Baaghi TV

Tag: عدالت

  • وراثت میں خواتین کا حصہ، خواتین کی تعلیم تک رسائی اہم چیلنجز

    وراثت میں خواتین کا حصہ، خواتین کی تعلیم تک رسائی اہم چیلنجز

    رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی اسلام آباد کے طلباء نے بدھ کے روز فیکلٹی ممبران کے ہمراہ پارلیمنٹ ہاوس کا دورہ کیا۔
    وفد کی سربراہی ڈاریکٹر شعبہ تربیہ رفاہ یونیورسٹی، سابق سینیٹر ڈاکٹر کوثر فردوس نے کی-وفد نے سینیٹر مشتاق احمد سے ملاقات کی-ملاقات میں خواتین کو درپیش مسائل اور ان کا حل، ڈاکٹر عافیہ صدیقی، قانون سازی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیاگیا-سینیٹر مشتاق احمد نے وفد کو آئین کے خدوخال اور پارلیمانی کاروائی بارے وفد کو آگاہ کیا-انہوں نے درس گاہوں /تعلیمی اداروں میں آئین پڑھانے کی ضرورت پر زور دیا-ان کا کہنا تھا کہ اس وقت پاکستان میں کروڑوں خواتین شناختی کارڈ سے محروم ہیں، محض 7فیصد خواتین کے بینک اکاونٹس ہیں،وراثت میں خواتین کا حصہ، خواتین کی تعلیم تک رسائی اہم چیلنجز ہیں جس سے نمٹنا وقت کی ضرورت ہے-انہوں نے او-آئی-سی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ مسلم ممالک میں اس وقت 83 کروڑ لوگ ان پڑھ جس میں زیادہ تعداد خواتین کی ہے-

    اس موقع پر ان کا مزید کہنا تھا کہ سمجھ سے بالا تر ہیں کہ افغانستان میں خواتین پر پابندی کیوں لگائی گئی جبکہ اسلام کی تاریخ دیکھیں تو خواتین نے کاروبار، تعلیم اور دیگر شعبوں میں حصہ لیا ہے-انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ علم فرض ہے کسی کو اس سے روکا نہیں جا سکتا-ان کا کہنا تھا کہ“مسلمانوں کے مسائل کیلئے مغربی حل نہیں ڈھونڈنا چاہئے”-

    وفد کے عافیہ صدیقی سے متعلق سوال کے جواب میں سینیٹر مشتاق احمد کا کہنا تھا کہ وہ حکومت کی کوششوں سے امریکہ ڈاکٹر عافیہ سے ملنے نہیں گئے تھے- ہمارے ساتھ موجود وکیل نے 87 قیدیوں کو گوانتا ناموبے سے رہائی دلائی-ان 87 لوگوں پر اتنا ظلم نہیں کیا گیا جتنا اکیلے ڈاکٹر عافیہ پر ظلم کیا گیا ہے ڈاکٹر عافیہ کی 24 گھنٹے نگرانی کی جاتی ہے اور پاگلوں کے جیل میں رکھا گیا ہے-ہم کوشش کر رہے ہیں کہ ان کو اس جیل سے منتقل کیا جائے اگر ریاست مدعی بن جائے تو اس کی رہائی ممکن ہے- ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیلئے آن لائن رجسٹریشن کا آغاز کیا ہے اور دس لاکھ لوگوں کے دستخط لینے کا ٹارگٹ رکھا ہے-

    ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے ملاقات کروائی جائے، اہلخانہ عدالت پہنچ گئے

    نئی حکومت ڈاکٹرعافیہ صدیقی کو رہا کرائے،مولانا عبدالاکبر چترالی کا مطالبہ

     ایک ماہ کے بعد دوسری رپورٹ آئی ہے جو غیر تسلی بخش ہے ،

    عالمی یوم تعلیم امریکی جیل میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے نام منسوب

    امریکی جیل میں ڈاکٹرعافیہ صدیقی پرحملہ:پاکستان نے امریکہ سے بڑا مطالبہ کردیا ،

    ربا سے متعلق سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے فیڈرل شریعت کورٹ کا فیصلہ بھی خوش آئند ہے اور مفتی تقی عثمانی صاحب نے بھی اس حوالے سے ایک سیمینار کا انعقاد کروایا تھا جس میں وزیرخزانہ سمیت مختلف متعلقہ شخصیات نے شرکت کی-ربا کے خاتمے کیلئے اقدامات اٹھانے ہوں گے تب ہی معیشت بہتر ہوگی-ان کا مزید کہنا تھا کہ جاپان میں انٹرسٹ ریٹ زیرو رکھا گیا ہے جبکہ یورپ میں بھی کم ترین ہے-انہوں نے ورلڈ اکنامک فارم کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ دنیا کی 83 فیصد دولت محض 3 فیصد لوگوں کے پاس ہے-

    بعد ازاں وفد کو سینیٹ میوزیم کا دورہ کرایا گیا جہاں پر ان کو سینیٹ کی تاریخ پر مبنی ڈاکومنٹری بھی دکھائی گئی۔طلباء نے سینیٹ میوزیم میں ملک کے ممتاز سیاستدانوں کے مجسموں اور تاریخی تصاویر میں دلچسپی کا اظہار کیا اور تصاویر بھی بنوائی۔طلباء کو فیکلٹی ممبران کے ہمراہ سینیٹ ہال کا بھی دورہ کرایا گیا جہاں پرایوان بالا کے کام کے طریقہ کار، قانون سازی اور فکشنز کے حوالے سے بھی وفدکو بریفنگ دی گئی

  • شہریوں کو لوٹنے والے ڈکیت گینگ کا ماسٹر ماٸنڈ گرفتار

    شہریوں کو لوٹنے والے ڈکیت گینگ کا ماسٹر ماٸنڈ گرفتار

    شہر قائد کراچی میں جرائم پیشہ عناصر کیخلاف پولیس کاروائیاں جاری ہیں

    تھانہ زمان ٹاٸون پولیس کی انٹیلجنس اطلاع پر کاررواٸی، شہریوں کو لوٹنے والے ڈکیت گینگ کا ماسٹر ماٸنڈ ملزم گرفتار کر لیا گیا،گرفتار ملزم سے اسلحہ ایک پسٹل اور چھیننے ہوٸے دو موباٸل فون برآمد کر لئے گئے، گرفتار ملزم نے 50 سے زاٸد ڈکیتی اور لوٹ مار کی وارداتوں کا انکشاف کیا ہے گرفتار ملزم ڈکیتی کیلٸے اپنے ساتھیوں کو اسلحہ فراہم کرتا تھا، گرفتار ملزم کیخلاف کراچی کے تھانوں میں چودہ سے زاٸد مقدمات بھی درج ہیں، گرفتار ملزم کی شناخت مولا بخش ولد حسین بخش کے نام سے ہوٸی، گرفتار ملزم کے دیگر ساتھوں کی تلاش جاری ہے جنہیں جلد گرفتار کرلیا جاٸے گا، گرفتار ملزم کیخاف مقدمہ درج کرکے تفتیش کا آغاز کردیا گیا ہے،

    کورنگی پولیس کی 24 گھنٹوں کے دوران جراٸم پیشہ عناصر کیخلاف پرزور کاررواٸیاں، کورنگی پولیس نے 22 سے زاٸد جراٸم پیشہ ملزمان کو گرفتار کیا، ملزمان میں منشیات فروش گٹکا فروش اور اسٹریٹ کریمنل شامل ہیں، : گرفتار منشیات فروشوں سے چار کلو سے زاٸد چرس اور بھنگ برآمد کر لی گئی، گٹکا فروشوں سے 27 کلو سے زاٸد مضر صحت گٹکا ماوا برآمد کر لیا گیا،گرفتار اسٹریٹ کریمنلز سے اسلحہ چار پسٹل اور چھیننے ہوٸے موباٸل فون برآمد کر لئے گئے، گرفتار موٹرساٸیکل لفٹرز سے دو چوری شدہ موٹرساٸکلیں بھی برآمد ہوٸی، کورنگی پولیس نے جراٸم پیشہ کے گرد گھیرا تنگ کردیا ہے، : شہریوں کی جان و مال کی حفاظت ہمارا اولین فرض ہے، پولیس نے ملزمان کے خلاف انسداد منشیات ایکٹ کے تحت مقدمات درج کرکے قانونی کاروائی شروع کردی ہے,

    مفتی عزیز الرحمان کا اعتراف جرم، کہا بہت شرمندہ ہوں

    مفتی عزیزالرحمان ویڈیو سیکنڈل کی حمایت کرنیوالا مفتی اسماعیل بھی گرفتار

    مفتی عزیز الرحمان کو دگنی سزا ملنی چاہئے، پاکستان کے معروف عالم دین کا مطالبہ

    مفتی عزیزالرحمان ویڈیو سیکنڈل، پولیس نے مانگا مفتی کا مزید”جسمانی” ریمانڈ

    مدرسہ ویڈیو سیکنڈل ،مفتی عزیز الرحمان کی عدالت پیشی، عدالت کا بڑا حکم

    مدرسہ ویڈیو سیکنڈل،مفتی عزیز الرحمان کے بیٹوں کی درخواست ضمانت پر ہوئی سماعت

  • سات دن میں پارٹی کا نام بدلیں ورنہ قانونی کاروائی،جہانگیرترین کو لیگل نوٹس

    سات دن میں پارٹی کا نام بدلیں ورنہ قانونی کاروائی،جہانگیرترین کو لیگل نوٹس

    پارٹی کا نام چوری کرنے پر لیگل نوٹس بھجوا دیا گیا،

    استحکام پاکستان تحریک نے حال ہی میں نئی بننے والی جہانگیر ترین کی پارٹی کو لیگل نوٹس بھجوا دیا ،لیگل نوٹس استحکام پاکستان تحریک کے صدراحمد کلیم کی جانب سے بھجوایا گیا ہے، لیگل نوٹس پیٹرن انچیف استحکام پاکستان پارٹی جہانگیر ترین اور صدر علیم خان کو بھجوایا گیا، لیگل نوٹس میں کہا گیا ہے کہ پہلے سے موجود استحکام پاکستان تحریک پارٹی کا نام چوری کرنا الیکشن ایکٹ 2017 کی کھلی خلاف ورزی ہے استحکام پاکستان تحریک ایک پارٹی نہیں بلکہ ایک نظریہ ہے جس کا بنیادی نعرہ مستحکم پاکستان ہے،استحکام پاکستان تحریک 17 مئی 2022 کو رجسٹرڈ ہوئی بھجوائے گئے لیگل نوٹس میں جہانگیر ترین اور علیم خان کو 7 دن کا وقت دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ سات دنوں میں اپنی پارٹی کا کوئی اور نام تجویز کریں جو ان کے ذاتی نظرئیے سے مطابقت رکھنا ہوگا،

    واضح رہے کہ نئی پارٹی استحکام پاکستان پارٹی کا اعلان کیا گیا تھا جہانگیر ترین کے ہمراہ علیم خان، عامر کیانی،فردوس عاشق،تنویر الیاس و دیگر موجود تھے، جہانگیر ترین کا اس موقع پر کہنا تھا کہ اب نہ کبھی 9 مئی ہونے دیں گے نہ کسی سیاسی مخالف کے گھروں پر حملے ہونے دیں گے ، سیاسی تقسیم ختم کریں گے، قوم میں امید پیدا کریں گے

    تحریک انصاف چھوڑنے والوں نے اور سیاست چھوڑنے والوں نے جہانگیر ترین کے ساتھ ملاقات کی تھی اور نئی پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی تھی ، نو مئی کے واقعہ کے بعد عمران خان اکیلے رہ گئے اور تحریک انصاف کے رہنما و ٹکٹ ہولڈر پارٹی چھوڑنے لگے، عمران خان کے انتہائی قریبی بھی پارٹی چھوڑ چکے اور عمران خان کو خیر باد کہہ چکے،علیم خان اورجہانگیر ترین تحریک انصاف میں تھے اور مران خان کے انتہائی قریبی تھے، مگر اقتدار ملنے کے بعد عمران خان تکبر میں آ گئے اورانہوں نے اپنے قریبی دوستوں کو دور کر دیا، جہانگیر ترین الگ ہوئے تو علیم خان نے بھی پی ٹی آئی چھوڑی، اب حالت یہ ہو چکی ہے کہ تحریک انصاف میں صرف عمران خان ہی رہ جائیں گے باقی سب ساتھ چھوڑ جائیں گے

    "استحکام پاکستان پارٹی” نام سے متعلق عون چودھری کی وضاحت

    چھینہ گروپ بھی استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے کو تیار

    جہانگیرترین کی پارٹی کا نام الیکشن میں رجسڑیشن سے پہلے ہی الیکشن کمیشن اور اعلی عدلیہ میں چیلنج

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

     ریاست مخالف پروپیگنڈے کوبرداشت کریں گے نہ جھکیں گے۔

    استحکام پاکستان پارٹی کی پریس کانفرنس، فواد چودھری "منہ” چھپاتے رہے، تصاویر وائرل

  • ملک میں مشکل حالات، ہر ایک کو ہمت، برداشت، تحمل کا مظاہرہ کرنا ہے،چیف جسٹس

    ملک میں مشکل حالات، ہر ایک کو ہمت، برداشت، تحمل کا مظاہرہ کرنا ہے،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں درخواست گزار ریاض حنیف راہی کی جانب سے دوران سماعت موجودہ حالات کی شکایت کی گئی

    درخواست گزار ریاض حنیف راہی نے عدالت میں کہا کہ اس کیس کی وجہ سے مجھ پر مشکل وقت آیا ہے، مجھے کہا گیا یا مقدمات واپس لو یا اسلام آباد چھوڑ دو، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ سب آپکے ذاتی ایشوز ہیں، ایڈووکیٹ ریاض حنیف راہی نے کہا کہ میں تمام حالات عدالت کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں، عدالت کو تحریری طور پر بھی آگاہ کر رہا ہوں،عدالت کے سامنے دی گئی اپنی درخواست کو پڑھنا چاہتا ہوں، "چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر آپ کو ضرورت محسوس ہوئی تو مجھ سے چیمبر میں مل لیں،ہمارا ملک اس وقت مشکل حالات سے گزر رہا ہے، ہر ایک کو ہمت، برداشت اور تحمل کا مظاہرہ کرنا ہے،موجودہ صورتحال کا سامنا کرنے کی کوشش کریں، موجودہ صورتحال کو ڈیل کرکے اس سے نکلنا ہے، آپ کی شکایت کی کاپی اٹارنی جنرل کو بھی دے دیتے ہیں",

    واضح رہے کہ آڈیولیکس انکوائری کمیشن کے خلاف درخواست گزار ریاض حنیف راہی لاپتہ ہوگئے تھے، عدالت میں انکے لئے درخواست بھی دائر کی گئی تھی تا ہم چھ دن بعد وہ دوبارہ عدالت پہنچ گئے،سپریم کورٹ بار ایسوسی کی جانب سے بھی اعلامیہ جاری کیا گیا تھا جس میں وکیل کی گمشدگی پر اظہار تشویش کیا گیا تھا، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا کہ ریاض حنیف راہی کی بحفاظت واپسی یقینی بنائی جائے ، ریاض حنیف راہی سپریم کورٹ بار کے رکن ہیں سپریم کورٹ بار کے ایک رکن کے لاپتہ ہونے پر ایسوسی ایشن آنکھیں بند نہیں کرسکتی وکلاء کے تحفظ اور سلامتی کے بارے میں سنگین خدشات کا اظہار کرتے ہیں، یہ ایسوسی ایشن مزید زور دے کر کہتی ہے کہ ملک کا ہر شہری قانون کے یکساں تحفظ کا حقدار ہے، سب کا بنیادی حق ہے کہ وہ اپنے پیشے کو بغیر کسی خوف، احسان اور ایذاء کے انجام دیں،

    حکومت نے چیف جسٹس سمیت بینچ کے 3 ممبران پر اعتراض کردیا

    زیر تحقیق 9 آڈیوز کے ٹرانسکرپٹ جاری

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    چھ جون کو ریاض حنیب راہی سپریم کورٹ میں پیش ہوئے تھے،دوران سماعت درخواست گزار حنیف راہی روسٹرم پر آگئے اور کہا کہ میری توہین عدالت کی درخواست پر ابھی تک نمبر نہیں لگا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ توہین کا معاملہ عدالت اور توہین کرنے والے کے درمیان ہوتا ہے،آپ کی درخواست پر اعتراضات ہیں تو دور کریں،آپ یہ بھی سمجھیں کہ کس کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی چاہتے ہیں،جج کو توہین عدالت کی درخواست میں فریق نہیں بنایا جا سکتا،

  • سندھ ہائیکورٹ،الیکشن نوٹفکیشن کی معطلی کی درخواست مسترد

    سندھ ہائیکورٹ،الیکشن نوٹفکیشن کی معطلی کی درخواست مسترد

    سندھ ہائیکورٹ ،بلدیاتی قانون میں ترمیم کے خلاف سماعت ہوئی

    عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایڈووکیٹ جنرل نے سماعت آگے بڑھانے کا کہا تھا،جماعت اسلامی کے وکیل نے کہا کہ میرے دلائل پوری پٹیشن پر کسی ایک حصے کے لئے نہیں ہیں ، عدالت نے کہا کہ آپ کی درخواست کیوں منظور کریں ?عدالت نے الیکشن نوٹفکیشن کی معطلی کی درخواست مسترد کردی، وکیل جماعت اسلامی نے کہا کہ میرے پٹیشن کا محور آئین 140 اے ہے،دوسرا الیکشن شیڈول پہلے ہی پاس ہو چکا تھا،یہ نوٹیفکیشن ہی نقائص پر مبنی ہے ،آرٹیکل 140 اے انتہائی ضروری ہے اس کے تحت اس کی کوئی گنجائش ہی نہیں ہے ،لیکشن کے مراحل مکمل ہوگئے پھر یہ ترمیم ہوئی ، اگر اس قانون کے تحت الیکشن ہو جائیں تو یہ لوگ پھر ایگزیکیوٹو اختیار کا استعمال کریں گے، اگر الیکشن ملتوی ہو گئے تو بلدیات کا نظام چلتا رہے گا اب بھی چل رہا ہے ،

    ایڈوکیٹ جنرل نے کہا کہ یہ قانون یا ترمیم ایگزیکیٹو آرڈر نہیں ہے سندھ اسمبلی نے قانون پاس کیا ہے ،جماعت اسلامی کے رکن سندھ اسمبلی نے اس قانون پر اعتراض نہیں کیا اور اسی جماعت کے حافظ نعیم امیر ہیں ،عدالت نے الیکشن نوٹفکیشن کی معطلی کی درخواست مسترد کردی ،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس پٹیشن پر جو فیصلہ ہوگا وہ میئر ، ڈپٹی میئر سمیت چیئرمین وائیس چیئرمین پر لاگو ہوگا،اگر پٹیشن منظور ہوئے تو جو غیر منتخب نمائندہ میئر ، ڈپٹی میئر ، چیئرمین اور وائیس ہوگا وہ ہٹ جائے گا، فی الوقت تمام امیدوار الیکشن میں حصہ لے سکتے ہیں ،مرتضیٰ وہاب اور دیگر نئے قانون کے تحت انتخابات میں حصہ لے سکیں گے،

    واضح رہے کہ جماعت اسلامی نے غیر منتخب افراد کو میئر اور چیئرمین بنانے کے نئے بلدیاتی قانون کو سندھ ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا، جماعت اسلامی کی جانب سے سندھ ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا کہ بلدیاتی انتخابات بلدیاتی ایکٹ 2013 کے تحت ہوئے، اسی قانون کے تحت منتخب نمائندوں نے حلف لیا غیر منتخب افراد کو میئر بنانے کیلئے نیا قانون بنایا گیا، مئیر منتخب نمائندوں میں سے ہونا چاہئے۔

    دوسری جانب امیر جماعت اسلامی کراچی اور میئر کے امیدوار حافظ نعیم نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسا انتخاب جس میں منتخب ارکان کو آنے ہی نہ دیا جائے وہ کالعدم ہونا چاہیے شہر کے 9 ٹاؤن ہم جیت چکے ہیں ہماری اکثریت ہے الیکشن کے بعد پیپلزپارٹی نے نتائج تبدیل کیے ہم نہیں چاہتے کہ عوام کے منتخب لوگ مفاد یا خرید و فروخت کے نتیجے میں الیکشن سے محروم ہوں میئر سب کا میئر ہو گا ،جماعت اسلامی اس پر یقین ہی نہیں رکھتی کہ انسانوں کو تقسیم کرکے ڈویلپمنٹ کریں، پیپلزپارٹی جس طرح لوگوں کو اغواء کررہی، مجھے بھی کرسکتی ہے

    سندھ ہائی کورٹ میں براہ راست میئر کے انتخاب کیلئے قانون سازی ،ایڈوکیٹ جنرل سندھ حسن اکبرکا کہنا ہے کہ سندھ ہائی کورٹ نے میئر الیکشن کے انتخاب کے خلاف جماعت اسلامی کے حافظ نعیم کی درخواست پر میئر کے انتخاب پر حکم امتناعی نہیں دی ، انتخاب شیڈول کے مطابق کل ہوگا،

    اپنی حفاظت کرنا سب کا فرض ہے حکومت بھی مدد کررہی ہے . وزیراعلیٰ سندھ

    سمندری طوفان کے پیش نظر کراچی ڈویژن کی 40 عمارتوں کو مکمل مخدوش قرار 

    سمندری طوفان ”بائے پرجوائے“ کے پیش نظربھارت کی سات ریاستوں میں الرٹ جاری
    سمندری طوفان ’’بائے پرجوائے‘‘ کا کراچی سے فاصلہ 850 کلومیٹر رہ گیا

     جوائے کے پیشِ نظر کراچی پورٹ پر الرٹ جاری

     پی آئی اے کی جانب سے حفاظتی انتظامات مکمل 

  • اگر کسی فیصلے میں غلطی ہے تو اس کو درست کیا جا سکتا ہے،چیف جسٹس

    اگر کسی فیصلے میں غلطی ہے تو اس کو درست کیا جا سکتا ہے،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ ،ریویو آف ججمنٹس اینڈ آرڈرز ایکٹ کے خلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی،جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر بینچ میں شامل تھے،
    پی ٹی آئی وکیل علی ظفر نے دلائل شروع کئے، وکیل علی ظفر نے 1962 کے عدالتی ایکٹ کا حوالہ دیا،جس پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہہت اچھا فیصلہ ہے یہ ریویو سے متعلق تھا، بیرسٹر علی ظفر نے عدالت میں کہا کہ فیصلے میں کہا گیا کہ عدالت کو اپنا پرانا فیصلہ ری اوپن کرنے میں بہت ہچکچاہٹ اور احتیاط برتنی چاہیے ،فیصلے میں سپریم کورٹ کے فیصلوں کے حتمی ہونے کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فیصلے میں وزڈم ہے وہ قانونی عمل کو حتمی بنانے کی بات کر رہے ہیں، آپ کی جانب سے اب تک تین پوائنٹ اٹھائے گئے ہیں، علی ظفرنے کہا کہ مقدمات کے حتمی ہونے کا تصور بڑا واضح ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مقدمات کا حتمی ہونا، درستگی اور اپیل کا تصور اہم ہے، ہمارا قانون کہتا ہے کہ اگر کسی فیصلے میں غلطی ہے تو اس کو درست کیا جا سکتا ہے ، علی ظفر نے کہا کہ فیصلہ قانون اور حقائق کے برخلاف ہوگا تو ہی درست کیا جا سکتا ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سماعت دانشمندی ہے جو قانونی عمل کو حتمی بنانے کی بات کر رہے ہیں،عدالت دیکھ رہی ہے کہ کیا پارلیمنٹ قانون کے ذریعے نظر ثانی کو بڑھا سکتی ہے، آپ کی دلیل ہے کہ نظر ثانی کو اپیل میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا، دوبارہ سماعت کا تصور اپیل کا ہے، علی ظفرنے کہا کہ آرٹیکل 184/3 حتمی احکامات کے لیے بنایا گیا ہے،جب 184/3 کی شرائط پوری ہو رہی ہوں تو عدالت حکم جاری کرتی ہے، اگر کسی کو آرٹیکل 184/3 میں اپیل کا حق دیا جائے تو یہ ازخود نوٹس کے اختیارات کم کرنے کے مترادف ہے ،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ کیا پارلیمنٹ نظرثانی قانون کو وسیع کرسکتی ہے،آئین میں نظرثانی کے دائرہ اختیارکوبالکل واضح لکھا گیا ہے،وکیل نے کہا کہ میرا کیس ہی یہی ہے کہ ریویو آف ججمنٹ اینڈ آرڈر ایکٹ خلاف آئین ہے،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فوجداری ریویو میں صرف نقص دور کیا جاتا ہے جبکہ سول میں اسکوپ بڑا ہے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نظرثانی کے آئینی تقاضے ہیں مگر اسے اپیل میں نہیں بدلا جاسکتا،اگر نظرثانی میں اپیل کا حق دینا ہے تو آئینی ترمیم درکار ہوگی،نظرثانی کیس میں صرف نقائص کاجائزہ لیا جاتا ہے نئے شواہد بھی پیش نہیں ہوسکتے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ازخود نوٹس کی نظر ثانی تک اس قانون کو محدود کر دیا گیا ہے، علی ظفر نے کہا کہ یہ قانون الیکشن کمیشن کی نظر ثانی پر اپلائی نہیں ہوتا، جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ یہ قانون پچھلے فیصلوں پر اپلائی ہو اور مستقبل کے کیسز پر بھی لیکن پنجاب الیکشن کیس پر نہ ہو، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئین دائرہ اختیار میں کمی کی اجازت دیتا ہے لیکن یہ آئینی ترمیم کے زریعے ہونا چاہیے ،جسٹس منیب اخترنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ازخود نوٹس کے ذریعے ریویو کا حق دیا گیا ہے اس کا مطلب ہے کہ آئین اختیارات میں کمی کی اجازت تو دے رہا ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نظر ثانی کے لیے عدالتی فیصلوں میں غلطیوں کی نشان دہی کرنا ہوتی ہے ، کیا آئین سازوں کو نظر ثانی اور اپیل کا فرق معلوم تھا، وکیل علی ظفر نے کہا کہ پارلیمان سب کچھ کر سکتی ہے لیکن آئینی ترمیم کے ذریعے، قانون سازی کے ذریعے نہیں ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نظر ثانی میں سماعت کا حق اور غلط قانون قرار دیا جا سکتا ہے لیکن اپیل نہیں بنایا جا سکتا ،

    سپریم کورٹ ریویو آف ججمنٹس اینڈ آرڈرز ایکٹ کیس ،علی ظفر کے دلائل مکمل ہو گئے، سماعت کل تک ملتوی کر دی گئی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل کو کل سنیں گے،

    سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کے وکیل سجیل سواتی کی استدعا منظور کرلی

    سردار تنویر الیاس کی نااہلی ، غفلت ، غیر سنجیدگی اور ناتجربہ کاری کھل کر سامنے آگئی 

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

  • نومئی کے واقعات،صابر شاکر، معید پیر زادہ پر مقدمہ درج

    نومئی کے واقعات،صابر شاکر، معید پیر زادہ پر مقدمہ درج

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد نو مئی کو ملک بھر میں ہنگامہ آرائی ہوئی، جلا وگھیراؤ کیا گیا، فوجی تنصیبات پر حملے کئے گئے، اس حوالہ سے تحقیقات جاری ہیں، مقدممے درج ہوئے ہیں، شرپسند عناصر کی گرفتاریاں جاری ہیں ایسے میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں اینکرصابرشاکر، معید حسن پیرزادہ، سید اکبرحسین کیخلاف مقدمہ درج کر لیا گیا مقدمہ تھانہ آبپارہ میں انسداددہشت گردی اوربغاوت کی دفعات کےتحت درج کیا گیا۔مقدمہ شہری ماجد محمود کی درخواست پرتھانہ آبپارہ میں درج کیاگیاہے

    درج مقدمہ کے متن میں کہا گیا ہے کہ 9 مئی کوملوڈی میں مشتعل افرادبراہ راست ملزمان سے ویڈیوکے ذریعے ہدایات لے رہے تھے ملزمان نے ویڈیو پیغامات اور سوشل میڈیا کے ذریعے سادہ لوح لوگوں کو اکسایا، عسکری تنصیبات پرحملہ کرکے ملک میں بغاوت اور انتشارپھیلانا چاہ رہے تھے،ملزمان منظم سازش کے ذریعےغیر ملکی اور دشمن ایجنسیوں کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں، پاک فوج کو بدنام کر رہے ہیں،فوج کے اندر بغاوت اور انکے حلف سے رو گردانی کروانا چاہتے ہیں،اس طرح پاک فوج کو کمزور کر کے ملک کے اندر دہشت گردی کو پروان چڑھانا چاہتے ہیں، بغاوت و خانہ جنگی کروانا چاہتے ہیں ملزمان کے خلاف سخت قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے،

    عادل راجہ کو بڑی رقم پہنچ گئی، پٹھان فلم سے تعلق

    پاکستان مخالف بیانیہ؛ میجر (ر) عادل راجہ کی پنشن مکمل طور پر روک دی گئی

     پاک فوج کے بھگوڑے عادل راجہ کے بارے میں اصلیت قوم کو بتائی

    جی ایچ کیو حملے میں پی ٹی آئی خواتین رہنماوں کا کردار,تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے آئی ہے،

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    جناح ہاؤس میں سب سے پہلے داخل ہونے والا دہشتگرد عمران محبوب اسلام آباد سے گرفتار 

  • بغاوت پر اکسانے کا کیس،فواد چوہدری زاتی حیثیت میں طلب

    بغاوت پر اکسانے کا کیس،فواد چوہدری زاتی حیثیت میں طلب

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد ،فواد چوہدری کے خلاف بغاوت پر اکسانے کا کیس کی سماعت ہوئی

    عدالت نے فواد چوہدری کو 17 جون کو زاتی حیثیت میں طلب کر لیا،عدالت نے ملزم کی عدم حاضری پر دوبارہ طلبی کے نوٹس جاری کر دیئے ،عدالت نے ملزم فواد چوہدری کے اسلام آباد اور لاہور والے گھر سے سمن کی تعمیل کروانے کی ہدایت کی،عدالت نے فواد چوہدری اور ضامن کو سمن پر تعمیلی رپورٹ 17 جون کو طلب کر لی ،عدالت نے پولیس اہلکار پر برہمی کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ تعمیل رپورٹ ایسے کروائی جاتی ہے،جج طاہر عباس سپرا نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تعمیلی رپورٹ پر دستخط کروائے جاتے ہیں،شناختی کارڈ نمبر لکھا جاتا ہے،ایک گواہ رکھا جاتا ہے ،

    عدالت نے اہلکار سے استفسار کیا کہ جونیئر کو آپ ایسے سیکھائیں گے،پولیس اہلکار نے کہا کہ ملزم کے نمبر پر کال کی نمبر بند تھا،عدالت نے پولیس اہلکار کو دوبارہ ملزم کے نمبر پر کال کرنے کی ہدایت کی، عدالتی حکم پر تعمیلی اہلکار نے ملزم کے موبائل نمبر پر دوبارہ کال کی ،عدالت نے ملزم کے لاہور اور اسلام آباد والے گھر پر دوبارہ سمن جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر تعمیلی رپورٹ طلب کر لی ،عدالت نے کیس کی سماعت 17 جون تک ملتوی کر دی،

    واضح رہے کہ فواد چودھری تحریک انصاف کو چھوڑ چکے ہیں، گرفتار ہونے کے بعد انکی رہائی ہوئی تو فواد نے ویڈیو پیغام میں تحریک انصاف چھوڑنے کا اعلان کیا، بعد میں انہوں نے نئی بننے والی سیاسی جماعت استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا، فواد چودھری استحکام پاکستان پارٹی کی لانچنگ کی تقریب میں منہ چھپا کر بیٹھے رہے، اس دن فواد کی منہ چھپانے کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی تھی،

    قصور کے بعد تلہ گنگ میں جنسی سیکنڈل. امام مسجد کی مدرسہ پڑھنے والی بچیوں کی ساتھ زیادتی

    سوشل میڈیا چیٹ سے روکنے پر بیوی نے کیا خلع کا دعویٰ دائر، شوہر نے بھی لگایا گھناؤنا الزام

    سابق اہلیہ کی غیراخلاقی تصاویر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے والے ملزم پر کب ہو گی فردجرم عائد؟

    ‏سوشل میڈیا پرغلط خبریں پھیلانا اورانکو بلاتصدیق فارورڈ کرنا جرم ہے، آصف اقبال سائبر ونگ ایف آئی اے

    سوشل میڈیا پر جعلی آئی ڈیز کے ذریعے لڑکی بن کر لوگوں کو پھنسانے والا گرفتار

  • ہم عمران ریاض کی زندگی کے لیے دعاگو ہیں، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ

    ہم عمران ریاض کی زندگی کے لیے دعاگو ہیں، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ

    لاہور ہائیکورٹ ،یوٹیوبرعمران ریاض بازیابی کیس کی سماعت ہوئی

    عدالت نے عمران ریاض کو بازیاب کرنے کے لئے پولیس کو دس روز کی مزید مہلت دے دی ،آئی جی پنجاب سمیت دیگر افسران عدالت کے روبرو پیش ہوئے ،وکیل میاں علی اشفاق نے کہا کہ ہم ورکنگ کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے ہیں آئی جی پنجاب نے یقین دہانی کروائی ہے کہ ہم کوششیں کررہے ہیں،چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا آپ ورکنگ کمیٹی کی کاوش سے مطمئن ہیں ،وکیل عمران ریاض نے کہا کہ ہمیں عمران ریاض کی بازیابی درکار ہے اس کے لیے آئی جی پنجاب سمیت اسکی ٹیم کام کررہی ہے ،وکیل عمران ریاض عبداللہ ملک نے عدالت میں کہا کہ ہم امید کرتے ہیں پولیس جلد عمران ریاض کو بازیاب کرائے گی۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم عمران ریاض کی زندگی کے لیے دعاگو بھی ہیں اور کوشش بھی کر رہے ہیں

    درخواست میں حکومت پنجاب سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے ، درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ عمران ریاض خان صحافی اور سینئر اینکر پرسن ہیں عمران ریاض خان نے اپنے پروگراموں میں حکومتی پالیسیوں پر تنقید کی تنقید کرنے پر اور عمران خان کی گرفتاری کے بعد عمران ریاض خان کو گرفتار کرلیا گیا پولیس اور ایف آئی اے حکام نے غیر قانونی طور پر عمران ریاض خان کو گرفتار کیا عدالت عمران ریاض خان کو فوری بازیاب کراکے رہا کرنے کا حکم دے عدالت عمران ریاض خان کیخلاف درج مقدمات کی تفصیلات فراہم کرنے کا حکم دے

    عمران ریاض ہمیں مطلوب نہیں تھا 

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

     لیگل ٹیم پولیس لائن گئی تو انہیں عدالت جانے سے روک دیا گیا

    نواز شریف کو سزا سنانے والے جج محمد بشیر کی عدالت میں عمران خان کی پیشی 

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

     بشریٰ بی بی کی گرفتاری کے بھی امکانات

  • ارشد شریف قتل کیس،عمران خان سے تحقیقات کی استدعا مسترد

    ارشد شریف قتل کیس،عمران خان سے تحقیقات کی استدعا مسترد

    سپریم کورٹ ،ارشد شریف کی قتل ازخود نوٹس کیس کی گزشتہ سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری کر دیا گیا

    سپریم کورٹ کی جانب سے تحریری حکمنامہ میں کہا گیا کہ اٹارنی جنرل پاکستان نے دو رپورٹس کا حوالہ دیا، خصوصی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی طرف سے عبوری تحقیقاتی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی ،دوسری رپورٹ میں وزارت خارجہ کی طرف سے اب تک اقدامات کے بارے میں بتایا گیا، اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ کینیا اور متحدہ عرب امارات کی حکومتیں حکومت پاکستان کے ساتھ باہمی قانونی معاونت کے معاہدوں پر بات چیت کے عمل میں ہیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ اس طرح کے معاہدوں پر عملدرآمد میں کچھ وقت لگے گا،ارشد شریف کی دوسری اہلیہ کے وکیل نے عدالت کو اقوام متحدہ کے نمائندوں اور اقوام متحدہ کی ان کمیٹیوں کا حوالہ دیا جو دنیا بھر میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات میں شامل ہیں، ارشد شریف کی والدہ کے وکیل شوکت عزیز صدیقی نے دو متفرق دائر درخواستوں کا حوالہ دیا، جس میں انہوں نے بعض افراد کے نام بتائے ہیں جن کو ان کے بیٹے کے قتل میں ملوث سازشیوں اور مجرموں کے بارے میں علم ہے،

    تحریری حکمنامہ میں کہا گیا کہ ارشد شریف کی والدہ کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ جے آئی ٹی کو مذکورہ افراد کی جانچ کرنے کی ہدایت دی جائے،متفرق درخواستوں پر غور کرنے کے بعد والدہ کے وکیل کی استدعا قابل قبول نہیں ہے،سوموٹو میں عدالت ارشد شریف کے قتل کی تحقیقات میں محض سہولت فراہم کر رہی ہے، اس کیس پر مذید سماعت جولائی 2023 میں دوبارہ کی جائے گی،

    ارشد شریف قتل کیس کی سماعت جولائی کے پہلے ہفتے تک ملتوی کر دی گئی،عدالت نے حکومت سے کینیا کیساتھ باہمی قانونی معاہدے پر پیشرفت رپورٹ طلب کر لی

    واضح رہے کہ ارشد شریف کی والدہ نے سپریم کورٹ میں ایک متفرق درخواست دائر کی ہے جس میں ارشد شریف کی والدہ نے عمران خان ،فیصل واڈا ،سلمان اقبال ،مراد سعید ،عمران ریاض کو شامل تفتیش کرنے کیلئے استدعا کی، ارشد شریف کی والدہ کی درخواست میں کہا گیا کہ ارشد شریف کے قتل سے متعلق ان تمام افراد سے شواہد حاصل کئے جائیں ،والدہ ارشد شریف نے متفرق درخواست سپریم کورٹ میں جمع کروا دی

    خیال رہے کہ 23 اکتوبر کو نیروبی مگاڈی ہائی وے پر شناخت میں غلطی پر پولیس نے ارشد شریف کو سر پر گولی مار کر ہلاک کردیا تھا تاہم ارشد شریف کے قتل کیس کی تحقیقات جاری ہیں جس میں کینیا پولیس کے مؤقف میں تضاد پایا گیا ہے، ارشد شریف قتل کیس پر سپریم کورٹ نے نوٹس لیا تھا،،پی ایف یو جے نے چیف جسٹس سے معاملے پر ازخود نوٹس کی اپیل کی تھی،پی ایف یو جے نے سپریم کورٹ کے حاضر سروس جج کی سربراہی میں کمیشن بنانے کی استدعا کی تھی، خط مین کہا گیا کہ ارشد شریف کے قتل سے صحافی برادری گہرے صدمے میں ہیں،پوری قوم ارشد شریف قتل سے جڑے سوالات کے جوابات چاہتی ہے، ارشد شریف کی فیملی اور صحافی برداری کو عدالت عظمیٰ پر اعتماد ہے،سپریم کورٹ صحافی برداری اور ارشد شریف کی فیملی کو انصاف فراہم کرے،

    ارشد شریف قتل کیس میں اسپیشل جے آئی ٹی رپورٹ مسترد

    ارشد شریف قتل کیس، رپورٹ میں ایسا کیا ہے جو سپریم کورٹ میں جمع نہیں کرائی جا رہی؟ سپریم کورٹ

     ارشد شریف کا لیپ ٹاپ ، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے قریبی ساتھی کے پاس ہے