Baaghi TV

Tag: عدالت

  • نیویارک میں قید وینزویلا کے سابق صدر کی اہلیہ کو گھر میں نظر بندی کی درخواست

    نیویارک میں قید وینزویلا کے سابق صدر کی اہلیہ کو گھر میں نظر بندی کی درخواست

    وینزویلا کے سابق صدر نکولس مادورو کی اہلیہ سیلیا فلورس نے دل کی بگڑتی ہوئی بیماری کے باعث امریکی وفاقی عدالت سے اپنی حراست ختم کرکے مین ہٹن میں گھر پر نظر بند رکھنے کی درخواست کردی۔

    69 سالہ سیلیا فلورس کے وکلا کے مطابق جنوری میں وینزویلا میں امریکی فوجی کارروائی کے بعد حراست میں لیے جانے کے دوران ان کی دل کی حالت مزید خراب ہوگئی ہےعدالت میں جمع کرائی گئی درخواست کے مطابق سیلیا فلورس کو اس سے قبل دل کے وال کے ایک عارضے، مائٹرل والو پرولاپس، کے علاج کے لیے صرف ماہانہ انجیکشن کی ضرورت ہوتی تھی، تاہم اب وہ کئی ادویات استعمال کر رہی ہیں، جن میں اسپرین، اسٹیٹن، ڈلٹیا زیم اور نائٹرو گلسرین شامل ہیں۔

    وکلا کا کہنا ہے کہ بیرونی طبی ماہرین کے خیال میں سیلیا فلورس دورانِ حراست ہلکے درجے کے ہارٹ اٹیک کا بھی شکار ہوچکی ہیں ڈاکٹروں نے مبینہ طور پر ان کے لیے دل کا ایک طبی طریقۂ علاج تجویز کیا ہے جبکہ مزید سرجری کی ضرورت بھی پیش آسکتی ہے سیلیا فلورس کے وکلا کا مؤقف ہے کہ ایسے علاج کے بعد صحت یابی کے لیے حراستی مرکز موزوں ماحول فراہم نہیں کرسکتا۔

    وکلا نے عدالت کو تجویز دی ہے کہ سیلیا فلورس کو مین ہٹن میں ایک رہائش گاہ منتقل کیا جائے، جہاں انہیں عدالت کی سخت نگرانی میں رکھا جائے گا, مجو زہ انتظام کے تحت سیلیا فلورس کی 24 گھنٹے مسلح نگرانی کی جائے گی,جبکہ ان سے ملاقات کرنے والے افراد کے لیے عدالت اور وفاقی استغاثہ سے پیشگی منظوری لینا ضروری ہوگا,ان کی رہائش گاہ کی ویڈیو کے ذریعے نگرانی بھی کی جائے گی اور ٹیلی فون کالز ریکارڈ کی جائیں گی۔

    سیلیا فلورس اور نکولس مادورو اس وقت نیویارک میں زیرحراست ہیں اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے ان کے خلاف منشیات اور ہتھیا روں سے متعلق الزامات عائد کیے گئے ہیں,دونوں الزامات سے انکار کرتے ہوئے خود کو بے قصور قرار دے چکے ہیں، دونوں کے خلاف مقدمے کی سماعت آئندہ سال جون میں مقرر ہے۔

    امریکی وفاقی جج ایلون کے ہیلرسٹین نے تاحال سیلیا فلورس کی گھر میں نظر بندی کی درخواست پر فیصلہ نہیں دیا۔

  • شہری کو آف لوڈ کیے جانے کا معاملہ:اسلام آباد ہائیکورٹ نے افسر کو طلب کر لیا

    شہری کو آف لوڈ کیے جانے کا معاملہ:اسلام آباد ہائیکورٹ نے افسر کو طلب کر لیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے ملائیشیا جانے والے شہری کو آف لوڈ کیے جانے کے معاملے پر متعلقہ افسر کو آئندہ سماعت پر طلب کرلیا-

    ملائیشیا جانے والے شہری محمد سعد کی درخواست پر جسٹس ایاز شوکت نے تحریری حکم نامہ جاری کیا۔ درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اس کے پاس ملائیشیا کا ویزا اور ریٹرن ٹکٹ سمیت بیرون ملک سفر کے لیے تمام ضروری دستاویزات موجود تھیں، اس کے باوجود اسے 12 اگست کو ایئرپورٹ سے آف لوڈ کردیا گیا۔

    درخواست گزار کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ شہری کو آف لوڈ کرنے کے اقدام کو غیر قانونی قرار دیا جائے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایف آئی اے کو آئندہ سماعت تک پیراوائز کمنٹس جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے اس افسر یا شفٹ انچارج کو بھی طلب کرلیا جس نے 12 اگست کو محمد سعد کو آف لوڈ کرنے کا حکم دیا تھا۔

    عدالت نے حکم دیا کہ متعلقہ افسر آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں پیش ہو کر شہری کو آف لوڈ کرنے کی وجوہات سے آگاہ کرے، عدالت نے کیس کی مزید سماعت 4 ستمبر تک ملتوی کردی۔

  • فیک ویڈیو کیس:دوران سماعت فلک جاوید کے وکیل اور عظمیٰ بخاری کے درمیان تلخ کلامی

    فیک ویڈیو کیس:دوران سماعت فلک جاوید کے وکیل اور عظمیٰ بخاری کے درمیان تلخ کلامی

    فیک ویڈیو کیس میں پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری اپنا بیان ریکارڈ کرانے کے لیے ضلع کچہری لاہور پہنچ گئیں، تاہم کیس کی مرکزی ملزمہ فلک جاوید عدالت میں پیش نہ ہوسکیں۔

    عظمیٰ بخاری نے جج نعیم وٹو کے روبرو پیش ہوکر اپنا بیان ریکارڈ کرایا، انہوں نے واضح کیا کہ وہ اس کیس میں ملزمہ نہیں بلکہ شکایت کنندہ ہیں اور ان کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے، ان کی ایک جعلی ویڈیو بنا کر وائرل کی گئی، وہ اس معاملے کے باعث جس کرب سے گزری ہیں، اسے بیان نہیں کرسکتیں۔

    اس موقع پر جج نعیم وٹو نے ریمارکس دیے کہ عدالت کے لیے ایک عورت کا احترام بہت ضروری ہے اور عدالتوں کے فیصلے ظاہر کرتے ہیں کہ وہ اس طرح کے مقدمات کو کس طرح ڈیل کرتی ہیں، اس کیس میں تاخیر عدالتوں کی وجہ سے نہیں ہوئی، جبکہ تنقید بھی عدالتوں نے برداشت کی ہے۔

    دورانِ سماعت فلک جاوید کے وکیل میاں علی اشفاق اور عظمیٰ بخاری کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوئی،میاں علی اشفاق نے مؤقف اپنایا کہ پہلے ملزمہ کو عدالت میں پیش کیا جائے، پھر کیس آگے بڑھے گا، جس پر عظمیٰ بخاری نے کہا: "آپ ڈکٹیٹر نہ بنیں، آواز نیچی کرکے بات کریں، جواب میں علی اشفاق بولے: "یہاں ڈرامہ کرنے کی ضرورت نہیں۔”

    عدالت نے فلک جاوید کو پیش نہ کیے جانے پر جیل حکام کو انہیں 20 منٹ کے اندر عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا، دوران سماعت عظمیٰ بخا ری نے کہا کہ ایک یوٹیوبر نے ٹوئٹ کیا کہ ان کے وارنٹ گرفتاری جاری ہوئے ہیں، عدالت اس سے پوچھے کہ وارنٹ کب جاری ہوئے،عظمیٰ بخا ری نے عدالت میں موجود یوٹیوبر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس سے پوچھا جائے کہ کیا ان کے وارنٹ گرفتاری جاری ہوئے تھے-

    اس پر یوٹیوبر نے کمرہ عدالت میں عظمیٰ بخاری سے معذرت کرلی،انہوں نے کہا کہ یہ ایک عورت کی عزت کا معاملہ ہے اور یہ کوئی عام سول کیس نہیں تھا،ان کے مطابق انہیں سکیورٹی خدشات بھی لاحق ہیں، اسی لیے انہوں نے عدالت سے ویڈیو لنک کے ذریعے بیان ریکارڈ کرنے کی استدعا کی تھی۔

    عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ فلک جاوید کے والدین کا وہ احترام کرتی ہیں، تاہم انہیں افسوس ہے کہ ان کے بارے میں کس طرح کی زبان استعمال کی جاتی ہے، اگر اسی طرح معاملات چلنے ہیں تو پھر عدالتوں کو بند کردینا چاہیے، اگر ایک وزیر کے ساتھ ایسا ہورہا ہے تو عام لوگوں کے ساتھ کیا ہوتا ہوگا،بہت سے لوگ ان کے ساتھ عدالت آنا چاہتے تھے، تاہم انہوں نے انہیں منع کیا، کیونکہ وہ نہیں چاہتیں کہ دونوں جانب کے لوگ آمنے سامنے آئیں اور کوئی بدمزگی ہو-

  • عمران خان کے ا نجی اسپتال سے علاج کے احکامات کے بعد عام قیدیوں کا بھی عدالت سے رجوع

    عمران خان کے ا نجی اسپتال سے علاج کے احکامات کے بعد عام قیدیوں کا بھی عدالت سے رجوع

    بانی پی ٹی آئی کا نجی اسپتال سے علاج کے احکامات کے بعد عام قیدیوں نے بھی عدالت سے رجوع کر لیا ہے۔

    اڈیالہ جیل کے تین قیدیوں نے نجی اسپتالوں سے علاج اور اہل خانہ سے بات کروانے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواستیں دائر کیں،اسلام آباد ہائی کورٹ کےجج جسٹس محمد آصف نے قیدیوں الیاس خان، محمد اسماعیل خان اور اویس الطاف کی درخواستوں پر سماعت کی،اور اڈیالہ حکام کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سپرنٹنڈنٹ جیل سے پیراوائز کمنٹس طلب کرلیے۔

    بیرسٹر اختر چھینہ نے دلائل دیے کہ درخواست گزار ہیموفیلیا بیماری کا شکار ہے اور انٹرنل بلیڈنگ ہے، دو ماہ میں 10 مرتبہ اسپتال لایا گیا لیکن کوئی افاقہ نہ ہوا، اس مسئلہ کا علاج ابھی تک پاکستان میں صرف شفاء اسپتال میں ہی ممکن ہے، سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے اگر بیماری کا علاج سرکاری اسپتال میں نہیں تو قیدی کو پرائیویٹ اسپتال منتقل کیا جا سکتا ہے-

    بیرسٹر اختر چھینہ نے کہا کہ سپریم کورٹ فیصلے نے واضع کر دیا کہ علاج کے اخراجات اہل خانہ برداشت کر سکتے ہیں، سپریم کورٹ فیصلے پر انحصار کرتے ہوئے استدعا ہے کہ میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جائے، اگر لیور ٹرانسپلانٹ سرکاری اسپتال میں میسر نہ ہو تو کیا اس قیدی کو پرائیویٹ اسپتال میں منتقل نہیں کیا جائے گا۔

    درخواست گزار اویس الطاف کے وکیل سید جعفر نے ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش ہو کر دلائل دیے کہ درخواست گزار اویس الطاف کو بخار اور دل کا مرض ہے، مناسب علاج معالجہ کروانا قیدی کا بنیادی حق ہے، سرکاری اسپتال میں علاج ممکن نہیں لہٰذا شفاء اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا جائے۔

    تیسرے قیدی کے وکیل نے دلائل دیے کہ درخواست گزار محمد اسماعیل 9 سال سے اڈیالہ جیل میں قید ہے، ایک بھائی دبئی ہوتا ہے لیکن سالوں سے رابطہ نہیں ہے، جیل حکام کو حکم دیا جائے کہ واٹس ایپ کال کے ذریعے بھائی سے بات کروائی جائے۔

    عدالت نے تینوں کیسز میں جیل حکام کو جواب کے لیے نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 27 اگست تک ملتوی کر دی۔

  • توہین عدالت تو پی ٹی آئی نے کی ہے جو اسپتال کے باہر جمع ہوئے تھے،طلال چوہدری

    توہین عدالت تو پی ٹی آئی نے کی ہے جو اسپتال کے باہر جمع ہوئے تھے،طلال چوہدری

    وفاقی وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ اگر عمران خان کو اسپتال لانے کی ضرورت ہو تو انہیں بغیر کسی عدالتی حکم کے اسپتال لایا جاتا ہے

    نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ عمران خان بالکل تندرست ہیں،اگر عمران خان کو اسپتال لانے کی ضرورت ہو تو انہیں بغیر کسی عدالتی حکم کے اسپتال لایا جاتا ہے، یہ لوگ ہمدردی کا کارڈ کھیلنا چاہتے ہیں عدالتیں بدل چکی ہیں، یہ نئی عدلیہ ہے جو جوڈیشل این آر او دینے کے لیے نہیں ہے یہ اپنی خواہشات کا اظہار کرتے رہیں، ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔

    طلال چوہدری نے کہاکہ عمران خان کی طبیعت ٹھیک ہے اور وہ تندرست ہیں عمران خان کی بہن اس بہانے سے کوئی این آر او لینا چاہتی ہیں تو یہ پھر ان کی اپنی خواہش ہے توہین عدالت تو ان لوگوں نے کی ہے جو اسپتال کے باہر جمع ہوئے تھےجیل میں عمران خان کا تین بار چیک اپ ہوتا ہے۔

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا تھا، تاہم حکومت نے سابق وزیراعظم کا پمز اسپتال میں چیک اپ کرانے کے بعد انہیں دوبارہ جیل منتقل کردیا ہے،دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے حکومت کے خلاف توہین عدالت کی درخوا ست دائر کردی ہے،جبکہ حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی اپیل دائر کی گئی ہے۔

  • عمران خان کی  اسپتال منتقلی کے  سپریم کورٹ کے فیصلے کے پیچھے کوئی سازش نہیں،طلال چوہدری

    عمران خان کی اسپتال منتقلی کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے پیچھے کوئی سازش نہیں،طلال چوہدری

    وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ عمران خان کو نجی اسپتال منتقل کرنے کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے پیچھے کوئی سازش نہیں-

    نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کے ہوتے ہوئے کسی قسم کی سازش کی گنجائش نہیں، دونوں واضح سوچ رکھنے والے لوگ ہیں اور ان کے سامنے پاکستان، پاکستانی عوام کے مسائل اور ملکی مفادات ہیں تحریک انصاف نے اس فیصلے پر ’جلدی مٹھائی کھا لی ہے‘، کیونکہ یہ عدالتی فیصلہ ہے اور اسے سیاسی تبدیلی یا کسی سازش سے جوڑنا درست نہیں۔

    طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ اگر تحریک انصاف خود عمران خان کی بہنوں کو ملاقات کی اجازت دے دیتی، ان کے مطالبے پر طبی رپورٹس کی تفصیلات فراہم کردیتی اور خاندان کے مطالبے کے مطابق عمران خان کا مناسب علاج کرادیتی تو آج سپریم کورٹ سے یہ فیصلہ نہ آتا، حکومت کی جانب سے عمران خان کو اسلام آباد میں پہلے بھی تین سے چار مرتبہ اسپتال لایا گیا، انہیں مکمل سیکیورٹی اور دیگر سہولیات فراہم کی گئیں، جبکہ ملاقاتوں کے معاملے پر بھی حکومت کو کوئی اعتراض نہیں رہا۔

    وزیر مملکت داخلہ نے کہا کہ عمران خان کی اسپتال منتقلی کے معاملے پر تحریک انصاف نے پہلے اسلام آباد ہائیکورٹ سے بھی رجوع کیا تھا اور توہین عدالت کی کارروائی کا مطالبہ کیا تھا، سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں اسلام آباد ہائیکورٹ کی کارروائی پر بھی سوالات اٹھائے ہیں، تحر یک انصاف پہلے پارلیمنٹ، آئینی ترامیم اور عدالتی نظام کو تسلیم نہ کرنے کی بات کرتی رہی، لیکن سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کے بعد اچانک عدلیہ کو ’روشنی کی کرن‘ اور انصاف کی علامت قرار دیا جارہا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں مزید بہتری کی گنجائش موجود ہے اور حکومت سمجھتی ہے کہ اس میں کئی قانونی نکات پر مزید غور کیا جاسکتا ہے،طلال چوہدری نے عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کے فیصلے کو مستقبل میں بنی گالا منتقل کیے جانے کے امکان سے جوڑنے کو بھی مسترد کیا جب تک موجودہ قیادت اور نظام موجود ہے، کوئی سازش نہیں ہوگی، پاکستان بدل چکا ہے، ادارے بھی تبدیل ہوئے ہیں اور اب توجہ ملکی معیشت، پاکستان اور عوام کے مسائل حل کرنے پر مرکوز ہے۔

    طلال چوہدری نے تحریک انصاف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے چند گھنٹوں بعد ہی پارٹی کا مؤقف تبدیل ہوگیا اور عدلیہ، پارلیمنٹ اور نظام اچھا دکھائی دینے لگا، جو ان کے بقول تحریک انصاف کے ’دوہرے معیار‘ کی عکاسی کرتا ہے۔

  • منشیات برآمدگی کیس: عدالت نےانمول عرف پنکی کو بری کردیا

    منشیات برآمدگی کیس: عدالت نےانمول عرف پنکی کو بری کردیا

    کراچی کی مقامی عدالت نے منشیات برآمدگی کیس میں ملزمہ انمول عرف پنکی کی بریت کی درخواست منظور کرتے ہوئے انہیں مقدمے سے بری کردیا ہے۔

    جمعرات کو کراچی کی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت جنوبی میں ملزمہ انمول عرف پنکی کے خلاف گزری تھانے میں درج منشیات کے مقدمے کی سماعت ہوئی،عدالت نے ملزمہ انمول عرف پنکی کی 3 مقدمات میں بریت کی درخواستیں منظور کرتے ہوئے تینوں مقدمات میں بری کردیا ہے جب کہ پراسیکیوشن ملزمہ پنکی کے خلاف شوہد پیش کرنے میں ناکام رہی۔

    سماعت کے دوران ملزمہ کی جانب سے انعم کوثر ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئیں وکیل صفائی نے مؤقف اختیار کیا کہ مقدمے میں 2 شریک ملزمان پہلے ہی بری ہوچکے ہیں، ملزم علی اور فہمیدہ کو 2024 میں عدالت نے بری کیا تھا انمول پنکی کو شریک ملزمان کے بیانات کی بنیاد پر مقدمے میں شامل کیا گیا تھا تاہم جب شریک ملزمان پہلے ہی بری ہوچکے ہیں تو ملزمہ کے خلاف مقدمے میں سزا کا کوئی امکان نہیں رہا۔

    عدالت نے دلائل سننے کے بعد انمول عرف پنکی کی بریت کی درخواست منظور کرتے ہوئے اسے مقدمے سے بری کردیا۔

    واضح رہے کہ ملزمہ انمول عرف پنکی کے خلاف 2021 میں میں گذری تھانے میں منشیات کا مقدمہ درج ہوا تھا جب کہ ملزمہ انمول عرف پنکی مقدمے میں مفرور تھی۔

  • عظمیٰ بخاری کی ویڈیو لنک پر بیان ریکارڈ کرانے کی درخواست خارج

    عظمیٰ بخاری کی ویڈیو لنک پر بیان ریکارڈ کرانے کی درخواست خارج

    لاہور: سیشن کورٹ نے فیک ویڈیو سوشل میڈیاپر وائرل کرنے کے مقدمے میں عظمیٰ بخاری کو بیان ریکارڈ کرانے لیے ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کی ہدایت کردی۔

    لاہور کی سیشن عدالت میں صوبائی وزیرعظمیٰ بخاری کی فیک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کے مقدمے کی سماعت ہوئی جس میں ایڈیشنل سیشن جج نصرت علی صدیقی نے فیصلہ سنایا۔

    عدالت نے عظمیٰ بخاری کی ویڈیو لنک پربیان قلمبند کرانےکی درخواست خارج کردی اور صوبائی وزیر کو آئندہ سماعت پر بیان ریکارڈ کرانے کے لیے پیش ہونے کی ہدایت کی،عظمیٰ بخاری نے جوڈیشل مجسریٹ کی جانب سے ذاتی حیثیت میں پیش ہوکر بیان ریکارڈ کروانے کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا۔

    صوبائی وزیر نے فلک جاوید کے خلاف این سی سی آئی اے میں مقدمہ درج کرا رکھا ہے۔

  • مومنہ اقبال کیس : ثاقب چدھڑ کے خلاف رپورٹ عدالت میں پیش

    مومنہ اقبال کیس : ثاقب چدھڑ کے خلاف رپورٹ عدالت میں پیش

    اداکارہ مومنہ اقبال اور رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے درمیان جاری تنازع کی این سی سی آئی اے کی جانب سے عدالت میں پیش کی گئی تفتیشی رپورٹ میں ثاقب چدھڑ کو تفتیش کے دوران قصور وار قرار دیا گیا ہے۔

    اداکارہ مومنہ اقبال کو مبینہ طور پر ہراساں کرنے اور دھمکیاں دینے سے متعلق مقدمے میں مسلم لیگ (ن) کے رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ اور ان کی اہلیہ سمیرا کی عبوری ضمانت میں توسیع کر دی گئی،سیشن کورٹ لاہور میں کیس کی سماعت ایڈیشنل سیشن جج کے روبرو ہوئی، جہاں تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ثاقب چدھڑ سے متعلق تحقیقات مکمل کر لی گئی ہیں، جبکہ تفتیشی رپورٹ عدالت میں پیش کر دی گئی۔

    عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ شریک ملزمہ سمیرا نے حال ہی میں اپنا موبائل فون تحقیقاتی حکام کے حوالے کیا ہے، جسے فرانزک تجزیے کے لیے بھیج دیا گیا ہے تاکہ مقدمے سے متعلق شواہد کا جائزہ لیا جا سکے، فریقین کے وکلاء سے آئندہ سماعت پر حتمی دلائل طلب کر لیے،تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ثاقب چدھڑ کے خلاف تحقیقات مکمل کر لی گئی ہیں اور تفتیش کے نتیجے میں وہ قصور وار پائے گئے ہیں۔

    دوسری جانب مومنہ اقبال کے وکیل عدنان نے عدالت سے ملزمان کی ضمانت خارج کرنے کی استدعا کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ملزمان کی آزادی ان کے مؤکلہ کے لیے خطرے کا باعث بن سکتی ہے، لہٰذا عبوری ضمانت ختم کی جائے،عدالت نے فریقین کے مؤقف سننے کے بعد کیس کی مزید سماعت 3 ستمبر تک ملتوی کرتے ہوئے حتمی دلائل طلب کر لیے۔

  • سہیل آفریدی کیخلاف درخواستیں سماعت کے لیے مقرر

    سہیل آفریدی کیخلاف درخواستیں سماعت کے لیے مقرر

    وفاقی آئینی عدالت نے سہیل آفریدی کے خلاف دائر مختلف درخواستیں سماعت کے لیے مقرر کردی ہیں-

    چیف جسٹس جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں آئینی عدالت کا 3 رکنی بینچ ان درخواستوں کی سماعت کرے گاعدالت نے خیبرپختونخوا حکومت سمیت تمام متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کر دیے ہیں، آئینی عدالت اس سے قبل 9 مئی کے مقدمات کی واپسی کے حکومتی فیصلے پر حکم امتناع بھی جاری کرچکی ہے،جبکہ عمران خان رہائی فورس کے خلاف دائر درخواست اور خیبرپختونخوا میں 9 مئی کے مقدمات واپس لینے کے خلاف اپیل پر 29 جولائی کو سماعت ہوگی۔

    ریڈیو پاکستان کی جانب سے پشاورمیں ریڈیو پاکستان پر حملے سے متعلق مقدمہ واپس لینے کے خیبرپختونخوا حکومت کے فیصلے کو آئینی عدالت میں چیلنج کیا گیا تھا ،درخواست میں ریڈیو پاکستان نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ مقدمہ خیبرپختونخوا سے کسی دوسرے صوبے منتقل کیا جائے، جس کی استدعا بھی عدالت کے سا منے زیر غور آئے گی۔