپریل 2018 کو علی ظفر کے خلاف کیا گیا ٹوئٹ ہتک آمیز، غلط اور جھوٹا ثابت ہوا۔ میشا شفیع کے علی ظفر پر جنسی ہراسانی کے الزامات ثابت نہیں ہوئے۔ جبکہ درخواست گزار عزت نفس مجروح ہونے، شہرت کو نقصان پہنچنے اور ذہنی ازیت کا شکار ہونے پر ہرجانے کا حق دار ہے،میشا شفیع سوشل میڈیا یا کسی اور پلیٹ فارم پر دوبارہ علی ظفر پر جنسی ہراسانی کے الزامات نہیں لگائیں گی۔

  • سابقہ بیوی کے ساتھ جنسی زیادتی کیس میں عدالت کے اہم ریمارکس

    سابقہ بیوی کے ساتھ جنسی زیادتی کیس میں عدالت کے اہم ریمارکس

    لاہور ہائیکورٹ میں سابقہ بیوی کے ساتھ زیادتی کے کیس میں ریمارکس دیئے کہ حلالہ کے بغیر دوبارہ نکاح کیسے ممکن ہے-

    لاہور ہائیکورٹ میں سابقہ بیوی کے ساتھ زیادتی کے کیس میں ملزم کی درخواستِ ضمانت پر سماعت ہوئی، سماعت جسٹس اسجد جاوید نے کی دوران سماعت جسٹس اسجد جاوید گھرال نے کی، جنہوں نے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ واقعہ کب پیش آیا،تفتیشی افسر نے بتایا کہ ملزم نے 23 دسمبر 2024 کو خاتون کو طلاق دی، جبکہ 17 اگست 2025 کو مبینہ طور پر سابقہ بیوی کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا، تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم دورانِ تفتیش گنہگار پایا گیا ہے۔

    ملزم کے وکیل عبدالجبار مغل نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزم نے سابقہ بیوی سے دوبارہ نکاح کر لیا تھا،اس پر جسٹس اسجد جاوید گھرال نے استفسار کیا کہ حلالہ کے بغیر دوبارہ نکاح کیسے ممکن ہوا،وکیل نے مؤقف اپنایا کہ ملزم نے درحقیقت طلاق نہیں دی تھی بلکہ خاتون نے یکطرفہ خلع کی ڈگری حاصل کی، جس کے بعد ملزم نے رجوع کر کے دوبارہ نکاح کر لیا، عدالت نے ریمارکس دیے کہ اگر خاتون اب بھی ملزم کی بیوی ہے تو اسے عدالت میں پیش ہو کر اس کی تصدیق کرنی چاہیے۔

    پی ایس ایل 11 : آن لائن ٹکٹوں کی فروخت کا آغاز

    واضح رہے کہ ملزم کے خلاف ڈسکہ کے تھانے میں زیادتی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج ہے، جبکہ عدالت نے مزید سماعت عید کے بعد تک ملتوی کر دی۔

    ایرانی سپریم لیڈر نے امریکا سے کشیدگی کم کرنے کی تجاویز مسترد کردیں

  • سپریم کورٹ نے قتل اور دہشتگردی کےمقدمے میں نامزد تمام ملزمان کو بری کردیا

    سپریم کورٹ نے قتل اور دہشتگردی کےمقدمے میں نامزد تمام ملزمان کو بری کردیا

    سپریم کورٹ نے پنڈی گھیب حملے کے مقدمے میں نامزد تمام ملزمان کو بری کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے سنائی گئی سزائے موت کو کالعدم قرار دے دیا۔

    عدالتِ عظمیٰ کے جج جسٹس اشتیاق ابراہیم کی جانب سے اپیلوں پر جاری کردہ تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ استغاثہ ملزمان کے خلاف ٹھوس اور آزادانہ شواہد پیش کرنے میں ناکام رہا،عدالت نے ملزمان کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے فوری طور پر رہا کرنے کا حکم دیا ہے، ملزمان ایف آئی آر میں نامزد نہیں تھے اور ان کی شناخت کا عمل بھی مشکوک ہے، گواہان کا موقع پر موجود ہونا اور اتنے بڑے حملے میں کسی قسم کی چوٹ نہ آنا غیر فطری امر ہے۔

    مزید برآں، ملزمان کی مشترکہ شناخت پریڈ کو قانونی طور پر ناقابلِ قبول اور غیر محفوظ قرار دیا گیا، جبکہ یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ شناخت پریڈ سے قبل ہی ملزمان کی شناخت پولیس پر ظاہر ہو چکی تھی،عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا کہ پولیس کے مطابق ملزمان نے ایک دوسرے مقدمے کی تفتیش کے دوران پنڈی گھیب واقعے کا اعتراف کیا تھا، تاہم جس مقدمے میں اعتراف کیا گیا، اس میں ملزمان پہلے ہی بری ہو چکے ہیں اس بنا پر عدالت نے قرار دیا کہ پہلے کیس میں بریت کے بعد مبینہ اعتراف اپنی قانونی حیثیت کھو چکا ہے۔

    واضح رہے کہ یہ واقعہ یکم مئی 2011 کو پنڈی گھیب میں پیش آیا تھا، جہاں پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کی گئی تھی۔

    ابوظہبی میں میزائل کا ملبہ گرنے سے ایک پاکستانی جاں بحق

    کراچی: سی ٹی ڈی کی بڑی کارروائی، بی ایل اے کے 4 دہشتگرد ہلاک

    17 مارچ سے 20 مارچ تک پنجاب بھر میں بارشیں، الرٹ جاری

  • ریڈیو پاکستان حملہ کیس : وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی ملزم نامزد

    ریڈیو پاکستان حملہ کیس : وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی ملزم نامزد

    پشاور انسداد دہشتگردی عدالت نمبر 3 میں ریڈیو پاکستان حملہ کیس کی سماعت ہوئی جس دوران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کو نامزد ملزم قرار دیا گیا۔

    ریڈیو پاکستان کے وکیل شبیر حسین گیگانی اور تفتیشی افسر عدالت میں پیش ہوئے، جہاں تفتیشی افسر نے چالان عدالت میں جمع کرایا، چالان میں وزیر اعلیٰ، سابق صوبائی وزراء تیمور سلیم جھگڑا، کامران بنگش، ضلعی صدر عرفان سلیم اور کارکن عامر چمکنی سمیت دیگر کو نامزد کیا گیا۔

    تفتیشی افسر کے مطابق پولیس نے پنجاب فارنزک لیب اور نادرا کی رپورٹس کی بنیاد پر وزیر اعلیٰ سمیت دیگر ملزمان کو چالان میں شامل کیا تاہم تفتیشی افسر نے عدالت میں بتایا کہ وہ چالان ریکارڈ جمع کروا رہے ہیں، مگر پراسیکیوٹر ریکارڈ وصول نہیں کر رہے،ریڈیو پاکستان کے وکیل شبیر حسین گیگانی نے چالان جمع نہ کروائے جانے پر عدالت میں درخواست دائر کی ہے، جس میں انہوں نے ڈپٹی پبلک پراسیکیوٹر اور پبلک پراسیکیوٹر کے خلاف کارروائی کی استدعا کی۔

    عدالت نے اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر کو طلب کر لیا ہے اور سماعت آئندہ تاریخ تک ملتوی کر دی گئی۔

    پنجاب میں ناجائز اسلحہ کے خاتمے کے لیے جامع ایکٹ کی منظوری

    رمضان میں شیطان کی گدی سنبھال لی، ڈاکٹر نبیہہ کے شوہر کی فضا علی پر سخت تنقید

    پی ایس ایل 11: ڈیوڈ وارنر دوبارہ کراچی کنگز کے کپتان مقرر

  • جی ایچ کیو حملہ کیس کے فیصلے پر تحریک انصاف کا ردعمل

    جی ایچ کیو حملہ کیس کے فیصلے پر تحریک انصاف کا ردعمل

    پاکستان تحریک انصاف نے جی ایچ کیو حملہ کیس میں پارٹی رہنماؤں اور کارکنان کو سنائی جانے والی سزاؤں کو انصاف کے بنیادی اصولوں کے خلاف قرار دیتے ہوئے اسے سیاسی انتقام کا تسلسل قرار دیا ہے۔

    پارٹی کے بیان میں کہا گیا کہ 9 مئی کے واقعات کو منظم انداز میں پارٹی اور اس کی قیادت کے خلاف استعمال کیا گیا، تحریک انصاف کے مطابق پارٹی بانی عمران خان سمیت قیادت اور کارکنان کو مقدمات میں الجھا کر سیاسی عمل کو محدود کیا جا رہا ہے کیس میں 47 رہنماؤں اور کارکنان کو سزا سنائی گئی ہے اور پارٹی اس فیصلے کے خلاف تمام آئینی و قانونی راستے اختیار کرے گی۔

    واضح رہے کہ راولپنڈی کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے 9 مئی جی ایچ کیو حملہ کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے 47 ملزمان کو 10، 10 سال قید اور 5، 5 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنا دی ہے جن میں پی ٹی آئی کے اہم رہنما شامل ہیں سزا پانے والے ملزمان میں عمر ایوب، زرتاج گل، مراد سعید، شبلی فراز، حماد اظہر، کنول شوذب، راشد شفیق، شہباز گل، ذلفی بخاری، محمد احمد چٹھہ، رائے حسن نواز، رائے محمد مرتضیٰ، شوکت علی بھٹی، عثمان سعید بسرا اور اعجاز خان جازی شامل ہیں۔

    اسلام آباد: شہریوں کو پیٹرول فراہم نہ کرنے پر 7 پیٹرول پمپس سیل

    پاکستان کو اقوام متحدہ کے مشن برائے افغانستان کی حالیہ رپورٹ پر تحفظات

    ڈیزل اور پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ عدالت میں چیلنج

  • ڈیزل اور پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ عدالت میں چیلنج

    ڈیزل اور پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ عدالت میں چیلنج

    ڈیزل اور پٹرول کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ پشاور ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا گیا۔

    گل دراز خان ایڈووکیٹ نے سلیمان خان ایڈووکیٹ کی وساطت سے درخواست دائر کی جس میں وفاقی حکومت، سیکریٹری پیٹرولیم، سیکریٹری اوگرا اور دیگر کو فریق بنایا گیا ہے،درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ وفاقی حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 55 روپے فی لیٹر اضافہ کیا ہے وفاقی حکومت کا مؤقف ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ امریکا، اسرائیل، ایران جنگ کی وجہ سے کیا گیا۔

    درخواست کے مطابق امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ ہے مگر وہاں قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا گیا جبکہ جن ممالک میں جنگ ہے وہاں بھی ابھی تک اضافہ نہیں کیا گیا، پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا جو سمجھ سے بالاتر ہے، وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتو ں میں اضافہ کرکے مہنگائی سے پریشان عوام پر مزید بوجھ ڈال دیا ہے۔

    برطانیہ میں غیرملکی مجرموں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع

    درخواست گزار کے مطابق وفاقی حکومت کا یہ اقدام عوامی مفاد کے خلاف ہے،عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نے تحاشا اضافے کی نوٹیفکیشن کو کالعدم قرار دیا جائے-

    کمرشل طیاروں کے جیٹ فیول کی قیمت میں بڑا اضافہ