Baaghi TV

Tag: عدالت

  • نو مئی اور 26 نومبر کے واقعات کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل انکوائری چاہتے ہیں، اسد قیصر

    نو مئی اور 26 نومبر کے واقعات کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل انکوائری چاہتے ہیں، اسد قیصر

    پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے کہا ہے کہ ہماری جدوجہد آئین اور قانون کی بالادستی کیلئے ہے، ہم آزاد عدلیہ چاہتے ہیں،

    میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے اسد قیصر کا کہنا تھا کہ کل مذاکراتی کمیٹی کا اجلاس ہوا، تین مطالبات سامنے رکھے،غیر قانونی کام بند کئے جائیں، جیلوں میں بند ورکر، عمران خان کو رہا کیا جائے، رہائی کا مطلب یہ نہیں کہ ہم رعایت مانگ رہے ہیں، انہوں نے انتقاما کیس بنائے کوئی قانونی حیثیت نہیں،سیاسی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا، نو مئی اور 26 نومبر کے واقعات کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل انکوائری چاہتے ہیں،اتنے کیسز بنائے گئے ہیں کہ اہم مقدمات کی اہمیت ختم ہوگئی ہیں،پارلیمنٹرین پر دھشتگردی، قتل اور غداری کے مقدمات درج کیے گئے ہیں، سویلین کا ملٹری کورٹ میں فیصلے پر مایوسی ہوئی،پرامن احتجاج ہر شہری کا حق ہے، پاکستان تحریک انصاف کے کسی کارکن ایک گملہ تک نہیں توڑا، ہم اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، قانون کی حکمرانی ہونی چاہئے، پارلیمنٹ کے پاس اختیارات ہونی چاہئے، ہم آزاد عدلیہ چاہتے ہیں،ہم نے اپنا مؤقف حکومت کے سامنے رکھا ہے، آگے بڑھنا ہے، ملک کی معاشی صورتحال، امن و امان کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے ہم ملک کو بحران سے نکالنا چاہتے ہیں،ملٹری کورٹس میں سویلینز کے ٹرائل پر ہمیں شدید تشویش ہے، سپریم کورٹ کے فیصلے پر بھی ہمیں شدید مایوسی ہے کہ اگر سپریم کورٹ ہی آئین کے خلاف چلی جائے تو پھر عام لوگ کہاں جائیں،

    قبل ازیں اسد قیصر کو پشاور ہائی کورٹ سے 30 جنوری تک راہداری ضمانت مل گئی ہے

    صنم جاوید کو لاہور ہائیکورٹ نے دیا جھٹکا

    سری لنکا کے مرکزی بینک کا بھارتی بینک پر جرمانہ

  • صنم جاوید کو لاہور ہائیکورٹ نے دیا جھٹکا

    صنم جاوید کو لاہور ہائیکورٹ نے دیا جھٹکا

    لاہور ہائیکورٹ میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی سوشل ایکٹوسٹ صنم جاوید کی درخواست پر سماعت ہوئی، جس میں انہوں نے اپنے نام کو پاسپورٹ کنٹرول لسٹ (پی سی ایل) سے نکالنے کی استدعا کی۔ درخواست کی سماعت جسٹس فاروق حیدر نے کی۔

    عدالت نے رجسٹرار آفس کا اعتراض برقرار رکھتے ہوئے کہا کہ درخواست گزار کو پہلے متعلقہ فورم پر رجوع کرنا چاہیے تھا۔ رجسٹرار آفس نے اعتراض عائد کیا تھا کہ درخواست گزار نے براہ راست ہائیکورٹ سے رجوع کیا، حالانکہ اس نوعیت کے معاملات میں متعلقہ فورم سے پہلے درخواست دائر کرنی چاہیے تھی۔عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ صنم جاوید کو پہلے متعلقہ فورم پر درخواست دائر کرنی ہوگی، اور اگر وہاں شنوائی نہیں ہوتی تو وہ پھر ہائیکورٹ سے رجوع کر سکتی ہیں۔

    صنم جاوید کی درخواست میں وفاقی حکومت سمیت دیگر متعلقہ اداروں کو فریق بنایا گیا ہے۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ درخواست گزار کو سیاسی بنیادوں پر مقدمات میں ملوث کیا گیا ہے اور صرف الزامات کی بنیاد پر کسی شخص کا نام پی سی ایل میں شامل نہیں کیا جا سکتا۔ درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ حکومت نے بلا جواز صنم جاوید کا نام پی سی ایل میں شامل کر دیا ہے، جو ان کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ ان کا نام پی سی ایل سے نکالنے کا حکم دیا جائے تاکہ وہ بیرون ملک سفر کر سکیں اور اپنی زندگی معمول کے مطابق گزار سکیں۔

    عدالت نے کیس کی مزید سماعت کے لئے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ پہلے متعلقہ فورم سے رجوع کریں اور اگر وہاں پر کوئی شنوائی نہیں ہوتی تو دوبارہ ہائیکورٹ سے رجوع کر سکتی ہیں۔

    سری لنکا کے مرکزی بینک کا بھارتی بینک پر جرمانہ

    مرد استاد کو "حاملہ” ہونے پر سکول سے ملی چھٹی

  • گرفتاری کا خدشہ،خدیجہ شاہ کی اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست

    گرفتاری کا خدشہ،خدیجہ شاہ کی اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست

    اسلام آباد ہائیکورٹ: خدیجہ شاہ نے اپنے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات کے حصول کیلئے درخواست دائر کر دی

    خدیجہ شاہ نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا کہ فریقین کو اسلام آباد میں درج مقدمات کی تفصیلات فراہم کرنے کا حکم دیا جائے،9 مئی مقدمات میں شامل کیا گیا، ایک سال جیل میں رہی پھر ضمانت منظور ہوئی، مستند ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ مجھے مزید خفیہ مقدمات میں نامزد کیا گیا ہے، عدالت گرفتاری سے روک کر متعلقہ عدالتوں سے رجوع کرنے کی اجازت دے،فریقین کو درخواست گزار اور اُسکی فیملی کو ہراساں کرنے سے روکا جائے، درخواست میں سیکرٹری داخلہ، آئی جی پولیس اور ڈی جی ایف آئی اے کو فریق بنایا گیا ہے

    عمران خان کے سیل کا دورہ نہیں کرنے دیا گیا،خدیجہ شاہ کا چیف جسٹس کو خط

    پشاور ہائیکورٹ،شبلی فراز،زرتاج گل،خدیجہ شاہ و دیگر کی ضمانت منظور

    جیل ریفارمز،چیف جسٹس نے آمنہ قادر،احدچیمہ،خدیجہ شاہ پر مشتمل کمیٹی قائم کر دی

  • 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کا فیصلہ 6 جنوری تک مؤخر

    190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کا فیصلہ 6 جنوری تک مؤخر

    اسلام آباد احتساب عدالت ،190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کیس ،بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کے خلاف محفوظ شدہ فیصلہ نہ سنایا جا سکا

    سماعت احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے کی ،وکیل خالد چوہدری نے کہا کہ ہم توقع کر رہے ہیں آج فیصلہ آئیگا،جج احتساب عدالت نے کہا کہ فیصلہ تو آج نہیں آئیگا،چھٹیاں آرہی ہیں اور ہائیکورٹ کا کورس بھی ہے،دس منٹ تک تاریخ معلوم کر لیجئے گا، احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے دلائل سننے کے بعد 18 دسمبر کو سینٹرل جیل اڈیالہ میں فیصلہ محفوظ کیا تھاجو آج سنایا جانا تھا تاہم آج نہیں سنایا گیا

    بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کے خلاف 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کے فیصلے کا معاملہ ، 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کا فیصلہ 6 جنوری تک مؤخر کر دیا ،کیس کی سماعت احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے کی،بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی جانب سے وکیل خالد یوسف چوہدری ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے،نیب کے پراسیکیوٹر سہیل عارف عدالت میں پیش ہوئے،عدالت نے کچھ دیر بعد محفوظ فیصلے کی نئی تاریخ مقرر کر دی، احتساب عدالت 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس پر 6 جنوری کو اڈیالہ جیل میں فیصلہ سنائے گی،احتساب عدالت نے 18 دسمبر کو 190 ملین پائونڈ ریفرنس پر فیصلہ محفوظ کیا تھا،عدالت نے پہلے 23 دسمبر کو 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کا فیصلہ سنانے کی تاریخ مقرر کی تھی

    یہ ریفرنس تقریباً ایک سال قبل دائر کیا گیا تھا اور اس دوران قومی احتساب بیورو (نیب) نے 35 گواہان کے بیانات ریکارڈ کرائے۔ ان گواہان میں اہم شخصیات شامل ہیں جیسے کہ سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان، سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک، اور سابق وفاقی وزیر زبیدہ جلال، جنہوں نے اس کیس میں اپنے بیانات ریکارڈ کرائے۔190 ملین پاؤنڈ ریفرنس میں گزشتہ سال 27 فروری کو فرد جرم عائد کی گئی تھی۔نیب نے اس مقدمے کی تحقیقات کے دوران اس بات کو ثابت کرنے کی کوشش کی کہ ملزمان نے اپنے مالی اثاثے چھپانے کی کوشش کی تھی اور انہوں نے غیر قانونی ذرائع سے دولت حاصل کی تھی۔ بانی پی ٹی آئی کے وکلا نے گواہان پر جرح کی اور ان کے بیانات کو چیلنج کیا۔

    190 ملین پاؤنڈ کیس ،نیب نےعمران خان اور دیگر ملزمان کے خلاف ریفرنس دائرکیا تھا،ریفرنس میں چیئرمین پی ٹی آئی کے علاوہ بشری بی بی، فرح گوگی، شہزاد اکبر اور دیگر شامل ہیں،ملزمان میں زلفی بخاری، بیرسٹر ضیاء اللہ مصطفٰی نسم ،ملک ریاض اور علی ریاض شامل ہیں، نیب راولپنڈی کی جانب سے دائر ریفرنس میں کل 8 ملزمان کے نام شامل ہیں،ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل سردار مظفر عباسی نے تفتیشی افسر میاں عمر ندیم کے ہمراہ ریفرنس دائر کیا

    واضح رہے کہ نیب نے 23 نومبر کو عمران خان کو القادر ٹرسٹ کیس میں گرفتار کیا تھا، نیب نے عمران خان سے جیل میں تحقیقا ت کی ہیں

    قومی احتساب بیورو (نیب) کے مطابق ملک کے معروف بزنس ٹائیکون نے سابق وزیرِاعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ کو القادر ٹرسٹ یونیورسٹی کے لیے جہلم میں 458کنال 4 مرلے اور 58 مربع فٹ زمین عطیہ کی جس کے بدلے میں مبینہ طور پر عمران خان نے بزنس ٹائیکون کو 50 ارب روپے کا فائدہ پہنچایا تھا۔ اکتوبر 2022 میں نیب نے تحقیقات شروع کردی تھی۔ نیب دستاویزات کے مطابق 3 دسمبر 2019ء کو عمران خان کی زیرِ صدارت کابینہ اجلاس میں بزنس ٹائیکون کو برطانیہ سے ملنے والی 50 ارب روپے کی رقم بالواسطہ طور پر واپس منتقل کرنے کا فیصلہ ہوا تھا۔ رقم این سی اے کی جانب سے پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض سے منی لانڈرنگ کے الزامات پر ضبط کی گئی تھی۔

    عمران خان نے ریئل اسٹیٹ ڈویلپر کے حوالے سے کابینہ کے فیصلے کے چند ہفتوں کے اندر القادر یونیورسٹی پروجیکٹ کے لیے ٹرسٹ رجسٹر کیا تھا جو بعد میں یونیورسٹی کے لیے ڈونر بن گیا۔ نیب کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق ٹرسٹ کی رجسٹریشن سے صرف 3 ہفتے پہلے عمران خان کی کابینہ نے نیشنل کرائم ایجنسی کے ذریعے پاکستان کو ملنے والی رقم واپس ملک ریاض کو بالواسطہ طور پر واپس کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔نیب راولپنڈی نے اس معاملے میں کرپشن اور کرپٹ پریکٹسز کا نوٹس لیتے ہوئے نیب آرڈیننس 1999 کے تحت پرویز خٹک، فواد چوہدری اور شیخ رشید سمیت 3 دسمبر 2019 کی کابینہ اجلاس میں موجود تمام ارکان کو علیحدہ علیحدہ تاریخوں پر طلب کیا تھا۔2019 میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) نے بزنس ٹائیکون کے خلاف تحقیقات کیں اور پھر تحقیقات کے نتیجے میں بزنس ٹائیکون نے تصفیے کے تحت 190 ملین پاؤنڈ کی رقم این سی اے کو جمع کروائی۔ اس تصفیے کے نتیجے میں حاصل ہونے والی 190 ملین پاؤنڈز کی رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت ہے جسے پاکستان منتقل کردیا گیا۔

    تاہم پاکستان میں پہنچنے پر کابینہ کے فیصلے کے تحت رقم قومی خزانے کے بجائے سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ تک پہنچی جس میں بزنس ٹائیکون کراچی کے مقدمے میں سپریم کورٹ کو 460 ارب روپے کی تصفیے کے ذریعے قسطوں میں ادائیگی کر رہے ہیں۔ نیب کے مطابق ملزم سے ضبط شدہ رقم واپس اسی کو مل گئی جبکہ یہ رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت تھی مگر اسے ملک ریاض کے ذاتی قرض کو پورا کرنے میں خرچ کیا گیا۔2019 میں عمران خان کی سربراہی میں کابینہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا اور معاملے کو حساس قرار دے کر اس حوالے سے ریکارڈ کو بھی سیل کردیا گیا تھا۔

    190 ملین پاؤنڈ ریفرنس،عمران ،بشریٰ پیش،وکیل صفائی کو ملاجرح کا آخری موقع

    190ملین پاؤنڈز ریفرنس،حتمی فیصلہ دینے سے روکنے کے آرڈر میں توسیع

    190ملین پاؤنڈ کیس زلفی بخاری کی جائیداد ریفرنس سے منسلک کرنے کے احکامات

    190 ملین پاؤنڈ کیس، سپریم کورٹ فیصلے کے بعد عمران نے رعایت مانگ لی

    190 ملین پاؤنڈ کیس،عمران کے گلے کا پھندہ،واضح ثبوت،بچنا ناممکن

    190 ملین پاؤنڈز کیس،اصل الزام ملک ریاض فیملی کی حد تک وہ اشتہاری ہیں ،سلمان اکرم راجہ

    190ملین پاؤنڈز کیس،کتنے گھروں کا چولہا چل سکتا تھالیکن عمران خان نے کیا کیا؟

    190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل،اعظم خان کا عدالت میں دیابیان سامنے آ گیا

  • فوجی عدالتوں سے 9 مئی کے مجرمان کوسزائیں، تحریک انصاف کا رد عمل

    فوجی عدالتوں سے 9 مئی کے مجرمان کوسزائیں، تحریک انصاف کا رد عمل

    فوجی عدالتوں سے 9 مئی کے مجرمان کوسزائی، تحریک انصاف کا رد عمل سامنے آیا ہے

    قائد حزب اختلاف عمر ایوب خان نے کہا ہے کہ سویلینز کے خلاف ملٹری کورٹس کے سزاوں کا فیصلہ مسترد کرتے ہیں،فوجی عدالتوں کی جانب سے پی ٹی آئی کے زیر حراست افراد کے خلاف سنائی گئی سزائیں انصاف کے اصولوں کے منافی ہیں۔ زیر حراست افراد عام شہری ہیں اور ان پر فوجی عدالتوں میں مقدمہ نہیں چلایا جا سکتا،فوجی عدالتیں قانونی طور پر ریاست کی عدالتی طاقت کی شراکت دار نہیں ہو سکتیں، مسلح افواج ریاست کے انتظامی اختیار کا حصہ ہیں ،ایسی عدالتوں کا قیام عام شہریوں سمیت عدلیہ کی آزادی کے خلاف ہے ،ایسے فیصلوں سے آئین کی بنیادی خصوصیت طاقت کی تقسیم کی نفی ہوئی ہے۔

    واضح رہے کہ سانحہ نومئی، فوجی عدالتوں سے بڑا فیصلہ آ گیا، عدالت نے 25 مجرموں کو سزا سنائی ہے،فوجی عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے 14 مجرموں کو دس سال قید بامشقت کی سزا سنائی ہے،ایک مجرم کو نو سال قید بامشقت، ایک مجرم کو سات سال قید،دو مجرموں کو چھ سال قید با مشقت ،دو مجرموں کو چار سال قید با مشقت ،ایک مجرم کو تین سال قید بامشقت،چار مجرموں کو دو برس قید بامشقت کی سزا سنائی گئی ہے،

    سانحہ9 مئی،سزایافتہ مجرمان کے اعترافی بیانات سامنے آگئے

    آخر کار ڈیڑھ سال بعد ریاست کو انصاف ملنے کی امید جاگی،جاوید لطیف

    واضح ہو گیا کہ نو مئی کا ماسٹر مائند بانی چیئرمین پی ٹی آئی تھا ،عطا تارڑ

    نومئی کے مجرموں کو سزا،منصوبہ سازبھی بچ نہ پائیں

  • پولیو ورکرز پر حملہ  کیس میں تمام ملزمان کی ضمانت منظور

    پولیو ورکرز پر حملہ کیس میں تمام ملزمان کی ضمانت منظور

    جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کراچی کی عدالت نے پولیو ورکرز کی ٹیم پر حملے کے مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے تمام ملزمان کی ضمانت منظور کر لی ہے۔ عدالت نے ملزمان کو 10، 10 ہزار روپے کے عوض ضمانت فراہم کی، جبکہ پولیس کی جسمانی ریمانڈ کی استدعا کو مسترد کر دیا۔

    عدالت میں سماعت کے دوران پولیس نے 4 خواتین سمیت 6 ملزمان کو پیش کیا۔ ملزمان کے خلاف انسدادِ پولیو ٹیم پر حملے کی پاداش میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ ملزمان کے خلاف درج مقدمے کی دفعات قابلِ ضمانت ہیں، اس لیے ضمانت دی جاتی ہے۔پولیس حکام نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان نے پولیو ٹیم کو بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے سے منع کیا تھا، جس پر خواتین نے غصے میں آ کر پولیو ورکرز پر حملہ کر دیا۔ پولیس کے مطابق، حملے کے دوران ملزمان نے پولیس اہلکاروں کی وردیاں بھی پھاڑ دیں۔

    پولیس حکام نے مزید بتایا کہ واقعہ 19 دسمبر 2024 کو کراچی کے علاقے کورنگی میں پیش آیا، جب انسدادِ پولیو کی ٹیم بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کے لیے پہنچی۔ وہاں موجود فیملی نے بچوں کو قطرے پلانے سے انکار کیا اور پولیو ٹیم پر حملہ کر دیا۔ ملزمان نے بیلچوں سے پولیو ٹیم کو مارا، جس کے نتیجے میں انسدادِ پولیو ٹیم کے 2 ورکرز اور 2 پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔پولیس نے اس واقعے میں ملوث 6 افراد کو گرفتار کیا، جن میں 4 خواتین شامل ہیں، جن کے نام ثمینہ، ماہ جبین، آمنہ، اقراء، عمران اور سفیان ہیں۔ پولیس نے اس حوالے سے کورنگی تھانے میں مقدمہ درج کیا ہے اور تفتیش جاری ہے۔

    عدالت نے تفتیشی افسر سے 14 دنوں کے اندر کیس کا چالان پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ ملزمان کی ضمانت منظور ہونے کے باوجود کیس کی تحقیقات مکمل کرنے کا عمل جاری رہے گا۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل، پولیو ورکرز اور ٹیموں پر مختلف علاقوں میں حملے ہو چکے ہیں، جس کی وجہ سے انسدادِ پولیو مہم میں مشکلات کا سامنا ہے۔ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے پولیو ورکرز کی حفاظت کے لیے اقدامات کر رہے ہیں تاکہ اس اہم مہم کو کامیابی سے مکمل کیا جا سکے۔

    ڈیرہ غازی خان:پولیو فری پاکستان کے لیے حکومت، عوام اور میڈیا متحد ہیں: عظمیٰ کاردار

    کراچی میں انسداد پولیو ٹیم پر حملہ،پولیس اہلکاروں کے کپڑے پھاڑ دیئے،چھ گرفتار

    سیالکوٹ:انسداد پولیو مہم میں 7 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے گئے

  • جی ایچ کیو حملہ کیس، زین قریشی سمیت مزید 3 ملزمان پر فرد جرم عائد

    جی ایچ کیو حملہ کیس، زین قریشی سمیت مزید 3 ملزمان پر فرد جرم عائد

    9 مئی جی ایچ کیو حملہ کیس،مزید تین ملزمان پر فرد جرم عائد کر دی گئی.

    فرد جرم زین قریشی،راجہ ناصر محفوظ،راجہ شہباز پر عائد کی گئی،زین قریشی پیش نہ ہوئے وکیل کے ذریعے فرد جرم عائد ہوئی،جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے کی،دورانِ سماعت اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر نوید ملک اور ظہیر شاہ عدالت میں پیش ہوئے، پی ٹی آئی کے وکیل فیصل ملک اور فیصل چوہدری بھی عدالت میں پیش ہوئے۔عمران خان کو عدالت میں پیش کیا گیا، ملزم زین قریشی عدالت پیش نہیں ہوئے،سماعت کے دوران مزید 3 ملزمان زین قریشی، راجہ ناصر محفوظ اور راجہ شہباز ٹائیگر پر فردِ جرم عائد کر دی ہے،جی ایچ کیو حملہ کیس میں مزید 3 ملزمان پر فردِ جرم عائد ہونے کے بعد مجموعی طور پر 116 ملزمان پر فرد جرم عائد ہو گئی،پراسیکیوشن نے ملزمان بلال، اعجاز، عاصم اور شہیر سکندر کے شناختی کارڈ بلاک کرنے کی استدعا کر دی،عدالت نے سی سی ٹی وی کے حصول کے لئے عمران خان اور فواد کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا، بعد ازاں عدالت نے جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت 24 دسمبر تک ملتوی کر دی۔

    جی ایچ کیو حملہ کیس،عمران خان و دیگرکی بریت درخواستیں خارج

    جی ایچ کیو حملہ کیس، شیخ رشید کی بریت کی درخواست مسترد،فیصلہ جاری

    جی ایچ کیو حملہ کیس، گنڈا پور ،قریشی،شبلی فراز سمیت مزید 14 ملزمان پر فردجرم عائد

    جی ایچ کیو حملہ کیس، مزید 9 ملزمان پر فرد جرم

  • سانحہ9 مئی،سزایافتہ مجرمان کے اعترافی بیانات سامنے آگئے

    سانحہ9 مئی،سزایافتہ مجرمان کے اعترافی بیانات سامنے آگئے

    پاکستان کی فوجی عدالت کی جانب سے سانحہ 9 مئی کے 25 مجرموں کو سزائیں سنا دی گئی ہیں۔ یہ سزائیں فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کے فیصلے کے تحت دی گئیں، جس میں تمام شواہد کی جانچ پڑتال اور قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد یہ فیصلہ سنایا گیا۔

    ترجمان پاک فوج کی جانب سے جاری بیان کے مطابق، سزائیں سننے کے بعد تمام ملزمان کو ان کے قانونی حقوق کی فراہمی کے لیے تمام قانونی تقاضے پورے کیے گئے ہیں۔ مجرموں کو ان کے حقوق دینے کے لیے قانونی عمل کی ہر سطح پر پابندی کی گئی، جس سے ان کے حقوق کی پامالی کا کوئی سوال نہیں اٹھتا۔

    سانحہ 9 مئی میں ملوث ملزمان نے اپنے اعترافی بیانات میں اہم انکشافات کیے ہیں۔ ان بیانات میں انہوں نے عمران خان کی فوج مخالف تقریروں اور دیگر پارٹی رہنماؤں کی جانب سے اکسانے کی مذمت کی اور ان عوامل کو 9 مئی کے واقعات کے پیچھے ذمے دار ٹھہرایا۔مجرموں کے مطابق، عمران خان اور ان کے دیگر پارٹی رہنماؤں کی جانب سے فوجی اداروں اور ملک کی افواج کے بارے میں کی جانے والی اشتعال انگیز تقاریر نے حالات کو بگاڑ دیا اور عوامی سطح پر عدم استحکام کی صورت پیدا کی۔ ان رہنماؤں کی جانب سے کی جانے والی باتوں نے لوگوں کو اُکسانے اور پرتشدد کارروائیوں کے لیے آمادہ کیا، جو بالآخر 9 مئی کے سانحے کا سبب بنیں۔ 9 مئی کا سانحہ نہ صرف پاکستان کی تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے، بلکہ یہ ایک یاد دہانی بھی ہے کہ سیاسی اور فوجی اداروں میں ہم آہنگی اور ایک دوسرے کا احترام قوم کی ترقی اور استحکام کے لیے ضروری ہے۔

    نومئی، سزا یافتہ مجرمان کے اعترافی بیانات

    جناح ہاؤس حملے میں ملوث پی ٹی آئی کے شرپسند جان محمد خان کو 10 سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی ہے۔ اپنے اقرار جرم میں مجرم جان محمد خان نے اعتراف کیا کہ وہ جناح ہاؤس پر حملے میں ملوث تھا اور اس نے ملٹری یونیفارم کی شرٹ پہن کر ویڈیو بنائی اور پھرشرٹ کو جلا دیا۔

    پی ٹی آئی شدت پسند شان علی کو بھی 10 سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی ہے۔ مجرم علی شان نے اقرار جرم میں کہا کہ عمران خان کی آرمی مخالف تقاریر سے میری ذہن سازی ہوئی۔ جب عمران خان کی گرفتاری ہوئی تو سیاسی رہنماؤں کے ورغلانے پر میں نے جناح ہاؤس پر حملہ کیا۔میں نے جناح ہاؤس میں جا کر توڑ پھوڑ کی۔

    پی ٹی آئی کے شرپسند بابر جمال خان کو ایم ایم عالم بیس میانوالی پر حملے میں 10 سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی ہے۔ مجرم بابر جمال خان نے اپنے اعترافی بیان میں بتایا کہ میں میانوالی بیس پر حملے میں ملوث تھا اور میں اپنا جرم قبول کرتا ہوں۔

    پی ٹی آئی شر پسند داؤد خان کو جناح ہاؤس حملے میں 10 سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی ہے، مجرم داؤد خان نے بھی اپنے اعتراف جرم میں بتایا کہ میں نے یاسمین راشد اور حسان نیازی کے اُکسانے پر جناح ہاؤس پر حملہ کیا۔ تقاریر کے ذریعے ہمارے ذہنوں میں فوج کیخلاف نفرت پیدا کی گئی، میں اپنا جرم قبول کرتا ہوں ۔

    پی ٹی آئی کے ایک اور شرپسند محمد حاشر کو 6 سال قید با مشقت کی سزا سنائی گئی ہے، جس نے اپنے اعترافی بیان میں بتایا کہ میں نے 9 مئی کو جناح ہاؤس پر حملہ کیا اور انقلاب کے نام پر لوگوں کو اکسایا اور ویڈیوز بنائیں۔ جناح ہاؤس پر حملے کی منصوبہ بندی پہلے سرزمین پارک میں یاسمین راشد کی قیادت میں کی گئی۔

    مجرم فہیم حیدر کو بھی 6 سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی، جس نے اپنے اعترافی بیان میں کہا کہ پی ٹی آئی قیادت نے جناح ہاؤس حملے کے لیے میری ذہن سازی کی۔

    مجرم محمد عاشق خان کو 4 سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی، جس نے اپنے بیان میں اعتراف کیا کہ 9 مئی کو ہمیں پی ٹی آئی قیادت کی جانب سے جناح ہاؤس پر حملے کے لیے اکسایا گیا۔ میں جناح ہاؤس میں داخلے ہوا اور وہاں کے سامان کو اٹھا کر ویڈیو بنوائی۔ ہمیں زمان پارک میں فوج کیخلاف حملے کے لیے ٹریننگ ملتی رہی۔

    مجرم محمد بلاول کو 2 سال قید با مشقت کی سزا سنائی گئی، جس نے اپنے اعترافی بیان میں بتایا کہ ‘9 مئی کو پی ٹی آئی قیادت کے اکسانے پر میں نے جناح ہاؤس حملے میں حصہ لیا اور توڑ پھوڑ کی۔ پی ٹی آئی قیادت بشمول ڈاکٹر یاسمین راشد کی تقاریر سے میری ذہن سازی ہوئی۔

    آخر کار ڈیڑھ سال بعد ریاست کو انصاف ملنے کی امید جاگی،جاوید لطیف

    عمران خان کی رہائی کے لئے ٹویٹ کرنے والا رچرڈ گرنیل کا اکاؤنٹ جعلی

    واضح ہو گیا کہ نو مئی کا ماسٹر مائند بانی چیئرمین پی ٹی آئی تھا ،عطا تارڑ

    نومئی کے مجرموں کو سزا،منصوبہ سازبھی بچ نہ پائیں

    سزائیں پلان پر عمل کرنے والوں کو،منصوبہ سازوں کی بھی جلد باری آئے گی،خواجہ آصف

    سانحہ نومئی،14 مجرموں کو 10 سال قید،25 سزا یافتہ مجرموں کی تفصیل

    سانحہ نو مئی، فوجی عدالتوں کابڑا فیصلہ، 25 مجرمان کو سزا سنا دی

  • آخر کار ڈیڑھ سال بعد ریاست کو انصاف ملنے کی امید جاگی،جاوید لطیف

    آخر کار ڈیڑھ سال بعد ریاست کو انصاف ملنے کی امید جاگی،جاوید لطیف

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما جاوید لطیف نے کہا ہے کہ آخر کار ڈیڑھ سال بعد ریاست کو انصاف ملنے کی امید جاگی ہے، مگر ریاست کو مکمل انصاف تب ملے گا جب 9 مئی کے ماسٹر مائنڈ اور منصوبہ سازوں کو قانون کے مطابق سخت سزائیں دی جائیں گی۔

    جاوید لطیف کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے اس سنگین واقعے کے بعد وہ تمام افراد جو اس منصوبے میں ملوث تھے، انہیں کسی قسم کی رعایت نہیں ملنی چاہیے۔جاوید لطیف نے 9 مئی کے واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک منظم سازش تھی جس میں متعدد افراد نے نہ صرف ملک کی جڑوں کو ہلا دیا بلکہ ریاست کی طاقت کو بھی چیلنج کیا۔ "ان دہشت گردوں کے ساتھ مذاکرات کی بجائے، ان کے ساتھ وہی سلوک ہونا چاہیے جو دہشت گردوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔” انہوں نے واضح کیا کہ دہشت گردی کے واقعات میں ملوث افراد کو کبھی بھی نرم رویہ نہیں اپنانا چاہیے، چاہے وہ کسی بھی جماعت یا ادارے سے تعلق رکھتے ہوں۔

    جاوید لطیف نے مزید کہا کہ "ریاست نے آخرکار فیصلہ کیا ہے کہ ان عناصر کو کٹہرے میں لایا جائے گا، اور یہ اقدام ریاست کے استحکام اور عوام کی حفاظت کے لیے انتہائی ضروری ہے۔” جاوید لطیف نے کہا کہ پاکستان کے عوام کو انصاف ملنے تک حکومت اپنی تمام تر طاقت اور وسائل کو اس معاملے میں استعمال کرے گی۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ ریاست کو مضبوط کرنے کے لیے ہر سطح پر قانون کی بالادستی ضروری ہے اور قانون کی نظر میں کوئی بھی فرد یا گروہ بالاتر نہیں ہو سکتا۔ "یہ وقت ہے کہ ہم اپنی تمام توانائیاں ملک کی تقدیر کو بہتر بنانے میں صرف کریں، اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ کوئی بھی ملک کے دشمنوں کے خلاف سازش کرنے میں کامیاب نہ ہو۔”

    عمران خان کی رہائی کے لئے ٹویٹ کرنے والا رچرڈ گرنیل کا اکاؤنٹ جعلی

    واضح ہو گیا کہ نو مئی کا ماسٹر مائند بانی چیئرمین پی ٹی آئی تھا ،عطا تارڑ

    نومئی کے مجرموں کو سزا،منصوبہ سازبھی بچ نہ پائیں

    سزائیں پلان پر عمل کرنے والوں کو،منصوبہ سازوں کی بھی جلد باری آئے گی،خواجہ آصف

    سانحہ نومئی،14 مجرموں کو 10 سال قید،25 سزا یافتہ مجرموں کی تفصیل

    سانحہ نو مئی، فوجی عدالتوں کابڑا فیصلہ، 25 مجرمان کو سزا سنا دی

  • جج آئین کی حفاظت، اس کا دفاع کرنے کا حلف لیتا ہے،جسٹس منصور کا ایک اور خط

    جج آئین کی حفاظت، اس کا دفاع کرنے کا حلف لیتا ہے،جسٹس منصور کا ایک اور خط

    جوڈیشل کمیشن اجلاس سے پہلے سپریم کورٹ کے جسٹس منصور علی شاہ کا ایک اور خط آ گیا

    جسٹس منصور علی شاہ نے سیکرٹری جوڈیشل کمیشن کو خط لکھ دیا،خط میں کہا گیا کہ رولز میں آئینی بنچ کیلئے ججز کی تعیناتی کا مکینزم ہونا چاہئے،آئینی بنچ میں کتنے ججز ہوں اس کا مکینزم بنانا بھی ضروری ہے،آئینی بنچ میں ججز کی شمولیت کا پیمانہ طے ہونا چاہیے، کس جج نے آئینی تشریح والے کتنے فیصلے لکھے یہ ایک پیمانہ ہو سکتا ہے،کمیشن بغیر پیمانہ طے کئے سپریم کورٹ اور سندھ ہائیکورٹ میں آئینی بنچ تشکیل دے چکا،

    جسٹس منصور نے ججز تعیناتی سے متعلق رولز پر مجموعی رائے بھی دے دی،جسٹس منصور نے جج تعیناتی میں انٹیلجنس ایجنسی سے رپورٹ لینے کی مخالفت کر دی اور کہا کہ انٹیلجنس ایجنسی کو کردار دیا گیا تو اس کا غلط استعمال ہو سکتا ہے، جوڈیشل کمیشن میں پہلے ہی اکثریت ایگزیکٹو کی ہے، چھبیسویں ترمیم سے متعلق اپنی پوزیشن واضح کرچکا ہوں،پہلے فل کورٹ بنا کر چھبیسیویں ترمیم کا جائزہ لینا چاہیے، رولزپر میری رائے اس ترمیم اور کمیشن کی آئینی حیثیت طے ہونے سے مشروط ہے، جج آئین کی حفاظت اور اس کا دفاع کرنے کا حلف لیتا ہے، ججز تعیناتی کے رولز بھی اسی حلف کے عکاس ہونے چاہییں،

    عدالتوں نے ہمیشہ موسمیاتی ایمرجنسی کے کیسز کو سنجیدہ لیا ،جسٹس منصور علی شاہ

    جسٹس جمال مندوخیل نے جسٹس منصور علی شاہ کو جوابی خط لکھ دیا

    خطاب کے دوران جسٹس منصور علی شاہ کا آئینی بینچ میں نہ ہونے کا تذکرہ