Baaghi TV

Tag: عدالت

  • شاہ محمود قریشی کی ضمانت میں بغیر کارروائی 10 جولائی تک توسیع

    شاہ محمود قریشی کی ضمانت میں بغیر کارروائی 10 جولائی تک توسیع

    انسداد دہشت گردی عدالت ،تھانہ کھنہ کے دہشت گردی کے مقدمہ میں درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی

    شاہ محمود قریشی کی ضمانت میں بغیر کارروائی 10 جولائی تک توسیع کر دی گئی،شاہ محمود قریشی اپنے وکیل علی بخاری کے ہمراہ انسداد دہشت گردی عدالت پیش ہوئے انسداد دہشت گردی عدالت کے جج راجہ جواد عباس کا تبادلہ ہو گیا ،انسداد دہشت گردی عدالت کے نئے جج نے ابھی چارج نہیں لیا مقدمہ میں شاہ محمود قریشی پر ہنگامہ آرائی میں ایما کا الزام ہے شاہ محمود قریشی نے دہشت گردی کے مقدمہ میں عبوری ضمانت کرا رکھی ہے فاضل جج کے چارج نہ لینے پر عدالت نے بغیر کاروائی شاہ محمود قریشی کی ضمانت میں دس جولائی تک توسیع دے دی

    پاکستانیوں کی کوشش ہمیشہ دہشتگردی کو ختم کرنا رہی،شاہ محمود قریشی
    شاہ محمود قریشی نے انسدادِ دہشت گردی عدالت کے باہر میڈیا ٹاک کرتے ہوئے کہا کہ نہ میں موجود نہ ملوث، ایما کی بنیاد پر مقدمہ بنایاگیا،صدر بائیڈن اور وزیراعظم مودی کی ملاقات کے بعد پاکستانیوں کا دل دکھا ہے،پاکستانیوں کی کوشش ہمیشہ دہشتگردی کو ختم کرنا رہی،افسوس ہے لیڈران نے اس معاملے پر بھی سیاسی مظاہرہ کیا،انسانی حقوق کا ذکر ہی نہیں،جاری کردہ بیان پر افسوس ہوا، مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں پر ظلم کے خلاف کوئی آواز نہیں اٹھائی گئی، انسانی حقوق کی علمبردار تنظیمیں خاموش ہیں

    190 ملین پاؤنڈزسکینڈل میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور انکی اہلیہ بشریٰ بی بی نے خود فائدہ اٹھایا

    باغی ٹی وی کی جانب سے بہترین کارکردگی پر ٹیم کو اعزازی شیلڈ دی گئیں،

    مولانا طارق جمیل کے اکاؤنٹ میں اربوں کہاں سے آئے؟ مولانا طارق جمیل کا خصوصی انٹرویو

    مولانا طارق جمیل کے چاہنے والوں کیلئے اچھی خبر، مولانا کا سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان سے رابطہ

  • بشری بی کی حفاظتی ضمانت 26 جون تک منظور

    بشری بی کی حفاظتی ضمانت 26 جون تک منظور

    لاہور ہائیکورٹ: بشریٰ بی بی کی حفاظتی ضمانت کا معاملہ،عدالت نے چیئرمین تحریک انصاف کی اہلیہ بشری بی کی حفاظتی ضمانت 26 جون تک منظور کرلی

    جسٹس امجد رفیق نے بشری بی بی کی درخواست پر سماعت کی ،بشریٰ بی بی پر اوکاڑہ سڑک تعمیر میں کرپشن کا الزام ہے،اینٹی کرپشن اوکاڑہ نے کرپشن مقدمہ درج کیا ہے ،ضمانت کے لئے عدالت میں دائر درخواست میں کہا کہ تحقیقات میں شامل ہونا چاہتے ہیں،اینٹی کرپشن کی جانب سے گرفتاری کا خدشہ ہے،عدالت حفاظتی ضمانت منظور کرے،

    دوسری جانب بشریٰ بی بی پر درج مقدموں کی رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی،رپورٹ میں کہا گیا کہ بشری بی بی کے خلاف نیب میں دو انکوئری جاری ہیں بشری بی بی کے خلاف اینٹی کرپشن ساہیوال ریجن میں مقدمہ درج ہے،سرکاری وکیل نے عدالت میں کہا کہ پولیس میں بشری بی بی کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں ہے

    بشریٰ بی بی نے اہنے وکیل انتظار حسین پنجوتہ کے توسط سے درخواست دائر کی تھی،درخواست میں وفاقی حکومت،ایف آئی اے اور چاروں صوبوں کے آئی جیز کو فریق بنایا گیا ہے ،عدالت میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل دس اے کےتحت شفاف ٹرائل ہرشہری کا بنیادی حق ہے اطلاعات ہیں کہ بشری بی بی کےخلاف مقدمات درج کرکے انہیں سیل کر دیا گیا ہے ،شفاف ٹرائل کے لئے مقدمات کے اندراج کی معلومات اور ان تک رسائی ہرشہری کا قانونی حق ہے عدالت بشری بی بی کے خلاف درج تمام مقدمات کی تفصیلات عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے

    190 ملین پاؤنڈزسکینڈل میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور انکی اہلیہ بشریٰ بی بی نے خود فائدہ اٹھایا

    باغی ٹی وی کی جانب سے بہترین کارکردگی پر ٹیم کو اعزازی شیلڈ دی گئیں،

    مولانا طارق جمیل کے اکاؤنٹ میں اربوں کہاں سے آئے؟ مولانا طارق جمیل کا خصوصی انٹرویو

    مولانا طارق جمیل کے چاہنے والوں کیلئے اچھی خبر، مولانا کا سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان سے رابطہ

    عمران خان اور انکی اہلیہ بشری بی بی پر ایک اور مقدمہ درج 

     نیب نے بشری بی بی کو کیس میں گواہ بنانے کا فیصلہ کر لیا،

  • عمر سرفراز چیمہ کی اہلیہ کو شناخت پریڈ کے لیے جیل بھجوانے کا حکم

    عمر سرفراز چیمہ کی اہلیہ کو شناخت پریڈ کے لیے جیل بھجوانے کا حکم

    تحریک انصاف کے رہنما ، سابق گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ کی اہلیہ کو عدالت پیش کر دیا گیا

    عدالت پیشی کے موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے، جناح ہاؤس جلاؤ گھیراؤ، توڑ پھوڑکیس میں عمر سرفراز چیمہ کی اہلیہ کو گرفتاری کے بعد عدالت پیش کیا گیا تھا،عدالت نے سابق گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ کی اہلیہ رابعہ کو شناخت پریڈ کے لیے جیل بھیج دیاعدالت نے چار روز میں شناخت کا عمل مکمل کرنے کی ہدایت کردی

    سابق گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ کو گذشتہ روز جوڈیشل ریمانڈ مکمل ہونے پر عدالت میں پیش کیا گیا تھا، ان کی اہلیہ شوہر سے ملاقات کیلئے عدالت پہنچی تھیں تب انہیں گرفتار کر لیا گیا تھا

    پنجاب حکومت کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق سابق گورنر عمر سرفراز چیمہ کی اہلیہ رابعہ سلطان کو پولیس نے انسداد دہشت گردی کی عدالت سے گرفتار کر لیا۔ رابعہ سلطان جناح ہاوس پر حملہ کی تفتیش میں پولیس کو مطلوب تھیں۔رابعہ سلطان کی جناح ہاؤس پر9مئی کو حملے کے دوران موجودگی کے شواہد ملے تھے اورجیو فینسنگ کے ذریعے رابعہ سلطان کی جناح ہاؤس میں موجودگی ثابت ہوئی ہے۔ پولیس رابعہ سلطان کی تلاش میں تھی جنہیں گرفتار کر لیا گیا ہے

    9 مئی واقعات میں ملوث ملزمان کیخلاف 51 مقدمات درج

    دوسری جانب ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے 9 مئی واقعات کے ملزمان کی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروا دی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ 9 مئی کے واقعات میں 81 خواتین کو حراست میں لیا گیا ہے جس میں سے 42 کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا، 39 خواتین اس وقت جوڈیشل ریمانڈ پر جیلوں میں قید ہیں ایم پی او تھری کے تحت 2258 افراد کی گرفتاری کے آرڈر جاری کئے گئے 3050 افراد توڑ پھوڑ کے واقعات میں ملوث پائے گئے،

    ایم پی او تھری کے تحت 21 افراد جیلوں میں قید ہیں 9 مئی واقعات میں ملوث ملزمان کیخلاف 51 مقدمات درج ہوئے،108 ملزمان جسمانی ریمانڈ اور1247 جوڈیشل ریمانڈ پر ہیں 500 افراد کو بے گناہ قرار دیا گیا انسداد دہشت گردی قانون کے تحت 232 افراد ضمانت پر رہا ہوئے 3012 افراد کو مختلف مقدمات میں ضمانت پر رہا کیا گیا۔

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے شہباز گل ضمانت کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا

    پائلٹس کے لائسنس سے متعلق وفاق کے بیان کے مقاصد کی عدالتی تحقیقات ہونی چاہیے، رضا ربانی

    کراچی طیارہ حادثہ کی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش، مبشر لقمان کی باتیں 100 فیصد سچ ثابت

    ایئر انڈیا: کرو ممبرزکیلیے نئی گائیڈ لائن ’لپ اسٹک‘ ’ناخن پالش‘ خواتین کے لیے اہم ہدایات

  • غیر قانونی حراست ، پولیس اہلکاروں و ملوث افسران کیخلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم

    غیر قانونی حراست ، پولیس اہلکاروں و ملوث افسران کیخلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں اسلام آباد پولیس کیخلاف شہریوں کو اغوا کرکے تھانے میں رکھنے اور بھتہ وصولی کیس کی سماعت ہوئی،

    جسٹس بابرستار نے خاتون کے بیٹے، پوتے کو غیرقانونی حراست میں رکھنے کے کیس کی سماعت کی ، ایف آئی اے کی رپورٹ نے پولیس اہلکار کے شہریوں کے اغوا اور بھتہ وصولی کی تصدیق کی ،عدالت نے استفسار کیا کہ غیرقانونی حراست میں رکھے لوگ کہاں ہیں؟ آئی جی اسلام آباد نے کہاکہ ریکارڈ کے مطابق وہ لاہور جیل میں ہیں ، لاہور پولیس نے گرفتار کیا، عدالت نے استفسار کیا کہ کیا آپ نے ایف آئی اے کی رپورٹ دیکھی ہے؟آئی جی اسلام آباد نے کہاکہ تینوں ملزموں کا کریمنل ریکارڈ ہے، ان کی شناخت پریڈ بھی ہو چکی ہے،مجھے تھوڑا وقت دے دیں، میں کیس دیکھ کر عدالت کو آگاہ کروں گا۔ عدالت نے کہا کہ ایف آئی اے کو آپ کے سی سی ٹی وی سے نظر آ سکتا ہے تو آپ کو کیوں نظر نہیں آ سکتا ، جسٹس بابر ستار نے کہا کہ آپ کے اپنے ایس ایس پیز ان غیرقانونی اقدامات کو کوراپ کررہے ہیں آئی جی اسلام آباد نے عدالت میں کہا کہ اگر ہم کوراپ کر رہے ہوتے تو ہم ایف آئی اے کو ڈیٹا نہ دیتے

    عدالت نے استفسار کیا کیسے حراست میں لیا؟ کیسے لاہور پولیس کے حوالے کیا؟ ایک بندے کو اٹھاتے بھتہ مانگتے ہیں ، اگر یہ کرنا ہے تو سب کچھ ختم کردیتے ہیں شہریوں کے پرائیویٹ معاملات کو کیسے آپ لوگ دیکھ سکتے ہیں ؟جسٹس بابر ستار نے پولیس کے کنڈیکٹ پر برہمی کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ پولیس نے کب سے عدالتیں لگا لی ہیں یہ کرپشن میں ملوث ہیں تو ایف آئی اے کا کیس بنتا ہے وہ مقدمہ درج کریں گے، یہ بھتے غیرقانونی حراست میں رکھنے کا کیس، معصوم لوگوں کو اٹھا کر یہاں لا رہے ہیں، فیصل آباد جاتے ہیں لوگوں کو اٹھاتے ہیں، موٹروے سے لے آتے ہیں یہ کیسے ہوتا ہے سارا کام؟ اسلام آباد پولیس سے کون کون ملوث ہے؟ چین کیا ہے؟ کچہری سے جب لوگ تھانے آتے ہیں تو آپ چھپا لیتے ہیں پھر انہی کی فیملی سے ملاقات کراتے ہیں آپ کے ایس ایس پی نے جھوٹی رپورٹ دی عدالت کیساتھ جعل سازی کی

    عدالت نے پولیس کے کیسز کو ڈی جی ایف آئی اے کو دیکھنے کی ہدایت کردی عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کے افسران عدالت سے مستقل جھوٹ بول رہے ہیں مس لیڈ کررہے ہیں ،اسلام آباد ہائیکورٹ نے شہریوں کو غیر قانونی حراست میں رکھنے کے کیس میں ایف آئی اے کو پولیس اہلکاروں و ملوث افسران کیخلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیدیا، عدالت نے آئی جی اسلام آباد کی رپورٹ غیرتسلی بخش قرار دیدی اور ایف آئی اے کو مقدمہ درج کرنے کا حکم نہ دینے کی آئی جی کی استدعا مسترد کردی، عدالت نے کہاکہ بادی النظر میں ڈی ایس اپی سی آئی اے، اے سی آئی اغوا، غیرقانونی حراست میں ملوث ہیں

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

  • اڈیالہ جیل ،قیدیوں کی گنجائش 2 ہزار جبکہ قید افراد کی تعداد 6 ہزار سے بھی زائد

    اڈیالہ جیل ،قیدیوں کی گنجائش 2 ہزار جبکہ قید افراد کی تعداد 6 ہزار سے بھی زائد

    ایوان بالاء کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے چیئرمین کمیٹی سینیٹر ولید اقبال کی سربراہی میں سینٹرل اڈیالہ جیل کا دورہ کیا۔ اڈیالہ جیل میں قید عام قیدیوں کے وارڈز، خواتین وارڈز، بچوں کے وارڈ کے علاوہ اڈیالہ جیل میں قیدیوں کو دی جانے والی سہولیات بشمول کچن، کھانے کا معیار، صفائی،رہن سہن، صحت کی سہولیات اور قائم میڈیکل سینٹر میں ڈاکٹروں کی تعداد، قیدیوں کو دی جانے والی فنی تربیت، قیدیوں کے اہلحہ خانہ سے ان کی ملاقات کے طریقہ کار، اڈیالہ جیل میں قیدیوں کے لئے گنجائش اور ان کی موجودہ تعداد کے علاوہ انتظامیہ کو درپیش چیلنجز کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا۔

    چیئرمین کمیٹی سینیٹر ولید اقبال نے کہا کہ قیدیوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہونی چاہیے ان کی موثر تربیت کرکے انہیں معاشرے کا کار آمد شہری بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قائمہ کمیٹی نے چاروں صوبوں کے آئی جیز کی مشاورت سے فیصلہ کیا تھاکہ یہ قائمہ کمیٹی ملک بھر میں قائم جیلوں کا دورہ کر کے قیدیوں کی حالت زار اور تمام امور کا جائزہ لے گی اس تجویز کو چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے منظور کیا اور یہ دورہ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ قائمہ کمیٹی جلد ہی لاہوراور ساہیوال جیلوں کا دورہ بھی کرے گی۔ ساہیوال جیل رقبے کے لحاظ سے ایشیاء کی سب سے بڑی جیل ہے۔ قائمہ کمیٹی کراچی،کوئٹہ اور صوبہ خیبر پختونخواہ میں قائم جیلوں کا دورہ بھی کرے گی۔ انہوں نے کہاکہ ان تمام محرکات کا مقصد ایسی تجاویز مرتب کرنی ہوں گی جن پر عملدرآمد کر کے قیدیوں اور انتظامیہ کو درپیش مسائل ہیں ان کے بہتر حل کے لئے اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد جیل کو جلد سے جلد فعال بنانے کے لئے معاملہ ایوان بالاء میں اٹھایا جائے گا تاکہ اڈیالہ جیل میں گنجائش سے زائد جو افراد قید ہیں اس مسئلے کو مستقل طور پر حل کیا جا سکے۔

    قائمہ کمیٹی کے نوٹس میں یہ بات بھی آئی ہے کہ اڈیالہ جیل میں قید زیادہ تر قیدیوں کا تعلق صوبہ خیبر پختونخواہ سے ہے۔ قائمہ کمیٹی سفارش کرے گی کہ صوبہ خیبر پختونخواہ کے قیدیوں کو متعلقہ صوبے کی جیلوں میں منتقل کیاجائے تاکہ لواحقین کو ان سے ملنے میں بھی آسانی ہو۔ آئی جی جیل خانہ جات پنجاب میاں فاروق نذیر اور ڈی آئی جی جیل خانہ جات پنجاب عبدالمعروف رانا نے قائمہ کمیٹی کو اڈیالہ جیل کے مختلف بیرکس، کچن و دیگر حصوں کا دورہ کرایا اور قائمہ کمیٹی کو متعلقہ امور کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ پنجاب کی مختلف جیلوں میں تقریبا53936 مجرم قید ہیں۔ جن میں سے 52289 مرد،944 خواتین اور703 کم عمر قیدی قید ہیں۔ 115 قید خواتین کے پاس 133 بچے بھی ہیں۔ خواتین بیرکس کو فی میل سٹاف ڈیل کرتا ہے۔ وہاں پر ڈبل لاک سسٹم ہے۔ تمام خواتین کو رہنے کے لئے لوہے کی چارپائیاں دی جاتی ہیں اور ٹھنڈے پانی کی سہولت بھی دی گئی ہے۔ خواتین بلاک میں بچوں کے کھیلنے کیلئے کھلونے اور گراؤنڈ بھی موجود ہے اور علیحدہ میڈیکل فی میل سٹاف بھی موجود ہے۔

    سینٹرل جیل میں ان قیدیوں کو لایا جاتا ہے جن کی سزا لمبے عرصے کی ہوتی ہے۔ اڈیالہ جیل میں خواتین کے لئے علیحدہ جیل بنانے کیلئے بھی کام ہو رہا ہے اور جلد فیصل آباد اور لاہور میں بھی کام شروع کر دیا جائے گا۔ قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ خواتین کے وارڈ میں جانے کے لئے وزیراعظم کو بھی انتظار کرنا پڑا تھا۔ قائمہ کمیٹی کو قیدیوں کی دی جانے والی خوارک کے بارے میں تفصیلی آگاہ کیا گیا کہ ہفتے میں چھ دفعہ چکن دیا جاتا ہے اور کیلریز کے مطابق قیدیوں کا فوڈ پلان بنایا گیا ہے۔ جیل میں کچن کی بہترین حکمت عملی اختیار کی گئی ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ اڈیالہ جیل میں 6 ہزار قیدیوں کے لئے روٹیاں پکانے والی مشین خریدی جا رہی ہے جو ایک گھنٹے میں چار ہزار روٹیاں پکائے گی۔ اڈیالہ جیل میں قید قیدیوں کی فنی تربیت کا انتظام بھی کیا گیا ہے۔ اراکین کمیٹی نے زور دیا کہ قیدی جو چیزیں تیار کر رہے ہیں ان کو مارکیٹ میں فروخت کر کے قیدیوں کے لئے آسانیاں پیدا کی جائیں اور ان کے لواحقین کو بھی اس سے فائدہ دیا جائے۔ قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ پاکستان کی 75 سالہ تاریخ میں جیلوں میں قید قیدیوں پر تشدد کی کوئی رپورٹ نہیں ہے۔

    کمیٹی کو بتایا گیا کہ قیدیوں کو ان کے خاندان والوں سے بات کرنے کیلئے 785 ٹیلی فون بوتھ بنائے گئے ہیں ان کی تعداد1500 کی جائے گی اور4821 قیدیوں کی دیت کے لئے 871 ملین روپے ڈونرز کی مدد سے ادا کیے گئے ہیں۔ مختلف ڈونرز کی مدد سے قیدیوں کو قید خانوں میں معیاری سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ پنجاب کی 8 جیلوں کو ماڈل جیل بنانے کیلئے 5 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں اور مختلف بیرکس میں 55 انچ کی ایل ای ڈی بھی فراہم کی گئی ہے اور جیلوں کی صفائی ستھرائی پر اس سال 18 ملین روپے خرچ کیے گئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج تک کسی بھی جیل میں کرونا یا ڈینگی کا مریض سامنے نہیں آیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ وہ قیدی جو ذہنی بیمارہو جاتے ہیں انہیں مینٹل ہسپتال بھیجتے ہیں۔ ہسپتالوں کو پابند کیا جائے کہ وہ تین ماہ کے اندر اس مریض کے حوالے سے رپورٹ فراہم کرے تاکہ ان کے لئے فیصلہ کیا جا سکے۔

    کمیٹی کو بتایا گیا کہ 20 ہزار قیدی فنی تعلیم کے سریٹفکیٹ حاصل کر چکے ہیں۔ سینیٹر عرفان الحق صدیقی نے کہا کہ ایسے کاموں کو تیز کرنے کیلئے موثر قانون سازی عمل میں لائی جائے۔ انہوں نے کہاکہ ایک قیدی جس کو سزائے موت کی سزا ہوتی ہے اسے سپریم کورٹ میں اپیل کرنے کیلئے کتنا عرصہ لگتا ہے۔ کس کس جیل میں سزائے موت کے قیدی کتنی تعداد میں موجود ہیں کمیٹی کو آگاہ کیا جائے۔ قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ پنجاب کی 3 جیلوں کو سولر سسٹم پر منتقل کر دیا گیا ہے اور 22 کو جلد منتقل کر دیا جائے گا۔ اضافی ملٹی سٹوری بلڈنگ بھی بنائی جائے گی جن پر 548 ملین روپے خرچ ہو نگے۔ قیدی اپنے خاندان سے ہفتے میں ایک دفعہ ملاقات اور ایک دفعہ فون پر بھی کال کر سکتے تھے اب وہ ہفتے میں تین بار کال کر سکیں گے۔ کمیٹی کو بتایا گیاکہ سینٹر ل جیل راولپنڈی 1985 میں 75 ایکٹر پر قائم کی گئی جس میں 2174 قیدیوں کی گنجائش تھی جس میں 6471 قیدی اب قید ہیں۔ یہ بھی بتایا گیا کہ قتل اور اقدام قتل کے 1568، چوری ڈکیتی کے 1358، منشیات کے 1925، مالی جرائم میں 393، دہشت گردی342 اور دیگر 813 کیسز میں لوگ قید ہیں۔ کمیٹی کو بتایا گیاکہ میڈیکل کے شعبے میں 746 منظور شدہ پوسٹیں ہیں جن میں سے 340 خالی ہیں۔ چیئرمین واراکین کمیٹی نے اڈیالہ جیل میں قیدیوں کو دی جانے والی سہولیات پر اطمینان کا اظہار کیا۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ موجودہ انتظامیہ نے قیدیوں کی بہتری کے لئے جو اقدامات اٹھائے ہیں وہ قابل تحسین ہیں اور ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے کہ مجرموں کو ملک کا مفید شہری بنایا جائے۔ قائمہ کمیٹی ملک کے مختلف حصوں میں قائم جیل خانہ جات کا دورہ کر کے تمام امور کا جائزہ لے گی۔

    قائمہ کمیٹی کے اڈیالہ جیل کے دورے کے دوران سینیٹرز ڈاکٹر محمد ہمایوں مہمند، سیمی ایزدی، مشاہد حسین سید، عرفان الحق صدیقی، فلک ناز، سید وقار مہندی کے علاوہ آئی جی جیل خانہ جات پنجاب میاں فاروق نذیر، ڈی آئی جی اڈیالہ جیل پنجاب عبدالمعروف رانا، ایس ایس پی سینئر سپرٹینڈینٹ اسد جاوید، سپیشل سیکرٹری ہوم، چیئرمین این سی ایچ آر، سیکرٹری این سی ایچ آراور ڈی جی وزارت انسانی حقوق و دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

  • خدیجہ شاہ، صنم جاوید و دیگر کی درخواست ضمانت پر آیا فیصلہ

    خدیجہ شاہ، صنم جاوید و دیگر کی درخواست ضمانت پر آیا فیصلہ

    انسداد دہشت گردی عدالت نے جناح ہاوس حملہ کیس میں خدیجہ شاہ ، صنم جاوید ، عالیہ حمزہ اور طیبہ راجہ سمیت 197 ملزمان کی ضمانتیں مسترد کر دیں

    انسداد دہشت گردی عدالت کے جج اعجاز احمد بٹر نے جناح ہاوس حملہ کیس میں 230 ملزمان کی ضمانتوں پر فیصلہ سنایا،عدالت نے خدیجہ شاہ ، عالیہ حمزہ ، صنم جاوید اور طیبہ راجہ سمیت 197 ملزمان کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کردیں جبکہ 33 ملزمان کی ضمانت کی درخواستیں منظور کرتے ہوٸے انھیں ایک ایک لاکھ مچلکے کے عوض رہا کرنے کا حکم دے دیا گزشتہ روز عدالت نے ملزمان کی ضمانت پر فیصلہ محفوظ کر لیا تھا، ملزمان کے وکلا نے موقف اختیار کیا کہ واقعہ سے کوٸی تعلق نہیں سیاسی بنیادوں پر ملوث کیا گیا لہذا ضمانت منظور کی جاٸے سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ شناخت پریڈ میں ملزمان کی شناخت ہوٸی اور ان کے خلاف ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ وہ جناح ہاوس پر حملے میں ملوث ہیں لہذا ضمانت مسترد کی جاٸے

    دوسری جانب انسداد دہشت گردی عدالت ، جناح ہاؤس حملہ اور جلاؤ گھیراو کا معاملہ ،عدالت نے صنم جاوید، خدیجہ شاہ ،عالیہ حمزہ سمیت دیگر خواتین ملزمہ کے جوڈیشل ریمانڈ میں 14 روز کی توسیع کر دی ،خدیجہ شاہ سمیت 13 خواتین کو انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش کیا گیا ،خواتین کو جوڈیشل ریمانڈ مکمل ہونے پر پیش کیا گیا تھا عدالت نے پولیس کو مقدمہ کا چالان جمع کرانے کا حکم دیا ہے پولیس کی جانب سے خدیجہ شاہ اور دیگر خواتین کے جوڈیشل ریمانڈ میں توسیع کی استدعا کی گئی عالیہ حمزہ ملک ٫ صنم جاوید اور طیبہ راجہ سمیت دیگر خواتین کو پیش کیا گیا ،خدیجہ شاہ سمیت دیگر خواتین جوڈیشل ریمانڈ ہر جیل میں تھیں خواتین جناح ہاؤس حملہ کے مقدمہ نمبر 96/23 تھانہ سرور روڑ میں نامزد ہیں ،خواتین خدیجہ شاہ ، مریم مزاری ، عالیہ حمزہ ملک ، صبوحی انعام ، طیبہ راجہ ،صنم جاوید ، ہما سعید ، ممتاز بی بی ،ارم اکمل ،عائشہ مسعود ،ماہا مسعود ، خدیجہ ندیم سمیت دیگر خواتین شامل ہیں

    جی ایچ کیو حملے میں پی ٹی آئی خواتین رہنماوں کا کردار,تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے آئی ہے،

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

    جناح ہاؤس میں سب سے پہلے داخل ہونے والا دہشتگرد عمران محبوب اسلام آباد سے گرفتار 

    عدالت نے خدیجہ شاہ کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کو مسترد کردیا

  • سیف سٹی کے کیمروں میں بھی اعظم خان کی گاڑی نہیں آئی.پولیس

    سیف سٹی کے کیمروں میں بھی اعظم خان کی گاڑی نہیں آئی.پولیس

    سابق وزیر اعظم عمران خان کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کی بازیابی کیس کی سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر اعظم خان کسی ادارے کی تحویل میں ہیں تو پیر تک عدالت کو آگاہ کریں، اسلام آباد پولیس کے حکام نے کہا کہ تمام متعلقہ اداروں کو خطوط لکھے ہیں، متعلقہ اداروں سے خطوط کے جواب کا انتظار ہے،عدالت نے کہا کہ پیر تک معلوم کرکے بتائیں اعظم خان کہاں ہیں ؟ نیب نے عدالت کو آگاہ کیا کہ اعظم خان نیب کی تحویل میں نہیں ، ایس ایچ او شفقت عدالتی حکم پر عدالت میں پیش ہوئے،پولیس نے کہا کہ اعظم خان کے گھر کے سی سی ٹی وی کیمرے فعال نہیں ، اعظم خان خود گاڑی ڈرائیو کرکے گئے اس کے بعد سے لاپتہ ہیں ،

    پبلک پراسکیوٹر طاہر کاظم نے کہا کہ اعظم خان کی تلاش کے لیے کوششیں جاری ہیں،جیو فینسنگ بھی کروا رہے ہیں، سیف سٹی کے کیمروں میں بھی اعظم خان کی گاڑی نہیں آئی ،اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کیس کی سماعت کی

    اعظم خان کے بھتیجے سعید خان کی جانب سے بازیابی کے لیے درخواست دائر کی گئی درخواست گزار سعید خان کی جانب سے وکیل قاسم ودود عدالت کے سامنے پیش ہوئے

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا کہ 15 جون شام تقریبا سات بجے اعظم خان گھر سے باہر نکلے تب سے لاپتہ ہیں، اعظم خان کی تلاش کے لیے مختلف فورمز پر ہر ممکن کوشش کی لیکن نہیں ملے ، ایف آئی اے بھی ماضی میں اعظم کو ہراساں کرتی رہی ہے نیب نے القادر ٹرسٹ کیس میں بطور گواہ اعظم خان کو طلب کیا ہے ،اعظم خان کی بازیابی کے لیے متعلقہ اداروں کو حکم دیا جائے ،

    اعظم خان کی گمشدگی بارے پولیس تفتیش میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جس کے مطابق پولیس کو اعظم خان کے اغوا کے کوئی شواہد نہیں ملے پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ اعظم خان اپنی مرضی سے گاڑی خود ڈرائیو کر کے گئےاعظم خان کے موبائل کا ریکارڈ حاصل کر لیا گیا ہے، اعظم خان کے موبائل ریکارڈ سے اغواء کے حوالے سے کوئی کلیو نہیں ملا، اسلام آباد پولیس نے دیگراضلاع کی پولیس سےبھی رابطہ کرلیا ہے۔

    واضح رہے کہ اعظم خان ستمبر 2017 سے جون 2018 تک چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کے طور پر خدمات سرانجام دیتے رہے اور اس دوران صوبے کی ساری بیوروکریسی کو اس بات کا علم تھا کہ اس وقت کے وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک سے عملی طور پر زیادہ خودمختار اور بااختیار اعظم خان تھے جن کے معاملات میں وزیرِ اعلیٰ کوبھی مداخلت کی اجازت نہیں تھی یہ سب صرف اور صرف عمران خان کی سرپرستی کی وجہ سے ہی ممکن تھا-

    طیبہ گل ویڈیو اسکینڈل،میں خاتون سے نہیں ملا، اعظم خان مکر گئے

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے، ویڈیو وائرل

    نوجوان جوڑے پر تشدد کرنیوالے ملزم عثمان مرزا کے بارے میں اہم انکشافات

    بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار

    ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا

    فرح خان کتنی جائیدادوں کی مالک ہیں؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

    پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیے

  • سابق گورنر پنجاب کی اہلیہ گرفتار

    سابق گورنر پنجاب کی اہلیہ گرفتار

    انسداد دہشت گردی عدالت،سابق گورنر عمر سرفراز چیمہ کی اہلیہ کو احاطہ عدالت سے گرفتار کر لیا گیا

    عمر سرفراز چیمہ کو آج جوڈیشل ریمانڈ مکمل ہونے کے عدالت میں پیش کیا گیا تھا عمر سرفراز چیمہ کی اہلیہ ملنے کیلئے عدالت پہنجی تھیں،پولیس نے کمرہ عدالت کے باہر سے گرفتار کر لیا،کس مقدمے میں گرفتار کیا گیا یہ واضح نہیں ہو سکا،عمر سرفراز چیمہ کو پولیس نے گرفتار کر رکھا ہے،وہ ریمانڈ پر ہیں، گزشتہ سماعت پر عدالت پیشی کے دوران عمر سرفراز چیمہ نے تحریک انصاف چھوڑنے کے حوالہ سے ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ کارکن پارٹی نہیں چھوڑتا

    عمر سرفراز چیمہ کو آج جوڈیشل ریمانڈ مکمل ہونے پر عدالت میں پیش کیا گیا تھا ،پنجاب حکومت کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق سابق گورنر عمر سرفراز چیمہ کی اہلیہ رابعہ سلطان کو آج پولیس نے انسداد دہشت گردی کی عدالت سے گرفتار کر لیا۔ رابعہ سلطان جناح ہاوس پر حملہ کی تفتیش میں پولیس کو مطلوب تھیں۔رابعہ سلطان کی جناح ہاؤس پر9مئی کو حملے کے دوران موجودگی کے شواہد ملے تھے اورجیو فینسنگ کے ذریعے رابعہ سلطان کی جناح ہاؤس میں موجودگی ثابت ہوئی ہے۔ پولیس رابعہ سلطان کی تلاش میں تھی جنہیں آج گرفتار کر لیا گیا ہے

    عمران خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ عمر چیمہ کی اہلیہ، جو ایک ماہ سے زائد عرصے سے جیل میں قید اپنے خاوند کی پیشی کیلئے انسدادِ دہشتگردی عدالت آئیں، کو جس انداز میں عدالت کے باہر سے غیرقانونی طور پر گرفتار کیا گیا ہے وہ نہایت شرمناک ہے ،اسی طرح تحریک انصاف چکوال کے صدر علی ناصر بھٹی کے کم سِن (سکول جانے والے) بیٹے کو بھی اٹھا لیا گیا ہے ،خواتین اور بچوں کیخلاف اس نوعیت کا جبر اور اس سطح کی فسطائیت ملکی تاریخ میں آج سے پہلے کبھی دکھائی نہیں دی۔ حتّٰی کہ بدترین مارشل لاء ادوار بھی ایسی وحشت و بربریت سے خالی ہیں ،محض مجھے تنہا کرنے کی خواہش میں یہ سرکار ( یہ بندوبست) کس حد تک گِرچکا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ (اس جبر و فسطائیت کے نتائج انکی توقعات کے) بالکل برعکس وارد ہورہے ہیں۔ عوام برسرِاقتدار گروہ سے مکمل نفرت و لاتعلقی کا اظہار کررہے ہیں جبکہ زیادہ سے زیادہ لوگ تحریک انصاف کے قافلے کا حصہ بن رہے ہیں۔

    سابق گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ بھی 9 مئی کو ہونے والی ہنگامہ آرائی کے کیس میں زیر حراست ہیں اور ان کے خلاف عدالت میں مقدمہ زیر سماعت ہے واضح رہے کہ نو مئی کے حملوں کے بعد تحریک انصاف کے رہنما پارٹی چھوڑ رہے ہیں، کئی گرفتار ہیں، عمران خان اکیلے رہ گئے ہیں، اسد عمر سمیت کئی رہنما جا چکے ، عمران خان کو اب سمجھ نہیں آ رہی کہ وہ کیا کریں، اسلئے رات کو خطاب میں کہتے نظر آتے ہیں کہ کوئی مجھ سے بات نہیں کرتا،

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے شہباز گل ضمانت کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا

    پائلٹس کے لائسنس سے متعلق وفاق کے بیان کے مقاصد کی عدالتی تحقیقات ہونی چاہیے، رضا ربانی

    کراچی طیارہ حادثہ کی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش، مبشر لقمان کی باتیں 100 فیصد سچ ثابت

    ایئر انڈیا: کرو ممبرزکیلیے نئی گائیڈ لائن ’لپ اسٹک‘ ’ناخن پالش‘ خواتین کے لیے اہم ہدایات

  • ہتک عزت دعویٰ: خواتین عوامی طور پر جنسی ہراسانی سنگین جیسے جھوٹے الزامات لگا سکتی ہیں،میشا شفیع

    ہتک عزت دعویٰ: خواتین عوامی طور پر جنسی ہراسانی سنگین جیسے جھوٹے الزامات لگا سکتی ہیں،میشا شفیع

    لاہور: جنسی ہراسانی کے الزام پر گلوکارعلی ظفر کے ہتک عزت کے دعوے کی سماعت کے دوران گلوکارہ میشا شفیع سے ڈیزائنر تالیہ ایس مر زا کی جانب سے فیس بک پر کی گئی پوسٹ پر جرح کی گئی-

    باغی ٹی وی: سیشن کورٹ لاہور میں گلوکار علی ظفر کی جانب سے میشا شفیع کے خلاف ہتک عزت کے دعوے پر سماعت ہوئی،دوران سماعت میشا شفیع سے پوچھا کہ تالیہ ایس مرزا نے آپ کے بھائی پر الزام لگایا کیا آپ اس کے اپنے بھائی پر لگائے گئے الزام کو مانتی ہیں؟جوا ب میں میشا شفیع نے کہا کہ تالیہ کی پوسٹ پر مجھے اور ہر اس شخص کو جو پڑھ رہا ہے کہ اس کا سامنا کسی ایسی چیز کی بنیاد پر ہوا جو اسے محسوس ہوا اور اس نے معافی کی پیش کش کی۔
    meesha shafi
    وکیل نے سوال پوچھا کہ جہاں تک آپ کو تشویش ہے کیا آپ اپنے بھائی پر تالیہ ایس مرزا کے الزام کو مانتی ہیں ہاں یا نہیں؟ میشا نے کہا کہ میں اس سوال کا جواب ہاں یا ناں میں نہیں دے سکتی یہ بہت بڑی بات ہے لیکن اگر کچھ ہوا تو کم از کم اس کو معافی مانگنے چاہئے تھی۔ چونکہ وہ میرے اور اپنے اس الزام کے بارے میں جھوٹ بول رہی ہے جس کے بارے میں مجھے لگتا ہے کہ اس پر یقین کرنا تھوڑا مشکل ہے میں اپنے بارے میں تالیہ کے اس بیان سے متفق نہیں ہوں کہ میں کسی کے بارے میں بدنیتی پر مبنی افواہیں پھیلاؤں گی-

    علی ظفر کے وکیل نے دوران جرح پوچھا کہ آپ نے اپنی جرح میں بیان کیا کہ تالیہ نے آپ پرالزام اس لئے لگایا گیا ہے کہ آپ اسے اور دوسری خواتین کو بدتمیز کہتی ہیں اور ان پر پروڈیوسر اور ڈائریکٹر کے ساتھ جنسی تعلقات رکھنے کا الزام لگاتی ہیں، کیا آپ ان الزامات سے انکار کرتی ہیں؟ –
    meesha shafi
    میشا نے جواب میں کہا کہ ہاں کام کی مقدار جو میں نے اس پروجیکٹ میں کی تھی اور اس کے ساتھ ساتھ معیار اور جو ان کا رویہ تھا اس نے کہا ہے کہ وہ نوعمر تھی لیکن میں نہیں تھی۔

    میشا سے سوال پوچھا گیا کہ کیا عورت آپ پر ایسے سنگین جھوٹے الزامات لگا کر کھلے عام جھوٹ بول سکتی ہے؟ جس پرمیشا نے کہا "کچھ بھی ممکن ہے”
    ، اس پر مدعا علیہ میشا کے وکیل نے شدید اعتراض اٹھایا کہ یہ سوالات مکمل طور پر غیر متعلق ہیں اور بار بار کیے جانے والے سوالات ہیں۔

    ذکا اشرف کا ہائرڈ ماڈٌل پر تبصرہ،اے سی سی کا ردعمل سامنے آگیا

    علی ظفر کے وکیل نے دوران جرح پوچھا کہ اگر آپ اور آپ کے بھائی پر تالیہ کا الزام غلط ہے تو اس کا کیا مقصد ہوگا؟جس پر میشا نے کہا کہ میں نے تالیہ کی اس احمقانہ پوسٹ ہ کے بارے میں بہت گہرائی سے نہیں سوچا۔ بہت سے لوگوں نے میرے بارے میں بہت خوفناک باتیں کیں اور میں نے کچھ نہیں کہا۔دنیا میں بہت برے لوگ ہیں۔

    واضح رہے کہ تالیہ ایس مرزا نے اپنی فیس بک پوسٹ پر ایک نوٹ لکھا کہ مجھے نہیں معلوم کہ مجھے میشا شفیع کی طرف سے پھیلائی جا نے والی جھوٹی افواہوں سے نمٹنے کا ذاتی تجربہ ہوا ہے جب ہم نوعمر تھے جو کہ بہت پہلے کی بات ہے۔مجھے اور ایک اور خاتون کو تھیٹر پروڈکشن میں میشا بظاہر کاسٹ کے ساتھ بیٹھ ک سلٹس کہتے تھے اور دعویٰ کیا کرتے تھےکہ میں نے اس عورت کے پروڈیوسر اور ڈائریکٹر کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کیے تھے۔

    ہتھنی نورجہاں کی موت کے بعد عہدے سے ہٹائے گئےخالد ہاشمی چڑیا گھر کے دوبارہ …

    talia S Mirza
    تالیہ ایس مرزا نے لکھا کہ دوسری عورت جو این سی اے سے تھی اور وہ شادی شدہ تھی اور اس نے سب سے اپنی شادی کا احترام کرنے کو کہا۔ میں 18 سال کی تھی میں نے ان کے سامنے ہار ماننے سے انکار کر دیا۔ اس گندگی کی اہمیت لیکن لوگ برسوں تک میرے پاس آئے اور مجھ سے پوچھا کہ پوری کاسٹ میرے بارے میں ایسا کیوں کہتی تھی۔ کاسٹ ممبران جنہوں نے مجھ سے بات کی انہوں نے کہا کہ انہوں نے یہ میشا سے سنا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ یہ پروڈکٹ میں دوسری عورت کا مذاق اڑانے کا ایک برا طنزیہ طریقہ تھا؟ کاش لوگ اپنے خاندان کے لیے وہی معیار رکھیں جو وہ دوسروں کے لیے رکھتے ہیں۔

    حکومت آئی ایم ایف کے ساتھ وعدوں کو پورا کرے گی،وزیراعظم

    تالیہ ایس مرزا نے مزید لکھا کہ اس کے بھائی کے ساتھ ایک واقعہ پیش آیا جس کے لیے میں نے اس کا سامنا کیا وہاں اس تصادم کے گواہ موجود تھے اور جس کے لیے اس نے معذرت کی تھی یہ اسی دن ہوا تھا؟ میں اس پروڈکشن میں مکمل طور پر بے اختیار ہونے کے باوجود اور کوئی پشت پناہی نہ ہونے کے باوجود .شاید علی نے اسے ہراساں کیا ہو میں نہیں جانتی لیکن میں جانتی ہوں کہ وہ بدنیتی پر مبنی افواہیں پھیلانے میں ماہر ہے ۔شاید ہم جیسے لوگوں کو بھی خاموشی توڑنی چاہیے؟

    یاد رہے کہ علی ظفر نے اپنے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلائے جانے کا مقدمہ ابتدائی طور پروفاقی تحقیقاتی ادارے(ایف آئی اے) میں 2018 میں دائر کروایا تھا، جس کے بعد ایف آئی اے نے تقریبا 2 سال تک تفتیش کی تھی ایف آئی اے کی جانب سے دو سال تک تفتیش کیے جانے کے بعد وفاقی تحقیقاتی ادارے نے دسمبر 2020 میں اپنی تفتیشی رپورٹ عدالت میں جمع کرائی تھی-

    فلک نے میری عادات خراب کر دی ہیں سارا خان

    عدالت میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں گلوکارہ میشا شفیع، اداکارہ عفت عمر، گلوکار علی گل پیر اور حمنہ رضا سمیت 9 افراد کو علی ظفر کے خلاف جھوٹی مہم چلانے کا مجرم قرار دیتے ہوئے عدالت سے ان کے خلاف کارروائی کی استدعا کی گئی تھی بعد ازاں علی ظفر نے جھوٹا الزام لگانے پر میشا شفیع کے خلاف سیشن کورٹ میں ہتک عزت کا دعویٰ دائر کیا تھا-

  • جلاؤ گھیراؤ کیس، خدیجہ شاہ،یاسمین راشد،اعجاز چوہدری کی درخواست ضمانت خارج

    جلاؤ گھیراؤ کیس، خدیجہ شاہ،یاسمین راشد،اعجاز چوہدری کی درخواست ضمانت خارج

    تھانہ گلبرگ میں درج عسکری ٹاور حملہ کیس ،عدالت نے 10 ملزمان کی ضمانت کی درخواست منظور کر لی

    عدالت نے خدیجہ شاہ اور فہمیدہ بیگم کی درخواست ضمانت خارج کر دی ،ڈاکٹر یاسمین راشد کی عدم پیروی کی بنیاد پر درخواست ضمانت خارج کی گئی، اعجاز چوہدری کی بھی درخواست ضمانت خارج کر دی گئی،انسداد دہشت گردی عدالت کے جج اعجاز احمد بٹر نے فیصلہ سنایا ،بزرگ ملزمان ، بچوں ،ایڈووکیٹس کی ضمانت خصوصی رعایت کے تحت منظور کر لی گئی، عدالت نے ملزمان کو 1،1لاکھ کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا حکم دے دیا،

    گزشتہ روز عدالت نے فیصلہ محفوظ کیا تھا ،جو آج عدالت نے سنایا ہے،

    جی ایچ کیو حملے میں پی ٹی آئی خواتین رہنماوں کا کردار,تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے آئی ہے،

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

    جناح ہاؤس میں سب سے پہلے داخل ہونے والا دہشتگرد عمران محبوب اسلام آباد سے گرفتار 

    عدالت نے خدیجہ شاہ کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کو مسترد کردیا

    گزشتہ روز دوران سماعت اسپیشل ہراسیکیوٹر فریاد علی شاہ نے ملزمان کی ضمانتیں خارج ہونے کی استدعا کی ،جناح ہاؤس کیس میں 158 مرد اور 22 خواتین نے ضمانت کی درخواست دائر کی ،158 مرد ملزمان میں عباد فاروق سمیت دیگر کارکنان شامل ہیں 22 خواتین میں خدیجہ شاہ٫صنم جاوید اورعالیہ حمزہ ملک سمیت دیگر شامل ہیں

    ملزمان کے وکلاء نے اپنے حتمی دلائل مکمل کیے ،اور کہا کہ جیو فینسنگ میں راستے سے گزرنے والوں کو گرفتار کیا گیا جن ملزمان کیخلاف شواہد نہیں انہیں ضمانت دی جائے ،اسپیشل ہراسیکیوٹر فریاد علی شاہ نے ملزمان کی ضمانت خارج کرنے کی استدعا کی اور کہا کہ ملزمان شناخت پریڈ میں شناخت ہوئے ملزمان جلاؤ گھیراؤ میں ملوث ہیں جلاؤ گھیراؤ کی فوٹیج موجود ہے ملزمان کا فون کال ریکارڈ موجود ہے ملزمان نے جناح ہاؤس حملہ کے مقدمہ نمبر 96/23 تھانہ سرور روڑ میں نامزد ہیں

    22 خواتین میں مریم مزاری٫فرحت فاروق٫ثانیہ ساجد٫عالیہ کشور٫ساجدہ بی بی٫فائزہ عظمت٫خالدہ حمید٫صنم جاوید٫ممتاز بی بی٫عائشہ مسعود٫ماہا مسعود ٫عالیہ حمزہ ملک٫طیبہ امبرین٫ہما سعید٫خدیجہ شاہ٫خدیجہ ندیم٫ شمائلہ ستار٫ماریہ خان ،فرح نثار٫صبوحی انعام٫ارم اکمل٫ خلعت عزیز شامل ہیں