Baaghi TV

Tag: عدالت

  • بشریٰ نے تحائف جمع نہیں کرائے تو بانی پی ٹی آئی ملزم کیوں؟ عدالت

    بشریٰ نے تحائف جمع نہیں کرائے تو بانی پی ٹی آئی ملزم کیوں؟ عدالت

    توشہ خانہ بشریٰ بی بی ضمانت کیس کی اسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر آپکو یا ڈپٹی اٹارنی جنرل صاحب کو موقع ملے تو آذربائیجان جا کر دیکھیں، آذربائیجان میں ایک ایسا میوزیم ہے جہاں پر گفٹ رکھے جاتے ہیں،پوری دنیا کے صدور کو جو گفٹ ملتے ہیں وہ انکی تصاویر کیساتھ وہاں رکھے جاتے ہیں،یاسر عرفات کی جانب سے مسجد اقصی کے ماڈل کا تحفہ بھی وہاں موجود ہے،وہاں جانا ہوا تو ہم بھی ڈھونڈتے رہے مجھے وہاں پر محترمہ بینظیر بھٹو شہید کی تصویر نظر آئی،بد قسمتی سے کسی اور کی کوئی تصویر نظر نہیں آئی،بشریٰ بی بی نے تحائف جمع نہیں کرائے تو بانی پی ٹی آئی کو ملزم کیوں بنایا گیا؟ایف آئی اے پراسیکیوٹر عمیر مجید نے کہا کہ کیوں کہ پبلک آفس ہولڈر بانی پی ٹی آئی تھے،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ یہ تو قاضی فائز عیسٰی کی طرح کا کیس ہے،اُس کیس میں بھی شوہر کو بیوی کے کیے کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا، ایف آئی اے پراسکیوٹر عمیر مجید نے کہا کہ یہ کیس اُس سے تھوڑا مختلف ہے،

    بشریٰ بی بی کی توشہ خانہ ٹو کیس میں درخواست ضمانت منظور کر لی گئی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے فیصلہ سنایا

    عمران خان بطور وزیراعظم اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کیلئے تیار تھے،دعویٰ آ گیا

    حالات گرم،فیصلہ کا وقت آ گیا،سعودی عرب اسرائیل کے ہاتھ کیسے مضبوط کر رہا ہے؟ اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

    اسرائیل کوتسلیم کرنےکی مہم میں عمران خان ٹرمپ کےساتھ تھا:فضل الرحمان

    سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، نیب ترامیم بحال

  • سپریم کورٹ،برطرف ملازمین بحالی کی درخواست آئینی بینچز کو بھیج دی گئی

    سپریم کورٹ،برطرف ملازمین بحالی کی درخواست آئینی بینچز کو بھیج دی گئی

    سپریم کورٹ، برطرف ملازمین کی بحالی درخواستیں آئینی بنچز کو بھیج دی گئیں

    جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ پر سکون زندگی ہر شہری کا آئینی حق ہے، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ اس کیس میں آئینی سوال ہے،26 ویں آئینی ترمیم میں کہا گیا آئینی کیسز آئینی بنچز سنیں گے، اعلیٰ بنچز بنیں گے وہی تعین کریں گے، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ یہ کیس اہم آئینی بنچ ہی سنے گا، 26 ویں آئینی ترمیم کے تناظر میں آئینی سوال کے کیسز آئینی بنچز سنیں گے،درخواستیں آئینی بنچز کو بھیج رہے ہیں،

    وزارت پٹرولیم نیچرل ریسورس کے سات ملازمین نے ہائی کورٹ کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا

  • لانگ مارچ توڑ پھوڑ کیس: علی امین گنڈا پور کو اشتہاری قرار دینے کی کارروائی شروع

    لانگ مارچ توڑ پھوڑ کیس: علی امین گنڈا پور کو اشتہاری قرار دینے کی کارروائی شروع

    اسلام آباد: انسداد دہشت گردی عدالت اسلام آباد نے تحریک انصاف لانگ مارچ توڑ پھوڑ کیس میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور کو اشتہاری قرار دینے کی کارروائی شروع کر دی۔

    باغی ٹی وی : لانگ مارچ توڑ پھوڑ کیس کی سماعت انسداد دہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے کی، پی ٹی آئی وکلاء سردار مصروف اور دیگر عدالت پیش ہوئے،علی امین گنڈاپور کی مسلسل عدم پیشی پرعدالت نے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر رکھے تھے۔

    فیصل جاوید کی جانب سے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست عدالت نے منظور کرلی جبکہ عدم پیشی پر علی امین گنڈا پور کو اشتہاری قرار دینے کی کارروائی شروع کر دی،بعد ازاں انسداد دہشتگردی عدالت نے کیس کی سماعت 21 نومبر تک ملتوی کردی۔

  • انٹرا پارٹی انتخابات،پی ٹی آئی پھر سپریم کورٹ پہنچ گئی،لارجر بینچ تشکیل دینے کی استدعا

    انٹرا پارٹی انتخابات،پی ٹی آئی پھر سپریم کورٹ پہنچ گئی،لارجر بینچ تشکیل دینے کی استدعا

    انٹرا پارٹی انتخابات ،تحریک انصاف ایک بار پھر سپریم کورٹ پہنچ گئی، پی ٹی آئی نے لارجر بنچ تشکیل دینے کی درخواست دائر کر دی

    تحریک انصاف کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ کیس میں آئینی تشریح کا نکتہ موجود ہے،پہلے کیس سنتے ہوئے بنچ نے یہ اعتراض غلط خارج کیا،آئینی اعتراض پر سماعت کیلئے اس بنچ کی تشکیل قانونی نہیں تھی، الیکشن کمیشن متاثرہ فریق بن کر پارٹی کیخلاف عدالت نہیں جا سکتا تھا، 5یا 8 ججز پر مشتمل بنچ تشکیل دیا جائے، پی ٹی آئی کی سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں مخصوص نشستوں کے فیصلے کا بھی ذکر بھی کیا گیا ہے، پی ٹی آئی کی درخواست میں مزید کہا گیا کہ الیکشن کمیشن کے کنڈکٹ پر فیصلے آبزرویشنز موجود ہیں، لارجر بنچ بنا کر نظرثانی درخواست منظور کی جائے،

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے فیڈرل الیکشن کمشنر رؤف حسن کی جانب سے تفصیلات الیکشن کمیشن میں جمع کروائی گئیں تھیں جس پر الیکشن کمیشن نے اعتراض عائد کر دیا تھا اور پی ٹی آئی کو نوٹس جاری کئے تھے، رؤف حسن نے فارم 65 پر مشتمل پارٹی سربراہ کا سرٹیفیکیٹ بھی الیکشن کمیشن میں جمع کروا یا ،مرکزی اور صوبائی سطح پر نو منتخب پارٹی عہدے داروں کی تفصیلات شامل ہیں،مرکزی کور کمیٹی کے ارکان کے نام اور تفصیلات بھی شامل ہیں،فیڈرل الیکشن کمشنر کے نوٹیفکیشن کے علاوہ دیگر دستاویزات بھی الیکشن کمیشن میں جمع کروائی گئیں

    علاوہ ازیں،اکبر ایس بابر نے بھی پی ٹی آئی انٹراپارٹی انتخابات کو الیکشن کمیشن میں چیلنج کردیا ، اکبر ایس بابر نے الیکشن کمیشن میں مؤقف اختیار کیا کہ پی ٹی آئی انٹراپارٹی انتخابات کو کالعدم قرار دیا جائے۔اکبر ایس بابر نے الیکشن کمیشن میں باضابطہ درخواست دائر کردی، درخواست میں کہا گیا کہ ساڑھے 8 لاکھ میں سے 960 ووٹ پڑے ،سنی تحریک میں شامل ہونے والوں کو تحریک انصاف سے خارج کرنے کا حکم دیا جائے،پی ٹی آئی کے فنڈز منجمند کئے جائیں۔

    تحریک انصاف کے چیف الیکشن کمشنر رؤف حسن نے انٹرا پارٹی الیکشن کے نتائج کا اعلان کیا تھااور کہا تھا کہ انٹرا پارٹی الیکشن میں بیرسٹر گوہر چیئرمین اور عمر ایوب سیکریٹری جنرل منتخب ہوئے ہیں، اس بار الیکشن کمیشن پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی انتخابات تسلیم کرے گا اور ہمیں انتخابی نشان واپس ملے گا

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر کی ماسٹر کاپی وزارت خارجہ کے پاس موجود ہے،اعظم خان کا بیان

    عمران خان اور جیل سپرنٹنڈنٹ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ

    واضح رہے کہ پہلے اکبر ایس بابر کی درخواست پر ہی انٹرا پارٹی انتخابات کالعدم ہوئے تھے، تحریک انصاف نے سپریم کورٹ میں بھی انتخابی نشان کے لئے درخواست دائر کی تھی تا ہم درخواست مسترد کر دی گئی تھی، تحریک انصاف نے انتخابی نشان بلے کے بغیر الیکشن میں حصہ لیا ، آزاد امیدوار جیتے تو وہ سنی اتحاد کونسل میں شامل ہو گئے،

  • جی ایچ کیو حملہ کیس،سماعت ملتوی،عمران خان پر فردجرم عائد نہ ہو سکی

    جی ایچ کیو حملہ کیس،سماعت ملتوی،عمران خان پر فردجرم عائد نہ ہو سکی

    انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے نو مئی جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت 30 اکتوبر تک ملتوی کر دی ہے

    عدالت کے حکم پر سابق وزیر داخلہ شیخ رشید اور دیگر ملزمان میں فرد جرم کیلئے چالان کی نقول تقسیم کردی گئی ہیں تاہم جیل میں سماعت نہ ہونے کی وجہ سے عمران خان کو نقول نہ دی جاسکی جس کے باعث اس کیس میں فرد جرم عائد نہ ہو سکی، انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت کرتے ہوئے 28 ملزمان میں چالان کی نقول تقسیم کر دیں،عدالت نے ملزمان کو فرد جرم کے لئے 30 اکتوبر کو طلب کر لیا ،

    دوران سماعت عمران خان کے وکلاء نے انسداد دہشت گردی عدالت میں 3 درخواستیں دائر کیں جن میں بیٹوں سے ٹیلیفون پر بات چیت کرانے، وکلاء کی ملاقات اور ذاتی ڈاکٹر سے طبی معائنے سے متعلق درخواستیں شامل ہیں،عدالت نے تینوں درخواستوں کی سماعت مکمل کر کے فیصلہ محفوظ کر لیا

    واضح رہے کہ عمران خان اڈیالہ جیل میں قید ہیں، عمران خان سے ملاقاتوں پر حکومت نے پابندی عائد کر رکھی ہے، آج بلاول اور مولانا فضل الرحمان کی کوششوں سے پی ٹی آئی وفد کی عمران خان سے ملاقات طے ہوئی تھی لیکن پی ٹی آئی وفد عمران خان سے ملنے کی بجائے پھر مولانا فضل الرحمان کے پاس پہنچ گیا،بعد ازاں پی ٹی آئی وفد اڈیالہ جیل پہنچ گیا ،

    پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی سے منظور شدہ آئینی ترامیم کا ڈرافٹ سامنے آ گیا

    مولانا کی رہائشگاہ سیاسی سرگرمیوں کامرکز،اپوزیشن جماعتوں کے بعد بلاول پہنچ گئے

    وزیراعظم ،بلاول کی مولانا کے در پر حاضری،مولانا نے کھری کھری سنا دیں

    نمبر گیم پوری،پی ٹی آئی اراکین اغوا،کیا عمران خان رہا ہوں گے؟

    قومی اسمبلی اجلاس، ایوان میں بلاول کی عمر ایوب، بیرسٹر گوہر سے ملاقات

    آئینی ترمیم کیلئے سینیٹرز کو ہراساں،معاملہ سینیٹ پہنچ گیا،خاتون رکن رو پڑی

  • بیٹوں سے بات کروائی جائے،عمران خان کی عدالت میں درخواست دائر

    بیٹوں سے بات کروائی جائے،عمران خان کی عدالت میں درخواست دائر

    بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بیٹوں سے ٹیلی فون پر بات چیت اور وکلا سے ملاقات کے لیے تین الگالگ درخواستیں دائر کر دی گئی ہیں

    بانی پی ٹی آئی عمران خان کے وکلاءنے انسداد دہشت گردی عدالت میں 3 درخواستیں دائر کیں،عمران خان کے وکلا کی جانب سے عدالت میں دائر درخواستیں عمران خان کے بیٹوں سے ٹیلیفون پر بات چیت، وکلاء سے ملاقات اور طبی معائنے کے حوالہ سے ہیں، ملک فیصل ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر کی گئی درخواست میں کہا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے وکلاء کی ملاقات کرائی جائے، جی ایچ کیو حملہ کیس سے متعلق ہدایات لینی ہیں، دو ماہ سے بانی پی ٹی آئی کی بچوں سے بات چیت نہیں کرائی گئی، یہ آئینی حق ہے، میرے مؤکل کی بچوں سے گفتگو کرانے کا حکم دیا جائے،طویل عرصے سے بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالج کو معائنے کی اجازت نہیں دی جارہی، عمران خان کے ذاتی معالج کو ان سے ملنے اور چیک اپ کی اجازت دی جائے۔

    واضح رہے کہ عمران خان اڈیالہ جیل میں قید ہیں، عمران خان سے ملاقاتوں پر حکومت نے پابندی عائد کر رکھی ہے، آج بلاول اور مولانا فضل الرحمان کی کوششوں سے پی ٹی آئی وفد کی عمران خان سے ملاقات طے ہوئی تھی لیکن پی ٹی آئی وفد عمران خان سے ملنے کی بجائے پھر مولانا فضل الرحمان کے پاس پہنچ گیا،

    پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی سے منظور شدہ آئینی ترامیم کا ڈرافٹ سامنے آ گیا

    مولانا کی رہائشگاہ سیاسی سرگرمیوں کامرکز،اپوزیشن جماعتوں کے بعد بلاول پہنچ گئے

    وزیراعظم ،بلاول کی مولانا کے در پر حاضری،مولانا نے کھری کھری سنا دیں

    نمبر گیم پوری،پی ٹی آئی اراکین اغوا،کیا عمران خان رہا ہوں گے؟

    قومی اسمبلی اجلاس، ایوان میں بلاول کی عمر ایوب، بیرسٹر گوہر سے ملاقات

    آئینی ترمیم کیلئے سینیٹرز کو ہراساں،معاملہ سینیٹ پہنچ گیا،خاتون رکن رو پڑی

    اڈیالہ جیل میں ملاقاتوں پر پابندی میں دو روز کی توسیع
    دوسری جانب راولپنڈی اڈیالہ جیل میں ملاقاتوں پر پابندی میں توسیع کر دی گئی ہے،ملاقاتوں میں پابندی پر توسیع مزید دو روز کے لیے کی گئی ہے، عمران خان سمیت اڈیالہ جیل میں قیدیوں سے ملاقاتوں پر پابندی ایس سی او اجلاس کی سیکورٹی کی وجہ سے 18 اکتوبر تک تھی تا ہم اب حکومت نے دو روز کی مزید توسیع کر دی ہے،

  • ہر بچہ کہہ رہا تھا  زیادتی ہوئی  مگر کسی کے پاس کوئی ثبوت نہیں،سرکاری وکیل

    ہر بچہ کہہ رہا تھا زیادتی ہوئی مگر کسی کے پاس کوئی ثبوت نہیں،سرکاری وکیل

    لاہور ہائیکورٹ،تعلیمی اداروں میں طالبات کو ہراساں کرنے سے متعلق کیس پر سماعت ہوئی

    آئی جی پنجاب عثمان انور ہائیکورٹ میں پیش ہوئے،لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ لا افسر صاحب آپ بتائیں اس میں کیا کیا ، ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ پوسٹ میں کہا گیا نجی کالج کی لڑکی کے ساتھ ریپ ہوا ،مختلف گروپس میں یہ خبر فوری پھیلی،کیمپس 10 کی بچیوں نے ہنگامہ آرائی شروع کی جب بچیوں کو محفوظ کرنے کے لیے اوپر کلاسز میں روکا گیا تو پھر ایک نئی بات شروع ہو گئی ،یہ واقع نو اور دس اکتوبر کا ہے ، ایک بچی گھر میں گری اور اسکو جنرل ہسپتال میں لایا گیا ،گیارہ اکتوبر کو یہ بچی ڈسچارج ہوتی ہے اور گھر آتی ہے ، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آئی جی پنجاب کہاں ہیں ؟ ڈی آئی جی فیصل کامران نے کہا کہ وہ عدالت سے باہر ہیں، چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ وہ عدالت سے باہر کیوں ہیں ؟

    آئی جی پنجاب عدالت میں پہنچ گئے،لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ عدالت کے وقت آپ باہر کیوں تھے؟ویڈیوز کو روکنے کا کام آدھے گھنٹے کا تھا، آئی جی پنجاب نے کہا کہ ہمارے پاس اس حوالے سے کوئی اتھارٹی نہیں ہے، لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ کیا آپ کسی اتھارٹی کے پاس گئے؟ آئی جی پنجاب نے کہا کہ ہم پی ٹی اے کے پاس گئے،یہ ویڈیوز 13, 14 اکتوبر کو وائرل ہونا شروع ہوئیں، سی ٹی ڈی نے 114 اکاؤنٹس کی شناخت کی، لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ آپ کو فوراً ایف آئی اے سے رابطہ کرنا تھا، آئی جی پنجاب نے کہا کہ ہم نے فورا ایف آئی اے سے رابطہ کیا،پولیس نے 700 سے زائد اکاؤنٹس کی شناخت کی، انگلینڈ میں بھی اپلوڈ روکنے کی طاقت نہیں ہے،لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ وہاں کی بات مت کریں، آئی جی پنجاب نے کہا کہ ہم نے وزارت داخلہ سے بات کی، انہیں مراسلے لکھے، 700 سے زائد اکاؤنٹس پر یہ ویڈیوز چل رہی تھیں،ان کو بند کرنے کا اختیار پی ٹی اے کے پاس ہے،ہمارے پاس جتنی اتھارٹی ہے، ہم اس پر کام کرنا شروع ہو گئے تھے،ہم نے کچھ اکاؤنٹس کی شناخت کی، وہ ابھی تک ڈیلیٹ نہیں ہوئے، لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ اگر ارادہ ہو تو سارے کام ہوتے ہیں، آئی جی پنجاب نے کہا کہ ہمارا کیوں ارادہ نہیں تھا،

    ہم جسے گرفتار کرتے ہیں وہ اگلے دن ہیرو بن جاتا ہے،سرکاری وکیل کی پنجاب کالج بارے فیک نیوز دینے والے ملزم کی رہائی پر مایوسی
    لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ایڈوکیٹ جنرل پنجاب سے استفسار کیا کہ کیا حکومت پنجاب نے اس حوالے سے کچھ کیا ؟ ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ انسٹاگرام پر ایک پوسٹ اپلوڈ ہوئی کہ نجی کالج میں ایک طالبہ سے مبینہ زیادتی کا واقعہ ہوا ہے،علاقے کے اے ایس پی کالج پرنسپل سے ملے، سی سی ٹی وی چیک کیا، ہر بچہ کہہ رہا تھا کہ زیادتی ہوئی ہے مگر کسی کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے،دوسرے کیمپس کے بچے بھی اس کیمپس پہنچ گئے،ایک منظم طریقے سے یہ سب کچھ ہوا،صرف یہ ایک بچی ہسپتال نہیں آرہی تھی تو کسی نے کہا کہا کہ ہمیں زیادتی کا شکار بچی مل گئی ہے،صرف اس بنا پر کہ بچی کالج نہیں آ رہی اسے زیادتی کی افواہ سے جوڑ دیا گیا ہے، اگر آپ کہیں گے تو میں آپ کی اس بچی سے ملاقات کروا سکتا ہوں،ایک اور صاحب نے جو خود کو وکیل کہتے ہیں ان بچیوں کا حوالہ دیتے ہوئے ایک ویڈیو بنائی، اس وکیل کو مجسٹریٹ کی جانب سے مقدمے سے بری کر دیا گیا، مقدمے سے بری کرنے کا نیا رواج چل پڑا ہے،ہم جسے گرفتار کرتے ہیں وہ اگلے دن ہیرو بن جاتا ہے، ہم شاید اتوار کے دن تعین نہیں کرسکے کہ اتوار کو کیا ہونے جا رہا ہے، ہمارے حوالے سے کچھ ناکامیاں ضرور ہیں۔

    اس وقت جو بچے سڑکوں پر ہیں کیا وہ اس اسٹیٹ آف مائنڈ میں ہیں کہ دوبارہ کالج آسکیں،عدالت
    لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ہم یہ نہیں کہتے کہ یہ ایک منظم طریقے سے ہوا مگر جب یہ ہوا موقع پرستوں نے فائدہ اٹھایا، لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی میں ہراسانی کی کتنی شکایات ہیں؟ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ 14 اکتوبر کو ایک بچی نے ہراسانی کی درخواست دی،لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے ریمارکس دیئے کہ اس شخص کے خلاف کتنی شکایات ہیں؟رجسٹرار لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی نے جواب دیا کہ اس شخص کے حوالے سے ایک ہی شکایت ہوئی ہے، ہم نے مذکورہ شخص کو معطل کر دیا ہے، ہماری ہراسمنٹ کمیٹی بہت عمدہ طریقے سے کام کر رہی ہے،لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے سوال کیا کہ اس شخص کے پاس طالبہ کا نمبر کیسے آیا؟رجسٹرار نے کہا کہ ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی یہ ہے کہ وہ نمبر مذکورہ شخص کا نہیں تھا،چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے ریمارکس دیئے کہ آپ یہ کیسے کہہ سکتی ہیں، کوئی ڈاکومنٹ دیں،رجسٹرار یونیورسٹی نے کہا کہ ہم اس حوالے سے رپورٹ جمع کروائیں گے،لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ریمارکس دیئے کہ آج بھی کوئی کہتا ہے کہ اس نے یہ واقعہ ہوتے دیکھا ہے تو اس عدالت میں پیش ہو، جو نقصان ہوا ہے کالج کی بلڈنگ کا اس کو کیا والدین پورا کریں گے، اگر کسی بات کا غصہ ہے تو سب سے پہلے اپنا گھر توڑیں،ایک فیک نیوز پر اگر ایسا ہوا تو انتہائی افسوس ناک ہے، بچوں کے مستقبل کا سوچیں، بچوں کا مستقبل خرابی کی طرف جارہا ہے، بچوں کی تعلیم کا بہت بڑا نقصان ہورہا ہے،ایک دن چھٹی ہو جائے تو تعلیمی شیڈول میں اس کو ریکور نہیں کیا جاسکتا،اس وقت جو بچے سڑکوں پر ہیں کیا وہ اس اسٹیٹ آف مائنڈ میں ہیں کہ دوبارہ کالج آسکیں،ایسے لگتا ہے کہ ایک ماہ تک بچے کالجز کا رخ نہیں کریں گے، کیا والدین دوبارہ بچوں کو کالجز بھیج پائیں گے؟ بچوں کے مستقبل کا سوچیں، فوری ایکشن لیں جہاں طالبات موجود ہیں وہاں مردوں کو موجودگی ممنوع کریں،والدین کا بھروسہ دوبارہ بحال کیجیے۔

    ڈی جی ایف آئی اے پنجاب یونیورسٹی خودکشی، پنجاب کالج زیادتی اور لاہور کالج ہراسگی شکایت کیس کی تحقیقات کرینگے،عدالت
    لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ یہ کیس بہت اہم ہے اس پر فل بنچ بنا رہے ہیں ،فل بنچ منگل سے کارروائی سماعت کریگا،سرکاری وکیل نے کہا کہ ہمیں پیر کا دن دے دیں تاکہ مکمل رپورٹ پیش کی جا سکے.عدالت نے ڈجی ایف آئی اے کی سربراہی میں کمیٹی بنانے کی ہدایت کردی،ڈی جی ایف آئی اے اس معاملے کی تحقیقات کرینگے،عدالت نے کہا کہ یہ کالج انتظامیہ کا فیلئر ہے،لڑکی کا بیان لیا جائے ،آگر یہ علم ہوا کہ لڑکی کا بیان لینے کیلئےدباؤ ڈالا گیا تو پھر نتائج کیلئے تیار رہیں. ڈی جی ایف آئی اے پنجاب یونیورسٹی خودکشی پنجاب کالج زیادتی اور لاہور کالج ہراسگی شکایت کیس کی تحقیقات کرینگے۔یہ دیکھنا ہے کہ آخر یہ بندہ کون ہے کہاں سے آیا، لاہور ہائیکورٹ کا فل بنچ ان حالیہ واقعات اور سوشل میڈیا پر فیک نیوز پھیلنے کے حوالے سماعت کرے گا،منگل کے روز فل بنچ ان کیسز پر سماعت کرے گا، عدالت نے ڈی جی ایف آئی اے کو اگلی سماعت پر ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔

    پنجاب کالج سوشل میڈیامہم،عمران ریاض،سمیع ابراہیم سمیت 36 افراد پر مقدمہ

    راولپنڈی،طلبا کا احتجاج، توڑ پھوڑ،پولیس کی شیلنگ

    مبینہ زیادتی ،طلبا کا احتجاج، آئی جی پنجاب کو عدالت نے کیا طلب

    پنجاب کالج مبینہ زیادتی کیس،کالج انتظامیہ کی طلبا سے کلاسوں میں جانے کی اپیل

    لاہور کے کالج میں طالبہ سے زیادتی ،مبینہ من گھڑت ویڈیو کے خلاف مقدمہ درج

    لاہور میں طالبہ کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی: پنجاب حکومت کی ہائی پاور کمیٹی کی ابتدائی رپورٹ

    پنجاب کالج مبینہ زیادتی، پولیس واقعہ سے انکاری،طلبا کا آج پھر احتجاج

    پنجاب کالج مبینہ زیادتی بارے من گھڑت افواہ پھیلانے والا گرفتار

  • سکھ رہنما کے قتل کی سازش،بھارتی "را” کے اہلکار پر امریکہ میں فردجرم عائد

    سکھ رہنما کے قتل کی سازش،بھارتی "را” کے اہلکار پر امریکہ میں فردجرم عائد

    امریکی محکمہ انصاف نے سکھ فار جسٹس کے کونسل گرپتونت سنگھ پنوں کو قتل کرنے کی سازش کے الزام میں بھارت کی خفیہ ایجنسی را کے اہلکار وکاش یادو پر فرد جرم عائد کردی ہے

    محکمہ انصاف نے ہندوستانی سرکاری ملازم ،خفیہ ایجنسی را کے اہلکار، 39 سالہ وکاش یادیو، جسے وکاس اور امانت کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، کے خلاف ایک امریکی شہری کے قتل کی ناکام سازش کی ہدایت کرنے میں، ان کے کردار کے سلسلے میں، کرایہ کے لیے قتل اور منی لانڈرنگ کے الزامات درج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ نیویارک شہر میں یادیو پر فرد جرم میں فرد جرم عائد کی گئی ہے ۔ یادیو کے مبینہ شریک سازشی، نکھل گپتا، 53، پر پہلے فرد جرم عائد کی گئی تھی اور اسے پہلے سپرسیڈنگ فرد جرم میں شامل الزامات پر امریکہ کے حوالے کیا گیا تھا۔ یادو ابھی تک فرار ہے۔

    اٹارنی جنرل میرک بی گارلینڈ نے کہا، "محکمہ انصاف کسی بھی شخص کو جوابدہ ٹھہرائے گا – چاہے اس کے عہدے یا اقتدار سے قربت ہو – جو امریکی شہریوں کو نقصان پہنچانے اور خاموش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔” "جیسا کہ الزام لگایا گیا ہے، پچھلے سال، ہم نے بھارتی حکومت کے ایک ملازم وکاش یادیو اور اس کے شریک سازشی نکھل گپتا کی امریکی سرزمین پر ایک امریکی شہری کو قتل کرنے کی کوشش کو ناکام بنایا۔ آج کے الزامات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ محکمہ انصاف امریکیوں کو نشانہ بنانے اور خطرے میں ڈالنے اور ان حقوق کو مجروح کرنے کی کوششوں کو برداشت نہیں کرے گا جن کا ہر امریکی شہری حقدار ہے۔

    ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کرسٹوفر رے کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارتی حکومت کے اہل کار نے امریکی شہری کو فرسٹ امینڈمینٹ کے تحت حاصل حقوق استعمال کرنے کی وجہ سے انہیں امریکی سر زمین پر نشانہ بنانے کی کوشش کی ایف بی آئی اس طرح کے پرتشدد الزامات کو کسی طور قبول نہیں کرے گی۔ ہ وہ اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر ایسے غیر ملکیوں کا پتہ لگائیں گے، ان کی سرگرمیوں کو روکیں گے اور ان کو جوابدہ ٹھہرائیں گے جو بین الاقوامی سطح پر جابرانہ اقدامات میں ملوث ہیں۔

    امریکی اٹارنی ڈیمیان ولیمز نے کہا، "پچھلے سال، اس دفتر نے نکھل گپتا پر امریکی سرزمین پر ہندوستانی نژاد امریکی شہری کو قتل کرنے کی سازش کرنے کا الزام لگایا تھا۔” "لیکن، جیسا کہ الزام لگایا گیا ہے، گپتا نے اکیلے کام نہیں کیا۔ آج، ہم ایک ہندوستانی سرکاری ملازم، وکاش یادیو کے خلاف الزامات کا اعلان کرتے ہیں، جس نے ہندوستان سے سازش تیار کی اور گپتا کو متاثرہ کو قتل کرنے کے لیے ایک ہٹ مین کی خدمات حاصل کرنے کی ہدایت کی

    امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے را اہلکار پر فرد جرم عائد ہونے پر سکھ فار جسٹس کے رہنما گرپتونت سنگھ پنوں نے بھی اپنے ردعمل جاری کردیا ہے،اپنے ردعمل میں گرپتونت سنگھ نے کہا کہ را کے افسر یادو پر فرد جرم عائد کیا جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ مودی سرکار امریکا کی خودمختاری کو چیلنج کرنے اور خالصتان نواز شخص کی زندگی اور آزادی کو خطرات سے دوچار کرنے کے نتائج بھگتے گی، اگرچہ مودی حکومت انہیں امریکا اور کینیڈا میں اپنی پراکیسز کے ذریعے قتل کرنے کی سازش جاری رکھے ہوئے ہے مگر وہ اس کی پرواہ نہ کرتے ہوئے خالصتان کیلئے ریفرنڈم کا انعقاد جاری رکھیں گے۔

    امریکی محکمہ انصاف نے بھارتی حکومت کے ایک ملازم وکاش یادیو کے خلاف مبینہ طور پر سکھ علیحدگی پسند تحریک کے امریکہ میں مقیم رہنما کو قتل کرنے کی سازش کی ہدایت کرنے کے الزام میں فرد جرم عائد کی ہےیادو اور اس کے ساتھی سازشی نکھل گپتا نے خفیہ ڈی ای اے افسران کے ذریعے ایک ہٹ مین کی خدمات حاصل کرنے کی کوشش کی۔ گپتا کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جب کہ یادو فرار ہے۔یہ مقدمہ کرایہ پر قتل کی سازش سے متعلق ہے جس میں دو مدعا علیہان، وکاش یادو اور نکھل گپتا شامل ہیں، جو مبینہ طور پر امریکہ میں مقیم ایک اٹارنی اور ہندوستانی نژاد کارکن کو قتل کرنے کی سازش کر رہے تھے۔ جو بھارتی حکومت پر تنقید کرنے والا کارکن، ایک آزاد سکھ ریاست، خالصتان بنانے کے لیے پنجاب کی علیحدگی کی وکالت کرتا ہے۔ یادیو، مبینہ طور پر ریسرچ اینڈ اینالیسس ونگ ،را، کے لیے کام کرنے والا ایک بھارتی انٹیلی جنس افسر، اور گپتا، جو منشیات اور ہتھیاروں کی اسمگلنگ میں ملوث ہے، نے مئی 2023 میں بھارت سے شروع ہونے والی سازش کو مربوط کیا۔یادیو اور گپتا نے ایک مبینہ مجرم ساتھی کو بھرتی کیا، جو دراصل امریکی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ایک خفیہ مخبر تھا، ایک خفیہ افسر سے رابطہ قائم کرنے کے لیے جو ہٹ مین کا روپ دھار رہا تھا۔ یادو اور گپتا نے قتل کے لیے $100,000 ادا کرنے پر اتفاق کیا، اور جون 2023 میں، انھوں نے آپریشن شروع کرنے کے لیے مین ہٹن میں $15,000 نقد رقم کی پیشگی ادائیگی منتقل کی۔18 جون 2023 کو کینیڈا میں سکھ مندر کے باہر نشانہ بنائے گئے متاثرہ کے ایک ساتھی ہردیپ سنگھ نجار کے قتل کے بعد سازش میں اضافہ ہوا۔ گپتا کو امریکی حکام کی درخواست پر 30 جون 2023 کو جمہوریہ چیک میں گرفتار کیا گیا تھا اور اسے امریکہ کے حوالے کیا گیا تھا۔ فرد جرم میں دونوں مدعا علیہان پر کرایہ پر قتل، کرایہ پر قتل کی سازش اور پلاٹ میں ملوث مالی لین دین سے متعلق منی لانڈرنگ کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔امریکی حکومت نے نگرانی، خفیہ کارروائیوں، اور تزویراتی گرفتاریوں پر انحصار کرتے ہوئے، قتل کی سازش کو کامیابی سے ناکام بنا دیا ہے

    کینیڈا اور امریکی تحقیقاتی اداروں نے بھارت کا مکرو چہرہ ایک بار پھرے نقاب کیا ہے

    مودی سرکار کا خالصتان حامیوں کو نشانہ بنانے کیلئے لارنس بشنوئی گینگ کے استعمال کا انکشاف

    خالصتانی رہنما کے قتل کی سازش،مودی سرکار کیخلاف امریکا میں مقدمہ دائر

    مقبوضہ کشمیر،مجاہدین کے پاس جدید اسلحہ،ڈرون،گوریلا وار،بھارتی فوج کی نیندیں حرام

    جموں کشمیر،آئی ایس آئی کیلئے کام کرنے کا الزام لگاکر5 سرکاری اہلکار برطرف

    جموں حملے،بھارت نے نااہلی تسلیم کر لی،دو افسران کو عہدے سے ہٹا دیا

    پاک فوج کیخلاف پروپیگنڈہ،من گھڑت کہانی،ریان گرم اور مرتضیٰ کیخلاف ہو گی قانونی کاروائی

    بھارتی میڈیا کا پاک فوج کے خلاف مذموم پروپیگنڈہ بے نقاب

    جموں ،بڑھتے حملوں کے بعد بھارتی فوج کے خصوصی دستے تعینات

    سکھ یاتریوں کی بھارت میں ہی مودی کے خلاف نعرے بازی

    بھارتی ہٹ دھرمی، ایک بار پھرپاکستان آنیوالے سکھ یاتریوں کوروک دیا گیا

    خالصتانی ہوں،حکومت مودی کے دباؤ کا شکارہے، گوپال سنگھ چاولہ کی باغی ٹی وی سے گفتگو

    سکھ برادی کا خالصتان بارے ریفرنڈم 2020، وینا ملک نے بڑا اعلان کر دیا

    آسٹریلوی حکومت نے میلبرن میں خالصتان ریفرنڈم رکوانے سے انکار کردیا۔

    الصتان کے حامی علیحدگی پسند گروپ سکھس فار جسٹس (SFJ) نے میلبورن آسٹریلیا میں خالصتان ریفرنڈم مہم کا آغاز کیا ج

    انٹرپول نے خالصتان کے رہنما کے ریڈ وارنٹ جاری کرنے کی بھارت کی درخواست مسترد کردی

    ٹورنٹو:کینیڈا میں خالصتان ریفرنڈم کے حوالے سے تاریخ رقم ، خالصتان ریفرنڈم میں ایک لاکھ 10 ہزار سکھوں نے ووٹ کاسٹ کی

  • منی لانڈرنگ،آمدن سے زائد اثاثے،بنگلہ دیش کے سابق آرمی چیف پر سفری پابندی عائد

    منی لانڈرنگ،آمدن سے زائد اثاثے،بنگلہ دیش کے سابق آرمی چیف پر سفری پابندی عائد

    بنگلہ دیش کے سابق آرمی چیف عزیز احمد پر سفری پابندی عائد کر دی گئی ہے

    ایک عدالت نے سابق آرمی چیف عزیز احمد اور ان کی اہلیہ دلشاد نہار کاکولی پر سفری پابندی عائد کر دی ہے۔یہ حکم جمعرات کو ڈھاکہ میٹروپولیٹن سیشن جج محمد عصام جہانگیر حسین نے انسداد بدعنوانی کمیشن (اے سی سی) کی درخواست کے بعد جاری کیا۔انسداد بد عنوانی کمیشن کے ڈپٹی ڈائریکٹر زکریا نے سابق آرمی چیف عزیز احمد کے خلاف سفری پابندی کی درخواست دائر کی تھی۔ سماعت کے دوران انسداد بد عنوانی کمیشن کے پبلک پراسیکیوٹر محمود حسین جہانگیر نے دلائل دیئے۔ سماعت کے بعد عدالت نے سفری پابندی کا حکم دے دیا۔

    درخواست میں تفتیشی افسر نے سابق آرمی چیف عزیز احمد کے خلاف اختیارات کا ناجائز استعمال، مختلف بے ضابطگیاں اور بدعنوانی کے الزامات کا ذ کر کیا جس کے ذریعے سابق آرمی چیف عزیز احمد نے اور ان کے خاندان کے افراد نے اپنی معلوم آمدنی سے زائد اثاثے بنائے۔ان الزامات میں ملائیشیا، سنگاپور اور دبئی میں کاروبار کرنے اور جائیداد خریدنے کے لیے مختلف بینکوں اور ہنڈیوں کے ذریعے منی لانڈرنگ بھی شامل ہے۔تحقیقات جاری ہے متعلقہ دستاویزات اور معلومات اکٹھی کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔

    بھارت حسینہ کو بنگلہ دیش کے حوالے کرے، مرزا فخر الاسلام

    حسینہ دہلی میں بیٹھ کر عوامی فتح کو ناکام بنانے کی سازش کر رہی ہے،مرزا فخرالاسلام

    حسینہ کی جماعت عوامی لیگ پر پابندی کی درخواست دائر

    مچھلی کے تاجر کے قتل پر حسینہ واجدکے خلاف مقدمہ درج

    گرفتاری کا خوف،حسینہ کی پارٹی کے رہنما”دودھ کا غسل” کر کے پارٹی چھوڑنے لگے

    بنگلہ دیش، ریلوے اسٹیشن پر لوٹ مار،تشدد،100 سے زائد زخمی

    ڈاکٹر یونس کی مودی کو فون کال، اقلیتوں کے تحفظ کی یقین دہانی

    حسینہ واجد پر قتل کا ایک اور مقدمہ درج

  • بھارت میں روپوش حسینہ واجد کے وارنٹ گرفتاری جاری

    بھارت میں روپوش حسینہ واجد کے وارنٹ گرفتاری جاری

    بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم حسینہ شیخ کے انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل نے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے ہیں

    انٹرنیشنل کرائمز ٹربیونل نے سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کے خلاف جولائی اور اگست میں امتیازی سلوک کے خلاف طلبہ تحریک کے دوران بڑے پیمانے پر ہلاکتوں پر گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا ہے۔عدالتی کارروائی کے باضابطہ آغاز کے بعد جمعرات کو ٹربیونل نے یہ وارنٹ جاری کرتے ہوئے حکم دیا کہ حسینہ کو 18 نومبر تک اس کے سامنے پیش کیا جائے۔عدالت نے عوامی لیگ کے جنرل سیکرٹری عبیدالقادر اور 44 دیگر کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری کر دیئے ہیں،آئی سی ٹی پراسیکیوٹر بی ایم سلطان محمود کا کہنا ہے کہ ٹریبونل کے سامنے دو درخواستیں جمع کرائی گئی ہیں، پہلی حسینہ کے وارنٹ گرفتاری کے لیے اور دوسری 45 دیگر کے لیے۔ ٹریبونل نے دونوں درخواستوں کو قبول کرتے ہوئے 18 نومبر تک طلب کر لی ہے۔

    ٹربیونل کی کارروائی 11:30 بجے کے فوراً بعد شروع ہوئی، بینچ کی سربراہی انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل کے چیئرمین جسٹس محمد غلام مرتضیٰ مجمدار نے کی۔قبل ازیں رپورٹس میں بتایا گیا تھا کہ استغاثہ جولائی سے اگست کے عرصے کے دوران ہونے والے مظالم کے سلسلے میں حسینہ سمیت 50 افراد کے وارنٹ گرفتاری طلب کرے گا۔

    حسینہ واجد، ان کی عوامی لیگ پارٹی اور 14 جماعتی اتحاد کے دیگر رہنماؤں، صحافیوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سابق اعلیٰ عہدیداروں کے خلاف اب تک جبری گمشدگی، قتل اور اجتماعی قتل کی 60 سے زائد شکایات انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل میں دائر کی جا چکی ہیں۔

    اتوار کو ٹریبونل کے چیف پراسیکیوٹر ایڈووکیٹ تاج الاسلام نے میڈیا کو بتایا کہ جولائی میں ہونے والے اجتماعی قتل کے ملزمان کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ اور سفری پابندیاں رواں ہفتے کے اندر طلب کی جائیں گی۔
    انہوں نے مزید کہا کہ حسینہ سمیت مفرور ملزمان کو واپس لانے کے لیے انٹرپول کی مدد لی جائے گی جو اس وقت بیرون ملک ہیں۔

    بھارت حسینہ کو بنگلہ دیش کے حوالے کرے، مرزا فخر الاسلام

    حسینہ دہلی میں بیٹھ کر عوامی فتح کو ناکام بنانے کی سازش کر رہی ہے،مرزا فخرالاسلام

    حسینہ کی جماعت عوامی لیگ پر پابندی کی درخواست دائر

    مچھلی کے تاجر کے قتل پر حسینہ واجدکے خلاف مقدمہ درج

    گرفتاری کا خوف،حسینہ کی پارٹی کے رہنما”دودھ کا غسل” کر کے پارٹی چھوڑنے لگے

    بنگلہ دیش، ریلوے اسٹیشن پر لوٹ مار،تشدد،100 سے زائد زخمی

    ڈاکٹر یونس کی مودی کو فون کال، اقلیتوں کے تحفظ کی یقین دہانی

    حسینہ واجد پر قتل کا ایک اور مقدمہ درج

    5 اگست کی شام، واقعات کے ایک انتہائی ڈرامائی موڑ میں، بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ، ہندوستان کے شہر دہلی کے قریب ہندن ایئربیس پر اتریں۔ بنگلہ دیشی فضائیہ کے طیارے میں ان کے ساتھ ان کی چھوٹی بہن شیخ ریحانہ بھی تھیں۔اگلے دن، بھارتی حکومت نے باضابطہ طور پر ملکی پارلیمان میں ان کی آمد کا اعلان کیا۔ تاہم، دہلی سے شیخ حسینہ کے ہندوستان میں قیام کے حوالے سے کوئی باضابطہ رابطہ نہیں ہوا ہے۔

    بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان حسینہ واجد سے متعلق تمام سوالات سے گریز کر رہے ہیں اور حکومتی سطح پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔مزید یہ کہ دہلی سے اس بارے میں کوئی اشارہ نہیں ملا ہے کہ آیا اسے سیاسی پناہ دی جائے گی۔سرکاری معلومات کی اس کمی نے حسینہ کے وہاں قیام کے حوالے سے بڑے پیمانے پر قیاس آرائیوں اور افواہوں کو جنم دیا ہے۔

    ہندوستان میں اترنے کے بعد حسینہ نے اپنی پہلی رات غازی آباد کے ہندن ایئربیس کے وی آئی پی لاؤنج میں گزاری۔ ہندن، بنیادی طور پر ایک فوجی ایئربیس ہے اور وہاں اعلیٰ فوجی حکام کے قیام کے لیے انتظامات ہیں۔ اگلے دن، مبینہ طور پر اسے غازی آباد میں نیم فوجی دستوں کے ایک محفوظ گھر یا گیسٹ ہاؤس میں منتقل کر دیا گیا، جو ریاست اتر پردیش میں ہے۔تاہم یہ معلوم ہوا ہے کہ اسے ایک رات دیر گئے اندھیرے کی آڑ میں ممکنہ طور پر ہیلی کاپٹر کے ذریعے وہاں سے دہلی کے ایک خفیہ مقام پر منتقل کیا گیا تھا۔ تقریباً 10-12 دن پہلے، جنوبی دہلی کے باشندوں نے رات گئے ایک ہیلی کاپٹر کو اڑتے دیکھا، ایسے اوقات میں ہیلی کاپٹروں کا دہلی کے اوپر سے پرواز کرنا غیر معمولی بات ہے۔ مشرقی اور جنوبی دہلی کے مختلف حصوں سے کئی مقامی لوگوں نے اس واقعہ کا مشاہدہ کیا اور کچھ نے سوشل میڈیا پر تصاویر بھی پوسٹ کیں۔اس کے بعد کے واقعات کا تجزیہ کرنے پر ماہرین کو کافی حد تک یقین ہے کہ حسینہ اور ریحانہ کو اسی رات ہیلی کاپٹر کے ذریعے دہلی لایا گیا تھا۔ دہلی کے اندر کئی فوجی ہیلی پیڈ ہیں، اور ممکنہ طور پر ہیلی کاپٹر ان میں سے ایک پر اترا، جہاں سے انہیں کار کے ذریعے قریبی خفیہ مقام پر پہنچایا گیا۔

    شیخ حسینہ کی بیٹی، صائمہ وازد، جسے پوتول کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، بنیادی طور پر گزشتہ سال سے عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے جنوب مشرقی ایشیائی علاقائی ڈائریکٹر کے طور پر اپنے کردار کی وجہ سے دہلی میں مقیم ہیں۔ وہ جنوبی دہلی کے ایک اعلیٰ درجے کے علاقے میں انتہائی محفوظ ماحول میں رہتی ہے۔ تاہم، جب حسینہ 5 اگست کو ہندوستان پہنچی تو صائمہ تھائی لینڈ میں ڈبلیو ایچ او کے مشن پر تھیں لیکن جلد ہی دہلی واپس آگئیں۔حسینہ کی آمد کے ڈھائی دن بعد، صائمہ نے 8 اگست کی صبح ٹویٹ کیا کہ وہ اس بات سے دل شکستہ ہیں کہ وہ "اس مشکل وقت میں” اپنی والدہ سے نہیں مل سکیں۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک ہی شہر میں رہنے کے باوجود ماں بیٹی کی ابھی تک ملاقات نہیں ہوئی تھی۔صائمہ کو شاید حسینہ سے ملنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی، جو کہ اقوام متحدہ کی ایک ایجنسی کی افسر کے طور پر ہندوستان میں عارضی طور پر پناہ لے رہی تھی۔ اگرچہ حسینہ ان کی والدہ ہیں لیکن صائمہ کی سرکاری حیثیت نے ایسی ملاقات کو سفارتی طور پر حساس بنا دیا۔تاہم 24 گھنٹے کے اندر صائمہ نے ٹویٹ ڈیلیٹ کر دیا۔ اس کے بعد انہوں نے اپنی والدہ کے حوالے سے سوشل میڈیا پر مزید کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

    دہلی میں کئی سینئر عہدیداروں نے اشارہ دیا کہ ماں اور بیٹی نے شہر میں کئی بار ذاتی طور پر ملاقات کی تھی، لیکن ان ملاقاتوں کو مختلف وجوہات کی بناء پر عام نہیں کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے صورتحال کو عوام کی نظروں سے دور رکھنے کو ترجیح دی۔ایک ذریعہ نے یہاں تک کہا کہ ماں اور بیٹی دہلی میں ایک ساتھ یا ایک ہی چھت کے نیچے رہ رہے ہیں، حالانکہ اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔صائمہ وازد چند روز قبل ڈبلیو ایچ او کے کاروبار کے سلسلے میں مشرقی تیمور روانہ ہوئی تھیں، اس لیے ان کی والدہ سے کوئی بھی ملاقات ان کی روانگی سے قبل ہو سکتی ہے۔

    حسینہ جن حالات میں بھارت پہنچی، اس کے پیش نظر بھارت کی سکیورٹی ایجنسیوں کے لیے ایسے مہمانوں کو ڈیبریف کرنے کا رواج ہے۔ بنگلہ دیش کے سابق وزیر اعظم بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہیں۔اس ڈیبریفنگ کا مقصد اس صورتحال کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات اکٹھا کرنا ہے جس کی وجہ سے اسے اپنا ملک چھوڑنا پڑا، اس دوران مختلف افراد یا تنظیموں کے کردار اور اس میں ملوث افراد کے اقدامات یا بیانات۔ اس کا مقصد اسے یہ بتانا بھی ہے کہ ہندوستان اپنے قیام کے دوران اس سے کیا توقعات رکھتا ہے۔یہ ڈیبریفنگ سیشن عام طور پر کئی دنوں میں منعقد کیے جاتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ حسینہ پہلے بھی اس طرح کے کئی سیشنز سے گزر چکی ہیں۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ جب تبت کے روحانی پیشوا دلائی لامہ 1959 میں اس خطے سے فرار ہو کر ہندوستان میں داخل ہوئے تو انہوں نے بھی وسیع بحث کے سیشنز سے گزرا۔دلائی لامہ 31 مارچ کو اروناچل پردیش میں توانگ سرحد کے ذریعے ہندوستان میں داخل ہوئے اور پھر میدانی قصبے تیز پور میں اترے۔ اس وقت کے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو سے ملاقات کے لیے دہلی لائے جانے سے پہلے ہندوستان کی سیکورٹی ایجنسیوں نے انہیں تین ہفتے تک وہاں ڈیبری کیا۔ تاہم دلائی لامہ کو دہلی کی طرف سے ان کی آمد سے قبل سیاسی پناہ کی یقین دہانی کرائی گئی تھی، یہ وعدہ پورا کیا گیا۔

    اسی طرح، جب ہندوستانی فضائیہ کے لڑاکا طیارے کے پائلٹ ابھینندن کو 2019 میں پاکستان میں ایک پاکستانی جنگی طیارے کا تعاقب کرتے ہوئے پکڑا گیا تھا، تو پاکستان کی جانب سے اسے ہندوستان کے حوالے کرنے کے بعد ان کی بھی ہندوستانی فوج کی طرف سے ڈیبرینگ ہوئی تھی۔ ایسے حالات میں اس طرح کے طریقہ کار معیاری ہوتے ہیں۔

    حسینہ کے معاملے میں غیر معمولی بات یہ ہے کہ ان کے ڈیبریفنگ سیشنز ذاتی طور پر ہندوستان کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول کر رہے ہیں۔ سابق وزیر اعظم کے اعزاز، اہمیت اور وقار کو دیکھتے ہوئے، اجیت نے بظاہر یہ ذمہ داری خود لی ہے۔اجیت ڈووال نے بھی حسینہ کا ذاتی طور پر استقبال کیا جب وہ 5 اگست کو ہندن ایئربیس پر پہنچیں۔ اس بات کی بھی تصدیق ہوئی ہے کہ شیخ حسینہ گزشتہ چند دنوں میں کئی بار ہندوستان کے اعلیٰ حکام سے رابطے میں رہی ہیں، حالانکہ ان افراد کی صحیح شناخت ظاہر نہیں کی گئی ہے۔

    حسینہ کو تیسرے ملک بھیجنے کی کوشش
    یہ قیاس آرائیاں بڑھ رہی ہیں کہ شیخ حسینہ کے ہندوستان میں قیام کو بڑھایا جا سکتا ہے، لیکن ساتھ ہی، ہندوستان انہیں کسی تیسرے "دوستانہ” ملک میں بھیجنے کا امکان بھی تلاش کر رہا ہے۔ہندوستان کا سرکاری موقف یہ ہے کہ شیخ حسینہ "عارضی طور پر” ہندوستان میں ہیں، یعنی ہندوستان ان کی آخری منزل نہیں ہے اور وہ محض ہندوستان کے راستے کسی دوسرے ملک کی طرف سفر کر رہی ہیں۔ لیکن ہندوستانی حکومت نے اس بارے میں کوئی ٹائم لائن فراہم نہیں کی ہے کہ وہ کب تک ہندوستان میں رہ سکتی ہیں اور نہ ہی اس بارے میں کوئی تبصرہ کیا ہے کہ آیا انہیں سیاسی پناہ دی جائے گی۔شیخ حسینہ جب پہلی بار ہندوستان میں اتریں تو دہلی میں ایک توقع تھی کہ شاید وہ چند گھنٹوں میں برطانیہ روانہ ہو جائیں گی۔ جب یہ عمل نہ ہوا تو دہلی نے دوسرے ممالک تک رسائی شروع کر دی۔یہ معلوم ہوا ہے کہ جن ممالک نے ابتدائی طور پر رابطہ کیا ان میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور چند یورپی ممالک (ممکنہ طور پر فن لینڈ، جمہوریہ چیک اور سلووینیا) شامل تھے۔تاہم، یہ نوٹ کرنا ضروری ہے کہ حسینہ نے ان میں سے کسی بھی ملک میں سیاسی پناہ کی درخواست نہیں دی۔ تمام بات چیت بھارت نے کی تھی۔ ایک دوسرے ملک کے ساتھ بات چیت میں نمایاں پیش رفت ہوئی، قطر، جو مشرق وسطیٰ میں ایک انتہائی بااثر اقتصادی طاقت ہے۔اگرچہ حسینہ کو سیاسی پناہ دینے کے حوالے سے قطر کے ساتھ "غیر رسمی” بات چیت میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے، لیکن یہ بات چیت مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی ہے۔ یہ پیچیدہ مذاکرات اب بھی جاری ہیں۔تاہم، اگر حسینہ کو کسی موزوں تیسرے ملک بھیجنے کی کوشش بالآخر ناکام ہو جاتی ہے، تو بھارت ذہنی طور پر اسے سیاسی پناہ دینے اور ملک میں رہنے کی اجازت دینے کی تیاری کر رہا ہے۔ شیخ حسینہ کی دہلی آمد کے تین ہفتے بعد، یہ ہندوستان کے موقف کا نچوڑ ہے۔