Baaghi TV

Tag: عدالت

  • منی لانڈرنگ کیس، مونس الہیٰ کی اہلیہ کی عدالت طلبی

    منی لانڈرنگ کیس، مونس الہیٰ کی اہلیہ کی عدالت طلبی

    لاہور کی اسپیشل کورٹ سینٹرل میں منی لانڈرنگ کے مقدمے کی سماعت ہوئی جس میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور سابق وزیرِ اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہٰی کے بیٹے راسخ الہٰی اور دیگر افراد کے خلاف تحقیقات جاری ہیں۔ اس دوران عدالت نے پی ٹی آئی کے رہنما مونس الہٰی کی اہلیہ کو بھی کیس میں طلب کر لیا۔

    سماعت کے دوران مونس الہٰی کی اہلیہ کی طرف سے ایک درخواست دائر کی گئی، جس میں کہا گیا تھا کہ ان خواتین کو مقدمے کی پیشیوں سے مستقل طور پر استثنیٰ دیا جائے۔ وکیل نے مؤقف اپنایا کہ ایف آئی اے نے سیاسی بنیادوں پر یہ مقدمہ درج کیا ہے اور ان خواتین کو بھی اس میں نامزد کر دیا ہے، حالانکہ تحقیقات میں ان کے خلاف ابھی تک کوئی جرم ثابت نہیں ہو سکا۔عدالت نے اس درخواست پر اپنا مؤقف بیان کرتے ہوئے کہا کہ پہلے ایک یا دو سماعتوں میں ان خواتین کو عدالت میں پیش ہونا پڑے گا، جس کے بعد عدالت درخواست پر غور کرے گی اور ممکنہ طور پر خواتین کو مقدمے کی پیشیوں سے استثنیٰ دے دیا جائے گا۔

    سابق وزیرِ اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہٰی کے بیٹے راسخ الہٰی اور دیگر کے خلاف منی لانڈرنگ کے مقدمے کی مزید سماعت 6 جنوری 2024 کو ہوگی، جس میں عدالت مزید دلائل سن کر فیصلہ کرے گی۔

    یہ مقدمہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی جانب سے درج کیا گیا ہے، جس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ چوہدری پرویز الہٰی اور ان کے اہل خانہ نے مبینہ طور پر غیر قانونی طریقے سے مالیاتی سرگرمیاں کیں اور منی لانڈرنگ کی۔ اس کیس کی سیاسی نوعیت بھی زیر بحث ہے اور اپوزیشن جماعتیں اسے سیاسی انتقام کے طور پر دیکھتی ہیں۔

    منی لانڈرنگ کیس میں پی ٹی آئی کے رہنما مونس الہٰی کی اہلیہ کو عدالت نے طلب کر لیا ہے، اور خواتین کی پیشی سے استثنیٰ کی درخواست پر فیصلہ آئندہ سماعت تک مؤخر کر دیا گیا ہے۔ کیس کی تحقیقات اور سماعت 6 جنوری 2024 کو دوبارہ ہوں گی۔

  • سپریم کورٹ،صحافیوں کو ہراساں کرنے کے خلاف ازخود نوٹس کیس،سماعت ملتوی

    سپریم کورٹ،صحافیوں کو ہراساں کرنے کے خلاف ازخود نوٹس کیس،سماعت ملتوی

    سپریم کورٹ میں صحافیوں کو ہراساں کرنے کے خلاف ازخود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی

    جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سات رکنی آئینی بینچ نے کیس کی سماعت کی ،وکیل سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن صلاح الدین نے کہا کہ تین سال ہو گئے ہیں اس کیس میں کوئی پیشرفت سامنے نہیں آئی، مقدمہ ابھی بھی چلانا چاہتے ہیں،صحافی مطیع اللہ جان نے کہا کہ ہراسمنٹ اب بھی جاری ہے جھوٹے مقدمے بنانے کا سلسلہ جاری ہے، جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ جو کیسز پہلے تھے وہ چھوڑ دیں اب بھی یہ کہہ رہے ہیں کہ ہراسمنٹ کا سامنا ہے اسکو دیکھ لیتے ہیں، وکیل صلاح الدین نے کہا کہ ایف آئی اے انکوائری کے لئے نوٹسز بھیجتی ہے پھر صحافیوں کو اٹھاتی ہے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر قانون کی خلاف ورزی نہیں ہوئی تو ہراسمنٹ نہیں ہونی چاہیے،صدر پریس ایسوسی ایشن آف سپریم کورٹ عقیل افضل نے کہا کہ ہمارے کورٹ رپورٹر قمر میکن ان کے گھر پولیس نے چھاپہ مارا ہے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اس معاملے پر بھی دیکھ لیتے ہیں،عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو معاملہ پر آئی جی اسلام آباد سے بات کر کے آئندہ سماعت پر عدالت کو آگاہ کرنے کی ہدایت کر دی، کیس کی مزید سماعت ملتوی کر دی گئی

    ارشد شریف کے قتل سے قبل عمران خان کو بڑی کارروائی کا علم تھا،فیصل واوڈا

    ارشد شریف قتل کیس،نوازشریف،مریم کیخلاف سکاٹ لینڈ یارڈ میں کیس بند

    ارشد شریف کیس ،اسلام آباد ہائیکورٹ کاکمیشن بنانے کا عندیہ

    ارشد شریف کیس پر کینیا ہائیکورٹ کا فیصلہ، پی ٹی آئی سازشی تھیوریوں کی موت

    اسلام آباد ہائیکورٹ کاسیکرٹری داخلہ و خارجہ کو ارشد شریف کے اہلخانہ سے رابطے کا حکم

  • سپریم کورٹ،ارشد شریف قتل کیس،سماعت ملتوی

    سپریم کورٹ،ارشد شریف قتل کیس،سماعت ملتوی

    سپریم کورٹ،آئینی بینچ میں ارشد شریف قتل کیس کی سماعت ہوئی

    صحافی ارشد شریف قتل از خود نوٹس پر جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سات رکنی آئینی بنچ نے سماعت کی،وفاقی حکومت نے باہمی قانونی تعاون سے متعلق رپورٹ جمع کرانے کیلئے ملہت مانگ لی،حکومت کی استدعا منظور کرتے ہوئے عدالت نے سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ حکومت پاکستان کیساتھ کینیا حکومت کیساتھ ایم ایل اے کا معاہدہ تیار کرلیا ہے،کینیا کیساتھ ایم ایل اے کا معاہدہ پر کل دستخط ہو جائے گا،رپورٹ داخل نہیں کر سکا،عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیکر سماعت ملتوی کردی،جسٹس امین الدین جان سربراہی میں 7 رکنی آئینی بینچ نے سماعت کی

    ارشد شریف کو دو برس قبل کینیا میں گولیاں مار کر قتل کیا گیا تھا، کینیا کی حکومت کے مطابق یہ ایک مبینہ پولیس مقابلہ تھا جس میں ارشد شریف کی موت ہوئی،23 اکتوبر 2022 کو کینیا کے شہر نیروبی میں میگاڈی ہائی وے پر یہ واقعہ پیش آیا تھا جب پولیس نے ایک گاڑی پر گولیاں چلائیں، مرنیوالے کی شناخت ارشد شریف کے طور پر ہوئی،کینیا کی پولیس حکام میں اس کیس میں موقف کے حوالے سے تضاد نظر آیا.پولیس نے ابتدائی بیان میں کہا تھا کہ وہ ایک بچے کی بازیابی کے لئے موجود تھے ،مقامی تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ جس طرح گولیاں چلائی گئیں اس سے یہ نہیں لگتا کہ چلتی گاڑی پر گولیاں چلیں

    واقعے کے وقت ارشد شریف کی کار چلانے والے خرم کے مطابق وہ جائے وقوعہ سےآدھے گھنٹے کی مسافت پر ٹپاسی کے گاؤں تک گاڑی لے گئے تھے،قتل کیس میں ملوث کینیا پولیس کے پانچوں اہلکار بحال ہونے کے بعد ڈیوٹی پر واپس آگئے ہیں،

    پاکستان کی سپریم کورٹ نے ارشد شریف کے قتل پر ازخود نوٹس بھی لیا تھا تاہم کئی سماعتوں کے باوجود کیس کسی فیصلے پر نہ پہنچ سکا،

    ارشد شریف کے قتل سے قبل عمران خان کو بڑی کارروائی کا علم تھا،فیصل واوڈا

    ارشد شریف قتل کیس،نوازشریف،مریم کیخلاف سکاٹ لینڈ یارڈ میں کیس بند

    ارشد شریف کیس ،اسلام آباد ہائیکورٹ کاکمیشن بنانے کا عندیہ

    ارشد شریف کیس پر کینیا ہائیکورٹ کا فیصلہ، پی ٹی آئی سازشی تھیوریوں کی موت

    اسلام آباد ہائیکورٹ کاسیکرٹری داخلہ و خارجہ کو ارشد شریف کے اہلخانہ سے رابطے کا حکم

     ارشد شریف کا لیپ ٹاپ ، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے قریبی ساتھی کے پاس ہے

    ارشد شریف قتل کیس، رپورٹ میں ایسا کیا ہے جو سپریم کورٹ میں جمع نہیں کرائی جا رہی؟ سپریم کورٹ

    ارشد شریف قتل کیس،جے آئی ٹی کو تفتیش کے لئے مکمل تیار رہنا ہوگا،سپریم کورٹ

    کینیا کےٹی وی نے صحافی ارشد شریف کے قتل کی تحقیقاتی رپورٹ شائع کردی

    مرحوم صحافی ارشد شریف کی صاحبزادی نےاپنےوالد کی طرح صحافت کا آغاز کردیا

    ارشد شریف قتل کیس،عمران خان،واوڈا،مراد سعید کو شامل تفتیش کیا جائے،والدہ ارشد شریف

    ارشد شریف قتل کیس، کینیا کی عدالت کا ملزمان کیخلاف کاروائی کا حکم

  • سپریم کورٹ، رکن قومی اسمبلی عادل بازئی کی رکنیت بحال

    سپریم کورٹ، رکن قومی اسمبلی عادل بازئی کی رکنیت بحال

    سپریم کورٹ نے سنی اتحاد کونسل کے رکن قومی اسمبلی عادل بازئی کی رکنیت بحال کر دی

    جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے الیکشن کمیشن کا عادل بازئی کو ڈی سیٹ کرنے کا فیصلہ معطل کر دیا،عادل بازئی نے رکنیت معطلی کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی، الیکشن کمیشن نے عادل بازئی کی رکنیت ختم کر دی تھی،عدالت نے حکم امتناع دیتے ہوئے عادل بازئی کو بطور ایم این اے بحال کر دیا،عدالت نے الیکشن کمیشن سمیت تمام فریقین کو نوٹس جاری کردیا۔کیس کی سماعت 12 دسمبر تک ملتوی کر دی گئی

    عادل بازئی آزاد امیدوار منتخب ہونے کے بعد ن لیگ میں شامل ہوئے ،آرٹیکل 63 اے کے تحت عادل خان بازئی کی نشست خالی دینے کی درخواست دی تھی ،عادل خان بازئی کی نااہلی کا ریفرنس پارٹی صدر نواز شریف نے سپیکر کو بھجوایا تھا،عادل بازئی نے بجٹ سیشن کے دوران پارٹی ہدایت کی خلاف ورزی کی

    مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف نے آرٹیکل 63 اے کے تحت عادل بازئی کی نااہلی کے حوالے سے ایک ریفرنس اسپیکر قومی اسمبلی کو بھجوایا تھا۔ اس ریفرنس کے تحت قومی اسمبلی نے عادل بازئی کی نشست خالی قرار دینے کا مطالبہ کیا ہے، جس کے بعد یہ معاملہ الیکشن کمیشن کے سامنے پیش کیا گیا۔عادل بازئی نے آزاد حیثیت سے حلقہ این اے 262 سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہونے کے بعد مسلم لیگ (ن) میں شمولیت اختیار کی تھی اور پارٹی کی پالیسی کے تحت حلف نامہ جمع کرایا تھا۔ تاہم، انہوں نے حالیہ سیاسی حالات کے دوران پارٹی کی ہدایت کے خلاف 26 ویں آئینی ترمیم اور وفاقی بجٹ کے بارے میں ووٹ نہیں دیا، جس کی وجہ سے ان کی وفاداری پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے اس معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے پہلے ہی دو خطوط الیکشن کمیشن کو بھیجے تھے، جس میں عادل بازئی کی نااہلی کے حوالے سے شواہد پیش کیے گئے تھے۔

  • ڈاکٹرعافیہ کی رہائی اور وطن واپسی سے متعلق درخواست پر تحریری حکمنامہ جاری

    ڈاکٹرعافیہ کی رہائی اور وطن واپسی سے متعلق درخواست پر تحریری حکمنامہ جاری

    اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈاکٹرعافیہ کی صحت، رہائی اور وطن واپسی سے متعلق ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کی درخواست پر تحریری حکمنامہ جاری کردیا۔

    باغی ٹی وی : جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے ایک صفحہ پر مشتمل حکمنامہ جاری کیا جس کے مطابق وزارت خارجہ کے نمائندے نے عدالت کو بتایا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے امریکا جانے والے وفد کے اخراجات کی سمری منظور کر لی ہے،یہ امر انتہائی خوش آئند ہے-

    حکمنامے کے مطابق وفد کے ویزوں سے متعلق وزارت خارجہ کے نمائندہ نے بتایا کہ تمام کوششیں کی جا رہی ہیں، وزارت خارجہ نے ویزہ کی درخواستوں کے ساتھ پاسپورٹ گزشتہ جمعہ کو ہی جمع کرا دیئے تھے، وزارت خارجہ کو پوری امید ہے کہ ویزے مل جائیں گے وزار ت خارجہ اس مقصد کے لیے امریکی قونصل خانہ سےمسلسل رابطے میں ہےجبکہ ڈاکٹر فوزیہ صدیقی اور ڈاکٹر اقبال کے پاسپورٹ واپس نہیں لیے جا رہے ہیں۔

    حکمنامے کے مطابق امریکی وکیل اسمتھ کا تازہ ترین اعلامیہ وفد کے دورے کیلئے لاجسٹک اور اسی طرح کی مدد کی درخواست کرتا ہے، اسمتھ کی فرم نے لابنگ کی تھی اور وہ اس درخواست کو آگے بڑھائیں گے،کیس کی آئندہ سماعت 13 دسمبر کو مقرر کی گئی ہے۔

  • حکومت نے کہا تھاعمران کو رہا کردیا جائے گا،علیمہ خان کا دعویٰ

    حکومت نے کہا تھاعمران کو رہا کردیا جائے گا،علیمہ خان کا دعویٰ

    بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے عدالت پیشی کے موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج تین چار کیسز میں حاضری تھی جناح ہاؤس کا ٹرائل شروع نہیں ہو رہا پہلی بار تفتیشی نے کہا کہ شامل تفتیش ہو گئے ہیں

    علیمہ خان کا کہنا تھا کہ ہم ضمانت نہیں نو مئی کا ٹرائل شروع کروانے چاہتے ہیں لوگوں کی زندگیاں خراب کر رہے ہیں پراسیکیوٹر کے پاس شواہد موجود نہیں ہیں ٹرائل میں عدالت کو بھی شرمندگی ہو گئی کہ لوگوں کے ڈیڑھ سال ضائع کیے،ہمارے خلاف پانچ اکتوبر کے مقدمہ میں کردار کا پولیس کو پتہ نہیں تھا انصاف کے نظام کا تماشہ دیکھ رہے ہیں احتجاج کے لیے جب لوگ آنا شروع ہوئے حکومت نے خوفزدہ ہو کر بیرسٹر گوہر کو بلایا حکومت نے بیرسٹر گوہر کو کہا کہ سنگجانی بیٹھیں بانی پی ٹی آئی کو رہا کر دیں گے،حکومت نے دباؤ میں آکر بیرسٹر گوہر کو عمران خان سے ملاقات کے لیے جیل بھجوایا، حکومت نے کہا تھاعمران خان کو 20 دن کے اندر رہا کردیا جائے گا۔

    قبل ازیں انسداد دہشت گردی عدالت لاہور نو مئی جلاؤ گھیراؤ کے مقدمات کی سماعت ہوئی،بانی پی ٹی آئی کی بہنیں عظمی خان اور علیمہ خان سمیت دیگر کی عبوری ضمانتوں پر سماعت ہوئی، عدالت نے آئندہ سماعت پر وکلاء کو دلائل کے لیے طلب کرلیا عدالت نے شامل تفتیش نہ ہونے والے ملزمان کو شامل تفتیش ہونے کا حکم دے دیا،عدالت نے پی ٹی آئی رہنماؤں کی عبوری ضمانتوں میں 14 جنوری تک توسیع کردی

  • انٹرنیٹ سست روی،پشاور ہائیکورٹ نے کیا جواب طلب

    انٹرنیٹ سست روی،پشاور ہائیکورٹ نے کیا جواب طلب

    پشاور ہائیکورٹ نے ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس کی سست روی پر وزارت داخلہ اور وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) سے جواب طلب کر لیا ہے۔ یہ فیصلہ ایک درخواست کی سماعت کے دوران کیا گیا، جس میں انٹرنیٹ کی سست رفتاری کے باعث عوام کو درپیش مشکلات اور اس کے اقتصادی اثرات پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔

    پشاور ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ میں جسٹس وقار احمد اور جسٹس کامران حیات میاں خیل شامل تھے، جنہوں نے اس درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ملک میں انٹرنیٹ کی سست رفتار سے عوام کی روزمرہ زندگی متاثر ہو رہی ہے، جس کے نتیجے میں کاروباری سرگرمیاں بھی بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ انٹرنیٹ کی سست روی کے باعث ملک کی معیشت کو اربوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے، اور اس کا اثر ملک کے مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) پر بھی پڑ رہا ہے۔

    وکیل درخواست گزار نے بتایا کہ اکثر احتجاج یا کسی سیاسی معاملے کے دوران حکومت انٹرنیٹ سروس کو جان بوجھ کر سست کر دیتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت انٹرنیٹ کی سست روی کو تسلیم کرتی ہے اور بعض اوقات ایسے اقدامات کو عوامی تحفظ کے لیے ضروری قرار دیتی ہے، لیکن اس کے باوجود انٹرنیٹ کی اس سست رفتاری سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

    اس پر جسٹس وقار احمد نے سوال کیا کہ "آپ کا مطلب ہے کہ حکومت انٹرنیٹ کی سست رفتاری کو تسلیم نہیں کر رہی؟” جس پر وکیل نے جواب دیا کہ "جی ہاں، حکومت اکثر اوقات انٹرنیٹ سروس کو مخصوص حالات میں سست کرتی ہے، اور یہ پہلے سے عوام کو بتایا بھی جاتا ہے۔”

    عدالت نے اس معاملے کی مزید تفصیل جاننے کے لیے وزارت داخلہ اور وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کو آئندہ سماعت تک انٹرنیٹ کی سست رفتار کے حوالے سے جواب داخل کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے اس اہم مسئلے پر مزید تحقیقات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کیس کی اگلی سماعت کا وقت مقرر کردیا۔

    17 ملین سے زائد لائکس والی ٹک ٹاکر سومل کی بھی نازیبا ویڈیو لیک

    چھ ملین فالورز والی ٹک ٹاکر گل چاہت کی نازیبا ویڈیو بھی لیک

    ٹک ٹاکرز خواتین کی نازیبا ویڈیو لیک،کاروائی کیوں نہیں ہو رہی

    ٹک ٹاکر مسکان چانڈیو کی بھی نازیبا،برہنہ ویڈیو لیک

    مناہل اور امشا کےبعد متھیرا کی ویڈیولیک،کون کر رہا؟ حکومت خاموش تماشائی

    نازیبا ویڈیو لیک،وائرل ہونے پر متھیرا کا ردعمل آ گیا

    اب کون سی ٹک ٹاک گرل اپنی ویڈیوز لیک کرنے والی ، اور کیوں؟

    مناہل،امشا کے بعد متھیرا کی بھی برہنہ ویڈیو لیک،وائرل

  • 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس،بشریٰ‌پھر پیش نہ ہوئیں،وارنٹ گرفتاری برقرار

    190 ملین پاؤنڈ ریفرنس،بشریٰ‌پھر پیش نہ ہوئیں،وارنٹ گرفتاری برقرار

    اڈیالہ جیل میں 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس پر سماعت ہوئی،

    احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے سماعت کی ،بانی پی ٹی آئی کو کمرہ عدالت میں پیش کیا گیا ، بشری بی بی دوران سماعت عدالت میں پیش نہ ہوئیں ،نیب پراسکیوٹر نے کہا کہ یقین دہانی کروائی گئی تھی کہ آئندہ سماعت پر بشرا بی بی پیش ہوں گی اور 342 کے سوال نامہ کے جواب بھی ریکارڈ کروائے جائیں گے۔ وکیل عثمان گل نے کہاکہ بشری بی بی کے پلیڈر جیل کے باہر موجود ہیں انھیں عدالت آنے کی اجازت دی جائے ۔ نیب پراسکیوٹر نے کہا کہ بشری بی بی عدالت میں موجود ہوں گی تو ہی پلیڈر کی حاضری مارک ہو سکتی ہے ۔پانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کو 342 کے سوال نامے کے جواب کے لیے 12 مواقع دیے جا چکے ہیں،10 سماعتوں سے بانی پی ٹی آئی کے کونسل عدالت میں موجود نہیں جبکہ چھ سماعتوں سے بشری بی بی کے کونسل موجود نہیں تھے ،عدالت نے بشری بی بی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری برقرار رکھتے ہوئے کیس کی سماعت نو دسمبر تک ملتوی کر دی

    صوبائی کابینہ نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف شواہد کے تحت کارروائی کی اجازت دی

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

    جعلی ڈگری،جسٹس طارق جہانگیری کے خلاف ریفرنس دائر

    عمران خان کی 190 ملین پاؤنڈز کیس میں ضمانت منسوخی کی درخواست دائر

    نو مئی واقعات کی چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے سامنے مذمت کی تھی،عمران خان

  • مروت صاحب،آپکی پارٹی حکومت میں یہی دھندے کر رہی تھی،جسٹس ارباب محمد طاہر

    مروت صاحب،آپکی پارٹی حکومت میں یہی دھندے کر رہی تھی،جسٹس ارباب محمد طاہر

    پی ٹی آئی رہنما شیر افضل مروت کے خلاف درج کیسز کی تفصیلات فراہمی کے کیس کی سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ میں ہوئی۔

    اسلام آباد پولیس کی جانب سے شیر افضل مروت کے خلاف درج کیسز کی رپورٹ اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کرا دی گئی،ڈی ایس پی لیگل ساجد چیمہ نے کہا کہ جتنی بھی ایف آئی آرز ہیں وہ اس رپورٹ میں دے دی گئی ہیں۔جسٹس ارباب محمد طاہر نے ڈی ایس پی لیگل سے سوال کیا کہ آپ بتائیں رپورٹ میں کتنی ایف آئی آرز سیل ہیں، ڈی ایس پی صاحب آپ جائیں اور سیل ایف آئی آر کی نقل لے کر آئیں،شیر افضل مروت کے خلاف اسلام آباد میں درج مقدمات کی تعداد 15 ہوگئی ہے،

    دوران سماعت شیر افضل مروت نے عدالت میں کہا کہ آپ کے گزشتہ آرڈر کے باوجود مجھے پولیس گرفتار کرنے کے لیے عدالت پہنچ گئی،جسٹس ارباب محمد طاہر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مروت صاحب جس پارٹی سے آپ تعلق رکھتے ہیں جب وہ حکومت میں تھے وہ بھی یہ دھندے کر رہے تھے، ظلم اس وقت بھی ہو رہا تھا ظلم آج بھی ہو رہا ہے،

    شیر افضل مروت نے کہا کہ پنجاب پولیس کی جانب سے کوئی رپورٹ نہیں آئی، عدالت نے آئی جی پنجاب کو نوٹسز جاری کر دیے اور ڈی ایس پی لیگل کو سیل کی گئی ایف آئی آر کی نقول جمع کرانے کی ہدایت کی۔

    17 ملین سے زائد لائکس والی ٹک ٹاکر سومل کی بھی نازیبا ویڈیو لیک

    چھ ملین فالورز والی ٹک ٹاکر گل چاہت کی نازیبا ویڈیو بھی لیک

    ٹک ٹاکرز خواتین کی نازیبا ویڈیو لیک،کاروائی کیوں نہیں ہو رہی

    ٹک ٹاکر مسکان چانڈیو کی بھی نازیبا،برہنہ ویڈیو لیک

    مناہل اور امشا کےبعد متھیرا کی ویڈیولیک،کون کر رہا؟ حکومت خاموش تماشائی

    نازیبا ویڈیو لیک،وائرل ہونے پر متھیرا کا ردعمل آ گیا

    اب کون سی ٹک ٹاک گرل اپنی ویڈیوز لیک کرنے والی ، اور کیوں؟

    مناہل،امشا کے بعد متھیرا کی بھی برہنہ ویڈیو لیک،وائرل

  • شرجیل میمن کیخلاف ریفرنس چیئرمین نیب کو واپس

    شرجیل میمن کیخلاف ریفرنس چیئرمین نیب کو واپس

    سندھ کے صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن اور سابق اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی احتساب عدالت کراچی میں پیش ہوئے

    عدالت میں آغا سراج درانی و دیگر کے خلاف آمدن سے زائد اثاثے بنانے کے ریفرنس کی سماعت ہوئی، عدالت نے ریفرنس کے دائرہ اختیار سے متعلق درخواست پر فیصلہ مؤخر کر دیا اور سماعت بغیر کارروائی کے 7 جنوری تک ملتوی کر دی۔

    دوسری جانب احتساب عدالت نے سندھ کے سینئر صوبائی وزیر شرجیل میمن و دیگر کے خلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات کے ریفرنس کے دائرہ اختیار سے متعلق درخواست پر بھی فیصلہ سنا دیا،عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ شرجیل میمن و دیگر کے خلاف ریفرنس احتساب عدالت کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا،عدالت نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے آمدن سے زائد اثاثہ جات کا ریفرنس چیئرمین نیب کو واپس بھیج دیا، نیب نے شرجیل میمن و دیگر کے خلاف ریفرنس 2019ء میں بنایا تھا

    عمران خان کا دماغ ڈکٹیٹر والا ہے،شرجیل میمن
    عدالت پیشی کے موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ عدالتوں سے لڑنا نہیں چاہئے، عدالتوں کو متنازعہ نہیں بنانا چاہیے،ہمیشہ حق اور سچ، انصاف کے لئے کوشش کرنی چاہئے،ایک ڈکٹوریل مائنڈ سیٹ ہوتا ہے کہ ہر چیز آپ کے کہنے پر چلے، کل عمران خان عدالت سے اٹھ کر چلے گئے، اس طرح عدالتوں کو نہیں جھکا سکتے، ہم عدالتوں میں حاضر ہوئے، نو نو برس عدالت میں آتے رہے، پارٹی پر سختی تھی،ہم عدالتوں میں آتے رہے، ہم نے عدالتوں پر اعتماد کی،عمران خان کا یہ مائنڈ سیٹ ہے کہ جج بھی ، اسٹیبلشمنٹ اور سیاستدان، الیکشن کمیشن بھی انکے کہنے پر چلے تو کیا کیا جا سکتا ہے، چیف الیکشن کمشنر کو مقرر کرتے ہوئے عمران خان نے کہا تھا کہ اس سے بہتر آدمی کوئی نہیں لیکن جب سکندر سلطان نے بات نہ مانی تو اسے متنازعہ بنا دیا، عمران خان کا دماغ ڈکٹیٹر والا ہے، کل گورنر خیبر پختونخوا نے امن و امان کے حوالہ سے اے پی سی بلائی اس میں پی ٹی آئی نے شرکت نہیں کی حالانکہ وہاں انکی صوبائی حکومت ہے، امن و امان وہاں مخدوش ہے، مغرب کے بعد پولیس نظر نہیں آتی، پی ٹی آئی نے اے پی سی نہیں‌بلائی، پیپلز پارٹی نے بلائی لیکن پی ٹی آئی والے شریک نہ ہوئے، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی ملک میں انارکی ،افراتفری چاہتی ہے،