Baaghi TV

Tag: عدالت

  • مومنہ اقبال کیس : ثاقب چدھڑ کے خلاف رپورٹ عدالت میں پیش

    مومنہ اقبال کیس : ثاقب چدھڑ کے خلاف رپورٹ عدالت میں پیش

    اداکارہ مومنہ اقبال اور رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے درمیان جاری تنازع کی این سی سی آئی اے کی جانب سے عدالت میں پیش کی گئی تفتیشی رپورٹ میں ثاقب چدھڑ کو تفتیش کے دوران قصور وار قرار دیا گیا ہے۔

    اداکارہ مومنہ اقبال کو مبینہ طور پر ہراساں کرنے اور دھمکیاں دینے سے متعلق مقدمے میں مسلم لیگ (ن) کے رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ اور ان کی اہلیہ سمیرا کی عبوری ضمانت میں توسیع کر دی گئی،سیشن کورٹ لاہور میں کیس کی سماعت ایڈیشنل سیشن جج کے روبرو ہوئی، جہاں تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ثاقب چدھڑ سے متعلق تحقیقات مکمل کر لی گئی ہیں، جبکہ تفتیشی رپورٹ عدالت میں پیش کر دی گئی۔

    عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ شریک ملزمہ سمیرا نے حال ہی میں اپنا موبائل فون تحقیقاتی حکام کے حوالے کیا ہے، جسے فرانزک تجزیے کے لیے بھیج دیا گیا ہے تاکہ مقدمے سے متعلق شواہد کا جائزہ لیا جا سکے، فریقین کے وکلاء سے آئندہ سماعت پر حتمی دلائل طلب کر لیے،تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ثاقب چدھڑ کے خلاف تحقیقات مکمل کر لی گئی ہیں اور تفتیش کے نتیجے میں وہ قصور وار پائے گئے ہیں۔

    دوسری جانب مومنہ اقبال کے وکیل عدنان نے عدالت سے ملزمان کی ضمانت خارج کرنے کی استدعا کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ملزمان کی آزادی ان کے مؤکلہ کے لیے خطرے کا باعث بن سکتی ہے، لہٰذا عبوری ضمانت ختم کی جائے،عدالت نے فریقین کے مؤقف سننے کے بعد کیس کی مزید سماعت 3 ستمبر تک ملتوی کرتے ہوئے حتمی دلائل طلب کر لیے۔

  • سہیل آفریدی کیخلاف درخواستیں سماعت کے لیے مقرر

    سہیل آفریدی کیخلاف درخواستیں سماعت کے لیے مقرر

    وفاقی آئینی عدالت نے سہیل آفریدی کے خلاف دائر مختلف درخواستیں سماعت کے لیے مقرر کردی ہیں-

    چیف جسٹس جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں آئینی عدالت کا 3 رکنی بینچ ان درخواستوں کی سماعت کرے گاعدالت نے خیبرپختونخوا حکومت سمیت تمام متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کر دیے ہیں، آئینی عدالت اس سے قبل 9 مئی کے مقدمات کی واپسی کے حکومتی فیصلے پر حکم امتناع بھی جاری کرچکی ہے،جبکہ عمران خان رہائی فورس کے خلاف دائر درخواست اور خیبرپختونخوا میں 9 مئی کے مقدمات واپس لینے کے خلاف اپیل پر 29 جولائی کو سماعت ہوگی۔

    ریڈیو پاکستان کی جانب سے پشاورمیں ریڈیو پاکستان پر حملے سے متعلق مقدمہ واپس لینے کے خیبرپختونخوا حکومت کے فیصلے کو آئینی عدالت میں چیلنج کیا گیا تھا ،درخواست میں ریڈیو پاکستان نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ مقدمہ خیبرپختونخوا سے کسی دوسرے صوبے منتقل کیا جائے، جس کی استدعا بھی عدالت کے سا منے زیر غور آئے گی۔

  • خلع کی ڈگری دائر کرنے سے بیوی کا حق مہر خود کار طور پر ختم نہیں ہوتا،لاہور ہائیکورٹ

    خلع کی ڈگری دائر کرنے سے بیوی کا حق مہر خود کار طور پر ختم نہیں ہوتا،لاہور ہائیکورٹ

    لاہور ہائیکورٹ نے فیملی کورٹ کے خلاف شوہر کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا کہ خلع کی ڈگری دائر کرنے سے بیوی کا حق مہر خود کار طور پر ختم نہیں ہوتا، شوہر کی طرف سے ظلم ثابت ہونے پر بیوی حق مہر کی حقدار ہو گی-

    لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے خلع سے متعلق کیس میں شوہر کی درخواست مسترد کرتے ہوئے فیملی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا عدالت نے کہا کہ خلع کی ڈگری دائر کرنے سے بیوی کا حق مہر خود کار طور پر ختم نہیں ہوتا، شوہر کی طرف سے ظلم ثابت ہونے پر بیوی حق مہر کی حقدار ہو گی،جسمانی، ذہنی، جذباتی، زبانی اور معاشی تشدد بھی ظلم کے زمرے میں آتا ہے۔

    عدالت نے کہا کہ درخواست گزار نے 18 مارچ 2022 میں ایک لاکھ روپے حق مہرمقرر کر کے نکاح کیا تھا، خاتون نے خلع، عدت کے نان نفقہ اور حق مہر کی وصولی کے لیے فیملی کورٹ میں دعویٰ دائر کیا، خاتون کا مؤقف تھا کہ حق مہر کا مطالبہ کرنے پر شوہر نے تشدد شروع کر دیا میڈیکل رپورٹ یا ایف آئی آر نہ ہونے سے ظلم کا دعویٰ مسترد نہیں کیا جا سکتا۔

    عدالتی حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ فیملی کورٹ نے نکاح ختم کرتے ہوئے بیوی کو 50 فیصد حق مہر دینے کا حکم دیا، ٹرائل کورٹ نے بھی درخواست گزار کی اپیل ناقابل سماعت قرار دے دی تھی، درخواست گزار نے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کے خلاف لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا، بیوی کی قابل اعتماد گواہی ظلم ثابت کرنے کے لیے کافی ہو سکتی ہے۔

    عدالت کا کہنا تھا کہ میڈیکل رپورٹ یا ایف آئی آر نہ ہونے سے ظلم کا دعویٰ مسترد نہیں کیا جا سکتا، خرچہ نہ دینا، والدین سے رقم مانگنا اور گھر سے نکال دینا بھی ظلم میں شامل ہو سکتا ہے، فیملی کورٹ ہر مقدمے کے حقائق دیکھ کر حق مہر کا الگ فیصلہ کرے گی، ظلم ثابت ہونے پر حق مہر نہ کم کیا جا سکتا ہے اور نہ تقسیم کیا جا سکتا ہے، بیوی کی واضح رضامندی کے بغیر عدالت خلع کی ڈگری نہیں دے سکتی، فیملی کورٹ حق مہر سے متعلق ہر فیصلے کی وجوہات ریکارڈ پر لا نے کی پابند ہو گی، عدالت نے متعدد ہدایت کیساتھ درخواست خارج کر دی۔

  • کرپشن کیس میں  5 ملزمان کو 10، 10 سال قیدِ بامشقت کی سزا

    کرپشن کیس میں 5 ملزمان کو 10، 10 سال قیدِ بامشقت کی سزا

    کرپشن کیس میں عدالت نے 5 ملزمان کو 10، 10 سال قیدِ بامشقت کی سزا سنادی۔

    راولپنڈی کی اسپیشل کورٹ (سینٹرل) نے ایف آئی اے کرپشن کیس میں بڑا فیصلہ کرتے ہوئے کرپشن کیس کے 5 ملزمان کو مختلف دفعات کے تحت قید کی سزائیں سنا دیں،اسپیشل جج (سینٹرل)ر اولپنڈی عبدالرحمن محمد عارف نے تمام مجرموں کو فوری طور پر سینٹرل جیل راولپنڈی منتقل کرنے کے وار نٹ جاری کر دیے،یہ مقدمہ ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد میں درج کیا گیا تھا،سزا پانے والوں میں ذیشان علی اکبر، نظر حسین، اشتیاق احمد، جہانگیر احمد اور ثاقب ظہیر شامل ہیں۔

    انسدادِ بدعنوانی ایکٹ 1947 کی دفعہ 5(2) کے تحت تمام ملزمان کو 10، 10 سال قیدِ با مشقت کی سزا سنائی گئی ہے دفعہ 161 پی پی سی کے تحت ہر ملزم کو 3، 3 سال قیدِ با مشقت کی سزا سنائی گئی دفعہ 162 پی پی سی کے تحت بھی ہر ملزم کو 3، 3 سال قیدِ با مشقت کی سزا سنائی گئی اور دفعہ 163 پی پی سی کے تحت ہر ملزم کو ایک، ایک سال قیدِ با مشقت کی سزا سنائی ہے۔

    عدالت نے تمام سزائیں بیک وقت (Concurrent) چلانے کا حکم دیتے ہوئے ملزمان کو ضابطہ فوجداری کی دفعہ 382-B کا فائدہ بھی دے دیا گیا، عدالت نے ملزمان سے برآمد ایک کروڑ 4 لاکھ 75 ہزار روپے بحقِ سرکار ضبط کرنے کا حکم بھی دیا ضبط شدہ رقم پانچوں مجرموں سے برآمد کی گئی تھی۔

  • اینکر ریحان طارق توہین مذہب کیس: بعد از گرفتاری  ضمانت کی درخواست خارج

    اینکر ریحان طارق توہین مذہب کیس: بعد از گرفتاری ضمانت کی درخواست خارج

    لاہور: اینکر ریحان طارق کی توہینِ مذہب کے مقدمے میں بعد از گرفتاری ضمانت کی درخواست خارج کردی گئی۔

    ضلع کچہری لاہور میں اینکر ریحان طارق کی توہین مذہب کے مقدمے میں ضمانت بعد ازگرفتاری کی درخواست پر سماعت ہوئی، جس میں جوڈیشل مجسٹریٹ نعیم وٹو نے وکلا کے دلائل کے بعد فیصلہ سنایا، اینکر ریحان طارق کی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست پر سماعت کے موقع پر عدالت نے وفاقی تحقیقاتی ادارے کے سائبر کرائم ونگ این سی سی آئی اے سے کیس کا مکمل ریکارڈ طلب کر رکھا تھا، عدالتی حکم پر این سی سی آئی اے کی جانب سے متعلقہ ریکارڈ عدالت میں پیش کیا گیا۔

    وکیل میاں داؤد ایڈووکیٹ کے مطابق مقدمے میں لگائی گئی دفعات قابل ضمانت ہیں ،سوال سے توہین ثابت نہیں ہوتی،سماعت کے دوران این سی سی آئی اے کے پراسکیوٹر نے ضمانت کی مخالفت کی، جس پر عدالت نے درخواست خارج کردی۔

    واضح رہے کہ این سی سی آئی اے نے توہین مذہب کا مقدمہ درج کررکھا ہےریحان طارق کو توہینِ مذہب کے سنگین الزامات کے تحت درج مقدمے میں گرفتار کیا گیا تھا اور وہ اس وقت جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہیں، جہاں ضمانت خارج ہونے کے بعد اب ان کی حراست برقرار رہے گی۔

  • وفاقی آئینی عدالت نے مونال ریسٹورینٹ گرانے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا

    وفاقی آئینی عدالت نے مونال ریسٹورینٹ گرانے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا

    اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت نے پیرسوہاوہ مونال ریسٹورینٹ گرانے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔

    عدالت نے سی ڈی اے اور میٹرو پولیٹن سٹی کی اپیلیں منظور کرتے ہوئے حکم امتناع بھی ختم کردیا،آئینی عدالت نے کہا کہ ملکیت کا فیصلہ ٹرائل کورٹس عدالتی آبزرویشنز سے متاثر ہوئے بغیرکریں گی جب کہ انتظامی معاملات کا فیصلہ ریگولیٹری باڈیز کریں گی۔

    وفاقی آئینی عدالت نےٹرائل کورٹس کو جلد از جلد کیسز کےفیصلوں کی ہدایت بھی کردی،دوران سماعت جسٹس حسن اظہر رضوی نےکہاکہ سپریم کورٹ کےفیصلے میں بہت سے نکات کو مدنظر نہیں رکھا گیا، کیس دائر کرنے یا نظرثانی دائر کرنے پر بھی عدالت نے غصہ کیا، ہم نے جذباتی فیصلہ نہیں کرنا۔

    وکیل احسن بھون نےکہا کہ عدالت نے کیس کو بہت اچھا پڑھا ہےجس پر جسٹس حسن اظہر رضوی نےکہا کہ عدالت میں ہماری تعریفیں نہ کریں، جو سما عت ہوئی وہی حکم دیں گے، الف لیلیٰ کی کہانی فیصلے میں نہیں لکھیں گے، فیصلہ پڑھا تو اندازہ ہوا بہت کچھ عدالتی کارروائی سے باہر کا لکھا گیا۔

    بعد ازاں وفاقی آئینی عدالت نے پیرسوہاوہ مونال ریسٹورینٹ گرانے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔

  • خیبرپختونخوا میں خاکروب کی آسامیوں پر ایم اے پاس افراد کے امیدوار ہونے کا انکشاف

    خیبرپختونخوا میں خاکروب کی آسامیوں پر ایم اے پاس افراد کے امیدوار ہونے کا انکشاف

    وفاقی آئینی عدالت نے خیبرپختونخوا میں 2016 سے اب تک ہونے والی تمام بھرتیوں کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ عدالت اس بات کا جائزہ لے گی کہ آیا یہ بھرتیاں قانون کے مطابق کی گئی ہیں یا نہیں-

    خیبرپختونخوا میں خاکروبوں کی بھرتیوں سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ سیاسی مداخلت پر عائد پابندیوں کے باوجود بھرتیاں کی گئیں اور ایک رکن صوبائی اسمبلی کے خط کی بنیاد پر من پسند افراد کو ملازمتیں دی گئیں۔

    اس پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا نے عدالت کو بتایا کہ مذکورہ ایم پی اے کا خط جعلی ہے، جس پر نہ دستخط موجود ہیں، نہ ریفرنس نمبر اور نہ ہی سرکاری مہر ایسے جعلی کاغذ تو میں یہاں کے کمپیوٹر سے بھی نکال دوں اس پر جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ جعلی کاغذات کم از کم ہمارے سسٹم سے تو نہ نکالیں، جس پر کمرہ عدالت میں قہقہے بکھر گئے۔

    وکیل درخواست گزار کے پابندی کے دوران بھرتیاں کیے جانے کے دلائل پر جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ اگر آپ کا موکل بھرتی ہو جاتا تو بھی پابندی کی خلاف ورزی تو ہونی تھی،وکیل سے مخاطب ہوتے ہوئے جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ آپ کے موکل کو بھرتی کر بھی لیں تو ایم اے پاس بندا صفائی تو کرے گا نہیں۔

    جسٹس رضوی نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ایم اے پاس افراد بھی خاکروب کی ملازمت کے لیے درخواست دے رہے ہیں جو کلف والے کپڑے پہن کر گھومتے ہیں، جبکہ شہر میں جگہ جگہ گندگی موجود ہوتی ہے اور پڑھے لکھے خاکروب کام نہیں کرتے ایک درخواست گزار مدرسے کا کوالیفائیڈ ہے، لوگوں کی مجبوری دیکھیں کہ کیسے کیسے لوگ خاکروب بھرتی ہونا چاہتے ہیں، لوگوں کے پاس نوکری کے مواقع نہ ہونا بھی ایک المیہ ہے۔

    جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ درجہ چہارم پر 2 لوگ ایڈ جسٹ کر لیں تو کیا فرق پڑے گا، جس پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ درخوا ست گزاروں کی عمریں 47 سال ہوچکی ہیں، اتنی رعایت قانونی طور پر ممکن نہیں،عدالت نے مزید سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کر دی۔

  • امریکی عدالت نے ٹرمپ کا ایک لاکھ ڈالر ’ایچ ون بی‘ ویزا فیس فیصلہ غیر قانونی قراردیا

    امریکی عدالت نے ٹرمپ کا ایک لاکھ ڈالر ’ایچ ون بی‘ ویزا فیس فیصلہ غیر قانونی قراردیا

    امریکا کی ایک وفاقی عدالت نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اعلیٰ مہارت رکھنے والے غیر ملکی کارکنوں کے لیے ایچ ون بی (H-1B) ویزا پر عائد کی گئی ایک لاکھ ڈالر فیس کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے منسوخ کر دیا ہے۔

    بوسٹن میں امریکی ڈسٹرکٹ جج نے پیر کے روز اپنے فیصلے میں کہا کہ یہ فیس درحقیقت ایک ٹیکس تھی، جس کے نفاذ کی اجازت امریکی کانگریس نے صدر کو نہیں دی تھی یہ مقدمہ 20 ڈیموکریٹک ریاستی اٹارنی جنرلز کی جانب سے دائر کیا گیا تھا، جنہوں نے ستمبر میں صدر ٹرمپ کے اعلان کو عدالت میں چیلنج کیا تھا اس اعلان کے تحت نئے ایچ ون بی ویزوں کی لاگت میں غیر معمولی اضافہ کر دیا گیا تھا۔

    ایچ ون بی پروگرام کے تحت ہر سال 65 ہزار ہنر مند غیر ملکی کارکنوں کو ویزے جاری کیے جاتے ہیں، جبکہ اعلیٰ تعلیمی ڈگری رکھنے والوں کے لیے مزید 20 ہزار ویزے مختص ہوتے ہیں ٹرمپ کے فیصلے سے قبل آجر حضرات مختلف عوامل کے مطابق عموماً 2 ہزار سے 5 ہزار ڈالر تک فیس ادا کرتے تھے۔

    عدالتی دستاویزات کے مطابق ایک لاکھ ڈالر کی فیس نافذ ہونے کے بعد ایچ ون بی ویزا درخواستوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی انتظامیہ کے مطابق 15 فرور ی تک صرف 85 درخواست گزاروں نے یہ فیس ادا کی تھی۔

    حکومت کا مؤقف تھا کہ یہ رقم ایک مالیاتی جرمانہ ہے جسے صدر کو وفاقی امیگریشن قوانین کے تحت بعض غیر ملکی شہریوں کے داخلے کو محدود کرنے کے لیے عائد کرنے کا اختیار حاصل ہے تاہم جج لیو سوروکن، جنہیں سابق صدر اوباما نے تعینات کیا تھا، نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ اس ادائیگی کی نوعیت اور عملی اطلاق واضح طور پر ظاہر کرتا ہے کہ یہ ایک ٹیکس ہے، خواہ اسے کسی بھی نام سے پکارا جائے۔

    عدالت کے فیصلے کے بعد وائٹ ہاؤس کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

  • لاہور ہائیکورٹ:بچے کا نان نفقہ ختم کرنے کی باپ کی اپیل خارج

    لاہور ہائیکورٹ:بچے کا نان نفقہ ختم کرنے کی باپ کی اپیل خارج

    لاہور ہائیکورٹ نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے کی باپ کی اپیل خارج کردی۔

    لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کردیا،عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔

    عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002 میں ہوئی تھی جب کہ 2005 میں طلاق ہوگئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔

    عدالتی حکم نامے میں کہا گیا ہےکہ خاتون نے 2019 میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس میں درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کرسکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے، کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جاسکتا۔

    عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جب کہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا،لاہور ہائیکورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔

  • پنکی کو  ویڈیو لنک کے ذریعے پیش کرنے کی درخواست دائر

    پنکی کو ویڈیو لنک کے ذریعے پیش کرنے کی درخواست دائر

    کراچی: جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں منشیات کے مقدمے میں نامزد ملزمہ انمول عرف پنکی کے کیس کی سماعت ہوئی، جس میں وومن جیل سپرنٹنڈنٹ عدالت کے روبرو پیش ہوئیں۔

    دورانِ سماعت جیل حکام کی جانب سے ملزمہ کو ویڈیو لنک کے ذریعے پیش کرنے کی درخواست دائر کی گئی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ملزمہ کو آج تھانہ گارڈن میں درج مقدمے کے سلسلے میں عدالت میں پیش کیا جانا تھا، تاہم سیکیورٹی خدشات کے باعث اسے عدالت لانا ممکن نہیں، ملزمہ کو عد الت میں پیش کرنے سے نقصِ امن کا خطرہ ہے لہٰذا مقدمے کے لیے نئی تاریخ مقرر کی جائے۔

    جیل حکام نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ آئندہ سماعت پر ملزمہ کو جیل سے آن لائن ویڈیو لنک کے ذریعے پیش کیا جائے گا، جس کے لیے تمام ضروری وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔

    واضح رہے کہ ملزمہ انمول عرف پنکی کے خلاف منشیات کا مقدمہ تھانہ گارڈن میں درج ہے۔