Baaghi TV

Tag: عدالت

  • ویڈیو:اعظم خان کے بیان پر عمران خان کا ردعمل

    ویڈیو:اعظم خان کے بیان پر عمران خان کا ردعمل

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اعظم خان نے سائفر بیانیہ سے متعلق عمران خان کا جھوٹ بے نقاب کیا ہے، اعظم خان کے بیان کے بعد عمران خان کا بھی ردعمل سامنے آیا ہے

    عمران خان آج اسلام آبا دمیں ہیں اور عدالتوں میں پیش ہو رہے ہیں، عدالت پیشی کے دوران عمران خان سے صحافیوں نے سوال کیا کہ اعظم خان نے سائفر بارے بیان ریکارڈ کروایا ہے جس پر عمران خان نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ جب تک اعظم خان کے منہ سے نہیں سُنوں گا تب تک نہیں مانوں گا، اعظم خان ایماندار آدمی ہے،

    اعظم خان سے منسوب بیان پر پاکستان تحریک انصاف کا ردعمل سامنے آیا ہے،ترجمان تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک ماہ سے لاپتہ سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان سے منسوب غیرمصدقہ بیان تضادات کا مجموعہ ہے۔اعظم خان کے بیان کی حقیقت تو ابھی طے ہونا باقی ہے مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ وہ 17 جون سے لاپتہ ہیں۔اعظم خان کی گمشدگی کا باضابطہ مقدمہ درج ہے اور وفاقی پولیس انہیں تلاش کرنے میں تاحال ناکام ہے۔ایک گمشدہ شخص کی جانب سے مجسٹریٹ کے روبرو 164 کے بیان کا ریکارڈ کروایا جانا ماہرینِ قانون کی نگاہ میں ناقابلِ تصّور ہے۔لاپتہ شخص کے مبیّنہ طور پر 164 کے بیان کے مندرجات کا خلافِ قانون افشاء اپنی نوعیّت کا ایک الگ جُرم ہے۔اعظم خان کا مبیّنہ بیان اسی سلسلے کی کڑی دکھائی دیتی ہے جس سے زیرِحراست افراد ”استحکام“ یا “پارلیمٹرینز“ کی صفوں میں سے برآمد یا پریس کلبز سے بازیاب ہوتے ہیں۔چیئرمین عمران خان صراحت سے قوم کو بتا چکے ہیں کہ ملک میں جاری جبری گمشدگیوں اور غیرقانونی گرفتاریوں کے حقیقی محرکات کیا ہیں۔ چیئرمین عمران خان قوم کو آگاہ کر چکے ہیں کہ کیسے انہیں سیاست سے باہر کرنے کیلئے طاقت اور جبر کے بَل پر ”وعدہ معاف“ گواہ تیار کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔نہایت عجلت اور فرسٹریشن میں ذرائع ابلاغ کو جاری کیا گیا ، ”سکرپٹ“ سائفر پر ریاستی مؤقف کیلئے تباہ کن ہے ،قومی سلامتی کمیٹی دو مختلف وزرائے اعظم(عمران خان اور شہبازشریف) کی صدارت میں ہونے والے اجلاسوں میں سائفر کے مندرجات کی تصدیق کرچکی ہے ،قومی سلامتی کمیٹی کے دو مختلف ادوار میں ہونے والے اجلاسوں میں پوری سول و عسکری قیادت نے سائفر کو ”پاکستان کے اندرونی معاملات میں صریح مداخلت“ قرار دیا اسی سائفر کی بنیاد پر امریکہ کو اسلام آباد اور واشنگٹن میں ڈیمارش کیا گیا ،قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس سے قبل کابینہ کے خصوصی اجلاس نے سائفر کا جائزہ لیا اور اسے ڈی کلاسیفائی کیا۔سپیکر قومی اسمبلی اور صدرِمملکت نے سائفر پر جامع اور مؤثر تحقیقات کیلئے محترم چیف جسٹس آف پاکستان سے سفارشات کیں ،چیئرمین تحریک انصاف نے پہلے بطور وزیراعظم اور بعدازاں ملک کی سب سے بڑی پارلیمانی اور عوامی جماعت کے سربراہ کے طور پر سائفر کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کا مطالبہ کیا ،ملک میں آزادی اظہار کے قتل میں سہولتکار پیمرا غیرمصدقہ اطلاعات کی قومی میڈیا پر نمائش و تشہیر پر کیوں خوابِ ذلّت کا لطف اٹھا رہا ہے ،وفاقی حکومت افواہ سازوں اور جھوٹے بیانیوں کے کارخانے چلانے کی بجائے اعظم خان کے حوالے سے عدالت اور قوم کو حقیقت سے آگاہ کرے ،بتایا جائے اعظم خان کس کی تحویل میں ہیں، انہیں کس مقدمے میں گرفتار اور ان کا بیان ریکارڈ کیا گیا .

    واضح رہے کہ اعظم خان نے سائفر سے متعلق بیان ریکارڈ کروا دیا ہے اعظم خان نے سائفر سے متعلق اہم انکشافات کر دیئے عمران کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان نے سائفر ڈرامہ بے نقاب کر دیا ،عمران نے تمام ترحقائق کو چھپا کر سائفر کا جھوٹا اور بے بنیاد بیانیہ بنایا تحریک عدم اعتماد سے بچنے کیلئے سائفر کو بیرونی سازش کا رنگ دیا عمران نے کہاسائفر کو غلط رنگ دے کر عوام کا بیانیہ بدل دوں گا،اعظم خان نے دفعہ 164 کے تحت مجسٹریٹ کے سامنے عمران خان کے خلاف بیان ریکارڈ کروا دیا ، اعظم خان نے کہا کہ عمران خان نے مجھ سے سائفر 9 مارچ کو لیا اور پھر کہا سائفر گم ہو گیا ہے، ایک خفیہ سرکاری دستاویز کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کیا اور جھوٹا بیانیہ بنایا،سائفر کے جھوٹے بیانیے کا پلان عمران خان، شیریں مزاری اور دو مزید لوگوں نے بنایا

    طیبہ گل ویڈیو اسکینڈل،میں خاتون سے نہیں ملا، اعظم خان مکر گئے

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے، ویڈیو وائرل

    نوجوان جوڑے پر تشدد کرنیوالے ملزم عثمان مرزا کے بارے میں اہم انکشافات

    بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار

    ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا

    فرح خان کتنی جائیدادوں کی مالک ہیں؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

    پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیے

    ہ اعظم خان وعدہ معاف گواہ بن گئے ہیں،

    جو بات ہم پہلے دن سے کہہ رہے تھے وہ آج اعظم خان نے کہہ دی ،

  • پشاور ہائیکورٹ میں شہر یار آفرید ی کے مقدمات کی سماعت

    پشاور ہائیکورٹ میں شہر یار آفرید ی کے مقدمات کی سماعت

    پشاور ہائیکورٹ میں سابق وفاقی وزیر شہریار آفریدی کی جانب سے مقدمات کی تفصیل فراہمی کے لئے دائر درخواست پر سماعت ہوئی ہے، سماعت جسٹس اشتیاق ابراہیم اور جسٹس اعجاز انور پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کی ،سماعت کے دوران وکیل درخواست گزار شاہ فیصل اتمانخیل ایڈوکیٹ نے عدالت سے استدعا کی کہ
    شہریار آفریدی کو 3 ایم پی او کے تحت گرفتار کیا گیا اور وہ 46 دن سے جیل میں ہے۔جس پر جسٹس اعجاز انور کی جانب سے سوال کیا گیا کہ شہریار آفریدی کو
    3 ایم پی او میں کیو ں نامزد کیا گیا ہے۔ وکیل درخواست گزار شاہ فیصل اتمانخیل نے جواب دیا کہ شہریار آفریدی جیل میں تھے اور 3 ایم پی او میں نامزد کیا گیا ہے اس پر عدالت نے صوبائی حکومت سے شہریار آفریدی کے خلاف مقدمات کی تفصیل بھی طلب کرلی۔اور ڈپٹی کمشنر کوہاٹ کو آئندہ سماعت پر طلب کرلیا۔

  • سچن کے پیار میں بھارت آئی ہوں،سیما کا ہر بار تحقیقاتی اداروں کو جواب

    سچن کے پیار میں بھارت آئی ہوں،سیما کا ہر بار تحقیقاتی اداروں کو جواب

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اپنے شوہر، ملک اور پھر مزہب کو چھوڑنے والی سیما حیدر کے لئئے بھارت میں مشکلات بڑھ رہی ہیں، سیما حیدر سے مسلسل تین دن سے دوبارہ تحقیقات جاری ہیں، اسے حراست میں لیا گیا ہے

    سیما کے نیپال سے بھارت پہنچنے کا ابھی تک سیکورٹی اداروں کو کوئی سراغ نہیں ملا، تحقیقات کے بعد بھارتی سیکورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ سیما جھوٹ بول رہی ہے، سیما بھارت کیوں آئی؟ کے جواب میں سیما نے ہر بار یہی کہا کہ وہ "سچن کے پیار میں بھارت آئی ہے” سیما سے پولیس نے بھی تحقیقات کیں اور اب دیگر سیکورٹی ادارے تحقیقات کر رہے ہیں،سیما سے الگ تحقیقات کے ساتھ ساتھ سچن اور سیما سے مشترکہ تحقیقات بھی کی گئی،

    میڈیا رپورٹس کے مطابق سیما سے تحقیقات کرنے والی سیکورٹی ادارے اے ٹی ایس کا کہنا ہے کہ سیما کو پاکستان کی جانب سے انتہائی پروفیشنل ٹریننگ ملی ہو گی اسی وجہ سے وہ ہر سوال کا جواب صبر و تحمل کے ساتھ دے رہی ہے، سیما ابھی تک شک کے دائرے میں ہے اور دوران تحقیقات اب اداروں نے ماہر نفسیات کو بھی ساتھ بٹھانا شروع کر دیا ہے

    سیما نیپال سے بھارت نہیں آئی،سیکورٹی اداروں میں کھلبلی
    بھارتی سیکورٹی اداروں کے مطابق سیما براستہ نیپال بھارت پہنچنے کے حوالہ سے جھوٹ بول رہی ہے، 13 مئی کو نیاپ سرحد پر کسی تیسرے ملک کے شہری کی کوئی اطلاع نہیں ملی تھی، جس جگہ سے سیما بھارت میں داخل ہونے کا دعویٰ کر رہی ہے وہاں سے اگر کوئی تیسرے ملک کا شہری بھارت داخل ہوتا ہے تو نیپالی سیکورٹی ادارے بھارت کو آگاہ کرتے ہیں مگر ایسا کچھ نہیں ہوا، وہاں پر سی سی ٹی وی چیک کی گئیں،سونولی سیکٹر اور سیتا مڑھی سیکٹر سے سیما کی بھارت آمد کے حوالہ سے تحقیقات کی گئیں مگر کوئی ثبوت نہیں ملا کہ سیما وہاں سے بھارت آئی،تحقیقاتی اداروں نے 13 مئی کو نیپال سے اس روٹ پر بھارت آنیوالی بسوں کی بھی سی سی ٹی وی فوٹیج چیک کی،لیکن سیما کسی بس میں نظر نہ آئی، باغی ٹی وی کو دستیاب معلومات کے مطابق اگر تیسرے ملک کا کوئی شہری بھارت آتا ہے تو نیپال آگاہ کرتا ہے ،مقامی پولیس اور سیکورٹی اداروں کو اطلاع دی جاتی ہے، اسپیشل ملٹی ٹاسٹنگ ایجنسی ٹیم جس میں آئی بی، کسٹم، امیگریشن، مسلح افواج، فاریسٹ ڈیپارٹمنٹ اور یوپی ، بہار پولیس کے اراکین شامل ہیں، نے بھی اپنی رپورٹ مرکزی تحقیقاتی ایجنسیوں کو جمع کروائی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کہ 13 مئی کے دن کسی تیسرے ملک کے شہری کو نیپال سرحد پر نہیں دیکھا گیا تھا

    سیما حیدر کا شناختی کارڈ 20 ستمبر 2022 کو جاری کیا گیا تھا
    سیما نے تحقیقاتی اداروں کو جتنے بھی بیانات دیئے ادارے اسکی تحقیق کر رہے ہیں، اور تصدیق کر رہے ہیں، سیما، سچن اور اسکے والد سے تین دن سے تحقیقات جاری ہیں، اے ٹی ایس کی نوئیڈا یونٹ نے سچن مینا اور ان کے والد نیترپال سے سیکٹر 94 کے کنٹرول اینڈ کمانڈ سیٹٹر میں تقریباً 8 گھنٹے تک تحقیقات کی، منگل کو دوبارہ اے ٹی ایس کے دفتر میں سیما حیدر سے تحقیقات کی گئی، اے ٹی ایس نے تحقیقات کے دوران سیما حیدر کے پاکستانی شناختی کارڈ کے سلسلے میں بھی بات کی، سیما حیدر کا شناختی کارڈ 20 ستمبر 2022 کو جاری کیا گیا تھا

    واضح رہے کہ گوتم بدھ نگر کی پولیس نے پاکستانی خاتون سیما کو گرفتار کیا ہے جو اپنے چار بچوں کے ہمراہ رہائش پزیر تھی اور ایک ماہ قبل نیپال کے راستے بھارت میں داخل ہوئی تھی اور غیر قانونی طور پر گریٹر نوئیڈا میں مقیم تھی، خاتون کی گرفتاری کے حوالہ سے پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ جس شخص نے خاتون کو ٹھہرایا ہوا تھا اسکو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے، پاکستانی خاتون پب جی پر گیم کھیلتی تھی اور اپنے پارٹنر کوملنے آ گئی، خاتون کا پپ جی پارٹنر کے ساتھ شادی کا پروگرام تھا، بعد میں سیما کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا تھا

    سیما کو گرفتاری کے بعد ضمانت مل گئی 

    ضمانت ملی تو ملک کے بعد مذہب بھی بدل لیا،

    سیما کو واپس نہ بھیجا تو ممبئی طرز کے حملے ہونگے،کال کے بعد ہائی الرٹ

     سیما حیدر کے بھارت میں گرفتاری کے ایک بار امکانات

    پب جی پارٹنر ، سیما اور سچن ایک بار پھر جدا ہوا گئے

  • پرویز الٰہی کی سیشن عدالت کے فیصلے کیخلاف درخواست پر سماعت ملتوی

    پرویز الٰہی کی سیشن عدالت کے فیصلے کیخلاف درخواست پر سماعت ملتوی

    لاہور ہائیکورٹ: سابق وزیر اعلی پرویز الٰہی کا جسمانی ریمانڈ نہ دینے کا معاملہ ، چوہدری پرویز الٰہی کی سیشن عدالت کے فیصلے کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    عدالت نے سماعت بغیر کارروائی 12 اگست تک ملتوی کر دی ،عدالت نے پرویز الہی کی اپیل پر وکلاء کو دلائل کیلئے طلب کر رکھا تھا ،عدالت نے پرویز الہی کودوبارہ جسمانی ریمانڈ کے لئے پیش کرنے کا سیشن عدالت کا فیصلہ معطل کر رکھا ہے ،جسٹس شہرام سرور نے چوہدری پرویز الٰہی کی درخواست پر سماعت کی ،درخواست میں انٹی کرپشن حکام سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے ،دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے جوڈیشل مجسٹریٹ نے انٹی کرپشن حکام کی پرویز الٰہی کا جسمانی ریمانڈ دینے سے انکار کیا جوڈیشل مجسٹریٹ نے چوہدری پرویز الٰہی کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا انٹی کرپشن نے مجسٹریٹ کے فیصلے کو سیشن کورٹ میں چیلنج کردیا سیشن عدالت نے جسمانی ریمانڈ نہ دینے کا جوڈیشل مجسٹریٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیدیا سیشن عدالت نے جسمانی ریمانڈ دینے کا غیر قانونی فیصلہ دیاعدالت جسمانی ریمانڈ دینے کا فیصلہ کالعدم قرار دے

    دوسری جانب سابق وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہی کیخلاف مقدمات خارج ہونے کا معاملہ،پنجاب حکومت کی 3 مقدمات میں چوہدری پرویزالٰہی کو ڈسچارج کرنے کیخلاف اپیل پر سماعت ہوئی،عدالت نے سماعت بغیر کارروائی 12 اگست تک ملتوی کر دی عدالت نے چوہدری پرویز الہی کو دوبارہ نوٹس جاری کر رکھے تھے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے پنجاب حکومت کی اپیل پر سماعت کی ،دائر درخواست میں متعقلہ ججز سمیت دیگر کو فریق بنایا ہے ،درخواست میں کہا گیا ہے کہ چوہدری پرویز الہی کیخلاف شواہد موجود ہیں،متعلقہ ججز نے حقائق کے برعکس فیصلے دئیے،عدالت جوڈیشل مجسٹریٹ کا مقدمات خارج کرنے کا اقدام غیر آئینی قرار دے،

    پی ٹی آئی کی اندرونی لڑائیاں۔ فواد چوہدری کا پرویز الٰہی پر طنز

    خدشہ ہے کہ پرویز الٰہی کو گرفتار کر لیا جائیگا

    پرویز الہیٰ کے خلاف ایک اور مقدمہ درج کر لیا گیا ،

    پرویزالہٰی کی حفاظتی ضمانت پر تحریری فیصلہ 

    زمان پارک سے اسلحہ ملنے کی ویڈیو

  • عمران خان نے خاتون جج دھمکی کیس میں معافی مانگ لی

    عمران خان نے خاتون جج دھمکی کیس میں معافی مانگ لی

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد ،خاتون جج دھمکی کیس ،چیئرمین پی ٹی آئی خاتون جج دھمکی کیس میں جوڈیشل مجسٹریٹ ملک امان کی عدالت پیش ہوئے،

    وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ ہمارے خلاف جعلی کیسسز بنائے گئے ہیں، سیکورٹی وجوہات کی بنا پر ہم آپ کے سامنے ایف ایٹ کچہری پیش نہ ہوسکے، آپکی کورٹ میں دو اے سی اور نو پنکھے لگے ہیں جو کہ ٹھنڈی کورٹ ہے،جج طاہر عباس سپرا نے کہا کہ آپ کو ویلکم پہلی مرتبہ کمپلکس مین آئے ہیں ،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ اس کمپلکس کا افتتاح بھی چیئر مین تحریک انصاف نے کیا تھا۔ جوڈیشل کمپلکس کا کریڈٹ چیئر مین تحریک انصاف کو جاتا ہے میرے موکل نے کہا ٹھنڈی عدالتیں میں نے بنائی مگر اب میرے ہی خلاف کیسز سے گرم ہے، ہمارے خلاف جتنے بھی کیسز بنے ہیں جعلی مقدمات ہیں،کچھ کیسز میں پہلے 7 اے ٹی اے اور پھر بعد میں مزید دفعات لگائی گئیں، درخواست گزار نے کونسا جرم کیا یہ نہیں پتہ بس ذہین میں دہشتگردی کی دفعات آئیں اور مقدمہ بنا دیا گیا،

    چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل نے ایف آئی آر کا متن عدالت میں پڑھ کر سنایا ،اور کہا کہ ایف آئی آر میں لکھا کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا آپ کے اوپر کیس کرنا ہے، ماتحت عدالتوں کے اوپر اعلیٰ عدلیہ موجود ہیں، کوئی بھی کیس کرسکتا ہے، کہا گیا کہ شہباز گل کی گرفتاری پر ایف نائن پارک میں جلسے میں کار سرکار میں مداخلت کی گئی،کہا گیا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کے الفاظ سے ملک میں انتشار پیدا کرنے کی کوشش کی گئی،

    سلمان صفدر کی جانب سے دوران سماعت شہباز گل پر کسٹوڈیل ٹارچر کا بھی ذکر کیا گیا،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ شہباز گل کو مارا گیا، ان پر پریشر ڈالا گیا کہ درخواست گزار کے خلاف گواہی دے، کرکٹ کے بعد اب درخواست گزار عدالتوں کے بھی خوب عادی ہوگئے،عموماً کرپشن، اختیارات کے غلط استعمال و دیگر چیزوں پر مقدمات درج ہوتے ہیں،درخواست گزار کے خلاف ایسے کوئی شواہد نہیں ملے تو یہ چیزیں آگئی،

    خاتون جج دھمکی کیس میں توشہ خانہ کیس کا بھی ذکر آیا، وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ کبھی توشہ خانہ، کبھی ممنوعہ فنڈنگ، کبھی غداری، دہشت گردی، کبھی تحائف بیچنے جیسے کیسز بنائے گئے،تمام کیسسز میں مدعی، فریق اور تفتیشی پولیس ہی ہیں، اس کیس میں متاثرہ فریق آئی جی صاحب ہے، مگر شکایت کنندہ پولیس ہے، سابق چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا تھا کہ سیاسی شخصیات کو ایسے بیانات نہیں دینے چاہیے تھے،درخواست گزار کے خلاف 71 سالہ زندگی میں کبھی کوئی کریمنل کیس درج نہیں ہوا،

    درخواست گزار نے کہا میری عمر صحیح بولے، سلمان صفدر کے جملے پر عدالت میں قہقہے گونج اٹھے، وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ اس کیس میں دہشت گردی کا مقدمہ درج کیا گیا جو بنتا ہی نہیں تھا،

    چیرمین پی ٹی آئی عمران خان روسٹرم پر آ گئے اور کہا کہ 27 سال میں نے قانون کی بالادستی کی جنگ لڑی ہےمیں نے جوش خطابت میں ایک مظاہرے میں یہ الفاظ کہیں تھے ،میں نے اپنے الفاظ پر معافی مانگنے کے لیے جج زیبا چوہدری کی عدالت بھی گیا، آج تک میں نے کوئی قانون نہیں تھوڑا، عمران خان نے خاتون جج دھمکی کیس میں عدالت میں کھڑے ہوکر معافی مانگ لی ،کہا کہ اگر میں نے لائن کراس کی ہے تو معذرت چاہتا ہوں، چیرمین پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر کے دلائل مکمل ہو گئے

    جج نے پراسیکوشن سے استفسار کیا کہ کیا آپ دلائل آج دیں گے ؟ پراسیکیوٹر نے کہا کہ پبلک پراسیکیوٹر رضوان عباسی عدالت موجود نہیں، ہم پوچھ کر بتاتے ہیں،سلمان صفدر نے استدعا کی کہ ہم لاہور سے بارش میں آئے ہیں انکو آج ہی دلائل دینے دیں، پراسیکیوٹر نے کہا کہ ہائی کورٹ نے صرف 7 اے ٹی اے کی حد تک ججمنٹ دی تھی، اگر معاملہ اتنا ہی آسان تھا جتنا سلمان صفدر صاحب نے بتایا تو ہائی کورٹ شاید کیس کو ہی ختم کرتی، ٹرائل میں پتہ چلے گا کہ کونسا ایکشن انہوں نے لینا تھا، میرے لئے حیران کن بات ہے کہ جج زیبا صاحبہ اور آئی جی نے اپنا بطور گواہ بیان ریکارڈ نہیں کیا،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ انکا ایک نقطہ ہے کہ آئی جی پولیس اور جج صاحبہ متاثرہ فریق ہیں، اگر آپ مجھے کہیں کہ میں آپکو نہیں چھوڑوں گا تو شاید میں نہ ڈروں،جج نے استفسار کیا کہ اے سی کے علاؤہ وہاں اور کون کون ڈیوٹی پر موجود تھے، پراسکیوٹر نے کہا کہ اس کیس میں اے سی کے علاؤہ بھی افسران بھی موجود تھے، اور پیمرا سے ریکارڈ بھی طلب کرلیا ہے، جج صاحبہ موقع پر اگر موجود ہوتی تو ہم ان کا بیان ضرور ریکارڈ کرتے، معزز عدالت کو جلسہ میں کس انداز سے دھمکی دی گئی،اس میں ویڈیو، فرانزک، ٹرانسکرپٹ اور پیمرا کے شواہد موجود ہیں،جب تک ٹرائل نہیں ہوتا اس بات کی پتہ نہیں چلتا کہ کس ایکشن کی بات ہوئی تھی،

    خاتون جج دھمکی کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی عبوری ضمانت میں 24 جولائی تک توسیع کردی گئی

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    شوکت ترین ، تیمور جھگڑا ،محسن لغاری کی پاکستان کے خلاف سازش بے نقاب،آڈیو سامنے آ گئی

    عمران خان معافی مانگنے جج زیبا چودھری کی عدالت پہنچ گئے

    خیال رہے کہ پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے پارٹی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے خاتون جج اور انتظامی افسروں کو دھمکی دی تھی اسلام آباد ہائیکورٹ نے از خود نوٹس لیا تھا اور توہین عدالت کا کیس چلا تھا تاہم گزشتہ سماعت پر عدالت نے توہین عدالت ختم کر دی تھی،عمران خان کے اس کیس میں وارنٹ بھی جاری ہوئے تھے، تا ہم بعد میں منسوخ کر دیئے گئے تھے، عمران خان اس کیس میں ضمانت پر ہیں

  • سابق وزیراعظم ہو یا عام شہری آئین نے ہر کسی کو حق دیا،جج انسداد دہشتگردی عدالت

    سابق وزیراعظم ہو یا عام شہری آئین نے ہر کسی کو حق دیا،جج انسداد دہشتگردی عدالت

    انسداد دہشتگردی عدالت اسلام آباد میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف دہشتگردی ایکٹ کے تحت درج تین مقدمات کی سماعت ہوئی۔

    وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف 3 مقدمات درج ہیں، دفعہ 109 لگی ہوئی ہے، کیا چیئرمین پی ٹی آئی نے کوئی بیان دیا؟ چیئرمین پی ٹی آئی کو کچھ معلوم نہیں ان کے خلاف ثبوت ہیں کیا،جج ابوالحسنات نے تفتیشی افسر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ڈبل پالیسی نہیں چلے گی اے ٹی سی نے 3 مقدمات میں چیئرمین پی ٹی آئی کی 26 جولائی تک ضمانت میں توسیع کر دی

    اے ٹی سی جج ابوالحسنات نے سماعت سے قبل وکیل سلمان صفدر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ میں نے تفتیشی افسر کو کہا کہ قانون کے مطابق ڈیل کریں اگر ملزمان سے کچھ نہیں ملا تو آزاد کریں ایسا رہا تو میں آئی جی کو کال کرکے کارروائی کرواؤں گا ملزم کو گناہ گار ثابت کریں یا چھوڑ دیں عدالت کے رحم و کرم پر نہ چھوڑیں ،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ بہت پلان کے ذریعے چیئرمین پی ٹی آئی کو مقدمات میں نامزد کیا گیا،تفتیشی افسر کہہ دیں کہ چیئرمین پی ٹی آئی سے کچھ تفتیش میں برآمد نہیں ہوا دہشتگردی ایکٹ کے 5 مقدمات میں اسی پراسیکیوشن کے سامنے ضمانتیں کنفرم ہوئی ہیں پولیس ہی مدعی ہے اور پولیس ہی تفتیش کررہی ہے ایسے کمزور ثبوتوں کی بنیاد پرتفتیش کو آگے لے کر نہیں چلیں گے پراسیکیوشن اور پولیس ایک ساتھ نہیں چل سکتی

    جج ابوالحسنات نے کہا کہ سابق وزیراعظم ہو یا عام شہری آئین نے ہر کسی کو حق دیا ہے پراسیکیوشن والے ایسا کرتے رہے تو انہیں نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    10جولائی تک فیصلہ کرنا ہے،آپ کو 7 اور 8 جولائی کے دو دن دیئے جا رہے ہیں 

  • توشہ خانہ کیس،عمران خان کو اسلام آباد ہائیکورٹ سے فوری ریلیف نہ مل سکا

    توشہ خانہ کیس،عمران خان کو اسلام آباد ہائیکورٹ سے فوری ریلیف نہ مل سکا

    اسلام آباد ہائیکورٹ ، توشہ خانہ فوجداری کیس ،چیئرمین پی ٹی آئی کو اسلام آباد ہائیکورٹ سے فوری ریلیف نہ مل سکا

    عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرکے آئندہ ہفتے جواب طلب کر لیا چیئرمین پی ٹی آئی کی حکم امتناع کی درخواست پر بھی آئندہ ہفتے کے لئے نوٹس جاری کر دیا گیا، اسلام آباد ہائیکورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا ، نہ ٹرائل رکا نہ جج تبدیل ، اب ٹرائل کورٹ کل سے ٹرائل آگے بڑھائے گی دو گواہوں کے بیانات ہوں گے

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں توشہ خانہ کیس قابل سماعت قرار دینے کیخلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست پر سماعت ہوئی،چیف جسٹس عامر فاروق نے درخواست پر سماعت کی، چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ٹرائل کورٹ سے آٹھ جولائی کو سماعت ملتوی کرنے کی استدعا کی گئی تھی ٹرائل کورٹ نے 8 جولائی کو کیس قابل سماعت ہونے کا فیصلہ سنایا اس عدالت نے ٹرائل کورٹ کو سات دن میں فیصلہ کرنے کا حکم دیا تھا اس عدالت نے ٹرائل کورٹ کو آٹھ سوالات کے جوابات دینے کا بھی کہا تھا عدالتی حکم کے مطابق ہمارے تمام سوالات کا جواب بھی نہیں دیا گیا تمام تر سوالات اہمیت کے حامل ہیں جن کا جواب آنا ضروری تھا، ہمارا اعتراض یہ بھی ہے کہ مجاز اتھارٹی نے کمپلینٹ فائل نہیں کی عدالت نے 8 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا اور 15منٹ بعد سنا دیا الیکشن کمیشن کے وکیل کے دلائل کے 15 منٹ بعد ہی فیصلہ سنا دیا گیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ ٹرائل کورٹ میں آئندہ سماعت کب ہونی ہے؟ وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ ٹرائل کورٹ میں کیس کل سماعت کیلئے مقرر ہے ہائیکورٹ کیس دوسری ٹرائل کورٹ بھیجے تو دوسری عدالت کو بھیجتی ہے ، ایک جج جو اپنا مائنڈواضح کر چکا ہو اسے دوبارہ کیس نہیں بھیجا جاتا اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے درخواست کے قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا تھا

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    10جولائی تک فیصلہ کرنا ہے،آپ کو 7 اور 8 جولائی کے دو دن دیئے جا رہے ہیں 

    ٹرائل کورٹ نے آٹھ جولائی کو توشہ خانہ کیس قابل سماعت ہونے کا فیصلہ دیا تھا ،چیئرمین پی ٹی آئی نے اپیل میں ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کی ہے، چیئرمین پی ٹی آئی نے کیس کے ٹرائل پر حکم امتناعی دینے کی بھی استدعا کر رکھی ہے

  • لون ایپ سے متاثرہ شہری کی خودکشی کیس،ملزمان کا ریمانڈ منظور

    لون ایپ سے متاثرہ شہری کی خودکشی کیس،ملزمان کا ریمانڈ منظور

    لون ایپ سے متاثرہ شہری کی خودکشی کے مقدمے کی سماعت ہوئی

    مقامی عدالت نے گرفتار 9 ملزمان کا مزید 2 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا ، ملزمان کو سخت سیکورٹی میں عدالت پیش کیا گیا تھا، ڈیوٹی جج نوشین زرتاج نے ملزمان کو ایف آئی اے کے حوالے کرنے کا حکم دے دیا عدالت نے دو دن بعد ملزمان کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دے دیا،

    واضح رہے کہ سائبر کرائم سرکل راولپنڈی نے بلیک میلنگ میں ملوث آن لائن لون ایپس کے 9 ملزمان کو گرفتار کر لیا تھا،چھاپہ مار کارروائیاں ہمراہ فنانشل سروسز کے دفاتر واقع سیدپور روڈ راولپنڈی میں کی گئی۔19 ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا۔چھاپے کے دوران 9 ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا۔انسپیکٹر بدر منیر نے پلازے میں موجود کمپنی کے مختلف دفاتر کو سیل کر دیا ۔ملزمان کو روزانہ کی بنیاد پر شہریوں کو کال کرنے کا ٹارگٹ دیا جاتا تھا۔آن لائن کمپنی میں مختلف سیکشن بنے ہوئے تھے۔ملزمان متاثرہ شہریوں، دوستوں اور انکے رشتے داروں کو مختلف نوعیت کی کالز کرتے تھے۔

    دوسری جانب قرضہ ایپلی کیشن اسکینڈل .وفاقی وزیر آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن امین الحق نے کہا ہے کہ غیر قانونی قرض ایپلی کیشن کے خلاف سخت کارروائی کا آغاز کردیا گیا ہے۔ امین الحق کا کہنا تھا کہ چیئرمین پی ٹی اے میجرجنرل حفیظ الرحمان کو ایسی ایپلی کیشنز کے خلاف فوری کارروائی کی ہدایت کی گئی،ہدایات پر فوری عملدرآمد کے تحت اب تک 43 ایپلی کیشنز کو بلاک کردیا گیا ہے،اس طرح کی کمپنیاں سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن میں رجسٹرڈ ہوتی ہیں،پی ٹی اے کے اقدامات میں ایس ای سی پی سے بھی مشاورت و معاونت شامل ہے،فیس بک، اوردیگرسوشل میڈیا پلیٹ فارمز کےذریعے قرضہ دینے والی مافیا سادہ لوح افراد کو بلیک میل کررہی ہیں،صارفین کی آگاہی کیلئے مہم بھی چلائی جائے کہ وہ اس طرح سے بلیک میلنگ مافیا کا شکار نہ بن سکیں، عوام بھی ایسی ایپلی کیشنز کی شکایت، پی ٹی اے، ایف آئی اے سائبر کرائم اور مقامی پولیس کے پاس درج کرائیں،

    کرائم ونگ کی ٹیم نے اسلام آباد میں بھروسہ ایپ کے دفتر پر چھاپہ مارا 

    بلیک میلنگ میں ملوث آن لائن لون ایپس کے 9 ملزمان کو گرفتار کر لیا

    کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن ،آئی جی پنجاب اور ڈی پی او پر فائرنگ

    سعودی عرب: حسن قرات کا دنیا کا سب سے بڑا مقابلہ ایرانی قاری نے جیت لیا

    سورو گنگولی نغمہ کے ساتھ اپنی دوستی چھپا کر رکھنا چاہتے تھے لیکن کیا ہوا؟‌

    کرشنا ابھیشیک نے اپنے ماموں گووندا اور ممانی کے ساتھ جھگڑے کی خبروں پر رد عمل دیدیا

    ایزی لون ایپ کمپنی کی بلیک میلنگ کے مزید کیس رپورٹ 

  • سائفرتحقیقات، ایف آئی اے کو اجازت مل گئی

    سائفرتحقیقات، ایف آئی اے کو اجازت مل گئی

    لاہور ہائی کورٹ نے سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف سائفر معاملے پر ایف آئی اے کی تحقیقات پر جاری حکم امتناع واپس لے لیا

    سائفرکی تحقیقات کے لیے وفاقی حکومت کی حکم امتناع ختم کرانے کی متفرق درخواست عدالت نے منظور کرلی ، جس کے بعد وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کو سائفر کے حوالہ سے تحقیقات کی اجازت مل گئی،لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس علی باقر نجفی نے وفاقی حکومت کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے سائفر تحقیقات پر جاری حکم امتناع واپس لیا

    ،وفاقی حکومت کی جانب سے ڈپٹی اٹارنی جنرل پیش ہوئے ،وفاقی حکومت کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف آفشل سیکریٹ سروس ایکٹ 1923 کے تحت اسلام آباد میں مقدمہ درج کیا گیا ،وفاقی حکومت نے اپنے آئینی اختیارات کا استعمال کرتے ہوے ایف ائی اے کو معاملہ کی تحقیقات کا حکم دیا ،ایف آئی اے نے چیئرمین پی ٹی آئی کو 30نومبر کو طلبی کا نوٹس دے دیا ،چئیرمن پی ٹی آئی عمران خان نے حقائق چھپا کر لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا ،عدالت نے وفاقی حکومت کو نوٹس دیے اور سنے بغیر یکطرفہ ایف آئی اے نوٹس پر عمل درآمد معطل کر دیا

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    پاکستان کو ایک مرتبہ پھر انتہا پسندی اور مذہبی جنونیت کا سامنا 

    واضح رہے کہ عمران خان کے خلاف جب تحریک عدم اعتماد جمع ہوئی تھی تو اسوقت عمران خان نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ہونے والے ایک جلسے میں ایک خط لہرایا تھا اور اس خط کو انکی حکومت کے خلاف بیرونی سازش کہا تھا، بعد ازاں بتایا گیا تھا کہ امریکہ نے دھمکی دی ہے کہ عمران خان کی حکومت ختم کی جائے، عمران خان اپنی حکومت ختم ہونے کے بعد ابھی تک اسی بیانئے کو لے کر چل رہے تھے تا ہم سلامتی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں واضح کہا گیا کہ کسی قسم کی دھمکی نہیں دی گئی، عمران خان اسی سائفر کو لے کر اپنی تحریک چلا رہے ہیں اور عمران خان کا غیر ملکی سازش و مداخلت کا بیانیہ عوام میں مقبول ہو چکا ہے تا ہم سائفر کے حوالہ سے عمران خان کی دو آڈیو لیک ہو چکی ہیں جس کے بعد سائفر کا بیانیہ پٹ گیا

    سائفر کے حوالہ سے 25 اپریل کو ترجمان دفتر خارجہ عاصم افتخار سے سوال کیا گیا کہ مراسلہ سے متعلق نیشنل سیکیورٹی کمیٹی اجلاس کے بعد بہت کنفیوژن ہے،جس کے جواب میں ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ نیشنل سیکیورٹی کمیٹی میں ہونے والی بحث کو دیکھنا ہو گا،این ایس سی کے دونوں اجلاسوں میں کوئی کنفیوژن نہیں ہے نیشنل سیکیورٹی کمیٹی نے سب کچھ واضح کیا ہے،سیکیورٹی ایجنسیز نے بتایا کہ کوئی غیر ملکی سازش نہیں ہوئی،اسد مجید کے حوالے سے میڈیا میں چلنے والی خبریں مکمل طور پر بے بنیاد تھیں، اور ہیں کمیٹی اجلاس میں سفیر اسد مجید ہو کوئی دباؤ نہیں ڈالا گیا کسی سفیر پر دباؤ نہیں ڈالا جاسکتا.ترجمان دفتر خارجہ عاصم افتخارکا مزید کہنا تھا کہ مراسلے کوکئی روز تک کو دبانے کے حوالے سے خبریں بے بنیاد ہیں۔ ٹیلیگرام جیسے ہی دفترخارجہ پہنچا اور قانون کے مطابق متعلقہ حکام کے حوالے کیا گیا مراسلہ قومی سلامتی کمیٹی میں زیر بحث لایا گیا اور پھر ڈی مارش دیا گیا

    پیپلز پارٹی کے رہنما علی موسیٰ گیلانی نے 30 مارچ کو دعویٰ کیا تھا کہ دھمکی آمیز خط شاہ محمود قریشی نے خود دفتر خارجہ کے سفارت کار سے لکھوایا،علی موسیٰ گیلانی کا کہنا تھا کہ فارن آفس کے ڈپلومیٹ نے شاہ محمود قریشی کے کہنے پر یہ خط وزیر خارجہ شاہ محمود کو بھجوایا,ڈپلومیٹ سے خود ساختہ خط موصول ہونے کے بعد شاہ محمود قریشی نے عمران خان کو خط پہنچایا,اس معاملے کے حقائق جلد قوم کے سامنے آئیں گے, شاہ محمود قریشی اور فارن آفس اس جعلی سازی کے اصل کرادر ہیں,شاہ محمود قریشی اور فارن آفس لیڑ گیٹ سکینڈل میں بری طرح پھنس چکے ہیں,ہم عمران خان، شاہ محمود قریشی اور فارن آفس کے ملوث کرداروں کو اس کیس سے نہیں نکلنے دیں گے,

     

  • توشہ خانہ کیس،عمران خان کا جج پر عدم اعتماد ،درخواست مسترد

    توشہ خانہ کیس،عمران خان کا جج پر عدم اعتماد ،درخواست مسترد

    توشہ خانہ کیس، عمران خان کا جج پر عدم اعتماد کا اظہار، کیس دوسری عدالت منتقل کرنے کی درخواست مسترد کر دی گئی.

    عدالت نے فیصلہ سنا دیا عدالت نے عمران خان کی آج حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظورکرلی اور انہیں 20 جولائی کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی کی جج پر عدم اعتماد کی درخواست مسترد کردی ،عدالت نے سوشل میڈیا پر چلائی جانے والی مہم پر تحفظات کا اظہار کیا اورکہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ سوشل میڈیا والی مہم کے معاملےکو دیکھ سکتی ہے

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد،توشہ خانہ کیس کی سماعت ایڈیشنل سیشن جج ہمایوں دلاور کی عدالت میں ہوئی ،الیکشن کمیشن کے وکیل امجدپرویز اور چیرمین پی ٹی آئی کے وکیل گوہرعلی خان پیش ہوئے،چیرمین پی ٹی آئی کی آج حاضری سے استثنا کی درخواست دائر کی گئی،وکیل الیکشن کمیشن امجدپرویز نے چیرمین پی ٹی آئی کی درخواستِ استثنا پر اعتراض اٹھادیا اور کہا کہ چیرمین پی ٹی آئی کی درخواست استثنا پر ان کے دستخط ہی نہیں، وکیل گوہر علی نے امجد پرویز سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو کیا جلدی ہے؟ رک جائیں! ٹرائل میں ملزم کو مکمل قانونی حق ملنا چاہیے، جج ہمایوں دلاور نے کہا کہ کیا بہتر نہیں تھا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر ٹرانسفر درخواست بھی ساتھ لگاتے؟

    وکیل گوہرعلی خان نے ہمایوں دلاور کے فیس بک پوسٹس عدالت میں دکھا دیں، جس پر جج ہمایوں دلاور نے استفسار کیا کہ آپ کو نہیں لگتا کہ ان کی جوڈیشل انکوائری ہونی چاہیے ؟ ان فیس بک پوسٹس کی کیا فارنزک ہوئی ہے؟ آپ کو نہیں لگتاکہ ان کی فارنزک ضروری ہے؟ وکیل گوہر علی خان نے کہا کہ میں نے جب ان پوسٹس کو دیکھا تو بہت دکھ ہوا،میں نے تمام پوسٹس فیس بک پر دیکھی ہیں،توشہ خانہ کیس میں فیئر ٹرائل کا سوال ہے،جج ہمایوں دلاور نے استفسار کیا کہ آپ کیوں نہیں ان فیس بک پوسٹس کو جوڈیشل انکوائری کے سامنے لے کر جاتے؟

    جج ہمایوں دلاور نے اپنے فیس بک اکاؤنٹ ہونے کی دوران سماعت تصدیق کردی اور کہا کہ فیس بک اکاؤنٹ میرا ہے، پوسٹس میری نہیں ہیں، وکیل گوہر علی خان نے عدالت میں کہا کہ آپ جوڈیشل انکوائری کروا سکتےتھے، سپریم کورٹ جاسکتےتھے،پوسٹس ٹھیک ہیں یا نہیں ،عدالت کے لیے درست نہیں کہ ٹرائل چلائے،اسلام آباد ہائیکورٹ میں ٹرانسفر درخواست دائر کی تو تب فیس بک مواد موجود نہیں تھا،تمام پوسٹس فیس بک پر موجود ہیں،فئیر ٹرائل اور انسانی حقوق ہر فرد کا حق ہوتاہے،وکیل الیکشن کمیشن امجد پرویز نے کہا کہ چیرمین پی ٹی آئی نے پہلے سے ہی ٹرانسفر درخواست دائر کر رکھی ہے، چیرمین پی ٹی آئی کو آپ کی عدالت پر ویسے ہی اعتماد نہیں دکھ رہا،آپ کی عدالت کی کیریکٹر ایسیسینیشن کی جا رہی ہے،کئی ماہ سے چیرمین پی ٹی آئی عدالت سے فرار حاصل کر رہےہیں،چیرمین پی ٹی آئی اپنی درخواست استثنا پر دستخط کرنا بھی پسند نہیں کرتے،

    عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے دائر دونوں درخواستوں ہر فیصلہ محفوظ کرلیا تھا،چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے استثنی اور جج ہمایوں دلاور پر عدم اعتماد کی درخواستیں دائر کی گئی تھی ،عدالت نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کیا تھا

    پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر علی گوہر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے اعتراض کیا یہ ہمارا آئینی اور قانونی حق ہے، ہم نے درخواست دی ہے سپریم کورٹ کی ججمنٹ ہے جو بھی درخواست جمع کرواتے ہیں پہلے ان کے نوٹس میں لے کے آئیں، دو بجے تک یہ ڈیلیٹ بھی نہیں ہوئی تھی اور جج صاحب نے اسکی تردید بھی نہیں کی تھی، ہم نے صرف تین پوسٹیں لگائی ہیں، فئیر ٹرائل ہمارا آئینی حق ہے، ہمیں شبہ ہے کہ اس عدالت سے فئیر ٹرائل نہیں ملے گا،

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    10جولائی تک فیصلہ کرنا ہے،آپ کو 7 اور 8 جولائی کے دو دن دیئے جا رہے ہیں