Baaghi TV

Tag: عدالت

  • عدالت نے ایف آئی اے کی ناقص پراسیکیوشن اور تفتیش پر سوالات اٹھا دیئے

    عدالت نے ایف آئی اے کی ناقص پراسیکیوشن اور تفتیش پر سوالات اٹھا دیئے

    وزیراعظم شہبازشریف اور حمزہ شہباز کی بریت کی درخواستوں پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا گیا

    اسپیشل سینٹرل کورٹ لاہور نے ایف آئی اے کی ناقص پراسیکیوشن اور تفتیش پر سوالات اٹھا دئیے ،جج اسپیشل سینٹر ل کورٹ اعجاز حسن اعوان نے تحریری فیصلے میں کہا کہ تفتیشی افسرنے اسلم زیب بٹ کے بیان پر اعتماد ہی نہیں کیا،جب پراسیکیوشن خود ہی گواہ پراعتماد نہیں کرتی تو قانون کی نظرمیں اس کی کوئی حیثیت نہیں،اسلم زیب بٹ نے بیان کہ اس نے سلمان شہباز کے کہنے پر 2 لاکھ 50 ہزار جمع کرایا، لمان شہبازکے کہنے پر مزید 10 لاکھ روپے جمع کرائے گئے، تفتیشی افسرنے بیان دیا کہ اسلم زیب نے حمزہ شہباز یا شہباز شریف کے خلاف کوئی بیان نہیں دیا،الزام تھا کہ ملزم مسرور انور نے شہباز شریف کیس برائے گلزار احمد کے اکاؤنٹس میں 4 بار ٹرانزیکشنز کیں،تفتیشی افسر اور پراسیکیوشن کو اس حوالے سے شواہد پیش کرنے کا موقع دیا گیا، تفتیشی افسر اور پراسیکیوشن ایسا کوئی شواہد پیش نہیں کر سکے جس سے الزمات ثابت ہوں،گواہ محمد توقیر نے بیان دیا کہ اسکا سی ایف او شریف ملزم محمد عثمان کے کہنے پر کھولا گیا تفتیشی افسر جوائنٹ اکاؤنٹ کی تفصیلات عدالت میں فراہم کرنے میں ناکام رہا،چالان میں لکھا گیا کہ ملک مقصود کا اکاؤنٹ رمضان شوگر ملز کے جنرل مینجرعشرت جمیل آپریٹ کرتے تھے،پراسیکیوشن نے کوئی دستاویزی یا زبانی شواہد فراہم نہں کیا،پراسیکیوشن نے ناں ہی اس سیاستدان کا نام بتایا اور ناں ہی ان کنٹریکٹر کے نام بتائے، کیس میں شہباز شریف اور حمزہ شہباز کو سزا کا امکان نہیں ہے،کیس میں شہباز شریف اور حمزہ شہباز پر فرد جرم عائد نہیں ہوسکتی،

    نواز شریف کو سرنڈر کرنا ہو گا، اگر ایسا نہ کیا تو پھر…عدالت کے اہم ریمارکس

    نواز شریف حاضر ہو، اسلام آباد ہائیکورٹ نے طلبی کی تاریخ دے دی

    نواز شریف کو فرار کروانے والے پروفیسر محمود ایاز کے نئے کارنامے،سنئے مبشر لقمان کی زبانی

    واضح رہے کہ گزشتہ روزعدالت نے منی لانڈرنگ کیس میں شہباز شریف اور حمزہ شریف کو بری کردیا ،وزیراعظم شہباز شریف اورحمزہ شہبازمبینہ منی لانڈرنگ کے مقدمے سے بری ہو گئے اسپیشل کورٹ سینٹرل کےجج اعجاز اعوان نے فیصلہ سنایا عدالت نے شہبازشریف اور حمزہ شہبازکی بریت کی درخواستیں منظور کر لیں

  • عمران خان کی غلط فہمی ہے کہ ان کے خلاف کارروائی نہیں ہوگی،سعد رفیق

    عمران خان کی غلط فہمی ہے کہ ان کے خلاف کارروائی نہیں ہوگی،سعد رفیق

    عدالت پیشی کے موقع پر وفاقی وزیر ریلوے و ہوا بازی خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ ہمارے خلاف بے بنیاد کیسز بنائے گئے ہم نے انتقامی سیاست کو برداشت کیا،

    خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ عمران خان نے پاکستان کو تنہا کرنے کی کوشش کی عمران خان لوگوں کو گمرا ہ کررہے ہیں،پی ٹی آئی میں شخصی آمریت ہے عمران خان کا اصول اورسچائی سے کوئی تعلق نہیں،عمران خان نے سازش کا بیانیہ بنانانے کی کوشش کی،عمران خان کی غلط فہمی ہے کہ ان کے خلاف کارروائی نہیں ہوگی، عمران خان کی ساری سیاست جھوٹ پر مبنی ہے،عمران خان کا اب بھی بس چلے تو اپنے مخالفین کو کچا کھا جائیں، عمران خان آڈیو کو ٹیسٹ کروائیں، دعوے نہ کریں صدر عارف علوی نے بھی کہہ دیا کہ کوئی سازش نہیں تھی،و

    احتساب عدالت لاہور،پیراگون ہاؤسنگ سوسائٹی ریفرنس کی سماعت ہوئی ،وفاقی وزیر سعد رفیق اور ن لیگی رہنما سلمان رفیق عدالت میں پیش ہو ئے،عدالت نے ملزمان کے وکیل سے متفرق درخواست پر جواب طلب کر لیا ،نیب کے دونوں گواہان عدالت پیش نہ ہونے پر عدالت نے اظہار برہمی کیا، عدالت نے سوال کیا کہ دوسرا گواہ ابھی تک کیوں نہیں آیا ؟ وکیل نے کہا کہ نیب کا جو گواہ موجود ہے ،اسکا بیان قلمبند کرائیں ،عدالت میں نیب کے گواہ قیصر امین بٹ کا بیان قلمبند کیا گیا، احتساب عدالت نے گواہ سے سوال کیا کہ کیا آپ پراپرٹی ڈیلر تھے ؟گواہ قیصر امین بٹ نے عدالت میں جواب دیا، نہیں میں پراپرٹی ڈیلر نہیں ، نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ پورا صفحہ ہی چھوڑ کر آگے سے بیان دے رہے ہیں گواہ اپنے بیان سے منحرف ہو رہا ہے ، خواجہ برادران ہمارے بزنس سے الگ ہو گئے ،پیراگون ہاؤسنگ سوسائٹی ریفرنس کی سماعت یکم نومبر تک ملتوی کر دی گئی

    واضح رہے کہ خواجہ برادران کو 17 مارچ کو سپریم کورٹ نے رہا کرنے کا حکم دیا تھا،خواجہ برادران پر فرد جرم عائد کی جا چکی ہے۔عدالت نے ریفرنس کے 3 ملزموں ندیم ضیاء، عمر ضیاء اور فرحان علی کو اشتہاری قرار دے رکھا ہے جنہوں نے پیراگون سوسائٹی میں سادہ لوح شہریوں سے 59 کروڑ کا فراڈ کیا ہے۔

    آپ نے بحث مکمل کرنی ہے یا باہر جانا ہے؟ عدالت کے استفسار پر خواجہ سعد رفیق نے کیا کہا؟

    لاہور کی احتساب عدالت نے 4 ستمبر کو مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی خواجہ سعد رفیق اور ان کے بھائی خواجہ سلمان رفیق کے خلاف پیراگون ہاؤسنگ سوسائٹی میں بے ضابطگیوں پر دائر ریفرنس میں فرد جرم عائد کی تھی۔ خواجہ سعد رفیق اور خواجہ سلمان رفیق نے صحت جرم سے انکار کیا تھا۔

    میں ملنے گئی تو زرداری وہیل چیئر سے اٹھے، پولیس نے کہا دفعہ ہو جاؤ، آصفہ بھٹو

    آصف زرداری کا طبی معائنہ، کونسی بیماری اور ڈاکٹر نے کیا تجویز کیاِ؟

  • نیب قانون میں حالیہ تبدیلی کے سبب ملزمان کو فائدہ بھی پہنچا، سپریم کورٹ

    نیب قانون میں حالیہ تبدیلی کے سبب ملزمان کو فائدہ بھی پہنچا، سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کیخلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت ہوئی

    وکیل نے کہا کہ نیب قانون میں تبدیلی سے بے نامی دار کی تعریف مشکل بنا دی گئی ہے، جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کس آئینی شق کو بنیاد بنا کر نیب قانون کو کالعدم قرار دیں؟ وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ معاملہ اہم سیاسی رہنماؤں کے کرپشن میں ملوث ہونے کا ہے، جہاں عوامی پیسے کا تعلق ہو وہ معاملہ بنیادی حقوق کے زمرے میں آتا ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ معاشی پالیسز کو دیکھنا سپریم کورٹ کا کام نہیں ہے، اگر کسی سے کوئی جرم ہوا ہے تو قانون میں شفاف ٹرائل کا طریقہ کارہے،وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ میں معاشی پالیسی کے الفاظ واپس لیتا ہوں،

    عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کہیں ایسا نہ ہو پورا کیس مکمل ہو جائے اور بعد میں پتہ چلے بنیادی حقوق کا تو سوال ہی نہیں تھا، جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ نیب ترامیم کے ذریعے کس بنیادی حق کی خلاف ورزی ہوئی ہے؟ فرض کریں پارلیمنٹ نے ایک حد مقرر کردی اتنی کرپشن ہوگی تو نیب دیکھے گا، سوال یہ ہے کہ عام شہری کے حقوق کیسے متاثر ہوئے ہیں؟ وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ نیب قانون سے زیر التوا مقدمات والوں کو فائدہ پہنچ رہا ہے، عدالت نے کہا کہ کیا کوئی ایسی عدالتی نظیر ہے جہاں شہری کی درخواست پر عدالت نے سابقہ قانون کو بحال کیا ہو،شہری کی درخواست پر عدالت پارلیمنٹ کا بنایا ہوا قانون کیسے کالعدم قرار دے سکتی ہے، وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ پبلک منی کا معاملے پر عدالت قانون سازی کالعدم قرار دے سکتی ہے،

    عدالت نے نیب سے 1999 سے لیکر جون 2022 تک تمام ہائی پروفائل کیسز کا ریکارڈ طلب کر لیا ،ابتک کتنے ایسے کرپشن کے کیسز ہیں جن میں سپریم کورٹ تک سزائیں برقرار رکھی گئیں، ریکارڈ طلب کر لیا گیا،اب تک نیب قانون کے تحت کتنے ریفرنسز مکمل ہوئے، تفصیلات طلب کر لی گئیں نیب قانون میں تبدیلی کے بعد کتنی تحقیقات مکمل ہوئیں تفصیلات طلب کر لی گئیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایف اے ٹی ایف نے ہمارے قوانین میں نقائص کی نشاندہی کی،قوانین میں بہتری کیلئے وہ معیار اپنانا ہوگا جو دنیا بھر میں اپنایا گیا ہے، کیا نیب ترامیم سے جان بوجھ کر قانون میں نقائص پیدا کیے گئے؟ کیا نیب ترامیم مخصوص طبقے کو فائدہ پہنچانے کیلئے کی گئی ہیں؟ اربوں روپے کرپشن کے 280 کیسز پہلے ہی واپس ہوچکے ہیں،

    جسٹس منصور علی شاہ نے خواجہ حارث سے سوال کیا،کیا آپ پارلیمان سے بدنیتی منصوب کر رہے ہیں؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے 1996 میں ایک کیس میں زندہ درخت کی مثال دی، زندہ درخت گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ بڑھے گا،پاکستان میں مختلف مافیاز ہیں، یہ مافیاز پرتشدد ہیں بھی اور نہیں بھی ہیں،میں کسی مافیا کا نام نہیں لینا چاہتا،دنیا میں جائیداد اور دولت پر ٹیکس لیا جاتا ہے، یہ سب وہ نکات ہیں جو سیاسی نوعیت کے ہیں اور پارلیمان نے طے کرنے ہیں، احتساب تندرست معاشرے اور تندرست ریاست کیلئے اہم ہے،کرپشن دنیا میں ہر جگہ موجود ہے،نیب ترامیم میں کچھ نقائص بھی موجود ہیں، نقص یہ بھی ہے کہ کچھ سرکاری ملازمین جیلیں کاٹ کر بری ہو چکے ہیں،کچھ کاروباری شخصیات بھی نیب سے مایوس ہوئیں،نیب ترامیم میں کچھ چیزیں بھی ہیں جن سے فائدہ ہوا ہم نے توازن قائم کرنا ہے، کچھ ایسی ترامیم بھی ہیں جو سنگین نوعیت کی بھی ہیں،نیب قانون میں حالیہ تبدیلی کے سبب ملزمان کو فائدہ بھی پہنچا، پلی بارگین اور پانچ سو ملین روپے کی حد مقرر کرنے سے ملزمان کو فائدہ ہوا،

    خواتین کو تعلیم سے روکنا جہالت،گزشتہ 7ماہ سے انتشار کا کوئی واقعہ نہیں ہوا،طاہر اشرفی

    کسی بھی مکتبہ فکر کو کافر نہیں قرار دیا جا سکتا ،علامہ طاہر اشرفی

    امریکا اپنی ہزیمت کا ملبہ ڈالنا چاہتا ہے تو پاکستان اس کا مقابلہ کرے،علامہ طاہر اشرفی

    وزیراعظم  نے مکہ میں دوران طواف 3 مرتبہ مجھے کیا کہا؟ طاہر اشرفی کا اہم انکشاف

    تحریک انصاف نے نئی نیب ترامیم کوچیلنج کردیا

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،فیصلہ کرنے میں کوئی عجلت نہیں کرینگے،چیف جسٹس

     سپریم کورٹ مقدمے کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرے گی

    اس سے تو یہ ثابت ہوا کہ پلی بارگین کے بعد بھی ملزم کا اعتراف جرم تصور نہیں ہو گا،چیف جسٹس

    واضح رہے کہ عمران خان نے موجودہ حکومت کی جانب سے نیب ترامیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے ،عدالت عظمیٰ میں دائر درخواست میں عمران خان نے استدعا کی تھی کہ سیکشن 14،15، 21، 23 میں ترامیم بھی آئین کے منافی ہیں۔ نیب قانون میں یہ ترامیم آئین کے آرٹیکل 9، 14، 19A, 24, 25 کے بنیادی حقوق کے برعکس ہیں، نیب قانون میں کی گئی ان تمام ترامیم کو کالعدم قرار دیا جائے۔

  • جاوید لطیف کو اسلام آباد ہائیکورٹ سے ریلیف نہ مل سکا

    جاوید لطیف کو اسلام آباد ہائیکورٹ سے ریلیف نہ مل سکا

    وفاقی وزیر میاں جاوید لطیف کے پریس کانفرنس کرنے پر دہشت گردی کا مقدمہ ،جاوید لطیف کو اسلام آباد ہائیکورٹ سے ریلیف نہ مل سکا

    وکیل نے کہا کہ پریس کانفرنس اسلام آباد میں ہوئی جاوید لطیف کے خلاف لاہور، پشاور مقدمہ درج ہوگیا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایف آئی آر لاہور میں درج ہوئی، لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کریں، ، وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ صحافیوں اور سرکاری افسران کے خلاف ایف آئی آر پر عدالت نے کاروائی سے روکا ہوا ہے ،سلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ وہاں نہ جائیں جہاں آپ کے لیے مشکلات ہوں، اسلام آبادہائیکورٹ لاہور کے تھانے کو نوٹس کیسے کرسکتی ہے؟ وکیل جاوید لطیف نے عدالت میں استدعا کی کہ عدالت ہدایات کے ساتھ درخواست نمٹا دے، عدالت نے جاوید لطیف کی درخواست ناقابل سماعت قرار دے کر واپس کردی

    آڈیو لیکس، معاملے کی تہہ تک نہ پہنچے تو معاملات اس سے زیادہ بگڑجائیں گے

    ہیکرز نے دعوی کیا ہے کہ اب مزید آڈیو جمعہ کو جاری کی جائیں گی

    عمران خان کا جھوٹا بیانیہ سب نے دیکھ لیا،آڈیو کے بعد بھی یوٹرن لے سکتے ہیں،عظمیٰ بخاری

     عمران خان جھوٹے بیانیے پر سیاست کر رہے ہیں،

     مریم نواز نے عمران خان پر کڑی تنقید 

  • ممنوعہ فنڈنگ کیس،ایف آئی اے قانون کے مطابق کاروائی کرے،عدالت کا حکم

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،ایف آئی اے قانون کے مطابق کاروائی کرے،عدالت کا حکم

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،ایف آئی اے قانون کے مطابق کاروائی کرے،عدالت کا حکم

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں پی ٹی آئی ممنوعہ فنڈنگ تحقیقات کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    ایف آئی اے انکوائری کے خلاف پی ٹی آئی کی درخواست پر ایف آئی اے کو نوٹس جاری کر دیا گیا،اسلام آباد ہائی کورٹ نے درخواست کو ممنوعہ فنڈنگ کیسز کے ساتھ منسلک کرنے کا حکم دے دیا،عدالت نے حکم دیا کہ ایف آئی اے قانون کے مطابق کاروائی کرے ،عدالت نے استفسار کیا کہ کیسز 19 اکتوبر کو سماعت کے لیے مقرر ہیں کیا یہ اسی طرح کا ہے؟ وکیل نے کہا کہ یہ وہی کیسز ہیں پہلے بینکنگ سرکل اب سائبر کرائم یہ انکوائری کر رہا ہے ،نامنظور ڈاٹ کام سے فنڈنگ سے متعلق سائبر کرائم نے نئی انکوائری شروع کی پی ٹی آئی ممنوعہ فنڈنگ تحقیقات کے خلاف درخواست پر سماعت 19 اکتوبر تک ملتوی کر دی گئی

    واضح رہے کہ تحریک انصاف نے ممنوعہ فنڈنگ کیس کے سلسلے میں ایف آئی اے انکوائری اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کی تھی، پی ٹی آئی کی جانب سے درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ایف آئی اے کو فنڈنگ کیس میں گرفتاریوں اور چھاپوں سے روکا جائے۔ ایف آئی اے نے سینیٹر سیف اللہ نیازی کے گھر چھاپا مارا اور ہراساں کیا۔ ایف آئی اے انکوائری اور چھاپے غیرقانونی ہیں، لہٰذا ایسی کارروائیوں سے فوری طور پر روکا جائے۔

    ممنوعہ فنڈنگ کیس میں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کو خط بھی ارسال کیا تھا جس میں  ایف آئی اے نے عمران خان کو لکھے گئے خط میں ان سے بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات اور ان کی سالانہ رپورٹ کا ریکارڈ مانگا تھا تاہم تحریک انصاف نے ایسے کسی خط کے ملنے سے انکار کیا تھا۔

    خط میں کہا گیا تھا کہ پی ٹی آئی کی 1996 سے لے کر اب تک کی تمام تنظیموں اور ٹرسٹ کا ریکارڈ فراہم کیا جائے جبکہ پارٹی کے قیام سے لے کر اب تک وصول کی گئی ممبر شپ فیس کا ریکارڈ بھی فراہم کیا جائے۔خط میں پی ٹی آئی کی رجسٹرڈ، غیر رجسٹرڈ قومی و بین الاقوامی تنظیموں اور ٹرسٹ کے ریکارڈ کی تفصیلات طب کی گئی ہیں۔ عمران خان کو الیکشن کمیشن میں جمع کرائے گئے فارم کی تفصیل فراہم کرنے کے لیے بھی کہا گیا ہے۔خط میں کہا گیا تھا کہ پی ٹی آئی کے تمام اکاؤنٹس کھولے جانے سے لے کر اب تک کا سالانہ اسٹیٹمنٹ بھی فراہم کیا جائے۔ ایف آئی اے حکام نے بھی اس بات کی تصدیق کی تھی کہ ممنوعہ فنڈنگ کیس کے لیے تشکیل دی گئی انکوائری ٹیم نے عمران خان کو خط ارسال کر کے تفصیلات طلب کی ہیں

    تحریک انصاف نے درخواست میں مزید کہا ہے کہ ایف آئی اے سیاسی بنیاد پر ہراساں کررہی ہے۔ عدالت ایف آئی اے کو فنڈنگ کیس کی تحقیقات سے روکے۔ ریجیم چینج کے بعد پی ٹی آئی نے حکومت مخالف تحریک کے لیے فنڈز اکٹھے کیے۔ بیرون ملک سے ملنے والے تمام فنڈز قانون کے مطابق وصول کیے۔ پی ٹی آئی کی جانب سے درخواست میں سیکرٹری داخلہ، ڈی جی ایف آئی اے اور تفتیشی افسر کو فریق بنایا گیا۔

    عمران خان سمیت پوری پی ٹی آئی کو نااھل قرار دے کر پی ٹی آئی کی رجسٹریشن منسوخ کرنے کا مطالبہ 

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    اکبر ایس بابر سچا اور عمران خان جھوٹا ثابت ہوگیا،چوھدری شجاعت

    عمران خان چوری کے مرتکب پارٹی سربراہی سے مستعفی ہونا چاہیے،عطا تارڑ

    پی ڈی ایم اجلاس،عمران خان کے خلاف کارروائی سے متعلق غور

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں دفعہ 144 کے قانون کے خلاف اسد عمر کی درخواست پر سماعت ہوئی ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس جماعت کی دو صوبوں میں حکومت ہے، کیا ادھر کبھی دفعہ 144 نافذ نہیں کی گئی؟ لا اینڈ آرڈر کا معاملہ ایگزیکٹو نے دیکھنا ہے جس میں عدالت کبھی مداخلت نہیں کرے گی،کیا پی ٹی آئی کی دو صوبوں میں حکومت نہیں جہاں دفعہ 144 کا اطلاق ہوتا ہے جب پی ٹی آئی کی حکومت تھی کیا اسلام آباد میں دفعہ 144 کا نفاذ نہیں رہا ؟امن و امان برقرار رکھنا انتظامیہ کا کام ہے عدالت مداخلت نہیں کرے گی،

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیاتھا کہ دفعہ 144 کا نفاذ پرامن احتجاج روکنے کےلیے غیرآئینی قانون ہے، دوران سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پہلے پنجاب اور خیبرپختونخوا جا کر یہ قانون اسمبلی سے ختم کرائیں، صوبائی اسمبلیوں سے قانون ختم کرا کے یہاں آ جائیں،وکیل اسد عمر نے کہا کہ پٹیشنر اس عدالت کے دائرہ اختیار میں رہنے والا شہری ہے،

  • حامد زمان  دوروزہ جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے

    حامد زمان دوروزہ جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے

    فارن فنڈنگ کیس ،پی ٹی آئی فاونڈر ممبر حامد زمان کو ضلع کچہری میں پیش کر دیا

    حامد زمان کو ایف آئی اے نے ضلع کچہری میں پیش کیا حامد زمان کے خلاف ایف آئی اے فارن فنڈنگ کی تحقیقات کر رہا ہے ، حامد زمان کا کہنا ہے کہ مجھے سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے،

    ایف آئی اے کی جانب سے حامد زمان کی 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی، ایف آئی اے کی جانب سے عدالت میں کہا گیا کہ جو رقم منگوائی گئی اس کو بطور سیاسی مقاصد استعمال کیا گیا ،عدالت نے حامد زمان کو دوروزہ جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے کر دیا ،عدالت نے ایف آئی اے کو حامد زمان کو پیر کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دے دیا

    واضح رہے کہ گزشتہ روز ایف آئی اے نے فارن فنڈنگ کیس میں گرفتاریاں شروع کی تھیں ایف آئی اے نے پی ٹی آئی کے بانی ممبر کو گرفتار کیا تھا، حامد زمان کو وارث روڈ ان کے دفتر سے حراست میں لیا گیا،

    وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کا اس حوالہ سے کہنا تھا کہ سیف اللہ نیازی اور حامد زمان فارن فنڈنگ کیس میں پیش نہیں ہو رہے تھے اس لیے انکو حفاظتی حراست میں لیا گیا ہے تا کہ ان سے پوچھ گچھ کی جائے اسی دوران اگر ضروری ہوا تو انکو ضابطے کی کاروائی پوری کرکے انکو گرفتار کیا جائے گا

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    اکبر ایس بابر سچا اور عمران خان جھوٹا ثابت ہوگیا،چوھدری شجاعت

    عمران خان چوری کے مرتکب پارٹی سربراہی سے مستعفی ہونا چاہیے،عطا تارڑ

    پی ڈی ایم اجلاس،عمران خان کے خلاف کارروائی سے متعلق غور

  • بریکنگ،پی ٹی آئی کا استعفوں پر یوٹرن،عدالت میں کہا اب پارٹی استعفے نہیں دینا چاہتی

    بریکنگ،پی ٹی آئی کا استعفوں پر یوٹرن،عدالت میں کہا اب پارٹی استعفے نہیں دینا چاہتی

    بریکنگ،پی ٹی آئی کا استعفوں پر یوٹرن،عدالت میں کہا اب پارٹی استعفے نہیں دینا چاہتی

    پی ٹی آئی کی استعفوں کی منظوری کے خلاف رخواست پر سماعت دوبارہ ہوئی ،

    پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر کی جانب سےاسلام آباد ہائیکورٹ میں دلائل دیئے گئے، وکیل نے کہا کہ عدالتی سوال پر بعد میں جواب دونگا،اسپیکر نے استعفے منظور کرتے وقت طریقہ کار پر عملدرآمد نہیں کیا،درحقیقت اسپیکر نے پی ٹی آئی رہنماؤں کے استعفے منظور ہی نہیں کیے اسپیکر نے استعفے منظور کرنے کا فیصلہ بھی خود نہیں کیا، لیکڈ آڈیو سامنے آ چکی ہے عدالت اسکا ٹرانسکرپٹ دیکھ لے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ تحلیل کرنے کا فیصلہ کیا انکا اپنا فیصلہ تھا؟ کیا قاسم سوری کا استعفے منظور کرنے کا فیصلہ انکا اپنا فیصلہ تھا؟ ہر ایک کو عوام سے مخلص ہونا چاہیے، یہ سیاسی عدم استحکام عوام کے مفاد میں نہیں ہےاگر کوئی پارلیمنٹ کو تسلیم نہیں کرتا تو کیا عدالت سیاسی عدم استحکام کا حصہ بن جائے؟ ہمارا ماضی بھی کوئی اتنا اچھا نہیں ہے،ملکی معیشت اس سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے خراب ہوئی ہے،ہمیں تاریخ سے سیکھنا چاہیے اور وہ دہرانا نہیں چاہیے، منتخب نمائندے پارلیمنٹ کا احترام نہیں کر رہے جو انکو کرنا چاہیے، یہ ارکان پارٹی پالیسی کو تسلیم کرتے ہوئے دوبارہ پارلیمنٹ کا بائیکاٹ کر کے بیٹھیں گے،اگر پارلیمنٹ کا بائیکاٹ کرنا ہے تو پھر تو موقف میں تضاد ہے،علی ظفر نے عدالت میں کہا کہ پارلیمنٹ جانا نہ جانا پارٹی کا کام ہے، عدالت اس سے دور رہے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت آپکو پارلیمنٹ جانے کا نہیں کہہ رہی لیکن آپکے موقف میں تضاد ہے،یہ عدالت درخواست گزاروں اور انکی پارٹی کے کنڈکٹ کو دیکھ رہی ہے، اگر پارلیمنٹ میں نہیں جانا تو یہ ارکان بحالی کیوں چاہ رہے ہیں؟ علی ظفر نے کہا کہ اگر پانچ دن بعد پارٹی پارلیمنٹ جانے کا فیصلہ کرتی ہے تو یہ ارکان موجود نہیں ہونگے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ عدالت آپکو پانچ دن کا وقت دے دیتی ہے، پانچ دن میں ثابت کریں کہ آپ کلین ہینڈز کے ساتھ آئے ہیں،علی ظفر نے کہا کہ عدالت نے استعفے کی منظوری کا طریقہ کار طے کر دیا تھا ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ارکان نے جینوئن استعفے دیئے تھے یا اپنے لیڈر کی خوشنودی کیلئے؟ بیرسٹر علی ظفر نے عدالت میں کہا کہ پی ٹی آئی نے استعفے دیئے کہ تمام 124 منظور کیے جائیں، اب 11 کو منتخب کر کے استعفے منظور کیے گئے، استعفے درست طور پر منظور نہیں ہوئے اس لیے پارٹی اب استعفے نہیں دینا چاہتی،پارٹی کی پالیسی ہے کہ ہم اب ایم این ایز برقرار ہیں، علی ظفر نے عدالت میں کہا کہ درخواست گزار بیان حلفی دینے کو تیار ہیں کہ وہ اپنے حلقے کی پارلیمنٹ میں نمائندگی کرینگے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپکی پارٹی کی لیکن یہ پالیسی نہیں ہے، تضاد آ جاتا ہے، آپ اپنے حلقے کے عوام کی نمائندگی نہیں بلکہ سیاسی بنیاد پر واپسی چاہتے ہیں،کیا عدالت درخواست گزاروں کو پارلیمنٹ کا بائیکاٹ کرانے کیلئے درخواست منظور کرے؟ اسمبلی کا ممبر ہو کر اسمبلی سے باہر رہنا اس مینڈیٹ کی توہین ہے،علی ظفر صاحب آپ پہلی رکاوٹ ہی دور نہیں کر پا رہے، آپ یہ ثابت کریں کہ غلطی ہو گئی تھی واپس پارلیمنٹ جانا چاہتے ہیں،یہ بتا دیں کہ آپکو کسی نے استعفے دینے پر مجبور کیا تھا، پارٹی نے فیصلہ کرنا ہے کہ کیا پارلیمنٹ اور عوام کے مفاد میں ہے، عوامی بہترین مفاد میں یہ ہے کہ سیاسی عدم استحکام نہ ہو،عوامی مفاد یہ ہے کہ پارلیمنٹ کے تقدس کو پامال نہ کیا جائے، یہ عدالت اسپیکر قومی اسمبلی کے پی ٹی آئی کو دوبارہ پارلیمنٹ جانے کا موقع دینے پر سراہتی ہے،اسپیکر نے پی ٹی آئی کو سیاسی افراتفری ختم کر کے واپس پارلیمنٹ جانے کا موقع دیا،کوئی سیاسی جماعت پارلیمنٹ سے بالاتر نہیں، اس مائنڈ سیٹ کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہےپارلیمنٹ صرف ایک عمارت نہیں ہے، آج بھی کوئی سول سپرمیسی کی بات نہیں کر رہا ہے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پھر دس بیان حلفی دیدیں کہ آپ اپنی پارٹی پالیسی کو نہیں مانتے، یہ بیان حلفی دیں تو عدالت آپکی درخواست منظور کر لے گی، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ہم پارٹی کی پالیسی کو تو تسلیم کرتے ہیں،عدالت نے کہا کہ سپریم کورٹ نے تو پارلیمنٹ کی تحلیل کو غیرآئینی قرار دیا تھا،یہ پارٹی تو سپریم کورٹ کے فیصلے کو ہی نہیں مان رہی،یہ پارٹی کہتی ہے کہ ہماری طرف سے یہ اسمبلی تحلیل ہو چکی ہم اسکو نہیں مانتے، جو وہ براہ راست نہیں کر سکتے وہ اس عدالت کے ذریعے کرانا چاہتے ہیں،یہ اگر الیکشن چاہتے ہیں تو پھر تو دو ہی طریقے ہیں، پہلا یہ کہ سیاسی عدم استحکام پیدا کرنا، پھر عدالتیں آپکو ریسکیو نہیں کرینگی،دوسرا طریقہ آئین کا احترام کرتے ہوئے پارلیمنٹ میں مسائل حل کرنا ہے، یہ بھی کہہ دیں کہ میں مانتا بھی کسی چیز کو نہیں اور الیکشن بھی ہو جائیں،
    اگر سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد ہوتا تو پی ٹی آئی آج پارلیمنٹ میں ہوتی،یہ عدالت صرف آئین کے تحت چلے گی، کوئی پارٹی کہے کہ ہم آئین اور پارلیمنٹ کو نہیں مانتے لیکن ہمیں بحال کر دیں، یہ بہت مشکل کام ہے آپ اس میں سے نہیں نکل سکتے، یہ عدالت بہت واضح ہے کہ آئین اور پارلیمنٹ سپریم ہیں،

    بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ بیان حلفی پر مشاورت کیلئے ہمیں وقت دیدیا جائے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ عدالت درخواست کو لمبے عرصے کیلئے ملتوی کر دیتی ہے، جب پارٹی پارلیمنٹ جانے کا فیصلہ کر لے تو متفرق درخواست دیدیں، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ تب کوئی فائدہ نہیں تب تک تو الیکشن ہو جائیں گے، جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا یہ درخواست صرف اس الیکشن کو روکنے کیلئے دائر کی گئی ہے؟ یہ عدالت پارلیمنٹ کے تقدس کو پامال کرنے والی کوئی درخواست منظور نہیں کریگی، 123 ممبران پارلیمنٹ نے کہا کہ ہم استعفے دے رہے ہیں، سپریم کورٹ کا فیصلہ نہیں مان رہے لیکن کہتے ہیں کہ انہیں بحال کر دیں، یہ موقف کا تضاد ہے، سماعت ملتوی کر دیتے ہیں،یہ عدالت آپکی درخواست پر نوٹس بھی جاری نہیں کریگی، اگر چاہتے ہیں تو آج ہی فیصلہ کر دیتے ہیں،پہلے پٹیشنر مطمئن کریں کہ حقیقی معنوں میں کلین ہینڈز کے ساتھ آئے ہیں، یہ بھی کہیں کہ جمہوریت اور پارلیمنٹ کی بالادستی پر یقین رکھتے ہیں،یہ نہیں ہو سکتا کہ آپ کہیں کہ میری مرضی کے مطابق چیزیں ہوئیں تو مانیں گے، یہ کورٹ اس معاملے پر فیصلہ کرے یا ملتوی کر دے؟ پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر نے عدالت میں کہا کہ فی الحال اس معاملے کو ملتوی کر دیں،عدالت نے سماعت ملتوی کر دی جسے رجسٹرار آفس دوبارہ سماعت کے لیے مقرر کرے گا

    قبل ازیں اسلام آباد ہائیکورٹ میں پی ٹی آئی کی استعفوں کی منظوری کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ استعفوں کی منظوری میں طریقہ کار پرعمل نہیں کیا گیا، یہ عدالت پارلیمنٹ کا احترام کرتی ہے، درخواست گزاروں کو پہلے اپنی نیک نیتی ثابت کرنی ہو گی،کیا یہ درخواست گزار پارٹی پالیسی کے خلاف جائیں گے؟ اس عدالت کو معلوم تو ہو کہ کیا یہ پارٹی کی پالیسی ہے؟ درخواست گزاروں کو ثابت کرنا ہو گا کہ وہ پارلیمنٹ کا سیشن اٹینڈ کرتے رہے ہیں، حلقے کے عوام نے اعتماد کر کے ان لوگوں کو پارلیمنٹ میں بھیجا،یہ سیاسی تنازعے ہیں اور انکے حل کیلئے پارلیمنٹ موجود ہے کیا یہ تمام ارکان اپنی پارٹی پالیسی کے خلاف جائیں گے؟ وکیل علی ظفر نے عدالت میں کہا کہ اراکین پارٹی پالیسی کے خلاف نہیں ہیں،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پھرتو درخواست قابل سماعت نہیں ، پارٹی تو کہتی ہے کہ ہم نے استعفے دیئے، اگر یہ پارٹی پالیسی کے ساتھ ہیں پھر تو تضاد آ جاتا ہے، یہ عدالت اسپیکر کو ڈائریکشن تو نہیں دے سکتی، ہم نے دیکھنا ہے کہ پٹیشنرز کلین ہینڈز کے ساتھ عدالت آئے یا نہیں؟ بیرسٹر علی ظفر نے عدالت میں کہا کہ پٹیشنرز اپنی پارٹی کی پالیسی کے خلاف عدالت نہیں آئے، اس شرط پر استعفے دیئے گئے تھے کہ 123 ارکان مستعفی ہوں گے، اسپیکر نے تمام استعفی منظور نہیں کیے اور صرف 11 استعفے منظور کیے،ہم کہتے ہیں کہ دیے گئے استعفے مشروط تھے،اگر تمام ارکان کے استعفے منظور نہیں ہوئے تو شرط بھی پوری نہیں ہوئی،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جن کے استعفے منظور نہیں ہوئے انکو پارلیمنٹ میں بیٹھنا چاہیے، جب تک استعفے منظور نہیں ہوتے انکو پارلیمنٹ میں موجود ہونا چاہیے، اراکین کی ذمہ داری ہے کہ اپنے حلقے کی پارلیمنٹ میں نمائندگی کریں یہی پارٹی کے موقف میں تضاد ہے، اسی لیے نیک نیتی ثابت کرنے کا کہا،اگر دیگر ارکان پارلیمنٹ میں بیٹھے ہوتے تو شاید یہ عدالت درخواست منظور کر سکتی، ایک طرف پارلیمنٹ میں بیٹھ نہیں رہے دوسری طرف نشستیں واپس چاہتے ہیں،اگر وہ پارٹی پالیسی کے خلاف نہیں آئے تو درخواست منظور نہیں ہو گی،اس عدالت نے آج تک کبھی پارلیمنٹ یا اسپیکر کو ڈائریکشن نہیں دی، یہ پارلیمنٹ کیلئے احترام ہے جو 70 سال سے کسی نے نہیں دی، اپنے سارے سیاسی تنازعے پارلیمنٹ میں حل کریں، ارکان خود مانتے ہیں کہ استعفے جینوئن تھے، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ارکان اسمبلی کے استعفے جینوئن مگر مشروط تھے،ہم کہتے ہیں کہ تمام استعفے جینوئن تھے اور انہیں منظور کیا جائے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ارکان خود مانتے ہیں کہ استعفے جینوئن تھے، عدالت یہ تصور کیوں نہ کرے کہ اسپیکر پی ٹی آئی کو دوبارہ اسمبلی واپس جانے کا موقع دے رہے ہیں؟سیاسی تنازعات عدالتوں میں لانے کی بجائے پارلیمنٹ میں حل کریں، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ اگر استعفے واپس لے لیے جائیں تو پھر پی ٹی آئی اسمبلی واپسی کا سوچ سکتی ہے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ارکان خود مانتے ہیں کہ استعفے جینوئن تھے، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ارکان اسمبلی کے استعفے جینوئن مگر مشروط تھے،ہم کہتے ہیں کہ تمام استعفے جینوئن تھے اور انہیں منظور کیا جائے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ درخواست گزار اسپیکر کے پاس جا کر کہہ سکتے ہیں کہ ہم پارلیمنٹ میں واپس آنا چاہتے ہیں، وکیل نے کہا کہ ہم اسپیکر کے پاس تو نہیں جا سکتے، یہ عدالت نوٹیفکیشن معطل کرے پھر جا سکتے ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ عدالت آپکی سیاسی ڈائیلاگ کیلئے سہولت کاری تو نہیں کریگی،عدالت یہ تصور کیوں نہ کرے کہ اسپیکر پی ٹی آئی کو دوبارہ اسمبلی واپس جانے کا موقع دے رہے ہیں؟ سیاسی تنازعات عدالتوں میں لانے کی بجائے پارلیمنٹ میں حل کریں،پہلے اسمبلی جائیں اور پھر یہ درخواست لے آئیں عدالت درخواست منظور کر لے گی، وکیل علی ظفر نے کہا کہ ہم اسمبلی واپس نہیں جا سکتے انہوں نے ہمیں نکال دیا ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ عدالت سیاسی پوائنٹ سکورنگ کیلئے استعمال نہیں ہو گی، جائیں اور اپنی سیاسی لڑائی اس عدالت سے باہر لڑیں، جب استعفے دیدیے تو اسپیکر نے اپنی مرضی سے منظور کرنے ہیں،ملک میں غیریقینی صورتحال پیدا کر دی گئی ہے، معیشت کا یہ حال اسی غیریقینی صورتحال کی وجہ سے ہے،باتوں سے نہیں ہو گا اپنےعمل سے کر کے دکھائیں،اس عدالت نے اس پارلیمنٹ کو مسلسل احترام کیا ہے، جائیں اور اپنے عمل سے ثابت کریں کہ آپ پارلیمنٹ کا احترام کرتے ہیں، ایک طرف آپ کہہ رہے ہیں ہم پارلیمنٹ کو نہیں مانتے، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ہم پارلیمنٹ کو مانتے ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کوئی کہے کہ عدالت کو مانتا ہوں اور عدالت کو جو مرضے آئے کہتا رہے،سیاسی غیریقینی ملکی مفاد میں نہیں،یہ عدالت درخواست منظور کیوں کرے؟جب تک پارلیمنٹ کے احترام کا اظہار نہیں کرینگے درخواست منظور نہیں ہو سکتی،پارلیمنٹ مانتے بھی نہیں اور کہہ رہے ہیں کہ پارلیمنٹ میں بھیج دیں،سیاسی جماعت پارلیمنٹ میں واپس جا کر سیاسی عدم استحکام کو ختم کرے، سیاسی عدم استحکام سے ملک کا نقصان ہو رہا ہے، اسپیکر قومی اسمبلی تو پی ٹی آئی کو موقع دے رہے ہیں کہ آئیں اور عوام کی خدمت کریں، بیرسٹر علی ظفر نے عدالت میں کہا کہ مجھے ایک گھنٹہ دیں میں مشاورت کر کے عدالت کو آگاہ کرتا ہوں،

    پی ٹی آئی کارکنان کا مسجد میں گھس کر امام مسجد پر حملہ، ویڈیو وائرل

    پی ٹی آئی کے منحرف رکن اسمبلی کے گھر پر حملہ،فائرنگ،قاتلانہ حملہ کیا گیا، بیٹے کا دعویٰ

    اللہ خیر کرے گا،دعا کریں پاکستان کی خیر ہو ،شہباز شریف پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ گئے

    غیرت کے نام پر استعفے دینے والے آج عدالت چلے گئے، ثانیہ عاشق

    تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی نے سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے کے بعد قومی اسمبلی کے فلور پر مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا،شاہ محمود قریشی نے وزارتِ عظمیٰ کے الیکشن کے دوران تقریر میں کہا تھا ہم اس ایوان سے مستعفی ہوتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ نئے الیکشن کروائے جائیں سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے 30 مئی کو سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی کو استعفوں کی تصدیق کے لیے طلب کیا تھا

  • لاریب قتل کیس میں سزا یافتہ مجرمان کی اپیلوں پر فیصلہ محفوظ

    لاریب قتل کیس میں سزا یافتہ مجرمان کی اپیلوں پر فیصلہ محفوظ

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں لاریب قتل کیس میں سزا یافتہ مجرمان کی اپیلوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا گیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس سردار اعجاز اسحاق نے فیصلہ محفوظ کیا اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایس ایس پی انویسٹی گیشن فرحت عباس کاظمی پر اظہار برہمی کیا ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیس میں انویسٹی گیشن نہیں ہوئی، ایس ایس جی میجر قتل ہوا ، انویسٹی گیشن کس نے کرنی تھی؟ پولیس آرڈر نافذ ہے ، پر عملدرآمد نہیں کیا جا رہا، کیوں نہ اس وقت کے ایس ایس پی اور تفتیشی افسر کو ذمہ دار قرار دے کر سزا دیں ،متعلقہ لوگوں کی بجائے تفتیشی افسر نے خون کے نمونے خود جمع کر لیے، موقع پر گاڑی بھی نہیں ، یہ ساری چیزیں ہیرا پھیری میں آتی ہیں ایس ایس پی کو تو سب پتہ ہونا چاہیے، ملزم کا کیسے پتہ چلا ہے؟ڈیڈ باڈی پمز کیسے پہنچی؟ وہاں بتایا گیا کہ روڈ ایکسیڈنٹ کا کیس ہے، ہمیں کچھ بتائیں تو صحیح، ہم اس کیس کو کیسے دیکھیں؟

    لاریب حسن قتل میں اہم پیشرفت، قاتل گرفتار، کیوں قتل کیا؟ حیران کن وجہ سامنے آ گئی

    ایس ایس پی فرحت عباس نے عدالت میں کہا کہ ہمیں کچھ وقت دیں ہم ذمہ داروں کا تعین کرینگے، عدالت نے کہا کہ ہمیں بتائیں اس وقت ایس ایس پی اور تفتیشی افسر کون تھے؟ ایس ایس پی نے کہا کہ سنا ہے تفتیشی افسر ریٹائرڈ ہوگئے ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کوئی تو احتساب ہو، کوئی تو مثال قائم ہو، ہم تو لکھ لکھ کرتھک گئے ہیں،

    نور مقدم کو انصاف دلوائو.. | مبشر لقمان نے سپر سٹارز کا ضمیر جھنجوڑ دیا

    نور مقدم قتل کیس، ظاہر جعفر کا عدالت میں ایک اور ڈرامہ

    نورمقدم قتل کیس، ظاہر جعفر پاگل ہے، عدالت میں درخواست دائر

    نور مقدم قتل کیس، سماعت بغیر کارروائی ملتوی

    نورمقدم قتل کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ

    نور مقدم قتل کیس،مرکزی ملزم کو اندر بلا کر عدالت نے میڈیا کو باہر نکال دیا

    بیٹی کو ناحق قتل کیا گیا، ملزم کوسزائے موت سنائی جائے،نورمقدم کے والد کا عدالت میں بیان

  • بے نظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی،قائم مقام وائس چانسلرکو عدالت نے دوبارہ ہٹا دیا

    بے نظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی،قائم مقام وائس چانسلرکو عدالت نے دوبارہ ہٹا دیا

    قائم مقام وائس چانسلر پروفیسر حاکم علی ابڑو کو سندھ ہائی کورٹ نے دوبارہ عہدے سے فارغ کر دیا

    جامعہ بے نظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی کے نو منتخب قائم مقام وائس چانسلر حاکم علی ابڑو کا آرڈر نوٹیفیکیشن سندھ ہائی کورٹ نے معطل کردیا۔ پروفیسر حاکم علی ابڑو کو چند ماہ قبل بھی سندھ حکومت کی جانب سے قائم مقام وائس چانسلر جامعہ بینظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی مقرر کیا گیا تھا۔سابقہ وائس چانسلر جامعہ بینظیر پروفیسر انیلا عطاالرحمان کی پیٹیشن پر پہلے بھی سندھ ہائی کورٹ نے انہیں عہدے سے اتار دیا تھا ،سندھ ہائی کورٹ نے توہین عدالت میں پروفیسر حاکم علی ابڑو کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری بھی جاری کیے تھے اور جرمانہ بھی عائد کیا تھا ،پروفیسر حاکم علی ابڑو کو سندھ حکومت کی جانب سے 29 ستمبر کو دوبارہ قائم مقام وائس چانسلر جامعہ بینظیر مقرر کیا گیا ۔

    سوشل میڈیا چیٹ سے روکنے پر بیوی نے کیا خلع کا دعویٰ دائر، شوہر نے بھی لگایا گھناؤنا الزام

    سابق اہلیہ کی غیراخلاقی تصاویر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے والے ملزم پر کب ہو گی فردجرم عائد؟

    ‏سوشل میڈیا پرغلط خبریں پھیلانا اورانکو بلاتصدیق فارورڈ کرنا جرم ہے، آصف اقبال سائبر ونگ ایف آئی اے

    سوشل میڈیا پر جعلی آئی ڈیز کے ذریعے لڑکی بن کر لوگوں کو پھنسانے والا گرفتار

  • ویڈیو: مریم نواز نے لاہور ہائیکورٹ سے پاسپورٹ واپس لے لیا

    ویڈیو: مریم نواز نے لاہور ہائیکورٹ سے پاسپورٹ واپس لے لیا

    ویڈیو: مریم نواز نے لاہور ہائیکورٹ سے پاسپورٹ واپس لے لیا
    ن لیگی نائب صدر مریم نواز نے لاہورہائیکورٹ سے پاسپورٹ واپس حاصل کرلیا

    ن لیگی رہنما مریم نواز لاہور ہائیکورٹ آئی تھیں، انہوں نے لاہور ہائیکورٹ میں جمع شدہ پاسپورٹ حاصل کیا اور اسکے بعد واپس روانہ ہو گئیں،مریم نواز آج ساڑھے چار بجے اہم پریس کانفرنس کریں گی، مریم نواز کی عدالت آمد کے موقع پر ن لیگی رہنما،کارکنان بھی موجود تھے، ن لیگی رہنما پرویز رشید، رکن پنجاب اسمبلی حنا پرویز بٹ بھی مریم نواز کے ہمراہ موجود تھیں، مریم نوز کی عدالت آمد کے موقع پر ن لیگی کارکنان نے مریم نواز اور نواز شریف کے حق میں نعرے بازی کی.

    قبل ازیں مریم نواز کے پاسپورٹ واپسی کے درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا گیا،چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس امیر بھٹی نے 2 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا ،، تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ عدالت مریم نواز کی پاسپورٹ واپسی کی درخواست منظور کرتی ہے،ڈپٹی رجسٹرار جوڈیشل مریم نواز کا پاسپورٹ واپس کریں،عدالت کے پاس درخواست کی اجازت دینے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں بچا نیب نے درخواست گزار کے پاسپورٹ کی واپسی کی مخالفت کی،نیب نے موقف اختیار کیا کہ مزید تفتیش یا ٹرائل کے مقصد کی کوئی ضرورت نہیں،

    مریم نواز نے لاہور ہائیکورٹ سے پاسپورٹ واپس لینے کے بعد عدالت سے واپسی پر کشمیری دال چاول کھائے، سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر مریم نواز نے تصاویر شییئر کرتے ہوئے کہا کہ الحمد للہ ،پاسپورٹ مل گیا ہے، عدالت سے واپسی پر کشمیری دال چاول کھائے

    سینیٹ اجلاس میں "فرح گوگی” کے تذکرے،ہائے میری انگوٹھی کے نعرے

    فرح خان بنی گالہ کی مستقل رہائشی ،مگرآمدروفت کا ریکارڈ نہیں، نیا سیکنڈل ،تحقیقات کا حکم

    فرح خان کیسے کرپشن کر سکتی ؟ عمران خان بھی بول پڑے

    کارکن تپتی دھوپ میں سڑکوں پرخوار،موصوف ہیلی کاپٹر پرسوار،مریم کا عمران خان پر طنز

    مریم نواز جلد روانہ ہوں گی لندن

    پاسپورٹ واپسی ، مریم نواز کا ردعمل کہا، مکافاتِ عمل اورعبرتناک انجام اس کے تعاقب میں ہے

    واضح رہے کہ گزشتہ روز لاہور ہائیکورٹ نے مریم نواز کی پاسپورٹ واپسی کی درخواست منظور کی تھی، مریم نواز کی جب عدالت نے ضمانت کی تھی اسوقت پاسپورٹ عدالت نے جمع کر لیا تھا