Baaghi TV

Tag: عدالت

  • انسداد دہشتگردی کی عدالتوں میں 6 ججز کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری

    انسداد دہشتگردی کی عدالتوں میں 6 ججز کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری

    محکمہ داخلہ پنجاب نے انسداد دہشتگردی کی عدالتوں میں 6 ججز کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا

    خالد ارشد کو جج انسداد دہشتگردی عدالت ون لاہور تعینات کردیا گیا،عرفان حیدر کو جج انسداد دہشتگردی عدالت ٹو لاہور تعینات کردیا گیا،محمد عباس کو جج انسداد دہشتگردی عدالت سرگودھا تعینات کردیا گیا،محمد نعیم سلیم کو جج انسداد دہشتگردی عدالت گوجرانوالہ تعینات کردیا گیا،راجہ شاہد ضمیر کو جج انسداد دہشتگردی عدالت فیصل آباد تعینات کردیا گیا،ضیاء اللہ خان کو جج انسداد دہشتگردی عدالت ساہیوال تعینات کردیا گیا

    واضح رہے کہ ججز کی تعیناتی کا کیس لاہور ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہے،گزشتہ سماعت پر ججز کی تعیناتی نہ ہونے پر لاہور ہائیکورٹ نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کو طلب کرنے کا عندیہ دیا تھا،،چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ ملک شہزاد احمد خان نے ہدایت کی تھی کہ وزیر اعلیٰ پنجاب اور کابینہ آئندہ سماعت تک ججز کی تعیناتی کے نوٹیفیکشن جاری کریں،لاہور ہائیکورٹ نے سماعت 24 مئی کو ہو گی.

    مریم نواز نے پولیس وردی پہنی،عثمان انور نے ساڑھی کیوں نہیں پہنی؟ مبشر لقمان کا تجزیہ

    اداروں کی یونیفارم پہننا خلافِ قانون،محترمہ عملی کام بھی کریں، بیرسٹر سیف

    مریم کی پولیس وردی پر تنقید کرنیوالوں نےبرقعے کی آڑ میں دھندہ چلایا ،عظمیٰ بخاری

    بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

  • پی ٹی آئی رہنما عامرمغل کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد

    پی ٹی آئی رہنما عامرمغل کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد

    انسداددِہشتگردی عدالت اسلام آباد،پی ٹی آئی رہنما عامرمغل کے خلاف سی ڈی اے، پولیس اہلکاروں پر حملہ آور ہونےکاکیس،عامرمغل کو پولیس نے انسدادِ دہشتگردی عدالت پیش کردیا

    عامرمغل کو ریمانڈ کے لیے اےٹی سی جج ابوالحسنات ذوالقرنین کی عدالت پیش کردیاگیا،پی ٹی آئی وکلاء شعیب شاہین اےٹی سی پیش ہوئے، جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے استفسار کیا کہ عامرمغل پر کیا الزام ہے؟تفتیشی افسر نے کہا کہ عامرمغل سے راڈ برآمد کرناہے، جج نے کہا کہ عامرمغل کو جب پکڑ لیا تو راڈ برآمد کرناہے؟ عامرمغل کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجا جاتاہے، شعیب شاہین نے جج ابوالحسنات ذوالقرنین سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا دہشتگردی کا مقدمہ بنتاتھا؟ شعیب شاہین نے جج ابوالحسنات ذوالقرنین کو گزشتہ رات پی ٹی آئی سیکرٹریٹ پر سی ڈی اے ایکشن کی ویڈیو دکھائی

    مجھ سے راڈ برآمد ہوا تو مجھے پھانسی دے دیں،عامر مغل کا عدالت میں بیان
    جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ کیا نا جائز تجاوزات تھے؟ تفتیشی افسر نے کہا کہ گرین بیلٹ پر پی ٹی آئی نے آفس بنایا ہوا، سی ڈی اے نے ایکشن لیا تو عامرمغل نے حملہ کیا،شعیب شاہین نےکہا کہ رات گئے آپریشن کی کیا ضرورت تھی؟ ایک دن کا نوٹس دیتے، سیاسی انتقام ہے، عامر مغل نے عدالت میں کہا کہ مجھ سے راڈ برآمد ہوا تو مجھے پھانسی دے دیں، وکیل مرزا عاصم بیگ نے کہا کہ پولیس کہہ رہی ہے کہ فائرنگ ہوئی اور برآمد آہنی راڈ کرنا ہے ۔سی ڈی اے تجاوزات کے خلاف نوٹس غیر متعلقہ لوگوں کوبھجواتی رہی، تفتیشی افسر نے کہا کہ دفتر کے باہر تجاوزات تھیں باڑ لگائی گئی تھی ۔ سی ڈی اے کی مشینری کو روکنے کی کوشش کی گئی ۔عامر مغل سے ریکوری کیلئے جسمانی ریمانڈ دیا جائے ۔ شعیب شاہین نے کہا کہ ہم نے سی ڈی اے کو آفر کیا تھا کہ بتا دیں جو تجاوزات ہیں خود گرا دیتے ہیں،عامر مغل نے کہا کہ میرے پاس سوئی بھی ہو تو عدالت پھانسی کی سزا دے دے ۔عدالت نے عامر مغل کے جسم ایک ریمانڈ کی استدعا مسترد کر دی،انسداد دہشت گردی عدالت نے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بجھوا دیا

    عدالت پیشی کے موقع پر عامر مغل نے میڈیا سے غیررسمی بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا دشمن بے نقاب ہوچکا ہے اسکے تمام نقاب اتر چکے ہیں، اب ہجڑے کے روپ میں وہ سامنے آیا ہے اسکو پیغام دینا چاہتے ہیں نا ہمارا لیڈر ڈرا نا اسلام آباد کے کارکنان ڈرے ہیں، نا صرف بانی پی ٹی آئی کو رہا کروائیں گے بلکہ دوبارہ وزیراعظم بنائیں گے،

    آپریشن کے دوران عامر مغل نے آتے ہی ہوائی فائرنگ شروع کردی تھی،مقدمہ
    قبل ازیں گرفتار پی ٹی آئی رہنما عامر مغل کے خلاف دہشتگردی کا مقدمہ درج کر لیا گیا، درج مقدمہ میں کہا گیا کہ سی ڈی اے کے آپریشن کے دوران عامر مغل نے آتے ہی ہوائی فائرنگ شروع کردی تھی، پی ٹی آئی کے مرکزی سیکریٹریٹ کو سیل کرنے کے موقع پر مزاحمت کرنے پر انسدادِ دہشت گردی کا مقدمہ اسلام آباد کے تھانہ کراچی کمپنی میں علاقہ مجسٹریٹ محمد سجاد کی مدعیت میں 7 اے ٹی اے سمیت دیگر دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے،مقدمے میں پی ٹی آئی اسلام آباد کے رہنما عامر مغل کو نامزد کیا ہے جنہیں گزشتہ رات ہی پی ٹی آئی کے مرکزی سیکرٹریٹ کے باہر سے گرفتار کر لیا گیا تھا

    واضح رہے کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں تحریک انصاف کے مرکزی سیکرٹریٹ پر سی ڈی اے نے انسداد تجاوزات آپریشن کرتے ہوئے سیکرٹریٹ کا ایک حصہ گرا دیا اور دفتر سیل کردیا،آپریشن سے قبل پولیس نے پی ٹی آئی سیکرٹریٹ جانے والے راستوں کو بند کر دیا تھا، سی ڈی اے نے تحریک انصاف کے دفتر کو سیل کرنے کا حکم نامہ بھی چسپاں کردیا،سی ڈی اے کا مؤقف ہےکہ اسلام آباد کے سیکٹر جی ایٹ فور میں واقع پلاٹ سرتاج علی نامی شخص کو الاٹ ہے، آپریشن بلڈنگ قوانین کی خلاف ورزی، غیر قانونی تعمیرات اور تجاوزات کے خاتمے کیلئےکیا گیا،آپریشن کے دوران مزاحمت کرنے پر تحریک انصاف کے رہنما عامر مغل کو گرفتار کر لیا گیا.

    بلوچستان انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن ،میجر بابر خان شہید ، 3 دہشت گرد جہنم واصل

    خیبرپختونخوا، سیکورٹی فورسز کی کاروائی، 11 دہشتگرد جہنم واصل

    کراچی ،غیر ملکیوں کی گاڑی پر خود کش حملہ،دو جاں بحق،حملہ آور ساتھی سمیت جہنم واصل

    بونیر،سیکورٹی فورسز کا آپریشن،دہشتگردوں کا سرغنہ جہنم واصل،دو جوان شہید

    ڈی آئی خان، سیکورٹی فورسز کا آپریشن، 8 دہشتگرد جہنم واصل

    ڈی آئی خان ،دھماکے میں دو جوان شہید،پنجگور،ایک دہشتگرد جہنم واصل

    شمالی وزیرستان، دہشتگردوں کیخلاف آپریشن،کمانڈر سمیت 8 جہنم واصل

    شمالی وزیرستان ، چوکی پر حملہ، لیفٹیننٹ کرنل اور کیپٹن سمیت 7 جوان شہید

  • اسلام آباد ہائیکورٹ نے سیکٹر کمانڈر آئی ایس آئی کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے سیکٹر کمانڈر آئی ایس آئی کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا

    لاپتہ شاعر احمد فرہاد کی بازیابی کیس کی اسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی

    جسٹس محسن اختر کیانی نے کیس پر سماعت کی، درخواست گزار کی وکیل ایمان مزاری اور سینئر صحافی حامد میر بھی عدالت میں موجود تھے،احمد فرہاد کیس میں احمد فرہاد کو پیش نا کیا جا سکا،وفاقی حکومت نے احمد فرہاد کی بازیابی کے لیے مزید وقت مانگ لیا،اٹارنی جنرل منصور اعوان روسٹرم پر آگئے۔ اور کہا کہ کچھ سی ڈی آرز ملی ہیں، ان کے زریعے ٹریسں کر رہے ہیں،جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں ریاست ناکام ہو چکی ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ ابھی اس کو ریاست کی ناکامی نا کہیں، اگر ہم نا پیش کر سکے تو مان لوں گا کہ ریاست ناکام ہو گئی ،جسٹس محسن اخترکیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ احمد فرہاد کی بازیابی کا کیس نہیں رہا، یہ پوری قوم کی بازیابی کا مقدمہ ہے،

    آئی ایس آئی کے کام کرنے کے طریقہ کار اور بجٹ سمیت تمام تفصیلات طلب
    جسٹس محسن اختر کیانی نے سیکرٹری دفاع سے آئی ایس آئی کے کام کرنے کے طریقہ کار اور بجٹ سمیت تمام تفصیلات مانگ لیں ، جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئی ایس آئی کے کام کرنے کا طریقہ کار کیا ہے، سیکٹر کمانڈر کا کیا کام ہے؟ طے کرنا ہے کہ ایجنسیاں چھپ کر نہیں بلکہ ایک واضح طریقہ کار کے تحت کام کریں گی، جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ سیکریٹری دفاع کو کہیں کہ پیش ہو کر ان سوالات کا جواب دیں کہ کیسے کسی شخص سے متعلق آئی ایس آئی تحقیق کرتی ہے؟ کون کون سی سطح پر کام کیا جاتا ہے؟ آئی ایس آئی عوامی پیسے پر ہی کام کر رہی ہے، ہر ادارہ عوام کو جواب دہ ہے،ہم ججز بھی جوابدہ ہیں،اگر ادارے قابل احتساب نا ہوں اور ان کے احتساب کا کوئی طریقہ کار بھی نا ہو تو ہم کیا کریں گے؟”احمد فرہاد کا بازیاب ہونا پیچھے رہ گیا اب پورے پاکستان کے لاپتہ افراد سے متعلق گائیڈ لائن اس کیس میں طے ہو گی،آئی ایس آئی اور ایم آئی کا دائرہ اختیار کیا ہے؟ میں تو ابھی بھی یہی مانتا ہوں کہ متعلقہ ادارہ صرف پولیس کا ہے، ایف آئی اے تحقیقاتی ادارہ ہے، انٹیلی جنس ایجنسیوں نے بھی پولیس کی ہی معاونت کرنا ہوتی ہے،”ایسی کوئی ایجنسی پاکستان میں کام نہیں کر سکتی جس کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نا ہو، ہم ایجنسیز کے طریقہ کار سے متعلق judge made law بنائیں گے،

    طے کرنا ہے ایجنسیاں چھپ کر نہیں واضح طریقہ کار کے تحت کام کرینگی،جسٹس محسن اختر کیانی
    کانگریس میں کئی کئی گھنٹے سی آئی اے ایجنٹ جواب دیتا ہے، آپ بھی ڈی جی آئی ایس آئی کو بلا لیا کریں ،جسٹس محسن اختر کیانی
    اٹارنی جنرل نے کہا کہ آئی ایس آئی تو وزیر اعظم آفس کے ماتحت ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا یہ تو اور آسان ہو گیا، کل کو وزیراعظم کو بلا کر پوچھیں تو کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہیے، آئی ایس آئی اور ایم آئی کے کام کرنے کا اندرونی طریقہ کار کیا ہے یہ واضح ہونا چاہئے، ان ایجنسیوں نے کئی اچھے کام کیے ہیں، بندہ برآمد کر لینا حل نہیں ہے بلکہ قانونی طریقہ کار بنانا ہے کہ آئندہ پولیس خفیہ ایجنسیوں والوں کو بلا کر پوچھ سکے، ایجنسیوں کے رول آف بزنس بتانا ہوں گے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ انٹیلے جنس اہجنسیوں کا سیکیورٹی کے حوالے سے طریقہ کار تو طے ہے، جسٹس محسن اختر کیانی نے کہاکانگریس میں کئی کئی گھنٹے سی آئی اے ایجنٹ جواب دیتا ہے، آپ بھی ڈی جی آئی ایس آئی کو بلا لیا کریں ،دس دن ہو گئے، پتا نہیں اس بیچارے کا کیا حال ہو گا، اس کیس میں صحافیوں، انسانی حقوق کے نمائندوں اور سابق آئی جیز کو معاون مقرر کروں گا، دیکھیں نا ایجنسیوں پر الزام لگا ہے، موجودہ کیس میں واضح الزام آئی ایس آئی پر ہے، جن کا بندہ مرا ہو یا غائب ہو انہیں پتا ہوتا ہے کہ براہ راست کون ملوث ہے۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں اس الزام کی واضح نفی کر چکا کہ احمد فرہاد آئی ایس آئی کے پاس نہیں ہے، ابھی احمد فرہاد کی بازیابی کی امید ختم نہیں ہوئی، ہو گی تو عدالت کو خود بتا دوں گا۔وکیل ایمان مزاری نے کہا کہ احمد فرہاد سے وڈیو بیان لینا چاہ رہے ہیں کہ وہ باہر آ کر ویسے نہیں بولے گا جیسے بولتا تھا، مشروط رہائی کا کہا جا رہا ہے، احمد فرہاد کی جان کو خطرہ لاحق ہے،

    تحفظ قانون دے گا، کسی سے دشمنی کی بات نا کریں۔جسٹس محسن اختر کیانی
    صحافی احمد فرہاد کیس میں جسٹس محسن اختر کیانی کے سامنے حامد میر پیش ہو گئے اور کہا کہ گزشتہ سماعت کے بعد حکومت نے پیمرا کے ذریعے میڈیا کے خلاف اعلان جنگ شروع کردیا ہے۔ جو سوال آپ نے ایجنسیز سے پوچھے ہیں کیا ہم ان کی کوریج کر سکتے ہیں؟جسٹس محسن اخترکیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بالکل آپ اس عدالت کی کارروائی کور کریں، اس پر کوئی پابندی نہیں، میں اس کیس کی آئندہ سماعت براہ راست دکھانے کا حکم دوں گا اور آئندہ جو بھی لاپتہ افراد کا کیس اس عدالت میں ہوگا وہ براہ راست دکھایا جائے گا، پیمرا کی پابندی عدالت پر تو نہیں ہے، پیمرا کا نوٹیفکیشن تو میرے سامنے نہیں ہے مگر آرڈر کروں گا سماعت براہ راست ہو، ہر دور میں کچھ صحافیوں کی آواز کسی کو ناپسند ہوتی ہے، یہ چلتا ہوا سلسلہ ہے۔وزیر قانون نے جو بھی پریس کانفرنس کی وہ تو اپنی ڈیوٹی کر رہے تھے، یاد رکھیں گے یہ صرف وقت کی بات ہے کل کو آپ دوسری جانب کھڑے ہوں گے،، تحفظ قانون دے گا، کسی سے دشمنی کی بات نا کریں۔

    جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لوگ پولیس کو جانتے ہیں، ایجنسیوں کو نہیں، یا تو ایجنسیوں کے بھی تھانے بنا دیں تا کہ لوگ سیدھا انہی کے پاس جائیں، یا قانون بنا دیں کہ ایجنسیاں 90 یا 100 دن کسی کو تحویل میں رکھیں گی،احمد فرہاد کیس میں لاپتہ افراد کے معاملے پر آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی نے اپنا طریقہ کار بتایا تو جسٹس محسن اختر کیانی نے کہامجھے ایسی کوئی مثال دیں کہ پولیس نے انٹیلی جنس افسر کو مس کنڈکٹ پر پکڑا ہو۔یہ حکومت تو جبر کے دور سے گزر کر آئی ہے اسے تو سمجھنا چاہیے، صحافیوں کی خبر سے اتنی تکلیف کیوں ہوتی ہے؟ جو اخبار بھی اپنے اینگل سے جبر چھاپتا ہے تو لوگوں کو پتا چلتا ہے،کوئی پارلیمنٹ میں ہمارے متعلق بات کر کے گا کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اب سے براہ راست دکھائیں گے تا کہ سب خود ہی فیصلہ کر لیں

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے سیکٹر کمانڈر آئی ایس آئی کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا،عدالت نے حکم دیا کہ احمد فرہاد کیس کی آئندہ سماعت پر سیکٹر کمانڈر آئی ایس آئی سیکریٹری دفاع کے ساتھ ذاتی حیثیت میں پیش ہوں،جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سیکٹر کمانڈر کی حیثیت ایک ایس ایچ او سے اوپر نہیں، وہ ایک کھرا انسان ہے، پہلے بیان دیں پھر پیش ہوں۔عدالت نے کیس کی سماعت 29 مئی تک ملتوی کر دی.

    اسلام آباد ہائیکورٹ،اٹارنی جنرل کی احمد فرہاد کی بازیابی کی یقین دہانی پر سماعت ملتوی

    سرکاری اداروں کا یہ کام ہے کہ کرپٹ افسران کو بچانے کی کوشش کرے؟چیف جسٹس برہم

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    ایبٹ آباد میں "ہم جنس پرستی کلب” کے قیام کے لیے درخواست

    احمد فرہاد کی بازیابی درخواست ،سیکرٹری دفاع و داخلہ ذاتی حیثیت میں طلب

  • عدالتی کارروائی کی نشریات پر پابندی کیخلاف پیمرا کو نوٹس جاری،جواب طلب

    عدالتی کارروائی کی نشریات پر پابندی کیخلاف پیمرا کو نوٹس جاری،جواب طلب

    لاہور ہائیکورٹ ،پیمرا کی جانب سے عدالتی کارروائی کی کوریج پر پابندی کے اقدام کے خلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی

    عدالت نے دونوں درخواستوں پر پیمرا کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب 29مئی کو طلب کرلیا ،عدالت نے وکلا کی جانب سے پیمرا نوٹیفکیشن پر عملدرآمد معطل کرتے کی استدعا سے اتفاق نہ کیا ،عدالت نے وکلا کو درخواستوں کے قابل سماعت ہونے پر دلائل دینے کی ہدایت کر دی ،عدالت نے اٹارنی جنرل آف پاکستان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے معاونت کے لیے طلب کر لیا ، جسٹس عابد عزیز نے کہا کہ عدالت کیس کے دائرہ اختیار کا بھی تعین کرے گی،درخواستوں میں اہم قانونی نکات اٹھائے گیے ہیں،پیمرا کے وکیل عارف رانجھا نے درخواستوں کی مخالفت کی اور کہا کہ درخواستیں قابل سماعت نہ ہیں،اسلام آباد ہائی کورٹ میں کیس زیر سماعت ہے

    ہادی النظر میں پیمرا نوٹیفکیشن میں ابہام ہے،جسٹس عابد عزیز
    جسٹس عابد عزیز نے کہا کہ قانون کے تحت پیمرا غلط رپورٹنگ پر لائسنس معطل یا کینسل کر سکتا ہے ،ہادی النظر میں پیمرا نوٹیفکیشن میں ابہام ہے،آپ کہنا چاہ رہے ہیں اگر پیمرا کے پاس کوئی پروسیڈنگ زیر سماعت ہو تو اس پر براہ راست عدالت نہیں آیا جاسکتا ۔وکیل درخواست گزار نے کہا کہ پیمرا قانون کے تحت چینلز کے لیے کوڈ آف کنڈیک موجود ہے ،اگر پیمرا قانون کے تحت خلاف کوڈ اف کنڈیک کی خلاف ورزی ہوتی ہے تو معاملہ عدالت لے جایا جا سکتا ہے ،کرنٹ افیر پروگراموں میں چینل پیمرا کو یقین دہائی کراتا ہے ،زیر سماعت کیسوں کو چینلز زیر بحث نہیں لاتے،پیمرا نے نوٹیفکیشن کے ذریعے عدالتی کارروائی ،ٹکرز، ہیڈ لائن چلانے پر پابندی لگا دی ہے ،کورٹ رپورٹر ٹریننگ کے بعد رپورٹنگ کرتے ہیں،پیمرا کوڈ اف کنڈیک کے تحت کورٹ رپورٹنگ کی اجازت ہےپیمرا کوڈ اف کنڈیکٹ کے تحت عدالتی کارروائی ۔ہیڈ لائن اور ٹکرز کی اجازت ہے،ٹکرز اور ہیڈ لائن عدالتی کارروائی پر اثر انداز نہیں ہوتے ،اگر کسی عدالتی کارروائی کی حکم عدولی ہو بھی جائے تو پیمرا کی کونسل آف کمپلینٹ میں معاملہ جائے گا،یا عدالت خود معاملہ کا نوٹس لے گی اور توہین عدالت کی کارروائی شروع کر سکتی ہے ،آریٹکل 19.19اے کے تحت آزادی صحافت پر پابندی نہیں لگائی جاسکتی،پیمرا مناسب قدغن یا پابندیاں لگا سکتا ہے،کورٹ رپورٹرز فیر رپورٹنگ کرتے ہیں،پاکستان کے شہری عدالتی کارروائی جاننا چاہتے ہیں ،ہر شہری عدالت نہیں آسکتا ، جسٹس عابد عزیز نے کہا کہ دیکھنا ہے پیمرا کا کوڈ اف کنڈیکٹ قانون کے زمرے میں آئے گا؟ دیکھنا ہے کیا کوڈ اف کنڈیکٹ کے تحت ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے پابندیاں لگائی جاسکتی ہیں
    دیکھنا ہے یہ نوٹیفکیشن قانون کے تحت ہوا ،کیا یہ قانون بنوا دیں کہ صرف خلاف ورزی پر کاروائی ہوگی

    عدالتی کارروائی کی نشریات کیخلاف پیمرا کے نوٹیفکیشن پر لاہور ہائیکورٹ میں ایک اور درخواست دائر کر دی گئی ہے،لاہور ہائیکورٹ میں درخواست شہری مشکور حسین نے ایڈووکیٹ ندیم سرور کی وساطت سے دائر کی، لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں پیمرا، وزارت اطلاعات و نشریات اور وفاقی حکومت کو فریق بنایا گیا ہے،لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ آزاد صحافت جمہوریت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، آزاد صحافت کے بغیر جمہوریت ختم ہو جائے گی، موجودہ حکومت ایسی حکومت کی بہترین مثال ہے جو کالے قوانین کے ذریعے مخالف آوازوں کو دباتی ہے، 21 مئی کو پیمرا نے ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے ٹی وی چینلز کو ہدایت جاری کی کہ وہ عدالتی کارروائی کو نشر نہیں کریں گے، پیمرا نے اپنے نوٹیفکیشن کے ذریعے ٹی وی چینلز کو عدالتی کارروائی کی نشریات سے روک دیا ہے، نوٹیفکیشن کے مطابق ٹی وی چینلز محض عدالت کے تحریری فیصلے نشر کر سکتے ہیں،سپریم کورٹ کے جس فیصلے کی بنا پر پیمرا نے نشریات پر پابندی عائد کی ہے وہ فیصلہ نشریات کی اجازت دیتا ہے، سپریم کورٹ کے فیصلے میں یہ کہیں بھی موجود نہیں کہ عدالتی کارروائی کی نشریات نہیں کی جا سکتی، پیمرا نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی غلط تشریح کی ہے۔

    قبل ازیں گزشتہ روز پیمرا کی جانب سے عدالتی کارروائی کی نشریات پر پابندی کا نوٹیفکیشن لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا گیا۔ثمرہ ملک ایڈووکیٹ نے لاہور ہائیکورٹ میں پیمرا کا 21 مئی نوٹیفکیشن چیلنج کیا جبکہ درخواست میں پیمرا، وفاقی حکومت اور سیکرٹری انفارمیشن کو فریق بنایا گیا۔درخواست گزار نے کہا کہ پیمرا کا 21 مئی کو جاری کردہ نوٹیفکیشن غیر قانونی اور آئین کے آرٹیکل 19 اور 19 اے کی خلاف ورزی ہے۔درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالت پیمرا کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دے اور پٹیشن کے حتمی فیصلہ تک نوٹیفکیشن معطل کرے۔

    وفاقی حکومت نے ٹی وی چینلز کو عدلیہ سے متعلق توہین آمیز مواد اور بیان نشر کرنے سے روک دیا
    دوسری جانب وفاقی حکومت نے ٹی وی چینلز کو عدلیہ سے متعلق توہین آمیز مواد اور بیان نشر کرنے سے روک دیا، اس حوالے سے حکومت نے نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے ،پریس انفارمیشن ڈپارٹمنٹ سے جاری نوٹیفکیشن میں سپریم کورٹ کےحکم کا حوالہ دیا گیا، جس میں کہا گیا کہ کوئی بھی ایسا مواد یا بیان جس سے یا جس میں عدلیہ کی توہین کی گئی ہو اس توہین آمیز مواد کو نشر یا شائع کرنے والے بھی توہین عدالت کے مرتکب ہوں گے۔نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ عدلیہ سے متعلق توہین آمیز مواد نشر، شائع کرنے کیخلاف بھی توہین عدالت کی کارروائی کی جائے گی.

    شہباز شریف خود ہی اسمبلی میں مان گئے کہ انہیں اپوزیش لیڈر چن لیا گیا،یاسمین راشد

    مہارانی کو پتہ ہی نہیں ملک میں غربت کتنی ہے،یاسمین راشد

    صدارتی انتخابات،آصف زرداری کے کاغذات منظور،محمود اچکزئی پر اعتراض عائد

    پیپلز پارٹی وزیراعظم کے میثاق برائے قومی مفاہمت کے تصور کی حمایت کرتی ہے،بلاول

    سی ڈی اے کو شہتوت کے درخت کاٹنے کی اجازت

    عورت مارچ رکوانے کیلئے دائر درخواست خارج 

    صدارتی امیدوار محمود اچکزئی کے گھر پر چھاپہ،ترجمان، خالی پلاٹ پر قبضہ واگزار کروایا،انتظامیہ

  • پراسکیوشن پرویز الہیٰ پر جرم ثابت کرنے میں ناکام رہا،عدالت

    پراسکیوشن پرویز الہیٰ پر جرم ثابت کرنے میں ناکام رہا،عدالت

    لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب اسمبلی میں جعلی بھرتیوں کے کیس میں سابق وزیرِ اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہٰی کی ضمانت منظوری کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا ہے

    لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس سلطان تنویر احمد نے 7 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا،تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پراسیکیوشن کی جانب سے پرویز الہٰی سے 41 لاکھ روپے کی ریکوری کا کوئی جواز نہیں، وکیل کے مطابق پراسیکیوشن کو رقم برآمدگی کا فائدہ نہیں دیا جا سکتا، بھرتی امیدواروں کے نتائج جولائی میں ہی جاری کر دیے گئے تھے، پرویز الہٰی کے وکیل کے مطابق اس بنا پر جعل سازی نا ممکن ہے، پراسکیوشن کی ذمے داری ہے کہ ملزم پر جرم ثابت کرے جس میں وہ ناکام رہا، پراسیکیوشن جرم ثابت کرنے میں ناکام ہو تو ملزم کو ضمانت دی جا سکتی ہے،سرکاری وکیل کے مطابق اکتوبر 2023ء میں پرویز الہٰی کے گھر سے 41 لاکھ روپے ریکور ہوئے، سرکاری وکیل سے پوچھا گیا کہ کیا برآمد پیسوں پر کوئی مخصوص نشانات ہیں؟ سرکاری وکیل اس سوال کا جواب دینے میں ناکام رہے، اس بات کا جواب نہیں دیا گیا کہ مبینہ جعل سازی سے کئی دن قبل ویب سائٹ پر رزلٹ جاری کر دیا گیا تھا، سرکاری وکیل نے یہ بھی نہیں بتایا کہ ایف آئی آر وقوعے کے 2 سال بعد کیوں کاٹی؟5 لاکھ روپے کے 2 مچلکوں کے عوض چوہدری پرویز الہٰی کی ضمانت منظور کی جاتی ہے

    میرے ساتھ” زیادتی” کرنے میں سب سے زیادہ اہم کردار محسن نقوی کا رہا ،پرویز الہیٰ

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    سوشل میڈیا پر فوج مخالف پروپیگنڈہ کےخلاف سینیٹ میں قراردادمنظور

    سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد کی تشہیر،یورپی ممالک سے 40 پاکستانی ڈی پورٹ

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    تصاویر:سعودی عرب میں سوئمنگ سوٹ فیشن شو،خواتین ماڈلز کی نیم عریاں کیٹ واک

    لاہور ہائیکورٹ سے فیصلہ ملنے کے بعد سابق وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الہیٰ کوٹ لکھپت جیل سے رہا ہوکر گزشتہ شب ظہور الہی پیلس پہنچ گئے۔چودھری پرویز الہیٰ کا گھر پہنچنے پر اہلیہ قیصرہ الہیٰ نے استقبال کیا، پرویز الہیٰ کی رہائی کے بعد کی تصویر بھی سامنے آ گئی ہے

    شجاعت صاحب کے بچوں سے اس وقت تک کوئی بات نہیں ہو گی جب تک ہمارا مینڈیٹ واپس نہیں ہو گا،پرویز الہیٰ
    چوہدری پرویز الہی کا کہنا ہے کہ اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے سرخرو کیا،اللہ پاک نے مجھے حوصلہ دیا کہ میں ثابت قدم رہوں،میں ان ججوں کا مشکور ہوں جنہوں نے حق اور سچ کا ساتھ دیا اور مجھے رہائی ملی،میں ان سب لوگوں کا مشکور ہوں جنہوں نے میرے لیے دعائیں کیں اور اس مشکل وقت میں میرا ساتھ دیا،گجرات کے لوگوں کو بہت زیادتیاں اور ظلم سہنا پڑا،گجرات میں ہمارا مینڈیٹ تک چرایا گیا،شجاعت صاحب کے بچوں سے اس وقت تک کوئی بات نہیں ہو گی جب تک ہمارا مینڈیٹ واپس نہیں ہو گا،گجرات میں جن لوگوں کے ساتھ زیادتیاں ہوئیں وہ جب تک معاف نہیں کریں گے تب تک ان سے کوئی بات نہیں ہو گی,مجھے پکڑوانے میں اور میرے ساتھ زیادتی کرنے میں سب سے زیادہ اہم کردار محسن نقوی کا رہا ہے۔میں عمران خان کے ساتھ تھا، ہوں اور انشاء اللہ رہوں گا

  • اسلام آباد ہائیکورٹ،اٹارنی جنرل کی احمد فرہاد کی بازیابی کی یقین دہانی پر سماعت ملتوی

    اسلام آباد ہائیکورٹ،اٹارنی جنرل کی احمد فرہاد کی بازیابی کی یقین دہانی پر سماعت ملتوی

    اسلام آباد ہائیکورٹ: شاعر احمد فرہاد کی بازیابی کی درخواست پر سماعت ہوئی

    احمد فرہاد کی اہلیہ کی درخواست پر جسٹس محسن اختر کیانی نے سماعت کی،احمد فرہاد کی اہلیہ کے وکیل ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ عدالت کے سامنے پیش ہوئے، اٹارنی جنرل بھی عدالت کے سامنے پیش ہوئے،گزشتہ ہفتے سے احمد فرہاد اسلام آباد اپنے گھر کے باہر سے لاپتہ ہیں,لاپتہ صحافی احمد فرہاد کیس کی سماعت سے قبل کمرہ عدالت میں صحافیوں اور وکلا کی بڑی تعداد موجود تھی، سینئیر صحافی حامد میر بھی عدالت پہنچ گئے، آئی جی اسلام آباد بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے،

    عدالت نے ایس ایس پی آپریشنز کو روسٹرم پر بلا لیا، جسٹس محسن اختر کیانی نے استفسار کیا کہ آپ نے بیان لیا؟ ایس ایس پی آپریشنز نے کہا کہ بیان نہیں افسر کی غیر موجودگی میں جونئیر سے بات ہوئی ہے، انکی جانب سے رپورٹ سکریٹری دفاع کو بھیج دی گئی ہے،جسٹس محسن اخترکیانی نے استفسار کیا کہ جو بات انہوں نے بتائی ہے کیا وہ 161 کا بیان ہے؟ پولیس کو پتہ ہے انہوں نے کیا کرنا ہے عدالت تفتیش میں مداخلت نہیں کریگی،

    وزیراعظم عدالت میں آ سکتا ہے تو سب آ سکتے ہیں اس سے بڑا تو کوئی نہیں،سیکرٹری دفاع کے پیش نہ ہونے پر جسٹس محسن اختر کیانی کے ریمارکس
    سیکرٹری داخلہ عدالت میں پیش، سیکرٹری دفاع پیش نہ ہوئے،وکیل درخواست گزار نے کہا کہ جب بھی سیکرٹری دفاع کو بلایا جاتا ہے وہ پیش نہیں ہوتے،جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہی چیز تو ختم کرنی ہے، عدالت کے بلانے پر سب پیش ہونگے، اگر وزیراعظم عدالت میں آ سکتا ہے تو سب آ سکتے ہیں اس سے بڑا تو کوئی نہیں، یقینی بنائیں کہ سیکرٹری داخلہ آئندہ سماعت پر عدالت میں پیش ہوں،عدالت نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ مغوی کی بازیابی کیلئے آپ کو کتنا وقت چاہیے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ چھ دن گزر گئے مگر مجھے تین دن چاہئیں، عدالت نے ایس ایس پی آپریشنز سے استفسار کیا کہ پولیس نے کیس میں کیا پراگریس کیا ہے ؟ ایس ایس پی آپریشنز نے کہا کہ ہم متعلقہ افسر کے پاس بیان ریکارڈ کرنے گئے تھے مگر وہ نہیں تھے،ہمیں وہاں سے یقین دہانی کرائی گئی کہ مغوی ان کے پاس نہیں ہے، جسٹس محسن اخترکیانی نے کہا کہ پولیس نے ہی تفتیش کرنی ہے کیونکہ پولیس پر ذمہ داری ہے،ایمان مزاری نے کہا کہ یہ کوئی پہلا کیس نہیں سب کو عدالت کے سامنے پیش ہونا چاہیے، جب بھی سیکرٹری دفاع کو نوٹس کیا وہ نہیں آئے،سیکرٹری دفاع عدالت پیشی کو توہین سمجھتے ہیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ سیکرٹری دفاع کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی اسی وجہ سے پیش نہیں ہوسکے،عدالت نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے کو ختم کرنا ہے، آئندہ سماعت پر سیکرٹری دفاع کو لے آئیں، ایمان مزاری نے کہا کہ احمد فرہاد کس حالت میں ہے، کیسے ہونگے یہ ایک سیریس معاملہ ہے، بلوچستان کے کیسز میں ہم نے دیکھا کہ لاپتہ ہونے کے بعد مسخ شدہ لاشیں ملتی ہیں، جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ اس کیس میں ایسا کچھ نہیں ہوگا، اٹارنی جنرل یقین دہانی کرارہے ہیں، اٹارنی جنرل صاحب آپ سے بڑی امیدیں ہیں،عدالت نے کیس کی سماعت جمعہ تک کے لئے ملتوی کردی

    اٹارنی جنرل منصور عثمان نے احمد فرہاد کی بازیابی کی یقین دہانی کروائی، اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں ذمہ داری لیتا ہوں کہ احمد فرہاد کو ریکور کرینگے، جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے یقینی بنانا ہے کہ اسلام آباد سے کوئی بندہ اٹھایا نہیں جائے گا، اگر بندہ ریکور نہیں ہو گا تو یہ ریاست کی ناکامی ہو گی،اسٹیٹ کے نمائندوں کو چاہیے کہ اس بچی کے سر پر ہاتھ رکھیں، اسکو اپنے بچوں کی طرح سمجھیں۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ تمام ذارائع استعمال میں لا کر اس کو ریکیور کریں گے ، جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ آپ ریکیور کروائیں گے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ بالکل میں آپ کو یقین دہانی کرواتا ہوں آپ مجھے کچھ وقت دیں، عدالت دو سے چار دن کا وقت دے میں یقین دہانی کرواتا ہوں، جسٹس محسن اختر کیانی نے ایمان مزاری سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل ریاست اور ریاستی اداروں کو ریسکیو کر رہے ہیں، احمد فرہاد جلد گھر واپس پہنچ جائیں گے،

    سرکاری اداروں کا یہ کام ہے کہ کرپٹ افسران کو بچانے کی کوشش کرے؟چیف جسٹس برہم

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    ایبٹ آباد میں "ہم جنس پرستی کلب” کے قیام کے لیے درخواست

  • جب تک مسنگ پرسنز کے کیسز ہوتے رہیںگے یہ عدالتیں کام کرینگی،جسٹس محسن اختر کیانی

    جب تک مسنگ پرسنز کے کیسز ہوتے رہیںگے یہ عدالتیں کام کرینگی،جسٹس محسن اختر کیانی

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں بلوچ طلبا کی بازیابی سے متعلق قائم کمیشن کی سفارشات پرعملدرآمد کیس کی سماعت ہوئی،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اخترکیانی نے سماعت کی،گمشدہ بلوچ طلبا کی جانب سے وکیل ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ عدالت میں پیش ہوئے،اٹارنی جنرل نے لاپتہ افراد کیلئے قائم کمیٹی کی رپورٹ عدالت میں پیش کردی ،جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس عدالت نے ایک کمیٹی بنائی تھی،اس کمیٹی کے کچھ ٹی او آرز تھے،گزشتہ 10سال میں بلوچ طلبا کیخلاف دہشتگردی کے کتنے کیسز درج کئے گئے؟ کوئی بھی جج، وکیل،صحافی، پارلیمنٹیرینز ایجنسیوں کو کام سے روکنے کی بات نہیں کرتے، صرف خلاف قانون کام کرنے سے روکنے کی بات کرتے ہیں، ایجنسیزکا کام کرنے کا طریقہ کارواضح ہو جائے تو اچھا ہوگا، قانون میں ایف آئی اے اور پولیس تفتیش کر سکتی ہیں,،جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایجنسیز تفتیش میں معاونت کرسکتی ہیں،ہمیں قانون کے دائرہ اختیار میں رہ کر کام کرنا چاہئے،یہ 21ویں سماعت ہورہی ہے،آپ کی محنت سے کئی سٹوڈنٹس بازیاب ہوئے ہیں

    جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الزام ہے کہ بہت سے لوگ ایجنسیوں کی تحویل میں ہوتے ہیں، وہ کھاتے پیتے بھی ہونگے، خرچ سرکاری خرانے پر آتا ہے؟ایجنسیوں کے فنڈز کا کوئی سالانہ آڈٹ ہوتا ہے؟ہم نے پولیس، سی ٹی ڈی اور ایف آئی اے کو موثر بنانا ہے،یہی تین ادارے ہیں جنہوں نے تفتیش کرنی ہوتی ہے باقی ایجنسیاں انکی معاونت کر سکتی ہیں،”ایجنسیوں کے کام پر کسی کو اعتراض نہیں، اعتراض ماورائے قانون کام کرنے پر ہے،ہم سب نے قانونی دائرہ اختیار میں رہتے ہوئے کام کرنا ہے،جنگ میں بھی سفید جھنڈا لہرا کر سیز فائر کی جاتی ہے بات چیت کر کے حل نکالا جاتا ہے”،جب تک مسنگ پرسنز کے کیسز ہوتے رہیں گے یہ عدالتیں کام کرینگی،وزیرِ اعظم شہباز شریف کو عدالت میں طلب کیا، انہوں نے بھی یہی کہا، ہم سب نے قانونی دائرہ اختیار میں رہتے ہوئے کام کرنا ہے اس ملک نے دہشت گردی میں 70 ہزار جانیں گنوائی جا چکی ہیں، قانونی دائرے میں جو اختیار ملتا ہے اس پر عمل درآمد کریں،اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ سیاسی طور پر اس مسئلے کے حل تک یہ مسئلہ حل نہیں ہو گا۔

    جسٹس محسن اختر کیانی نے استفسار کیا کہ مطلب آپ یہ مانتے ہیں کہ یہ ایک سیاسی مسئلہ ہے؟ ہم نے باہر سے کسی کو نہیں بلانا کہ آ کر مسئلہ حل کرے، غلطیاں ہوتی ہیں غلطیوں سے سیکھ کر آگے بڑھنا ہوتا ہے، یہ 21 ویں سماعت ہے، آپ کی محنت سے کئی اسٹوڈنٹس بازیاب ہوئے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہم نے لاپتہ افراد کیسز میں بہت کام کیا، جو رہ گیا وہ بھی کریں گے، تھوڑا وقت دے دیں، لاپتہ افراد سے متعلق سیاسی حل بھی تلاش کیا جا رہا ہے، ہماری بھی یہی استدعا ہے کہ تھوڑا وقت دے دیا جائے۔

    اٹارنی جنرل کی کاوشوں سے بہت سے لاپتہ افراد اپنے گھروں کو پہنچ گئے ،جسٹس محسن اختر کیانی
    ایمان مزاری ایڈووکیٹ نے کہا کہ لواحقین کو ڈرایا دھمکایا گیا، لاپتہ افراد پر کمیٹی بنائی گئی، کمیٹی میں سے کوئی بھی لواحقین سے ملنے نہیں گیا، کمیشن بنا دیا گیا لیکن کوئی بھی پروگریس نہیں ہے، لاپتہ افراد کے لواحقین کو کوئی بھی معلومات فراہم نہیں کی جاتیں،جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کے مطابق جو معلومات عدالت میں دی گئیں وہ درست نہیں ہیں، اس معاملے میں اٹارنی جنرل کی کاوشوں کو سراہنا ہو گا، اٹارنی جنرل کی کاوشوں سے بہت سے لاپتہ افراد اپنے گھروں کو پہنچ گئے ہیں، جب تک مسنگ پرسنز کے کیسز آتے رہیں گے یہ کورٹس کام کرتی رہیں گی، ایک کیس نہیں ہے کہ اس پر آرڈر کریں اور بات ختم ہو جائے۔

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ لاپتہ افراد کا معاملہ کابینہ کے آئندہ 2 اجلاسوں میں اٹھایا جائے گا، عدالت ڈی جی آئی ایس آئی، ڈی جی ایم آئی اور ڈی جی آئی بی کی کمیٹی میں تبدیلی کرے، اس کمیٹی میں ڈی جیز لیول سے نیچے کے لوگ ڈالیں تاکہ کوآرڈی نیشن آسان ہو،عدالت نے اٹارنی جنرل اور ایمان مزاری سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ میں آرڈر جاری کروں گا وہ آپ دیکھ لیں، اٹارنی جنرل صاحب یہ بتائیں کہ آپ جیسے لوگ کہاں پر ہیں جو مسائل کو حل کرتے ہیں،اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ سر یہ بہت مشکل سوال ہے، اس معاملے کو اگر حل نہیں کیا تو مسائل بڑھیں گے،عدالت نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس ایک اور لاپتہ فرد کا کیس ہے، اس میں بھی آپ آئیں،اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں اس کیس میں ضرور آؤں گا،عدالت نے لاپتہ افراد سے متعلق کیس کی سماعت 14 جون تک ملتوی کر دی۔

    لاپتہ افراد انکوائری کمیشن کی مدت میں توسیع

    سپریم کورٹ، جبری گمشدگی،لاپتہ افراد بارے درخواستوں پر سماعت 9 جنوری تک ملتوی

    پچاس سال بھی لگ جائیں ہم عدالت آتے رہیں گے،لاپتہ افراد کیس میں شہری کی دہائی

    تعلیمی ادارے میں ہوا شرمناک کام،68 طالبات کے اتروا دیئے گئے کپڑے

     چارکار سوار لڑکیوں نے کارخانے میں کام کرنیوالے لڑکے کو اغوا کر کے زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا

    لاپتہ افراد کی عدم بازیابی، سندھ ہائیکورٹ نے اہم شخصیت کو طلب کر لیا

     لگتا ہے لاپتہ افراد کے معاملے پر پولیس والوں کو کوئی دلچسپی نہیں

    سندھ ہائیکورٹ کا تاریخی کارنامہ،62 لاپتہ افراد بازیاب کروا لئے،عدالت نے دیا بڑا حکم

    اگلے مرحلے پر آئی جی کو بھی طلب کرسکتے ہیں

  • اسحاق ڈارکی ڈپٹی وزیراعظم تعیناتی کیخلاف درخواست پر نوٹس جاری

    اسحاق ڈارکی ڈپٹی وزیراعظم تعیناتی کیخلاف درخواست پر نوٹس جاری

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں اسحاق ڈارکی ڈپٹی وزیراعظم تعیناتی کالعدم قرار دینے کی درخواست پر سماعت ہوئی۔

    دوران سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ لاہورہائیکورٹ نے فیصلہ نہیں کردیا تھا؟میں نے شاید میڈیا میں دیکھا تھا،وکیل درخواست گزارنے کہاکہ اگروہاں فیصلہ ہو بھی گیا تھا تو بھی اس عدالت کا دائرہ اختیار ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ یہی کہہ رہا ہوں فیصلہ ہو چکا ہے چیک کرلیں،انگریزی آتی ہے آپ کو ؟دوسرے درخواستگزارکے وکیل ریاض حنیف راہی صاحب کو بلائیں،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے شیر افضل مروت کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ کے کیا گراؤنڈز ہیں ،ِوکیل نے کہاکہ 4گراؤنڈزہیں ،ایگزیکٹوآرڈرکی گنجائش نہیں، دو چارج نہیں ہو سکتے، وکیل درخواستگزار نے کہاکہ وزیراعظم الیکشن کے ذریعے منتخب ہو کرآتا ہے،ڈپٹی وزیراعظم ایگزیکٹوآرڈرکے ذریعے آتا ہے،اس عدالت نے دو عہدے رکھنے سے متعلق واضح آرڈر کیا ہوا ہے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 12جون تک جواب طلب کرلیا،عدالت نے وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری، اسحاق ڈار اور سیکرٹری کابینہ کو نوٹس جاری کر دیئے ،عدالتی معاونت کیلئے اٹارنی جنرل کو بھی نوٹس جاری کردیا،عدالت نے فریقین سے 12جون تک جواب طلب کرلیا۔

    واضح رہے کہ درخواست پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت کی جانب سے دائر کی گئی،درخواست میں وفاقی حکومت، سیکرٹری کابینہ ڈویژن، وزیر اعظم اور اسحاق ڈار کو فریق بنایا گیا ہے،شیر افضل مروت نے وکیل ریاض حنیف راہی کے ذریعے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اسحاق ڈار پہلے ہی بطور وفاقی وزیر خاجہ کام کر رہے ہیں، 28 اپریل کو وزیر اعظم کی منظوری سے اسحاق ڈار کی بطور ڈپٹی وزیراعظم تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا۔درخواست میں کہا گیا کہ آئین میں ڈپٹی وزیراعظم کے عہدے کا کوئی ذکر نہیں اور نہ ہی ایسی کوئی شق ہے کہ وزیراعظم کسی کی ڈپٹی وزیراعظم تعیناتی کا نوٹی فکیشن جاری کریں عوام کے خرچے پر ایک ہی شخص کو دو عہدے ذاتی مفاد کیلئے عطا کیے گئے ہیں، ایک شخص جو غیر قانونی طریقے سے تعینات ہو ریاست کی مرعات حاصل نہیں کر سکتا، اسحاق ڈار کی بطور ڈپٹی وزیر اعظم تعیناتی کا 28 اپریل 2024 کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دیا جائے

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    ایبٹ آباد میں "ہم جنس پرستی کلب” کے قیام کے لیے درخواست

    ہنی ٹریپ،لڑکی نے دوستوں کی مدد سے نوجوان کیا اغوا

    بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

    طالبات کو نقاب کی اجازت نہیں،لڑکے جینز نہیں پہن سکتے،کالج انتظامیہ کیخلاف احتجاج

    امجد بخاری کی "شادی شدہ” افراد کی صف میں شمولیت

    مجھے مسلم لیگ ن کے حوالے سے نہ بلایا جائے میں صرف مسلمان ہوں،کیپٹن ر صفدر

  • بھرتیاں کیس،پرویز الہیٰ کی ضمانت منظور

    بھرتیاں کیس،پرویز الہیٰ کی ضمانت منظور

    لاہور ہائیکورٹ نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہیٰ کی ضمانت منظور کر لی ہے

    پرویز الہیٰ کی ضمانت پنجاب اسمبلی میں غیر قانونی بھرتیوں کے کیس میں منظور کی گئی ہے، لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس سلطان تنویر احمد نے محفوظ فیصلہ سنا دیا، گزشتہ روز لاہور ہائیکورٹ نے پرویز الہٰی کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ کیا تھا جو اب سنا دیا گیا ہے

    لاہور ہائیکورٹ میں دوران سماعت پرویز الہٰی کے وکیل عامر سعید راں نے عدالت میں کہا تھا کہ اینٹی کرپشن نے مقدمہ 2 سال کی تاخیر سے درج کیا، کسی امیدوار سے بھرتی کی رقم پرویز الہٰی نے وصول نہیں کی، پرویز الہٰی کا اس بھرتی سے کوئی تعلق نہیں،وکیل اینٹی کرپشن نے کہا تھا کہ پرویز الہٰی پر مقدمہ قانون کے مطابق درج کیا گیا ہے

    واضح رہے” اسی کیس میں27 مارچ 2024 کو عدالت نے پرویز الہی کی درخواست ضمانت کو خارج کردیا تھا جس کے بعد انہوں نے دوبارہ سے درخواست عدالت میں دائر کی تھی”،محکمہ اینٹی کرپشن نے پرویز الہٰی اور محمد خان بھٹی کے خلاف غیر قانونی بھرتیوں کا مقدمہ درج کر رکھا ہے

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    سوشل میڈیا پر فوج مخالف پروپیگنڈہ کےخلاف سینیٹ میں قراردادمنظور

    سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد کی تشہیر،یورپی ممالک سے 40 پاکستانی ڈی پورٹ

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    پرویز الہیٰ 9 مئی کے 20 مقدمات میں نامزد،رپورٹ عدالت پیش
    دوسری جانب سابق وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الہیٰ کو پولیس نے 20 نئے کیسز میں نامزد کر دیا ہے، اس ضمن میں آئی جی پنجاب پولیس نے پرویز الٰہی کے خلاف مقدمات کی تفصیلات لاہور ہائیکورٹ میں جمع کروا دی ہیں، لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس امجد رفیق نے پولیس سے پرویز الٰہی کے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات طلب کی تھی،عدالت میں جمع کروائی گئی رپورٹ کے مطابق پنجاب پولیس نے 9 مئی کے 20 کیسز میں چودھری پرویز الٰہی کو نامزد کیا ہے، پرویز الٰہی کو لاہور میں درج 3 مقدمات میں،فیصل آباد کے 4 کیسز میں،راولپنڈی کے 11 مقدمات میں ،ضلع اٹک کے ایک کیس ،گوجرانوالہ کے ایک کیس میں نامزد کیا گیا ہے۔

  • احمد فرہاد کی بازیابی درخواست ،سیکرٹری دفاع و داخلہ ذاتی حیثیت میں طلب

    احمد فرہاد کی بازیابی درخواست ،سیکرٹری دفاع و داخلہ ذاتی حیثیت میں طلب

    کشمیری شاعر صحافی احمد فرہاد کی بازیابی کی درخواست پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے کیس کی سماعت کی،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت سے کل تک کا وقت مانگ لیا،نمائندہ وزارت دفاع نے عدالت میں کہا کہ ہم نے پتہ کیا ہے لیکن کہا گیا ہے بندہ ان کے پاس نہیں ہے، جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میں سیکرٹری دفاع اور سیکرٹری داخلہ کو کل طلب کر لیتا ہوں،یہ معاملہ اب ان کے دائرہ اختیار سے آگے نکل چکا ہے،یہ ان کی ناکامی ہے کہ وہ اپنے دائرہ اختیار میں کوئی کام نہیں کر سکتے،دوسری صورت میں ڈی جی آئی ایس آئی اور ڈی جی ایم آئی پیش ہوں، ادارے اگر اس قابل ہی نہیں کہ اپنا کام کر سکیں تو انکی ضرورت نہیں، پھر اسکے بعد میں وزیر دفاع اور وزیر داخلہ کو طلب کروں گا،پھر میں وزیراعظم کو طلب کرونگا، یہ معاملہ اتنا سادہ نہیں ہے، پھر وزیراعظم اور پوری کابینہ کو طلب کرونگا،پوری کابینہ کو یہاں بٹھا کر ان سے فیصلہ کرواؤں گا،یہ کیا طریقہ ہے کہ جب دل چاہا دروازہ کھٹکھٹا کر بندہ اٹھا لیا، ہمارے ادارے اگر 32 کلومیٹر کے شہر میں سیکیورٹی مہیا نہیں کر سکتے تو پھر انکی ضرورت نہیں،ایک طرف میسج بھیجیں اور پھر کہیں کہ بندہ ہمارے پاس نہیں، میں تنبیہ کر رہا ہوں کہ عدالتی فیصلے کے بڑے اثرات ہونگے،

    سیکٹر کمانڈر کوئی چاند پر رہتا ہے بہت بڑی طاقت ہے؟ کیا حیثیت ہے اس کی؟ایک گریڈ 18 کا بندہ ہے آپ نے اسے کیا بنا دیا ہے؟ جسٹس محسن اختر کیانی
    جسٹس محسن اختر کیانی نے ایس ایس پی پولیس سے استفسار کیا کہ کیا سیکٹر کمانڈر کا بیان لکھا ہے؟ ایس ایس پی آپریشنز جمیل ظفر نے عدالت میں کہا کہ جی ہم نے ضمنی بیان لیا ہے، جسٹس محسن اختر کیانی نے ایس ایس پی کو حکم دیا کہ کل باقاعدہ بیان لے کر عدالت میں پیش ہوں،آپ بیان لیں پھر میں سیکٹر کمانڈر کو بھی طلب کرونگا، سیکٹر کمانڈر کوئی چاند پر رہتا ہے بہت بڑی طاقت ہے؟ کیا حیثیت ہے اس کی؟ایک گریڈ 18 کا بندہ ہے آپ نے اسے کیا بنا دیا ہے، مت تابع ہوں ان کے، ملک چلنا ہے تو اُن کے بغیر بھی چل جائے گا،اب فیصلہ ہو گا کہ یہ ملک ایجنسیز چلائیں گی یا قانون چلائے گا،

    شاعر احمد فرہاد کی بازیابی کی درخواست پر سماعت کل تک ملتوی کر دی گئی،جسٹس محسن اختر کیانی نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ، درمیان میں مغوی کی بیوی سے کوئی رابطہ نہیں کرنا،سیکرٹری دفاع اور سیکرٹری داخلہ کل 3 بجے ذاتی حیثیت میں پیش ہوں

    جھوٹ بول کر پٹیشن واپسی کی درخواست دائر کرنے پر احمد فرہاد کو چھوڑنے کے پیشکش ہوئی،ایمان مزاری کا عدالت میں انکشاف
    قبل ازیں،عروج زینب کی مغوی شوہر احمد فرہاد کی بازیابی کی درخواست پراسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے سماعت کی،اسلام آباد ہائیکورٹ نے مغوی شاعر احمد فرہاد کی بازیابی درخواست پر وزارت دفاع سے تین بجے تک رپورٹ طلب کر لی، دوران سماعت ایمان مزاری ایڈوکیٹ نے انکشاف کیا کہ عدالت میں جھوٹ بول کر پٹیشن واپسی کی درخواست دائر کرنے پر احمد فرہاد کو چھوڑنے کے پیشکش ہوئی،کہا گیا کہ اغوا کے بجائے پٹیشنر کے خود اپنی مرضی سے جانے کا بتائیں،جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ انصاف کی راہ میں مداخلت ہے۔ ڈی جی آئی ایس آئی کو بتا دیں بندہ ہر صورت چاہیے۔ اپنے اوپر سے اغوا کار کا لیبل ہٹوائیں۔ تفتیشی افسر ڈی جی آئی ایس آئی اور سیکٹر کمانڈر کا بیان قلمبند کرے ،ایک متفرق درخواست آئی ہے اس میں کیا ہے؟ ایمان مزاری ایڈوکیٹ نے کہا کہ سترہ مئی یعنی جمعہ کی رات کو پٹیشنر کو شوہر کے وٹس ایپ نمبر سے کال آتی ہے۔ ان کے پیچھے سے دو مزید افراد کی آوازیں آ رہی تھیں جو دباؤ ڈال رہے تھے۔ کہا گیا کہ پٹیشن واپس لیں تو بندہ ہفتے کے روز واپس آ جائے گا لیکن کورٹ کو جھوٹ بولنا ہے کہ احمد فرہاد کو اغوا نہیں کیا گیا بلکہ وہ اپنی مرضی سے گئے تھے۔ بارہا رابطے کیے جا رہے ہیں اور بہت زیادہ پریشر ڈالا جا رہا ہے۔ تین ڈرافٹس ہمارے اور ان لوگوں کے درمیان شیئر ہوئے۔ احمد فرہاد واپس نہیں آئے اس لئے ہم درخواست واپس نہیں لے رہے۔ اگر یہ اغوا برائے تاوان ہوتا تو وہ پیسے مانگتے۔ یہ واضح طور پر جبری گمشدگی کا کیس ہے،

    جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایک آدمی کو اغوا کر کے رکھا ہوا ہے، اپنے اوپر سے اغوا کا لیبل ہٹوائیں، مجھے اب آئی ایس آئی سے بندہ چاہئے۔ سیکرٹری دفاع ذاتی حیثیت میں پیش ہوں۔ میں وارنٹ گرفتاری جاری کروں گا۔ تفتیشی افسر آج ہی ڈی جی آئی ایس آئی اور سیکٹر کمانڈ کا بیان لکھیں۔ احمد فرہاد دہشت گرد ہے؟ کیا بھارت سے آیا ہے یا اغوا برائے تاوان میں ملوث ہے ؟ ایس ایس پی آپریشنز نے عدالت میں کہا کہ نہیں، سر ایسا نہیں ہے، نمائندہ وزارت دفاع نے عدالت میں کہا کہ ایک دو دن کا وقت دے دیں، جس پر جسٹس محسن اختر کیانی نے استفسار کیا کہ اتنا وقت کیوں چاہئے؟ آپ نے کیا پوچھنا ہے کہ باجوڑ والے سیف ہاؤس میں ہے یا کشمیر والے؟ کیا آپ کبھی اغوا ہوئے ہیں؟جسٹس محسن اختر کیانی کے استفسار پر وزارت دفاع کے نمائندے نے جواب دیا نہیں،عدالت نے کہا کہ جو اغوا ہوئے ان پر کیا گزرتی ہے، ان کو ہی پتہ ہوتا ہے۔ آپ کے پاس گیارہ بجے تک کا وقت ہے،نمائندہ وزارت دفاع نے کہا کہ رابطہ کرنے کے لیے وقت چاہئے، جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا ان کے دفاتر چاند پر ہیں جو رابطے میں وقت لگے گا۔ لوگوں کو اس نہج پر نا لے کر آئیں کہ اداروں کا جینا مشکل ہو جائے۔ میں اس کیس کو ڈی بی کے بعد تین بجے دوبارہ سنوں گا۔ تین بجے تک جواب لائیں، ورنہ آرڈر پاس کروں گا،

    اسسٹنٹ اٹارنی جنرل عثمان گھمن نے کہا کہ پورے ادارے پر الزام عائد نہیں ہو سکتا،عدالت نے کہا کہ پھر بتائیں کہ کیا کوئی ان کا ترجمان ہے جس کا نام لیں؟ آپ لوگوں نے اپنے ادارے سے متعلق رائے تبدیل کرنی ہے۔ اسٹیٹ کا فرنٹ فیس نامعلوم افراد نہیں پولیس ہے، عدالت نے تین بجے تک کیس کی سماعت ملتوی کر دی

    سرکاری اداروں کا یہ کام ہے کہ کرپٹ افسران کو بچانے کی کوشش کرے؟چیف جسٹس برہم

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    ایبٹ آباد میں "ہم جنس پرستی کلب” کے قیام کے لیے درخواست