Baaghi TV

Tag: عدالت

  • تمام سکولوں کو بچے کو پک اینڈ ڈراپ کے لیے ٹرانسپورٹ دینے کا حکم

    تمام سکولوں کو بچے کو پک اینڈ ڈراپ کے لیے ٹرانسپورٹ دینے کا حکم

    لاہور ہائیکورٹ میں اسموگ کے تدراک کے لیے دائر درخواستوں پر سماعت ہوئی

    لاہور ہائیکورٹ نے سردیوں کی چھٹیوں کے بعد تمام سکولوں کو بچے کو پک اینڈ ڈراپ کے لیے ٹرانسپورٹ دینے کا حکم دے دیا، عدالت نے کہا کہ سکولوں کے بچے سکولز کی جانب سے فراہم کی گئی ٹرانسپورٹ پر سکول آئیں۔ جو سکول انتظامیہ احکامات کو نہیں مانے گی اسے سیل کردیا جائے ۔کوئی سکول والدین کو لکھ کر نہ بھیجے کہ ہم بچوں کی ذمہ داری نہیں لیں گے۔ٹرانسپورٹ حکام گاڑیوں کی فٹنس سے متعلق پندرہ دنوں میں پالیسی بنا کر پیش کرے۔

    جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ محکمہ ٹرانسپورٹ ہر تین ماہ بعد گاڑیوں کی انسپکشن کرے۔محکمہ ٹرانسپورٹ گاڑیوں کو فٹنس سرٹیفکیٹ جاری کرے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کے پاس تمام پبلک اور پرائیویٹ بسوں کا ڈیٹا ہونا چاہیے۔

    عدالت نے تین سالہ بچی امل سکھیرا کو گاڑیوں کی فٹنس چیک کرنے والی موبائل یونٹس کا افتتاح کرنے کی ہدایت کردی ،عدالت نے کاروائی منگل کے روز تک ملتوی کردی ،جسٹس شاہد کریم نے شہری ہارون فاروق سمیت دیگر کی درخواستوں پر سماعت کی

    ٹک ٹاکرز خواتین کی نازیبا ویڈیو لیک،کاروائی کیوں نہیں ہو رہی

    ٹک ٹاکر مسکان چانڈیو کی بھی نازیبا،برہنہ ویڈیو لیک

    مناہل اور امشا کےبعد متھیرا کی ویڈیولیک،کون کر رہا؟ حکومت خاموش تماشائی

    نازیبا ویڈیو لیک،وائرل ہونے پر متھیرا کا ردعمل آ گیا

    اب کون سی ٹک ٹاک گرل اپنی ویڈیوز لیک کرنے والی ، اور کیوں؟

    مناہل،امشا کے بعد متھیرا کی بھی برہنہ ویڈیو لیک،وائرل

  • وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور اشتہاری قرار

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور اشتہاری قرار

    اسلام آباد کی انسداد دہشتگردی عدالت نے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور کو اشتہاری قرار دے دیا۔

    عدالت نے وفاقی دارالحکومت کے تھانہ آئی نائن میں درج مقدمہ میں وزیراعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور کو اشتہاری قرار دیا ہے۔اے ٹی سی اسلام آباد کے جج طاہر عباس سپرا نے تحریری حکم نامہ جاری کیا جس میں کہا گیا کہ علی امین گنڈا پور کو اشتہاری قرار دینے کے بعد کیس کو دیگر ملزمان سے الگ کر دیا گیا، تمام غیر حاضر ملزمان کی حاضری معافی کی درخواست مسترد کی جاتی ہے اور ان کے ضمانتی مچلکے منسوخ کیے جاتے ہیں۔یاد رہے کہ 3 روز قبل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے شراب اور اسلحہ برآمدگی کیس میں پولیس سے علی امین گنڈاپور کے وارنٹ گرفتاری کی تعمیلی رپورٹ طلب کرتے ہوئے ریمارکس دیے تھے کہ عدالت ملزم کا انتظار تو نہیں کرسکتی۔

  • اسلام آباد ہائیکورٹ ، توشہ خانہ ون کیس، سزا کے خلاف اپیلیں میرٹ پر سننے کا فیصلہ

    اسلام آباد ہائیکورٹ ، توشہ خانہ ون کیس، سزا کے خلاف اپیلیں میرٹ پر سننے کا فیصلہ

    اسلام آباد ہائی کورٹ ،توشہ خانہ ون کیس میں عمران خان اور بشری بی بی کی سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت ہوئی.

    بیرسٹر علی ظفر اور نیب ٹیم کمرہ عدالت پہنچ گئی۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے سماعت کی،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ کیس میں میرٹ پر دلائل شروع کرنے سے پہلے کچھ کہنا چاہوں گا ، آپ نے مجھے کہا تھا کہ میں بانی پی ٹی آئی سے جیل میں ملاقات کر لوں ، مجھے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی ،مجھے اب لیگل ٹیم سے ان ڈائریکٹ ہدایات مل چکیں ہیں ، میں ان اپیلوں پر اپنے دلائل شروع کروں گا ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ہم نے سائفر کیس سنتے ہوئے میوزک فیس کیا ہے،پھر بنچ پر بات آتی ہے دو ماہ ہو چکے فیصلہ نہیں ہوا ،اس کیس میں 342 بھی نہیں ہوا کچھ گواہوں پر جرح بھی نہیں ہوئی ،ہمیں دیکھنا پڑے گا کہ کیا ہم کیس کے میرٹ کی طرف جا بھی سکتے ہیں ،علی ظفر نے کہا کہ اس کیس میں غلطی پراسیکوشن کی ہے وہ میں آپ کو دکھاؤں گا ،امجد پرویز نے کہا کہ انہوں نے کورٹ زیچ کیا جس کے بعد یہ ہوا میں دکھاؤں گا ،

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے توشہ خانہ ون کیس میں سزا کے خلاف اپیلیں میرٹ پر سننے کا فیصلہ کر لیا،توشہ خانہ ون کیس میں بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت 27 نومبر تک ملتوی کر دی گئی،آئیندہ سماعت پر بیرسٹر علی ظفر میرٹ پر دلائل دیں گے ،

    پی ٹی آئی احتجاج، انٹرنیٹ،موبائل سروس بند کرنے کا فیصلہ

    پولیس چھاپے کے دوران چھت سے گرنے والے پی ٹی آئی کارکن کی موت

    احتجاج کی کال،پی ٹی آئی کی گرفتاریوں کی حقیقت فرمائشی گرفتاری نے کی بے نقاب

    دہشتگردی کی نئی لہر،ذمہ دار کون؟فیصلہ کن اقدامات کی ضرورت

    ضمانت تو مل گئی پر عمران کی رہائی کا دور دور تک امکان نہیں

  • ضمانت تو مل گئی پر عمران کی رہائی کا دور دور تک امکان نہیں

    ضمانت تو مل گئی پر عمران کی رہائی کا دور دور تک امکان نہیں

    پی ٹی آئی کو توشہ خانہ ٹو کیس میں عمران خان کو ضمانت ملنے پر اتنی جلدی خوشیاں منانے کی ضرورت نہیں

    آج اسلام آباد ہائی کورٹ نے توشہ خانہ ٹو میں بانی پی ٹی آئی کو ضمانت دے دی – یہ ایک روٹین کا فیصلہ ہے کیونکہ اس سے پہلے بشری بی بی کو بھی عدالت ریلیف دے چکی ہے، اس لیے ابھی خوشیاں منانے میں جلدی نا کی جائے ،عمران خان جیل سے باہر نہیں آ پائیں گے کیونکہ ابھی 190 ملین پاؤنڈ کیس میں عمران خان کی بریَت کی درخواست ہائی کورٹ نے مسترد کر دی ہوئی ہے اور ٹرائل کورٹ میں کیس چل رہا ہے اور اس کیس میں سزا لازمی نظر آ رہی ہے

    اِسی طرح ۹ مئی کے پانچ مقدمات میں عمران خان جوڈیشل ریمانڈ پر ہیں اور 27 نومبر کو اس کیس پر سماعت بھی ہے اور انکے ضمانتی مچلکے بھی جمع نہیں اس لیے پنجاب پولیس ان مقدمات پر بھی گرفتاری ڈال دے گی، یاسمین راشد اور شاہ محمود قریشی کی تاریخیں ڈلتی جا رہی ہیں اور ضمانت کی درخواست پر فیصلے ہوتے نظر نہیں آتے اِسی طرح قانونی ماہرین کے مطابق یہ کیس بھی اُسی طرح نپٹایا جائے گا

    دوسری بات یہ کہ یہ محض اتفاق نہیں کہ آج عمران نیازی کو اچانک ضمانت مل گئی ہے – کچھ عرصہ پہلے بشریٰ بی بی کو بھی رہا کر دیا گیا تھا – جیل میں ملاقاتیں بھی اِسی سلسلے کی کڑی ہے – پہلے ہی واضح تھا کہ پی ٹی آئی نورا کشتی کھیل رہی ہے اور 24 نومبر کو احتجاج کا اعلان صرف ڈرامہ رچایا جا رہا ہے آج یہ بھی ثابت ہو گیا،

    پی ٹی آئی والے جن عدالتوں کو یہ دن رات گالیاں دیتے ہیں وہی ان کو ہر مقدمے اور اپیل میں ریلیف دیتی جا رہی ہے کس منہ سے یہ لوگ عدلیہ پر تنقید کرتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کے ہمارے ساتھ انصاف نہیں ہو رہا یہ ٹوپی ڈرامہ بھی عوام اچھی طرح سمجھ چکے ہیں

    عمران خان کی ضمانت،ریلیف عارضی،توشہ خانہ میں سزا کا امکان

    پی ٹی آئی احتجاج، بشریٰ بی بی پر اراکین کا عدم اعتماد

    بشریٰ بی بی کی ویڈیو”لیک”ہونے کا خطرہ

    24 نومبر کےجلسے کی حتمی کامیابی کیلئے خواجہ آصف کا عمران خان اور بشریٰ کو مشورہ

    24 نومبر احتجاج:بشریٰ بی بی کی تمام اراکین اسمبلی کو اپنے ساتھ 5 ہزار افراد لے کر آنے کی ہدایت

    بشریٰ بی بی کا "جادو” نہ چل سکا، پشاور میں پی ٹی آئی رہنما عہدے سےمستعفی

    نوجوانوں سے بڑی توقعات ہیں، بشریٰ بی بی پارٹی میں متحرک

    بشریٰ اور علیمہ میں پھر پارٹی پر قبضے کی جنگ،پارٹی رہنما پریشان

  • عمران خان کی ضمانت،ریلیف عارضی،توشہ خانہ میں سزا کا امکان

    عمران خان کی ضمانت،ریلیف عارضی،توشہ خانہ میں سزا کا امکان

    اڈیالہ جیل میں قیدسابق وزیراعظم عمران خان کی اسلام آباد ہائیکورٹ نے توشہ خانہ ٹو کیس میں ضمانت منظور کر لی ہےتاہم عمران خان کی رہائی نہیں ہو گی وہ جیل میں ہی رہیں گے، عمران خان پر نومئی کے مقدمات ہیں، پنجاب اور اسلام آباد میں درج کچھ مقدمات میں عمران خان کی ضمانت نہیں ہوئی، تو وہیں عمران خان کو آج ملنے والا ریلیف عارضی ہے

    قانونی ماہرین کے مطابق عمران خان کو توشہ خانہ ٹو کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ سے ضمانت کا ریلیف صرف تکنیکی بنیادوں پر حاصل ہوا ہے۔ عمران خان اب بھی توشہ خانہ سے چیزیں لینے میں قصوروار ہیں، اور دورانِ ٹرائل ان پر فردِ جرم عائد ہونے کا امکان موجود ہے۔عدالت میں ان پر کیس چل رہا ہے، بشریٰ بی بی بھی اس کیس میں ضمانت پر ہیں اور آج اسلام آباد ہائیکورٹ نے ضمانت کیس کی سماعت کے دوران ایف آئی اے پرا سکیوٹر کو کہا کہ اگر بشریٰ بی بی کیس میں پیش نہیں ہو رہیں تو ضمانت منسوخی کی درخواست دائر کر دی

    اس سے پہلے بھی توشہ خانہ کیس میں عمران خان کو قصوروار قرار دیتے ہوئے قید اور جرمانے کی سزا سنائی گئی تھی، جسے اسلام آباد ہائی کورٹ نے ختم کردیا تھا۔ موجودہ ضمانت کا سبب نیب وکلا کی جانب سے کیس کو موثر انداز میں نہ لڑنا بتایا جارہا ہے،عمران خان کو اس کیس میں ضمانت تو مل گئی تا ہم عمران خان صادق اور امین نہیں قرار پائے، عمران خان کا توشہ خانہ کیس کا ٹرائل چل رہا ہے اور عدالت نے دوبارہ ٹرائل کا حکم دیا ہے۔ عمران خان کے ضمانت ملنے کے فیصلے پر مٹھائی بانٹنے والوں کو جان لینا چاہئے کہ عمران خان کو عارضی ریلیف ملا ہے، عمران خان کے لیے قانونی مشکلات ابھی ختم نہیں ہوئی ہیں، اسی کیس میں عمران خان کو سزا بھی مل سکتی ہے

    عمران خان کے خلاف لاہور میں درج 9 مئی کے 3 کیسز میں ضمانت خارج کی گئی تھی، عمران خان کی راولپنڈی 9 مئی کے 14 مقدمات میں ضمانت کے باوجود ضمانتی مچلکے جمع نہیں کروائے گئے۔عمران خان کے خلاف راولپنڈی میں 28 ستمبر اور 5 اکتوبر کو بھی دہشت گردی کے مقدمات درج ہیں۔

    واضح رہے کہ نیب ٹیم نے توشہ خانہ ریفرنس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کی گرفتاری ڈالی تھی۔یاد رہے کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی پر نیا کیس دس قیمتی تحائف خلاف قانون پاس رکھنے اور بیچنے سے متعلق ہے، نیب کی انکوائری رپورٹ کے مطابق عمران خان پر ایک نہیں، سات گھڑیاں خلاف قانون لینے اور بیچنے کا الزام ہے، گراف واچ ، رولیکس گھڑیاں، ہیرے اور سونے کے سیٹ کیس کا حصہ ہیں، تحفے قانون کے مطابق اپنی ملکیت میں لئے بغیر ہی بیچے جاتے رہے۔

    عمران خان اور بشریٰ بی بی پر توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعت کے دوران پی ٹی آئی وکلا مسلسل تاخیر کے حربے استعمال کر رہے ہیں، قوی امکان ہے کہ جب فیصلہ آئے گا تو اس کیس میں عمران خان کو سزا ہو گی، کیونکہ عمران خان اور بشریٰ بی بی نے قانون کی خلاف ورزی کی، ملنے والے تحائف توشہ خانہ میں جمع کروانے کی بجائے بیچ ڈالے،

  • سانحہ نومئی،جی ایچ کیو حملہ کیس، ملزمان کی بریت کی درخواست خارج

    سانحہ نومئی،جی ایچ کیو حملہ کیس، ملزمان کی بریت کی درخواست خارج

    انسداد دہشت گردی عدالت راولپنڈی،عدالت نے سانحہ نو مئی کے جی ایچ کیو حملہ کیس میں ملزمان کی درخواست بریت خارج کردی۔

    جی ایچ کیو حملہ کیس سابق وفاقی وزیر شیخ رشید احمد، شیریں مزاری، سابق ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی واثق قیوم عباسی سمیت دیگر ملزمان کی بریت کی درخواستیں خارج کر دی گئی ہیں گل اصغر خان کی بریت کی درخواست منظور مقدمہ سے بری کردیا، عدالت نے محفوظ فیصلہ سنا دیا،قبل ازیں عدالت میں سماعت ہوئی تو پبلک پراسیکیوٹر ظہیر شاہ و اکرام امین منہاس اور پی ٹی آئی کی لیگل ٹیم ایڈووکیٹ محمد فیصل ملک کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئی،درخواست بریت پر فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کیا تھا، دوران سماعت پراسیکیوشن کی جانب سے ملزمان کی درخواست بریت کی مخالفت کی گئی،پراسیکیوٹر ظہیر شاہ نے کہا کہ اس اسٹیج پر ملزمان کی بریت نہیں بنتی، ان کی بریت ٹرائل پر اثر انداز ہو سکتی ہے، اس اسٹیج پر بریت کے فیصلے سے پراسیکیوشن کی شہادتیں متاثر ہو سکتی ہیں، امجد خان نیازی کی سرگودھا عدالت سےبریت کو بھی پراسیکیوشن نے چیلنج کیا ہے۔

  • توشہ خانہ ٹو کیس ،عمران خان کی ضمانت منظور

    توشہ خانہ ٹو کیس ،عمران خان کی ضمانت منظور

    اسلام آباد ہائیکورٹ ،توشہ خانہ ٹو کیس میں بانی پی ٹی آئی کی درخواست ضمانت منظور کر لی گئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی کو توشہ خانہ ٹو کیس میں رہا کرنے کا حکم دے دیا،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے درخواست ضمانت منظور کی،عمران خان کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے عدالت میں دلائل دیے، عمران خان کی بہنیں بھی کمرہ عدالت میں موجود تھیں،

    عمران خان کی توشہ خانہ ٹو کیس میں ضمانت کی درخواست پر سماعت وقفے کے بعد دوبارہ شروع ہوئی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے سماعت کی،ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے بشریٰ بی بی کے ٹرائل کورٹ میں پیش نہ ہو کر فردِ جرم موخر کرانے کا معاملہ اٹھا دیا ،ایف آئی اے اسپیشل پراسیکیوٹر عمیر مجید نے کہا کہ ٹرائل کورٹ میں ملزمان کے کنڈکٹ کا معاملہ عدالت کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں، بشریٰ بی بی کی اس عدالت نے ضمانت منظور کی تھی، بشریٰ بی بی ٹرائل کورٹ میں پیش نہیں ہو رہیں جس کی وجہ سے فردِ جرم تاخیر کا شکار ہو رہی ہے، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ بشریٰ بی بی پیش نہیں ہو رہیں اور فردِ جرم تاخیر کا شکار کر رہی ہیں تو ضمانت منسوخی کی درخواست دائر کریں، ایف آئی اے پراسکیوٹر نے کہا کہ ٹرائل کورٹ نے اس پر نوٹس جاری کر رکھا ہے،

    ایف آئی اے پراسیکیوٹر نےجیولری کا تخمینہ لگانے والے پرائیویٹ شخص صہیب عباسی کا بیان پڑھا کہ اُس پر پریشر ڈال کر جیولری سیٹ کی قیمت کم لگوائی گئی تو جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے سوال پوچھ لیا کہ صہیب عباسی نے تو جیولری سیٹ دیکھا تھا کیا اُس نے بعد میں جیولری سیٹ کی کوئی قیمت بتائی کہ یہ اندازاً کتنے کا ہونا چاہیے؟ وہ نہیں کہتا کہ اسکی قیمت تقریباً اتنی ہونی چاہیے لیکن مجھ پر پریشر ڈال کر کم قیمت لگوائی گئی؟

    دوران سماعت جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ انعام اللہ شاہ نے عمران خان سے منسوب کر کے دھمکی والی بات خود کر دی ہو گی، اُس نے صہیب عباسی کو خود کہہ دیا ہو گا کہ اگر ایسا نہ کیا تو تمہیں سرکاری کنٹریکٹس کیلئے بلیک لسٹ کر دینگے، ایسا ہو سکتا ہے کہ اُس نے شاہ سے زیادہ شاہ کا وفادار بن کر یہ کہہ دیا ہو،

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ جن تین کسٹمز افسران نے قیمت غلط لگائی اُن سے متعلق کیا کارروائی ہوئی؟ ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے کہا کہ کسٹمز افسران سے کوتاہی ہوئی لیکن وہ کرمنل مس کنڈکٹ نہیں تھا، نیب کی جانب سے اُن افسران کے خلاف کوئی محکمہ جاتی کارروائی کی سفارش نہیں کی گئی،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیئے کہ چلیں کہہ دیتے ہیں کہ وہ بہت اچھے لوگ ہیں،

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے عمران خان کی ضمانت منظور کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ میری رائے کے مطابق یہ سارا کیس تخمینہ لگانے والے پرائیوٹ شخص کی شہادت پر ہے، شہادت کا معاملہ پراسیکیوٹنگ ایجنسی کو ثابت کرنا ہوتا ہے، میں عمران خان کی درخواست ضمانت منظور کر رہا ہوں، اسلام آباد ہائیکورٹ نےعمران خان کو دس لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا حکم دے دیا،

    اسلام آباد کی تمام پراسیکوشن ایجنسیز نے توشہ خانہ کیس پر ہاتھ سیدھا کیا ،وکیل عمران خان
    عمران خان کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد کی تمام پراسیکوشن ایجنسیز نے اس توشہ خانہ کیس پر ہاتھ سیدھا کیا ہے نیب ، ایف آئی اے ، پولیس ، الیکشن کمیشن نے بھی توشہ خانہ کیس کیا ہے پولیس نے بھی توشہ خانہ جعلی رسید کا کیس بنایا ہوا ہے ،اب ایف آئی اے یہ کیس چلا رہی ہے، میری خواہش ہے کہ عدالت کو کسی فیصلے میں Political Victimization سے متعلق آبزرویشنز دینی چاہئیں، الزام ہے بانی پی ٹی آئی نے ذاتی مفاد کے لیے اپنا اثرو رسوخ استعمال کیا ، اس چالان میں یہ واضح نہیں مرکزی ملزم کون ہے؟ دو ملزمان ہیں اس میں دفعہ 109 میں کس کا کردار ہے کوئی واضح نہیں ، توشہ خانہ نیب کیس میں بانی پی ٹی آئی کو 14 سال سزا ہوئی ہے،عدالت نے استفسار کیا کہ اسلام آباد پولیس نے کیا مقدمہ بنایا ہے؟بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ تھانہ کوہسار پولیس نے جعلی رسیدوں کا مقدمہ بنایا ہے، توشہ خانہ پالیسی کے مطابق تحائف لئے گئے ہیں، اس وقت ان تحائف کی جو مالیت تھی پالیسی کے مطابق ادا کرکے لیا ہے،اس مقدمے کا اندراج ساڑھے تین برس سے زائد تاخیر سے کیا گیا، کوئی جرم نہیں ہوا،جس کیس میں جرم واضح نہ ہو تو کیس مزید انکوائری اور ضمانت کا ہے، بانی پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر کے دلائل مکمل ہو گئے، سلمان صفدر نے کہا کہ میں کچھ چیزوں کو تحریری جمع کروادونگا ، دوران سماعت سلمان صفدر نے اپنے دلائل میں کہا کہ صہیب عباسی کہتا ہے مجھے بانی پی ٹی آئی نے تھریٹ کیا ،بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی تو ملاقات ہی صہیب عباسی سے کبھی نہیں ہوئی ،انعام اللہ جس کو گواہ ایف آئی اے نے بنایا ہے اس سے متعلق صہیب عباسی کہہ رہا ہے اس کی ملاقات ہوئی ،کسٹم کے تینوں افسران نے اپنے بیان میں کہا کہ ہم پر پریشر نہیں تھا،اگر پریشر نہیں تھا تو انہوں نے پھر صحیح قیمت کیوں نہیں لگائی ،صہیب عباسی ایک شخص آتا ہے وہ اپنا بیان بھی قسطوں میں دیتا ہے ،گراف جیولری لسٹ پر الگ اب بلغاری سیٹ پر الگ بیان دیا ہے ،

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کے پی ٹی آئی حکومت کی توشہ تفصیلات خفیہ رکھنے کی پالیسی پراہم ریمارکس سامنے آئے ہیں،دوران سماعت جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پچھلی حکومت توشہ خانہ کی تفصیلات نہیں بتاتی تھی، ہم پوچھتے تھے تو توشہ خانہ کی تفصیلات چھپائی جاتی تھیں، ہائیکورٹ میں گزشتہ حکومت آرہی تھی کہ توشہ خانہ کا کسی کو پتہ نہیں ہونا چاہیے

    ایف آئی اے کے اسپیشل پراسیکوٹر عمیر مجید ملک نے اپنے دلائل کا آغاز کر دیا، ایف آئی اے پراسکییوٹر نے کیس سے متعلق دستاویزات عدالت میں پڑھے،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ کیا آپ نے گواہوں کے بیانات پڑھے ہیں ؟ تفتیشی افسر نے کہا کہ 18 ستمبر کو گواھوں کو نوٹس کیا تھا ، گواہ آئے تھے انہوں نے (پہلے سے نیب کو دئیے)بیانات کی تصدیق کی ، عدالت نے استفسار کیا کہ کیا آپ نے خود گواھوں کے بیانات پڑھے ہیں ؟ ایف آئی اے تفتیشی افسر نے کہا کہ جی 19 ستمبر کو میں نے پڑھے تھے ،بلغاری سیٹ توشہ خانہ میں جمع ہی نہیں کرایا گیا، ریاست کے تحفے کی کم قیمت لگوا کر ریاست کو نقصان پہنچایا گیا، عمران خان اور اُنکی بیوی دونوں نے فائدہ اٹھایا،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ بانی پی ٹی آئی کو کیسے فائدہ ہوا؟ ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے کہا کہ جب بیوی کو فائدہ ملا تو شوہر کا بھی فائدہ ہوا،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ او پلیز، میری بیوی کی چیزیں میری نہیں ہیں،ہم پتہ نہیں کس دنیا میں ہیں ،

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

    جعلی ڈگری،جسٹس طارق جہانگیری کے خلاف ریفرنس دائر

    عمران خان کی 190 ملین پاؤنڈز کیس میں ضمانت منسوخی کی درخواست دائر

    نو مئی واقعات کی چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے سامنے مذمت کی تھی،عمران خان

  • عمران خان کو تمام مقدمات میں عبوری ضمانت دینے کی استدعا مسترد

    عمران خان کو تمام مقدمات میں عبوری ضمانت دینے کی استدعا مسترد

    لاہور ہائیکورٹ نے عمران خان کو تمام مقدمات میں عبوری ضمانت دینے کی استدعا مسترد کردی

    لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس فاروق حیدر نے عمران خان کے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات کے لیے ان کی بہن نورین نیازی کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کی،دوران سماعت محکمہ داخلہ پنجاب اور وفاق کی جانب سے بانی پی ٹی آئی پر درج مقدمات کی رپورٹس عدالت میں پیش کی گئی،عدالت کو بتایا گیا کہ عمران خان کے خلاف اسلام آباد پولیس نے 62 کیسز درج کررکھے ہیں اور پنجاب کی حدود میں 54 مقدمات درج ہیں۔

    سماعت کے دوران درخواست گزار عمران خان کے وکیل نے عدالت سے درخواست کی کہ عمران خان کو تمام مقدمات میں ضمانت دی جائے، جسٹس فاروق حیدر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میرے نزدیک ملزم کا ضمانت قبل از گرفتاری میں عدالت کے روبرو پیش ہونا ضروری ہے، عدالت نے تمام رپورٹس کی روشنی میں درخواست نمٹا دی۔

    اسرائیل نیازی گٹھ جوڑ بے نقاب،صیہونی لابی عمران کو بچانے کیلئے متحرک

    عمران خان بطور وزیراعظم اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کیلئے تیار تھے،دعویٰ آ گیا

    عمران خان اور پی ٹی آئی نے ملک دشمنی میں تمام حدیں پار کر دیں

  • سپریم کورٹ،ججز اور بیوروکریٹس کو پلاٹ الاٹمنٹ کیس،اپیل منظور

    سپریم کورٹ،ججز اور بیوروکریٹس کو پلاٹ الاٹمنٹ کیس،اپیل منظور

    اسلام آباد کے سیکٹر ایف 14 اور 15 میں ججز اور بیوروکریٹس کو پلاٹ الاٹمنٹ کیس کی سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ نے فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ اتھارٹی کی اپیل منظور کرلی،سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا،سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کو دوبارہ معاملہ دیکھنے کی ہدایت کر دی،اسلام آباد ہائی کورٹ نے فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ اسکیم کو غیر آئینی قرار دیا تھا،جسٹس منیب اختر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے 21 مئی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا

    جسٹس عائشہ ملک نے بطور چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ کے فیصلے کو غیر آئینی اور اختیارات سے تجاوز قرار دے دیا
    ججز پلاٹس کیس: جسٹس عائشہ ملک نے بطور چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ کے فیصلے کو غیر آئینی اور اختیارات سے تجاوز قرار دے دیا لکھا کہ پلاٹس کی اُس الاٹمنٹ کو بھی ہائیکورٹ نے معطل کیا، جو اُس کے سامنے تھا ہی نہیں، عدالتوں کا اپنا دائرہ اختیار بڑھانا قبول نہیں.
    ایف 14 اور ایف 15 میں بیوروکریٹس اور اعلیٰ عدلیہ کے ججز کے پلاٹس کا معاملہ،سپریم کورٹ نے جسٹس اطہر من اللہ کے فیصلے کو غیر آئینی اور اختیارات سے تجاوز قرار دیدیا،جسٹس عائشہ ملک کا تحریر کردہ 14 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کر دیا گیا،فیصلے میں کہا گیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے پلاٹس سے متعلق اس نظرثانی شدہ پالیسی کو غیر آئینی قرار دیا جو ہائیکورٹ میں چیلنج ہی نہیں تھی،22 نومبر 2022 کو پلاٹس کی نظرثانی شدہ پالیسی اس دن عدالت کے سامنے آئی جس دن فیصلہ محفوظ کیا گیا،پلاٹس کی نظرثانی شدہ پالیسی پر نہ دلائل دیے گئے نہ ہی وفاقی حکومت کو سنا گیا، اسلام آباد ہائی کورٹ نے فیصلے میں اشرافیہ کے وسائل پر قبضے اور ججز پلاٹس کا زکر کیا، اسلام آباد ہائی کورٹ نے جو کہا وہ کیس اس کے سامنے تھا ہی نہیںججز کے پلاٹس کی اس الاٹمنٹ کو بھی ہائی کورٹ نے معطل کیا جو اس کے سامنے تھا ہی نہیں، یہ آئینی طور پر ناقابل قبول ہے کہ عدالتیں اپنے دائرۂ اختیار کو وسعت دیں، نہ تو آئین اور نہ ہی قانون اس کی اجازت دیتا ہے۔توفیق آصف کیس میں اس عدالت نے قرار دیا ہے کہ ہائی کورٹ ایسی ریلیف نہیں دے سکتی جو درخواست میں مانگی ہی نہ گئی ہو، ہائی کورٹ خود سے کسی پالیسی کو غیر آئینی یا غیر قانونی قرار نہیں دے سکتی، اسلام ہائی کورٹ نے اپنے اختیارات سے تجاوز کرکے نظرثانی شدہ پالیسی کو غیر آئینی قرار دیا ،آرٹیکل 10 اے کے تحت ہر شخص کو شنوائی کا حق دینا آئینی تقاضا ہے،اسلام آباد ہائی کورٹ کو ایسا فیصلہ دینے سے قبل تمام فریقین کو سننا چاہیے تھا،ہائی کورٹ کسی معاملے کو اس وقت سن سکتی جب اس سامنے کوئی فریق ہو،

    جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں دو رکنی بنچ کا اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ اختیارات سے تجاوز قرار دے دیا گیا،سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے میں آئین اور قانون کی خلاف ورزی کی گئی، عدنان سید کی اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر التوا اپیل بحال کی جاتی ہے،اسلام آباد ہائی کورٹ اپیل پر فیصلے کی مصدقہ نقل کے بعد 90 دن میں فیصلہ کرے، پلاٹس سے متعلق اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر التوا رٹ پٹیشن بھی بحال کی جاتی ہے،سپریم کورٹ میں آئے وہ فریقین جو اسلام آباد میں فریق نہیں تھے وہ بھی عدالت عالیہ میں فریق بن سکتے ہیں،ہماری عدالتی آبزرویشنز سے متاثر ہوئے بغیر اسلام آباد ہائی کورٹ کیس کا فیصلہ کرے

    واضح رہے کہ 2021 میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے گریڈ 22 کے افسران ، ججز اور سول سرونٹس کو پلاٹس کی الاٹمنٹ غیرقانونی قرار دے دی تھی ججز، افسران اور سول سرونٹس کو پلاٹس کی الاٹمنٹ کے حوالے سے دائردرخواست پر 20 اگست کو چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے حکم امتناع جاری کرتے ہوئے اسلام آباد ہائیکورٹ اور ضلعی عدلیہ کے ججوں کو پلاٹوں کی الاٹمنٹ معطل کردی تھی، ریاض حنیف راہی ایڈوکیٹ کی درخواست پر محفوظ فیصلہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے سنایا تھا،فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ اتھارٹی ایف 14 ،ایف 15 کے مختلف کیٹگریز کے4700 پلاٹس کی قرعہ اندازی کی گئی تھی، جس میں سابق چیف جسٹس گلزار احمد، سابق چیف جسٹس آف پاکستان انور ظہیر جمالی اور پانامہ کیس کا فیصلہ تحریر کرنے والے اعجاز افضل خان سمیت معروف ججز اور بیوروکریسی سے تعلق رکھنے والی شخصیات کے بھی پلاٹ نکلے تھے۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلے میں کہا تھا کہ ایف 12، جی 12، ایف 14 اور 15 کی اسکیم غیرقانونی اورمفاد عامہ کیخلاف ہے، ریاست کی زمین اشرافیہ کیلیے نہیں، صرف عوامی مفاد کیلئے ہے، جج، بیورکریٹس، پبلک آفس ہولڈرز مفاد عامہ کیخلاف ذاتی فائدے کی پالیسی نہیں بنا سکتے جج اور بیوروکریٹس اصل اسٹیک ہولڈر یعنی عوام کی خدمت کیلئے ہیں،فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاوسنگ اتھارٹی آئین کیخلاف کوئی اسکیم نہیں بنا سکتی،

    مونال ریسٹورینٹ سیل کرنے کا اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم معطل

    مونال ریسٹورنٹ کو کھولنے کی استدعا سپریم کورٹ نے کی مسترد

    مونال ریسٹورنٹ کو سیل کھولنے کی استدعا پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ

    مونال کی بندش کیخلاف انٹراکورٹ اپیل،کیا پھر دارالحکومت کو پنجاب کے حوالے کر دیں؟ عدالت

    مارگلہ کے پہاڑوں پر قبضہ،درختوں کی کٹائی جاری ،ادارے بنے خاموش تماشائی

    سپریم کورٹ کا مارگلہ ہلز میں مونال ریسٹورنٹ کے حوالہ سے بڑا حکم

    مارگلہ ہلز ، درختوں کی غیرقانونی کٹائی ،وزارت موسمیاتی تبدیلی کا بھی ایکشن

  • میڈیا اگر سنسنی نہیں پھیلائے گا تو ان کا کاروبار کیسے ہوگا، جسٹس میاں گل حسن اونگزیب

    میڈیا اگر سنسنی نہیں پھیلائے گا تو ان کا کاروبار کیسے ہوگا، جسٹس میاں گل حسن اونگزیب

    اسلام آباد ہائیکورٹ: توشہ خانہ ٹو کیس میں بانی پی ٹی آئی کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کیس کی سماعت کی،گزشتہ سماعت پر ایف آئی اے پراسیکیوٹر عمیر مجید ملک پیش نہ ہو سکے تھے ، وکیل سلمان صفدر اور پی ٹی آئی رہنما علی محمد خان اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچ گئے، عمران خان کی بہن علیمہ خان بھی عدالت پہنچ گئیں،ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے کہا کہ توشہ خانہ ٹو ضمانت کیس،عدالت جو بھی فیصلہ کرے لیکن میڈیا میں پہلے سے ہے کہ ضمانت منظور ہو جائے گی، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میڈیا کو چھوڑ دیں، اُن سے خود کو مستثنیٰ کر لیں،میڈیا میں کہا جاتا ہے کہ جان کر بیمار ہو گیا، جان کر نہیں آیا، میڈیا اگر سنسنی نہیں پھیلائے گا تو ان کا کاروبار کیسے ہوگا، جسٹس میاں گل حسن اونگزیب نے صحافیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اب میں ان کا کیا کروں انکو کمرہ عدالت سے نکال دوں آپ چاہتے کیا ہیں،پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ ہمیں بہت کالیں آئی ہیں کہ یہ کیا چل رہا ہے، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ آپ میڈیا سے دور رہیں مجھے تو یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جان بوجھ کر بیمار ہوئے،

    اسلام آباد کی تمام پراسیکوشن ایجنسیز نے توشہ خانہ کیس پر ہاتھ سیدھا کیا ،وکیل عمران خان
    عمران خان کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد کی تمام پراسیکوشن ایجنسیز نے اس توشہ خانہ کیس پر ہاتھ سیدھا کیا ہے نیب ، ایف آئی اے ، پولیس ، الیکشن کمیشن نے بھی توشہ خانہ کیس کیا ہے پولیس نے بھی توشہ خانہ جعلی رسید کا کیس بنایا ہوا ہے ،اب ایف آئی اے یہ کیس چلا رہی ہے، میری خواہش ہے کہ عدالت کو کسی فیصلے میں Political Victimization سے متعلق آبزرویشنز دینی چاہئیں، الزام ہے بانی پی ٹی آئی نے ذاتی مفاد کے لیے اپنا اثرو رسوخ استعمال کیا ، اس چالان میں یہ واضح نہیں مرکزی ملزم کون ہے؟ دو ملزمان ہیں اس میں دفعہ 109 میں کس کا کردار ہے کوئی واضح نہیں ، توشہ خانہ نیب کیس میں بانی پی ٹی آئی کو 14 سال سزا ہوئی ہے،عدالت نے استفسار کیا کہ اسلام آباد پولیس نے کیا مقدمہ بنایا ہے؟بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ تھانہ کوہسار پولیس نے جعلی رسیدوں کا مقدمہ بنایا ہے، توشہ خانہ پالیسی کے مطابق تحائف لئے گئے ہیں، اس وقت ان تحائف کی جو مالیت تھی پالیسی کے مطابق ادا کرکے لیا ہے،اس مقدمے کا اندراج ساڑھے تین برس سے زائد تاخیر سے کیا گیا، کوئی جرم نہیں ہوا،جس کیس میں جرم واضح نہ ہو تو کیس مزید انکوائری اور ضمانت کا ہے، بانی پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر کے دلائل مکمل ہو گئے، سلمان صفدر نے کہا کہ میں کچھ چیزوں کو تحریری جمع کروادونگا ، دوران سماعت سلمان صفدر نے اپنے دلائل میں کہا کہ صہیب عباسی کہتا ہے مجھے بانی پی ٹی آئی نے تھریٹ کیا ،بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی تو ملاقات ہی صہیب عباسی سے کبھی نہیں ہوئی ،انعام اللہ جس کو گواہ ایف آئی اے نے بنایا ہے اس سے متعلق صہیب عباسی کہہ رہا ہے اس کی ملاقات ہوئی ،کسٹم کے تینوں افسران نے اپنے بیان میں کہا کہ ہم پر پریشر نہیں تھا،اگر پریشر نہیں تھا تو انہوں نے پھر صحیح قیمت کیوں نہیں لگائی ،صہیب عباسی ایک شخص آتا ہے وہ اپنا بیان بھی قسطوں میں دیتا ہے ،گراف جیولری لسٹ پر الگ اب بلغاری سیٹ پر الگ بیان دیا ہے ،

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کے پی ٹی آئی حکومت کی توشہ تفصیلات خفیہ رکھنے کی پالیسی پراہم ریمارکس سامنے آئے ہیں،دوران سماعت جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پچھلی حکومت توشہ خانہ کی تفصیلات نہیں بتاتی تھی، ہم پوچھتے تھے تو توشہ خانہ کی تفصیلات چھپائی جاتی تھیں، ہائیکورٹ میں گزشتہ حکومت آرہی تھی کہ توشہ خانہ کا کسی کو پتہ نہیں ہونا چاہیے

    ایف آئی اے کے اسپیشل پراسیکوٹر عمیر مجید ملک نے اپنے دلائل کا آغاز کر دیا، ایف آئی اے پراسکییوٹر نے کیس سے متعلق دستاویزات عدالت میں پڑھے،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ کیا آپ نے گواہوں کے بیانات پڑھے ہیں ؟ تفتیشی افسر نے کہا کہ 18 ستمبر کو گواھوں کو نوٹس کیا تھا ، گواہ آئے تھے انہوں نے (پہلے سے نیب کو دئیے)بیانات کی تصدیق کی ، عدالت نے استفسار کیا کہ کیا آپ نے خود گواھوں کے بیانات پڑھے ہیں ؟ ایف آئی اے تفتیشی افسر نے کہا کہ جی 19 ستمبر کو میں نے پڑھے تھے ،بلغاری سیٹ توشہ خانہ میں جمع ہی نہیں کرایا گیا، ریاست کے تحفے کی کم قیمت لگوا کر ریاست کو نقصان پہنچایا گیا، عمران خان اور اُنکی بیوی دونوں نے فائدہ اٹھایا،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ بانی پی ٹی آئی کو کیسے فائدہ ہوا؟ ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے کہا کہ جب بیوی کو فائدہ ملا تو شوہر کا بھی فائدہ ہوا،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ او پلیز، میری بیوی کی چیزیں میری نہیں ہیں،ہم پتہ نہیں کس دنیا میں ہیں ،

    توشہ خانہ ٹو کیس بانی پی ٹی آئی کی درخواست ضمانت میں وقفہ کر دیا گیا، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ ڈویژن بنچ کی سماعت کے بعد کیس رکھ لیتے ہیں ،

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

    جعلی ڈگری،جسٹس طارق جہانگیری کے خلاف ریفرنس دائر

    عمران خان کی 190 ملین پاؤنڈز کیس میں ضمانت منسوخی کی درخواست دائر

    نو مئی واقعات کی چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے سامنے مذمت کی تھی،عمران خان